Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

عرش نے فوراً موبائل آن کیا تو سامنے ہی حیان ، رمل اور بدر کی بے شمار مسڈ کالز اور میسجز نظر آئے ۔۔۔ اس نے ایک ویڈیو لنک کھولا جو رمل نے اسے بھیجا تھا ۔۔۔
ویڈیو دیکھتے ہی اس کا چہرہ خطرناک حد تک سرد ہوا تھا ۔۔۔ لب سختی سے بھینچے وہ موبائل پر چلتی ویڈیو دیکھ رہا تھا۔۔
جس میں “حیا خان” روتے ہوئے اس بات کا اقرار کررہی تھی کہ مشہور ماڈل “عرشمان شاہ” نے اسے دھوکے سے اپنے جال میں پهنسا کر اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔
وہ اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی ۔۔۔ عرش جبڑے بھینچ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ غصے کی شدت سے اس کا چہرہ سرخ پڑ رہا تھا ۔۔۔ گہری بھوری آنکھوں کا رنگ سیاہی مائل ہوا تھا ۔۔۔ ماہ بیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
“عرش ۔۔۔ ہم تمھارے ساتھ ہیں ۔۔۔ تم فکر مت کرو میں نے حیان کو کہا ہے ۔۔۔ ” عرش نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
“نہیں بابا ۔۔۔ کسی سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ یہ میرا معاملہ ہے ۔۔ اسے میں ہی نبٹاؤں گا ۔۔ “
کمرے میں گھٹن جیسے بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
ارشما پریشان چہرہ لئے اندر آئی ۔۔۔ لب کاٹتی وہ ان دونوں کو بات کرتے دیکھنے لگی ۔۔ اس کے بیٹے پر کیسا گھٹیا الزام لگا تھا ۔۔۔ اس کا تو دل ہی چھلنی ہوگیا تھا ۔۔۔
” بیٹا غصے میں ہوش نہ گنوا بیٹھنا ۔۔۔ تمہاری معمولی سی غلطی اس لڑکی کے الزام کو سچ ثابت کر سکتی ہے ۔۔۔ !!! ” ماہ بیر کے متفکر ہونے پر عرش نے ایک پل کو ان کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔۔
” مجھ پر بھروسہ رکھیں بابا ۔۔ میں سب ٹھیک کر لوں گا !!! ۔۔۔ “
اس کی آنکھیں چمکی تھیں بلکل شاہین کی طرح ۔۔۔ ارشما کو پریشانی سے خود کو دیکھتے پا کر اس نے آگے بڑھ کر نرمی سے اس کا سر چوما ۔۔۔
“ماما پریشان نہ ہوں آپ ۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا !!! ۔۔۔” انہیں تسلی دے کر وہ کبرڈ سے سفید پینٹ شرٹ نکال کر واش روم میں گھس گیا ۔۔۔ پانچ منٹ میں شاور لے کر جب وہ باہر آیا تو وہ دونوں جا چکے تھے ۔۔۔
اس نے گلے میں عقاب کی آنکھ والا پینڈنٹ پہنا ۔۔۔ اس کے چہرے کے تاثرات ایسے ہو رہے تھے جیسے وہ پلک جھپكنے میں ہر چیز تباہ کر دے گا ۔۔۔
جلدی سے تیار ہو کر اس نے اپنی ڈیزائنر جیکٹ پہنی اور کار کی چابی لے کر آندھی طوفان بنا باہر نکل گیا ۔۔۔ ریش ڈرائیونگ کرتا وہ کچھ ہی دیر میں حیا کے گھر کے باہر تھا ۔۔
گردن کو دائیں بائیں جھٹکتے اس نے آنکھیں سکیڑیں ۔۔۔ پیشانی پر لاتعداد شکنوں کا جال لیے وہ گیٹ سے اندر آیا جب ایک گارڈ نے اسے روکا ۔۔۔۔
عرش نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک زوردار پنچ اس کے منہ پر مارا جس سے وہ کئی فٹ دور جا گرا ۔۔۔ اس نے باڈی بلڈنگ یونہی تو نہیں کی تھی ۔۔۔
لاؤنج سے ہوتا وہ ایک ایک کمرہ چیک کرنے لگا جب ایک کمرے میں بالاخر وہ اسے نظر آ ہی گئی ۔۔۔ مہرون سلک کی سلیولیس نائٹی پہنے لبوں پر دل جلی مسکراہٹ سجائے وہ اسے دیکھتی سیدھی ہوئی ۔۔۔
” آ گیا میلا بے بی !! ۔۔۔” کہتے ساتھ وہ قہقہہ لگا گئی ۔۔۔ وہ خطرناک تیوروں سے اس کی جانب بڑھا ۔۔۔ کمرے میں اٹھتی گلاب کی خوشبو تواتر نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی ۔۔۔
حیا نے اطراف میں نظر ڈالی ۔۔۔ کھڑکیوں سے پردے وہ پہلے ہی ہٹا چکی تھی جس سے یخ ٹھنڈی ہوا اندر آتی اسے ٹھٹھرنے پر مجبور کررہی تھی۔۔۔
عرش نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا جو بیڈ پر نیم دراز سی ۔۔۔ انگڑائی لے رہی تھی ۔۔ وہ جھکا ۔۔ اس نے اپنے مظبوط ہاتھوں کی گرفت اس کی نازک گردن پر تنگ کردی ۔۔۔ حیا کی آنکھیں ابل پڑیں ۔۔۔
” کہا تھا نہ مجھ سے دور رہو ۔۔ میری ذات سے ۔۔۔ میرے نام سے ۔۔۔۔ دور رہو ۔۔۔ میں وہ مرد نہیں جو تم جیسی گھٹیا عورتوں کے دل لبهاتے ہیں تلوے چاٹتے ہیں ۔۔۔ بہت بڑی کوتاہی سرزد کردی تم نے ۔۔ چھوڑوں گا نہیں میں تمہیں ۔۔ “
اس کی گردن دباتے وہ سرخ آنکھوں سے دیکھتا داڑھا تھا اس کے منہ پر ۔۔۔ اس کی کنپٹیاں سلگ رہی تھیں طیش سے ۔۔۔
اپنے گلے پر اس کے ہاتھوں کی گرفت ہلکی ہوتی دیکھ کر حیا نے زور لگا کر اپنی گردن کو اس کے شکنجے سے آزاد کروایا ۔۔
اس کے گلے میں بازو ڈال کر کھینچتی وہ بیڈ پر گرتی ہنسنے لگی ۔۔۔ گردن پر انگلیوں کے سرخ نشان چھپ چکے تھے ۔۔۔
“جان غصہ چھوڑ بھی دو اب ۔۔۔ ان لمحات کو محسوس کرو جو ہمیں میسر ہیں ۔۔ “
اس کے لبوں پر انگلی ركهتی وہ بہکے لہجے میں بولی ۔۔۔ اس کے وجود سے اٹھتی خوشبو میں گہرا سانس لیتی وہ آنکھیں موند گئی ۔۔۔ اس کی ڈھیلی نائٹی کا سٹریپ ڈھلک چکا تھا ۔۔۔
عرش نے نفرت سے اسے دور جھٹکا ۔۔ اس کی مکروہ ہنسی دیکھ کر وہ آپے سے باہر ہوگیا ۔۔۔ اس کا مظبوط ہاتھ اٹھا اور پے در پے اس کے نازک گالوں پر نشان چھوڑتا گیا ۔۔
حیا کی ساری خماری پل میں اڑن چھو ہوئی ۔۔ وہ جنگلی بلی بنی اٹھی ۔۔
” کہا تھا نہ بدنام کردوں گی تمہیں ۔۔۔ تمهاری اسی ۔۔ اسی ۔۔ ایگو اور اکڑ کی وجہ سے ۔۔ کسی مرد نے آج تک حیا خان کو انکار نہیں کیا ۔۔۔ تم ۔۔ تم سمجھتے کیا ہو خود کو ؟ ؟
وہ ہزیانی انداز میں بکتی گئی ۔۔۔ عرش نے تیکھی سرد نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
” نواب سمجھتا ہوں خود کو ۔۔۔ پیدائشی نواب !!! ۔۔۔ “
وہی گو ٹو ہیل انداز ۔۔۔ !!
“آخر کس چیز کی کمی ہے مجھ میں ۔۔۔؟ دیکھو ایک بار غور سے ۔۔۔ تم نے کبھی دیکھا ہو تو جانو کیسی آفت ہوں میں !!! ۔۔۔ “
حیا نے پینترا بدلا ۔۔
” حیا کی کمی ہے تم جیسی بے حیا لڑکی میں !!! ۔۔۔” نفرت سے پھنکارتا وہ پلٹ گیا ۔۔۔
“میرے کردار پر انگلی اٹھا کر تم نے بہت بڑا گناہ کیا ہے ۔۔۔ اب دیکھنا میں کس طرح تمہاری انگلی سمیت تمہارا ہاتھ توڑتا ہوں ۔۔۔ “
ٹھٹھرتے لہجے میں کہتا وہ جا چکا تھا ۔۔۔ پہلی بار ۔۔ ہاں پہلی بار حیا کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑی تھی ۔۔ کمرے کی فضا میں گلاب کی خوشبو اب تک رچی ہوئی تھی ۔۔۔
پردے ہوا کے زور سے پھڑپھڑا رہے تھے ۔۔۔ وہ یونہی ساکت بیٹھی تھی ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اس کے موبائل پر نوٹیفیکیشنز آنے لگیں ۔۔۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل آن کیا ۔۔۔
اسے کئی لوگوں نے عرش کی لائیو چلتی ویڈیو میں ٹیگ کیا تھا۔۔ وہ کہہ رہا تھا ۔۔۔
” عرشمان شاہ !! جانتے ہوں گے مجھے آپ سب ۔۔۔ ملک کا ایسا ٹاپ ماڈل جس نے کسی لڑکی کے ساتھ آج تک کام نہیں کیا ۔۔ سوچنے کی بات ہے جو انسان خواتین کو دیکھتا تک نہیں ۔۔۔ اس کے ساتھ کام نہیں کرتا ۔۔۔
آپ لوگوں کے مطابق “گرلز الرجک” ۔۔۔ وہ یوں اچانک ایک جانی مانی ماڈل “حیا خان ” کے ساتھ تعلق بنائے گا پھر اس کے ساتھ زبردستی کی کوشش کرے گا تا کہ وہ اسے میڈیا پر بدنام کرے ؟
کیا یہ بات آپ کی عقل میں سماتی ہے ؟ مجھے کبھی حیا خان کے ساتھ سپاٹ کیا گیا ؟ اب میں بتاتا نہیں بلکل آپ کو سناتا ہوں حقیقت کیا ہے !! ایک منٹ ۔۔۔
اس نے موبائل پر ایک آڈیو پلے کی جس میں حیا اس سے نامناسب مطالبات کررہی تھی جس کے جواب میں عرش نے اسے بری طرح دهتکارا تھا ۔۔۔جس پر حیا نے اسے بدنام کرنے کی دهمكی دی تھی ۔۔۔
آڈیو بند کر کے عرش تیکھا سا مسکرایا ۔۔
“اب جان گئے ہوں گے آپ سب ۔۔۔ بہت شکریہ جنہوں نے مجھے اس سیچوایشن میں بھی سپورٹ کیا ۔۔ لو یو آل ۔۔۔ !!! “
ویڈیو بند ہو چکی تھی حیا کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا جیسے سارا خون نچڑ گیا ہو کبھی کبھی انسان اپنے بنائے گڑھے میں خود ہی جا گرتا ہے جیسے وہ منہ کے بل گری تھی ۔۔۔
🍂🍂🍂
سفید اکڑی شلوار قمیض میں خوشبوئیں بكهیرتا وہ اپنے آفس میں کام کررہا تھا الیکشنز قریب تھے اسے پوری امید تھی کہ وہی جیتے گا ۔۔۔
وہ پیچھلے سالوں کے ترقیاتی منصوبوں پر غور و خوض کررہا تھا جب انٹرکام بجا۔۔ اس نے ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا ۔۔۔ ہمم ۔۔۔ اچھا ۔۔۔ بھیج دو !!!
پیچھے ہو کر رولنگ چیئر سے پشت لگاتا وہ پر سوچ نظروں سے گلاس ڈور کے پاس بالکنی میں لہلہاتے پودوں کو دیکھنے لگا ۔۔۔ نعیم بیگ ناک کر کے اندر آیا ۔۔
اس نے ستائشی انداز میں پورے آفس کا جائزہ لیا آفس کی دیواریں گرے اور وائٹ تھی اسی مناسبت سے کمرے میں ضروری فرنیچر تھا بالکنی سے نظر آتا منظر بلاشبہ روح کو سکینت بخشتا تھا میر حاصل اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
“اسلام علیکم میر جی !!! “
اس نے آگے بڑھ کر مصافحہ کیا ۔۔۔ میر نے سر کو خم دیتے جوب دیا البتہ شہد رنگ چمکیلی آنکھیں مقابل کو کھوج رہی تھیں ۔۔۔
“کیسے آنا ہوا نعیم صاحب ؟ حریف کے آفس میں ۔۔ وہ بھی الیکشنز کے نزدیک !!! ۔۔۔ “
کان میں چمکتے ڈائمنڈ ٹاپس کو چھوتے وہ دهیما سا مسکرایا جس سے اس کے گال میں ڈمپل پڑا ۔۔۔
“وہ جی آپ تو سمجھدار ہیں ۔۔۔ سمجھ گئے ہوں گے میری آمد کا مقصد بھی ۔۔۔ ہم نے الحمدللّہ دس تعلیمی ادارے کھولے ہیں پچھلے دنوں میں ۔۔۔ دیکھیں جی ہم تو عوام کی خدمت کررہے ہیں ۔۔!!”
“ہم چاہتے ہیں آپ یہ الیکشنز چھوڑیں اور ہم سے ہاتھ ملا لیں ۔۔۔ میرا بھائی علیم بیگ کھڑا ہورہا ہے الیکشنز میں ۔۔۔ اور آپ تو جانتے ہیں ہم پرانے کھلاڑی ہیں ۔۔۔ ہم سے ہاتھ ملا لیں گے تو فائدے میں رہیں گے ۔۔ “
وہ میٹھے لہجے میں بولا تو میر حاصل نے مصنوعی ستائش سے ابرو اٹھایا ۔۔
” دس بندے مار کر دس سکول ؟؟ ۔۔ ہمم ! واقعی آپ بہت خدمت کررہے ہیں عوام کی ۔۔۔ آئی ایم امپریسڈ !!! ۔۔۔ “
وہ ذرا آگے ہو کر شیشے کی میز پر ہاتھ رکھتا اسے بہت کچھ باور کروا گیا ۔۔۔ نعیم بیگ برا منائے بغیر ہنس دیا۔۔
“دیکھیں جی سکولوں میں دس ہزار بچے بھی تو پڑھیں گے ۔۔ دس بندے ، دس ہزار بچوں کے لیے اتنی قربانی تو دے ہی سکتے ہیں ۔۔ ہم تو ملک کا مستقبل محفوظ کر رہے ہیں !!! ۔۔۔ “
اس کی سنگ دلی پر میر نے دانت پیسے ۔۔۔ ” کیا عوام قبول کرے گی تمہاری یہ قربانی ؟؟ “
نعیم بیگ نے ناک سے جیسے مكهی اڑائی تھی۔۔۔ “لوگوں کا کیا ہے چھوڑیں جی ۔۔۔ اللّه معاف کر دیتا ہے ۔۔ لوگ تو کسی حال میں خوش نہیں ہوتے ۔۔۔ “
کہتے ساتھ وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
“چلتا ہوں ۔۔۔ انتظار رہے گا آپ کے جواب کا ۔۔۔ امید ہے آپ مایوس نہیں کریں گے !! “
ہاتھ ماتھے تک لے جاتا وہ آفس سے نکل گیا ۔۔۔ میر نے غصے سے اس کی پشت کو دیکھا ۔۔۔ شہد رنگ آنکھوں میں گہری سوچ کی پرچھائی تھی۔۔۔
🍂🍂🍂
“زنیشہ بیٹا سارا سامان پیک کر لیا ؟؟” ۔۔۔۔
ارشما پکارتی ہوئی اس کے کمرے میں آئی ۔۔ زنیشہ کو گم صم بیٹھا دیکھ کر وہ اس کے پاس بیٹھ گئی۔۔
“کیا ہوا میرے بچے کو اداس ہو ؟؟” ۔۔۔
اس کے بال نرمی سے سنوارتی وہ پیار سے بولی ۔۔ زنیشا نے منہ بسور کر اسے دیکھا ۔۔
“ماما مجھے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا کہ ہو کیا رہا ہے ۔۔ پہلے اچانک آپ نے میرا نکاح کر دیا اور اب کہہ رہے ہیں کہ مجھے ابراہیم بھائی ۔۔ اف !! سوری ۔۔ ابراھیم کے ساتھ جانا ہوگا ۔۔
آپ جانتی ہیں میں آپ لوگوں کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔ یہ سب کچھ مجھے بہت ہی عجیب لگ رہا ہے ۔۔ جنہیں میں بچپن سے بھائی بھائی کہتی رہی ان سے میری شادی ہو گئی اور۔۔۔
اب مجھے آپ سب کو چھوڑ کر جانا پڑ رہا ہے ۔۔ میں کیسے رہوں گی وہاں ؟ “
وہ روہانسی ہو گئی ۔۔ ارشما نے محبت سے اسے ساتھ لگایا ۔۔۔
“میرا پیارا بیٹا اس میں پریشانی والی کیا بات ہے ؟؟ ابراھیم جیسا شوہر ملنے پر لڑکیاں رشک کرتی ہیں خود پر ۔۔۔ آپ کو اپنے بڑوں پر يقین نہیں ہے کیا ؟ آپ کے لیے اچھا سوچا ہے ہم نے ۔۔۔
اور جہاں تک بات ہے آؤٹ آف کنٹری جانے کی تو ہمیشہ کے لیے تھوڑی بھیج رہے ہیں ہم اپنی بیٹی کو !! ابراھیم کو مشن کے لیے ملک سے باہر جانا ہے ۔۔۔
مشی چاہتی ہے کہ آپ اس کے ساتھ جاؤ ۔۔ اسکا خیال رکھو ۔۔ اس طرح آپ دونوں میں بھی انڈرسٹینڈنگ ڈویلپ ہوگی ۔۔۔ دل چھوٹا نہیں کرتے ۔۔ میری بیٹی تو بہت سمجھدار ہے نہ !!! ۔۔۔ “
وہ پیار سے اسے سمجھاتی گئی ۔۔ زنیشہ نے سمجھتے ہوئے سر ہلايا۔۔ تو اسے ابراھیم بھائی کا خیال رکھنا تھا ۔۔۔
اف اللّه ۔۔۔ !! اف اف ۔۔۔ اتنی پکی عادت ہے کیسے جائے گی ؟؟
وہ روہانسی ہوتی سوچنے لگی ۔۔۔ اوپر سے ابراھیم کی بدلی نظریں کیسے رہوں گی میں ان کے ساتھ ؟؟ وہ لب کاٹتی سوچنے لگی ۔۔
“ان ہیلر رکھ لیا تھا ساتھ ؟؟”
ارشما نے خیال آنے پر فورا پوچھا ۔۔
“جی ماما رکھ لیا تھا اسے میں کیسے بھول سکتی ہوں ۔۔ ” وہ منہ بناتی اس کے کندھے پر سر ٹکا گئی ۔۔۔
” گڈ !!! ” ۔۔۔ تمہیں کبھی سانس لینے میں تکلیف ہو تو فورا ابراھیم کو بتانا ۔۔ ٹھیک ہے ؟؟”
اس کا گال تهپتھپا کر وہ اٹھی تو زنیشہ محض سر ہلا کر رہ گئی۔
🍂🍂🍂
پلین میں ابراہیم کے ساتھ والی سیٹ پر وہ ڈری سہمی بیٹھی تھی ۔۔ سب گھر والوں سے ملتے وقت وہ بہت روئی تھی ۔۔ دل اتنا عجیب ہو رہا تھا کہ اسے بے اختیار بار بار رونا آ رہا تھا ۔۔
ابراہیم اس کی کیفیت خوب نوٹ کر رہا تھا ۔۔ ہاتھوں میں جوس کے دو کین پکڑے وہ اس کے برابر والی سیٹ پر آ بیٹھا ۔۔
وہ اس وقت گرے سویٹر کے ساتھ بلیک پینٹ پہنے ہوئے تھا ۔۔ جیکٹ اس نے سیٹ کی پشت پر ڈال رکھی تھی ۔۔
براؤن لانگ کوٹ اور جینز میں ملبوس اپنی خفا سی بیوی کو دیکھ کر اس نے نچلا لب دانتوں میں دبایا ۔۔
اس نے سامنے دیکھتے جوس کا کین زنیشا کی طرف بڑھایا۔۔
“مجھے نہیں پینا!!!”
وہ خفا لہجے میں بولی یوں لگتا تھا وہ ابھی رو دے گی ۔۔
“کیا ہوا ہے مجھے بھی نہیں بتاؤ گی ؟؟ “
ابراہیم کا پوچھنا تھا کہ وہ اس کے کاندھے سے سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔ اس کے یوں رونے پر ابراہیم نے لب بھنچے ۔۔ وہ سمجھ سکتا تھا اس کی کیفیت ۔۔
اس نے سر جھکا کر اپنے کندھے سے لگی بیوی کو دیکھا ۔۔۔ گہری سانس لے کر وہ آہستہ آہستہ اس کا سر تھپکنے لگا ۔۔ جونہی پلین اڑنے لگا زونیشا نے اس کے بازو پر گرفت مضبوط کر لی۔۔
“اٹس اوکے !! کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے ۔۔۔”
ابراھیم نے اس کے ڈر کو محسوس کر کے اس کے گرد بازو پھیلا لیا ۔۔۔
🍂🍂🍂
شمالی یورپ میں واقع خوش باشوں کے ملک “کنگڈم آف ڈنمارک” کی سرزمین پر انہوں نے قدم رکھا تھا ۔۔ خوشحالی اور امن کی فضا میں گہرا سانس لیتے وہ اپنا سامان پکڑ کر کیب کی طرف بڑھے ۔۔
ہوا سے ان کے بال پھڑپھڑا رہے تھے ۔۔ ابراہیم نے اسکا ہاتھ تھاما اور اس کے ساتھ کیب کی طرف بڑھا ۔۔ ڈنمارک میں زیادہ تر “ڈینش” زبان بولی جاتی تھی ۔۔
دوسری زبانوں میں جرمن بھی شامل تھی ۔۔ چونکہ ابراہیم جرمن جانتا تھا اس لیے وہ ڈرائیور سے جرمن زبان میں بات کرنے لگا ۔۔
زنیشا منہ کھولے اسے دیکھنے لگی ۔۔ ابراہیم نے جیب سے وہاں کے کرنسی نوٹ نکالے اور ڈرائیور کو تھما کر کیب کا پچھلا دروازہ کھولا ۔۔
چہرے پر آئے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے پیچھے کرتی وہ کیب میں بیٹھ گئی ۔۔ ابراہیم کے بیٹھنے پر ڈرائیور نے کیب سٹارٹ کر دی۔۔
” ہم کہاں جا رہے ہیں ؟؟”
وہ سوئی سوئی انکھوں سے ابراہیم کو دیکھنے لگی ۔۔ ابرہیم نے آرام دہ حالت میں بیٹھتے اسے دیکھا ۔۔
“کوپن ہیگن جا رہے ہیں وہیں پر ہمارا گھر ہے ۔۔ تمہیں یہ جگہ پسند آئی ؟؟ “
اس سب میں پہلی بار زنیشہ کے چہرے پر مسکراہٹ ائی ۔۔
“بہت خوبصورت ہے یہ جگہ ۔۔ میں نے سوچا تھا یہاں آ کر پتہ نہیں کیسا محسوس کروں گی لیکن مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے سب کچھ ۔۔ کتنا سکون ہے یہاں پر اور اتنا پیارا موسم !!! ۔۔۔ “
وہ ہاتھ کی پشت سے چہرے پر آتے بال ہٹاتی بچوں کے سے انداز میں بولی ۔۔ وہ ذرا سا مسکرایا ۔۔
ہوا کے زور سے اس کی پیشانی پر بال بکھرے ہوئے تھے ۔۔ گرے سویٹر میں نرمی سے اسے دیکھتا وہ اچھا لگا تھا اسے ۔۔
” تمہیں نیند آرہی ہے سو جاؤ ابھی ہمیں وقت لگے گا وہاں پہنچنے میں !!! “
وہ اس کی سرخ سوجھی ہوئی آنکھوں کو دیکھتا ہوا کہنے لگا جو نیند کی وجہ سے بوجھل ہو رہی تھی زونیشا نے سر ہلایا ۔۔
“جی بہت نیند آ رہی ہے میں تو ٹھیک سے سو بھی نہیں پائی اور آپ کو پتہ ہے میں اتنا تھک گئی ہوں !! “
منہ بنا کر بولتی وہ سیٹ کی پشت سے سر ٹکا گئی وہ بھی نرمی سے اسے دیکھتا آنکھیں موند گیا ۔۔
🍂🍂🍂
جاری ہے !!!