Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

مطلوبہ مقام پر پہنچتے اس نے بائیک روکی۔۔ سنسان سی جگہ دھندلے سے اجالے میں خوفناک منظر پیش کر رہی تھی۔۔ کارخانوں کی ایک قطار نظروں کے سامنے تھے جن سے اٹھتا کسیلا دهواں فزا کو آلودہ کررہا تھا۔۔
ناگوار سی بو فزا میں رچی ہوئی تھی۔۔ کارخانوں کا طویل سلسسلے طے کر کے وه پچھلی جانب بنے کچے راستے پر اتر آیا اطراف میں جھاڑ پودے جابجا بکھرے پڑے تھے ان کے درمیان بنی ٹیڑھی میڑھی بل کھاتی پگڈنڈی سانپ کی طرح لگتی تھی۔۔
وه اللّه کا نام لیتا اس پگڈنڈی پر چلنے لگا۔۔ اوپر چڑھتے ہوئے نگاہوں نے ایک کھنڈر سا وہاں پایا جو شکستہ حال تھا۔۔ یوں لگتا تھا وه کوئی قدیم شاندار عمارت تھی جس پر زمانوں کی گرد پڑ چکی تھی۔۔
ٹوٹا پھوٹا سا دروازہ دهكیلتے اس نے پہلا قدم بڑھایا جب زنگ لگے دروازے نے عجیب سی آواز پیدا کی۔۔
🍁🍁🍁
وه مسلسل اپنے ہاتھ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی وه لوگ اسے کھینچتے کھلے سے صحن میں لے آئے جس کی کھلی چھت سے روشنی پڑتی وہاں کی گندگی کے ڈھیر کو واضح کر رہی تھی۔۔
سامنے کی دیوار میں گڑے ایک کھونٹے پر لپٹی رسی اتار کر انہوں نے اسے لکڑی کی بوسیدہ سی کرسی پر دهكیلتے اسے باندھ دیا۔۔
“ہاتھ کھولو میرے ایک بار پھر تم لوگوں کو بتاتی ہوں میں۔۔۔!”
کالی آنکھوں میں آگ لیے وه حلق کے بل چلائی تھی جس پر وہ موٹا سا شخص کان كهجاتا اس کے سامنے آیا۔۔
“کیا کر لے گی تو۔۔؟”
وه بھی تنک کر بولا وه پہچان گیا تھا کہ وہ رمل یوسف تھی اب اسکو وه کسی صورت نہیں چھوڑ سکتے تھے، باس کا اگلا آرڈر آنے تک۔۔
رمل نے دانت پیستے ٹانگ اٹھاتے سیدھا دے ماری جس پر اسکا چہرہ زرد پڑا۔۔ سختی سے آنکھیں میچتا وه پلٹ کر اپنے ساتھیوں پر برسنے لگا۔۔
“کس بلا کو اٹھا لائے ہو ایک کام ٹھیک سے نہیں ہوتا تم سے؟؟”
اس نے رکھ کر ایک ایک مقابل کھڑے اپنے چیلوں کو رسید کی۔۔ ابھی وه مزید کچھ کہتا جب دروازہ سے ایسی آواز برآمد ہوئی جو کسی بھی مشین کو وقت پر تیل نہ دینے سے نکلتی ہے۔۔
رمل نے آواز کے تعاقب میں دیکھا اسے اندر آتے دیکھ کر اسکی سیاہ آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔۔
یکایک اسکی آنکھیں چمکیں پھر اسے اس پر شدید غصہ آیا ، کیا بےوقوفوں کی طرح وه ان کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔۔
میر نے شہد رنگ آنکھیں سکیڑتے دو انگلیوں سے انہیں اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔ وه تینوں زور سے چلاتے اس کی طرف بھاگے رمل نے جھٹ سے انكهیں بند کی تھیں۔۔
ان بھینسوں کو اپنی طرف آتے دیکھ کر اس نے جیکٹ کے بازو اوپر چڑھائے پھر دائیں جانب دوڑ لگا دی۔۔
راستے میں اتی رکاوٹیں پھلانگتا وہ اوپر کو جاتی سیڑھياں پھلانگ کر اچانک اس جگہ پر کودا جہاں رمل بندھی ہوئی تھی۔۔
وہ ہٹے کٹے آدمی منہ کھولے اسے دیکھنے لگے جو پہلے کیسے ہیرو بن کر ان سے لڑنے کے لیے تیار کھڑا تھا پھر اچانک انہیں چکمہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا تھا۔۔
میر نے جلدی جلدی رمل کے بازو کھولے رسی کی اخری گانٹھ کھلی تھی جب وہ تینوں ان کے سر پر پہنچ گئے۔۔ وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی اٹھتے ہی اس نے ہاتھ کامکا بنا کر زوردار گھونسا مقابل کے منہ پر دے مارا۔۔ میر نے اس کا ہاتھ پکڑا وہ دونوں دوسری جانب کو بھاگ گئے۔۔ اب جیسے ٹوم اینڈ جیری کا کھیل شروع ہو چکا تھا۔۔ وہ دونوں راستے میں اتی چیزیں اٹھا اٹھا کر ان لوگوں کی طرف پھینکتےجا رہے تھے۔۔ گول گول چکر لگاتے کبھی رک کر ایک دو لاتیں انہیں رسید کرتے پھر دروازے کی جانب بھاگنے لگتے کہ ان میں سے کوئی سامنے آ جاتا۔۔ تنگ آ کر میر نے رمل کا ہاتھ چھوڑتے مقابل آتے اس ہٹے کٹے ادمی کو گریبان سے پکڑا اور زوردار گھونسے اسکے منہ اور پیٹ میں مارے۔۔ باقی دو تو پہلے ہی ہار مانتے ڈھے چکے تھے۔۔ “اتنی جلدی کاہے کی۔۔؟ ہم سے تو ملتی جاؤ مس رمل۔۔۔!” وه اس کھنڈر سے باہر نکلنے لگے جب اچانک سے کچھ لوگ اندر داخل ہوئے۔۔ جینز شرٹ میں ملبوس گہری انکھوں میں بھر بھر کر سرمہ ڈالے وه شخص ان کا سرغنہ لگتا تھا۔۔ اس کے ساتھیوں نے پسٹل نکالتے انہیں پیچھے دهكیلا چند سیکنڈ میں ہی وہ ان پر قابض ہو چکے تھے۔۔ میر طیش سے پاگل ہوتا اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ رمل نڈر انداز میں کھڑی اس کی سرمے بھری آنکھوں میں آنکھیں گاڑے کھڑی تھی۔۔ اس کے نڈر انداز پر وه مسکرایا۔۔ “دی گریٹ رمل۔۔۔ بہت شوق ہے ہواؤں میں اڑنے کا تم جیسی عورتوں کو بستر کی زینت بنانا میں خوب جانتا ہوں۔۔۔!” اسکا کہنا تھا کہ میر حاصل آپے سے باہر ہوتا زور سے غرایا۔۔ “اپنی بکواس بند کر میں تیری زبان کھینچ لوں گا۔۔!”
اسکے سخت کٹیلے الفاظ پر وه کچھ کہتا جب رمل نے زناٹے دار تھپڑ اسکے منہ پر ما
را۔۔ اسکی آنکھوں کا رنگ مزید گہرا ہوا تھا۔۔
“کتوں کے منہ نہیں لگتی میں۔۔!” استہزائیہ لہجے میں کہتی وه اسے آگ لگا گئی۔۔ ابھی وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی ان لوگوں کے پاس اسلحہ تھا اور وہ نہتے تھے۔۔! ذرا سی غلطی ان کی جان خطر*ے میں ڈال سکتی تھی۔۔ “سالی *** اب تو تجھے میرے ہی منہ لگنا ہوگا دیکھ کس طرح میں تیری عزت اتار کر تیری اکڑ ۔۔۔۔!”
اسکی بکواس سے وه آپے سے باہر ہوتا جنونی انداز میں ان کی گرفت سے نکلتا اس شخص پر ٹوٹ پڑا۔۔
باقی ساتھی بھی اپنے باس کی مدد کرنے کے لیے اسے مارنے پر تیار آگے بڑھے لیکن ان میں سے کوئی بھی اسکے جنون کا مقابلہ نہ کرسکا۔۔ میر نے ان سے پسٹل چھینی اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔ رمل نے نفی میں سر ہلايا ۔۔ “میر۔۔؟ قانون کو اپنے ہاتھ میں مت لو۔۔۔! میر میری طرف دیکھو۔۔!” وه بہرہ بنا سرد تاثرات لیے کھڑا تھا۔۔ شہد رنگ آنکھوں میں سرخ سا رنگ ابھر رہا تھا۔۔ اس نے پسٹل لوڈ کر کے ایک ایک گولی ان سب کے سینوں میں اتار دی۔۔ پھر وه پنجوں کے بل بیٹھا دو انگلیاں بڑھاتے اس نے ان کے باس کا چہرہ بلند کیا جو شدید تکلیف کی حالت میں رک رک کر سانس لیتا آنکھیں پوری کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ میر نے اس کا منہ کھول کر پسٹل کا رخ اس طرف کیا۔۔ “میییییر۔۔۔۔۔۔۔!” رمل چیخی تھی پھر ویرانے میں ایک گولی چلنے کی آواز گونجی۔۔ وه ہاتھ جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وه ساکت سی بت بنی کھڑی تھی۔۔
زمین خون آلود ہو چکی تھی۔۔ وه قدم قدم چلتا اس کے پاس آیا۔۔ “اس کے منہ سے غلط الفاظ نکلے تھے۔۔ اونہوں۔۔! خود کے لیے معاف کر دیتا ، آپ کے لیے نہیں۔۔! وه اسی قابل تھا کہ اسکا منہ گولیوں سے بھر دیا جاتا۔۔!!!”
سرد لہجے میں کہتا وه اسکا ہاتھ تھام کر وہاں سے باہر نکل آیا وه لب سیئے چپ چاپ اسکے ساتھ چلتی گئی۔۔ اسے اندازہ نہیں تھا ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ وه شخص اسے لے کر اس قدر جنونی تھا۔۔!!!
🍁🍁🍁
جیسے ہی وه اس عجیب سی جگہ پہنچے وه انہیں سامنے سے آتی نظر آئی اسکے ساتھ بھی کوئی تھا۔۔! وه لپک کر اس تک آئے۔۔ رمل نے حیرت سے ان تینوں کو دیکھا۔۔
“بابا آپ سب یہاں؟ آپ کو تو کورٹ جانا تھا نہ؟”
وه خود کو سنبهال چکی تھی لہٰذا ازلی انداز میں بولی۔۔
“تم ٹھیک ہو؟” میر کی موجودگی کو نظرانداز کرتا وه آگے بڑھ کر اسے خود سے لگا گیا۔۔ اس کے بکھرے بالوں پر ہاتھ رکھتے صالح نے اس کا سر چوما۔
اندر سے دل کتنا ڈر گیا تھا کہ کہیں اسکی بیٹی کو کچھ ہو نہ جائے! ان معاملات کو وه خوب جانتا تھا دشمن مقابل کو نیچا دکھانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتا۔۔
اسکی اتنی پرواہ پر وہ ایک پل کو دهیما سا مسکرائی۔۔ اس سے الگ ہوتی وہ اس کے ہاتھ تھام کر ہلکے پھلکے لہجے میں بولی۔۔
“بابا ٹھیک ہوں میں، چھوٹی بچی ہوں کیا؟ یو جسٹ ڈونٹ وری۔۔! آپ کی بیٹی ایسے لوگوں سے نہیں ڈرتی۔۔!”
ا
سکا پراعتماد مظبوط انداز دیکھتا وہ سر جھٹکتا مسکرایا۔۔ وه کیسے بھول گیا کہ وه اسکی بیٹی تھی پہاڑ جتنا حوصلہ اور ہمت لے کر پیدا ہوئی تھی۔۔! کیونکر وه چھوٹی موٹی آفات سے گھبرا جاتی۔۔؟
ماہ بیر نے کھنکارتے انہیں اپنی موجودگی کا احساس دلايا۔۔ “بھئی ہم بھی پریشان تھے اپنی بیٹی کے لیے باپ بیٹی تو ہم دونوں کو فراموش ہی کر بیٹھے ہیں۔۔!”
ان کو آپس میں بات چیت کرتے دیکھ کر میر حاصل نے وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا۔۔
“اہمم۔۔۔! میں چلتا ہوں۔۔۔”
کھنکارتا وه آہستہ سے کہہ کر جانے لگا جب صالح نے ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا۔۔ وه ایک پل کو گھبرا گیا پھر سنجیدگی سے اپنے مستقبل کے “سسر” کو دیکھنے لگا۔۔
“تم نے مدد کی رمل کی۔۔؟”
بھاری باروعب لہجے سے وه متاثر ہوا کیا یہ سب ہی مقابل کو اپنی شخصیت اور وقار سے ڈھا دینے پر قائل تھے؟؟
” جی ، سر ” ۔۔۔ وه اس کے احترام میں نرمی سے گویا ہوا۔۔ جس سے محبت ہو اس سے جڑی ہر چیز اور شخص کا احترام تو پھر واجب ہوتا ہے نہ۔۔!
“تھینک یو۔۔! تمہارا احسان یاد رکھوں گا۔۔۔!”
اسکا کاندھا تھپتھپاتا وه ذرا سا ۔۔ بس ذرا سا مسکرایا یوں لگتا تھا مسکراہٹ ذرا سی مغرور نقوش میں گھلی سی تھی۔۔
میر سر کو خم دیتا آگے بڑھا لیکن جانے سے پہلے رمل کو دیکھ کر “اپنا خیال رکھیے گا۔۔!” کہنا نہ بھولا۔۔
وه سٹپٹا گئی۔۔ بھائی، ماموں اور باپ کے سامنے کسی لڑکے کا یوں نرم گرم نظروں سے دیکھنا ۔۔ اف وه کیا کرے اسکا۔۔؟
“یار بھائی آپ تو یوں بھاگے نہ آتے انفیکٹ سب کو سمجھاتے خوامخواہ سب پریشان ہوئے۔۔!”
اس نے جلدی سے ماحول بدلنے کو کہا۔۔ ان تینوں میں نظروں کا تبادلہ ہوا۔۔
“تمہاری فکر ہے سب کو۔۔ جانتی ہو نہ؟”
ابراھیم نے اسکے بال بكهیرتے اسکے موضوع بدلنے کی کوشش کو کامیاب کیا۔۔
“ان لوگوں کا کیا ہوا جنہوں نے تمہیں کڈنیپ کیا تھا۔۔؟” ماہ بیر نے اچانک سے پوچھا جس پر وه لب بھینچ گئی۔۔ “اس نے انھیں مار دیا۔۔!” سپاٹ چہرے سے بولتی وه قدم آگے بڑھا گئی۔۔ “کیوں؟” ۔۔۔ صالح کی بھاری آواز سماعتوں سے ٹکرائی۔۔ “کیونکہ۔۔۔ انہوں نے میرے بارے میں غلط الفاظ کہے تھے!” ایک پل کو رکتی پھر وه قدم قدم چلنے لگی۔۔ “گھر چلتے ہیں ماما پریشان ہونگی۔۔۔!” 🍁🍁🍁 جونہی وه مشائم کے سامنے آئی وه اس سے لپٹ گئی۔۔ آنسو اسکی آنکھوں سے بہتے جارہے تھے۔۔ “ماما ڈونٹ کرائے آئی ایم فائن۔۔!” رمل نے ان کے آنسو پونچھتے بیڈ پر بٹھایا پھر ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔ “بہت ہوگیا رونا دھونا اور پریشان ہونا۔۔! آج رات ٹی پارٹی کرتے ہیں۔۔! سکون سے بیٹھ کر خوب باتیں کریں گے ہنسیں گے مسکرائیں گے۔۔! آج کی رات یوسفز کے نام۔۔!” اس کے پرجوش ہو کر کہنے پر وه سب مسکرا دیے۔۔ 🍁🍁🍁 ایک تھکا دینے والے دن کے بعد وه اپنے کمرے میں آرام کی غرض سے آئی تھی۔۔ عرش پہلے سے وہاں موجود بالکنی کی جانب رخ کیے کھڑا تھا۔۔ آہٹ پر اس نے پلٹ کر دیکھا وہ کبرڈ سے سرخ ڈھیلی سی شلوار قمیض نکال کر چینج کرنے چلی گئی۔۔ وه چہرہ واپس سیدھا کرتا خاموشی سے باہر دیکھنے لگا جہاں دور دور تک تاریکی تھی۔۔ آج اسے بےحد برا لگا تھا کسی کا نام اس کے نام کے ساتھ جوڑا جانا۔۔ ہاں وه اسے چاہتا نہیں تھا لیکن اسے کسی اور کے ساتھ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا کیسی بھی تھی وه اب اسکی بیوی تھی۔۔ لفظ “بیوی” پر وه خود کو عجیب کیفیت میں گھرا محسوس کرنے لگا۔۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا، سوچ ہی نہیں سکتا تھا کہ وه چھوٹی لڑکی اسکی بیوی کے درجے پر فائز ہوگی۔۔ اس کے ساتھ تعلق بنانے کا خیال بھی عجیب سا لگتا تھا۔۔ کچھ لمحات آئے تھے ان میں قربت کے لیکن وه حیات کا حاصل نہ تھے۔۔! وه چینج کر کے بیڈ کی طرف جانے لگی پھر کچھ سوچ کر اس کے برابر آ کھڑی ہوئی۔۔ “میں نے پہلی رات ہی واضح کر دیا تھا کہ وه مجھے پسند تھا۔۔! محبت نہیں تھی،، “پسند اور، تھا” کا مطلب تو سمجھتے ہیں نہ آپ؟ پسند ہمیشہ ایک سی نہیں رہتی۔۔ اور “تھا” ماضی ہے جو گزر گیا۔۔!” شال لپیٹے سینے پر ہاتھ باندھ کر وه ناک کی سیدھ میں دیکھتی مدهم آواز میں کہتی گئی۔۔ عرش نے سر جھکاتے اسکے چہرے کو دیکھا۔۔ “میں نے تم سے کچھ پوچھا؟” اسکا حوالہ پھر سے برا لگا تھا وه ماضی بھی کیوں تھا؟ اسکے نام سے منسوب کیوں تھا؟ ۔۔ ایرا نے نیلی آنکھیں سكیڑتے اسے دیکھا جو پہلے سے اس پر نگاہ کیے ہوئے تھا۔۔ “میں جیسے جانتی نہیں کہ آپ کو کونسی بات پریشان کر رہی ہے!” ۔۔۔ سر جھٹکتی وه واپس سامنے دیکھنے لگی۔۔ عرش نے اسکا بازو تھامتے اسے اپنے مقابل کیا۔۔۔ “بتاؤ کونسی بات پریشان کر رہی ہے مجھے۔۔۔!” گہری بھوری آنکھیں اس پر ٹکی تھیں جو یوں اچانک اسکے مقابل آنے پر گهبرائی تھی۔۔ “یہی کہ میرا نام کسی اور کے ساتھ جوڑا جانا آپ کو برا لگ رہا ہے اور یہ اسلئے ہے کیونکہ آپ کو میں اب اچھی لگنے لگی ہوں۔۔!” وه بھی اب کہ بغیر رکے اسکی گہری بھوری آنکھوں میں اپنی نیلی بڑی بڑی آنکھیں گاڑتی بول اٹھی۔۔ “تم ۔۔۔۔” عرش نے کچھ کہنا چاہا لیکن الفاظ نہ ملے۔۔ زیادہ زبان نہیں چل رہی تھی اسکی۔۔؟ “ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔!” بیزاری سے کہتا وه بیڈ کی طرف آتا اپنی سائیڈ لیٹ کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ گیا۔۔ وه اپنی بات نظرانداز کیے جانے پر تن فن کرتی خود بھی لائٹ آف کر کے لیمپ آن کرتی اپنی سائیڈ لیٹ گئی۔۔ بلینکٹ گردن تک اوڑھتے وه اسکی جانب کروٹ لیتی آنکھیں موند گئی۔۔ کچھ دیر تک یونہی چت لیٹا وه اسکے سونے کا انتظار کرنے لگا۔۔ جب اسے لگا کہ وه سوچکی تو خود پر بلینکٹ کھینچتا وه اسکی جانب کروٹ لیتا اس کا چہرہ تکنے لگا۔۔ وہ بس یونہی خاموشی سے پہروں اسے تکنا چاہتا تھا۔۔ یہ دل بھی نہ۔۔۔۔! نیم وا آنکھوں سے وه اسکی آنکھوں سے چھوٹی سی کھڑی ناک تک اور ناک سے پنکھڑی سے نرم گلابی لبوں تک سفر کرتا پھر یہ سلسلا دوبارہ شروع ہوجاتا۔۔! کچی نیند میں جانے کس احساس سے اسکی آنکھ کھلی۔۔ دھندلی بصارت واضح ہوئی تو اسے اپنے آپ کو تکتے پایا جس کے انہماک میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔۔ “آپ کیوں دیکھ رہے اب مجھے جب ایسا کچھ نہیں ہے۔۔؟” اسکی نیلی سرخی مائل آنکھوں میں خفگی نمایاں ہوئی۔۔ “چپ کر کے سو جاؤ ورنہ پھر آنکھیں تو تمہاری ہوں گی لیکن لب میرے ہوں گے۔۔! ” گھمبیر لہجے میں دی اسکی دهمكی پر منہ بناتی وه فٹ سے آنکھیں موند گئی۔۔ اس کی اتنی فرمانبرادی پر وه خفیف سا مسکرا دیا۔۔ 🍁🍁🍁 “زیادہ درد ہورہا ہے؟؟” اسکی کلائی پر پڑے سرخ نشانوں پر نرمی سے مرھم لگاتا وه اسے دیکھنے لگا۔۔ زنیشہ نے شرارت سے لب دبائے اسے کلائی میں ہلکی سی جلن تو ہورہی تھی ان غنڈوں کی سخت گرفت کے باعث۔۔
“ہمم ۔۔۔ بہت درد ہورہا ہے اتنییی زور سے کھینچا تھا انہوں نے۔۔!” روتا منہ بناتی وه لب باہر کو نکالتی معصومیت سے آنکھیں جھپكنے لگی۔۔
ابراھیم نے فورا سے اسکی کلائی پر لب رکھے وه اپنے لبوں سے اس درد کا مداوا کرنے لگا تھا جو اسکی نازک جان نےمحسوس کیا تھا۔۔۔
“آئی ایم سوری میں تمہارے پاس نہیں تھا۔۔!”
نرمی سے اسکی کلائی پر ابھری نس کو سہلاتا وه بھاری مدھم لہجے میں بولا۔۔
زنیشہ نے اسکے مظبوط ہاتھ کو دیکھتے اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔ سر جھکائے وه محویت سے اس کے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔۔
“کیا دیکھ رہی ہو ‘ دل ‘۔۔۔۔؟”
ایک ہاتھ سے مرھم کی ڈبی کا ڈھکن بند کرتا وه ٹشو سے ہاتھ صاف کرتا اسکی نظروں کے ارتکاز کو محسوس کرتا نرمی سے گویا ہوا۔۔
“ابراھیم ۔۔ آپ کے ہاتھ بہت پسند ہیں مجھے۔۔ بڑے سے، مظبوط ہاتھ ۔۔ ان کی ابھری نسیں مجھے عجیب طرح سے مسحور کرتی ہیں۔۔! میرے ہاتھ کتنے چھوٹے لگتے ہیں آپ کے سامنے۔۔!”
اسکے ہاتھ کو انگلی سے ٹریس کرتی آخر میں اپنے ہاتھ کے برابر لاتی وه کھلکھلائی۔۔ اف کتنے چھوٹے تھے اسکے ہاتھ۔۔!
وه اسکے بچکانہ انداز دیکھتا سر جھکائے مسکرا دیا۔۔
لب دبائے وه اپنی حسین بیوی کو دیکھنے لگا جسکی ناک میں جچتی نتھلی میں سرخ موتی آفت ڈھاتا تھا اسکے دل پر۔۔۔! اللّه ۔۔۔! یہ حسین لوگ اپنے حسن سے اتنے لاپرواہ کیوں ہوتے ہیں۔۔؟
“اچھا تمہیں بس میرے ہاتھ پسند ہیں ۔۔ اور میں ۔۔؟”
تکیے برابر کر کے وه دونوں نیم دراز ہوتے ایک دوسرے کی جانب کروٹ لے گئے۔۔
بلینکٹ سینے تک اوڑھتی وه دوپٹہ تکیے کے برابر رکھتی اسکی بات سنتی لب دبا گئی۔۔ مسکراہٹ امڈ امڈ کر آ رہی تھی جس سے اسکی شہد رنگ غزالی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔۔
تو میجر صاحب اپنی تعریف سننے کے موڈ میں ہیں ۔۔؟ گہری سانس لیتی وه آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔۔
“آپ بس ٹھیک ہی لگتے ہیں۔۔!”
اسکا کہنا تھا کہ وه سیاہ آنکھیں سکیڑتا ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی جانب کھینچ گیا۔۔۔ “ہمم اب بولو بس ٹھیک لگتا ہوں ۔۔۔؟”
اسکا سر کسرتی بازو پر رکھتا وه دوسرا بازو اس پر سے گزار کر اسے مکمل حصار میں لے گیا۔۔
زنیشہ نے آنکھیں بڑی کرتے مسکراہٹ دبائی۔۔ سب سمجھ رہی تھی وه میجر ابراھیم کا رومانٹک موڈ آن ہوچکا تھا۔۔! لیکن وه بھی اسکی بیوی تھی۔۔
“نہیں نہ پالے لگتے ہیں۔۔!”
اسکی داڑھی پر ہاتھ پھیرتی وه اسکی گردن کے گرد بازو حائل کر گئی۔۔ اسکی شرارتوں پر وه خفیف سا مسکرا دیا۔۔ اسے محبت تھی اس کے ہر انداز سے لیکن اسکا یہ انداز اسے اسے عشق کی سرحدوں میں لے جانے لگا تھا۔۔
اسکی کالی گہری آنکھوں میں جذبات کا امڈتا طوفان دیکھ کر وه ٹھہر گئی۔۔ بلینکٹ میں اسکے پیروں نے حرکت کی اسکی ٹانگ سے سفر کرتی وه اسکے پیروں پر اپنے پیر رکھ گئی۔۔
یخ ٹھنڈے پیر اپنے پیروں پر محسوس کرتے اس نے جھرجھری سی لی۔۔
“دل ۔۔۔؟ یہ کیا حرکت ہے پیچھے ہٹاؤ اپنے پاؤں۔۔!”
رومینس اپنی جگہ لیکن یخ موسم میں ٹھنڈے پیر برداشت کرنا۔۔۔؟ ہرگز نہیں۔۔۔! وه کھلکھلا دی۔۔
“پلیز میرے پاؤں گرم ہونے دیں ۔۔۔ نارمل ہی نہیں ہورہے ایسا لگتا ہے فریزر سے نکال کر لائی ہوں۔۔!”
اسے مسکے لگاتی وه اسکے سینے پر سر رکھتی بازو اسکے گرد حائل کرتی فٹ سے آنکھیں موند گئی۔۔
چند لمحے سر اٹھائے وه اسکی تھرتھراتی پلکوں کو دیکھے گیا پھر اسکی چالاکی پر ہنس پڑا۔۔
“میرا بچہ۔۔۔!” اسے مکمل خود میں بھینچتا وه آنکھیں موند گیا۔۔
“میری آغوش میں ہے وه ۔۔۔ جسے لوگ ‘ سکون ‘ کہتے ہیں۔۔۔!” دل میں سوچتا وه نیند کی وادیوں میں اترتا چلا گیا۔۔
🍁🍁🍁
پولیس کی وردی بدل کر سیاہ ٹی شرٹ ٹرراؤزر میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا وه بیڈ کی طرف بڑھا جہاں سائیڈ ٹیبل پر گرما گرم بهاپ اڑاتی کافی کا مگ پڑا تھا۔۔
نوشین اس کے کہے بغیر ہی اسے کافی دے گئی تھی جس پر وه حیران بھی ہوا اور شکر گزار بھی ۔۔!
اسے سچ مچ کافی کی بہت طلب ہورہی تھی۔۔ طلب تو کسی اور کی بھی ہورہی تھی۔۔
“حیان شاہ اب شادی کا سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا۔۔ اتنی ٹھنڈ میں تنہا سونا تو خود کے ساتھ ناانصافی ہے۔۔۔!”
اپنی سوچ پر وه مسکرا پڑا۔۔
ہیٹر آن کر کے وه واپس آتا کافی کا مگ اٹھانے کے لیے جھکا تو وہی آوارہ لٹ پیشانی پر آ گری۔۔ گھنےسیاہ بالوں میں سے سامنے کو گرتی یہ لٹ بہت جچتی تھی اس پر۔۔ اسکی لکس کلر تھیں ،، صنف نازک کو پل میں اپنی جانب راغب کرنے پر قادر تھیں۔۔
چارجنگ پر لگا موبائل اتار کر وه اپنے کنگ سائز بیڈ پر نیم دراز ہوتا گھونٹ گھونٹ کافی پینے لگا۔۔ گرم گرم کافی حلق سے نیچے اترتی سکون بخش رہی تھی۔۔
اس نے وہاٹس ایپ کھولا تو سب سے اوپر ایک چیٹ نظر آئی۔۔ ان ناؤن نمبر دیکھتے اس نے اسکی پروفائل پک پر ٹچ کیا۔۔
تصویر سامنے آ گئی وه کوئی لڑکی تھی جس نے لبوں کا پاؤٹ بنا رکھا تھا بس اسکے لب ہی تصویر میں نظر آ رہے تھے۔۔
جس چیز نے حیان کی توجہ کھینچی وه اسکے اوپر والے لب کے خم پر چمکتا تل تھا۔۔
آنکھیں سکیڑتے اس نے مگ خالی کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھا پھر اسکی چیٹ کھولی جس میں بے شمار میسجز تھے۔۔!
“ہیلو۔۔! ہائے۔۔! او مسٹر کھڑوس۔۔؟ ایس پی حیان ۔۔۔؟ ہینڈسم ۔۔؟ ” اس طرح کے بےشمار میسجز تھے۔۔! وه میسج پڑھتا لب بھینچ گیا۔۔
“کون ہو تم۔۔؟”
اس نے میسج سینڈ کیا جو فورا سین ہوا۔۔
“تمہاری دیوانی۔۔! کیا کہوں اب کیا لگتی ہوں میں تمہاری۔۔!” دوسری جانب جیسے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا گیا۔۔
سکرین پر چمکتے الفاظ دیکھ کر اس کی آنکھوں میں ناگواری آئی۔۔ اس نے کال کردی جسے فورا کاٹ دیا گیا۔۔ چند لمحوں بعد ویڈیو کال آنے لگی۔۔
چند لمحے وه سوچتا رہا پھر کال ریسیو کرلی۔۔ وه جو بھی تھی اندھیرے میں تھی اس لیے کچھ ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔ جبکہ وه حیان کو ٹھیک طرح سے دیکھ پا رہی تھی۔۔
“بولو اب۔۔ کون ہو تم اور ایک پولیس آفیسر کو اس وقت مسیجز کرنے کا مقصد۔۔؟ اسکا انجام جانتی بھی ہو؟”
سکرین پر نظریں ٹکائے وه سپاٹ لہجے میں بولا۔۔ دوسری جانب وه ہنس پڑی ۔۔ وه سکرین کے قریب چہرہ لائی تو اسکے لب ذرا واضح ہوئے۔۔
“تمہیں پتہ ہے تم بہت ہینڈسم ہو اور اس طرح جب بات کرتے ہو تو ہاٹ لگتے ہو قسم سے۔۔!”
وه دلکشی سے بولی تھی۔۔ حیان لب بھینچ گیا۔۔
“تم جو بھی ہو میں پتہ لگا لوں گا اس کے بعد تمہارا جو حشر کروں گا نہ یاد رکھو گی ساری عمر۔۔!”
وه بلالحاظ بولا تو وه تپ گئی۔۔
“تم کرو گے میرا حشر ۔۔؟ مجھے کسی کا باپ بھی ہاتھ نہیں لگا سکتا غز۔۔۔۔۔”
وه اچانک رکی تھی پھر کال کٹ گئی۔۔ حیان چونک کر اٹھ بیٹھا۔۔ یہ انداز اور اس طرح کے الفاظ اس نے سن رکھے تھے۔۔ اس نے جلدی سے ڈی پی کھولی پھر غور سے دیکھا۔۔ اچانک ڈی پی غائب ہوگئی اس لڑکی نے اسے بلاک کردیا تھا۔۔
وه واپس نیم دراز ہوتا پرسوچ نظروں سے سکرین کو دیکھنے لگا۔۔ وه اسے پہچان چکا تھا۔۔
“غزل خانی ۔۔۔۔! بہت شوق ہورہا ہے مجھ سے بات کرنے کا؟ ہاٹ لگتا ہوں میں تمہیں؟ بات کیا۔۔ اب ملاقات ہوگی۔۔!”
خود کلامی کرتا وه موبائل بیڈ پر ڈال کر چت لیٹ گیا۔۔
🍁🍁🍁
وه کب سے لیپ ٹاپ میں سر دیے ٹیبل پر کاغذات پھیلائے کام کر رہا تھا۔۔ اسکے چہرے پر تھکن نمایاں تھی سرمئی آنکھیں مسلسل جاگنے کے باعث سرخ ہورہی تھیں۔۔
ارشیہ نے اکتا کر آنکھیں کھول دیں اس نے ہزار کوشش کی کہ اس پر لعنت بھیج کر سکون سے سوجائے لیکن اندر کہیں بےچینی سے ہورہی تھی۔۔
بالاخر وه اٹھ بیٹھی۔۔ لمبے گھنگھریالے بالوں کا اونچا جوڑا بنا کر وه اس کے پاس آ کھڑی ہوئی بدر نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو صوفے پر جگہ بناتی اس کے ساتھ بیٹھ چکی تھی۔۔
“کیا؟؟ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟”
کاغذات کا ڈھیر سمیٹتی وه مصروف سے انداز میں بولی۔۔ وه چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر دهیما سا مسکرا کر واپس لیپ ٹاپ کی سکرین دیکھتا کیز پریس کرنے لگا۔۔
“تھینک یو۔۔۔!”
مدهم آواز پر ارشیہ نے نیلی تیكهی آنکھیں سکیڑیں۔۔
“زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے مجھے نیند نہیں آ رہی اس لیے یہاں ہوں ورنہ جو تم نے میرے ساتھ کیا ہے میں بھولی نہیں ہوں۔۔!”
اسے گھورتی وه ناک منہ چڑھا کر بولی۔۔ بدر نے سر کو خم دیا ۔۔
“اوکے بیوی۔۔! آئی مین ایک سال دو ماہ بڑی بیوی۔۔۔! دونوں صورتوں میں بیوی ہی ہو ویسے۔۔۔!”
وه بھی اپنے موڈ میں واپس آ چکا تھا طبیعت پر چھائی بیزاری ہٹنے لگی تھی۔۔ اسے اس وقت وه کاٹ کھانے کو دوڑتی بھی اچھی لگ رہی تھی۔۔
وه جانتا تھا اسے ایک ان دیکھا احساس کھینچ لایا اسکی اوڑھ۔۔۔! اب وه مانے یا نہ۔۔!
وه اٹھ کر باہر گئی تھی کچھ منٹوں بعد ہی اسکی واپسی ہوئی تھی اسکے ہاتھ میں کافی کے دو کپ اور سینڈوچ تھے۔۔ اب آدھی رات کو اتنا کام کرنا تھا تو انرجی تو چاہیے تھی نہ۔۔!
“یہ لو پہلے کھا لو ۔۔! اتنی بری بھی نہیں ہوں میں جتنا تم سمجھتے ہو ہاں یہ الگ بات ہے کہ اپنا بدلہ ضرور لوں گی۔۔۔! “
لاپرواہ انداز میں کہتی ٹرے اسکے سامنے کرتی وه اپنا لیپ ٹاپ آن کرنے لگی۔۔
بدر نے کافی کا کپ تھامتے لبوں سے لگایا۔۔ ایک پل کو وہ آنکھیں موند گیا۔۔ یوں لگتا تھا وه جنت میں آگیا ہو۔۔۔! ہاں مگر بیوی کی سنگت میں گزرے لمحات جنت ہی ہوتے ہیں کیونکہ پاک رشتہ اور جائز جذبات اس میں شامل ہوتے ہیں۔۔!
“اونہوں ۔۔ بری نہیں لگتی مجھے ۔۔ کچھ اور لگتی ہو۔۔!”
گردن دائیں بائیں ہلاتا وه تھکن اتارنے لگا تھا۔۔
ارشیہ نے کندھے اچکاتے سینڈوچ والا ہاتھ منہ کی جانب کیا ہی جب وه جھک کر ایک کی بائیٹ میں آدھا سینڈوچ منہ میں غائب کرتا سیدھا ہوا۔۔! اف کیا ذائقہ تھا کیا مزا آیا تھا چھین کر کھانے کا۔۔۔
وه تپ اٹھی اسکی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا تھا وه جنگلی بلا۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے واپس دو مجھے۔۔۔!” وه دانت پیس کر
بولی۔۔
“اب تو میں کھا چکا ایک ٹکڑا ہے میرے منہ میں۔۔! جوٹھا کھانا چاہو گی؟ آپس کی بات ہے پیار بڑھتا ہے ویسے بھی ہمیں بہت ضرورت ہے پیار بڑھانے کی۔۔۔!”
اس کی جانب جھکتا سرمئی آنکھوں میں شرارت لیے وه اسکا غصے سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھنے لگا۔۔ ارشیہ نے اسے خود پر جھکتے دیکھ کر زور سے پیچھے دهكیلا۔۔
“پرے ہٹو منحوس انسان۔۔! دوبارہ یہ چھچھوری حرکت کرنے کی کوشش کی تو میں تمہیں گنجا کر دوں گی۔۔! بدتمیز نہ ہو تو۔۔۔!”
بڑبڑا کر وه کپ ٹیبل پر پٹختی لیپ ٹاپ پر مطلوبہ فولڈر کھولنے لگی۔۔
وه اس کی حالت دیکھ کر سر صوفے کی بیک پر پھینکتا هنستا جارہا تھا۔