Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

یہ ابراھیم کہاں چلے گئے؟ ۔۔
مهندی کی رسم جاری تھی جب مہمانوں کے ہجوم میں وہ اسے ڈھونڈنے لگی۔۔ وہ اسے ایک کونے میں کھڑا نظر آ گیا۔۔
یہ تو ٹھیک تھا لیکن جس بات نے زنیشہ کو دانت کچکچانے پر مجبور کیا وہ اس کا کسی لڑکی سے مسکرا کر بات کرنا تھا۔۔
سفید فراک جھٹکتی وہ تن فن کرتی ان کے پاس آ کھڑی ہوئی۔
“آپ کون؟”
وہ بظاہر مسکرا کر بولی لیکن شہد رنگ آنکھوں میں ایسا تاثر تھا جیسے اس ٹڈی لڑکی کو کچا چبا جائے گی۔۔
سیاہ کرتہ شلوار میں ملبوس ابراھیم نے مسکراہٹ دبا کر اسے دیکھا۔۔
“یہ آرمی ڈاکٹر ہیں، مس فائزہ۔۔۔!!”
پشت پر ہاتھ باندھتا وہ دونوں کا تعارف کروانے لگا۔۔
“اور یہ ۔۔۔” وہ مزید کہتا جب زنیشہ جھٹ سے بولی۔۔
“میں ان کی بیوی ہوں۔۔!!!”
اس کا بازو تھام کر اس کے ساتھ چپکتی وہ اسے باور کرواتی بولی تھی۔۔ ابراھیم کا اس چڑیل سے مسکرا کر بات کرنا اسے ہضم ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔
“نائس ٹو میٹ یو مسز ابراہیم۔۔۔!
اوکے میں چلتی ہوں، ہیو فن۔۔۔!”
زنیشہ کو مسکرا کر دیکھتے اس نے ابراھیم کے سامنے ہاتھ کیا تو زنیشہ نے فٹ سے تھام لیا۔۔
“تھینک یو سو مچ ۔۔۔ دفع ہونے کے لیے!!”
زور زور سے ہاتھ ملاتی وہ آخری الفاظ دل میں ہی بول پائی۔ اس کے جاتے ہی وہ آنکھوں میں چنگاڑیاں لیے اس کی طرف پلٹی۔۔
“بڑا مسکرایا جا رہا تھا۔۔ یہ سجی سنوری بیوی تو نظر نہیں آ رہی نہ آپ کو؟؟”
چہرے پر آتے ریشمی بالوں کو کان کے پیچھے اڑستی وہ ہنوز تیکھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“آ رہی ہے نظر ۔۔ ‘اپنی بیوی’ ۔۔ خوبصورت لگ رہی ہے!!!”
بولتا ہوا وہ اچانک جھکا تھا۔ اس کے گال کو زور سے چومتا وہ اس کا منہ لال کر گیا۔۔ اس کی داڑھی اس کے نرم گال پر چبھی تھی جس پر وہ سرعت سے دور ہوئی۔۔۔
مہمانوں سے بھرے گھر میں کس طرح بےدھڑک وہ اس کا گال چوم گیا تھا۔ اس کا تو شرم کے مارے برا حال ہوگیا تھا۔۔
وہ فٹ سے اندر آئی جہاں ایرا پہلے سے موجود تھی۔۔ وہ اسے دیکھ کر شرارت سے مسکرائی جس پر وہ سٹپٹا گئی۔۔
“آپی ۔۔ آپ پریشان نہ ہوں! عرش نے بھی مجھے زور سے “کسی” کی تھی آپ بھی کسی کو نہ بتانا، میں بھی نہیں بتاتی اوکے؟؟”
اس کے کان میں سرگوشی کرتی ہنستی ہوئی وہ باہر آئی۔۔ لان کی سیڑھیاں اترتے اس کا پیر لهنگے میں اٹکا وہ بری طرح نیچے گری۔
اسکا پیر مڑ گیا تھا جس پر وہ تکلیف سے آنکھیں میچ گئی۔ وہاں کسی بچے کا گزر ہوا تو وہ جلدی سے کسی کو بلانے کے لیے بھاگا۔۔
کچھ پلوں کے بعد ہی عرش اس کی جانب آتا دکھائی دیا اس کے چہرے پر اس کے لیے فکر نمایاں تھی۔۔
اس نے بغیر کسی کی پرواہ کرتے اسے بانہوں میں اٹھا لیا۔ ایرا نے اس کا کندھا زور سے تھاما تھا۔۔
“عرش ۔۔ سب دیکھ رہے ہیں!!!”
اس کے کشادہ سینے میں منہ چھپاتی وہ دھیرے سے بولی تھی۔ عرش نے سر جھکا کر اسے دیکھا اسے خود میں چھپتا دیکھ کر وہ ذرا سا مسکرایا۔۔
“دیکھنے دو،، اپنی بیوی کو اٹھایا ہے!!”
اسے قریب ایک کرسی گھسیٹ کر بٹھاتے وہ خود بھی ایک کرسی کھینچ کر اس کے سامنے بیٹھا۔۔ اس کا پیر جوتے سے آزاد کر کے وہ ذرا بلند کرتا دیکھنے لگا پیر ہلنے پر وہ تڑپ گئی۔۔
“کیا کر رہے ہیں؟ پاؤں مڑ گیا تھا درد ہورہا ہے بہت۔۔۔!!!”
عرش نے ذرا کی زرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ اتنے میں وہ بچہ اسے سپرے تھما گیا۔۔ سپرے ہلا کر اس نے ایرا کے پاؤں پر سپرے کیا۔۔
“ویسے میں وہی بیوی ہوں آپ کی،، زبردستی والی!!!”
اسے خود کی فکر کرتے دیکھ کر وہ آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔ وہ سیدھا ہوتا سینے پر ہاتھ باندھتا اسے دیکھنے لگا۔۔
“ہاں تو ؟؟” ۔۔۔ اس کے ٹکے سے جواب پر منہ بناتی وہ نظروں کا زاویہ بدل گئی۔ اسے یہاں بیٹھے ٹھنڈ لگ رہی تھی لیکن اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔
لیکن اگلا بندہ بھی کوئی عام انسان نہیں تھا وہ اس کے بار بار پہلو بدلنے پر بھانپ گیا تھا۔ اس نے کاندھوں سے سكن شال اتار کر اس کے گرد پھیلا دی۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔۔ اس کی نیلی آنکھوں کو مسلسل خود پر ساکت پا کر وہ کھنکارا تو وہ سیدھی ہوتی اس کی چادر اچھی طرح اپنے گرد لپیٹنے لگی۔۔
اس کی مہک اور احساس کو اتنے قریب محسوس کرتی وہ عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہونے لگی تھی۔۔
“تو آپ دوسری شادی کر لیں پھر ۔۔”
سر کرسی کی پشت سے ٹکاتی وہ اسے مخلصانہ مشورہ دینے لگی۔ اندازہ نہ تھا اگلا بندہ بلا کا منہ پھٹ اور صاف گو تھا۔۔
“کر لوں گا۔۔!!!”
اس کا مکمل جائزہ لیتے مصروف سے انداز میں کہا گیا۔ وہ ایک دم سیدھی ہوئی نیلی آنکھیں سکیڑتی وہ تیکھے لہجے میں بولی۔
“کس سے کریں گے؟ یقیناً ڈھونڈ رکھی ہوگی!!”
اس کے انداز دیکھتا وہ بےنیازی سے گویا ہوا ایک ترچھی نظر اس نے کچھ فاصلے پر کھڑی لڑکی پر ڈالی جس کی ان کی جانب پشت تھی۔۔
“ہاں یہ لمبے بالوں والی۔۔۔!!!”
پیر ہلاتے وہ مزے سے بولا جس پر ایرا نے فوراً اس کی نظروں سے تعاقب میں دیکھا۔ غم و غصے سے اس کا برا حال ہوگیا پھر ایک دم وہ مسکرائی۔۔
اس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ جوڑا کھولنے لگی۔ عرش نے اب کہ پہلو بدلا۔۔
“بال کیوں کھول رہی ہو؟ واپس باندھو انہیں!!!”
اس کی کڑی نظروں پر وہ ایک پل کو رکی۔۔
“کیوں آپ کو کیا اس سے میں بال کھولوں یا باندھوں؟ آپ اس لمبے بالوں والی کی زلفوں سے کھیلیں جا کر!!!”
وہ آنکھیں گھماتی فر فر بولی تھی۔ اس کی تیز لمبی زبان چلنے پر عرش نے دانت پیسے۔۔
“آگ لگے اس کے بالوں کو، تم فوراً باندھو انہیں،، اگر میرے علاوہ غلطی سے بھی کسی اور کی نظر پڑ گئی تمہارے کھلے بالوں پر تو خود اپنے ہاتھوں سے کاٹوں گا۔۔۔!!!”
پرشدت لہجے میں کہتا وہ اٹھ گیا۔ ایرا نے ناراض نظروں سے اسے دیکھا۔ پیر نیچے رکھتی وہ اٹھی اور چادر اتار کر زور سے اسے تھمائی۔۔
“نہیں چاہیے آپ کی چادر۔۔۔!!”
آرام آرام سے چلتی وہ باقی کزنز کی جانب بڑھ گئی۔ اس کی پشت کو دیکھتے اس نے چادر پھیلا کر اپنے گرد اوڑھی جس میں اس کے وجود کی مہک شامل ہوگئی تھی۔۔
گہرا سانس لے کر اس کی مہک محسوس کرتا وہ ایک پل کو آنکھیں موند گیا۔ جس محبت کی اس کی زندگی میں جگہ نہیں تھی وہ چپکے چپکے اس کی زندگی میں شامل ہونے لگی تھی۔۔
🍂🍂🍂
بھاری ہوتے سر کو تھامے وہ لڑکھڑاتے قدموں سے سیڑھیاں اترنے لگا۔ سخت سردی میں ٹھنڈی ٹھار سیڑھیوں سے وہ ننگے پیروں اتر رہا تھا۔۔
بلکل سیدھ میں قدرے اونچائی پر دو کھڑکیاں کھلی تھیں جن سے چاند کی ٹھنڈی چاندنی گرتی اس پر پڑنے لگی تھی۔ اندھیرے لاؤنج میں اس نے قدم رکھا وہ ایک پل کو لڑکھڑایا تھا۔۔
لہو رنگ آنکھوں سے چاروں اوڑھ نیم تاریکی کو دیکھتا وہ زور سے چیخا تھا۔ اس کی آواز میں ایسا کرب اور وحشت تھی کہ پوری شان سے کھڑے در و دیوار بھی جیسے کانپ گئے تھے۔۔
نیم تاریکی میں روشنی کی دو کرنیں پھوٹی تھیں جو یک دم کھلتے دو دروازوں سے بیتاب سی نکلی تھیں۔۔
کرنل عصام اور غزل بیک وقت لاؤنج میں آئے تھے غزل نے فورا سے گل بتی روشن کی تھی۔۔ جو منظر اسے دیکھنے کو ملا اس نے غزل خانزادی کو زندگی میں پہلی بار گہرے دھچکے سے دوچار کیا تھا۔۔
سیڑھیوں کے آگے ٹھنڈے فرش پر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھا وہ رو رہا تھا۔ اس وجود ہولے ہولے سے ہل رہا تھا۔۔ آہٹ پر اس نے سر اٹھایا کالی آنکھیں ایسی سرخ ہو رہی تھیں کہ وہ ایک پل کوڈر گئی۔۔
بکھرے ٹوٹے پھوٹے حلیے میں شکستہ عمارت کی طرح وہ ڈھیر سا اس کا دل دہلا گیا۔۔ سرخ، آنسو بہاتی آنکھوں کو ہاتھ کی پشت سے بےدردی سے مسلتا وہ ایک دم اٹھا تھا۔۔
“کیوں کیا میرے ساتھ ایسا؟ بتائیں؟ میری زندگی تباہ کردی!!!” ٹیبل سے گلاس واس اٹھا کر زور سے زمین پر پٹختا وہ زور سے دهاڑا تھا۔۔
کرنل عصام سکتے میں آ گئے۔ آج بالاخر ۔۔ انہیں ضمیر کی عدالت میں گھسیٹا جانا تھا۔۔
“مجھ پر احسان کیا تھا؟ میری زندگی میری محبّت، میری بیوی مجھ سے جدا کر دی،، آپ نے مجھے نئی زندگی نہیں دی بلکہ مجھے میری محبت سمیت زندہ درگور کر دیا، مار دیا صالح یوسف کو!!”
دوسرا واس اٹھا کر پوری قوت سے دیوار پر مارتا وہ حلق کے بل چلایا۔ اسکا جنونی انداز دیکھ کر وہ سہم کر پیچھے ہٹی جبکہ آنکھیں بےيقینی سے اسے تک رہی تھیں۔۔
اس کے کہے الفاز جیسے سمجھنے میں دقت سی دقت تھی۔ جبکہ کرنل خاموش کھڑے تھے اپنی جگہ،، ان کی نگاہوں میں دور کہیں کچھ جھلک رہا تھا۔ شاید احساس ندامت۔۔۔!!
“میرا بیٹا تھا وہ ، مجھے کہتا رہا ۔۔ میرے بابا ہیں آپ! کوئی باپ اپنے بچوں کو چھوڑ کر اس طرح جاتا ہے کیا؟ لیکن میری بدقسمتی یا آپ کی سوچی سمجھی چال ۔۔۔ میں اپنے بچے کو پہچان نہ سکا، وہ ابراھیم تھا ، میرا بیٹا ۔۔۔ میرے بچوں پر ظلم کیا، میری بیوی کو جیتے جی مار دیا ۔۔”
کرب سے دھیمی آواز میں کہتا وہ پتھر کے اس مجسمے کے مقابل آیا۔۔ “کیوں کیا ایسا؟؟ ۔۔۔ دهیما سا بولتا اچانک وہ بلند آواز میں چلا اٹھا۔۔اس کی آواز دکھ سے پھٹنے لگی تھی۔۔
“نفرت محسوس ہورہی ہے آپ سے،، گھن آ رہی ہے!!!”
سیاہی مائل سرخ آنکھیں ان کی آنکھوں میں گاڑتا وہ الفاظ چبا کر بولا تھا۔۔ غزل ڈرتی ہوئی اس کے پاس آئی ۔۔
“حاوز ۔۔۔؟؟”
اس کی سرگوشی پر سرخ قہر برساتی آنکھیں اس پر آ ٹکی تھیں۔
“تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟؟”
ہری کانچ سی آنکھیں نم ہوئی تھیں اس کی حالت پر۔۔
“اپنے باپ سے پوچھو!!!”
سرد کٹیلے لہجے میں کہتا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا سیڑھیوں کی جانب بڑھا۔ پیر کے نیچے کچھ چبھا تھا، کچھ نوکیلا تیز دهاری سا۔۔!! سرد پتھر کا بنا وہ ہر چیز سے لاپرواہ سیڑھیاں چڑھتا گیا۔
سرخ نشان سیڑھوں پر قدم بہ قدم چھپتے گئے۔ چند سیکنڈ بعد ہی وہ واپس اترتا دکھائی دیا۔ اس کے پیروں میں شوز تھے مذید تن پر ایک جیکٹ کا اضافہ ہوچکا تھا۔۔
“جا رہا ہوں ،، کبھی نہ لوٹنے کے لیے!! یہ کپڑے اور جوتے بھی کل واپس بھجوا دوں گا، آپ کے احسان بندے کو کسی قابل چھوڑتے کہاں ہیں!!!”
بیرونی دروازے کی جانب جاتا وہ ایک پل کو ٹھہر کر سپاٹ لہجے میں بولا۔ پھر بغیر ایک سیکنڈ رکے قہر برساتی ٹھنڈ میں، سیاہ گھور آسمان سے گرتی دھند میں وہ غائب ہوتا گیا۔۔
غزل نے سپاٹ نظروں سے اپنے عظیم باپ کو دیکھا جس کا سر آج جھکا ہوا تھا۔۔
“آئی کانٹ بیلیو کوئی انسان اپنے مفاد کے لیے اتنا بھی گر سکتا ہے!!!” ۔۔
سرد برفیلے لہجے میں کہتی وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ زور دار آواز سے دروازه بند ہوا تھا۔ اسے ڈھیر سارا رونا تھا اس غم پر جو اس کے دل کو جلا کر راکھ کر گیا تھا۔۔
کرنل عصام شکستہ قدموں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے، ابھی تو ضمیر کی عدالت لگی تھی ابھی تو سزا شروع ہوئی تھی۔
🍂🍂🍂
رات مهندی کے فنکشن کے باعث سب جاگتے رہے اب جو سوئے تو پھر اگلی سرد دوپہر میں ہی اٹھے۔۔ آرام کے خیال کو پیش نظر رکھتے مهندی اور بارات کے فنکشن میں ایک دن کا وقفہ رکھ دیا گیا تھا۔۔
لڑکی والوں نے مشائم کے گھر ڈیرہ ڈالا تھا جبکہ باقی شاہوں کے بنگلے میں مقیم تھے۔۔! سردیوں کے دن تھے جن کے ڈھلنے کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔۔
وہ سب بھی لاؤنج میں بیٹھے گپ شپ لگاتے کل کے فنکشن کی بابت بات کر رہے تھے مشی بھی وہاں موجود تھی جو فلوقت ایرا کے کمرے میں کام سے گئی تھی۔۔
ابراھیم بھی آیا تھا اس کے ساتھ جو سیدھا دوسری منزل پر چلا گیا تھا جہاں ان کا سامان وغیرہ رکھا تھا۔۔
شام گہری ہونے لگی تھی جب ملازم بشیر بوکھلایا ہوا اندر آیا۔۔
“صاحب جی کوئی آیا ہے باہر ۔۔۔!!! بلکل ابراھیم بابا جیسا۔۔۔!!!” بوکھلاہٹ میں اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کس طرح بتائے انہیں۔۔
وہ مزید کچھ کہتا جب اس نے اندر قدم رکھا۔۔ دروازے کے بیچ و بیچ وہ سر اٹھائے کھڑا تھا سیاہ آنکھوں کی سردمہری پل میں زائل ہوئی تھی۔۔
جبکہ باقی سب پر جیسے سکتہ طاری ہوگیا تھا آنکھیں وہ منظر دیکھ رہی تھیں جو گمان سے پرے تھا۔۔ کئی نگاہوں کے منظر دھندلائے۔۔
بچے اور ملازم سب متجسس سے انہیں دیکھ رہے تھے جبکہ بڑوں کی ذات زلزلوں کی زد میں تھی جیسے۔۔۔!
سب سے پہلے ماہ بیر کو ہوش آیا حواس بحال ہوئے تو ایک ضدی سے آنسو نے باہر نکلنے کو راستہ بنایا۔۔ آنکھ بھیگی تھی پھر منظر بھیگنے لگا تھا۔۔۔!
وہ آن کی آن میں اس تک پہنچا اور جھٹکے سے اسے اپنی اوڑھ کھینچتا اسے سینے سے لگا گیا۔۔ زور سے اسے خود میں بھینچے وہ رو پڑا تھا۔۔
کبھی اس کا سر چومتا تو کبھی سینے میں بھینچ لیتا۔۔ صالح نے بھی اتنی شدت سے اسے خود میں بھینچ رکھا تھا۔۔ ایسی یاری قسمت والوں کو نصیب ہوا کرتی ہے ۔۔۔!!!
دونوں کے دلوں تک ٹھنڈک سی اتر گئی تھی، دل جو برسوں سے اندیکھی آگ میں جل سا رہا تھا پرسکون ہونے لگا تھا۔۔
اس سے جدا ہوتا وہ آگے آیا تو نظر ارشما پر ٹھہری جو نم آنکھوں سمیت مسکراتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔ وہ آج بھی بلکل پہلے جیسی لگتی تھی۔۔
وہ اس کے سامنے ٹھہر کر سر جھکا گیا ادب سے۔۔! کسی زمانے میں استاد تھی وہ اس کی،، دل آج بھی اس کے احترام میں جھکا تھا۔۔
“صالح ۔۔۔ آنکھیں یقین نہیں کر پا رہیں پر دل ۔۔۔ اعتبار کر رہا ہے۔۔۔!!!” وہ دهیما سا مسکرایا۔۔
“میں بہت خوش ہوں ۔۔مطلب بہت زیادہ ۔۔۔ ویلکم بیک!!!”
نم آنکھوں سے دیکھتی وہ ہنس پڑی تھی۔۔ صالح نے سر اٹھایا۔۔
“آئی ایم آنرڈ میم ۔۔ تھینک یو ۔۔۔! دیکھ لیں آپ کا نکما سا سٹوڈنٹ انگلش بھی سیکھ گیا ہے۔۔۔!”
نرمی سے کہتا وہ ہولے سے ہنس دیا۔۔ یہ اس ضدی ، انتہا کے کھڑوس شخص سے بلکل مختلف کوئی اور ہی لگ رہا تھا جس کے لہجے میں نرمیاں گھلنے لگی تھیں۔۔
لاؤنج سے منسلک سیڑھیوں سے کسی کے تیزی سے اترنے کی آواز آنے لگی ۔۔ صالح نے سر اٹھا کر دیکھا وہ نم آنکھوں سمیت خوشی کے بےپایاں احساس کو محسوس کرتا تیز قدموں سے اس کی جانب بڑھ رہا تھا پھر وہ ارد گرد کا ہوش بھلائے اس قدر شدت سے اس سے لپٹا تھا کہ صالح ایک قدم پیچھے کو ہوگیا۔۔
دونوں ایک دوسرے سے اس طرح ملے کہ سب کی آنکھیں نم کر گئے۔۔
“میرا بیٹا،، میرا بچہ ۔۔ ابراھیم۔۔۔!!!”
وہ بار بار اس کا چہرہ، اس کا سر چوم رہا تھا اتنے سالوں کی تشنگی یوں چند پلوں میں تو نہیں مٹنی تھی۔۔
کچن کے دروازے میں کھڑی نوشین انگلی منہ میں دبائے انھیں دیدے پھاڑے دیکھ رہی تھی۔۔ اس کے قریب ہی بشیر کھڑا کاندھے پر دھرے رومال سے آنکھیں پونچھ رہا تھا۔۔
“ہائے بشیرے یہ میری سوہنی سوہنی آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں؟ پہلے وہ “ترواں” ہضم نہیں ہورہے تھے اب یہ جڑواں ۔۔۔ ؟ اوہو ۔۔۔!! ہائے اللّه میں كتهے جاواں۔۔ مجھے چکر آ رہے ہیں ۔۔۔ مجھے پکڑ لے بشیرے میں بےہوش ہونے والی ہوں ۔۔۔!!!”
گول گول گھومتی وہ گرتی پڑتی اس تک آئی کہ وہ تھام لے گا لیکن وہ تو بس منہ کھولے اس کے ڈرامے دیکھ رہا تھا جو خود کو نائنٹیز کی ہیروئن سمجھ رہی تھی۔۔
اس کے نہ تھامنے پر وہ دھڑام سے نیچے گری۔۔ سارے چکر پل میں رفو چکر ہوئے وہ کلس کر اٹھی اور رکھ کر ایک تهپڑ اسے جڑ دیا۔۔
“مرن جوگا۔۔۔!!!”
نتھنے پھلاتی وہ پھر سے آگے ہو کر باہر کا منظر دیکھنے لگی۔۔۔ مشائم کمرے کی چوکھٹ پر گم صم سی کھڑی یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔
اس کی سیاہ گہری آنکھوں کو خود کو تلاشتے پا کر اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔ صالح کی نظروں کی بےچینی محسوس کرتے ارشما نے پیچھے ہٹتے اپنی پشت کی جانب اشارہ کیا۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا دل بےقابو سا ہوا تھا وہ سرعت سے اس کی جانب بڑھا۔۔ اس سے پہلے وہ اس تک پہنچتا وہ لہرا کر نیچے گری۔۔
🍂🍂🍂
اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو کمرہ نیم اندھیرا پایا۔۔ دھیرے سے وہ اٹھ بیٹھی۔۔ کیا وہ خواب تھا،، کوئی سراب تھا؟؟
گم صم سی سوچتی وہ پیر نیچے لٹکاتی اٹھی۔۔ قدموں نے کچھ فاصلہ طے کیا تھا جب وہ دھیرے سے اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔۔
نرمی سے اس کے گرد بازو حائل کرتا وہ چہرہ اس کے کندھے پر رکھ کر آنکھیں موند گیا۔۔ وہ اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی دل کی دھڑکن یکایک تیز ہوئی۔۔
“راستے آپ ہی آپ سے جڑ جاتے ہیں چاہے درمیان میں صدیاں حائل ہوجائیں۔۔۔۔!”
اس کی دھیمی سرگوشی پر اس نے آنکھیں موندیں،، شفاف موتی قطرہ قطرہ بہنے لگے تھے۔۔
صالح نے اس کا رخ اپنی جانب کیا۔۔ اس کا چہرہ بلند کرتا وہ ان موتیوں کو لبوں سے چننے لگا۔۔
“یوسف؟؟”
آنکھیں کھولتی وہ کپكپاتے ہاتھ کو اس کے چہرے پر رکھتی اس کے احساس کو محسوس کرنے لگی۔۔ وہ اس کا ہاتھ نرمی سے چومتا آنکھیں موند گیا۔۔
دونوں خاموش کھڑے ایک دوسرے کے احساس کو محسوس کر رہے تھے۔۔ برسوں کی جدائی تھی دل پھر سے ملے تھے۔۔۔!
“یوسف؟؟”
اس کے سے سینے سے لگی وہ آنسو روکتی مشکل سے بولی تھی جو آپ ہی امڈ امڈ کر آنے لگے تھے۔۔
“آپ نہیں تھے تو کچھ باقی نہیں بچا تھا مشی کے لیے۔۔!!!”
اس کے کشادہ سینے میں سر چھپاتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ اس کے آنسو تو ہمیشہ اسے تکلیف میں مبتلا کرتے تھے۔۔
اسے بازوؤں میں بھر کر وہ صوفے پر آ بیٹھا جس کے سامنے کھلی کھڑکی سے گرتی ٹھنڈی چاندنی کمرے کے اندھیرے کو ختم کرنے کی کوشش میں ہلکان تھی۔۔
“جانِ یوسف۔۔!!! میں ہمیشہ تھا آپ کے پاس ،، ہر پل ہر لمحہ ،، میرا جسم کہیں دور کھو گیا تھا ،، دل تو آپ کے پاس ہی چھوڑ گیا تھا۔۔۔!!!”
اس کی آنکھوں پر تشنہ لب رکھتا وہ جیسے صدیوں کی پیاس بجھا رہا تھا۔۔ اور وہ اس کے لمس کو محسوس کرتی آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔۔
اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔۔ بھوری آنکھیں کالی گہری آنکھوں میں پیوست ہوئی تھیں۔۔
“دل چاہتا ہے ساری عمر یونہی آپ کو دیکھتی رہوں جی بھر کر ۔۔۔۔ لیکن جی نہیں بھرے گا نہ!!”
اس کے گالوں پر ہاتھ رکھتی وہ اوپر اٹھتی اس کی پیشانی چوم گئی۔۔ اس کے بال سنوارتی وہ اس کے کاندھے پر سر رکھ کر بازو اس کے گرد حائل کر گئی۔۔
“برسوں بعد ایسا سکون محسوس کر پا رہی ہوں آپ کے ہونے سے تحفظ کا احساس ہوتا ہے ۔۔ میرے سکون کا واحد زریعہ آپ کی ذات ہے!!!”
وہ آج بھی اس کے عشق میں اتنی ہی دیوانی تھی۔۔ صالح یوسف نے اسے الگ کرتے اس کا چہرہ سامنے کیا۔۔ اس کی آنکھیں بار بار رونے کی وجہ سے سوجھ چکی تھیں۔۔
“وعدہ کرتا ہیں اب رونے نہیں دوں گا۔۔۔!!!”
بھاری گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اس پر جھکنے لگا تھا۔۔ وہ لجا گئی تھی،، دھڑکن بےترتیب ہوئی تھی۔۔ نظریں جھکاتی وہ دور ہوئی۔۔
“آپ کو کچھ چاہیے؟” ۔۔
وہ سیاہ آنکھوں میں محبتوں کے دیے جلائے بس اسے تکے جا رہا تھا۔۔
“صرف آپ۔۔۔۔! دل چاہتا ہے آپ اس وقت ميسر آ جائیں ۔۔ کئی سالوں سے تڑپ رہا تھا یہ دل ،، میں جان نہ پایا یہ دل تو مشی کا تھا، اس سے جدا کر دیا گیا تھا،، تڑپتا نہ تو کیا کرتا۔۔۔؟؟”
اس کی سیاہ آنکھوں کے کانچ دھندلائے تھے نمی سے۔۔ وہ نمناک نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھتی پوری شدت سے اس کے لبوں پر لب رکھ گئی۔۔
صالح نے اسے خود میں بھینچا تھا۔۔ ایک دوسرے میں گم وہ زمانوں کی تشنگی مٹا رہے تھے۔۔ وقت نے جدا کیا تھا اب وہی وقت انہیں ایک دوسرے کے روبرو لے آیا تھا۔۔
محبت کبھی نہیں مٹتی حتٰی کہ وجود مٹی ہوجاتے ہیں، سانسیں تھم جاتی ہیں، محبت ۔۔۔ ہمیشہ امر رہتی ہے۔۔۔!