No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
کمرے میں بڑھتی ٹھنڈ محسوس کرتے اس نے سوتے میں خود پر کمفرٹر ٹھیک کیا۔ بند آنکھوں میں حرکت ہوئی کسلمندی سے کروٹ بدل کر اس نے دوبارہ سونے کی کوشش کی۔
چند منٹ وہ یوں ہی لیٹی رہی پھر آنکھیں کھول دیں۔ نیلی آنکھوں کے کانچ دهندلائے سے تھے اس نے بار بار پلکیں جھپكیں پھر منظر کچھ واضح ہوا۔
اس کی نگاہ عرش پر آ کر ٹھہری جو كنگ سائز بیڈ پر اس سے خاصے فاصلے پر كروٹ کے بل سو رہا تھا۔ کمفرٹر اس کے کندھے سے نیچے ڈھلک رہا تھا جس سے اس کے کسرتی بازو اور چوڑی پشت نظر آ رہی تھی۔
وہ نظریں پھیر گئی بھرپور انگڑائی لیتی وہ اٹھ بیٹھی اس نے دو انگلیاں باہم ملا کر آنکھیں مسلیں۔
سر گھٹنوں پر ٹکا کر وہ کل رات کے بارے میں سوچنے لگی جب ارشما اچانک ان کے کمرے میں آ گئی تھی اس نے ان کے الگ سونے پر عرش کو بہت ڈانٹا تھا جس پر ایرا بھی اس آکورڈ سی سیچوایشن پر بہت شرمندہ ہوئی تھی۔
عرش نے بغیر ایک لفظ کہے اسے بیڈ پر جگہ دے دی تھی کچھ بھی تھا وہ اپنی ماما سے بےحد محبت کرتا تھا وہ ان کا کوئی حکم نہیں ٹال سکتا تھا۔
کل کتنے دن بعد وہ سکون سے سوئی تھی ورنہ صوفے پر سو کر تو کمر ہی اکڑ جاتی تھی اور مجال کہ اس بد لحاظ شخص نے ایک بار بھی اسے بیڈ پر سونے کا کہا ہو۔۔
سر جھٹک کر وہ کمفرٹر ہٹا کر اٹھی سینے پر ہاتھ باندھتے اس نے جھرجھری لی۔ پرحرارت جسم کمرے کی ٹھنڈ سے کپكپا سا گیا تھا۔۔
منہ ہاتھ دھو کر وہ واپس کبرڈ تک آئی۔ اپنی سائیڈ والا ڈور کھول کر اس نے سر اٹھا کر کپڑوں پر نظر ڈالی۔۔
“امم ۔۔۔ کونسا پہننا چاہیے؟” ۔۔
خود کلامی کرتی وہ ہینگ کئے کپڑ ے آگے پیچھے کرنے لگی۔ لائٹ پرپل كیپری شرٹ پر اس کی نگاہ ٹھہری سادہ مگر خوبصورت سوٹ تھا۔۔۔
ہینگر نکال کر کپڑے الگ کرتی وہ شاور لینے گھس گئی۔ دس منٹ بعد وہ باہر نکلی ڈریسنگ مرر کے سامنے آ کر اس نے تولیے سے بال الگ کر کے ڈرائیر کی مدد سے سکھانے شروع کر دیے۔۔
پلٹ کر اس نے ایک نگاہ اس پر ڈالی جو اب چت لیٹا تھا کمفرٹر سے ظاہر ہوتے اس کے کسرتی سینے پر نظر پڑتے ہی وہ سرعت سے سیدھی ہوئی اس کا چہرہ مزید گلابیاں چھلکانے لگا تھا۔۔
“گندے!!!” ۔۔
منہ بنا کر بولتی وہ بالوں میں برش کر نے لگی بھورے سلکی بال سنہری آبشار کی مانند گھٹنوں تک گر رہے تھے۔ اس نے ڈرار کھول کر ہاتھ سے کچھ ٹٹولا۔۔
آدھے بال پرپل کیچر میں باندھ کر وہ واپس کبرڈ تک آئی۔ لائٹ پرپل سویٹر نکال کر اس نے جلدی سے پہنا جو اس کی کمر تک آ رہا تھا البتہ تنگ بازوؤں نے آدھی ہتھیلی کو بھی چھپا لیا تھا۔۔
اس نے ہاتھ سامنے کر کے انگلیاں اندر کی طرف موڑیں۔
“ہمم اچھے لگ رہے ہیں!!”
اس نے اپنے گلابی نرم گرم سے ہاتھوں کو مسکرا کر دیکھا۔ پیروں میں پرپل کھسہ پہن کر دوپٹہ كندھے پر ڈالتی وہ اس پر ایک اچٹتی نظر ڈال کر باہر نکل آئی۔۔
“السلام علیکم بابا۔۔۔!!!”
ماہ بیر کو وہاں سے گزرتے پا کر وہ جھٹ سے سلام کر گئی۔ اس نے رک کر خوشگوار مسکراہٹ سے ایرا کو دیکھا جو نکھری نکھری سی اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔
“وعلیکم السلام!! کیسا ہے میرا بیٹا؟؟”
اس کے سر پر ہاتھ رکھتا وہ اسے ساتھ لیے کچن میں آ گیا جہاں ارشما چولہے پر چائے کا پانی چڑھا رہی تھی۔ آہٹ پا کر وہ پلٹی ان دونوں کو کچن میں داخل ہوتا دیکھ کر وہ مسکرائی۔۔
“بس آ رہی ہوں ناشتہ لے کر آپ لاؤنج میں بیٹھیں!!”
پیار سے ایرا کا گال چھوتی وہ اسے آنکھیں دکھاتی بولی جو شرارتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“آپ کو مارننگ ‘ کس ‘ کیے بغیر کیسے جا سکتا ہوں!!”
اس کے بے دھڑک کہنے پر ایرا مسکراہٹ دباتی وہاں سے باہر چلی آئی اسکی مسکراہٹ امڈ امڈ کر آ رہی تھی وہ لاؤنج میں آئی تو بدر وہاں پہلے سے موجود تھا بلیک تھری پیس میں بالوں کو جیل سے سیٹ کیے بلکل پرفیکٹ نظر آتا وہ آفس جانے کے لیے تیار تھا۔۔۔
“کزن ڈیئر کیا بات ہے بڑا مسکرا رہی ہو؟”
وہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔
“آ ۔۔ کچھ نہیں وہ بس ویسے ہی!! آپ آفس جا رہے ہیں؟” ۔۔۔۔
اس کے سامنے بیٹھتی وہ نرمی سے مسکرائی۔ کتنے اچھے تھے نہ سب اتنی محبت سے اس سے پیش آ رہے تھے ورنہ اسے تو لگتا تھا کہ اب سب اسے حقارت سے دیکھیں گے۔
“يس آفس جا رہا ہوں!!”
ہموار لہجے میں کہتا وہ ہاتھ میں پکڑا پانی کا گلاس منہ کو لگا گیا۔۔۔
“ارشیہ آپی آپ کی بہت تعریف کرتی تھیں!!”
یونہی اس سے بات کرنے کو وہ بول گئی جب بدر کے منہ سے پانی نکلتا دیکھ کر وہ گهبرا گئی۔ شاید اس نے پھر کوئی بےوقوفی کر دی تھی۔۔
جلدی سے اٹھتی وہ لاؤنج سے باہر آئی بےدیہانی میں وہ ناشتہ لاتی ارشما سے ٹکراتی بچی۔۔
“کیا ہوگیا ایرا اتنی جلدی کہاں جا رہی ہو؟؟”
وہ حیرت و پریشانی سے گویا ہوئی جس پر وہ شرندہ سی ہوگئی۔۔۔
“کچھ نہیں ماما بس وہ۔۔۔”
وہ روہانسی ہوتی انگلیاں چٹخانے لگی۔ کیا ضرورت تھی یوں بےوقوفوں کی طرح اٹھ کر آنےکی۔۔ حد ہے ایرا۔۔۔!!
دل میں وہ اپنے آپ کو کوس رہی تھی جب ارشما کے بلانے پر متوجہ ہوئی۔۔
“بیٹا عرش کو اٹھاؤ جا کر کافی وقت ہوگیا اٹھا نہیں ابھی تک!!”
ایرا کا چہرہ یوں ہوگیا جیسے اس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔۔
“مم میں اٹھاؤں؟ ” ۔۔۔۔
نیلی آنکھیں مزید بڑی کر کے اس نے خاص کر انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا جیسے یقین دہانی چاہ رہی ہو۔۔۔
“ہاں بیٹا تمہیں ہی کہہ رہی ہوں جاؤ شاباش!!”
وہ مسکرا کر کہتی وہاں سے چلی گئی۔۔
“اب کیا کروں؟” روہانسی ہوتی وہ واپس کمرے میں آئی۔ دروازه آہستہ سے بند کر کے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اس کی جانب بڑھنے لگی دل زوروں سے دھڑک رہا تھا حالت الگ خراب ہورہی تھی۔۔
وہ بلکل اس کے سر پر آن کھڑی ہوئی جو چت لیٹا سو رہا تھا۔ اسکی ابرو میں لگے ترچھے کٹ سے نظر ہٹاتے اس کی بند آنکھوں پر ڈالیں۔۔
ہونٹ آپس میں پیوست کئے وہ جیسے بےسدھ سا سو رہا تھا۔ اس نے حلق تر کیا آرام سے نیچے جھک کر اس نے ہاتھ کمفرٹر کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ اس کا دوپٹہ اس پر گر گیا۔۔
ہڑبڑا کر اس نے دوپٹہ فٹ سے پکڑتے ایک قدم پیچھے لیا۔ بڑی بڑی نیلی آنکھیں گھماتی وہ شہادت کی انگلی دانت میں دبا گئی۔
دوپٹہ آرام سے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا وہ یوں پھونک پھونک کر ہر قدم اٹھا رہی تھی جیسے ذرا سی آہٹ ہونے پر وہ اٹھ کر اسے شوٹ کر دے گا۔۔
اللّه کہاں پھنس گئی میں عرش بھا۔۔ اونہوں۔۔۔!!
اس نے جلدی سے سر ہلاتے خود کو چپت لگائی۔ دو قدم آگے آ کر وہ دوبارہ جھک کر اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلانے لگی۔ آنکھیں سکیڑ کر اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے گال سے ٹچ کیا جس پر وہ کسمسایا۔۔
ایرا کا دل جیسے حلق میں آ گیا آنکھیں پھیلاتی وہ فٹ سے سیدھی ہونے لگی جب اس کا توازن بگڑا اور وہ اس پر آ گری۔۔
اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے اس نے خود کوسنبهالا عین اسی وقت عرش نے آنکھیں کھول دیں ایرا کے بال اپنے چہرے سے ہٹا کر اس نے چہرہ سیدھا کیا تو اس کی گہری بھوری آنکھیں نیلی آنکھوں سے ٹکرائیں جو اس سے محض چند انچ کے فاصلے پر تھیں۔۔۔
نیلی آنکھوں میں شدید گهبراہٹ تھی وہ حلق ترکرتی جلدی سے اٹھنے لگی جب کمر پر اس کے ہاتھوں کی گرفت محسوس کرتے اس کا سانس اٹکا اسے غصے سے خود کو گھورتے پا کر اس کی آنکھوں میں نمی چمکی نیلے کانچ دھندلا سے گئے تھے۔۔
“کیا کر رہی تھی تم؟۔۔۔ بولو!!”
غصے سے بولتا وہ اٹھ بیٹھا۔ نیند سے جاگنے کے باعث اس کی آواز خاصی بھاری ہورہی تھی جبکہ آنکھیں ہلکی ہلکی سرخ تھیں۔۔
اس کے دیہان میں نہ رہا کہ اس نے اب تک اسے کمر سے تھام رکھا تھا۔ بیٹھنے کے باعث کمفرٹر ہٹ چکا تھا جس سے شرٹ لیس کسرتی جسم مکمل ظاہر ہو رہا تھا۔۔
اسے کندھوں سے تھامے اس کے اتنے قریب ہونے پر وہ ڈوب مرنے کو ہوئی ستم یہ کہ اس نے دوپٹہ خود جدا کیا تھا اپنے تن سے۔۔۔
اس کے بھاری سخت لہجے اور سرخی مائل گہری بھوری آنکھوں نے اپنا کام کیا تھا۔ اسے دور دهكیلتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔
آنسو جیسے بندھ توڑ کر بہہ نکلے تھے ایک ہاتھ آنکھوں پر رکھتی دوسرے سے اس کے اور اپنے درمیان فاصلہ بناتی وہ اس کے خوف سے بچوں کی طرح رو رہی تھی۔۔۔
“میں ۔ میں جان۔ بوجھ۔ کر۔ نہیں گری۔ ماما نے کہا تھا۔۔!!”
روتے روتے وہ منہ بسور کر بولی۔۔ عرش نے اس سے الگ ہوتے لب بھینچ کر اسے دیکھا اسکی ریں ریں رکتے نہ دیکھ کر وہ غصے سے داڑھا۔۔
“چپ!!! ۔۔ ماما نے کہا تھا میرے اوپر گرنے کو؟؟”
اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا وہ تکیے پر رکھی شرٹ پہننے لگا۔ حد ہی کردی تھی اس لڑکی نے تو بیوقوفیوں کی!!
اس کی داڑھ پر وہ ایک دم چپ ہوتی نچلا لب باہر نکالتی اسے ٹکر ٹکر دیکھنے لگی۔ اس کے بچکانہ انداز پر وہ سر جھٹکتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“چھوٹی بچی میرے گلے ڈال دی!!”
بڑبڑا کر وہ اسے گھورنے لگا۔۔
“مجھے گھور کیوں رہے ہیں کہا تو ہے ماما نے کہا تھا آپ کو اٹھانے کا!!”
بھیگی آنکھیں صاف کرتی وہ سر اٹھا کر بولی۔ لہجہ پرشکوہ ہوا تھا۔
“تمہاری شکل ہی ایسی ہے ۔۔ بےوقوف لڑکی!!”
جتاتے لہجے میں کہتا وہ پلٹا جب وہ ماتھے پر بل ڈالے اس کے مقابل آئی۔۔
“میری شکل نہ بہت پیاری ہے سب کو پیار آتا ہے اچھا!!” عرش نے سر جھکا کر اس ٹڈی کو دیکھا جو اس کے کندھوں تک بھی نہیں آتی تھی۔ آنکھیں سكیڑتے اس نے دایاں ہاتھ بڑھا کر اسے کہنی سے تھام کر کھینچا جس سے وہ اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔
“زیادہ زبان نہیں چل رہی تمہاری؟؟”
سر جھکاتے وہ اسے ڈپٹ گیا۔ وہ کسمسا کر دور ہوئی۔
“میں ماما جان کو بتاؤں گی آپ نے مجھے زور سے ٹچ کیا!!”
جی کڑا کرتی وہ اسے دھمکی دے گئی۔ عرش کی آنکھیوں میں مسکراتا تاثر ابھرا پھر پل میں وہ سرد ہوئیں عجیب دھوپ چھاؤں سا شخص تھا۔۔
“میں نے تمہیں بازو سے پكڑا ۔۔۔ ٹچ نہیں کیا!!”
اس سر پھرے شخص کی عجیب ہی منطق تھی۔ وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔ کچھ سوچتی وہ پیر اونچے کر کے اس کے قریب ہوئی ساتھ ہی اس کے گال کو انگلی سے ٹچ کیا۔۔
“اسے ٹچ کرنا کہتے ہیں نہ آپ نے تو زور سے کیا!!”
اسے سمجھاتے ہوئے وہ ہاتھ نچا کر بولی لگتا تھا اسے عرش کا گال زیادہ ہی پسند آ گیا تھا یا انگلی پر محسوس ہوتی داڑھی کی چبھن!!!
وہ تیکھا سا مسکرا کر اس سے خاصے فاصلے پر ہوگیا۔۔۔
“ابھی میں تمہیں اس قابل نہیں سمجھتا کہ تمہیں “ٹچ” کروں اور جب کروں گا نہ تو تم میں سانس کا ایک قطرہ نہیں بچے گا!!!”
بھاری گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اس کے سامنے سے گزر کر کبرڈ کی طرف بڑھ گیا۔۔
وہ سرخ چہرہ لیے اس کی بات اور گہرے مطلب کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی اس کی نظریں آپ ہی جھکی تھیں!! تو کیا وہ؟؟ ۔۔۔
