Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

سیاہ لمبی قمیض اور چوری دار پاجامہ میں ہمیشہ کی طرح سیاہ چمکدار بال کس کر اونچے جوڑے میں باندھے وہ بیگ کندھے پر لٹکاتی این جی او سے باہر نکلی۔
تارکول کی صاف ستهری سڑک پر اس کی سیاہ ہیل کی آواز خاموشی کے باعث واضح ہورہی تھی۔
“باجی میری مدد کریں میری چھوٹی بیٹی بھوک سے مر رہی ہے ہم نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا اللّه آپ کو اور كامياب کرے اللّه کے نام پر ہماری مدد کریں!!!”
وہ اپنی کار سے کچھ دور ہی تھی جب کٹے پھٹے حلیے میں ایک بهكاری اس کے پاس آتا بھیک مانگنے لگا۔ رمل نے اسے سر تا پیر دیکھ کر ایک کڑی نظر اس پر ڈالی۔
اسے نظر انداز کرتی وہ کار کی جانب بڑھی۔۔ “نئے کپڑوں کو جگہ جگہ سے پھاڑ لینے سے وہ پرانے اور بوسیدہ نہیں ہوجاتے۔ بھوکا ہے لیکن چہرہ کیسے شادابی لیے ہے جیسے ابھی کچھ ٹھونس کر آیا ہو۔۔۔
بےوقوف سمجھتے ہیں یہ رمل یوسف کو!!!”
خود سے بڑبڑاتی وہ کار کا دروازه کھولنے کو جھکی جب اپنے پیچھے تیز قدموں کی آواز پر فورا پلٹی۔
اس کی پہلی نظر اس شخص کی پاکٹ سے جھانکتے ریوالور پر پڑی۔ اسے رکتا دیکھ کر اس نے جلدی سے سے “ریوالور نکال کر رمل پر تان کر ٹریگر دبانا چاہا جب سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس نے ہاتھ میں پکڑا بیگ گھما کر اس کے ہاتھ پر مارا۔۔۔ ریوالور دور جا گرا۔ اس افتاد پر وہ شخص بوکھلا گیا۔ رمل نے دوسری بار بیگ اس کے منہ پر مارا۔ وہ بھی غصے سے اسے مارنے کو لپکا جب وہ پیروں کو ہیلز سے آزاد کرتی آگے بڑھی۔
اسکی سیلف ڈیفینس ٹریننگ آج کام آنے والی تھی۔ اس کے بازو کی سائیڈ سے نکل کر اس نے زوردار پنچ اس کی ناک پر مارا جس سے وہ شخص دہرا ہوگیا۔ اسکی ناک سے خون بہنے لگا تھا۔۔
موقع کا فائدہ اٹھا کر اس نے اسے زور دار دھکا دیا جس سے وہ ہڑبڑا کر تارکول کی سڑک پر جا گرا۔
“مجھے مار*و گے؟”
اپنی ہیلز جلدی سے پہن کر اس نے ایک پیر اس کے ہاتھ پر رکھ کر کچل دیا۔۔ ایسی خاموشی میں اس شخص کی زوردار چیخ بلند ہوئی۔
“اپنے دو نمبر باپ کو کہہ دینا جا کر تب تک کوئی بھی مائی کا لعل ‘رمل یوسف’ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا جب تک سب کے کالے کارنامے میں میڈیا پر نہیں لے آتی۔ ایسی کالی بھیڑوں کو منظر عام پر لائے بغیر میں نہیں مروں گی بتا دینا اپنے دسویں فیل باپ کو!!!”
سرد لہجے میں کہتی وہ کار میں بیٹھی اس سے پہلے کہ کوئی اسے دیکھے اسے نکل جانا چاہیے ورنہ کل پھر میڈیا پر یہ خبر مرچ مصالحوں کے ساتھ پیش کی جانی تھی۔
اسے فرق نہیں پڑتا تھا بس وہ اپنی فیملی کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
🍂🍂🍂
بلیک لانگ سکرٹ کے ساتھ لیمن کلر سكِن ٹائیٹ، فل سلیوز، شرٹ میں بجلیاں گراتی وہ “ایسکاٹ ہوٹل” کی راہداری میں ایک ادا سے چلتی جا رہی تھی۔
لانگ شوز میں مقید اس کے پیر تیزی سے ماربل کے چمکتے فرش کو پیچھے دهكیل رہے تھے۔
لوگ مڑ مڑ کر اس آفت ڈھاتی ظالم حسینہ کو دیکھ رہے تھے جو مہرون گھٹنوں تک جاتے کرلی بالوں کو پشت پر کھلا چھوڑے بےنیازی سے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔
اس کے اوپرے ہونٹ کے خم پر موجود تل اسے مزید مغرور بناتا تھا۔ ہری کانچ سی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی۔ ایک روم کے سامنے آ کر وہ رک گئی اس نے سر اٹھا کر کمرہ نمبر دیکھا۔
پھر وہ دروازه دهكیل کر اندر آئی اور واپس بند کر دیا۔ پرتعیش کمرے میں رکھے جدید طرز کے صوفے پر بابا صاحب براجمان تھے۔
ان کے سامنے لیث گھٹنوں سے پھٹی پینٹ اور رف سی شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑے ٹانگ پر ٹانگ جمائے پھیل کے بیٹھا تھا۔
بابا صاحب کے پیچھے ذاکر اور کالیا ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو ان کے ایک اشارے پر جان دے بھی سکتے تھے اور لے بھی سکتے تھے۔ بابا صاحب کو اندھا اعتماد تھا ان پر جس میں دراڑ حسینہ نے ڈالی تھی ۔۔
ایک آنکھ نہ بھاتے تھے اسے بابا صاحب کے چمچے جو ہر وقت اس پر نظر رکھتے تھے۔ اسی لیے وہ اپنے اعتبار کا بندہ لائی تھی۔
آہستہ آہستہ اس نے ذاکر لوگوں کو اس انداز میں بابا صاحب پر واضح کیا کہ ان کا اعتبار ختم ہوتا گیا۔ مكهن سے بال کی طرح نکال پھینکا تھا اس نے ان سب کو۔ خیر اس پر تو اندھا اعتبار تھا بابا صاحب کو۔
آہستہ آہستہ وہ اندر کے معاملات بھی اس پر واضح کرتے گئے۔ حسینہ کو اور کیا چاہئے تھا وہ تو ان کا دم بھرتے نہیں تھکتی تھی۔
مافیا راج کے ایک جانے مانے گینگ کو لڑکیاں سمگل کرنے اور ایک خاص ڈیلنگ کرنے کے لیے انہوں نے ڈنمارک کو ٹھکانہ بنایا تھا جہاں بحری جہاز کے راستے مال غیر قانونی طور پر لانا بہت آسان تھا۔
پاک آرمی کو ان کے ارادوں کی خبر ہوچکی تھی کب سے وہ اس موقع کی تاک میں تھے جب وہ روحانی شخصیت بابا صاحب اور ایسی ہی کئی ملک دشمن تنظیموں پر شکنجہ تنگ کریں جو اچھائی کا مکھوٹہ پہن کر عوام کو الو بنا رہے ہیں!!!
قاتل مسکراہٹ سے غضب ڈھاتی وہ لیث کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی وہ فورا دور ہوا تھا اس سے ۔ اس نے چہرہ اس کی جانب کرتے سرد نظروں سے اسے گھورا بابا صاحب ہنس پڑے تھے۔
“بھائی حسینہ بڑا سخت لونڈا ہے یہ تمہاری دال نہیں گلنے والی تم ہمارے پاس ہی اچھی لگتی ہو آؤ۔۔۔!!!”
وہ حوس زدہ نظریں اس کے وجود پر گاڑتے مسکرا کر بولے۔
وہ ناراض نظروں سے انہیں دیکھتی اٹھی اور ان کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی۔
“اب کام کی بات پر آتے ہیں آج رات مال پہنچ جائے گا۔ پرسوں ہمیں یہاں سے روانہ ہونا ہے۔ اس دوران سب محتاط رہنا۔ ڈیل ہوتے ہی ہم یہ ہوٹل چھوڑ کر فارم ہاؤس چلے جائیں گے!!!”
وہ سنجیدہ لہجے میں کہہ رہے تھے۔ حسینہ اور لیث میں نظروں کا تبادلہ ہوا۔
“بابا صاحب کام تو ہوتے رہیں گے کیوں نہ اس ڈیل کی خوشی میں کل جشن منایا جائے؟”
وہ ان کی جانب مڑتی دلکشی سے بولی۔ وہ تو گهایل ہی اس کے اس انداز پر تھے اب بھی منع نہ کر پائے۔
“جیسا تم چاہو لیکن خیال رہنا محفل میں شراب شباب سب ہونا چاہیے!!!”
وہ سرمستی سے بولے تو وہ تیکھا سا مسکرائی۔
“ضرور جیسا آپ کا حکم۔۔۔! یہ جشن بلاشبہ یادگار ہونے والا ہے!!!”
صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر وہ آنکھیں موندتی ہنسی تھی۔
🍂🍂🍂
کیا ۔۔ اتنا سب ہوگیا ؟ مشی ماما یہ غلط بات ہے میرے بھائی کی شادی ہو رہی ہے میرے بغیر؟
مجھے ماما نے بتایا تک نہیں ؟ وہ رو دینے کو ہوئی۔ “ابراھیم کو بتایا تھا؟ لیکن انھوں نے تو کوئی بات نہیں کی مجھ سے!!
“اوکے ٹھیک ہے! میں پھر بات کرتی ہوں!!!”
کال کاٹ کر وہ ہاتھ میں چہرہ چھپا کر رونے لگی۔ کتنا اکیلا محسوس کررہی تھی وہ خود کو اس نے سر اٹھایا ۔
ایرا بےچاری بہت چھوٹی ہے وہ۔۔ اللّه یہ اچانک کیا ہوگیا ہے!! ٹنشن سے اس کا سانس اکھڑنے لگا اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔
کپكپاتے ہاتھوں سے اس نے جھک کر ڈرار کھولا۔ ان ہیلر نکال کر زور سے ہلا کر اس نے گہری سانس لینے کی کوشش کی۔
ان ہیلر منہ سے لگا کر اس نے پانچ سیکنڈ تک سانس کھینچی۔ سانس بحال ہوئی تو وہ بیڈ پر چت لیٹ گئی۔اس کے چہرے کی رنگت بحال ہونے لگی تھی۔
🍂🍂🍂
وہ اپنے بنگلے کے سامنے کار روک کر نیچے اتر کر گیٹ پر موجود واچ مین کی طرف آئی۔
“گھر میں کوئی نہیں ہے؟”
وہ مؤدب سا اٹھ کھڑا ہوا۔
“نہیں! بڑی بی بی سامنے والے بنگلے میں چلی گئی ہیں کہہ کر گئی تھیں کہ آپ بھی جلدی سے تیار ہو کر وہاں پہنچ جائیں!!!”
وہ سر ہلا کر گیٹ سے اندر آئی۔ لان عبور کر کے وہ جلدی سے کمرے میں آئی اور کپڑے تھام کر شاور لینے گھس گئی۔ کل ایرا اور عرش کی چھوٹی سی مهندی کی رسم رکھی گئی تھی۔
ارشما کے بےحد اسرار پر۔۔ بقول اس کے پہلے ہی ایک بیٹی کا نکاح سادگی سے کر دیا اب اپنے بیٹے کی شادی سادگی سے نہیں کروں گی!!
بارات کا بڑا فنکشن رکھا گیا تھا جس کے لیے انہیں بروقت ہال پہنچنا تھا۔ سب لوگ ماہ بیر کے بنگلے میں جمع تھے اس لیے مشائم نے رمل کے لیے پیغام چھوڑ دیا تھا۔
وہ شاور لے کر جلدی سے باہر نکلی۔ آف وائٹ ریشمی غرارہ اور گھٹنوں تک آتی آف وائٹ شرٹ میں وہ جلدی سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی۔
تولیے میں لپٹے بال آزاد کر کے ڈرائیر کی مدد سے سکھانے لگی۔ بال سکھاتے اس نے پیروں میں ڈل گولڈن کھسہ پہنا۔ ڈرائیر رکھ کر اس نے جلدی جلدی برائے نام میکپ اپلائے کیا۔
نینوں میں کاجل اور لبوں پر ہلکی سی براؤن اور پنک شیڈز کی لپ سٹک مکس کر کے لگا کر اس نے سیاہ لمبے بالوں کو ڈھیلے جوڑی میں مقید کر کے اطراف سے دو لٹیں نکال لیں۔
ایئر رنگز دیکھ کر اس کا منہ بن گیا مشائم کے ڈانٹنے کے بعد وہ یہ ایئر رنگز پہننے پر تیار ہوئی تھی۔ سفید ننھے موتیوں سے سجے سہارے والے ایئر رنگز پہن کر اس نے دوپٹہ کندھے پر ڈالا جب باہر سے واچ مین کی آواز آئی۔
“بی بی آپ سے کوئی میر صاحب ملنے آئے ہیں!!!”
وہ ایک پل کو ٹھہر گئی۔ پھر کچھ سوچ کر وہ باہر آئی کھسے میں لگے ننھے سے گھنگھرو ہلتے خاموشی میں ارتعاش پیدا کر رہے تھے۔
سیاہ شلوار قمیض میں اپنی شاندار پرسنالٹی کے ساتھ وہ ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہا تھا۔ اس کی شہد رنگ آنکھیں اس پر پڑتے ہی ساکت ہوئی تھیں۔
سجی سنوری اس کی طرف آتی وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔ اس کا ایسا روپ اس نے دیکھا کب تھا۔ وہ تو اپنی سادگی میں بھی معصوم دلوں پر ستم ڈھاتی تھی سنگهار کیے تو وہ مقابل کو کسی قابل نہ چھوڑتی۔
“بولیے!!”
اس کے مقابل آتی وہ تیکھے لہجے میں بولی۔ وہ سر جھکا کر ہنس پڑا حلیہ بدلا تھا انداز وہی تھے۔
“میں یہاں سے گزر رہا تھا سوچا آپ کی خیر خبر لیتا چلوں!!!”
پشت پر ہاتھ باندھتا وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا بولا تھا۔ اس نے آنکھیں سکیڑ کر کر اسے دیکھا۔
“ہمارا تعلق اس حد تک نہیں آیا میر صاحب کہ آپ میرے گھر تک پہنچ جائیں!! خیر مبارک ہو بہت آپ الیکشن جیت گئے!!!”
سر اٹھا کر وہ بےتاثر لہجے میں بولی وہ مسکرایا تو اس کی نظر اس کے گال میں پڑتے گڑھے پر ٹھہری۔
“اچھا لگ رہا ہوں؟؟”
مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا اس کی نظروں کا رخ محسوس کرتا وہ مدهم لہجے میں بولا۔
“زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں مصروف ہوں آپ اپنی خوش فہمیوں کا ٹوکرا اٹھا کر جائیں یہاں سے!!!” وہ پلٹ گئی۔
“خوش فہمی پالنا میر حاصل کی عادت نہیں۔ کبھی فرصت سے غور كیجیے گا جناب پر!! ۔۔۔ چلتا ہوں!!!”
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ رمل نے مڑ کر اس کی چوڑی پشت کو آنکھیں سکیڑ کر دیکھا۔
سر جھٹک کر وہ اندر آئی۔ اپنا فون اور ضروری چیزیں لے کر وہ رومز لاک کر کے گیٹ پر آئی۔ چوکیدار کو کچھ ہدایات دینے کے بعد وہ روشنیوں میں نہائے ماہ بیر کے بنگلے کی طرف بڑھ گئی۔۔
🍂🍂🍂