My Kharoos Mister By Mirha Khan Readelle50253 Episode 35 ( part 2)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35 ( part 2)
زنیشہ کی طرف سے مطمئن ہوتا وه باہر لان کی جانب بڑھ گیا لاؤنج سے سب لڑکیوں کا شور بلند ہونے لگا تھا جسکا مطلب تھا ان کا اصل فنکشن اب شروع ہونا تھا۔
وه لان کی سیڑھیاں اترتا سب مرد حضرات کی جانب چلا آیا جو ایک دائرہ بنائے کھڑے تھے۔ حیان میر سے مخاطب تھا وه بھی ان میں گھس گیا یہ جاننے کے لیے کہ اب کون کس کی ٹانگ کھینچ رہا ہے۔
“یار ۔۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں تمہاری فیلنگز ۔۔۔ تم نے پریشان نہیں ہونا بس ۔۔ غصے میں وه بس دو چار گھونسے ہی مارا کرے گی اب اپنی محبت کے لیے اتنا تو برداشت کرنا ہی پڑے گا نہ ۔۔!!!”
حیان کہہ کرمیر کے تاثرات دیکھتا قہقہہ لگا گیا۔ میر نے بھی جیسے اسکی بات کو انجوائے کیا تھا۔
” صاحبزادے تم اپنی خیر مناؤ جو تمہارے پلے پڑی ہے نہ وه تمییں غصہ آنے پر گنجا بھی کر سکتی ہے، پٹھانی ہے وه ایسے ایسے جملے کسے گی کہ تمہاری طبیعت صاف ہوجائے گی ۔۔۔!!!”
اب کہ صالح نے حیان کی جیسے ٹانگ کھینچی تھی وه ہنس پڑا تھا سفید پاجامے کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالتا وه خاصے جتاتے لہجے میں بولا تھا۔
” اونہوں ۔۔۔ انکل آپ جسے جانتے تھے وه غزل خانی تھی ، اب آپ اسے غزل حیان شاہ کے نام سے جانیں گے۔۔۔!!! “
دور جلتی لکڑیوں کے کڑوے کسیلے دھوئیں کی بو ناک سے ٹکرائی تو اسے سگریٹ کی طلب ہوئی تھی۔
مسکراتے لہجے میں جواب دیتا وه جیب سے سگریٹ لائیٹر نکالتا ایک طرف ہوگیا۔
” اتنا شور کیوں آ رہا ہے لاؤنج سے، خواتین کی چخ چخ کبھی بند نہیں ہوتی۔۔۔!!!”
کان میں چبھتے شور شرابے سے بدمزہ ہوتے بدر آخر بول ہی پڑا اسکے سڑے تاثرات دیکھ کر ساتھ کھڑے ماہ بیر نے اس کی گردن کے گرد ہاتھ رکھا۔
” کیوں نواب ۔۔؟ تمہاری بیوی بھی اندر ہی ہے ۔۔۔!!!”
اس نے خاصا جتاتے اپنے انوکھے سپوت کو دیکھا جس نے سرمئی آنکھیں اس سے چرائی تھیں۔
” وہ تو سب سے آگے ہے ۔۔۔!!!”
جواب ابراھیم کی جانب سے آیا تھا ۔۔
” آئی مین شاید ڈانس وانس ہونے لگا ہے خواتین کا ۔۔ ارشیہ پرفارم کرنے والی ہے باہر آتے کان میں کسی کی آواز پڑی تھی ۔۔!!!”
داڑھی پر ہاتھ پھیرتا وه لاپرواہ انداز میں بولا تھا۔۔
سیاہ آنکھوں نے بدلیوں سے ڈھکتے آسمان کو چند لمحے دیکھا تھا پھر وه بدر پر آ ٹکی تھیں جو باقی سب کزنز کی طرح سیاہ کرتے پاجامے میں بلا کا ہینڈسم سم لگ رہا تھا۔
” کیا ۔۔۔؟؟ پہلے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔!!!”
اسکے پیٹ میں جیسے مروڑ اٹھنے لگے تھے وہ اندر جانے کے ارادے سے آگے بڑھا جب عرش نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھتے اسے روکا تھا گہری بھوری آنکھیں عجیب بیزاری لئے ہوئے تھیں۔
فضول کی رسمیں ہونہہ ۔۔۔!!! بیویاں شوہروں کو فراموش کیے غائب ہیں اور بےچارے شوہر انہیں دیکھ تک نہیں سکتے ۔۔!
وجہ ۔۔۔؟ لاؤنج میں لگا “نو اینٹری” کا بورڈ ۔۔۔!!!
“رک جا ۔۔۔ بڑا اتاولا ہورہا ہے لاؤنج میں گیا نہ تو اڑتے ہوئے جوتے آئیں گے۔۔۔!!!”
وه یوں بیزاری سے کہتا اسے روک رہا تھا جیسے احسان کر رہا ہو اس پر ۔۔!
صالح، ماہ بیر ، اورهان اور ابراھیم خاموش کھڑے ان دونوں نوابوں کو دیکھ رہے تھے جس میں ایک کے منہ پر جھنجھلاہٹ تھی جبکہ دوسرے کے منہ پر دنیا جہاں کی بیزاری۔۔۔!!!
حیان علی کی کال اٹینڈ کیے اسے سخت سست سنا رہا تھا جو پیٹ کی خرابی کے باعث فنکشن پر نہیں آیا تھا۔ ان لیلیٰ مجنوں کا رومینس جاری تھا۔۔
” ہاں ہورہا ہوں اتاولا ۔۔ اپنی بیوی کو دیکھنے جا رہا ہوں نہ تجھے کیا ۔۔۔ اور تو تو جیسے بڑا شریف قسم کا لونڈا ہے ۔۔ کس طرح ندیدی نظروں سے گھور رہا تھا بچی کو ۔۔۔ بچاری کا پتہ نہ کیا ۔۔۔!!!”
اس سے پہلے بدران شاہ اسکا راز فاش کرتا عرش نے رکھ کر ایک اس کی گردن پر لگائی جس سے باقی سب کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ آئی ۔۔
کون کہہ سکتا تھا یہ ملک کا “ٹاپ کھڑوس ماڈل” اور دوسرا “دی اینگری بزنس مین” ہے جو اس وقت بچوں کی طرح حرکتیں کر رہے تھے۔۔
“چل نکل ۔۔۔ اچھا کرتی ہے وه تیرے ساتھ ۔۔۔!!! “
عرش شدید بدمزہ ہوتے بولا تھا۔ بدر نے اپنے یہاں ہونے پر ہزار بار لعنت بھیجی ۔۔! بڑبڑا کر وه لان سے نکل گیا۔
اچانک عرش کی نظر ابراھیم پر پڑی جو اسکی حالت سے لطف اٹھا رہا تھا۔ اسے اپنی جانب متوجہ پا کر ابراھیم نے سر جھکاتے جیسے زمین پر کچھ تلاشنا چاہا تھا۔
عرش نے آنکھیں سکیڑی تھیں سیاہ شال کاندھوں پر پھیلاتے وه ابراھیم کے ساتھ آ کھڑا ہوا۔ اسی دوران ماہ بیر ، اورهان اور صالح کچھ فاصلے پر ہوتے آپس میں محو گفتگو تھے۔۔
” بڑی ہنسی آ رہی ہے میجر ابراھیم کو ۔۔۔ہمم ؟ تمہیں بھی خوب جانتا ہوں ۔۔۔! اتنے شریف بھی نہیں ہو جتنے دکھتے ہو ۔۔!!!”
اب وہاں ان دونوں کے علاوہ میر اور حیان موجود تھے۔
” آ ۔۔ میں نے کب کہا ایسا ۔۔!!! ابھی تیری بہن کو دو چمم ۔۔۔۔!!!”
وه جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑتا لب دبا گیا آج اس نواب کو تپانے میں بڑا لطف آ رہا تھا۔
” استغفراللّه ۔۔۔!!! “
عرش خفت زدہ سا کہتا میر سے مخاطب ہوا۔
” تم بھی اس کی بہن کا خوب دیهان رکھنا اسی طرح جس طرح یہ اپنی بیوی کا رکھتا ہے ۔۔!!!”
ابراھیم کے تاثرات پل میں بدلے ۔۔ ہاں اب عرش کے دل میں ٹھنڈ پڑ گئی تھی۔۔
” اہمم ۔۔۔!!!! ” صالح نے قدرے زور سے کھنکارتے عرش کو گھورا تھا۔ بات اب رمل کی ہورہی تھی، اسکا باپ اور بھائی کیوں کر برداشت کرتے ۔۔؟
انہیں اپنی جانب متوجہ پا کر عرش مسکراہٹ دبا گیا۔۔! اف یوں مسکان دباتا وه کس قدر پیارا لگ رہا تھا۔۔! تیكهے نین نقش اٹھلائے سے تھے۔۔!
اسی دوران ماہ بیر کے موبائل پر کال آنے لگی ۔۔! اس نے جیب سے موبائل نکالتے نام دیکھا۔۔ ” ٹیچر جی کالنگ ۔۔۔!!! ” کال کاٹ کر وه باقیوں کی جانب دیکھنے لگا جو اسکے یوں خاص طرح مسکرانے پر آنکھیں سکیڑے دیکھ رہے تھے۔۔
” بےغیرتو ۔۔۔!!! تمہاری اماں جی کا فون تھا ۔۔۔!!! “
اپنے سپوتوں کی نظروں کا مطلب سمجھتے وه تنک کر کہتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔!
” سر ۔۔۔!!! مزید کتنی دیر قلفی جمانی ہوگی ۔۔۔؟ “
سرد سی روبوٹک آواز پر سب نے آواز کے تعاقب میں دیکھا تو گرے تھری پیس میں ایک اونچا لمبا شخص بےتاثر چہرہ سے میر سے کچھ فاصلے پر آ کھڑا ہوتا پشت پر ہاتھ باندھ گیا۔
وه ابرو اچکائے اسے دیکھنے لگے کہ اب کونسی بلا نازل ہوگئی ۔۔۔؟ البتہ میر حاصل نے یاور کے یوں بےدھڑک طنز پر دانت پیسے تھے یہ خبیث کسی دن مرے گا میرے ہاتھوں ۔۔۔!!!
” ہیلو سر ۔۔۔!!! آئی ایم یاور ۔۔۔!!! پرسنل سیكرٹری آف دِس پی ایم ۔۔۔!!! “
ان کو اپنی جانب دیکھتے پا کر یاور نے خود ہی اپنا تعارف کروا دیا ، باس سے اسے یہی امید تھی کہ ان کا بس چلتا تو ابھی اسے لات مار کر باہر نکال دیتے۔۔۔!!!
” آئی سی ۔۔۔! سو یاور کیا کرتے ہو تم ۔۔۔؟؟ “
حیان نے اسے سر تا پیر دیکھتے کہا تھا ۔۔! یہ بندہ کچھ کچھ مشکوک لگتا تھا ۔۔۔ !!!
“دہی بھرے بیچتا ہوں ریڑھی لگا کر ۔۔۔!!! “
اس کی اس قدر حاضر جوابی پر میر اور ابراھیم کا قہقہہ پڑا تھا جبکہ عرش دهیما سا مسکرا دیا وه اسے پہچان گیا تھا۔۔!!
حیان البتہ سائیڈ سمائل دیتا سگریٹ کا کش لیتا اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔!
“جتنا میں نے سوچا تھا اس سے زیادہ خبیث ہو”
اسکے نڈر انداز پر یاور نے سر کو خم دیا ۔۔
” تھینک یو ایس پی ، آئی لائک دس ون ۔۔۔!!! “
اسکے یوں ڈھیٹوں والے انداز پر یوں تو حیان شاہ کو غصہ آنا چاہیے تھا مگر جانے کیوں وه مسکرا پڑا ۔۔! صحیح کہتا تھا میر ۔۔ جانے کتنے ڈھیٹ مرے ہوں گے جب یہ پیدا ہوا ۔۔۔!!!
” یار تیری بیوی تجھے کیسے برداشت کرتی ہو گی ۔۔۔؟؟ “
اسکے روبوٹک لب و لہجے پر ابراھیم پوچھے بنا نہ رہ سکا ۔۔!
” سر ۔۔۔ میں بیوی نامی مخلوق رکھتا ہی نہیں ۔۔۔! “
اسکے وہی سنجیدہ ہو کر غیر سنجیدہ بات کرنے پر ابراھیم کو زوروں سے ہنسی آئی تھی جسے وه ضبط کر گیا اب اتنا بھی فری نہیں ہونا تھا کہ روعب ہی نہ رہے ۔۔۔!
” بیسٹ آف لک یار ۔۔۔ تجھے واقعی اسکی ضرورت ہے ۔۔۔”
ابراھیم نے میر حاصل کا شانہ تهپتھپایا ، اسکا اشارہ رمل اور یاور کی جانب تھا ۔۔
جبکہ میر حاصل محض مسکرا دیا دهیما سا ۔۔! وه جب اپنی پر آتا تھا تو سامنے والے کا سانس بھی تنگ کر دیتا تھا یہ یاور کس کھیت کی مولی تھا۔۔!
اسے تیر کی طرح سیدھا کرنا وه خوب جانتا تھا خاص کر تب جب اسکا ڈیول موڈ آن ہو ۔۔!
رہی رمل تو اسے تو وه محبت سے ہی زیر کرلے گا بظاہر چٹان دکھنے والی کا دل کس قدر نرم تھا یہ وه باخوبی جان چکا تھا۔۔
❤❤❤❤
” بندہ ناچیز کو یاد کیا تھا کسی دل ربا نے ۔۔؟؟ “
کمرے میں قدم رکھتا وه بڑے رومانٹک انداز میں بولا تھا جس پر ارشما مسکراہٹ دباتی اسکی طرف پلٹی ۔ ہاتھ میں پکڑے جیولری باکسز بیڈ پر رکھتی وه اسکی جانب متوجہ ہوئی جو اس سے کچھ فاصلے پر آ کھڑا ہوا تھا۔
” جی آپ سے بات کرنی تھی ۔۔۔!!! “
سردی سے سرخ پڑتی اسکی ناک پر ہاتھ رکھتی وه جیسے اسے حدت پہنچانے لگی تھی۔
مزید اسکی گہری سرمئی آنکھوں کے گوشے سرخ ہوتے دیکھ کر وه متفکر ہوئی تھی۔
ماہ بیر نے اسکی فکر پر اسکا ہاتھ ناک سے ہٹاتے لبوں سے لگایا تھا۔
” جی کریں بات ۔۔۔ ہم آپ ہی کو تو سننے آئے ہیں ۔۔!!! “
اس کے شہد رنگ کھلے بالوں کی نرماہٹ انگلیوں پر محسوس کرتا وه لہجہ محبت میں سموئے گویا ہوا اسکے لہجے میں آج بھی اسکے لیے وہی عزت و احترام جھلکتا تھا۔
کس طرح اس نے پرت پرت محبت میں اسے چھپا کر رکھا تھا یہ وہی جانتی تھی اسکی اتنی محبت پر وه اکثر آبدیدہ ہوجاتی تھی، وه زندگی کے اس مقام پر کھڑی تھی جب ٹھوکریں اسکا مقدر بن چکی تھیں تب اس مکمل باوقار مرد نے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔۔!
” بیر ۔۔۔!! میں سیریس بات کر رہی ہوں نہ ۔۔۔!!! میں سوچ رہی تھی کل ناشتہ فارم ہاؤس کی بجائے گھر میں ہی رکھ لیتے ہیں صبح بہت ٹھنڈ ہوتی ہے کیسے جائیں گے سب ۔۔۔؟ “
بات کرتی ہوئی وه کبرڈ کی جانب آئی ماہ بیر کی سیاہ چادر نکال کر پٹ بند کرتی وه اسکے پاس آئی اور پیر بلند کرتے اسنے چادر اسکے گرد پھیلا دی ۔۔۔
” ٹھیک ہے جیسا آپ چاہیں ۔۔۔!!! “
وه آگے بڑھتا نرمی سے اس کی پیشانی پر لب رکھ گیا جس پر ارشما نے ایک پل کو آنکھیں موندی تھیں ۔۔
“بیر باہر بہت ٹھنڈ ہے آپ باقی سب کو لے کر گیسٹ روم میں چلے جائیں نہ ۔۔۔!! میر بیٹا بھی موجود ہے اچھا نہیں لگتا نہ ۔۔! میں کچھ دیر تک چائے اور دیگر لوازمات بھجواتی ہیں نگہت کے ہاتھ ۔۔!!! “
اسکے فکر مندی سے کہنے پر وه مسکرا دیا ۔۔ وه دونوں باہر چلے آئے جہاں اورهان اور صالح لاؤنج کے باہر کھڑے نظر آئے۔
“یار میں جا رہا ہوں اندر یہ اچھا ظلم ہے کہ بیوی سے بات تو دور دیکھ بھی نہیں سکتے ۔۔۔!!!”
اسکی نیلی آنکھوں میں جھنجھلاہٹ ہی جھنجھلاہٹ تھی دودھیا رنگ موسم کے اثر سے ہلکا ہلکا سرخی مائل ہونے لگا تھا۔
وه نو انٹری کے بورڈ پر لعنت بھیجتا لاؤنج کی طرف بڑھ گیا جس پر ارشما نے بےساختہ ماہبیر اور صالح کو دیکھا تھا۔ ہڑبڑاتی وه اسکے پیچھے گئی تھی۔۔
❤❤❤❤
” او ہو ۔۔۔!!! دیکھیں تو کون آیا ہے۔۔۔!!!”
کسی لڑکی کی پرشوخ آواز گونجی تھی جس پر سب لڑکیوں نے اورهان کی جانب دیکھا تھا۔ اینارا سٹپٹا گئی سب کی موجودگی میں اسے خود کو یوں دیکھتے پا کر ۔۔۔!
ٹی پنک كیپری شرٹ میں تیار ہمیشہ کی طرح دبلی پتلی وه کہیں سے بھی دو بیٹیوں کی ماں نہیں لگتی تھی۔
سربراہی صوفے پر ایک ساتھ بیٹھیں رمل اور غزل نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
” یہ اورهان انکل ہیں ۔۔! ایرا اور ارشیہ کے فادر ۔۔۔! اور ارشما ممانی کے بھائی۔۔! “
رمل نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا تھا جس پر وه سر کو خم دیتی ان کی جانب دیکھنے لگی ۔۔ بلاشبہ اس خاندان کے سب مرد بلا کے ہینڈسم تھے۔
صوفے کے بازو پر مشائم کے دونوں کاندھوں پر بازو پھیلائے بیٹھی ایرا اپنے بابا کو دیکھ کر جھٹ سے اٹھی تھی انکا ہاتھ تھام کر وه انہیں لاؤنج کے وسط میں لے آئی تھی۔
” ماما اور بابا کا کپل ڈانس ہوجائے پلیز ۔۔۔۔!!! “
نیلی آنکھیں میچتی وه پرجوش سی بولی تھی یہ سوچ کر ہی جیسے اسے لطف آیا تھا۔
اسکا کہنا تھا کہ لاؤنج میں شور پڑ گیا سب بچیوں کے پرزور اسرار پر وه مان گیا تھا اب ایرا اینارا کو اورهان کے سامنے لے آئی تھی جو بلش کرنے لگی تھی۔
” میرے بغیر ہی بیوٹیفل کپل کا ڈانس ہونے لگا ہے ۔۔۔؟ “
تیکھی شوخ آواز کے تعاقب میں غزل نے دیکھا۔ لیمن کلر کمر تک آتی بند کرتی کے ہمراہ پستہ رنگ نیٹ کا لهنگا پہنے گھٹنوں تک آتے بھورے گھنگھریالے بالوں کو دو حصوں میں بانٹ کر کاندھوں پر پھیلائے نیلی آنکھوں میں چمک لیے وه بجلیاں گراتی کھڑی تھی۔
لاؤنج سے منسلک کمرے کی کھڑکی سے پردہ ہٹا تھا۔ سلائڈز ذرا سی سرکی تھیں جن سے دو سرمئی نین نمایاں ہوئے تھے۔
ارشیہ نے سافٹ رومانٹک سونگ پلے کر دیا جس پر اورهان نے نرمی سے اینارا کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے سٹیپ آگے پیچھے لیے تھے۔ جدید طرز کا کپل ڈانس شروع ہوچکا تھا۔
اینارا سے سر اٹھانا محال ہورہا تھا کس طرح سب اسے نظروں کی شوخی سے لجانے پر مجبور کر رہے تھے۔ لڑکیاں چمکتی آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔۔
ہاں درست ہے ، یہ جائز محبتیں عمروں کی محتاج نہیں ہوتیں ۔۔۔!
مشائم نے دل میں ماشاءالله کہتے ان کی ایک فوٹی نکالتے صالح کو سینڈ کی تھی جو کچھ سیکنڈز بعد سین ہوچکی تھی۔
” آپ روم میں تو آئیں ۔۔۔ ہم اس سے بھی اچھا رومانٹک ڈانس کریں گے ۔۔۔!!! “
اسکے جواب پر وه خفت سے موبائل واپس پاؤچ میں ڈال کر دوبارہ ان کی جانب متوجہ ہوگئی۔۔
یہ یوسف بھی نہ ۔۔۔!!!
❤❤❤❤
اورهان کے جانے کے بعد خواتین بھی آہستہ آہستہ چلی گئیں کیونکہ وقت بہت ہوچکا تھا رہی لڑکیاں تو وه ساری رات نہ سونے کا عہد کیے بیٹھی تھیں جیسے ۔۔۔!
اب ارشیہ میدان میں اتری تھی کوئی مرد نہ تھا اس لیے اس نے دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھ دیا تھا۔
اسکی دبلی کمر تنگ کرتی کے باعث بےحد نمایاں ہورہی تھی مزید قاتل انداز تو گهایل کیے جا رہے تھے کسی کو ۔۔۔!
فاسٹ میوزک چلنے لگا تھا جس کے ساتھ وه بالوں کو جوڑے میں لپیٹتی کمر کو دائیں بائیں حرکت دینے لگی تھی۔ ایسی بل کھاتی نازک کمر دیکھتے کھڑکی سے جھنکتی دو آنکھوں میں خمار اترا تھا۔
ہو میری ادائیں تیر ہیں ، ہاں میری ادائیں تیر ہیں ۔۔۔!!!
میری ادائیں تیر ہیں ۔۔۔۔ میرے یار نشانہ تم ۔۔۔۔!!!
میوزک ایک پل کو تھما تھا جسکے ساتھ ارشیہ کے لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔ لڑکیاں زور شور سے ہوٹنگ کرنے لگین جن میں ایرا سر فہرست تھی۔۔
صوفے پر کھڑی ہو کر ہوٹنگ کرتی اگر وه ایک پل کو عرش کے بارے میں سوچ لیتی تو اسکی آواز حلق میں ہی دب جاتی۔
رمل اور غزل تالیاں پیٹتیں اپنی مهندی کے فنکشن کو بے حد انجوائے کر رہی تھیں ۔۔
غزل کے لیے یہ سب بہت نیا تھا وه نہایت دلچسپی سے سب کی نوک جھونک دیکھ رہی تھی۔۔
وہیں ایک طرف کھڑیں نگہت اور نوشین ایک دوسرے کو ٹیڑھی نظروں سے دیکھتیں غیر محسوس اندز میں بار بار دھکے دے رہی تھیں ۔۔
نوشین کو بار بار آگے ہونے کی کوشش کرتے دیکھ کر نگہت کا دل کیا کہ اسے ایک بار ہی زور کا دھکا مارے جس سے وه سیدھا ان کے قدموں میں گرے ۔۔۔!
ہا مار دے یا چھوڑ دے تو ،،، رکھ لے دل یا توڑ دے تو ۔۔۔!!
ایسا کوئی موڑ دے تو ۔۔۔ زندگی میں ہو مزا ۔۔۔۔!!!
ہے ، آج ہے انگڑائیوں میں ۔۔۔۔ مل کبھی تنہائیوں میں ۔۔۔!!!
حسن کی پرچھائیوں میں ،،، خوبصورت ہو فضا ۔۔۔!!!
ہیں حسن گلی میں سینکڑوں ،، حسن گلی میں سینكڑوں ۔۔۔!!
حسن گلی میں سینکڑوں ،، دیوانے ہوگئے گم ۔۔۔!!!
السلام عشقم یارا ۔۔۔ السلام عشقم ۔۔۔!!!
وه ماہر ڈانسر کی طرح سٹیپس کر رہی تھی جسے سب بہت انجوائے کر رہے تھے۔۔!
گانا ختم ہوا تو وه پھولتی سانسسوں کو اعتدال پر لاتی پانی پینے کے لیے لاؤنج سے باہر آئی ۔۔ راستے میں دروازه نظر آیا جس میں ایک ساتھ دو واشروم تھے ان کے آگے کافی کھلا سا صحن تھا جس میں واش بیسن اور قد آور آئینے لگے تھے۔
کچن سے پانی پی کر وه واپس آئی تو واش روم والی سائیڈ کا دروازه کھلا تھا اچانک مظبوط مردانہ کلائی سامنے آئی، بدر نے اسے اندر کھینچتے دروازہ بند کر دیا۔۔
“کیا بد تمیزی ہے یہ ۔۔۔؟ “
جیسے ہی اس نے ارشیہ کو دروازے سے لگاتے اس کے ہاتھ لاک کیے وه جنگلی بلی بنی اس پر جھپٹی تھی۔ وه جانتا تھا اسکا رد عمل اسی لیے پہلے ہی اسکے ہاتھوں کو لاک کر گیا تھا۔
” بد تمیزی نہیں ہے جانِ من ۔۔۔ میرا سٹائل ہے یہ ۔۔۔!!! کب سے تمہیں مسجز کررہا تھا روم میں آؤ ۔۔۔ تم نے ہلکا لے لیا تھا میری بات کو ۔۔!!! “
اسکی سرمئی آنکھوں کو اپنے چہرے پر گردش کرتے پا کر وہ سلگ کر اسے دیکھنے لگی ذہن میں جیسے ابال اٹھ رہے تھے وه واپس جانا چاہتی تھی لیکن یہ بدتمیز منحوس بلا اسے پھر سے غصہ دلا رہا تھا۔
” ہاں تو ۔۔۔ تمہاری باتوں کو ہی نہیں تمہیں بھی ہلکا لیتی ہوں ۔۔۔ گاٹ اٹ ۔۔۔؟؟ “
اسکے ایٹیٹیوڈک انداز پر بدر نے ابرو اچکائے ۔۔ اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کرتا وه مدهم لہجے میں بولا تھا ۔۔
” حالانکہ میں ہر بار بھاری پڑتا ہوں تم پر ۔۔۔!!! “
اسکی بات کا مطلب سمجھتے ارشیہ کے گالوں میں گلابیاں گھلیں اسکی پل پل سخت ہوتی گرفت پر اس کی دھڑکن بےترتیب ہونے لگی تھی۔۔۔!
” بدر ڈونٹ ڈو ۔۔۔!!! “
وه اسے خود پر جھکتے دیکھ کر بےساختہ بولی تھی نیلی نگاہیں آپ ہی جھکی تھیں ۔۔۔!
” اوکے ۔۔۔ پھر روم میں آؤ فورا ، ٹھیک ہے ۔۔۔؟ “
وه اسکا سرخ چہرہ دیکھتا پیچھے ہٹا تھا جس پر ارشیہ نے اثبات میں سر ہلاتے اسکی پشت پر موجود واش بیسن کو دیکھا جہاں ہینڈ واش رکھا تھا۔
وه اس سے الگ ہوتی بیشن کے سامنے آئی آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتے وه لاپرواہ انداز میں کہنے لگی ۔۔
” میں نہیں آ رہی روم میں ۔۔ ہم سب ایک ہی روم میں سونے والے ہیں ۔۔۔! “
اسکا اشارہ سب کزنز کی جانب تھا۔۔
بدر نے اسے دیکھتے آنکھیں سکیڑیں وه ایک لمحے میں اس تک پہنچا تھا اسکا رخ اپنی جانب کرتے اس نے جھٹکے سے اسے واش بیسن پر جھکایا تھا۔
یوں ارشیہ کے بال بیسن میں پھیل گئے تھے یوں جھکنے سے اسکی گردن بدر کے سامنے تھی ۔۔ بےحد نمایاں ۔۔۔!!!
“بدر کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے میرے بال گیلے ہورہے ہیں ۔۔۔! “
وه خود کو چھڑواتی دبے لہجے میں چلائی تھی۔
” بولو روم میں آ رہی ہو یا نہیں ۔۔۔؟ “
اس پر جھکتا وه آنچ دیتے لہجے میں بولا تھا جذبات کا سمندر امڈنے لگا تھا ۔۔
” نہیں ۔۔۔!!! “
وه بغیر انجام کی پرواہ کیے ضدی لہجے میں چلاتی ہاتھ پیر مارنے لگی۔۔ بدر نے سپاٹ چہرے سے اسے دیکھا تھا پھر بغیر سوچے ٹیپ کھول دیا ۔۔
پانی ایک فوارے کی صورت نکلتا عرشیہ کے بالوں کے علاوہ اسکے چہرے اور گردن کو بھگو گیا۔
وه ضبط کھوتا جھکا تھا اسکی بھیگی گردن پر ۔۔۔! شدٹ لٹاتا وه سفید گردن کو چند لمحات میں ہی سرخ کر گیا۔
ارشیہ کا سانس اٹکنے لگا تھا۔ مزید ٹھنڈہ پانی سر میں پڑنے سے درد سا اٹھنے لگا تھا۔۔
وه سیدھا ہوتا جھٹکے سے اسے اٹھاتا کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔ ارشیہ بنا مزاحمت کیے اسکے سینے میں چہرہ چھپا گئی ۔ اسے اس وقت بس شدید سردی محسوس ہورہی تھی۔
❤❤❤❤
وه ناخن چباتی اپنے کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑی تھی اسے چینج کرنے کے لیے نائٹ سوٹ چاہیے تھا لیکن عرش کے ڈر سے وه اندر جانے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔
گہری سانس لے کر خود کی ہمت بندھاتی وه دروازه کھول کر اندر آئی تو چاروں جانب تاریکی دیکھتے اسکے قدم تھمے تھے۔ وه کنفیوز ہوتی لائٹ آن کرنے کے لیے ایک قدم ہی بڑھی جب دروازہ ٹھا کی آواز سے بند ہوا تھا۔
اسکے دل کی دھڑکن ایک پل کو تھمی تھی ۔ خوف کے احساس سے اسکا دل زوروں سے دھڑکنے لگا تھا اس سے پہلے وه چیختی کسی نے اسے بازوؤں میں بھرا تھا۔
وه پہچان گئی تھی اسے اسکی مہک سے ۔۔ اسکی گرفت سے، اسکی دھیمی چلتی سانسوں سے ۔۔!
“عرش” ۔۔۔؟
وه سرگوشی میں اسے مخاطب کرتی اس کے کرتے کو مٹھیوں میں بھینچ گئی۔ اندھیرے کے باعث آنکھیں کچھ بھی دیکھنے سے قاصر تھیں۔
عرش نے اسے جھٹکے سے بیڈ پر پھینکا جس سے اسکی آنکھوں میں نمی چمکی ۔۔۔ وه اس کے غصے کا اندازہ کر سکتی تھی مگر خاموش تھی کیونکہ وجہ بھی تو خود تھی ۔۔
” کیا میں نظر انداز کیے جانے کے قابل ہوں ۔۔۔؟ “
اس پر سایہ کرتا بیڈ پر کہنیاں جماتا وه چہرہ اس کے کان پر جھکاتا سرد لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔! کمرے میں ہیٹر بند تھا جس کی وجہ سے فضا قدرے سرد تھی۔۔۔۔! لیکن کہیں تو حدت تھی ، شاید جذبات کی ۔۔۔!
وه کانپی تھی ایک پل کو، نجانے موسم کے سرد پن سے یا سرد لہجے کی ٹھنڈک سے ۔۔۔!
” سوری ۔۔۔۔!!! “
بولتے ہوئے اسکا گلا رندھ گیا تھا جس پر عرش نے اسے زور سے کمر سے دبوچا ۔۔
” سوری نہیں ۔۔۔! یہ میری اس بےچینی کا ازالہ نہیں کر سکتا جو تمہارے نظر انداز کرنے پر میرے دل نے محسوس کی ہے ۔۔۔! “
اسکی گردن کے نیچے ہاتھ ڈالتا وه اپنا ذرا سا بوجھ اس پر منتقل کر گیا جس پر ایرا نے سختی سے آنکھیں میچیں اسکا سانس جیسے سینے میں ہی اٹکنے لگا تھا۔
” عرش ۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ سے ۔۔۔!!! “
اندھیرے میں اسکا چہرہ ٹٹولتی کپکپاتا ہاتھ اس کے گال پر رکھتی وه سرگوشی میں بولی تھی ۔ ہاتھ کی طرح لہجہ بھی کانپتا تھا۔
عرش نے اسکا ہاتھ الگ کرتے اسکی ہتھلی کو شدت سے چوما تھا اس کی داڑھی نرم گرم سے ہاتھ پر زور سے چبھی تھی جس پر وه روہانسی ہوتی زور زور سے پلکیں جھپکانے لگی ۔۔
“تمہیں ڈرنا بھی چاہیے تا کہ آئندہ تم ایسی حرکت کرنے کی جرات بھی نہ کر سکو ۔۔۔!! عرشمان شاہ کی بیوی ہو تم ۔۔۔! تمہیں نگاہوں میں خاص رکھتا ہوں تو تم پر بھی فرض ہے کہ ان نگاہوں کا ہر پيام سمجھو ۔۔۔!!!”
اسکے بالوں میں چہرہ چھپاتا وه سرسراتی آواز میں بولا تھا۔
” آئی ایم سوری نہ ۔۔۔ پکا آئندہ نہیں کروں گی ۔۔۔!!! “
وہی ڈرا سہما لہجا ۔۔ وه مزید جھکا تھا جس سے دونوں کی سانسیں الجھنے لگی تھیں اسکے لبوں کو بغیر کچھ کہنے کا موقع دیے وه اسکا سر بلند کرتا پوری شدت سے جھکتا اسکی سانسیں اتهل پتهل کر گیا۔ وه سہم سی گئی تھی اسکی شدتوں پر ۔۔۔
” ایرا بیٹا ۔۔۔؟؟ “
باہر سے ارشما کی آواز پر اسکی آنکھیں امید سے چمکیں شاید اب رہائی مل جائے اس آہنی گرفت سے ۔۔۔!
اسے مچلتا پا کر عرش نے اسکے ہاتھوں کو بلند کرتے بیڈ سے لگایا تھا ۔۔ اسکی ٹانگوں کو لاک کرتا وه اسکے لبوں پر جھکا اسکی سانسیں چھیننے لگا تھا۔
” لگتا ہے سو گئی ہے ۔۔۔!!! “
خود کلامی کرتی وه وہاں سے چلی گئی جس پر ایرا نے نفی میں سر ہلانے کی کوشش کی ۔۔۔
آخر اپنی چھوٹی سی بیوی پر ترس کھاتا وه پیچھے ہٹا ۔۔۔! اسے اٹھا کر سیدھا بٹھاتے عرش نے سائیڈ لیمپ آن کیا ۔ اسکی بکھری حالت وه گہری نظروں سے دیکھے گیا۔۔
” بہت گندے ہیں آپ ۔۔۔!!! “
روتی ہوئی وه اس کے سینے پر دونوں ہاتھوں سے مکے مارنے لگی تھی اور وه بنا مزاحمت کیے نرم گرم نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” آئیندہ اونچا جوڑا بنانے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ اگلی بار شدید نشانہ تمہاری گردن ہوگی۔۔۔۔!!! “
نیم دراز ہو کر سینے پر ہاتھ باندھتا وه حتمی انداز میں بولا تھا جس پر ایرا نے ناراض نظر اس پر ڈالی۔
بھیگے نیلے پرشکوه نینوں نے عرشمان شاہ ایک بار پھر سے قید کیا تھا۔
” ہاں میں سارے بال ہی نہ اتروا لوں ۔۔۔ سکون مل جائے گا آپ کو بھی ۔۔۔!!! “
زور سے گال رگڑتی وه اٹھ کر چینجنگ روم میں چلی گئی۔ وه جو سپاٹ لاپرواہ انداز اپنائے ہوئے تھا اسکے جانے کے بعد ہولے سے مسکرا دیا ۔۔ اب مرتے دم تک وه مجھے نظر انداز نہیں کرے گی ۔۔! گڈ ویری گڈ ۔۔۔!!!
سر کے نیچے دونوں ہاتھ رکھتا وه آنکھیں موند گیا نیند آنکھوں سے قوسوں دور تھی مگر دو پرشکوه نیلی آنکھیں ذہن کی سلیٹ پر پورے حق سے روشن ہوئی تھیں جیسے عرشمان شاہ کے دل و دماغ پر صرف اور صرف اسی کا حق تھا ۔۔۔
