My Kharoos Mister By Mirha Khan Readelle50253 Episode 6 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6 Part 1
اس کی نیلی آنکھوں کے کانچ چمک اٹھے تھے۔۔۔ بدر نے غصے سے اسے دیکھا ۔۔۔ ارشیہ کو لگا وہ ہاتھ مار کر مٹھائی کا ٹکڑا دور پھینک دے گا لیکن ۔۔۔
وہ جھکا ۔۔ ارشیہ کا ہاتھ پکڑ کر مٹھائی کھاتے اس نے اس نرم انگلی منہ میں دبا کر زور سے بائیٹ کیا ۔۔۔
ارشیہ سٹپٹا گئی ۔۔۔ اس نے جلدی سے ہاتھ کھینچا ۔۔۔
“بہت بد تمیز اور بے شرم ہو تم ۔۔۔”
اس کی چادر سے انگلی پونچھ کر وہ تپ کر کہتی پلٹی اور تیز تیز قدم اٹھاتی اس کی نظروں سے دور ہونے لگی۔۔۔
بدر نے سر گھما کر اس کی پشت پر پھیلے بالوں سے جھانکتی بل دار کمر کو ایک نظر دیکھا ضرور تھا۔۔۔
🍂🍂🍂
زنیشہ کی تھکن کے خیال سے رمل اسے واپس کمرے میں لے گئی تھی۔۔۔ تقریباً سب مہمان جا چکے تھے۔۔۔ ابراھیم کزنز کے جھرمٹ سے نکلتا لاؤنج سے باہر آیا۔۔
سیاہ شال کو گردن میں اکٹھا کر کے ڈالتا وہ آس پاس نظر دوڑانے لگا ۔۔ بالاخر ایک کونے میں اسے ارشما ممانی نظر آ ہی گئیں ۔۔ اپنی یہ ينگ سی نرم گو ممانی اسے بہت اچھی لگتی تھیں۔۔۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ان کے پاس آیا ۔۔
“ارے ابراھیم بیٹا تم یہاں ؟؟ کچھ چاہیے تھا؟؟ ۔۔۔”
وہ اسے دیکھتے ہی محبت بھری نرمی سے بولی۔۔۔
” میں زنیشہ سے ملنا چاہتا ہوں ایک بار ۔۔۔اگر آپ کی اجازت ہو تو ؟؟ ۔۔۔”
پشت پر ہاتھ باندھتا وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔ ارشما بے اختیار مسکرائی ۔۔۔
” تمہاری بیوی ہے اب وہ ۔۔ ضرور ملو !!! “۔۔۔۔
اس کے خوشدلی سے کہنے پر وہ دهیما سا مسکراتا زنیشہ کے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔ ہاتھ بڑھا کر اس نے دروازه دهكیلا اور آرام سے اندر داخل ہوگیا۔۔
وہ سر پر لگی پنیں اتار کر جوڑا کھولتی بالوں میں انگلیاں پھیرتی خود کو پرسکون کر رہی تھی ۔۔۔ آہٹ پر اس نے لا پرواہ انداز میں گردن گھما کر دیکھا۔۔
ابراھیم کو چوکھٹ میں ایستادہ دیکھ کر وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ اس کے لمبے شہد رنگ سلکی بال لہرا کر کھل گئے ۔۔۔ اس نے گھبرا کر دائیں جانب بیڈ پر پڑے اپنے دوپٹے کو دیکھا ۔۔۔
پہلی بار بغیر دوپٹے کے یوں اس کا سامنا ہونے پر وہ حیا سے ڈوب مرنے کو ہوئی۔۔ اوپر سی خود کو مسلسل تکتی اس کی نظریں ۔۔ اف اف ۔۔۔ ابراھیم بھائی تو ایسے نہیں دیکھتے تھے۔۔۔ سوچتے ہوئے اس نے خود کو ڈپٹا۔۔۔ اف کیا سوچ رہی ہوں میں ۔۔۔ !!
لبوں پر مٹی مٹی سرخ لپسٹک اور کاجل سے دہکتی شہد رنگ کانچ سی آنکھوں میں بیک وقت حیرت اور گهبراہٹ لیے کبھی بیڈ پر پڑے دوپٹے اور کبھی ابراھیم کو دیکھتی وہ اسے ایک پل کو مبہوت کر گئی۔۔
اس کے ہوشربا نازک وجود سے نظریں ہٹاتا وہ کھنکارا ۔۔۔ زنیشہ ہوش میں آئی تھی جیسے ۔۔۔ اس نے جلدی سے دوپٹہ پکڑ کر خود پر پھیلایا ۔۔۔ پھر نظریں جھکا کر وہ خوامخواہ لب کاٹنے لگی۔۔۔
ابراھیم نے غور سے اس کے كنفیوز سے انداز کو دیکھا ۔۔۔
” کچھ کہو گی نہیں ؟؟” ۔۔۔ اس کی دھیمی آواز پر زنیشہ نے جھکا سر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔
پیشانی پر بکھرے سیاہ چمکدار بالوں میں سیاہ گہری آنکھوں سے اسے دیکھتا وہ معصوم لگ رہا تھا ۔۔۔ اس پر مستزاد اس کا بھاری و دلکش لب و لہجہ ۔۔۔
زنیشہ نے گہری سانس کھینچی ۔۔۔
“کیا کہوں ابراھیم بھا۔۔۔۔۔” اس نے سرعت سے زبان دانتوں تلے دبائی ۔۔۔ کیا کہوں میں ۔۔۔ مجھے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔ میں نے کبھی ایسا ۔۔۔ نہیں ۔۔۔سوچا تھا۔۔۔ مطلب ۔۔۔ آپ سمجھ رہے ہیں نہ ۔۔۔ ؟؟
وہ انگلیاں چٹخاتی معصومیت سے اسے دیکھتی کہنے لگی ۔۔۔
“ہمم سمجھ رہا ہوں ۔۔۔ !!! “
وہ مسکان دباتا بظاہر سنجیدگی سے بولا ۔۔۔ زنیشہ کو کچھ حوصلہ ملا ۔۔۔
“وہی ۔۔۔ میں یہی سوچ رہی تھی کہ ہم نے تو کبھی ایسا کچھ ۔۔۔نہیں سوچا ایک دوسرے کے بارے میں پھر پتہ نہیں کیسے سب کو لگا کہ ہماری شادی کر دینی چاہیے ۔۔ “
وہ منہ بنا کر بولتی کیوٹ لگی تھی ۔۔۔ ابراھیم نے ایک پل کو گہری نظر سے اسے دیکھا۔۔۔
“ہمم ۔۔۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تمھرے بارے میں ایسا کچھ ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ ” ایک قدم آگے آتا وہ جھکا تھا ۔۔۔
“لیکن سوچا جا سکتا ہے !!! ۔۔۔ “
اپنے قریب اس کی بھاری سی سرگوشی پر زنیشہ گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹی ۔۔۔
” کک ۔۔کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ۔۔۔ایسی باتیں نہ کریں ۔۔۔میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔۔ “
وہ اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں سے پریشان ہوتی خفگی سے بولی ۔۔۔ ابراھیم نے مسکراہٹ دبائی ۔۔۔
“اوکے نہیں کرتا ایسی باتیں ۔۔۔ چلتا ہوں !!! ۔۔۔”
اس پر ایک آخری نظر ڈال کر وہ پلٹ گیا۔۔۔ زنیشہ نے آنکھیں بند کر کے مسلیں ۔۔
“اف کیا بنے گا ہمارا !!! ” ۔۔۔۔
🍂🍂🍂
“ایرا بیٹا کہاں جا رہی ہو؟ وقت بہت ہوگیا ہمیں نکلنا ہے واپسی کے لیے !!! ۔۔۔”
ایرا کو دوسرے فلور کی سیڑھیوں کی طرف جاتے دیکھ کر اورهان پکار بیٹھا ۔۔۔ وہ آواز سن کر رکی ۔۔
” بابا میرا بیگ اوپر ہے میں لے کر آتی ہوں !!! ۔۔۔”
وہ اسے جواب دے کر جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔۔۔ بڑا سا لاؤنج عبور کر کے وہ مطلوبہ کمرے میں آئی ۔۔۔ بیگ کی زپ کھول کر اس نے موبائل اندر رکھا تو اس کی نظر ادھ کھائی چاکلیٹ پر پڑی ۔۔۔
“اسے تو میں بھول ہی گئی !!!” ۔۔۔۔۔۔۔
خود کلامی کرتے اس نے چاکلیٹ نکال لی اور مزے سے کھاتی روم سے باہر آئی ۔۔۔ وہ اپنے دیهان میں تیز تیز چل رہی تھی جب ایک کمرے کا دروازہ کھلا اور ارش باہر آیا ۔۔۔
وہ اسے دیکھ نہیں سکا تھا ۔۔ لہٰذا بری طرح ٹکرا گیا ۔۔۔ ایرا کے ہاتھ سے چاکلیٹ گر گئی ۔۔۔ اس نے دکھتے کندھے پر ہاتھ رکھتے ڈبڈبائی آنکھوں سے مقابل کو دیکھا ۔۔۔ دفعتا اس کی نیلی بلی سی آنکھوں میں غصہ در آیا ۔۔
عرش خاموش کھڑا تھا۔۔ مغرور نظروں سے اسے ایک پل کو دیکھتا وہ اسے اگنور کر کے آگے بڑھا ۔۔ ایرا نے تپ کر اسے دیکھا ۔۔۔ وہ پیر پختی اس کے مقابل آئی تو عرش نے قدموں کو بریك لگایا ۔۔
اس نے سر جھکا کر ناگواری سے اس ٹڈی کو دیکھا جو اس کے سینے تک مشکل سے آتی تھی ۔۔۔
“عرش بھائی ! میری چاکلیٹ گرا دی ہے مجھے ہٹ بھی کیا آپ نے ۔۔۔ سوری بولیں اور مجھے چاکلیٹ لا کر دیں اب جہاں سے مرضی !!! “
وہ ضدی ہوتی پیر پٹخ کر بولی ۔۔۔ انگوری نیٹ کے پھولے دوپٹے کو زور سے کندھے پر پٹختے وہ اپنی فیورٹ چاکلیٹ کے ایسے حال پر لڑنے مڑنے کو تیار ہوگئی ۔۔۔
عرش نے ابرو اچکا کر اس کی ہمت کو دیکھا ۔۔ ابرو اٹھانے سے ترچھا کٹ مذید نمایاں ہوا۔۔۔
” اپنی حد میں رہو تم !!! ۔۔۔” وہ تیکھی گہری بھوری نظروں سے اسے دیکھتا سختی سے بولا ۔۔۔
” حد میں ہی ہوں میں ۔۔۔ آپ کو پتہ ہے آپ کیسے ہیں ۔۔۔ بہت بد تمیز ۔۔۔ ناک اتنی اونچی رکھتے ہیں جیسے جیسے ۔۔ اب مجھے لفظ نہیں مل رہا آپ کی شان میں ۔۔ آنکھیں بلکل مارس اور پلوٹو کے درمیان گھومتی رہتی ہیں ۔۔۔ آپ نہ ۔۔ بہت بہت ۔۔۔ وہ ہیں ۔۔۔ “
اس کے نو لفٹ ایٹیٹیوڈ پر وہ دانت کچکچا کر بولی ۔۔۔ عرش نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا ۔۔۔ زیادہ زبان نہیں چل رہی تھی اس کی ۔۔۔ ایک چاکلیٹ ہی تو گرائی تھی ۔۔ اور ہاں بس اس کا بھاری کسرتی کندها ذرا سا تو لگا تھا اس کے نازک کندھے سے ۔۔۔
وہ ایک قدم اس کی طرف بڑھا ۔۔۔
“تمیز سے بات کرو مجھ سے ۔۔۔ ایسے لہجوں کی عادت نہیں ہے مجھے !!!” ۔۔۔
اس کا بازو پکڑ کر جھٹکتا وہ اسے باور کرواتے بولا ۔۔۔ ہاں ایسا ہی انا زاد تھا وہ ۔۔۔ مقابل کو جوتی کی نوک پر رکھ دینے والا ۔۔۔
اس کے کان میں پہنا چاند کی شکل کا سیاہ ٹاپس چمکا تھا اس کی آنکھوں کی طرح ۔۔۔ ایرا نے روتے ہوئے اس سے بازو چھڑوایا ۔۔۔
نازک گلابی ہاتھوں کی پشت سے گال رگڑتی وہ پیچھے ہٹی ۔۔۔
“آئی ہیٹ یو عرش بھائی ۔۔۔ بہت گندے ہیں آپ!!! ۔۔۔”
شکایتی نظروں سے اسے دیکھتی وہ بھاگتی ہوئی سیڑھیاں اترنے لگی ۔۔۔ عرش نے کندھے اچکا دیے ۔۔۔ جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا ۔۔۔
🍂🍂🍂
اورهان وغیرہ کے جانے کا وقت ہوا تو سب لاؤنج میں آ گئے ۔۔ حیان ، عرش اور بدر کو ایک ساتھ کھڑے دیکھ کر وہاں سے گزرتی ملازمہ کی آنکھیں پوری کھل گئیں ۔۔ اس نے آنکھیں زور سے مسل کر پھر سے کھولیں ۔۔۔
اس کا منہ کھل گیا ۔۔ منظر ویسا ہی تھا ۔۔۔ وہ جلدی سے کچن میں آئی جہاں ایک ملازم کھڑا برتن دھو رہا تھا۔۔
” بشیر ؟ یہ باہر ایک جیسے تین لڑکے ۔۔۔ میرا مطلب میری آنکھوں کا دھوکہ ہے یا سچ میں ؟؟ ” وہ حیرت سے بولی ۔۔۔
بشیر ہنس پڑا ۔۔۔ ” ارے پگلی وہ تینوں صاحب “تڑواں” ہیں ۔۔۔ مطلب جیسے جڑواں بچے ہوتے نہ ویسے یہ تینوں ایک ساتھ پیدا ہوئے ۔۔۔ “
ملازمہ نے سر ہلایا ۔۔ ” اچھا !! کبھی دیکھے نہیں تھے ۔۔۔ ویسے ان کے گھر والے کیسے پہچانتے ہیں ان کو ؟۔مشکل تو ہوتی ہوگی ؟ ۔۔۔”
وہ دلچسپی سے بولی ۔۔۔
بشیر مزے سے بولا ۔۔ “نہیں بابا تینوں ایک سے بڑھ کر نرالے ہیں ۔۔۔ ایک دوسرے سے مختلف ۔۔۔ حیان صاحب کی داڑھی مونچھوں سے ہی پتہ چل جاتا ہے ۔۔۔کیا روعب اور دبدبہ ہے ۔۔۔یہ بڑی مڑی ہوئی مونچھیں ۔۔ پولیس میں ہیں نہ ۔۔۔
اور اپنے عرش صاحب !! ۔۔۔ وہ ماڈل ہیں ۔۔ کیا سٹائلش انداز ہے ۔۔ لیکن ان میں اکڑ بہت ہے ۔۔ اور بدر صاحب غصے کے تیز ہیں بہت لیکن اچھے ہیں ۔۔۔
تینوں کی آنکھوں کا رنگ مختلف ہے تم اس سے پہچان لینا ۔۔ حیان صاحب کی آنکھیں سیاہ ہیں ۔۔ بدر صاحب کی سرمئی جبکہ عرش صاحب کو گہری بھوری ہیں ۔۔
ویسے بھی سب کے انداز الگ ہیں ۔۔ تم کچھ دن میں ہی جان جاؤ گی ۔۔۔ “
ملازمہ محض سر ہلا کر رہ گئی ۔۔۔اس نے کچن سے باہر جھانکا ۔۔۔ اورهان لوگ سب سے مل رہے تھے ۔۔۔ عرش آگے آیا تو اینارا نے خفگی بھری نگاہ اس پر ڈالی ۔۔۔
برابر کھڑے حیان سے سر پر پیار لے کر وہ نظریں گھماتی باہر نکل گئی ۔۔۔ عرش نے آنکھیں سکیڑ کر اس کے تیوروں کو دیکھا تھا۔۔۔
اورهان لوگ نکلے تو مشی بھی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔
“چلتے ہیں ہم بھی بھائی جان ۔۔۔ میں اب بہت مطمئن ہوں ۔۔۔اللّه پاک سب بچوں کے نصیب اچھے کریں ۔۔۔ میری بیٹی اب چند دن کی مہمان ہے آپ کے پاس ۔۔ اس کا بہت خیال رکھیے گا ۔۔۔ “
وہ زنیشہ کو دیکھ کر پیار سے بولی تو وہ جھینپ گئی ۔۔۔ خدا حافظ کہتے وہ بھی سامنے بنے اپنے بنگلے میں لوٹ گئے
