No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
وائٹ ٹشو کی گھٹنوں تک آتی پھولی فراک کے ہمراہ وائٹ ہی كیپری پہنے وه سنگهار میز کے سامنے رکھے سٹول پر بیٹھی تھی اسکے لبوں پر میٹھی سی مسکان تھی وه بہت جلد اولاد کی نعمت سے نوازی جانے والی تھی۔۔
یہ احساس ہی بہت خوش کن تھا تصور میں وه ننھے ہاتھوں کی نرم نرم سی انگلیوں کو اکثر اپنے چہرے پر محسوس کرتی تھی۔ پیٹ پر ہاتھ رکھتے وه اس انداز میں مسکرائی کہ اسکے چہرے کی چمک دیکھتے اندر آتے ابراھیم نے بےساختہ ماشاءالله کہا تھا۔ دل نے بےساختہ دعا کی تھی کہ ان کی خوشیاں ہر حاسد بری نظر کے شر سے محفوظ رہیں ۔۔۔!
” تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ” ۔۔۔۔
اسکے سامنے آتا وه جزب سے کہتا اسکی پیشانی پر لب رکھ گیا۔ زنیشہ نے بےاختیار آنکھیں موندی تھیں۔
” بہت خوش نصیب ہوتی ہے وه عورت جس کا شوہر اسے عزت کے بعد محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے ، آپ جانتے ہیں عزت عورت کی اولین ترجیح ہے ۔۔ محبت کے بغیر گزارا ہوسکتا ہے ، عزت کے بغیر نہیں۔۔۔!!! “
اسکی جانب نرم نگاہوں سے دیکھتی وه جزب سے بولی تھی شہد رنگ آنکھوں کے کانچ اپنے رب کی دی نعمتوں پر جھلملا سے گئے تھے۔۔۔!
” عورت اسی قابل ہے کہ اسے عزت دی جائے ۔۔۔!!! “
اس کی پشت پر آ کر اسکے ہاتھ سے برش تھامتا وه لفظوں کا حق ادا کر گيا تھا۔
بیوی سے محبت کرنا اسکی پرواہ کرنا ۔۔۔ زن مریدی نہیں ، سنتِ نبوی (ص) ہے۔ عظیم ہوتے ہیں وه مرد جو عورت کو پیر کی جوتی نہیں سر کا تاج بناتے ہیں جسے سجانے سے وه حقیقتاً بادشاہ کہلاتے ہیں ۔۔۔!!!
” ابراھیم میں نے کبھی نہیں چاہا کہ آپ میرے سامنے جھکیں ، میں تو خود کو بس آپ کی پسند کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہوں تا کہ آپ مجھ سے راضی رہیں ۔۔۔! لوگ سمجھتے ہیں عورت ہی مرد کو جھکا کر رکھتی ہے حالانکہ یہ غلط بات ہے میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا ۔۔۔! “
آئینے میں نظر آتے اسکے عکس پر نگاہیں ٹکائے وه اس سے دل کی بات کہنے لگی تھی ۔۔۔! ہاں دل کی بات دل میں بسے کسی خاص سے ہی تو کہی جاتی ہے۔۔۔!
” میں جانتا ہوں دل تم ایسی نہیں ہو ۔۔۔ اور تم جانتی ہو مرد صرف اپنی پسندیدہ عورت کے سامنے ہی جھکتا ہے۔۔۔!!! “
اسکے خوبصورت محبت کی چاشنی میں ڈوبے الفاظ پر وه اٹھلائی تھی، خود پر اترائی تھی۔۔۔!!!
” ابراھیم میرا تیار ہونے کا بلکل بھی دل نہیں چاہ رہا میں کیا کروں ۔۔۔؟ “
سفید پھولے فراک میں سادہ چہرہ لیے بالوں کا سادہ سا جوڑا بنائے وه سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جیسے جو وه کہہ دے گا وه اس پر راضی ہوجائے گی ۔۔۔۔!
محبت میں ایسے مقام کب آتے ہیں ۔۔۔؟ یہ مقام تو عشق کی سرحد پار کرنے پر ملتے ہیں ۔۔۔!
” تم سادگی میں بھی اچھی لگتی ہو ۔۔۔!!! “
وه اسے آرام سے کھڑا کرتا اس کے کاندھے پر مہرون پھولا سادوپٹہ پھیلا گیا ۔۔ وه ہولے سے مسکرائی تھی سر کو خم دیتی وه اس کا کالر درست کرنے لگی تھی۔
الفاظ خاموش ہو چکے تھے لیکن آنکھیں بول رہی تھیں ۔۔ محبت کی زبان ، جو اہلِ دل ہی سمجھ پاتے ہیں۔۔ وه دل کہ جن میں سدا محبت کی ٹھنڈی پهواریں پڑتی رہتی ہیں ۔۔۔!
❤❤❤
سرخ ریشمی غرارا شرٹ بیڈ پر پھیلائے وه گیلے بالوں کو تولیے میں لپیٹتی تفصیلی نظر سے بیڈ پر پھیلے جوڑے کو دیکھ رہی تھی جو وه زیب تن کرنے والی تھی۔
اس نے دایاں ہاتھ اٹھاتے جمائی روکی ۔۔ اسکی ناک سرخ ہورہی تھی کل جو حرکت بدر نے کی تھی اسکے نتیجے میں اسے فلو ہوچکا تھا۔
بدلہ لینے سے باز تو وه بھی نہیں آئی تھی اس نے موقع دیکھتے اسے بالکنی میں دهكیلتے دروازه بند کر دیا تھا کہ اب اس ٹھنڈ کا مزہ وه بھی تو چکھے ۔۔۔!
پھر ترس کھاتے اس نے آدھے گھنٹے بعد ہی دروازه کھول دیا تھا۔ دونوں کا حساب برابر ہوچکا تھا مزید ہمت بھی جواب دے چکی تھی لہٰذا مزید نوک جھونک کے وه بستر میں گھستے سو گئے تھے۔ ارشیہ نے واش روم کا دروازه بجایا وه فریش ہونے میں اتنا وقت لگا رہا تھا باہر بارات نکلنے کا شور مچا تھا اور وه خود بھی ابھی تک تیار نہیں ہوئی تھی۔
” آپییی ۔۔۔ اللّه آپ اب تک تیار ہی نہیں ہوئیں ۔۔۔؟ “
ایرا نے اندر آتے اسے یوں ہی نائٹ سوٹ میں دیکھتے ماتھا پیٹ لیا تھا۔ ارشیہ نے گہری سانس لیتے اسے دیکھا جو نیوی بلیو ریشمی ساڑھی میں آفت جوالا بنی ریشمی بھورے بالوں کو سادے جوڑے میں باندھے ہوئے تھی جو اسکی گردن کو چھو رہا تھا۔
چہرے کے اطراف میں چند ریشمی لٹیں کھلی چھوڑ دی گئی تھیں جو بار بار اسکے گالوں کو بوسہ دینے پر آمادہ نظر آتی تھیں۔ گلابی گلابی سا میک اپ کیے نیلی آنکھوں میں حیرت لئے وه اپنی بہن کو دیکھ رہی تھی جو کبھی کبھی لاپرواہی کی انتہا کردیتی تھی۔
” بس ہورہی ہوں تیار ، پندرہ منٹ لگیں گے تمہیں پتہ ہی ہے میں زیادہ میک اپ نہیں کرتی ایک لپ سٹک ہی لگا لوں تو لوگ گر جاتے ہیں ۔۔۔!!! “
ایک انداز سے کہتے اس نے تولیہ اتارتے بال جھٹکے ۔۔۔ کیا شاہانہ انداز تھا ۔۔۔!
” آپ کی آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہورہی ہیں آپی ۔۔؟ “
وه جاتے جاتے رکی تھی اس آنکھوں کو دیکھ کر ۔۔۔ نیلی چمکتی شیشے جیسی آنکھیں جن کے گوشے سوجھے سوجھے سے تھے۔
” یار رات دیر سے سوئے تھے نہ اس لیے ، تم جاؤ میں ابھی آتی ہوں ۔۔۔!!! “
وه جھک کر سرخ غرارہ شرٹ اٹھاتی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی تو ایرا بھی سر کو خم دیتی باہر چلی آئی ۔ ریشمی پلو کندھے سے پهسل پهسل جاتا تھا جس پر وه جھنجھلا اٹھی۔
” اللّه ۔۔۔ کس سے ٹھیک کرواؤں میں زنیشہ آپو تو رمل آپی اور غزل آپی کے ساتھ پارلر میں ہیں۔۔۔!!! ارشما ماما بھی بزی ہیں ماما ساتھ ۔۔! ہاں مشی آنٹی سے کروا لیتی ہوں ۔۔۔!!! “
خود کلامی کرتی وه ساڑھی فرش سے اٹھاتی صحن کی جانب بڑھی تھی۔
❤❤❤
“رکیں رکیں اتنی جلدی کس بات کی ۔۔۔؟ چلیں ہمارے پیسے نکالیں ۔۔!!! “
بارات کو ہال میں داخل ہوتے دیکھ کر ایرا زنشہ کے ساتھ فٹ سے انٹرنس پر پہنچتی دوپٹے سے ان کا راستہ روک گئی۔
دوپٹے کا دوسرا سرا زنیشہ نے تھام رکھا تھا جبکہ عرشیہ باقی کزنز کے ساتھ کچھ فاصلے پر کھڑی تھی۔
سرخ غرارا شرٹ میں سلور جهمکے پہنے بھورے بالوں کو سٹریٹ کیے وه بےحد دلکش لگ رہی تھی بال سٹریٹ کرنے سے وه گھٹنوں سے بھی نیچے جانے لگے تھے وه اس لک میں بےحد مختلف لگ رہی تھی باقی دنوں سے ۔۔۔!
اسکے اس روپ نے مہرون تھری پیس میں کھڑے دونوں دولہوں کے ساتھ کھڑے بلیک تھری پیس میں ملبوس بدران شاہ کو گهايل کیا تھا۔ مشرقی لباس اس پر بےحد جچ رہا تھا۔
وہیں عرش اپنی بیوی کو دیکھتا مبہوت ہوا تھا، نیوی بلیو ریشمی ساڑھی میں اب اس نے ایک شال کاندھوں پر پھیلا رکھی تھی جس کا مطلب تھا وه عرش کی پسند نہ پسند کا خیال رکھنے لگی تھی۔ وه دهیما سا مسکرایا تھا اسے دیکھ کر ۔۔!
میر نے سمجھتے سر کو خم دیا اس نے جیب سے پھولا ہوا انویلپ نکالا جس میں ایک لاکھ کیش تھا۔۔۔!
” یہ ہماری چھوٹی سی بھابھی کے لیے ۔۔۔!! اور یہ ۔۔۔۔ “
ایرا کی طرف وه لفافہ بڑھاتے اس نے یاور کے ہاتھ سے دوسرا لفافہ پكڑا جس میں اتنا ہی کیش تھا۔
” یہ ریسپیکٹڈ لیڈی کے لیے ۔۔۔!!! “
اس نے تكریم سے وه پیکٹ زنیشہ کی طرف بڑھایا جسے نرم سی مسکراہٹ سے اس نے تھام لیا۔۔
” تھینک یو سو مچ میر بھائی ۔۔۔!!! حیان بھائی آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ کی جان چھوٹ گئی ابھی آپ کی جیب بھی خالی کرواتے ہیں۔۔!”
بچوں کی سی خوشی چہرے پر سجائے وه میر کا شکریہ ادا کرتی حیان کو وارن کرتی بولی تھی جس نے کمال بےنیازی سے کندھے اچکائے تھے۔۔
اس کے پیچھے آتے علی نے اس کی بات پر آنکھیں گھمائی تھیں ۔۔ شکر تھا آج پیٹ کا خانہ خراب ہونے کی بجائے قدرے بہتر تھا۔۔۔! گزرے وقت کا احساس کرتے ماہ بیر لوگوں نے معاملہ رفع دفع کیا تھا۔ ہجوم میں گھرے دونوں دولہے فلیش لائٹس کی روشنی میں سٹیج کی جانب بڑھ گئے ۔۔
❤❤❤
کھانے سے فراغت پا کر دونوں دلہنوں کی انٹری ہوئی تھی۔ ڈیپ مہرون ایک جیسے لهنگوں میں بھاری مہرون دوپٹے سروں پر ٹکائے وه دیکھنے والی ہر آنکھ کو مبہوت کر گئی تھیں۔
ڈیپ مہرون لپ سٹک سے رنگے لب ، درمیان کی مانگ میں سجی مہرون نگینوں سے مزین ماتھا پٹی جس کے نگینے ناک میں پہنی نتھ سے میل کھاتے تھے۔
سرخ رخساروں پر جھکی گھنی پلکیں جو بھر بھر کر مسکارہ لگانے سے اور بھی واضح ہورہی تھیں۔ دونوں کے جوڑے بھی ایک جیسے تھے جو گردن کی سائیڈ سے نظر آتے تھے۔
بہترین فرانسیسی طرز کے بنے جوڑے ۔۔۔ بس فرق تھا ان کے رنگ کا ۔۔ غزل کے بال اسکے مہرون لھنگے سے میل کھا رہے تھے جبکہ رمل کے بال کالے تھے جن کی چمک ان کے بےحد ریشمی ہونے کا پتہ دیتی تھی۔
ارد گرد موجود لڑکیوں کے نرغے میں چلتے ہوئے غزل نے ایک پل کو نگاہ اٹھا کر سامنے دیکھا تھا۔ كاجل کی لکیر میں پروئی ہری کانچ سی دہکتی آنکھیں سیدھا حیان سے ٹکرائی تھیں ۔
كیمرہ مین نے اس لمحے کو کیمرے میں مقید کیا تھا۔ جونہی وه دونوں سٹیج تک آئیں دونوں دلہے اٹھتے ان کے مقابل آئے تھے۔ جھکتے انہوں نے اپنی اپنی بیویوں کی طرف ہاتھ بڑھایا جو جن کو تھامنے کا پرمٹ نکاح کی صورت میں انہیں مل چکا تھا۔۔
وه جھک کر مظبوط ہتھیلی ان کے سامنے پھیلائے ہوئے تھے اور وه سر اٹھائے اپنا ہاتھ بڑی نزاکت سے ان کے ہاتھ پر رکھ گئیں۔۔ یہ ایسا منظر تھا کہ اگر اسے محفوظ نہ کیا جاتا تپ لمحات و احساسات کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔۔
ہال میں شور سا برپا ہوا تھا ان کے ہاتھ تھامنے پر ۔۔۔ نہایت احتیاط سے انہوں نے سٹیج پر چڑھنے میں ان کی مدد کی ۔۔ حیان بغیر کسی کی پرواہ کیے جھکا تھا جس سے وہی لٹ پیشانی پر آ گری تھی۔
غزل کے قدموں کی جانب سے لهنگا درست کرتے وه اسے لیے پیچھے سجے صوفے کی طرف بڑھ گیا۔ وہیں میر کے ساتھ چلتی رمل ایک پل کو لڑکھڑائی تھی لھنگا اس کے پیروں میں اٹکا تھا جب میر حاصل نے فورا سے اسے تھاما تھا ۔۔
” اعتبار کر لیں بلکل اندھا ۔۔۔! گرنے نہیں دوں گا ۔۔۔! نہ زندگی کی راہوں میں نہ دنیا کی نگاہوں میں۔۔۔!!! “
اسکے دھیمے لہجے پر وه ایک پل کو نظر اٹھاتی اسے دیکھے گئی پھر دهیمی مسکان چہرے پی سجاتی اسکے ساتھ آگے بڑھ گئی۔۔ کچھ وقت فیملی فوٹو شوٹ چلتا رہا پھر ایک ایک کرتی سب کزنز سٹیج پر چڑھ آئیں۔۔۔
زنیشہ منہ بنائے سٹیج کی پاس رکھے صوفے پر بیٹھ گئی زیادہ اوپر نیچے ہونا اس کے لیے ٹھیک نہیں تھا اب تو دن بھی قریب آ رہے تھے۔ ابراھیم نے اسے تلاشا تھا اس پر نگاہ پڑتے وه سٹیج سے اترتا اس کے پاس آیا۔
” تم ٹھیک ہو ۔۔؟ کہیں درد تو نہیں ہورہا یا دل خراب ۔۔۔؟ “
اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتا وه فکرمندی سے بولا تھا۔ زنیشہ نے اس کا بازو پکڑتے اسے ساتھ بٹھا لیا اس کے کسرتی بازو پر سر ٹکاتی وه منہ بناتی کہنے لگی۔۔
” سب انجوائے کر رہے ہیں میں اکیلی بیٹھی ہوں بس ۔۔۔!!! “
شکوہ سا شکوه تھا۔ اسکی کنڈیشن سمجھتا وه اس کے گرد بازو پھیلاتا اسے ساتھ لگا گیا۔۔
” میرا بچہ میں تو ہوں نہ آپ کے ساتھ ۔۔۔؟ کھانا کھایا تھا ۔۔۔؟ ” اسکا سر چومتا وه اسکا دیہان بٹانے لگا تھا۔ وه اسکا ہاتھ تھامتی لاپرواہ انداز میں کہنے لگی ۔۔
” سیلڈ کھایا تھا نہ باقی سب سپائسی تھا۔۔۔!! “
ابراھیم نے اشارے سے ویٹر کو جوس لانے کا کہا۔۔ ایک کیمرہ مین ایونٹ کی پكچرز بناتا ادھر آ نکلا تھا ابراھیم کو دیکھتے وه پرجوش سا گویا ہوا ۔۔
” میجر آئ ابراھیم میں آپ کا بہت بڑا فین ہوں ۔۔۔! کیا میں آپ کے ساتھ ایک تصویر لے سکتا ہوں ۔۔۔؟ “
زنیشہ نے دلچسپی سے ابراھیم کو دیکھا تھا جو سر اثبات میں ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔ سیلفی لینے کے بعد كیمره مین وہاں سے خوشی خوشی چلا گیا۔
“کیا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ۔۔۔؟ “
واپس بیٹھتا وه اسکے تاثرات دیکھتا ابرو اچکا گیا۔
” بڑے فین ہیں میجر ابراھیم کے ۔۔۔ لیکن میجر ابراھیم کس کا فین ہے ۔۔۔؟ “
وه اسکے سینے پر انگلی رکھتی لب دبا گئی وه مسکایا تھا اسکی بچکانہ حرکت پر ۔۔۔!
” آپ کا ۔۔۔!!!” جھک کر کہتا وه جوس کا گلاس ویٹر سے تھامتا اس کے لبوں سے لگا گیا جس پر وه برے برے منہ بناتی آہستہ آہستہ جوس پینے لگی۔
سٹیج پر جھانکو تو ایرا حیان کی جانب سجا ہوا دودھ کا گلاس بڑھا رہی تھی جبکہ ارشیہ میر کی جانب ۔۔ میر سے تو وه پیسے نکلوا چکے تھے اب حیان کے سامنے وه کمر پر ہاتھ ٹکا کر کھڑی ہوتی دوسرا ہاتھ اسکے سامنے پھیلا گئی۔
” چلیں بھئی دودھ پلائی کی رسم کے بدلے اپنی سب بہنوں کو پیسے دیں ۔۔ اتنا نیک کام کیا ہے ہم نے ۔۔۔! ایک تو یہ ٹیسٹی مِلک دوسرا اپنی بہن آپ کو دے رہے ہیں ۔۔۔!!! “
اسکے یوں پارٹی بدلنے پر حیان عش عش کر اٹھا۔
” ایسا ہے کہ اپنی بہن اور یہ دودھ واپس لے لو ۔۔۔!!! “
بڑھی ہوئی داڑھی كهجاتا وه لاپرواہ انداز میں کہتا اسے گلاس تھما گیا جس میں لگے سٹرا سے اس نے ایک گھونٹ بھرا تھا۔ اسکی سیاہ آنکھوں میں شرارت سی رقصاں تھی۔ جہاں ایرا کا منہ کھلا وہیں سب لڑکوں کا قہقہہ پڑا۔
لڑکیوں کی بےعزتی پر وه ہنس ہنس کر دہرے ہوگئے جن میں سرفہرست علی تھا۔ ایرا نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے پھر عرش کو گھورا جس کے تاثرات میں بھی مسکراہٹ گھلی تھی۔
نیچے مشائم ، ارشم ، ایرا ، اورهان ، صالح اور ماہ بیر ایک ساتھ کھڑے انہیں دیکھ کر لطف اٹھا رہے تھے اب دیکھنا تھا جیت کس کی ہونی تھی۔
“عرش ۔۔۔ آپ کیوں مسکرا رہے ہیں ۔۔؟؟ “
وه تنک کر بولی تھی جس پر عرش کا چہرہ فورا سنجیدہ ہوا جیسے کہہ رہا ہو میں ایسی غلطی کر سکتا ہوں بھلا ۔۔۔؟
ان سب کو ایک نظر دیکھتے غزل نے غیرمحسوس انداز میں حیان کے بازو پر چٹکی کاٹی جس پر وه چونک کر اسے دیکھنے لگا ۔۔
” واپس بھیجنے کے لیے نکاح کیا ہے ۔۔۔؟ “
دوپٹہ ٹھیک کرتے اس نے چہرے کے سامنے ہاتھ کرتے دانت پیس کر کہا ۔۔ وه مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا دهیمی آواز میں گویا ہوا ۔۔
” اونہوں ۔۔۔ تمہیں فرصت سے جاننے کے لیے نکاح کیا ہے ، ایک اور جواب بھی ہے لیکن اس وقت مناسب نہیں ۔۔۔!!!”
وه اپنے کہے الفاظ کے گہرے مطلب سے پل میں اسکی بولتی بند کر گیا۔
بدر نے ارشیہ کا ہاتھ پکڑتے اسے قدرے دور کیا تھا جس پر وه ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
” تم نہیں مانگو گی چاہے میرا بھائی ہے لیکن میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میری بیوی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے ۔۔ ویسے بھی کیا ضرورت ہے اس فضول رسم میں حصہ ڈالنے کی جب یہ اتنا ہینڈسم بندہ اور اسکی ساری دولت تمہاری ہی ہے ۔۔۔!!! “
وه خاصے مغرور انداز میں بولتا دائیں آنکھ دبا گیا۔ ارشیہ نے مسکراہٹ دباتے اسکی جانب سے رخ بدلہ تھا۔
” پاگل ہو تم ۔۔۔!!! “
مسکان دباتی وه اسکے بازو پر مکا مار گئی جس پر وه ہلکا سا مسکرا دیا۔۔ سرمئی آنکھیں مسلسل اس پر ٹکی تھیں جنھیں محسوس کر کے وہ چہرہ اسکی جانب گھماتی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔ اس کی نیلی کانچ سی چمکتی آنکھوں کو خود پر مرکوز پا کر وه ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔۔
” میں مر جاؤں گا یار تمہارے قاتل نینوں کے وار سے ،،، واللہ الٹی چھری سے حلال کرتے ہیں میرے دل کو ۔۔۔!!! “
اسکے خالص عاشقانہ انداز پر وه کوشش کے باوجود مسکراہٹ نہ روک پائی یہ بندہ اپنی باتوں سے اسے زیر کر کے ہی رہے گا۔ “بکواس نہ کرو اتنی جلدی مرنے نہیں دوں گی ۔۔۔!!!”
اسکے پیٹ میں کہنی مارتی وه حیان کی جانب متوجہ ہوئی۔
” سر مانگے والیوں کو جلدی فارغ کر دیں ۔۔۔!!! آج تو جمعرات بھی ہے ۔۔۔!!! “
کہتا ہوا وه زوردار قہقہہ لگا گیا۔ عرش نے اسکی گردن میں ہاتھ ڈالتے اسے مسکراتی نظروں سے دیکھا جس پر علی کے حلق میں گلٹی ابھری ۔۔ بےتاثر آنکھوں سے زیادہ خطرناک مسکراتی آنکھیں ہوتی ہیں اتنا تو وه اب تک کے کرئیر میں جان چکا تھا۔
حیان نے مزید دیر کیے بغیر بلینک چیک اسکی جانب بڑھا دیا جس پر خوشی سے چہکتی اسکا شکریہ ادا کر گئی ۔۔
” اوہ مائی گاڈ بلینک چیک ۔۔۔! تھینکس حیان بھائی ۔۔۔!!! “
چیک لہراتی وه باقی کزنز کے ساتھ سٹیج سے نیچے اتر گئی۔۔ مزید ایک گھنٹے بعد رخصتی کا شور اٹھا تھا جس کے بعد دونوں قافلے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوگئے ۔۔۔!
❤❤❤
سرد موسم اور تھکن کے باعث واپس آتے ہی سب لباس تبدیل کرتے اپنے اپنے بستروں میں گھس گئے ایسے میں نگہت اور نوشین نے ہمت کرکے گرما گرم چائے بنا کر سب کے کمروں میں پہنچا دی ۔۔
بشیر چائے لے کر یوسفز کے بنگلے میں چلا گیا جہاں ارشما مشائم کے پاس ٹھہر گئی تھی۔ اپنی پھول جیسی بیٹی کو وداع کرنا اس کے لیے بلکل بھی آسان نہیں تھا۔
واپس شاہوں کے بنگلے میں جھانکو تو ارشیہ غزل کو لیے حیان کے روم میں آئی تھی جسے گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ غزل کو بیڈ پر بٹھاتی وه ہیٹر آن کر کے نرمی سے اس سے مخاطب ہوئی۔
” تمہارے کپڑے وارڈروب میں رکھے ہیں ۔۔۔!! ٹیبل پر فروٹس بھی رکھے ہیں ۔۔! اگر تمہیں کچھ اور بھی کھانا ہو تو انٹرکام پر بشیر کو بلا لینا، ہمارا پرانا سرونٹ ہے۔۔۔!
اینڈ ون مور تھینگ کوئی بھی پرابلم ہو بلا جھجھک مجھے یا ایرا کو بتا دینا ہمارے روم کچھ آگے ہی ہیں اوکے ۔۔۔؟ “
ارشیہ کے نرمی سے بات کرنے پر وه سر اثبات میں ہلا گئی ۔۔ تھوڑی دیر پہلے جو دل گھبرانے لگا تھا اب پرسکون ہوگیا تھا۔۔
” تھینکس عرشیہ ۔۔۔!!! “
وه بھی نرمی سے بولتی مسکرائی تھی۔ اسکے ہونٹ کے خم پر چمکتا تل واضح ہوا تھا جس نے ارشیہ کی توجہ کھینچی ۔۔۔!
” یو آر سو پریٹی غزل ۔۔۔ لکنگ لائک آ ڈول ۔۔۔!!! “
خوشگوار لہجے میں کمپلیمنٹ دیتی وه ازلی مغرور چال چلتی کمرے سے باہر جاتی آہستہ سے دروازہ بند کر گئی۔ غزل نے جلدی سے اٹھ کر ڈور لاک کیا تھا پتہ نہیں کیوں ۔۔۔!!!
❤❤❤
میر حاصل کا خوبصورت پیلس ہر طرف سے گلاب کے پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ شیشے جیسے دکھتے زینوں سے منسلک دوسری منزل کا سفید فرش سرخ پھولوں کی قطار سے ڈھکا ہوا تھا جو ماسٹر بیڈ روم کے سامنے جا کر رکتی تھی۔
سفید لکڑی کے دروازے سے اندر جھانکو تو ہر شے سفید نظر آتی تھی سفید فرنیچر ، سفید قالین سفید ریشمی پردے سامنے کی دیوار سے نصب زمین پر ترچھا رکھا وائٹ مرر جس کے اطراف تو سفیدی سے ڈھکے تھے جبکہ بیچ میں قد آور گول آئینہ تھا۔
ہر شے سفید تھی شفاف سی جن میں دو وجود نمایاں تھے۔ سفید سلک کی بیڈ شیٹ پر لہنگا سمیٹتی رمل اور اس کے سامنے گھٹنا موڑ کر بیٹھا وه جو اپنی سلطنت کا شہزادہ تھا جو اپنی شاہزادی کو پوری شان سے اپنی سلطنت میں لے آیا تھا۔
وه نظریں جھکائے بیٹھی تھی دل تھا کہ زوروں سے دھڑکتا جا رہا تھا۔ اسکا یہ روپ دیکھتا وه گرد و پیش فراموش کر بیٹھا تھا۔ منظر میں بس وه تھی جس کے لب آج ساکت تھے۔ جس کی ناک میں پہنی نتھ اس کے دل کو عجیب طرح سے اپنی اوڑھ کھینچ رہی تھی۔ ہاں یہ سنگهار اسی کے لیے ہی تو تھا۔
” آپ کی خوبصورتی کو سراہنے کے لیے الفاظ معذرت کر گئے ہیں ۔۔۔!!! “
آہستہ سے اس کی نتھ کو چھوتا وه ہولے سے مسکرایا تھا۔ اسکے ہاتھ کا لمس چہرے پر محسوس کرتے وه خود میں سمٹی تھی۔
” آپ کے لیے ادنیٰ سا تحفہ ۔۔۔!!! “
جیب سے مستطیل شکل کا باکس نکالتے اس نے رمل کی جانب بڑھایا جسے وه کچھ سیكنڈ بعد تھام گئی۔ باكس کھولتے اسکی آنکھوں میں ستائش ابھری تھی بریک سی چین تھی جس میں تین ننھے ہیری پروئے گئے تھے ان کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔
“تھینک یو ۔۔۔!!! “
وه ایک پل کو جھکی پلکیں اٹھا کر کہتی پھر سے پلکیں جھکا گئی۔۔
” میں چینج کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔!!! “
وه ذرا جھجھک کر بولی جانے اسکا کیا ردعمل ہو ۔۔ وه اٹھ کھڑا ہوا جس پر رمل نے فورا اسے دیکھا تھا۔
” چینجنگ روم میں آپ کے کپڑے اور دوسرا سامان موجود ہے آپ فریش ہوجائیں میں کھانے کے لیے کچھ لاتا ہوں يقینا آپ کو بھوک لگ رہی ہوگی ۔۔۔!!! “
بغیر برا منائے وه نرم لہجے میں بولا جس پر رمل نے شکر کا سانس لیا۔
” نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔!!! “
اسے دیکھ کر انکار کرتی وه لهنگا سنبهال کر اٹھ کھڑی ہوئی وه سر کو خم دیتا روم سے باہر چلا گیا تا کہ وه ریلیكس ہو سکے ۔۔۔!
رمل نے سختی سے آنکھیں میچیں اسے واقعی بھوک لگ رہی تھی لیکن اس نے منع کر دیا۔ ” آخر ہو کیا رہا ہے مجھے؟ کیوں گھبرا رہی ہوں اسکی موجودگی میں ۔۔۔؟ “
خود کو کوستی وه کمرے سے منسلک چینجنگ روم میں چلی گئی۔ قریب بیس منٹ بعد وه بلیک سلک کی ٹراؤزر شرٹ پر بلیک لانگ سویٹر پہنے سینے پر ہاتھ لپیٹے باہر آئی۔ اس کے بال کھلے ہوئے تھے جنہیں وه جوڑے میں لپیٹنے کے لیے اپنے پرس میں رکھے ہیئر کیچر کو نکالنے کے ارادے سے باہر آئی تھی۔۔
جب میر کو کمرے کے وسط میں اپنی جانب پشت کر کے کھڑے پا کر اسے بریک لگا۔ وه بھی بلیک ٹی شرٹ اور ٹرؤزر پہنے ہوئے تھا۔ کمرے میں ہیٹر کے باعث حرارت تھی جس کے سبب اسے سردی محسوس نہیں ہورہی تھی۔
وه اسے اپنے پیچھے پا کر پلٹا تھا۔ اسے پہلی بار یوں بغیر دوپٹے کے دیکھ کر وه مبہوت ہوا تھا دھیرے دھیرے وه اسکی جانب بڑھنے لگا تھا وه سرعت سے پلٹی تھی اس کے ہر بڑھتے قدم کے ساتھ دل کی دھڑکن بھی سوا ہونے لگی تھی۔
وه اس کی پشت پر چند انچ کے فاصلے پر آ کھڑا ہوا تھا۔ دھیرے سے بازو اسکی کمر کے گرد باندھتے وه اسکے ریشمی سیاہ بالوں میں چہرہ چھپا گیا۔
وه ساکت ہوئی تھی اسکی قربت پر ۔۔۔ دل یوں تھا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا۔۔۔!
” بہت شدت سے انتظار کیا تھا دل نے اس لمحے کا جب میں پورے حق سے آپ کی مہک سانسوں میں اتار سکوں ۔۔۔! دل کو جیسے يقین نہیں آ رہا میری محبت میری بانہوں کے حصار میں ہے ۔۔۔!! قربِ محبت ایسا سکونِ دل ہے جسے الفاظ میں بیاں نہیں کرسکتا۔۔۔! “
ہاتھوں کی گرفت مظبوط کرتا وه وه اسکی گردن میں چہرہ چھپانے لگا تھا۔ وه سہم گئی تھی اس کے پرشدت انداز پر ۔۔۔!
” میر ۔۔۔۔۔؟؟ “
ٹوٹی پھوٹی آواز میں اس کے لبوں سے اسکا نام جدا ہوا تھا۔ وه تڑپ اٹھا تھا اسکی روہانسی آواز پر ۔۔۔ اسکے لبوں سے محض اسکا نام ادا ہوتا تو وه قربان جاتا مگر یہ لہجہ تھا جس نے میر حاصل کو بےچین کیا تھا۔
اس نے دو قدم پیچھے ہٹتے رمل کا رخ اپنی جانب کیا تو اسکی کالی آنکھوں میں تیرتا پانی دیکھ کر ساکت ہوا تھا ۔۔
“رمل ۔۔۔؟ آپ رو کیوں رہی ہیں ۔۔۔؟؟”
اسکا ہاتھ تھام کر اسے قریبی صوفے پر بٹھا کر وہ پنجوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا۔
“آئی ڈونٹ نو ۔۔۔ میرا دل ۔۔ بہت ۔۔ گھبرا ۔۔ رہا ہے ۔۔۔!!! “
وه گال پر لڑھکتے آنسو صاف کرتی شرمندگی سے بولی تھی۔ میر کو چند سیکنڈ لگے تھے سمجھنے میں ۔۔۔
وه اسکی قربت سے گھبرا رہی تھی ۔۔۔! ہمیشہ وه جنس مخالف سے ایک فاصلے پر رہی تھی اب یوں اسے قریب پا کر وه گھبرانے لگی تھی۔
” اٹس اوکے ۔۔۔ ایوری تھینگ از اوکے ۔۔۔! رمل میری طرف دکھیں ۔۔۔!!! “
وه اسکی ٹھوڑی تلے انگلی رکھتا اسکا جھکا چہرہ اٹھا گیا۔ دونوں کی نظریں ملی تھیں۔۔!
” میں دو عورتوں کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کر سکتا ، کبھی نہیں۔۔۔!!! “
کہتا ہوا وه رکا تھا جس پر وه سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
” ایک آپ ہیں ۔۔۔ دوسری میری ماما ۔۔۔ وه بھی بہت مظبوط تھیں آپ کی طرح خیر ۔۔۔! رمل آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔! آپ پہلے مجھے جان لیں اچھی طرح ۔۔۔ میں زبردستی تعلق بنانے کا قائل نہیں ہوں ۔۔۔!!! “
اسے یونہی خاموش بیٹھا دیکھ کر وه گہری سانس لیتا اٹھ کھڑا ہوا۔
” تم ناراض ہو مجھ سے ۔۔؟ “
اسکے مقابل کھڑی ہوتی وه لب کاٹتی بولی تھی وه مسکراہٹ دبا گیا اسکا یہ روپ دیکھ کر ، اسکے دیکھنے سے پہلے ہی وه چہرہ سنجیدہ کر گیا ۔۔
” ہمم ہوں ناراض لیکن اس سے کیا ہوتا ہے ۔۔۔؟ محبت تو مجھے آپ سے ہے ، آپ کو تھوڑی مجھ سے ۔۔۔!!! “
دهیمے لہجے میں کہتا وه رخ بدل گیا الفاظ اور لہجے کےبرعکس اسکے تاثرات میں مسکان گھلی تھی جبکہ شہد رنگ آنکھوں میں محظوظ تاثر تھا۔
” تم ایسے کیوں کہہ رہے ہو ۔۔۔ دیکھو پلیز ۔۔۔ آئی ایم سوری ۔۔۔!!! ” اس کی پشت سے گھوم کر سامنے آتی وه بےربطگی سے کہتی پھر سے لب کاٹنے لگی۔
وه شدید ڈسٹرب ہوا تھا اسکی حرکت پر ۔۔ اسکے جھکے سر کو دیکھتا وه انگوٹھے سے اسکا لب آزاد کر گیا۔
” یوں مت کریں ۔۔۔!!! “
وه جھک کر اس کے لب کے کنارے پر اپنے لب رکھ گیا۔ وه ایک قدم پیچھے ہٹی تھی جسم میں جیسے کرنٹ سا دوڑ گیا تھا۔
” میرے سامنے کھڑی یہ لڑکی تو کوئی اور ہی لگتی ہے ۔۔۔ تم نے میری بیوی کو دیکھا ہے کہیں ۔۔۔؟ لگتا ہے کھو گئی ہے ۔۔۔!!! “
اس کے چھیڑتے انداز پر اسے پہلی بار ہنسی آئی تھی۔۔
“میں سونے لگی ہوں ۔۔۔!!! “
ایک نظر اسے دیکھتی وه بیڈ کی جانب بڑھ گئی ۔۔ میر نے گہری سانس لیتے خود کا کاندھا تهپتھپایا۔۔
” ہاں سو جاتے ہیں کیا پتہ پھر میرا ارادہ بدل جائے۔۔۔۔!!! “
وه بھی اپنی سائیڈ پر نیم دراز ہوگیا۔ رمل نے اسکے کہے الفاظ پر ایک پل کو آنکھیں میچیں تھیں۔۔۔! بلینکٹ منہ تک لیتی وه فٹ سے آنکھیں موند گئی۔۔
❤❤❤
