Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

ہر طرف اٹھتے شور سے پرے آ کر وہ ایک کمرے میں گھس گئی۔ غیر محسوس انداز میں اس نے کان پر لگی ڈیوائس کو ہاتھ سے چھو کر چیک کیا۔۔
لپ سٹک سے رنگے گہرے سرخ لبوں نے حرکت کی۔۔
“سب ٹھیک ہے کچھ ہی دیر میں محفل سجے گی تمہارے پاس تب تک کا وقت ہوگا۔ ٹھیک ہے بیسٹ آف لک!!”
اطراف میں دیکھتی وہ پورے کانفیڈنس سے چلتی ہوئی باہر نکل گئی۔
🍂🍂🍂
کوپن ہیگن پر آج بھیگی سرمئی شام اتری تھی۔ آسمان سرمئی بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا کبھی کبھی ہلکی ہلکی بوندا باندی ہوجاتی تھی۔۔
ایسے میں جہاں آباد علاقے میں سب موسم کے تیور دیکھتے گھروں کا رخ کر رہے تھے وہیں آبادی سے کچھ دور کئی ایکڑ پر پھیلا وہ وسیع و عریض بنگلہ سنہری روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔۔
اندر جھانکو تو ایک بڑے سے ہال کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا روشنیوں اور رنگ و بو کا ایک طوفان امڈ آیا تھا۔۔
چاروں اوڑھ تخت لگائے گئے تھے جہاں سربراہی نشست پر سفید كلف لگے شلوار قمیض میں بابا صاحب شراب کے گھونٹ بھرتے جھوم رہے تھے۔۔
ان کے اطراف میں ذاکر اور کالیا کھڑے تھے جبکہ عین پیچھے لیث اپنے ازلی حلیے سے ہٹ کر مکمل سیاہ پنٹ شرٹ پر لیدر کی جیکٹ پہنے دیوار سے لگ کر کھڑا تھا۔۔
اس کے ہاتھوں سے بینڈز غائب تھے۔ بڑھے ہوئے بال اب چھوٹے ہوچکے تھے۔ اس کی سپاٹ نظریں محفل کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔۔
ہال میں بیٹھے ہر شریف نفس کے پہلو میں نیم عریاں کنیزیں تھیں سب کی نظریں اس حسن کی ملکہ کے انتظار میں بےچین سی بابا صاحب کو تک رہی تھیں بے چین تو وہ خود بھی تھے اس کے قاتل روپ کو دیکھنے کے لیے۔۔
وہ غضب ڈھاتی تھی اپنی ہری آنکھوں سے جس کے چمکیلے کانچ مقابل کو دل میں گھستے محسوس ہوتے تھے ۔ آنکھیں غضب ڈھاتی تھیں تو قاتل مسکراہٹ جیسے الٹی چھری سے حلال کرتی تھی۔۔ ایسے فتنہ حسن سے خدا کی پناہ۔۔۔ !!! یکایک ہال کی بتیاں بجھ گئیں۔ محض ایک تیز بتی عین وسط میں کھڑی اس ملکہ حسن پر پڑی تھی جو پنڈلیوں تک آتے سرخ بھڑکیلے گھاگھرے میں سرخ ریشمی گھونگھٹ سر پر ڈالے کھڑی تھی۔۔۔ گھونگھٹ سے ظاہر ہوتے سرخ تراشیدہ ہونٹ اور اوپرے ہونٹ کے خم پر چمکتا سیاہ تل حاظرین محفل کو گهايل کیے جا رہا تھا۔۔ صاحبان ،،، قدردان ،،، مہربان ۔۔۔!! دل تھام کے بیٹھیے کیونکہ آپ کے سامنے حاضر ہیں دربار دل کی عظیم ملکہ۔۔۔!! ملکۂ حسن ،، نور نظر ،، جان من “حسینہ” ۔۔ ایک من چلا نوجوان اٹھ کر بڑی ترنگ میں بولا تھا۔ سرخ قاتل لب ہلکی مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔ سب دل تھامے حسن کے اس مجسمے پر آنکھیں گاڑے بیٹھے تھے محفل پر خاموشی چھائی تھی جب اس کے لبوں نے حرکت کی۔ آتے آتے ٹھہر گیا ہوگا ۔۔۔ 🧡 کوئی دل سے اتر گیا ہوگا۔۔ 🥀❤️ ہوا میں ہاتھ لہرا کر پیشانی تک لاتی وہ ایک ادا سے جھکی تھی جس پر سیٹیوں کی زبردست آواز بلند ہوئی۔۔ بابا صاحب پرشوق نظروں سے اس کی ایک ایک ادا کو دیکھتے حفظ کر رہے تھے ذاکر اور کالیا کا بھی یہی حال تھا جبکہ ان کی پشت پر کھڑا وہ لب سختی سے بھینچے سپاٹ نظروں سے ناک کی سیدھ میں دیکھ رہا تھا۔۔ وہ گھاگھرا جھٹکتی ایک قدم آگے بڑھی جس سے اس کی دودھیا پنڈلیاں نمایاں ہوئیں ۔ لیث نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھتے چہرہ موڑ لیا۔ جو اندھیرے میں چھپ کے بیٹھا ہے۔۔۔ 🔥 اپنے سائے سے ڈر گیا ہوگا۔۔۔ 🥀🧡 ہاتھوں کو اٹھا کر گھونگھٹ پكڑتی وہ ایک ادا سے نیچے بیٹھی اس کا لال گھاگھرا لہرا کر دائرے کی صورت زمین پر پھیل گیا تھا۔۔ ایک بار پھر سے سیٹیوں کی آوازیں بلند ہوئیں۔۔ اس نے جھٹکے سے گھونگھٹ الٹ دیا۔ محفل پر طوفان بدتمیزی مچ گیا تھا۔ نوٹوں کا ایک ڈھیر اس پر گرنے لگا تھا۔ نادان کیا ڈھونڈے ہے تو اخبار میں ۔۔ 🥀 🥀 ہر چیز تو بکتی نہیں بازار میں ۔۔ ہنس کے اگر اک بار جو تو مانگ لے ۔۔ 🥀 🥀 دل تَو ہے کیا جاں وار دوں میں پیار میں ۔۔ وہ دونوں ہاتھوں کو لہرا کر قاتل نینوں کے سامنے لاتی ابرو اچکا گئی۔ ساتھ ساتھ اس کے لب گانے کے بول کے مطابق حرکت کر رہے تھا۔۔ نچلے لب کا کنارہ دانتوں سے کاٹتی وہ سر گھماتی لیث کو آنکھ مار کر اٹھی۔ دو نوجوان ہاتھ میں شراب کی بوتل پکڑے اس کے ساتھ آ کر ناچنے لگے۔ 🤎🧡 پهندے ہیں تیری یہ باتیں ۔۔ ہیں جل یہ زلف کی راتیں ۔۔ 🧡🤎 🧡🤎 مجھ کو نہیں ان میں تو لگنا ۔۔ رکھ حسن کی یہ سوغاتیں ۔۔ 🤎🧡 میرے لیے کافی ہے جو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پایا ہے دغا !!! 🥀🔥 سرمستی سے اپنے اوپر گرتے اس لڑکے کو نزاکت سے پیچھے دھکیلتی وہ مہرون گھٹنوں تک جاتے کرلی بالوں کو جھٹکتی دونوں ہاتھوں کو باہم ملا کا کمر تک لائی۔ قلاباز دل ہے بیری جانے کیا کہے ۔۔ 🥀 قدر جو نہ جانے اس کے پیچھے ہی رہے۔۔ 🧡 گھوم کر دونوں بازو آنکھوں کے سامنے لاتی وہ کمر ہلانے لگی۔ مٹکتی ہوئی وہ بابا صاحب کے پاس آئی جھک کر انہیں آداب کہتی کھکھلا کر وہ واپس وسط میں آ گئی۔ ملی جلی خوشبو اور تیزی سے جلتی بجھتی لائٹوں نے عجب سما باندھ دیا تھا اس پر حسینہ کا جان لیوا رقص محفل کو چار چاند لگا رہا تھا۔ کسی کی وفا پہ ۔۔۔ ہائےےےے !!! چہرہ کندھے کی طرف موڑ کر وہ ایک ادا سے مسکرائی۔ لیث کی بس ہوئی تھی سرد تاثرات لیے وہ باہر نکلنے لگا جب حسینہ نے لپک کر اسکا ہاتھ تھاما تھا۔۔ اس کے مقابل آتی اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی وہ خاص کر اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی۔۔ 🥀کسی کی وفا پہ کوئی اور مرے ۔۔ میری بھی وفا پہ کوئی غور کرےےے۔۔۔🥀 اس کی آنکھوں کا رنگ مزید گہرا ہوا تھا۔ سینے پر رکھا اس کا ہاتھ جھٹک کر وہ باہر نکل گیا۔ ذاکر کا دماغ کھٹکا تھا اس نے آنکھیں سکیڑ کر لیث کی پشت کو دیکھا۔۔ جھک کر بابا صاحب سے کچھ کہتا وہ اس کے پیچھے جانے لگا جب حسینہ اسے بازو سے تھام کر وسط میں لے آئی۔ اس کا دیهان ہٹا تھا لیث کی طرف سے جبکہ آنکھیں چمکی تھیں حسینہ کی پیش قدمی پر۔۔ آج وہ جس قدر آفت لگ رہی تھی اس کا قہر برداشت کرنے کے لیے وہ دل و جان سے تیار تھا۔ 🍂🍂🍂 تہجد کی نماز ادا کر کے اس نے جائے نماز طے کر کے رکھی۔ سیاہ آنکھیں کسی عزم سے چمک رہی تھیں۔ گہری سانس لے کر وہ کبرڈ کی جانب آیا۔۔ الماری سے دستی بیگ نکال کر اس نے کچھ ضروری چیزیں رکھیں۔ چند منٹ بعد وہ مکمل سیاہ لباس میں صوفے پر بیٹھا نظر آ رہا تھا۔۔ کان میں لگی ڈیوائس کے زریعے وہ دوسری جانب کسی سے رابطے میں تھا۔۔ بات کرتے ہوئے اس نے پیروں میں “کمبیٹ بوٹس” پہنے۔۔ خالص فوجیوں کے لمبے بوٹ!! کھڑے ہو کر اس نے ایک بار پھر بیگ کو چیک کیا۔۔ “اوہ۔۔۔!!” کچھ یاد آنے پر وہ چونکا۔۔ اس نے “باڈی آرمر” تو پہنا نہیں تھا جو کسی بھی بندوق سے نکلنے والی گولی سے اسے محفوظ رکھتا۔۔
مدھم آواز میں دوسری جانب موجود شخص سے کچھ کہتا وہ بیگ سے باڈی آرمر نکال کر سیدھا ہوا۔ سینے سے چپکی سیاہ شرٹ کو نکال کر اس نے آرمر پہن کر دوبارہ شرٹ پہنی۔۔۔
کمرے میں ہوتی کھڑ کھڑ پر زنیشہ نے بلینکٹ آنکھوں سے ہٹائی۔۔ کمرے میں جلتی لائٹ کی وجہ سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔۔
“ابراھیم ؟ اتنی رات کو کہاں جا رہے ہیں؟ “
وال كلاک پر نظر ڈال کر وہ حیران سی اٹھ بیٹھی۔ اس کا دل عجیب سے احساس سے دھڑکا تھا۔ وہ پرسکون چہرے سے اس کے سامنے آ بیٹھا۔۔
“میں جلدی آ جاؤں گا تم پریشان مت ہونا ٹھیک ہے؟ باہر کا دروازه لاک کر لینا کوئی بھی آئے دروازه مت کھولنا۔۔ میں پھر کہہ رہا ہوں دروازه مت کھولنا۔۔ پریشانی والی کوئی بات نہیں بس تمہاری سیفٹی کے لیے کہہ رہا ہوں شاید مجھے رات ہو جائے واپس آتے۔۔ اگر کوئی مسلہ ہوگیا بالفرض تو اس نمبر پر رابطہ کرنا۔”
اس نے ایک کارڈ اس کی طرف بڑھايا جسے اس نے خاموشی سے تھام لیا۔۔
“ابراھیم آپ ایسے کیوں کہہ رہے ہیں مجھے ڈر لگ رہا ہے!!!” ۔۔۔۔
وہ پلکیں جھپكتی بولی عجیب سی گھٹن ہونے لگی تھی۔
“دل ۔۔ کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے تمہیں مجھ پر اعتبار ہے؟؟” ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں جھانکتے وہ سوال کر گیا۔ اس کا سر آپ ہی اثبات میں ہلا تھا۔۔
“بہت زیادہ ۔۔!!!”
وہ سرگوشی میں بولی تھی شہد رنگ آنکھوں میں مقابل بیٹھے اس خوبرو مرد کا عکس جھلملایا تھا۔
نرمی سے اسے دیکھتا وہ اٹھا جھک کر اس کا سر چومتے وہ پیچھے ہٹا۔ زنیشہ نے آنکھیں موند کر کھولیں۔۔
“جلدی آئیے گا میں انتظار کروں گی آپ کا!!”
سر اٹھا کر وہ دهیمی آواز میں بولی لہجہ بجھا سا تھا۔
“انشااللہ! دعا کرنا جس مقصد کے لیے جا رہا ہوں وہ پورا ہوجائے اوکے چلتا ہوں،،، خدا حافظ!!”
دستی بیگ اٹھا کر وہ ایک آخری نظر اس پر ڈال کر باہر نکل گیا۔
اس کی خیریت کے لیے وہ دل سے دعا گو ہوئی۔ اب نیند کیا خاک آتی وہ وضو کی نیت سے اٹھ گئی۔
🍂🍂🍂
سنسان سڑک پر چلتا وہ رات کی تاریکی کا ایک حصہ لگ رہا تھا۔ گھر سے کچھ دور وہ پیدل آیا تھا اسٹاپ پر آتے اسے ایک گاڑی نے پک کر لیا۔۔
بیگ پچھلی سیٹ پر ڈال کر وہ پسنجر سیٹ پر بیٹھ گیا تو اس کے ساتھی نے گاڑی چلا دی۔ گاڑی کی کھلی کھڑکی سے نظر آتے آسمان پر نظر جماتا وہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کر رہا تھا۔۔
ہلکی ہوا سے بال بار بار اڑ کر اس کی پیشانی پر بکھر رہے تھے سیاہ آنکھیں بلا کی سرد تھیں۔۔
بھنچے لبوں کو کھول کر گہری سانس لیتا وہ سیٹ سے سر ٹکا کر آنکھیں موند گیا۔ بالاخر وہ وقت آ گیا تھا جس کا انہیں کب سے انتظار تھا!!
🍂🍂🍂
ہال سے نکل کر وہ کئی تنگ سی راہداریاں عبور کر کے سیڑھیاں اترتا پھرتی سے آخری منزل پر موجود بابا صاحب کے آفس کے سامنے رکا۔۔
یہاں کے تمام کیمرے وہ پہلے ہی ہٹا چکا تھا سر گھما کر پیچھے کی اوڑھ دیکھتے اس نے جیب سے چابی نکالی جو اس نے نہایت ہوشیاری سے بابا صاحب کی قمیض کی جیب سے نکالی تھی۔۔
کلائی میں پہنی گھڑی پر وقت دیکھتا وہ جلدی سے لاک کھول کر اندر گھس گیا۔ دروازه اس نے ذرا سا کھلا رکھ دیا جس سے اندهیر کمرے میں مدھم سی روشنی ہوگئی۔۔
گانوں کی آواز برابر کانوں سے ٹکرا رہی تھی سب محفل میں مشغول ارد گرد کا ہوش بھلائے تھے۔ بس اسی موقع کا تو انتظار تھا۔۔
پھرتی سے بڑی میز کے پاس آتے اس نے لیپ ٹاپ آن کیا جو پاسورڈ مانگ رہا تھا۔ وہ پوری تیاری سے آیا تھا ظاہر ہے کوئی اپنی اتنی اہم معلومات اور کالے کرتوتوں کا ریکارڈ كهلم کھلا تو نہیں چھوڑے گا نہ۔۔
بھلا ہو حسینہ کا جسے اپنے ساتھ ملا کر اس نے پاسورڈ معلوم کر لیا تھا۔ جیب سے فلیش ڈرائیو نکال کر اس نے لیپ ٹاپ سے لگا دی۔۔
چند کیز دبا کر وہ لب سختی سے بھنچے دور ہٹ کر کھڑا ہوتا ڈیٹا کاپی ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ اس نے تیز نظروں سے دروازے کی جھری سے جھانکا کوئی اس طرف آ رہا تھا۔
“اوہ شٹ!!!”
اس نے جیکٹ ہٹا کر ریوالور چیک کیا۔ سرد نظروں سے دروازے کو دیکھتا وہ پھرتی سے میز تک آیا لیپ ٹاپ کی سکرین کو فولڈ کر کے وہ میز کے دوسرے پار جھک کر بیٹھ گیا۔۔ آنے والے نے دروازه کھلا دیکھ کر اندر جھانکا۔۔ “ارے یہ آفس کا دروازہ کس نے کھولا؟ لگتا ہے ذاکر بند کرنا بھول گیا ابھی بتاتا ہوں بابا صاحب کو زیادہ ہی آرام پسند ہوگیا ہے!!” تندہی سے کہہ کر اس نے دروازه باہر سے لاک کر دیا۔ بھاری قدموں کی آواز دور ہوتی گئی۔ لیث جھٹکے سے اٹھا اس کے پاس وقت کم تھا۔۔ فلیش ڈرائیو نکال کر اس نے جیب میں ڈالی۔ جلدی سے باقی دراز ٹٹول کر اس نے کچھ پیپرز باہر نکالے۔ موبائل کا كیمرہ آن کر کے وہ دھڑا دھڑ تصویریں اتارنے لگا۔۔ اس کے اعصاب بہت مضبوط تھے ورنہ اس صورتحال سے گھبرا گیا ہوتا۔ اپنا کام مکمل کر کے اس نے ٹارچ پورے آفس میں گھمائی ایک جانب اسے دروازه نظر آ گیا۔۔ ایسے لوگ اپنے گھروں میں ضرور فرار کا دوسرا راستہ رکھتے ہیں۔ فائلز واپس ڈرار میں رکھ کر اس نے ناب گھمایا تو دروازه آسانی سے کھل گیا۔۔ اگلے لمحے وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں تھا شکر کہ اس کا دروازه کھلا ہوا تھا۔ موبائل پاکٹ میں ڈال کر وہ نارمل چہرے سے باہر نکلا۔۔ صحن سے نکل کر وہ کاریڈور میں آ گیا عجیب بھول بھلیاں سی بنی تھیں وہاں گارڈز کا پہرہ تھا آگے جا کر اس لیے وہ محتاط تھا۔۔ لیدر جیکٹ کی پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے وہ ہموار قدم اٹھا رہا تھا تا کہ کسی کو شک نہ ہو۔۔۔ اس نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو وہ چلتی آ رہی تھی لباس وہ پہلے ہی تبدیل کر چکی تھی وہ دونوں مقابل آ کر رکے۔ حسینہ نے آنکھ سے دائیں جانب اشارہ کیا جس پر وہ ایک ساتھ قدم اٹھاتے باہر کی جانب جانے والی راہداری کو مڑ گئے۔۔۔ “اف یہ ڈیش کہاں سے آ گیا؟” چھوٹو کے ہمراہ ایک گارڈ کو دیکھ کر وہ بےاختیار جھنجھلائی۔ اگر وہ دونوں بھاگتے تو سیكنڈز میں پکڑ لیے جاتے اس صورتحال میں لیث نے وہی کیا جو کرنا چاہیے تھا۔ وہ فورا اسے کمر سے تھام کر دیوار سے لگاتا اس طرح جھکا کہ دونوں کے چہرے چھپ گئے۔۔ دیکھنے والے کچھ اور سمجھتے لیکن در حقیقت وہ اس سے چند انچ کا فاصلہ رکھے ہوئے تھا۔۔ حسینہ سر اٹھا کر سانس روکے اس کے حصار میں کھڑی تھی۔ اس کی قربت نے اس کی دھڑکنوں کو منتشر کیا تھا۔ چھوٹو ایک پل کو رکا پھر ان کو دیکھ کر ہنستا وہاں سے نکل گیا۔ اس کے جاتے ہی وہ سیدھا ہوا۔ دونوں جلدی سے آگے بڑھے۔۔۔ احتیاط سے دائیں بائیں دیکھتے وہ بنگلے کی پچھلی جانب جا رہے تھے اچانک کالیا کی آواز کانوں میں پڑی جو ذاکر سے بات کرتا اسی جانب آ رہا تھا۔۔ حسینہ جانتی تھی وہ اسے ڈھونڈ رہا ہوگا لیکن اتنی جلدی پہنچ جائے گا اس نے سوچا نہیں تھا۔ کچھ سوچ کر اس نے لیث کو دیکھا کر اس کا ہاتھ تھاما۔۔۔ دوسرے لمحے وہ میک اپ روم کے اندر تھے۔ دروازہ بند کر کے وہ اسکی طرف پلٹی اس کے چہرے پر گهبراہٹ تھی جبکہ لیث کا چہرہ سپاٹ تھا۔۔ “یہ کیا کیا تم نے ؟ اب ہم باہر نکلتے ہی ان کی نظروں میں آ جائیں گے ہمارے پاس وقت کم ہے!!” اسے سرد نظروں سے دیکھتا وہ دانت پیس کر بولا جس پر وہ غصے سے تپی۔۔ “تو کیا بھاگتے؟ سارے کئے کرائے پر پانی پھر جاتا۔ رکو میں کچھ سوچتی ہوں!!!” اس نے میک اپ روم میں نظر دوڑائی وہ چلتی چلتی رکی۔ اس کی ہری آنکھیں چمکیں تھیں۔ ایک قطار میں لگے بے شمار ڈریسز میں سے اس نے ساڑھی نکال کر اسے کھولنا شروع کر دیا۔۔ لیث نے اسے یوں دیکھا جیسے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہو۔ “دیکھو پلیز یہ پہن لو اس طرح تم باآ سانی یہاں سے نکل سکتے ہو میں تو کسی طرح انہیں چکمہ دیکھ کر باہر نکل جاؤں گی لیکن تم ان کی نظروں میں ہو۔” وہ التجائیہ نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی البتہ مسکراہٹ لبوں پر امڈ کرآ رہی تھی جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ لیث نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کر ساڑھی جھپٹ کر باندھنی شروع کر دی۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھے تیز چمکیلی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ جب وہ ساڑھی باندھ چکا تو وہ لب دباتی آگے بڑھی اور پلو اٹھا کر اس کے سر پر گھونگٹ ڈال دیا۔۔ “ویسے اصل حسینہ تو تم لگ رہی ہو!!” دھیرے سے ہنستی وہ دروازے کی جانب بڑھی لیث نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا جسے اس صورتحال میں بھی کامیڈی کرنے کی پڑی تھی۔۔ “میں باہر جا کر ان دونوں کا دیہان بٹاتی ہوں میرے اشارہ کرنے پر تم نکل جانا باقی میں دیکھ لوں گی!!” اب کہ وہ سنجیدہ ہوتی باہر نکلی جہاں سامنے ہی وہ دونوں نظر آ گئے۔۔ زیر لب انہیں برے القابات سے نوازتی وہ جان لیوا مسکراہٹ سے انہیں دیکھتی ان کی جانب بڑھی۔ اسے اپنی جانب اتے دیکھ کر ان دونوں کی تو بانچھیں کھل گئیں۔ “بھئی حسینہ کدھر غائب ہوگئی تھی ہم کب سے تمہاری راہ تک رہے ہیں!!!” وہ کریہہ مسکراہٹ سے اسے سر تا پیر دیکھ کر بولے۔۔ “وہ بابا صاحب نے کسی کام سے بھیجا تھا۔ آ میں کہہ رہی تھی کہ آج تم لوگوں ساتھ وقت بتانے کو جی چاہ رہا ہے لیکن بابا صاحب کے ہوتے ایسا ممکن نہیں ہے میرا مطلب ہے مجھے انہی کے ساتھ رہنا پڑتا ہے نہ تو میں کہہ رہی تھی کہ ۔۔۔” اس نے ہاتھ پشت پر لے جاتے اشارہ کیا جس پر وہ لمبا چوڑا وجود ساڑھی میں چھپا باہر نکلا۔ ذاکر نے چونک کر اسے دیکھا جو آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا دوسری جانب جا رہا تھا۔۔۔ “یہ کون ہے؟ کبھی دیکھا تو نہیں اسے!!!” وہ اسے مشکوک نظروں سے دیکھتا ہوا بولا جس پر حسینہ نے دانت پیسے۔۔ “یہ جمیلہ ہے میں جانتی ہوں اسے بابا صاحب اب ہر بات تو تم لوگوں کو نہیں بتاتے نہ!!” ذاکر کے گال پر انگلی پھیرتی وہ ایک ادا سے بولی جبکہ حقیقتا اس کا دل تو کر رہا تھا کہ پورا ناخن اس کے گال میں گھسا دیتی۔۔ “وجود سے تو یہ جمیلہ کی بجائے جمیل لگ رہا ہے!!!” اب کہ کالیا نے کہہ کر قہقہہ لگایا جس پر وہ بھی ہنس پڑی۔ “تم لوگ اسے چھوڑو بابا صاحب کی شراب میں نیند کی گولی ملا دو تا کہ ۔۔۔ سمجھ گئے نہ؟” آنکھ مار کر وہ تیكهی مسکراہٹ سے انہیں دیکھنے لگی ان دونوں کی آنکھیں چمکیں۔۔ “ضرور ضرور ہم ابھی آتے ہیں!!!” ہوس کے پجاری آج پہلی بار بابا صاحب کو دھوکہ دینے جا رہے تھے مگر جانتے نہ تھے کہ یہ دھوکا دینا ان کو کس قدر مہنگا پڑنے والا تھا۔۔ ان کے جاتے ہی وہ پوریرفتار سے بھاگتی پچھلی جانب آئی جہاں وہ ساڑھی اتار کر دور پهینکتا دیوار پر چڑھ کر بیٹھا تھا جہاں سے انہوں نے فرار ہونا تھا۔۔ وہ جلدی سے دیوار کے قریب آتی اچھل کر بیٹھ گئی یوں لگتا تھا خاصی مہارت حاصل تھی اسے۔ چمکتی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہاتھ پکڑتے وہ باہر کود گئے۔۔ 🍂🍂🍂 ہاتھوں میں “ہیکلر” اور “کوچ جی تھری” رائفلز پكڑے وہ دیوار سے کود کر دبے قدموں كیپٹن کی ہمراہی میں اندر کی جانب بڑھنے لگے۔۔
داخلی دروازے پر گارڈ کو دیکھ کر دو آرمی مین دبے قدموں اطراف سے ان پر جھپٹے۔ انہیں سمجھنے کا موقع دیے بغیر انہوں نے کلوروفام لگے رومال کو ان کے منہ پر دبا دیا۔۔
وہ سیکنڈ میں ڈھیلے پڑے تھے۔ انھیں گھسیٹ کر دوسری جانب چھپاتے وہ كیپن کے اشارے پر آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگے۔۔
باہر ابراھیم نے سر گھما کر دور کھنڈر عمارتوں میں چھپے “سنائپرز” کو دیکھ کر تھمبز اپ کیا۔ اس کے ساتھ تین سپاہی تھے انھوں نے بالکنی کے راستے اندر گھسنا تھا جس کا پورا نقشہ انہیں حفظ تھا۔۔۔
کسی کے کودنے کی آواز پر وہ چونکتا دوڑ کر آواز کے تعاقب میں اس جانب آیا۔ ایک لمبے چوڑے شخص کے ساتھ لڑکی کو دیکھ کر اس نے فورا دونوں پر گ*ن تان لی۔۔ اس کے ساتھی بھی اس کے ساتھ آکھڑے ہوئے۔۔
لیث نے رک کر اسے دیکھا۔ ابرو اچکا کر وہ وہیں رک گیا البتہ حسینہ ذرا گهبرائی تھی وہ غلط سمجھ رہے تھے انہیں اس سے سے پہلے کہ وہ ان پر واضح کرتی ابراھیم کی سرد آواز گونجی۔۔
“ہینڈز اپ!!!”
لیث ناگواری سے اس کے حکمیہ انداز کو دیکھتا آگے بڑھا۔ اس پر حکم چلانے والا کوئی پیدا نہیں ہوا تھا۔ روشنی میں آنے کے باعث دونوں کا چہرہ نظر آیا جس پر صرف آنکھیں ظاہر ہورہی تھیں باقی چہرہ انھوں نے سیاہ رومال کے پیچھے چھپا رکھا تھا۔۔
دو طاقتور وجود ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تھے دونوں ایک سے بڑھ کر ایک۔۔۔! کبھی نہ ہار ماننے والے۔۔۔۔!
لیث نے لات گھما کر اس کے ہاتھ پر ماری جس سے وہ ایک قدم پیچھے ہٹا ابراھیم کا چہرہ سپاٹ ہی تھا کوئی تاثر نہ ابھرا البتہ ہاتھ کی جلد ضرور پھٹ گئی تھی۔۔
دوسرے لمحے اس نے پھرتی سے لیث پر وار کیا جس سے اس کا ہونٹ پھٹ گیا۔ ابراھیم کے ساتھی آگے بڑھے جب اس نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روک دیا۔۔
ادھار رکھنا لیث کی عادت نہیں تھی وہ خطرناک تیوروں سے اس کی جانب بڑھا تھا یوں دونوں میں زبردست فائٹ شروع ہوگئی دونوں تربیت یافتہ تھے۔۔
ہر وار سے بچاؤ کرتے مقابل کو ڈھا دینے کے در پہ تھے۔۔ اس دوران انھیں چوٹیں بھی آئی تھیں۔
حسینہ لب کاٹتی کھڑی تھی وہ جانتی وہ لوگ کون ہیں لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتی تھی انہیں زبان بند رکھنے کا حکم تھا۔۔
اچانک ابراھیم رکا۔۔ کان میں لگی ڈیوائس سے ‘کرنل عصام خانزادہ’ کی آواز ابھری تھی۔۔
“میجر یہ ہمارے لوگ ہیں انہیں جانے دو اپنے مشن پر فوکس کرو!!”
سخت لہجے میں کہہ کر رابطہ منقطہ کر دیا تھا۔۔
“کیوں لگ گیا پتہ ؟ ہٹو اب!!!”
لیث تیكهی سرد آواز میں بولتا اٹھا اور حسینہ کے ساتھ وہاں سے نکل گیا۔۔
ابراھیم نے سر جھٹکا۔۔ سرد آنکھوں سے باقیوں کو اشارہ کرتا وہ بالکنی میں لگے پائیپ پر مہارت سے چڑھتا بالکنی میں کود گیا۔
🍂🍂🍂
تاریکی میں کھڑی ہیوی بائیک ان کی اطلاع کے مطابق انہیں مل گئی۔۔ حسینہ نے ہیلمٹ پہن کر بائیک سٹارٹ کی وہ جلدی سے پیچھے بیٹھا۔۔
چند منٹوں میں وہ بہت دور نکل آئے یہیں انہیں بائیک روک کر اترنا تھا۔۔ اب وہ پرسکون تھے سرخرو بھی۔۔
ہیلمٹ اتار کر اس نے چہرے پر آئے مہرون کرلی بالوں کو جھٹکا۔۔ ہری کانچ سی آنکھوں کی چمک دیدنی تھی۔۔ جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتی وہ اس کے ساتھ قدم بڑھانے لگی۔۔
فٹ پر چلتے اس نے تیکھی مسکراہٹ سے گردن موڑ کر دور تاریکی میں دیکھا۔۔ وہ سب کچھ پیچھے چھوڑ آئے تھے۔۔۔
سیٹی پر کوئی شوخ دھن بجاتی وہ بےنیازی سے چلتی جا رہی تھی۔۔
ہیل کی ٹک ٹک اور سیٹی کی شوخ آواز تاریک خاموشی کا سینہ چیرتی جا رہی تھی۔۔
یہ تھی “غزل خانزادی” ۔۔
کرنل عصام خانزاده کی اکلوتی بیٹی۔۔۔۔!!
عادت سے مجبور وہ اسے تنگ کرنے کو اس کے مقابل آ کر الٹے قدم اٹھانے لگی۔۔
“سیکرٹ ایجنٹ ‘ حاوِز ‘ !!
کونگریٹس مشن سکسیسفل۔۔۔”
سر اٹھا کر اس کے تنے چہرے کو دیکھتی وہ مسکراہٹ دبا کر بولی وہ جانتی تھی کسی بھی لمحے وہ پھٹ پڑے گا لیکن اسے تپانے کا کوئی موقع جو ہاتھ سے جانے دے وہ “غزل خانزادی” نہیں۔۔!
“چھوٹی لڑکی میرا دماغ خراب نہ کرو!!”
اپنے سے آدھی عمر کی اس ٹڈی لڑکی کو دیکھتا وہ سردمہری سے بولا اور یہیں غزل کا موڈ آف ہوا تھا۔۔
آخر یہ شخص اس ایج ڈیفرینس کو بھول کیوں نہیں جاتا! اتنا تو ہینڈسم تھا اور بلا کا کھڑوس۔ دیکھنے پر وہ بتیس تینتیس سال کا ایک نہایت خوبرو مگر سڑا ہوا مرد لگتا تھا۔
اسے تیکھی نظروں سے دیکھتی وہ بڑبڑا کر سیدھی ہوتی تارکول کی صاف ستھری سڑک پر چلنے لگی۔۔
وہ بے نیازی سے چلتا رہا۔۔ جیسے اسے فرق پڑ جانا تھا اس کی ناراضگی سے ۔۔ مطلب کچھ بھی!!