Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

اسلام آباد کے دیفینس ایريا میں آمنے سامنے بنے دو ایک جیسے بنگلوں میں سے ایک میں “شاہ خاندان” مقیم تھا جبکہ دوسرے میں “یوسف خاندان” ۔۔۔۔
ماہ بیر اور ارشما کی شادی کے ایک سال بعد ہی جہاں حویلی میں معصوم کلکاریاں گونجنے لگی تھیں وہیں یوسف کے غم میں نڈھال مشائم کے ہاں جڑواں بچوں نے جنم لیا۔۔
اینارا اور اورهان کے ہاں پہلے ہی بیٹی کی پیدائش ہوچکی تھی۔۔ یوں زنیشہ ، ارشیہ ، ابراھیم اور رمل ہم عمر ہوئے۔۔
زنیشہ میں ماہ بیر اور ارشما دونوں کی شباہت جھلکتی تھی ۔۔
جہاں ابراھیم ہو بہو صالح کی کاپی تھا وہیں رمل نے بھی بہت سی عادات صالح سے لی تھیں ۔۔
ارشیہ اکڑ میں ماضی کے اورهان پر تھی۔۔ چہرے پر معصومیت اس نے اینارا سے چرائی تھی ۔۔۔گڑیا سے چہرے کے پیچھے ایک خود سر بد دماغ لڑکی۔۔
ایک سال دو ماہ بعد ماہ بیر کے ہاں تین (تڑواں) لڑکوں نے جنم لیا۔۔ شکل صورت ایک سی لیکن عادات مختلف اور انداز نرالے۔۔۔
کچھ عرصہ یونہی گزر گیا۔۔ وہ خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے۔۔۔۔ صالح یوسف کی یاد اپنی جگہ تھی۔۔
ایک دن اچانک عبدالله شاہ کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔۔ ان کا غم عارفہ سہار نہ پائیں ۔۔
وہ دن بدن کمزور ہوتی گئیں یہاں تک کہ عبدالله شاہ کے جانے کے کچھ مہینوں بعد ہی وہ بھی انتقال کر گئیں۔۔
ماہ بیر کا دل ایسا اداس ہوا کہ وہ اس حویلی کو چھوڑ کر اسلام آباد آ بسا جہاں مشائم لوگ بھی ان کے ساتھ تھے۔۔
پوش علاقے میں انہوں نے رہائش اختیار کی۔۔ ارشما کو ایک اطمینان تھا اب کہ وہ اپنے بھائی کے پاس آ گئی تھی۔۔ فاصلے کی رکاوٹ ختم ہوچکی تھی۔۔۔
سب ٹھیک جا رہا تھا جب اینارا اور اورهان کے ہاں ایک ننھی پری نے جنم لیا جس کا نام ماہ بیر نے “ایرا” رکھا۔۔۔ وہ سب سے چھوٹی اور معصوم تھی اس لیے سب کی لاڈلی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 🥀🥀🥀
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ واقعی گزر جاتا ہے۔۔۔ کبھی کسی کے لیے نہیں رکا کرتا۔۔۔
سب بچے جوان ہو چکے تھے۔۔۔
ابراھیم نے آرمی جوائن کرلی تھی جبکہ رمل نے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔۔۔
مشی کو فخر تھا اپنی اولاد پر جس نے اس کا سر کبھی جھکنے نہیں دیا تھا۔۔
کیسے جھکنے دیتے آخر وہ صالح یوسف کی اولاد تھی جس کے کردار کی گواہی کوئی بھی دے سکتا تھا جو اپنے اصولوں کا پکا تھا۔۔۔
زنیشہ کو اکثر سانس کا مسلہ رہنے لگا تھا اس لیے وہ تعلیم مکمل کر کے گھریلو امور میں ارشما کا ہاتھ بٹاتی تھی ۔۔
اس کے تڑواں بھائی ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔۔ عرشمان ، حیان اور بدران !!!
عرشمان ملک کا ٹاپ ماڈل تھا۔۔۔ ماڈلنگ کے ساتھ باڈی بلڈنگ اس کا جنون تھا۔۔
حیان نے محکمہ پولیس میں پنجے گاڑے تھے۔۔ اپنی ذہانت اور محنت سے وہ “ایس پی ” کی پوسٹ پر پہنچ چکا تھا۔۔
بدران نے بزنس سنبهالنے کو ترجیح دی۔۔ وہ ایک کم گو ، كامياب بزنس مین کے نام سے مشہور تھا۔۔
اورهان اور اینارا کی دونوں بیٹیاں جو ان کی جنت تھیں ان میں سے بڑی ارشیہ نے کچھ لوگوں کی زندگی جہنم بنا رکھی تھی جن میں سے ایک بدران بھی تھا۔۔
وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جاب کرنے کا سوچ رہی تھی کہ ماہ بیر نے اسے بدر کے آفس میں جاب کرنے کی پیشکش کی جسے اس نے قبول کر لیا۔۔
ایرا البتہ بہت معصوم اور کسی حد تک بیوقوف تھی۔۔ ابھی اٹھارہ سال کی تھی اور حال ہی میں یونیورسٹی میں بی ایس انگلش میں داخلہ لیا تھا۔۔
بچوں کے بعد بھی بڑوں کی والہانہ محبت میں کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا ۔۔ ان کی شخصیت پر بھی وقت کا کچھ خاص اثر نہیں پڑا تھا۔۔
وہ آج بھی بےحد وجیہہ تھے۔۔ اگر کسی پر وقت نے اثر چھوڑا تھا تو وہ مشائم تھی جس نے صالح کے جانے کے بعد سنجیدگی کی چادر اوڑھ لی تھی۔۔ وہ بہت کم مسکراتی تھی۔۔۔
🍂🍂🍂
آرمی کے یونیفارم میں وہ بےتاثر چہرے کے ساتھ جنرل ہیڈ كوارٹر میں داخل ہوا ۔۔۔
بڑی سی گراؤنڈ سے گزرتے اسے راستے میں ملتے جونیئرز نے سلیوٹ کیا جس پر اس نے سر کو خم دیا۔۔
لمبی راہداری عبور کر کے وہ ناک کر کے ایک آفس میں داخل ہو۔۔۔ اندر آتے ہی اس نے کرنل عصام کو سلیوٹ کیا۔۔
آؤ میجر ابراھیم !!! ۔۔۔۔۔۔۔
کرنل عصام نے سر کو خم دے کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔۔
يس سر !!! ۔۔۔۔۔۔
ابراھیم الرٹ سا بیٹھ گیا۔۔
“میجر تمہیں ایک نیا مشن دیا گیا ہے ۔۔ ہمیں پورا یقین ہے تم پر ۔۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔۔ ملک دشمن عناصر کو ختم کر کے ملكی بقا اور تحفظ کے لیے جی جان لگا دینا ہی اس وردی کے ساتھ انصاف ہے !! ” ۔۔۔۔۔۔۔
کرنل عصام نے مضبوط لہجے میں کہتے اپنی وردی کی طرف اشارہ کیا۔۔ ابراھیم پوری طرح چوکس غور سے انہیں سن رہا تھا۔۔
“آج سے ہم تمہیں کچھ دن کی چھٹیوں پر گھر بھیج رہے ہیں ۔۔ پھر وہاں سے تمہیں نئے مشن پر روانہ ہونا ہوگا۔۔ “ڈینمارک” میں تمہارا ٹھکانہ ہوگا۔۔
باقی ڈیٹیلز تمہیں دی جا چکی ہیں۔۔ وش یو آل دا بیسٹ ! خدا تمہارا حامی و ناصر ہو !!! ۔۔۔۔ “
ان کی بات ختم ہوئی تو ابراھیم اٹھ کھڑا ہوا۔۔
” تھینک یو سر !!! “۔۔۔۔۔
الٹے قدم چلتا وہ دروازے تک آیا اور سلیوٹ کر کے پلٹ گیا۔۔ دروازه بند کر کے وہ مخصوص انداز میں چلتا باہر آیا۔۔
اس کے ماتھے پر ہمیشہ کی طرح بل پڑ چکے تھے۔۔ آنکھوں میں تیز چمک تھی بلکل شاہین کی طرح جس کی آنکھیں شکار پر جھپٹتے وقت چمک اٹھتی ہیں ۔۔۔
وہ پرامید تھا ۔۔ اور پریقین بھی۔۔ !
اب اسے نئے مشن پر روانہ ہونا تھا۔۔ لیکن جانے سے پہلے اسے اپنے عزیزوں سے ملاقات کا موقع دے دیا گیا تھا۔۔
آرمی کی جیپ میں بیٹھ کر وہ جنرل ہیڈ كوارٹر سے کچھ دور اپنی رہائش گاہ میں آیا۔۔۔ اس نے اپنا مختصر سامان پیک کیا۔۔
سنگل بیڈ پر بیٹھ کر اس نے مشائم کو کال ملاتے اپنی آمد سے باخبر کیا۔۔ مختصر بات کر کے وہ کچھ دیر سستانے کو بیڈ پر نیم دراز ہوگیا۔۔
اس کی آنکھوں میں کسی کا عکس لہرایا تھا جو ہوبہو اس کے جیسا تھا۔۔
اس نے تصویروں میں دیکھا تھا وہ بلکل ان کے جیسا تھا۔۔ وہی سرد سیاہ آنکھیں جو مقابل کے اندر تک جھانکنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔۔
وہی غصہ ۔۔۔ وہی لیا دیا انداز اور کشادہ پیشانی پر پڑے بل۔۔۔ چھ فٹ سے نکلتا قد اور فٹ کسرتی جسامت ۔۔۔
نقوش ایسے مغرور اور تیکھے کہ صنف مخالف دیکھتے ہی دل ہار بیٹھے ۔۔۔
وہ الگ بات ہے کہ وہ عورت ذات کو دیکھنا تک گوارا نہیں کرتا تھا۔۔
بقول اس کے یہ ذات عزت و احترام کے قابل ہے ۔۔۔ جیسے اس کی ماں تھی ۔۔۔ شفاف سی ۔۔۔
مشی اکثر اسے کہا کرتی “یوں لگتا ہے یوسف میرے سامنے آ گئے ہیں تمہاری شکل میں ۔۔۔کچھ بھی تو نہیں بدلا سب کچھ وہی ۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رو پڑتی تھی۔۔ بلکل ٹھیک تو کہتی تھی وہ۔۔ ابراھیم کے لب کے اوپر ناک کے پاس بھی تل تھا جو صالح کی بڑھی داڑھی کی وجہ سے غور کرنے پر نظر آتا تھا۔۔
خیالوں کو جھٹک کر وہ آنکھیں موندتے ذرا سا ۔۔۔بس ذرا سا مسکرایا۔۔
“بابا آپ کو مجھ پر فخر ہوگا !!! ۔۔۔ “
اس نے آنکھیں کھولیں تو ان میں سرخ لکیڑیں نمایاں ہوئیں ۔۔۔ گہری سانس لے کر وہ اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا۔۔۔
🍂🍂🍂
براؤن ٹرٹل نیک سویٹر اور بلیک جینز میں بلیک جیکٹ پہنے جس کی زپ کھلی ہوئی تھی کاندھے پر سفری بیگ ڈالے وہ دروازه دهكیل کر اندر داخل ہوا۔۔۔
پیشانی کے بل غائب ہوچکے تھے۔۔ باہر سرد ٹھٹھرتی ہوا کے باعث سیاہ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔
لائٹس آف دیکھ کر اس نے تیز چمکیلی سیاہ آنکھوں سے دائیں بائیں دیکھا۔۔۔
آنکھیں سکیڑ کر اس نے بھنچے لبوں کو حرکت دی۔۔۔
“جو جو یہاں چھپا کھڑا ہے باہر آ جائے !!!” ۔۔۔۔
اس کا کہنا تھا کہ لائٹس فورًا آن ہوئیں ۔۔۔ اپنی ساری فیملی کو دیکھ کر وہ ذرا سا مسکرایا۔۔
“کیا ابراھیم بھائی ۔۔۔۔ ہر بار کیسے پتہ لگ جاتا ہے آپ کو ؟؟” ۔۔۔۔
رمل آگے آتی خفگی سے بولی۔۔
بیگ کاندھے سے اتار کر اس نے آگے بڑھ کر رمل کو سینے سے لگا کر اس کا سر چوما۔۔۔ اس کی نظروں نے مشی کو تلاشنا شروع کیا۔۔۔
وہ ان سب کے بیچ کھڑی تھی ۔۔۔ وہ آگے بڑھا تھا۔۔۔ اس نے مشی کا ہاتھ تھام کر عقیدت سے چوما اور اسے خود سے لگا گیا۔۔۔
مشائم نے آنکھیں موند کر کئی آنسو اندر اتارے۔۔۔ اس سے مل کر وہ پیچھے ہٹی تو وہ باری باری سب سے ملنے لگا۔۔۔
ایک قطار میں کھڑی ایرا اور ارشیہ کے سر پر اس نے شفقت سے ہاتھ رکھا۔۔۔ ارشیہ اسے دیکھ کر ہنس پڑی۔۔۔
تمهارے جتنی ہی ہوں برو ۔۔۔۔ !!!
وہ اس کی بات سمجھ کر دهیما سا مسکرا دیا۔۔ وہ سب لڑکیوں کو چھوٹی بہنوں کی طرح ٹریٹ کرتا تھا۔۔۔
حیان آگے آتا اس سے گرم جوشی سے بغل گیر ہوا۔۔
“میجر ابراھیم !! آپ سے مل کر خوشی ہوئی ” ۔۔۔۔
حیان سینے پر ہاتھ رکھتا خوش دلی سے بولا۔۔۔
ابراھیم نے سر کو خم دیا۔۔۔
” آئی ایم آنرڈ ۔۔۔۔ ایس پی حیان شاہ !!! ” ۔۔۔۔۔
باقی سب انہیں دیکھ کر مسکرا دیے ۔۔۔ عرشمان سے گرمجوشی سے ملنے کے بعد وہ ماہ بیرکے گلے لگا۔۔۔
“کیسے ہیں ماموں ؟؟” ۔۔۔۔۔ الگ ہوتا وہ احوال دريافت کرنے لگا۔۔۔
“ہینڈسم ہمیشہ کی طرح ۔۔۔ بھانجے !!!” ۔۔۔۔۔
ماہ بیر کے پورے جواب پر وہ سر جھکا کر ہنس پڑا۔۔۔
ارشمہ ،اورهان ، اینارا سے محبت سے ملنے کے بعد وہ لاؤنج میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔
بدر کہاں ہے؟؟ ۔۔۔۔ کہتے ساتھ ابراھیم کی نظروں نے کسی کو تلاشا ۔۔۔
“فریش ہونے گیا ہے گھر ۔۔۔ آتا ہے کچھ دیر میں ۔۔۔۔ “
اس کے سامنے بیٹھے عرشمان نے ازلی انداز میں کہا۔۔ ایرا نے معصومیت سے اسے دیکھا ۔۔۔
اسے کچھ یاد آیا تو فوراً بولی ۔۔۔
“عرش بھائی آپ کی كلپ دیکھی تھی میں نے جس میں آپ نے ایک لڑکی کو تھپڑ مارا تھا جب اس نے آپ کو ‘ کس’ کرنے کی کوشش کی تھی !!! ۔۔۔
” بغیر سوچے سمجھے وہ سب کے سامنے بول گئی ۔۔۔ سب کو مسکراہٹ دباتے اور عرش کو خونخوار نظروں سے خود کو گھورتا پا کر وہ سٹپٹا گئی ۔۔۔
شاید پھر کچھ غلط بول گئی ۔۔۔ دل میں سوچتے اس نے چور نظروں سے عرش کو دیکھا۔۔
اسے خود کو گھورتا پا کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“میں زنیشہ آپی کے پاس جا رہی ہوں کچن میں !!!” ۔۔۔۔
ہلکی آواز میں کہتی وہ وہاں سے بھاگ گئی۔۔ اس کے بچپنے پر سب مسکرا دیے سوائے عرش کے۔۔
مزنیشہ کے نام پر ابراھیم نے کچن کی جانب دیکھا۔۔
“زنیشہ ملنے کیوں نہیں آئی ؟؟” ۔۔۔۔
اس نے ماہ بیر کو دیکھ کر سوال کیا جو کندھے اچکا گیا۔۔۔
ورنہ جب بھی وہ گھر آتا تھا وہ بھائی بھائی کی چخ چخ سے اس کے کان پکا دیتی تھی۔۔ وہ کزنز میں اس کے قریب تھی کافی۔۔
اسے اپنی ہر بات بتاتی تھی۔۔ اپنی یہ گھریلو سی معصوم کزن اسے باقیوں کی نسبت زیادہ پسند تھی ۔۔ بہن کی طرح ۔۔۔
“ناراض ہے شاید تم سے !!!” ۔۔۔۔
ماہ بیر نے اسے باخبر کیا ۔۔۔
ابراھیم نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا ۔۔۔
“اوکے !!! ” ۔۔۔۔
سر ہلا کر اسے بعد میں بات کرنے کا سوچتے وہ ہاتھ میں تھامے گلاس سے مشروب گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
“لو آ گیا تمارا کھڑوس کزن ۔۔۔۔”
ارشیہ آنکھیں نچا کر منہ ٹیڑھا کیے بولی تو سب کی نظریں دروازے کو جانب گئیں جہاں سے بدر اندر آ رہا تھا۔۔
ارشیہ کو سخت نظروں سے دیکھتے وہ ابراھیم سے ملا ۔۔۔ اس کے ساتھ بیٹھتا وہ باتوں میں مصروف ہوگیا۔۔۔
اس کے بلکل سامنے حیان کے ساتھ بیٹھی ارشیہ نے اسے دیکھتے حیان کی اشارہ کیا۔۔
حیان جھکا تو وہ رازداری سے اس کے کان میں کہنے لگی ۔۔۔
“حیان یہ بدر اتنا سڑا کیوں ہے مطلب اس کے پیدا ہونے سے پہلے پھوپھو نے کریلے کا جوس تو نہیں پی لیا تھا یا پھر ۔۔۔ “
وہ جانے کیا کیا کہتی رہی جس پر حیان قہقہہ لگا گیا۔۔۔
بدر نے ابراھیم سے بات کرتے تیکھی نظروں سے ارشیہ کو دیکھا جو بھورے گھنگھریالے بالوں کا اونچا جوڑا بنائے اسے بلکل چڑیل لگی تھی اس وقت ۔۔۔۔
ماہ بیر اور اورهان اٹھ کر باہر جا چکے تھے جبکہ خواتین اپنے مسائل پر گفتگو کرتیں کھانے پکانے میں مصروف ہوگئیں ۔۔۔
🍂🍂🍂
وہ اپنے بے حد عالیشان گھر میں اس وقت ٹی وی لاؤنج میں نیوز چینل دیکھ رہا تھا۔۔
اس کی شہد رنگ آنکھیں سكرین پر ابھرتے چہرے کو دیکھ کر مسکرائی تھیں۔۔۔
وائٹ ڈھیلی برانڈیڈ پینٹ شرٹ میں ہلکے بھورے سلکی بالوں کو میسی لُک دیے وہ کہیں جانے کے لیے تیار تھا۔۔۔
سکرین پر رمل کی حال ہی میں وائرل ہوئی ویڈیو دیکھ کر وہ رک گیا تھا جہاں وہ بےخوف ہو کر کسی سیاسی بندے کے پول کھول رہی تھی۔۔۔
“اب تو اکثر تم سے ملاقات ہوتی رہے گی ۔۔۔ رمل یوسف !!! ۔۔۔۔ تم خود آؤ گی میر حاصل کے پاس ۔۔۔۔ “
خود کلامی کرتا وہ لاؤنج سے نکلا ۔۔۔ دیوار گیر آئینے کے سامنے وہ ایک پل کو ٹھہرا ۔۔۔
اس نے اپنے عکس پر نظر ڈالی ۔۔۔ دائیں کان میں پہنا ڈائمنڈ ٹاپس چمک اٹھا تھا۔۔
خود پر ایک سراہتی نظر ڈال کر وہ باہر نکل گیا جہاں گارڈز کی ایک گاڑی تیار کھڑی تھی۔۔۔
🍂🍂🍂
شام ڈھل کر سرد ٹھٹھرتی رات میں تبدیل ہوچکی تھی ۔۔۔ ماہ بیر اور ارشما ۔۔۔ اورهان اینارا کے ساتھ اپنے سامنے والے بنگلے میں لوٹ گئے تھے۔۔
ينگ پلٹن مشی کے ہاں ہی ٹھہری تھی۔۔ وہ سب بچوں کو شب بخیر کہتی سونے جا چکی تھی۔۔
کافی دیر سب گپ شپ لگاتے رہے ۔۔۔ وقت زیادہ ہوا تو وہ اپنے اپنے بستروں کی جانب بڑھ گئے ۔۔۔
زنیشہ چپ سی باہر لان میں نکل آئی ۔۔۔ تیزی سے نیچے گرتی دهند کو دیکھ کر اس پر کپکپی طاری ہوگئی ۔۔
اس بار ابراھیم گیا تو اس نے ایک بار بھی فون کر کے اس سے بات نہیں کی تھی جس پر وہ خفا تھی اس سے ۔۔۔
اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ پر وہ الرٹ سی ہوئی۔۔ وہ جانتی اس کے ابراھیم بھائی اسے ناراض نہیں کر سکتے ۔۔۔
“لگتا ہے کوئی بہت خفا ہے مجھ معصوم سے !!! ۔۔۔۔”
سینے پر ہاتھ باندھتا وہ اس کے برابر آ کھڑا ہوا۔۔ زنیشہ نے چہرہ گھما کر خفگی سے اسے دیکھا۔۔۔
شہد رنگ آنکھوں میں اتنی خفگی دیکھ کر وہ لب دبا گیا۔۔
“جھوٹ تو نہ بولیں ابراھیم بھائی آپ معصوم ہیں تو پھر میں کیا ہوں ۔۔۔۔ اللّه کتنے جھوٹے ہیں !!۔۔۔”
ابراھیم نے سکون کا سانس لیا ۔۔۔ چلو وہ بولی تو صحیح۔۔۔۔۔ !
“ہمم یہ بات بھی ٹھیک ہے ۔۔۔ پھر میں گندہ ہوں تم ٹھیک ہو ۔۔۔ اب صحیح ؟؟؟۔۔۔”
اس کی بات پر زنیشہ کی ساری خفگی اڑن چھو ہوگئی ۔۔۔ اس کے ابراھیم بھائی کو کوئی کچھ کہہ کر تو دکھائے ۔۔۔
“کیوں کیوں گندے ہیں آپ ؟ آپ سب سے بیسٹ ہیں ۔۔۔ باقی سب ہوں گے گندے ۔۔۔ آپ میرے بیسٹ بھائی ہیں !!! ۔۔۔”
وہ معصومیت سے کہتی گئی۔۔ اسکی معصوم باتوں پر وہ دهیما سا مسکرایا ۔۔۔
“آپ نے ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا تھا نہ ۔۔۔ میں بھی ناراض تھی نہ ۔۔ اس لیے میں نے بھی نہیں کھایا ۔۔۔ چلیں کھانا کھاتے ہیں پھر کافی ۔۔۔
اور پھر نہ آپ سے بہت ساری باتیں بھی کرنی ہیں ۔۔ آپ کا کیا پتہ کب واپس چلے جائیں ۔۔۔۔اداس ہو جاتی ہوں نہ میں ۔۔۔
ابراھیم کا ہاتھ تھامے اندر کی طرف جاتی وہ نان اسٹاپ شروع ہوچکی تھی۔۔۔
ایسی ہی تھی وہ ۔۔۔ بہت جلد مان جانے والی۔۔ اور وہ ۔۔۔ بس اسے ۔۔ یوں سر جھکا کر خاموشی سے سنتا تھا۔۔۔
🍂🍂🍂
بے بی پنک نائٹ ڈریس میں گھٹنوں تک آتے گھنگھریالے بالوں کی لمبی ڈھیلی سی چوٹی بنائے وہ بیڈ پر اوندھی لیٹی تھی جب فون کی بیٹری ڈیڈ ہونے پر اکتا کر اٹھی۔۔۔
اس نے ساتھ سوئی ایرا ، زنیشہ اور رمل پر نظر ڈالی ۔۔۔ ان کے چارجرز اس کے فون کو نہیں لگتے تھے۔۔۔
“حیان کا چارجر ۔۔۔ہاں اس کا لگ جائے گا ۔۔۔”
دل میں سوچتی وہ پیروں میں سلیپرز پہن کر باہر آئی ۔۔۔ لڑکوں کے کمرے کا دروازه کھول کر اس نے اندر جھانکا ۔۔
سب زمین پر آخر تک بچھے میٹرس پر سو رہے تھے۔۔۔ اس نے سائیڈ ٹیبل پر نظر دوڑائی تو نائٹ بلب کی روشنی میں اسے چارجر نظر آ گیا۔۔۔
احتیاط سے چلتے وہ چارجر لینے کو بڑھی جب کسی چیز میں اس کا پیر اٹکا اور وہ پورے قد سے گری ۔۔۔
بدر نے اپنے اوپر وزن محسوس کرتے پٹ سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔ نیلی آنکھوں کو دیکھ کر اس کا دماغ گھوم گیا ۔۔۔
کمرے میں کھڑاک کی آواز پر دونوں کا سانس اٹکا۔۔ اس سے پہلے کہ کوئی انہیں دیکھتا ارشیہ اس کی چادر میں گھس گئی ۔۔۔
بدر نے دانت کچکچا کر اسے دیکھا تو ارشیہ نے اس کے منہ پر چادر ڈال دی۔۔۔
اب وہ دونوں ایک ہی چادر میں تھے۔۔۔
عرش اٹھ کر باتھ روم گیا تھا ۔۔۔ دروازه بند ہونے پر ارشیہ نے چادر ہٹا کر نکلنا چاہا جب بدر نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے اسے روک دیا ۔۔۔
بڑا اچھل رہی تھی وہ آج کل ۔۔۔ اپنی حرکتوں سے بدر کی ناک میں دم کر رکھا تھا ۔۔۔ بدر نے سرمئی آنکھیں سكیڑ کر تیکھی مسکراہٹ سے اسے دیکھا ۔۔۔
اس کے انداز دیکھ کر ارشیہ کی ساری بولڈنیس ہوا ہوگئی۔۔۔
“کک ۔۔ کیا کررہے ہو پیچھے ہٹو !!” ۔۔۔
تھوک نگلتی وہ چہرہ پھیر کر بولی ۔۔۔
بدر کی آنکھیں چمکیں ۔۔ تو وہ اس سے شرما رہی تھی ؟؟ گریٹ !!!
کیوں ” کیوں کیا ہوا ؟ پہلی بار تو ایسا موقع آیا ہے ۔۔۔ ہم ۔۔۔ اس قدر قریب ۔۔۔ سردیوں کی رات ۔۔۔ ایک چادر ۔۔۔ “
وہ اس سے محض بدلہ لینے کی خاطر کہتا گیا جب ارشیہ کی نیلی آنکھوں میں نمی دیکھ کر لب بھینچ گیا۔۔۔
“آئندہ ایسی حرکت کرنے سے پہلے سو بار سوچنا۔۔۔ آدھی رات کو ایک نا محرم کی چادر میں گھسنے سے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔”
اسے دور جھٹک کر وہ اٹھ بیٹھا۔۔۔ ارشیہ جلدی سے اٹھ کر کمرے سے نکل گئی ۔۔۔
“کیا ہوا ؟؟” ۔۔۔۔۔
عرش کی آواز پر اس نے گردن گھمائی ۔۔۔
“کچھ نہیں !!!” ۔۔۔
مختصر جواب دے کر وہ لیٹ گیا۔۔۔
عرش نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا تھا۔۔۔