Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

“سر واچ مین نے کنفیس کر لیا ہے !!! “
علی کی اطلاع پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا حیان سیدھا ہو بیٹھا ۔۔
” گڈ !! ویری گڈ ۔۔۔ !!! “
“اس کا اقرار جرم ریکارڈ کر لیا ہے ہم نے ۔۔ وہ مان چکا ہے کہ اس نے ہی شاہ رخ کی مدد کی تھی اندر جانے میں ۔۔۔ “
علی چمکتی آنکھوں سے اسے بتاتا گیا ۔۔
حیان اٹھا ۔۔ “اٹھا لو اسے یونیورسٹی سے !! اس کی خدمت کا وقت ہوا چاہتا ہے ،، مابدولت خود کریں گے !!!”
حیان کی گھنی مونچھوں تلے عنابی لب ہلکی مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔ سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسل کر وہ آفس سے باہر گیا ۔۔ علی نے بھی اس کی پیروی کی ۔۔
🍂🍂🍂
“چھوڑو مجھے !! کیوں لائے ہو یہاں ؟؟ چھوڑو سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کہہ رہا ہوں ؟؟”
وہ مسلسل خود کو کانسٹیبلز کی سخت گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتا چلا رہا تھا ۔۔ وہ کان بند کئیے تھانے میں داخل ہوئے اور اسے سیل میں بند کر دیا ۔۔
وہ مسلسل گلا پھاڑتا چلا رہا تھا جب حیان اس کے سامنے آیا ۔۔ اس کے اشارے پر کانسٹیبل نے سیل کا لاک کھولا ۔۔ شاہ رخ نے نفرت سے حیان کو دیکھا ۔۔ اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں جبکہ لب ہولے سے کانپ رہے تھے ۔۔
حیان اندر آیا ۔۔ اس نے نظروں سے اسے اندر رکھی ایک کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔ علی بھی اس کے پیچھے سیل میں آتا ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا ۔۔
جب شاہ رخ نے اس کی بات پر نفرت سے منہ پھیر لیا تو حیان کی پیشانی پر بل پڑے ۔۔ اس کی سیاہ آنکھوں کے کانچ مذید گہرے ہوگئے ۔۔ اس نے شاہ رخ کی دھکا دیا جس پر وہ لڑکھڑاتا کرسی پر گر گیا ۔۔
حیان نے اپنی مخصوص خاکی پینٹ سے بیلٹ نکال کر۔ہاتھ پر لپیٹی اور ایک کرسی گھسیٹ کر اس کے مقابل بیٹھا ۔۔
” اس لڑکی سے کیا دشمنی تھی تمہاری ؟؟ بولو ؟؟ “
سرد لہجے میں پوچھا گیا ۔۔
“مجھے نہیں پتہ کس کی بات کررہے ہو !!! “
شاہ رخ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر بے خوفی سے کہا ۔۔
حیان نے سر ہلایا ۔۔ وہ ایک دم آگے ہوا اور اسے بالوں سے پکڑ کر اس کے منہ پر داڑھا ۔۔
” سب بتاؤ گے تم ۔۔ تمہارے اگلے پچھلے بھی مانیں گے !!!”
شاہ رخ نے تکلیف سے آنکھیں میچیں ۔۔ آپے سے باہر ہوتا وہ چیخ پڑا ۔۔
” تمہارا باپ بھی نہیں اگلوا سکتا۔۔ میرے باپ تک پہنچنے دو خبر پھر ایک ایک کو دیکھ ۔۔۔ “
حیان کا بھاری ہاتھ اٹھا ۔۔ چٹاخ ۔۔چٹاخ !! اس کے منہ پر پے در پے تھپڑ مارتا وہ کرسی گھسیٹ کر اٹھا ۔۔
” میرے باپ کو ضرورت بھی نہیں تجھ جیسے * سے اگلوانے کی ۔۔ تیرے باپ کا باپ یعنی ‘ایس پی حیان’ ہی کافی ہے تجھے !!!” حیان نے اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا ۔۔ ہاتھ پر لپٹی بیلٹ کھول کر وہ اسے پیٹنے لگا ۔۔ شاہ رخ مسلسل اپنا بچاؤ کرتا چیخ رہا تھا ۔۔ اس کا گلا بیٹھ گیا تھا ۔۔ جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا ۔۔ علی نے حیان کی طرف پانی بڑھایا جو پسینے میں شرابور ہو چکا تھا ۔۔ پانی کا گلاس ایک سانس میں خالی کر کے اس نے گلاس واپس لوٹایا ۔۔ خاکی شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑتے وہ تند نظروں سے زمین پر گرے شاہ رخ کو دیکھتا اس کے سامنے زور سے کرسی رکھ کر بیٹھا ۔۔ حیان کو اپنے پاس دیکھ کر شاہ رخ خود کو گھسیٹتا پیچھے ہٹا تھا ۔۔ اس کے چہرے اور جسم پر جا بجا نیل اور زخم تھے جن سے ذرا ذرا خون رس رہا تھا ۔۔ “چھوڑ دو مجھے ۔۔ میرے پاپا کو جانتے نہیں ہو ابھی تم لوگ ۔۔ بہت برا حشر کریں گے تم سب کا !!!” وہ حلق تر کرتے پھر سے انہیں ڈرانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔ لیکن جانتا نہیں تھا کہ سامنے وہ شخص تھا جو خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا تھا ۔۔ “چپ !!! ” ۔۔۔۔ حیان کی داڑھ پر وہ ڈر کر خاموش ہوگیا ۔۔ ” اب تجھ سے کچھ سوال کریں گے سچ سچ جواب دینا ۔۔ تمہارے خلاف ثبوت اور گواہ ہمیں مل چکے ہیں اس لیے جھوٹ بولنے کا اب کوئی فائدہ نہیں !!!” وہ چپ رہا ۔۔ گہرے سانس لیتا وہ جسم سے اٹھنے والی تکلیف ضبط کر رہا تھا ۔۔ حیان نے بیلٹ سائیڈ پر رکھی ۔۔ علی نے ریکارڈ آن کر دیا ۔۔ “حرا انور ” کے مرڈر کی رات تم کہاں تھے ؟؟ “اپنے گھر پر ۔۔ سو رہا تھا ۔۔ !!!” رات گیارہ سے ایک بجے کے درمیان تم کہاں تھے ؟؟ سپاٹ لب و لہجہ ۔۔۔ ” میں نے کہا نہ گھر پر تھا سو رہا تھا ۔۔۔ !!!” قدرے اکتائے لہجے میں جواب دیا گیا ۔۔ ” واچ مین نے گياره سے ایک بجے کے درمیان تمہیں اس کے کمرے کی طرف جاتے دیکھا ہے !!! ” اس بات پر وہ اکھڑ گیا ۔۔ “بکواس کرتا ہے وہ جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔۔” وہ انتہائی بدتمیزی سے بولا ۔۔۔ حیان نے رکھ کر ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر لگایا ۔۔۔ “آواز نیچے !!! ۔۔۔ تھانے میں ہو اپنے باپ کے گھر نہیں !!!” شاہ رخ منہ پر ہاتھ رکھتا جھک گیا ۔۔ اس کے منہ سے خون نکلنے لگا تھا ۔۔ “میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔ میں نے اس کو نہیں مارا ۔۔ چھوڑ دو مجھے ۔۔ میں اس کی کمرے میں نہیں گیا ۔۔ مجھے یہ بھی نہیں پتہ اس کا ہاسٹل کہاں ہے پلیز مجھے چھوڑ دو !!! ۔۔۔ ” لا علمی میں وہ اقرار کر گیا ۔۔ حیان کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی ۔۔ اپنی فتح پر اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں ۔۔ “ہم نے کب کہا کہ وہ ہاسٹل میں رہتی تھی !!! ” اس کی بات پر شاہ رخ کا رنگ اڑ گیا ۔۔ گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوگئی ۔۔ اپنی بات کا اثر زائل کرنے کے لیے وہ ان پر چیخنے لگا ۔۔ ” تم لوگ ۔۔ تم لوگ پهنسا رہے ہو مجھے ۔۔ اپنی باتوں میں الجھا رہے ہو ۔۔ جاہل ہو تم ۔۔ معصوم ۔۔ معصوم پر الزام لگا رہے ہو ۔۔ میں چھوڑوں گا نہیں تمہیں !!! ” ہزیان بکتا وہ حیان پر جھپٹا ۔۔ حیان پھرتی سے اسے قابو کر کے ایک بار پھر سے اس کی ٹھکائی کرنے لگا ۔۔۔ “تم معصوم ہو تو گناہ گار وہ ہے جسے موت کے گھاٹ اتار دیا تم جیسے جانور نے ۔۔ جس کی آبرو لوٹ کر اس کے گھر والوں کو جیتے جی مار دیا ۔۔ بولو وہ ہیں قصور وار ؟؟” وہ اتنی اونچی داڑھا کہ سیل کے باہر کھڑے کانسٹیبل بھی ایک پل کو ڈر گئے ۔۔ “حیان ؟؟ کیا کررہے ہو چھوڑو اسے ۔۔ میرا آرڈر ہے ابھی اسے آزاد کردو ۔۔۔۔ !!! ” ڈی سی پی کی آواز پر حیان تیكهی مسکراہٹ چہرے پر سجائے پلٹا ۔۔ “سر آئیں آپ کی بھی خدمت کرتے ہیں ۔۔ علی ؟؟ کرسی لاؤ !!! ۔۔۔ ” اس کے سرد لہجے میں چھپی دھمکی پر ڈی سی پی نے وہاں سے ہٹنے میں ہی عافیت جانی ۔۔ اس وقت حیان کا دماغ خراب ہو چکا تھا ۔۔ لب کاٹتے انہوں نے ڈی آئی جی کو فون کر کے معاملے کی سنگینی کا احساس دلایا ڈی سی پی کے جاتے ہی وہ دوبارہ شاہ رخ کی طرف متوجہ ہوا جو روتا ہوا اپنے زخموں کو دیکھ رہا تھا ۔۔ “کیا حال کر دیا ہے میرا ۔۔ مجھے دوائی دو ۔۔ پٹی کرو ۔۔ یہ دیکھو ۔۔ خون نکل رہا ہے !!!” اس کے حکمیہ انداز پر حیان علی کو دیکھ کر ہنس پڑا ۔۔ “رسی جل گئی پر بل نہیں گیا ۔۔ علی لاؤ ذرا دوائی ۔۔ ہم مرهم پٹی کریں ان کی !!! ۔۔۔ ” اس کے اتنی جلدی مان جانے پر شاہ رخ بے يقینی سے اسے دیکھنے لگا ۔۔ علی اچانک گیا اور پھر بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوگیا ۔۔ “یہ لیں سر ۔۔۔ لیمن الٹرا پرو میكس مرحم !!! ” اس نے ایک بڑے سائز کا دو ٹکڑوں میں کٹا لیموں حیان کی طرف بڑھایا جسے دیکھ کر شاہ رخ کی آنکھیں پوری کھل گئیں ۔۔ ” یہ ۔۔۔ یہ کیا کررہے ہو ؟ پاگل ہو ؟؟ دد ۔۔ دور ۔۔ دور رہو مجھ سے !!! ” وہ بوکھلا کر خوف سے کہتا پیچھے ہٹنے لگا لیکن اس کے دیکھتے ہی دیکھتے حیان نے لیموں اس کے زخموں پر نچوڑ دیا ۔۔ وہ ہزیانی انداز میں چیخنے لگا ۔۔ “اسے بھی درد ہوا ہوگا ۔۔ وہ بھی چلائی ہوگی ۔۔ اس درد کا کچھ حصہ تم بھی چکھو !!! ” اس کے کان میں صور پھونک کر وہ ڈی آئی جی کا کال سننے باہر چلا آیا ۔۔ پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے اس نے موبائل سپیکر پر ڈال کر جونیئر انسپیکٹرز کو دیکھا ۔۔ “حیان ؟ ہیلو ۔۔ حیان میری بات سنو ۔۔ چیف نے میری بیٹی کو اغوا کروا لیا ہے ۔۔ اس نے کہا ہے شاہ رخ کو چھوڑ دو نہیں تو وہ میری بیٹی کا بھی وہی حال کرے گا جو حرا کا ۔۔۔۔” بات ادھوری چھوڑ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔۔ حیان سمیت باقی سب اپنی جگہ ساکت رہ گئے ۔۔ ان کی آنکھیں جلنے لگی تھیں ۔۔ تو کیا ظالم کی پھر سے جیت ہوجائے گی ؟؟ ” حیان تم سن رہے ہو ؟ میں بھیک مانگتا ہوں تم سے میری بیٹی کو بچا لو !!! ” سیكنڈ کے ہزارویں حصے میں حیان کے لبوں نے حرکت کی ۔۔ “سر آپ فکر نہ کریں آپ کی بیٹی کو کچھ نہیں ہوگا!!” فون بند کر کے اس نے علی کو دیکھا ۔۔ “چھوڑ دو اسے !!! ” اس کے فیصلے پر سب نے بے يقینی سے اسے دیکھا تھا ۔۔ “لیکن سر !!! ۔۔۔ ” علی نے کہنا چاہا ۔۔ “شٹ اپ !! جتنا کہا ہے اتنا کرو !!! ” حیان کے درشتگی سے کہنے پر وہ لب بھینچ کر سر ہلاتا باہر گیا ۔۔ “اسے چھوڑ دو،،، سر کا آرڈر ہے !!! ” علی کے کہنے پر حوالدار نے سیل کا دروازه کھول دیا ۔۔ شاہ رخ خوشی و بے يقینی کے ملے جلے تاثرات سے اٹھا ۔ “آہ !!! ” ۔۔۔ تکلیف کی شدت سے اس کے منہ سے كراه نکلی ۔۔ ڈھکتے بدن کے ساتھ بامشکل لمبے لمبے قدم لیتا وہ تھانے سے باہر نکل گیا ۔۔ اسے ایک ایک حرف بتانا تھا پاپا کو ۔۔ اس کی آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں ۔۔ واپس حیان کے پاس آتے علی خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا ۔۔۔ “سر آپ نے اسے جانے دیا ؟؟ ” جونیئر انسپیکٹر نے سکوت کو توڑا ۔۔ ” میں نے اسے جانے دیا لیکن ۔۔۔ جانے نہیں دیا !!! ” سرسراتے لہجے میں کہتا وہ جا چکا تھا ۔۔ 🍂🍂🍂 پٹیوں میں جکڑا وہ اس وقت بستر پر لیٹا تھا ۔۔ کمرے میں زیرو وارڈ کا بلب جل رہا تھا ۔۔ کھلی کھڑکیوں سے رات کی ٹھنڈی چاندنی چھن سے اندر گر رہی تھی۔۔ اس نے کروٹ بدلی تو جسم میں درد کی شدید لہر اٹھی ۔۔ لب بھینچ کر اس نے کچھ فاصلے پر الٹا پڑا موبائل پکڑا ۔۔ ایرا کی چیٹ کھول کر اس نے میسج لکھا ۔۔ ” کیا ہم پرسوں مل سکتے ہیں ؟؟ ” فورا جواب آیا ۔۔ ایرا : شاہ رخ ۔۔ ہم یونی میں ملتے تو ہیں !!! اس نے غصے سے میسج پڑھ کر زیر لب اسے گالی سے نوازا ۔۔ “جان پرسوں میری برتھ ڈے پارٹی ہے ۔۔ سب آ رہے ہیں ۔۔ لیکن جو میرے دل کے سب سے قریب ہے وہی نہ ہوئی تو سب پهیكا لگے گا ۔۔۔ !!! ” اس نے میسج لکھ کر طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھا اور سینڈ بٹن کو ٹچ کیا ۔۔ ریپلائے فورا آیا تھا ۔۔ ایرا : میں کبھی یوں کسی سے ملی نہیں ہوں ۔۔ مطلب عجیب لگے گا مجھے ۔۔ کوئی بات نہیں وہاں اور بھی فرین فرینڈز ہوں گے نہ ؟؟ اسے نیم رضا مند دیکھ کر وہ مسکرایا ۔۔ “جی جان سب فرینڈز ہوں گے ۔۔ دانی نے نور کو بھی انوائٹ کیا ہے وہ بھی آ رہی ہے ۔۔ !!!” ایرا : اوکے میں اس کے ساتھ آ جاؤں گی !!! شاہ رخ نے بائے کہہ کر فون بیڈ پر ڈال دیا ۔۔ اس کی آنکھیں نفرت کی آگ جل رہی تھی ۔۔ “اب تم بھی جلو گے ایس پی اسی آگ میں جو میرے دل میں لگی چکی ہے !!! ” نفرت سے سوچتا وہ آنکھیں موند گیا… 🍂🍂🍂 گھٹنوں سے اوپر تک آتی نیٹ کی پھولی ہوئی گلابی فراک کے ساتھ گلابی ٹائیٹس اور پنک لانگ شوز پہن کر وہ آئینے کے سامنے آئی ۔۔ پلکوں پر مسکارا لگا کر اس نے آنکھیں جھپکیں ۔۔ نیلے نینوں پر سیاہ لمبی گھنی پلکیں اور بھی نمایاں ہو رہی تھیں۔۔ گالوں پر بے بی پنک بلش لگا کر اس نے گلابی لبوں پر پنک لپ گلوز لگا کر لبوں کو آپس میں مس کیا۔۔ گلابی لب چمک اٹھے تھے ۔۔ سلکی بھورے گھٹنوں تک آتے بالوں کو دونوں اطراف سے آگے ڈالتے وہ اپنے عکس کو دیکھ کر مسکرائی۔۔ اس وقت وہ بلکل باربی لگ رہی تھی۔۔ سفید موتیوں کا پرس ٹیڑھا کر کے گلے میں ڈالتے اس نے خوبصورت پیکنگ والا گفٹ اٹھایا ۔۔ موبائل پر آتی نور کی کال ریسیو کرتی وہ عجلت میں باہر نکلی ۔۔ اینارا کے کمرے میں آتے اس نے دائیں بائیں جھانکا ۔۔ کمرہ خالی پا کر وہ جلدی سے کچن میں آئی ۔۔ “ماما میں جا رہی ہوں ۔۔ جلدی آنے کی کوشش کروں گی ۔۔ آپ پریشان مت ہوئیے گا اوکے !!! ” اس کے عجلت میں کہنے پر اینارا پلٹی تو اس کے منہ سے بےساختہ ماشاءالله نکلا ۔۔ “اللّه تمہیں بری نظر سے بچائے ۔۔ خیر سے جاؤ ۔۔ پہنچ کر کال کر دینا !!! ” اس کے گال پر پیار کر کے وہ پیچھے ہٹی تو ایرا نے زور سے اسے گلے لگایا ۔۔ پھر عجلت میں وہ بیرونی دروازے سے باہر نکل گئی جہاں نور کار میں اس کا انتظار کررہی تھی ۔۔ 🍂🍂🍂 بتائی گئی لوکیشن پر پہنچ کر اس نے کار روکی ۔۔ یہ ایک لگزری ہوٹیل تھا جہاں برتھ ڈے پارٹی کا انتظام کیا گیا تھا ۔۔ رنگ برنگے قمقموں سے چمکتی شاندار عمارت میں انہوں نے قدم رکھا ۔۔ جونہی وہ ریڈ کارپٹ پر چلتے آگے گئے دانیال انہیں دیکھ کر لپکتا ہوا آیا ۔۔ اس نے ستائشی نظروں سے بلیک پیروں کو چھوتے گاؤن میں نک سک سی تیار نور کو دیکھا جو کھلے بالوں میں بے حد پیاری لگ رہی تھی ۔۔ انہیں سپیشل پروٹوکول دیتے دانیال انھیں ساتھ لیے ایک ٹیبل کی طرف آیا ۔۔ پھر کچھ دیر میں آنے کا کہتے وہ اکسیوز کرتا وہاں سے ہٹ گیا ۔۔ نور نے چمکتی آنکھوں سے چاروں جانب دیکھا ۔۔ رنگ برنگے لباس میں ملبوس لوگ خوشبوئیں بكهیرتے خوبصورت چال چلتے ادھر ادھر ٹہل رہے تھے ۔۔ ایرا نے اسے کہنی مار کر متوجہ کیا ۔۔ ” یار نور تم نے دیکھا کیسے دیکھ رہا تھا دانیال تمہیں ۔۔ بہت پسند کرتا ہے تمہیں وہ !!! ” ایرا کی بات پر وہ خوشی سے ہنس دی ۔۔ “ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو تم !! اس نے اپنی محبت کا اقرار کر لیا ہے ۔۔ یار میں بہت خوش ہوں ۔۔ یاد ہے پہلی ملاقات میں ہم جھگڑے تھے ان سے ۔۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنا انوالو ہو جائیں گے کہ محبت ہی ہوجائے گی ۔۔ میں نے مما سے بات کر لی ہے ۔۔ بہت جلد ملواؤں گی دانی کو مما سے !!!” ۔۔۔۔ خوش دلی سے کہتی وہ دانیال کے اشارہ کرنے پر اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ کہاں جا رہی ہو ؟؟ ایرا نے جلدی سے پوچھا ۔۔ “یار دانی بلا رہا ہے اسے شاید کچھ بات کرنی ہے میں بس کچھ ہی دیر میں آئی ۔۔ تم پریشان نہ ہونا ابھی شاہ رخ بھی آتا ہوگا !! ” اس کا گال تھپتهپا کر وہ گاؤن سنبهال کر سیڑھیاں چڑھتی دوسرے فلور پر چلی گئی ۔۔ ایرا کنفیوز سی سامنے دیکھنے لگی ۔۔ گال پر ہاتھ رکھے بور سی بیٹھی تھی۔۔ اس نے موبائل آن کر کے شاہ رخ کو میسج سینڈ کیا ۔۔ اتنے میں سٹائلش سا ایک لڑکا ہاتھ میں الکوحل کا گلاس پكڑے اس کے ساتھ آ بیٹھا ۔۔ “ہیلو سویٹی !!! ” ایرا گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ اس نے جلدی سے پرس اٹھایا اور تیز تیز چلتی دوسری طرف چلی آئی ۔۔ منی سکرٹس اور سلیو لیس گاؤنز میں نیم عریاں لڑکیوں کو لڑکوں کے ساتھ ڈانس کرتے ادیکھ کر اس کا دل گھبرانے لگا ۔۔ اوپر سے ماحول میں رچی شراب کی بو اس کا دل خراب ہونے لگا ۔۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس پارٹی میں یہ سب کچھ ہوگا تو وہ کبهی نہ آتی ۔۔ 🍂🍂🍂 اینارا نے دوبارہ کال کی لیکن لیکن اس نے کال ریسیو نہیں کی ۔۔ “حد ہے اس بیوقوف لڑکی سے کہا بھی تھا کہ جاتے ہی فون کرے ۔۔ نہ خود فون کیا اور نہ اب میرا فون اٹھا رہی ہے ۔۔ شام ہونے کو آئی ہے کیا کروں میں اس لڑکی کا !!! ” تفکر سے سوچتی وہ دوبارہ کال کرنے لگی ۔۔ ریسیو نہ ہونے پر وہ لب کاٹتی سوچنے لگی ۔۔ اس نے اورهان کو کال کردی ۔۔ 🍂🍂🍂 “یہ نور کیوں نہیں آئی ابھی تک ؟ نہ ہی شاہ رخ ملنے آیا ہے !! یہ کیسی پارٹی ہے مجھے اکیلا چھوڑ دیا ہے اوپر سے سب عجیب نظروں سے مجھے دیکھ رہے ہیں !! ” روہانسی ہوتی وہ بیگ کندھے پر ڈالتی اٹھی ۔۔ اس نے سر اٹھا کر دوسری منزل کو دیکھا ۔۔ پھر کچھ سوچ کر سیڑھیاں چڑھتی دوسرے فلور پر آئی ۔۔ انگلیاں چٹخاتے اس نے دائیں بائیں دیکھا جہاں دو راہ داریاں تھیں ۔۔ پتہ نہیں کیا ہوا کہ اس کے قدم بائیں راہ داری کی جانب اٹھتے گئے ۔۔ یہ فلور بلکل سنسان پڑا تھا ۔۔ ابھی وہ مزید آگے بڑھتی کہ اسے کسی لڑکی کی گھٹی گھٹی چیخ سنائی دی ۔۔ پھر سکوت چھا گیا ۔۔ ایرا نے گهبرا کر پیچھے دیکھا جہاں سے یہ آواز آئی تھی ۔۔ کونے میں ایک ساتھ تین کمرے تھے جن میں سے ایک کا دروازه بند تھا۔۔ یہ کسی کی آواز تھی ؟ نور کہاں ہو تم ؟؟ وہ پلکیں جھپکتی آنکھوں کی نمی اندر اتارنے اسے پکارتی چھوٹے قدم اٹھا کر واپس پیچھے کی اورھ آنے لگ ۔۔ دل انجانے خوف سے گهبرانے لگا تھا ۔۔ ابھی وہ دروازے کے قریب آئی تھی جب کلک کی آواز پر اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔۔ اس کے قدم بے اختیار اٹھے ۔۔ دوسرے لمحے اس نے خود کو اس اندھیرے کمرے میں پایا جس کا دروازه کھلا ہوا تھا ۔۔ حلق تر کرتی وہ ذرا سا آگے ہو کر باہر دیکھنے لگی ۔۔ روشن کمرے کا دروازه کھلا اور دو لڑکے شرٹ کے بٹن بند کرتے باہر نکلے ۔۔ ان کی آنکھوں میں خمار تھا ۔۔ سر مستی سے چلتے وہ سیڑھیاں اترتے نیچے چلے گئے ۔۔ یہ منظر دیکھ کر ایرا کی آنکھیں پوری کھل گئیں ۔۔ کپکپاتے ہاتھوں سے دیوار کو پکڑ کر وہ آگے ہوئی ۔۔ کمرے میں موجود نفوس کو اس نے بے يقینی سے دیکھا ۔۔ دل کی دھڑکن جیسے سست ہوئی تھی ۔۔ وہ بات کررہے تھے ۔۔ “دانی تجھے ان دونوں کو بلانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔ ہم دونوں کافی تھے نہ ۔۔ خیر اب جو ہوا سو ہوا ۔۔ نور تو مر گئی اب سوچ اس کا کیا کرنا ہے ۔۔ میں ذرا اپنی والی کو لے کر آتا ہوں ۔۔ بے چاری انتظار کررہی ہوگی میرا !!! “
اس کی بات پر ایرا کی آنکھیں پھٹنے کے قریب ہوئیں ۔۔ نور کو ما*ر دیا انہوں نے ؟ زز۔۔۔زیادتی کی !! اللّه ۔۔۔
منہ پر دونوں ہاتھ زور سے رکھتی سسکیاں دبا کر وہ تڑپ تڑپ کر رونے لگی ۔۔ اس کا سانس بند ہونے لگا تھا ۔۔
یہ دونوں انسان نہیں تھے ۔۔ ابلیس تھے !!!
اس کے حلق سے گھٹی گھٹی سسکی بلند ہوئی دوسرے لمحے وہ بھاگی تھی وہاں سے ۔۔
شاہ رخ کی نظر اس پر پڑ گئی ۔۔ وہ نفرت سے اس کی پشت دیکھتا اس کے پیچھے بھاگا ۔۔ ایسے ہی نہیں جانے دے گا وہ اسے ۔۔ اب تو بالکل نہیں !!!
🍂🍂🍂
بدر کے آفس میں بیٹھی وہ کام کر رہی تھی جب فون کی بیل بجی ۔۔ جیسے ہی کال اٹینڈ کر کے اس نے فون کان سے لگایا اینار کی گھبرائی ہوئی آواز پر وہ پریشان ہو کر اٹھی ۔۔
“کیا ہوا ماما سب ٹھیک ہیں؟ “
اس کی پریشان آواز پر بدر نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔ وہ اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو غور سے دیکھنے لگا ۔۔
جیسے ہی ارشیہ نے موبائل بند کیا وہ پوچھ بیٹھا ۔۔
“کیا ہوا سب ٹھیک ہے ؟؟ “
ارشیہ نے لب بھینچ کر نفی میں سر ہلایا ۔۔
” ایرا مسنگ ہے ہمیں جلدی گھر پہنچنا ہوگا !!! “
جلدی سے اپنا سامان سمیٹتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ اس کی بات پر بدر بھی پریشان ہو گیا ۔۔
”چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں !!!
🍂🍂🍂
تیزی سے سیڑھیاں اترتی وہ گرتی پڑتی باہر بھاگی ۔۔ راستے میں دو دفعہ اس کا پیر بری طرح مڑا تھا ۔۔ اونچا اونچا روتی وہ اندھا دھند بھاگتی ہوئی ہوٹل کی پچھلی جانب آگئی ۔۔
پتلی سی راہداری میں رک کر اس نے ایک پل کو سانس بحال کیا ۔۔ کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے موبائل نکال کر پہلا نمبر ڈائل کر دیا ۔۔
اس سے پہلے کہ وہ فون کان سے لگاتی شاہ رخ اس تک پہنچ گیا۔۔ اس نے فون کھینچ کر زور سے زمین پر پھینکا جس سے فون دو حصوں میں بٹ گیا ۔۔
ایرا کا رنگ سفید پڑ گیا ۔۔ آنکھیں پوری کھولتی وہ دیوار سے جا لگی ۔۔ شاہ رخ نے کمینی مسکراہٹ سے اس سے سر تا پیر دیکھا ۔۔
“کیا ہوا ڈارلنگ مجھ سے ملے بغیر جا رہی تھی ؟؟ ” تمہارے لیے ایک سرپرائز تھا جو تم نے خود خراب کر دیا ۔۔ اپ تو تم جان گئی ہو کہ وہ سرپرائز کیا تھا ۔۔ خیر کوئی بات نہیں ۔۔ !!! “
اس کے گال سے شہادت کی انگلی مس کرتا وہ بہکے انداز میں بولا ۔۔
ایرا نے اسے زور سے دور جھٹکا تو وہ ہنس پڑا ۔۔
اس کے قریب آ کر شاہ رخ نے اپنی انگلیاں اس کے کاندھوں میں گاڑ دیں اور اسے جھٹکے سے دیوار سے لگایا ۔۔
“جان میں تو چاہتا تھا کہ ہم تنہائی میں پیار کریں اس لیے میں تمہیں لینے آنے والا تھا لیکن تم تو مجھ سے ڈر کر بھاگ ہی گئی خیر کوئی بات نہیں یہاں پر بھی تنہائی ہے ۔۔ ہم انجوائے کرتے ہیں !!! “
وہ اس کی گردن پر جھکا تو وہ زور سے چیخیں مارنے لگی ۔۔
“چھوڑ دو مجھے تمہیں اللہ کا واسطہ ہے مجھے جانے دو میں ایسی لڑکی نہیں ہوں پلیز مجھے جانے دو ۔۔ میں پکا کسی کو نہیں بتاؤں گی جو جو تم سب نے نور کے ساتھ کیا ۔۔ پلیز میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں مجھے جانے دو !!!”
انکھیں میچ کر زور زور سے روتی وہ اس کے سامنے گڑگڑانے لگی ۔۔ وہ سنی ان سنی کرتا اس کی گردن پر جھکا ہی تھا کہ ایک مضبوط ہاتھ نے پوری قوت سے اسے دور جھٹکا ۔۔
ایرا نے سر اٹھا کر بے یقینی سے آنے والے کو دیکھا ۔۔
مکمل سیاہ لباس میں سیاہ ماسک سے چہرہ ڈھکے وہ جو کوئی بھی تھا اب شاہ رخ کو بری طرح پیٹ رہا تھا ۔۔
وہ دیوار سے چپکی کھری خوف سے سارا منظر دیکھتی رہی ۔۔ اس کا پورا وجود جیسے جامد ہو گیا تھا ۔۔ چاہ کر بھی وہ وہاں سے بھاگ نہیں سکی ۔۔
اس کی قوت ارادی نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ۔۔ اگر کچھ پتا تھا تو اتنا کہ اس شخص فرشتے کی طرح اسے اس حیوان سے بچایا تھا…
اسے مار مار کر ادھ موا کرتے سیاہ لباس میں ملبوس وہ شخص سیدھا ہوا ۔۔ اس نے خطرناک نظروں سے ایرا کی جانب دیکھا جو دیوار سے لگی تھر تھر کانپ رہی تھی ۔۔
اس انجان شخص کو سر تا پیار اپنا جائزہ لیتے دیکھ کر وہ خود میں سمٹتی گھٹ گھٹ کر رونے لگی ۔۔
وہ اجنبی بڑھا تھا اس کی جانب ۔۔ اسے ہاتھ سے تھام کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوٹل کی عمارت سے باہر آیا ۔۔ اسے گھسیٹ کر سڑک پر لاتے اس نے زور سے ایرا کو جھٹک کر دور دھکیلا جسے وہ زمین پر اوندھی جا گری ۔۔
اس کی کہنیاں اور گھٹنے بری طرح چھل گئے تھے ۔۔
زمین پر گرے ہی اس نے سر گھما کر اس اجنبی کو دیکھا جو خطرناک سرخ انکھوں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔
اس نے اپنی سیاہ جیکٹ اتار کر ایرا کے منہ پر ماری ۔۔
” بے غیرت !!! “
سرد لہجے میں کہتا وہ پلٹا اور اندھیرے میں گم ہو گیا ۔۔