No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
مطلوبہ مقام تک پہنچ کر اس نے گاڑی روکی۔۔۔ چہرہ گھما کر اس نے پسنجر سیٹ پر بیٹھے اس اونچے لمبے جوان کو دیکھا ۔۔
آنکھ سے اشارہ کرتی وہ انگیشن سے چابی نکال کر شہادت کی انگلی میں گھماتی کار کا دروازه کھول کر باہر نکلی۔۔۔
بدلیوں کے ٹکڑوں میں چھپے سورج نے کسمسا کر رخ بدلا تو ٹھنڈی دوپہر میں زمین پر گرتیں کرنیں اس لڑکی کو خوشگوار محسوس ہوئیں۔۔۔
اس نے سر اٹھا کر آسمان کی اوڑھ دیکھا ۔۔۔ اس کا مومی چہرہ نمایاں ہوا ۔۔ بڑی بڑی ہری آنکھوں کے کانچ جگمگا اٹھے تھے ۔۔
پنکھڑی سے نرم و نازک لبوں کو گول کر کے سیٹی پر ایک شوخ دھن بجاتے اس نے کمر سے نیچے گرتے مہرون کرلی بالوں کو جھٹکا۔۔
اس نے ارد گرد نگاہ ڈالی تو بابا صاحب کا ایک چمچہ کسی چھت کی منڈیر پر بیٹھا اسے نظر آ ہی گیا۔۔ حسینہ نے زیر لب اسے موٹی گالی سے نوازا۔۔
اس نے مسکرا کر منڈیر پر بیٹھے چھوٹو کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔۔۔ اس کی مسکراہٹ حسین تھی اپنے نام کی طرح ۔۔۔ اس پر مستزاد اوپر والے لب کے خم پر عجب بہار دکھاتا قاتل تل۔۔۔
وہ اپنی مسکراہٹ سے ہی مقابل کو لوٹ لیا کرتی تھی ۔۔۔ وہ حسینہ تھی ۔۔۔ بابا صاحب کی سیکرٹری ۔۔۔ بہت خاص ۔۔۔ مافیا راج میں کسی کی ہمت نہیں تھی کہ بابا صاحب کی منظور نظر پر میلی نگاہ بھی ڈالتا ۔۔۔
آج وہ یہاں ایک خاص مقصد سے آئی تھی ۔۔۔ ایک کام کا بندہ ملا تھا اسے ۔۔۔ بڑھے ہوئے گردن تک آتے بالوں میں ماتھے پر بینڈ پہنے ۔۔۔
سڑک کنارے پانچ غنڈوں کی ایک ساتھ ٹھکائی کرتا وہ چھ فٹ سے نکلتے قد کا لمبا چوڑا جوان اسے بھا گیا تھا۔۔۔ بہادر لوگ پسند تھے انہیں ۔۔۔
اور اگر یہ بہادری ان کی تنظیم کے کام آ جائے تو۔۔۔۔ وہ بلا کا ہینڈسم تھا اور کم گو بھی ۔۔۔ اس کا کوئی بیک گراؤنڈ نہیں تھا ۔۔۔ تن تنہا زندگی گزار رہا تھا جب حسینہ کی آفر پر وہ اس کے ساتھ چلا آیا ۔۔۔
یہاں آنے تک حسینہ نے اس سے کچھ سوال کئے تھے جن میں آدھے سوالوں کا جواب دینا اس نے ضروری نہ سمجھا ۔۔۔ اس کے انداز حسینہ کو گهایل کیے جا رہے تھے۔۔۔
سر جھٹک کر اس نے کمر تک آتی بلیک جیکٹ کو ٹھیک کیا ۔۔۔ وہ اس وقت چست کمر سے چپکی بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس آفت کی پرکالہ لگ رہی تھی۔۔
لیث کو ساتھ لیے اس نے دروازے کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔ ناک کرنے پر ایک کالے توے کی رنگت جیسے شخص کا کرخت چہرہ سامنے آیا۔۔۔
کالیا نے حسینہ کو دیکھ کر ایک دروازه کھول دیا ۔۔۔ لیث کا ہاتھ تھام کر وہ مغرور چال چلتی اندر آئی ۔۔ باہر سے یہ مکان جتنا بوسیدہ لگتا تھا اندر سے اتنا ہی عالیشان تھا ۔۔۔ مقصد حریفوں کو دھوکہ دینا تھا۔۔۔
“سن !!! بابا صاحب قابل عزت ہیں ہمارے لیے ۔۔۔ جتنا پوچھا جاۓ بس اتنا جواب دینا ۔۔۔ اور کوئی ایسا لفظ تک نہیں بولنا جو ان کی شان کے خلاف جائے ۔۔۔ سمجھ گیا ؟؟ چل اب ۔۔۔۔ “
لیث کو اپنی زبان میں سمجھا کر اس نے سر اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھا۔۔ وہ سپاٹ تھا۔۔۔ دروازه ناک کر کے وہ اجازت ملنے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
بابا صاحب کی آواز آئی تو اس نے لیث کو ایک نظر دیکھا ۔۔۔
“میں جاتی ہوں ۔۔
کچھ دیر بعد تجھے بلائیں گے وہ !!! ” ۔۔۔۔
اسے آنکھ مار کر وہ سرمستی سے چلتی اندر آئی اور دروازہ بند کر دیا ۔۔۔ بیڈ پر نیم دراز بابا صاحب اٹھ بیٹھے ۔۔۔ سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ان کی سیاہ آنکھیں چمک اٹھی تھیں ۔۔۔
حسینہ ایک ادا سے چلتی ان کے پاس گئی تو بابا صاحب نے اسکا بازو پكڑتے اسے گود میں بٹھا لیا ۔۔۔ حسینہ نے ہری کانچ سی آنکھیں اٹھا کر ایک پل کو انہیں دیکھا اور پھر پلکوں کی جهالر گرا دی ۔۔۔
بابا صاحب تو اس ادا پر گهایل ہی ہو گئے ۔۔۔ “کیسی ہو حسینہ ؟؟ ۔۔۔ میں تمہیں ہی یاد کررہا تھا”۔۔۔۔
اس کے مہرون کرلی بالوں پر ہاتھ پھیرتے وہ لہجے میں مٹھاس سمو کر بولے ۔۔۔ ایسے لہجے میں وہ بس اسی سے بات کرتے تھے وگرنہ دوسروں سے بات کرتے وقت ان کا لہجہ کھردرا ہوتا تھا بے حد کھردرا ۔۔۔
” آپ کی مہربانی ہے بابا صاحب ۔۔۔ !!! “
ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر اس نے ایک پل کو پرسوچ نظروں سے انہیں دیکھا ۔۔۔
” بابا صاحب ایک کام کے بندے کو لائی ہوں ساتھ ۔۔۔ بہت کام آئے گا ہمارے ۔۔۔ سب جانچ پڑتال کرلی میں نے ۔۔۔ بندہ کھرا ہے ۔۔۔ جو منہ پر ہے وہی پیٹھ پر ۔۔۔ آپ تو جانتے ہیں نہ میں چہرہ شناس ہوں ۔۔۔ اور گھاگ بھی ۔۔۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو حسینہ اس وقت مافیا راج کے ڈان کی بانہوں میں نہ ہوتی ۔۔۔”
نرم سریلی آواز میں کہتی وہ ان کے گال پر شہادت کی انگلی پھیرتی لب دبا گئی ۔۔۔ بابا صاحب مسرور سے ہنس پڑے ۔۔۔
” ہاں یہ تو ٹھیک کہا تم نے ۔۔۔ خیر ہمیں اعتبار ہے تم پر ۔۔۔ جو بہتر لگے کرو ۔۔۔ ایک بار مل لوں گا اس سے لیکن ابھی نہیں ۔۔۔ “
اسے خود سے الگ کرتے وہ سائیڈ ٹیبل پر بکھرے کاغذات سمیٹنے لگے۔۔۔
“بابا صاحب وہ ۔۔۔ کالیا اور زاکر کو سمجھا دیں آپ خوامخواہ مجھ سے نہ الجھا کریں !!! ۔۔۔”
وہ منہ بناتی بولی تو بابا صاحب کی پیشانی پر بل پڑے ۔۔۔
پھر کچھ کہا ان حرا***م خوروں نے ؟؟
حسینہ نے مسکینی شکل بنائی ۔۔۔
“جی آپ ۔۔ سمجھا دیجیے گا۔۔۔ مجھے بلکل نہیں پسند وہ ۔۔۔ خود بیٹھ کر مفت کی روٹیاں توڑتے رہتے ہیں اور میرے کاموں میں ٹانگ اڑانے سے بعض نہیں آتے ۔۔۔”
مہرون کرلی بالوں کی ایک لٹ انگلی پر لپیٹتی وہ نظریں جھکائے خفگی سے بولی ۔۔۔
“بھیجو انہیں ابھی خبر لیتا ہوں ان کی !!! ۔۔۔”
انہیں بڑی گالی سے نوازتے وہ آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگاتے کاغذات پڑھنے میں مصروف ہو گئے ۔۔۔ حسینہ نے ایک نظر کاغذات پر ڈالی اور مزے سے چلتی دروازه کھول کر باہر آئی ۔۔۔
ایک مسکراتی نظر اس نے بیزار کھڑے لیث پر ڈالی۔۔ “کل ملیں گے بابا صاحب ابھی چل میرے ساتھ تیری جگہ دکھاؤں تجھے ۔۔۔ “
جینز کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالتی وہ ایک راہداری کو مڑ گئی ۔۔۔ راستے میں ملتے ذاکر پر اس نے تیکھی نگاہ ڈالی ۔۔۔ سفید چمڑی والا یہ گھاگ ذاکر اسے زہر سے بھی برا لگتا تھا۔۔۔
“بابا صاحب نے یاد کیا ہے تجھے اور کالیا کو !!! ۔۔۔۔”
فتنہ ہوں فتنہ ۔۔۔ بچ کے ہی رہنا ۔۔۔
مغرور نظروں سے اسے دیکھتی وہ زیر لب گنگناتی لیث کو ساتھ آنے کا اشارہ کرتی وہاں سے نکل گئی ۔۔۔ ذاکر نے سخت نظروں سے اس کی پشت کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
🍂🍂🍂
وائٹ پینٹ کوٹ میں بازو کہنیوں تک پیچھے کئے وہ سیکنڈ فلور پر آئی ۔۔۔ بدر کے آفس میں آج اس کا پہلا دن تھا ۔۔۔ راستے میں ملتے اسٹاف پر ایک اچٹتی نظر ڈال کر وہ مغرور چال چلتی آفس کے سامنے رکی ۔۔
گھٹنوں تک آتے بھورے گھنگھریالے بالوں کو اس نے اونچی پونی میں باندھ رکھا تھا جو اس کے ذرا سے گردن ہلانے پر ادھر ادھر جھولنے لگتی تھی ۔۔۔
گلابی لپسٹک سے رنگے لبوں کو آپس میں مس کرتی وہ ناک کر کے آفس کا دروازه کھول کر چوکھٹ تک آئی ۔۔۔ سامنے بدر ہمیشہ کی طرح بلیک تھری پیس میں چہرے پر سنجیدگی لیے میز پر جھکا فائلز میں سر دیے رولنگ چیئر پر بیٹھا تھا۔۔۔
ارشیہ کھنکاری ۔۔ مے آئی کم ان سررررر؟؟ ۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر بولی ۔۔۔ اسے تو میں دیکھ لوں گی ۔۔۔ ! تیکھے نقوش کو مزید تیکھا کرتی وہ وائٹ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتی پیروں میں پہنی چار انچ کی وائٹ ہیل کو ہلکا ہلکا زمین پر مارنے لگی۔۔۔
ٹک ٹک کی ہلکی آواز وہاں قائم سکوت کا گلا گھونٹ رہی تھی۔۔ بدر نے مصروف سے انداز میں سر اٹھایا ۔۔ سرمئی آنکھوں کے کانچ نیلی آنکھوں کے کانچ سے ٹکرائے ۔۔۔
ایک پل دیکھنے کے بعد وہ دوبارہ فائلز میں سر گراتا مصروف ہوگیا ۔۔۔ اوہو ۔۔۔۔ ارشیہ کی تو بےعزتی ہوگئی تھی۔۔۔ اس کے اندر کی جنگلی بلی نے سر اٹھایا ۔۔۔
نیلی بلی سی تیز چمکیلی آنکھوں کے کانچ مزید چمک اٹھے ۔۔۔
کوٹ سے نادیدہ گرد جھاڑ کر وائٹ پینٹ کی پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈال کر وہ وائٹ پینسل ہیل کی نوک سے گلاس ڈور دهكیل کر اندر آئی اور سیدھے کھڑے کچھ فاصلے پر براجمان بدر کے خوبرو چہرے کو تیكهی مسکراہٹ سے دیکھتے زور سے ہیل مار کر ڈور بند کیا ۔۔۔
اور یہ لگا تیسرا ٹھپہ !!!
آواز پر بدر نہ سر اٹھا کر دیکھا تو اس کے جبڑے بھینچ گئے ۔۔۔ اس لڑکی سے کسی بھی چیز کی توقع کی جاسکتی ہے ۔۔۔ !
بدر کے متوجہ ہونے پر وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر کہنے لگی ۔۔۔
“کیا میں اندر آ سکتی ہوں سرررر ؟؟ ” ۔۔۔
وہ الگ بات ہے آنکھیں پٹپٹا کر معصومیت سے بولتی وہ اسے چڑیل کی خالہ لگی تھی ۔۔۔ چڑیل کی خالہ ۔۔۔ ؟ مطلب ایرا بیچاری کے معصوم بچوں کو اس نے چڑیل بنا دیا تھا جو ابھی دنیا میں بھی نہیں آئے تھے۔۔۔ !
لا حول ولا قوت ۔۔۔۔۔
بدر نے اپنے خیالات پر بند باندھ کر سر جھٹکا ۔۔۔
“تم آلریڈی اندر آ چکی ہو !!! ” ۔۔۔۔
سرمئی آنکھوں کے کانچ غصے سے گہرے ہوئے تھے ۔۔۔ ارشیہ كندھے اچکا کر اس کے مقابل آ کر بیٹھ گئی ۔۔۔
“تو کیا کرنا ہوگا مجھے ؟؟ ایز آ سیکرٹری ۔۔۔” سینے پر ہاتھ باندھتی وہ اس کا جائزہ لیتی بولی ۔۔۔
مکمل بلیک تھری پیس میں وہ بلا کا وجیہہ لگتا تھا ۔۔۔ دلکش نقوش ۔۔۔۔اس پر ستم سرمئی کانچ سی آنکھوں میں ہر وقت رہنے والا غصہ ۔۔۔ مغرور نقوش اس پر جچتے تھے ۔۔۔
گھنی مونچھوں تلے عنابی بھرے بھرے لب زیادہ تر بھینچے رہتے ۔۔۔ بدر نے گہری سانس لی ۔۔ فائل بند کر کے اس نے بلیك کوٹ اتار کر چیئر کی پشت پر ڈال دیا ۔۔۔
کف لنکس کھول کر اس نے بلیک شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑے ۔۔ چیئر سے پشت ٹکا کر آرام دہ حالت میں بیٹھتا وہ ارشیہ کی جانب متوجہ ہوا ۔۔
اس کے نوابوں کے سے انداز کو دیکھ کر ارشیہ نے نیلے کانچ سے دیدے گھمائے ۔۔۔
“کافی بناؤ میرے لیے !!!” ۔۔۔
وہ رولنگ چیئر کو ہلکا ہلکا دائیں بائیں گھماتا لبوں پر دو انگلیا ٹکا کر اس کا رد عمل دیکھنے لگا ۔۔۔ حسب توقع وہ تپ اٹھی۔۔۔
” میں ۔۔۔ ارشیہ صمید ۔۔۔ کافی بناؤں ۔۔۔ وہ بھی تمہارے لیے ۔۔۔ نو نیور ۔۔۔ !!!”
وہ آگے ہوتی آنکھیں سکیڑ کر بولی ۔۔۔
“آئی ایم یور باس ۔۔۔ ڈو ۔۔۔وہاٹ آئی ہیو سیڈ !!”
(میں تمہارا باس ہوں ۔۔ وہی کرو جو میں نے کہا ہے )
وہ درشتگی سے بولا ۔۔۔ وہی قطعی انداز جس کے بعد اگلا کچھ کہہ نہیں پاتا تھا ۔۔۔ ارشیہ کا چہرہ سرخ پڑا ۔۔۔ وہ گہری سانس لے کر خود کو پرسکون کرتی اٹھی ۔۔
آفس کے کارنر میں رکھی ٹرالی کے قریب جاتی وہ کافی بنانے لگی ۔۔۔ اس دوران بدر اسے کافی بناتے دیکھتا رہا ۔۔۔ اس ٹیڑھی لڑکی کو سیدھا کرنا بدران شاہ کی ضد بنتی جا رہی تھی ۔۔۔
وہ کافی بنا کر پلٹی تو اس کے چہرے کی چمک لوٹ چکی تھی ۔۔ نیلی آنکھوں کے کانچ پھر سے جگمگا اٹھے تھے۔۔۔ نزاکت سے چلتی وہ بدر کے پاس آ کر رکی ۔۔۔
معصومیت سے اسے دیکھتے ارشیہ نے کافی کا کپ بدر کی جانب بڑھایا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ بدر تھامتا ۔۔۔ وہ چیختی ہوئی لڑکھڑائی ۔۔۔
کپ ٹیڑھا ہوا اور گرم گرم کافی چھلک کر بدر کے سینے اور ہاتھ پر گر گئی ۔۔۔ وہ بلبلا کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ تکلیف کی شدت سے اس کی سرمئی آنکھوں کے کانچ کناروں سے سرخ پڑ گئے ۔۔۔
“دماغ خراب ہے تمهارا؟؟؟” ۔۔۔ وہ بولا نہیں داڑھا تھا اس کے منہ پر ۔۔۔ ارشیہ ایک قدم پیچھے ہٹی ۔۔۔
“سوری وہ ۔۔۔ کاکروچ دیکھ لیا تھا یہاں ۔۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ اسی وجہ سے کافی گر گئی ۔۔۔ “
مسکراہٹ دباتی وہ معصومیت سے بولی تو بدر کا پارہ مزید ہائی ہوا ۔۔۔
“ہاں میں تو جیسے الو کا پٹھا نظر آتا ہوں جو سمجھ نہ سکوں کہ تم جیسی چڑیل دو انچ کے ایک کاکروج سے ڈر گئی ۔۔۔”
غصے سے اسے ایک طرف دھکیلتا وہ آفس سے ملحقہ ریسٹ روم کا دروازه کھول کر اندر گیا اور ٹھا کی زوردار آواز سے دروازہ بند کیا ۔۔۔ ارشیہ نے پہلے ہی کان میں انگلیاں ڈال لی تھیں ۔۔۔
آفس ساؤنڈ پروف تھا اس لیے کسی کو اندر پیش آئے واقعیے کی خبر نہیں ہوئی ۔۔۔ ارشیہ مزے سے ہنستی آفس کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔ ہمم تو اسے سیاہ رنگ پسند ہے ۔۔۔ ہر چیز سیاہ ۔۔۔ حتٰی کہ کپڑے بھی ۔۔۔ انٹرسٹنگ !!!
جب وہ پانچ منٹ تک باہر نہیں آیا تو وہ بور ہونے لگی ۔۔۔ اس نے نچلا لب دانتوں میں دباتے ریسٹ روم کے دروازے کو دیکھا۔۔ کندھے اچکا کر وہ دروازہ کھول کر اندر آ گئی ۔۔۔
لیکن سامنے کا منظر دیکھتے اس کا سفید چہرہ کان کی لو تک سرخ پڑ گیا ۔۔۔ وہ بلیک شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا تھا جب آہٹ پر سر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔ ارشیہ سٹپٹا کر مڑی ۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ باہر بھاگتی بدر نے سرد نظروں سے اسے دیکھتے پل میں اسے بازو سے دبوچ کر دیوار کے ساتھ پٹخا ۔۔۔ جبڑے بھینچ کر وہ سرمئی آنکھوں میں سرد مہری لیے تیزی سے بٹن بند کررہا تھا ۔۔
دیوار سے پشت ٹکرانے پر اس کے لبوں سے سسكی نکلی تھی ۔۔۔ اس نے نیلی آنکھوں میں خفگی لیے کھا جانے والی نظروں سے بدر کو دیکھا پھر سرعت سے نظریں کا رخ بدل گئی ۔۔
بٹن بند کر کے بدر ایک قدم اس کی جانب بڑھا تو وہ دیوار سے جا لگی ۔۔۔ اس کے گرد دیوار پر ہاتھ رکھے وہ جھکا تھا اس کے کان کے قریب ۔۔۔
“دور رہو مجھ سے ۔۔۔ میری برداشت کو مزید مت آزماؤ ۔۔۔ اگر میں نے تمہیں خود سے قریب کر لیا تو پھر کبھی فرار نہیں ہو پاؤ گی تم ۔۔ مکمل قید کرلوں گا میں تمہیں خود میں ۔۔۔ اتنا کہ تم سانس بھی نہ لے پاؤ گی ۔۔ اس لیے ۔۔۔ میری ضد مت بنو ۔۔ مجھ سے ۔۔۔ دور رہو ۔۔۔ !!! “
اس کے کان پر جھکا وہ سرد ٹھٹھرا دینے والے لہجے میں بولا ۔۔۔ اتنے قریب اس کی بھاری آواز سن کر ارشیہ نے جھرجهری لی ۔۔۔
پھر اسے خود سے دور دھکا دیتے وہ لاپرواہ انداز میں اسے دیکھنے لگی جیسے اسے کچھ فرق نہیں پڑا تھا اس کی بات سے ۔۔۔ بدر کی گردن کی رگیں تنی تھیں ۔۔۔
“شرم نہیں آتی اپنے سے ایک سال دو ماہ بڑی بہن سے ایسی بات کرتے ۔۔۔ !!! “
مسکراہٹ دباتی وہ سینے پر ہاتھ باندھتی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔ بدر کے چہرے پر اس سب میں پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ آئی ۔۔۔ بلیک پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے وہ سر دائیں بائیں گھما کر اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
“یہ کس نے کہہ دیا تم سے کہ تم میری بہن ہو؟؟؟” ۔۔۔۔
گہری نظروں کے ارتكاز پر ارشیہ پہلی بار حیا سے سرخ پڑی ۔۔۔
“شٹ اپ !!! تم شروع سے بدتمیز تھے یا مجھ سے ملنے کے بعد ہوئے ہو ؟؟ ۔۔۔”
وہ دانت کچکچا کر بولی ۔۔ بدر نے کندھے اچکائے ۔۔۔ ہاں اب اچھا لگ رہا تھا اس خود سر لڑکی کو طیش دلا کر ۔۔۔
“تم سے ملنے کے بعد شاید ۔۔۔ صحبت کا اثر تو ہو ہی جاتا ہے پھر ۔۔۔ “
بے نیازی سے کہتا وہ اسے جلتا کڑھتا سوچ کر ریسٹ روم سے باہر چلا گیا ۔۔
“کیا باتیں بگهارنے آفس آئی ہو ؟؟ تم سے نہ ہوگا ۔۔ جاؤ گھر بیٹھو ۔۔ جا کر برتن دھو ۔۔۔یہ آفس جاب کرنا تمهارے بس کی بات نہیں !!! “
باہر سے آتی اس کی تمسخرانہ آواز پر وہ پیر پٹخ کر باہر نکلی ۔۔ اسے تو نہیں چھوڑوں گی میں۔۔۔۔ !
🍂🍂🍂
پریس کانفرنس شروع ہوئی تو وہ لب سختی سے بھینچے ہاتھ میں پكڑے ڈاکومنٹ پر نظریں ڈالتی تمسخرانہ نظروں سے سٹیج پر بیٹھے اس شخص کو دیکھنے لگی جو نئے آنے والے الیکشنز میں حصہ لے رہا تھا ۔۔۔
علیم بیگ ۔۔۔ نعیم بیگ کا بھائی ۔۔۔ بھاری ڈیل ڈول کا وہ شخص مائک پر جھکا کچھ کہہ رہا تھا جب اس کے ساتھ بیٹھی رپورٹر نے ہاتھ بلند کیا ۔۔۔
رمل نے ایک نظر تانیہ کو دیکھا جو پرسکون نظر آتی تھی۔۔۔ علیم بیگ خاموش ہو کر مسکرا کر تانیہ کو دیکھنے لگے ۔۔۔
“سر میرا ایک سوال ہے آپ سے ۔۔ آپ کا بزنس کی دنیا سے تعلق ہے پھر اچانک سیاست میں قدم رکھنا ۔۔۔ وہ بھی تب جب ملک کا حال بے حال ہو چکا ہے ۔۔۔ اس فیصلے کا پس منظر کیا ہے ۔۔ عوام جاننا چاہتی ہے !!! “
تانیہ خاموش ہوئی تو علیم بیگ نے مسکرا کر کہنا شروع کیا ۔۔۔
“دیکھیں بزنس ہو یا سیاست ۔۔ ہمارا مقصد عوام کی فلاح کے لیے کام کرنا ہے ۔۔۔ ہم تو خادم ہیں ملک کے ۔۔۔ سیاست میں آنے کا فیصلا اچانک نہیں ہے ۔۔۔ مختصر یہ کہتا ہوں کہ مجھے ایسا لگتا ہے اس فیلڈ میں رہ کر میں ملک کی زیادہ بہتر طور پر خدمت کر سکتا ہوں !!! ۔۔۔”
نرمی سے مسکرا کر کہتے علیم بیگ زرا پیچھے ہو کر بیٹھے ۔۔۔ ڈائس سے پانی کا گلاس پکڑ کر وہ گھونٹ گھونٹ پینے لگے ۔۔۔
رمل نے سیاہ سرد نظروں سے انہیں دیکھا ۔۔۔ وہ تیار تھی ۔۔ ہمیشہ کی طرح سیاہ لمبے بالوں کو کس کر اونچے جوڑے میں باندھے لمبی سیاہ قمیض اور چوڑی دار پاجامے میں وہ سب سے منفرد تھی ۔۔۔
اس نے ہاتھ بلند کیا تو علیم بیگ پر کے ماتھے پر غیر محسوس سی شکن پڑی ۔۔۔ بظاہر مسکرا کر وہ اسکی جانب متوجہ ہوئے ۔۔۔
“سر آپ نے بات کی عوام کی فلاح کی ۔۔۔ کیا یہ وہی فلاح ہے جس پر ہمارے سابقہ حکمران کئی سالوں سے کام کر رہے ہیں ؟؟ “
کان میں پہنی سیاہ چوڑی کے سائز کی بالی کو انگلی سے ہلاتی وہ ازلی نڈر انداز میں بولی ۔۔۔ اس کی بات پر میڈیا کے نمائندوں میں دبی دبی ہنسی کی آواز گونجی ۔۔۔
علیم بیگ نے ایک پل کو رک کر اسے دیکھا ۔۔۔ پھر سامنے دیکھتے بولے ۔۔۔
“باقیوں کا مجھے نہیں پتہ لیکن جو میں کہہ رہا ہوں وہ ضرور کروں گا !!! “
مختصر جواب دیا گیا۔۔۔ رمل آگے ہو کر بیٹھی ۔۔۔
“یہ تو یہاں آنے والا ہر بندہ کہتا ہے الیکشن سے پہلے ۔۔۔ ہم جاننا چاہتے ہیں آپ ملک کی فلاح میں کس طرح حصہ لیں گے ۔۔۔ مہنگائی کی شرح کو کم کر کے ؟
جس کی وجہ سے غریب فاقوں سے مر رہے ہیں ۔۔۔ یا کچی بستیوں میں سہولیات مہیا کرکے یا ملک میں بڑھتے جرائم پر قابو پائیں گے آپ ؟؟ جہاں کسی کی بچی محفوظ نہیں ہے ۔۔۔
عوام ووٹ دے دیتی ہے آپ کو ہم فرض کرتے ہیں ۔۔ پھر بھی بگڑتی صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو کیا کیا جائے ؟؟
وہ تلخی سے کہتی گئی ۔۔۔ اس کے اتنے ڈائریکٹ سوالوں پر علیم بیگ گڑبڑا گئے ۔۔۔ انہوں نے اس کا وہی انداز دیکھا جس کے لیے وہ مشہور تھی ۔
“ہر کوئی ایک سا نہیں ہوتا ۔۔۔ کوئی اور سوال ؟؟ “
ہموار لہجے میں کہتے وہ باقی صحافیوں کی جانب دیکھنے لگے ۔۔ رمل نے سر کو خم دیا ۔۔۔
“انشااللہ سر ۔۔ ہمیں امید ہے جو باقی مل کر نہیں کر پائے وہ آپ کر لیں گے ۔۔۔ “
اگر الیکشن جیت گئے تو ۔۔۔ !
آخری الفاظ اس نے زیر لب کہے ۔۔۔ بھگو بھگو کر مارنا تو کوئی رمل یوسف سے سیکھے ۔۔۔
علیم بیگ کے مقابل “میر حاصل” کھڑا ہونے والا تھا جو اچھی شہرت رکھتا تھا ۔۔۔ نوجوان نسل کا کرش تھا اور اسکا کوئی سکینڈل بھی نہیں آیا تھا اب تک سوشل میڈیا پر ۔۔۔
رمل کو علیم بیگ کی دال گلتی نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ سر جھٹک کر وہ ہاتھ میں پکڑے کاغذات کو ترتیب دینے لگی ۔۔۔
