Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6 Part 2

جلدی سے بال برش کرتی وہ آئینے کے سامنے آئی ۔۔۔ فون کی تواتر بجتی بیل اس کے سر میں ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھی۔۔۔
گھٹنوں کو چھوتے بھورے سلکی بالوں کو اس نے فرنچ بریڈ میں باندھ کر کمر پر ڈال دیا ۔۔۔ برش ڈریسنگ ٹیبل پر پٹخ کر وہ بیڈ پر گھوڑے گدھے سب بیچ کر سوئی ارشیہ کے پاس آئی ۔۔۔
موبائل کی بیل کی آواز تو آ رہی تھی تواتر سے لیکن اسے دکھ نہیں رہا تھا۔۔ اس نے ارشیہ کے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈال کر ٹٹولا تو موبائل مل گیا ۔۔۔
“آپی اٹھیں ۔۔۔ آپی ۔۔۔ کال آ رہی آپ کی کب سے !!! ۔۔۔”
ارشیہ کو جھنجھور کر فون اسے تھماتی وہ ایک بار پھر سے آئینے کے سامنے آئی ۔۔ اس نے ایک نظر میں سر تا پیر جائزہ لیا ۔۔
بلیک جینز پر چنٹ والا گھٹنوں تک آتا سفید فراک پہنے جس پر دیدہ زیب رنگ برنگے دهاگوں سے کڑھائی ہوئی تھی وہ یونی ورسٹی جانے کے لیے تیار تھی ۔۔۔
نیلی آنکھوں کے کانچ کاجل کی لكیر سے دہکا کر اس نے گلے میں سٹالر ڈالا ۔۔۔ پیروں میں سفید جوگرز پہن کر وہ ناشتہ کرنے کے لیے باہر نکل گئی ۔۔۔
ارشیہ جو بغیر دیکھے کال کاٹ کر موبائل بند کرنے کے بعد پھر سے سونے کی تیاری کررہی تھی ۔۔۔ پھر سے فون بجنے پر تپ کر اٹھ بیٹھی ۔۔۔
بکھرے بال ایک ہاتھ سے سمیٹ کر اس نے کال ریسیو کی ۔۔۔ “کیا موت پڑ گئی ہے ؟؟ ۔۔۔”
وہ کھانے کو پڑی ۔۔۔ دوسری جانب سے کچھ سخت کہا گیا جس پر اس نے دانت پیسے۔۔۔ کال کاٹ کر اس نے فون پٹخ کر بیڈ پر رکھا ۔۔۔
“میں نے سوچا تھا آج نہیں جاتی آفس لیکن وہ منحوس بلا مجھے سکون لینے نہیں دے گا۔۔۔”
آفس آؤ ورنہ ہمیشہ کے لیے چھٹی سمجھو !!! وہ اسکی نقل اتارتی ہوئی بولی ۔۔۔
“ہونہہ !! ۔۔۔۔۔ ساری نیند کا کباڑا کر دیا اب دیکھنا تمہارا بھی سکون نہ برباد کیا تو میرا نام بھی ارشیہ نہیں ۔۔۔ “
برے برے منہ بناتی وہ اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔
🍂🍂🍂
اینارا کچن میں کھڑی جلدی جلدی ناشتہ بنا رہی تھی جب اورهان اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔۔ اس نے نرمی سے اینارا کے گرد بازو حائل کر دیے ۔۔ اس کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکا کر وہ سکون سے آنکھیں موند گیا ۔۔۔
“اورهان کیا کررہے ہیں ؟؟ ۔۔۔ “
وہ بچوں کا خیال کرتی اسے جگہ کا احساس دلانے کو بولی ۔۔۔
“پیار کررہا ہوں اپنی بیوی کو !!! ۔۔۔”
کہتے ساتھ اس نے اینارا کا گال چوم لیا۔۔۔ وہہ سٹپٹا گئی ۔۔۔
“ماما بریک فاسٹ بن گیا ؟؟ مجھے دیر ہورہی ہے !!! ۔۔۔”
ایرا آواز دیتی کچن میں آئی تو اورهان مسکراتی نظروں سے اینارا کو دیکھتا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔۔
“جی میرا بچہ بن گیا ہے بریک فاسٹ ۔۔۔ تم چلو میں آتی ہوں !!! ۔۔۔”
اورهان کو نظروں سے وارن کرتی وہ برتن سمیٹنے لگی ۔۔۔
🍂🍂🍂
گڈ مارننگ ایوری ون !!! ۔۔۔۔
مہرون پنٹ شرٹ پر وائٹ منی کوٹ میں ملبوس ہاتھ میں پہنی برانڈڈ گھڑی میں وقت دیکھتی وہ نک سک سی تیار ناشتے کی میز تک آتی اپنی کرسی سنبهال کر بیٹھی ۔۔۔
“مارننگ ۔۔۔ ! “اورهان نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔
آفس کا پہلا دن کیسا رہا ؟؟ ۔۔۔۔ وہ کانٹے کی مدد سے آملیٹ کا ٹکڑا منہ میں ڈال کر اس سے استفسار کرنے لگا ۔۔ اینارا بھی ارشیہ کی جانب متوجہ ہوئی۔۔
” ٹھیک ہی تھا بس ۔۔۔ !! “
وہ نیلی آنکھیں گھما کر بولی ۔۔۔
“ہمم ۔۔۔ آگے کنٹینیو کرو گی پھر ؟؟ ۔۔۔”
وہ دوبارہ گویا ہوا ۔۔۔ ارشیہ کے تصور میں بدر کا جلا کٹا چہرہ اور لہجہ ابھرا ۔۔
“چھوڑوں گی تو اب ہرگز نہیں !!! ۔۔۔”
وہ قطعی انداز میں بولی ۔۔۔
” آپی بدر بھائی کا بیہیوئیر کیسا آئی میں باس کی طرح یا کزن کی طرح ؟؟ ۔۔۔”
ایرا جوس کا گھونٹ بھرتی دلچسپی سے پوچھنے لگی ۔۔۔
“بیہیویر نہ ہی پوچھو ۔۔۔ ایک نمبر کا بدتمیز ، کھڑوس ہے منحوس بلا ہے وہ ۔۔۔ “
ارشیہ دانت پیس کر بولی ۔۔ اس کا بس نہ چل رہا تھا دانتوں کے درمیان اس جعلی “کین ییمن” کی ساری اکڑ رکھ کر پیس دیتی ۔۔۔
اورهان نے اس کی بات پر قہقہہ لگایا ۔۔۔
” اس کی نیچر بس ایسی ہے ۔۔۔ !!!
” اورهان نے لقمہ دیا ۔۔۔
” تم بھی تمیز سے رہنا وہاں ۔۔۔ پتہ چلے دوسروں کی ناک میں دم کر رکھا ہو !!! ۔۔۔”
اینارا نے اسے ڈپٹا ۔۔۔ اچھے سے جانتی تھی وہ ارشیہ کی نیچر ۔۔۔ ارشیہ نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا ۔۔۔
“فضول میں اتنا شک کرتی ہیں آپ ۔۔۔ اتنی معصوم تو ہوں میں !!! ۔۔۔”
اورهان کو دیکھ کر آنکھ مارتی وہ میسی جوڑے کے اطراف میں بکھری لٹیں ٹھیک کرتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔ مہرون لپ سٹک سے رنگے لبوں پر دل جلانے والی مسکراہٹ تھی ۔۔۔
ایرا کو ساتھ لیے وہ کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھی ۔۔ کچھ ہی دیر ڈرائیو کرنے کے بعد اس نے یونیورسٹی کے باہر کار روکی ۔۔۔
ایرا اتری تو وہ کار ریورس کرتی وہاں سے آفس کے لیے نکل گئی ۔۔۔ اس کے جانے کے بعد ایرا نے گیٹ کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔ گراؤنڈ سے گزر کر وہ اندر کوریڈور میں آئی ۔۔۔
کلاس میں بیگ رکھ کر وہ کوریڈور عبور کرتی یونیورسٹی کی پچھلی طرف والی گراؤنڈ میں آ گئی ۔۔۔ اس نے آس پاس نگاہ دوڑائی ۔۔۔
شاہ رخ کو وہاں پا کر اس کی نیلی آنکھوں کے کانچ چمک اٹھے تھے ۔۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اس کے برابر گھاس پر بیٹھ گئی ۔۔۔
“ہائے سویٹی !!! ۔۔۔”
شاہ رخ نے اسے سر تا پیر دیکھ کر کہا ۔۔۔
ہائے !! ۔۔۔۔۔۔
ایرا آہستہ سے بولی ۔۔۔ وہ نروس ہورہی تھی ۔۔۔ کچھ ہی دن ہوئے تھے جب شاہ رخ سے اس کی دوستی ہوئی تھی ۔۔۔
وہ شخص جس کے پیچھے یونیورسٹی کی لڑکیاں پاگل تھیں وہ اسے پسند کرتا تھا ۔۔ محض اس سے بات کرتا تھا یہ احساس ہی بہت خوبصورت تھا ۔۔۔
” خوبصورت لگ رہی ہو !!! ۔۔۔”
شاہ رخ نے اس کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لے کر کہا ۔۔۔۔ ایرا سرخ پڑی تھی ۔۔۔
” تھیک یو !!! ۔۔۔”
انگلیاں چٹخاتی وہ نظریں جھکا کر بولی ۔۔۔ وہ خاموش ہوگیا ۔۔۔ کافی دیر تک جب وہ کچھ نہ بولا تو ایرا نے سر اٹھا کر دیکھا ۔۔
” تم ٹھیک ہو ؟؟ ۔۔۔”
اسے لگا وہ پریشان تھا ۔۔۔ وہ کچھ پل خاموش رہا پھر نفی میں سر ہلایا ۔۔
“بابا کے کچھ دشمن میرے پیچھے پڑے ہیں !! ۔۔۔ وہ ایس پی حیان مجھے جیل میں ڈالنا چاہتا ہے جھوٹے الزام لگا کر لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا ۔۔۔ “
کہتے ہوئے اس نے کنکھیوں سے ایرا کو چونکتے دیکھا تھا ۔۔
” ایس پی حیان ۔۔۔؟ وہ کزن ہیں میرے ۔۔۔ وہ ایسا کیوں کریں گے ؟ میں جانتی ہوں انہیں اچھے سے !! ۔۔۔”
وہ شاہ رخ کو یقین دلانے لگی کہ جیسا وہ سوچ رہا ہے ویسا نہیں ہے ۔۔ شاہ رخ نے تیکھی مسکراہٹ سے اسے دیکھا ۔۔۔
“تم کچھ نہیں جانتی ہو ۔۔۔ بہت معصوم ہو تم ۔۔۔ !!! ” ۔۔۔ اس کی بات پر ایرا الجھ سی گئی ۔۔۔
“کیا واقعی حیان بھائی ۔۔؟؟ ۔۔۔”
🍂🍂🍂
مہرون پنسل ہیل سے ٹک ٹک کرتی وہ کمپنی کی عمارت میں داخل ہوئی ۔۔۔ امپلائیز پر ایک سرسری نظر ڈال کر وہ سفید کوٹ جھٹک کر مغرور انداز میں چلتی لفٹ کی جانب بڑھی ۔۔۔
دوسرے فلور پر آ کر وہ لفٹ سے باہر نکلی ۔۔۔ لیفٹ سائیڈ ٹرن لینے پر وہ اسے آفس کے سامنے کھڑا نظر آ گیا ۔۔۔
بلیک تھری پیس میں پینٹ کی پاکٹ میں ایک ہاتھ اڑسے دوسرے ہاتھ سے وہ فون کان سے لگائے کسی سے محو گفتگو تھا۔۔
ارشیہ ناقدانہ نظروں سے اسے دیکھتی آگے آئی ۔۔۔ تب تک وہ فون بند کر کے جیب میں رکھ چکا تھا ۔۔۔
“گڈ مارن ۔۔۔۔۔ “
ارشیہ گڈ مارننگ وش کرنے کی نیت سے اس کے پاس آتی بولنے ہی لگی کہ اس پیر اچانک ٹیڑھا ہوا ۔۔۔ اس نے گھبرا کر بدر کا کوٹ پکڑنا چاہا ۔۔۔
بدر نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا اور ایک قدم پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔ وہ گرتے گرتے بچی ۔۔۔ اسے نظر انداز کرتا وہ فلور لکا وزٹ کرنے لگا ۔۔ وہ بھی دانت پیس کر اس کے پیچھے آئی ۔۔۔
بدتمیز نہ ہو تو !!! ۔۔۔
بدر نے ایک جگہ رک کر اسے دیکھا ۔۔۔
“یہ دیکھو سب امپلائیز کس طرح کام کرتے ہیں ۔۔ تم چند دن آبزرو کرو انہیں ۔۔۔ اس طرح تمہیں کام کرنے میں آسانی ہو گی !!! ” ۔۔۔۔
ارشیہ نے سنجیدگی سے سر ہلایا ۔۔۔ حیرت در حیرت !!! ۔۔۔ وہ پھر سے گویا ہوا ۔۔
” بیس منٹ کے بعد میٹنگ ہو گی ۔۔۔ آؤٹ سائیڈرز آئیں گے ۔۔ تمہیں انہیں کنوینس کرنا ہے کہ وہ ہمارے لانچ کیے پروڈکٹس مارکیٹ میں دینے پر تیار ہو جائیں ۔۔۔ کرلو گی تم ؟؟ ۔۔۔ “
آخر میں وہ استہزائیہ نظروں سے اسے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔ ارشیہ نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔
“ٹرائی می !!! ” ۔۔۔۔ ازلی مغرور اور تیکھا انداز ۔۔۔
🍂🍂🍂
میٹنگ روم میں سب اس وقت جمع تھے ۔۔۔ بدر کیے ساتھ ارشیہ بیٹھی تھی ۔۔۔ ان کے مقابل بزنس ڈیلرز اور باقی کمپنی کا سینئر سٹاف تھا ۔۔۔ میٹنگ شروع ہو چکی تھی ۔۔۔
” صارفین آپ کے پروڈکٹس کیوں خریدیں گے ؟ وہاٹ از دا سپیشیلیٹی ۔۔۔؟؟ “
مقابل نے پوچھا تھا ۔۔۔ ارشیہ کھنکاری ۔۔۔
مسٹر اویس بزنس میں ایک چیز ہوتی ہے “گڈ وِل” ۔۔۔ الحمدللّہ ہماری کمپنی ٹاپ ٹین میں آتی ہے اچھی شہرت اور نام کی بنا پر ۔۔۔
صارفین جب کسی پراڈکٹ پر ہماری كمپنی کا ٹیگ دیکھیں گے تو وہ اس میں دلچسپی لیں گے ۔۔۔ اور ہر کام دلچسپی سے تو شروع ہوتا ہے ۔۔۔
دوسری بات ہے ” مارکیٹ ڈیمانڈ ” کی ۔۔۔ ہماری کمپنی وہی پراڈکٹس لانچ کرتی ہے جن کی ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہے مارکیٹ میں ۔۔۔
اور ڈیزائن اتنے یونیک ہوتے ہیں کہ یہ ڈیمانڈ دن بہ دن بڑھ رہی ہے ۔۔۔ کمپنی از ایٹ اٹس پیک !!! ۔۔۔۔
سو ہمارا خیال ہے کوئی ہمارے ساتھ کام کر کے مایوس نہیں ہوگا ۔۔۔ “
بدر ہاتھ کی مٹھی بنا کر لبوں پر رکھتا کرسی سے پشت ٹکا کر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھا اسے سن رہا تھا۔۔ مسٹر اویس نے سر ہلا کر گلا کھنکارا ۔۔
“بلکل میں ایگری کرتا ہوں آپ کی بات سے ۔۔۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر بار جیسا سوچیں ویسا ہی ہو ۔۔۔ کوئی اور کمپنی آپ سے اچھے پراڈکٹس لانچ کرنے لگے تو آپ کی مارکیٹ ویلیو گر سکتی ہے ۔۔۔”
ان کی بات پر بدر سیدھا ہو کر بیٹھا ۔۔۔ اس نے سنجیدہ نظر ان پر ڈالی ۔۔۔ یہی تو چانس ہے ۔۔۔
Business is the other name of risk !!! if there is no rise …. no business !!
اس نے گویا بات ختم کی تھی ۔۔۔
🍂🍂🍂
میٹنگ ختم ہوتے ہی وہ آفس میں آ گئے ۔۔۔
“تو مانتے ہو پھر میری ابیلیٹی کو ؟؟ ۔۔۔ ” دنگ رہ گئے ہو گے تم !!! ۔۔”
وہ گردن اکڑا کر بولی ۔۔۔ نیلی بلی سی آنکھوں کے کانچ چمک اٹھے تھے ۔۔۔ لبوں پر قاتل مسکراہٹ غضب ڈھا رہی تھی ۔۔۔
بدر نے کوٹ میز پر رکھا اور کف لنکس کھول کر بازو کہنیوں تک موڑتا اس کی جانب رخ کر کے کھڑا ہوگیا ۔۔ وہ گلاس ڈور کے ساتھ کمر ٹکا کر پیروں کا كراس بنائے کھڑی تھی ۔۔۔
بدر نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
” اگر ایک میٹنگ میں کامیاب ہو کر تم یہ سمجھ رہی ہو کہ تم میں بہت ابیلیٹی ہے یا تم بزنس ویمن ہو تو منہ دھو رکھو !!! ۔۔۔”
وہ میز پر ہاتھ ٹکاتا بیٹھ گیا ۔۔۔ ارشیہ نے ایک ادا سے لٹیں چہرے سے پیچھے ہٹائیں ۔۔۔
“دو بار دھو کر آئی ہوں !!! ۔۔۔
بے نیازی سے بولتی وہ بدر کو چڑیل لگی تھی بلکل ۔۔۔ آج تو اس نے لبوں پر مہرون لپ سٹک بھی لگا رکھی تھی ۔۔۔
“جتنی توجہ تم منہ پر پینٹنگ کرنے پر دیتی ہو ۔۔۔ اگر اتنی ہی بزنس کو دو گی تو کام بن سکتا ہے ۔۔۔ “
اس کے میک اپ زدہ چہرے پر طنز کیا گیا تھا ۔۔۔ ارشیہ تو سلگ ہی اٹھی ۔۔ بات اب اس کے حسن پر آ گئی تھی ۔۔۔
” تم بد دماغ انسان میرے حسن سے جل جل کر مر جانا !!! ۔۔۔”
چند قدم آگے آتی وہ تیکھے لہجے میں بولی ۔۔۔ نیلی آنکھوں میں آگ سی لگی تھی ۔۔۔ بدر تند چہرے سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
بہت ہوا تھا ۔۔۔ بہت برداشت کر لیا اس نے اس جنگلی بلی کو ۔۔۔ اس نے جھٹکے سے اسے کمر سے دبوچ کر قریب کیا ۔۔۔
” بہت بکواس کرلی تم نے اور میں نے سن لی ۔۔ مت بھولو کہ میں باس ہوں تمہارا ۔۔۔ اگر دوبارہ تمہاری زبان چلی تو میں تمہارا منہ نوچ لوں گا ۔۔۔
بہت ہلکا لے لیا ہے تم نے مجھے ۔۔۔ میں بدران شاہ ہوں ۔۔۔ ایسے لہجوں کا عادی نہیں ہوں ۔۔۔ اپنی حد میں رہا کرو تم ورنہ تمہیں سبق سکھانے میں ایک لمحہ نہیں لگاؤں گا !!! ” ۔۔۔۔
اسے زور سے دبوچتا وہ اس کے چہرے پر سرد لہجے میں داڑھا تھا ۔۔۔ اس کا سفید چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہورہا تھا ۔۔۔
ارشیہ نے ناک پھلاتے زور سے اس کی گردن پر ناخن مارے ۔۔۔ بدر نے جھٹکے سے اسے دور دهكیلا ۔۔۔ اس کی گردن پر جلن ہونے لگی تھی۔۔۔
“ایک نمبر کے بد تمیز اور جاہل انسان ہو ۔۔۔ میں نے پھوپھا کو بتایا نہ تو وہ ایک دن میں ہی تمہیں رخصت کردیں گے ۔۔۔ “
زور سے بولتی وہ تن فن کرتی آفس سے باہر نکلی ۔۔ چہرے کی نارمل کر کے اس نے کوٹ ٹھیک کیا ۔۔۔ جانے سے پہلے وہ پلٹی اور زور سے ہیل گلاس ڈور پر مار کر وہاں سے نکل گئی ۔۔۔
بدر نے طیش سے اسے دیکھا ۔۔۔ وہ خطرناک تیوروں سے اس کے پیچھے گیا اور کہنی سے پکڑ کر کھینچتا اسے آفس میں لاپٹخا ۔۔۔
” تمهارے باپ کا مال ہے یہ جو روز برباد کرتی ہو ؟؟ “
غصے سے بولتے اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں ۔۔۔ چہرہ گویا لال ٹماٹر ہوگیا تھا ۔۔۔ ارشیہ خونخوار نظروں سے اسے دیکھتی اس پر جھپٹی ۔۔۔
“میرے باپ کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو منہ توڑ دوں گی تمہارا ۔۔۔!!! “
اس کے گریبان کو پکڑتی وہ بولی نہیں غرائی تھی ۔۔۔ دونوں کے چہرے لال بھبھوکے ہو رہے تھے ۔۔۔ سرمئی آنکھوں کے کانچ نیلی تیز آنکھوں کے کانچ میں کھبے ہوئے تھے ۔۔۔
اپنی لڑائی میں دونوں محسوس نہ کر سکے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب آ چکے تھے ۔۔۔ بدر نے احساس ہونے پر اسے دور جھٹکا ۔۔۔
۔” مجھے کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کرو ۔۔ ایسا نہ ہو کہ کل کو خود سے بھی منہ چھپاتی پھرو ۔۔۔ !!! “
اس پر آخری نظر ڈالتا وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔۔ ایسا ٹھٹھرا دینے والا لہجہ ۔۔۔ !!!
” یہ خوش فہمی نکال دو دل سے کہ تمہاری ان بکواس دھمکیوں سے ڈر جاؤں گی میں ۔۔۔ ارشیہ نام ہے میرا ۔۔۔ الٹ ہوں اپنے نام کے ۔۔۔ ڈرتی نہیں ڈراتی ہوں !!! “
تیکھے لہجے میں کہتی وہ بجلی کی سپیڈ سے نکل گئی ۔۔۔
🍂🍂🍂
وہ اپنے جہازی سائز بیڈ پر اوندھا پڑا سو رہا تھا ۔۔۔ جسم شرٹ کی قید سے آزاد تھا ۔۔۔ اس کا بے حد کسرتی جسم اس بات کو عیاں کرتا تھا کہ اسے جنون کو حد تک باڈی بلڈنگ کا شوق ہے ۔۔۔
تکیے میں چھ پے اس کے چہرے میں سائیڈ سے ابرو میں لگا ترچھا کٹ جھلک دکھا رہا تھا ۔۔۔ سرخ بھرے بھرے لب آپس میں پیوست تھے ۔۔۔
بھنویں ازلی انداز میں سکڑی ہوئی تھیں جیسے نیند میں بھی اس کے مغرور انداز کی قائم رکھ رہی ہوں ۔۔۔ زور سے دروازہ دھڑدھڑانے کی آواز پر اس نے پٹ سے آنکھ کھولی ۔۔۔
آنکھوں کے گہرے بھورے کانچ نیند ٹوٹنے کے باعث سرخ ہو رہے تھے ۔۔۔ اس کی نیند بہت کچی تھی ۔۔۔ معمولی آہٹ پر بھی وہ جاگ جاتا تھا ۔۔۔ وہ اٹھ بیٹھا ۔۔۔
اس کا کسرتی سینہ نمایاں ہوا تھا ۔۔۔ اس نے بیڈ پر گری اپنی شرٹ پہنی اور اٹھ کر دروازه کھولا ۔۔۔ ماہ بیر اس کے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔
اس کا سنجیدہ چہرہ کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کررہا تھا ۔۔۔
“اپنا موبائل آن کرو !!! ۔۔۔” ماہ بیر کہہ کر لب بھینچ گیا ۔۔۔
اس کی گرے آنکھوں میں غصے کی سرخی تھی ۔۔۔ ارش نے فورا موبائل آن کیا تو سامنے ہی حیان ، رمل اور بدر کی بے شمار مسڈ کالز اور میسجز نظر آئے ۔۔۔
اس نے ایک ویڈیو لنک کھولا جو رمل نے اسے بھیجا تھا ۔۔۔ ویڈیو دیکھتے ہی اس کا چہرہ خطرناک حد تک سرد ہوا تھا