No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
سرخ ٹشو کے پھولے فراک میں ادھر ادھر ٹہلتی وہ کوئی حور ہی لگ رہی تھی لبوں پر سرخ لپ سٹک لگائے، گالوں پر گلال بكهیرے وہ شہد رنگ غزالی آنکھوں میں انتظار لیے لاؤنج میں ٹہلتی ابراھیم کا انتظار کر رہی تھی۔۔
مزید کوفت اسے ڈریس کی فٹنگ سے ہورہی تھی جو اسے بلکل فٹ آیا تھا! الجھ کر واپس کمرے میں جانے لگی جب ایئر رنگ کان سے سلپ ہو کر نیچے گرا۔۔
منہ بناتی ایئر رنگ اٹھانے کے لیے جھکی جب چرر کی ہلکی سی آواز آئی۔ جلدی سے ایئر رنگ اٹھا کر وہ سیدھی ہوئی۔۔
کمر پر ہاتھ سے ٹٹولتی وہ اندر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی اس نے دائیں بائیں دیکھا بلکل ٹھیک تھا پھر یہ آواز کہاں سے آئی؟
یونہی اس نے کمر سے بال ہٹا کر ہاتھ گردن سے نیچے پھیرا۔۔ ابھی وہ پھٹے حصے تک پہنچ پاتی جب وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔
زنیشہ نے پلٹ کر اسے دیکھا اس کی سرخ آنکھوں اور عجیب سے تاثرات دیکھ کر وہ سب بھولتی اس کے پاس آئی۔۔
“کیا ہوا ہے ابراھیم؟ آپ ۔۔۔۔۔ روئے ہیں؟”
اس انکشاف نے زنیشہ ابراھیم کو ساکت کیا تھا۔ وہ اس مرد کو کبھی روتے نہیں دیکھ سکتی تھی،، سوچ بھی نہیں سکتی تھی!
ابراھیم نے اس کی آنکھوں میں سرخ آنکھیں گاڑیں، اس کی آنکھیں نم کیوں تھیں یہ تو میجر ابراھیم نہیں تھا! وہ چند پل یونہی ساکت کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر جھٹکے سے اس کے گلے لگا۔۔
جھک کر اس کے گرد سختی سے بازو حائل کرتا چہرہ اس کے بالوں میں چھپائے وہ بلکنے لگا تھا۔۔
زنیشہ کے دل کی دھڑکن سست ہوئی آنسوؤں سے بھیگتی گردن سے اسے گہرا جھٹکا لگا۔۔
وہ رو رہا تھا؟ وہ کیا کرے؟ مرد کو روتے دیکھنا آسان نہیں ہوتا بلکل بھی نہیں!!
اس کے گرد بازو حائل کرتی اس کا سر تھپکتی وہ خود بھی رونے لگی تھی ایسا چڑیا سا دل تھا۔۔
وہ دل جو غیروں کی تکلیف پر بھی تڑپ جائے وہ تو پھر اس کا “سکونِ دل” تھا اس کا اپنا ۔۔ اس کا ابراھیم!!
“ابراھیم کیا ہوا ہے آپ کو ایسے مت روئیں مجھے درد ہو رہا ہے!!” ۔۔
اسے خود سے الگ کرتی اس کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھاتی خود اس کے پاس چند انچ کے فاصلے پر بیٹھ گئی۔۔
“کیا ہوا ہے مجھے بھی نہیں بتائیں گے؟؟”
نرمی سے اس کے آنسو انگلیوں کی پوروں پر چنتی وہ روہانسی ہوتی بولی دل تو چاہ رہا تھا ابھی پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔
وہ فرط مسرت سے لبوں کو زور سے بھینچتا اسے دیکھنے لگا یہ آنکھیں تو صالح کی تھیں لیکن آنسو ابراھیم کے تھے۔ جب وہ بولا تو اس کی آواز دھیمی تھی۔۔
“بابا زندہ ہیں، دل!!”
اس کے دونوں ہاتھ سختی سے تھامتا وہ اسے پتھر کا کر گیا تھا جیسے اسے لگا اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے!
“کیا کہا ہے آپ نے؟”
شہد رنگ آنکھوں میں بےانتہا بےيقینی لیے وہ اسے دیکھے گئی عقل اس کی بات کا مفہوم سمجھنے سے انکاری ہوئی۔
“بابا زندہ ہیں دل، میں انہیں دیکھ کر آ رہا ہوں!”
اب کہ اس کا لہجہ سنبهلا ہوا تھا۔۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ تو۔۔۔”
وہ حیرتوں میں گھری کہہ رہی تھی جب ابراھیم نے اس کی بات کاٹی۔۔
“یہی بات تو مجھے اور بھی پرامید کر رہی ہے بابا کی ڈیڈ باڈی کو کسی نے نہیں دیکھا تھا ماما نے بتایا تھا جب انہیں ہوسپٹل لے جایا گیا تب ڈاکٹرز نے کہا تھا باڈی بہت بری حالت میں ہے انہوں نے ایک پلاسٹک سے کور کر دیا تھا اور اسی حالت میں انہیں فورا قریبی قبرستان میں لے جایا گیا۔۔۔
دل ۔۔ یہ کہانی بھی تو ہو سکتی ہے، کور کیا گیا ہے کسی بات کو، میری چھٹی حس کچھ اور کہہ رہی ہے! میں جب ان سے ملا تو میرے دل نے گواہی دی وہ بابا ہیں میرے، میں بہت جلد پتہ لگوا لوں گا!!”
اب کہ اس کا لہجہ مظبوط سا تھا زنیشہ کے لبوں پر پل میں مسکراہٹ ابھری، آنکھیں یوں چمکیں تھی کہ ستاروں کی چمک کو مات دیتی محسوس ہورہی تھیں۔۔
یہ چمک روشنی کی نہیں تھی اس خوشی کے بےپناہ احساس کی تھی جو ان شہد آنکھوں کے کانچ میں جھلملا سا رہا تھا۔۔
“اللّه اللّه میرے بابا آ گئے!! اف اف میں بتا نہیں سکتی میں کتنی خوش ہوں” ۔۔
کھلکھلا کر کہتی وہ جھٹ سے اس کے سینے سے لگی دو دل خوشی کے ان جذبات کو ایک دوسرے میں مدغم کر رہے تھے!
ابراھیم نے مسکراتے اس کی کمر کے گرد ہاتھ باندھتے اس کے بالوں میں چہرہ چھپایا! کمر کی جانب سے پھٹے فراک پر اس کا لمس محسوس ہوتے وہ جھٹکے سے اس سے الگ ہوئی۔۔
اس کا چہرہ اب کہ سرخیاں چھلکا رہا تھا اس سب میں وہ اسے تو بھول ہی گئی تھی! نظریں جھکائے حلق تر کرتی وہ کھڑی ہوگئی وہ سر اٹھائے دوپٹے سے بےنیاز اس کے وجود کو دیکھنے لگا اس کا یوں شرمانا اسے سمجھ نہیں آیا تھا۔
“وہ میری ڈریس پھٹ گئی ہے بیک سے!!”
وہ ایک نظر اسے دیکھ کر نظر جھکاتی دھیمے لہجے میں بولی۔ ابراھیم نے ابرو اچکائے وہ اٹھ کر اس کے مقابل آیا۔
“تو تم چاہتی ہو میجر ابراھیم جس کی دہشت سے ایک زمانہ کانپتا ہے وہ اپنی زوجہ کے لیے سوئی دهاگے سے جنگ کر کے آپ کے لیے رومانوی لمحات قائم کرے؟”
جھک کر اس کی آنکھوں میں جھانکتا وہ اتنی دلکشی سے بولا کہ وہ لجا کر رخ موڑ گئی جب یاد آیا تو لب سختی سے کاٹتی بالوں کو پشت پر بکھیر گئی۔۔
اس کی جھجھک کو دیکھ کر مسکان دباتا وہ دراز سے باكس ٹٹول کر اس میں سے نیڈل نکالنے لگا۔۔ سوئی میں دهاگا ڈال کر وہ اس کی پشت پر آ کھڑا ہوا۔۔
“آپ کے لیے یہ بھی کر سکتا ہوں!!”
اسے پہلی بار آپ کہا گیا تھا یہ انداز دل میں کہیں گہرے جذبات کے قلم سے لکھ کر نقش ہوا تھا۔ دھیرے سے شہد رنگ بالوں کو کمر سے ہٹا کر آگے کی طرف ڈالتا وہ کمر پر نظر دوڑانے لگا۔۔
مطلوبہ مقام ملنے پر وہ جھک کر سوئی دهاگے کی مدد سے کپڑے کو پہلی سی حالت میں لانے لگا۔۔ اپنی زندگی کا سب سے انوکھا کام مکمل کر کے اس نے ہاتھ سے دهاگا توڑ کر چہرہ قریب کیا۔۔
اس کی کمر پر شدت سے لب رکھتا وہ اسکی سانسیں منتشر کر گیا۔۔
“چلیں اب یا ارادہ بدل گیا ہے تمہارا؟”
اس کا رخ اپنی جانب کرتا وہ بھاری مسکاتے لہجے میں گویا ہوا تو وہ سٹپٹا کر پیچھے ہٹی۔۔
اس لمحے اسے ابراھیم سے اتنی حیا محسوس ہو رہی تھی مزید اس کی نظریں۔۔ اف اف!! وہ کہاں جائے؟
جلدی سے دوپٹہ سنبهالتی وہ باہر بھاگ گئی۔ وہ بھی اس کے پیچھے گیا تھا چال کا شاہانہ پن، مزاج کی لطافت سب لوٹ چکا تھا۔
🍂🍂🍂
“حیان مجھے تم سے بات کرنی ہے….!!”
اندر سب خوش گپیوں میں مصروف تھے کیک کٹنگ کے بعد جیسے ہی حیان باہر لان میں آیا وہ بھی اس سے بات کرنے کی غرض سے اس کے پیچھے چلی آئی تھی۔۔۔
کیجول سی ٹی شرٹ جینز میں جیکٹ ایک کاندھے پر ڈالے وہ اس کی جانب پشت کیے کھڑا تھا جب وہ اس کے مقابل آئی۔۔
“کب تک یوں ہی ناراض رہنے کا ارادہ ہے؟”
سینے پر ہاتھ باندھتی وہ تیز نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی اس کے انداز پر حیان نے ابرو اچکائے پھر کندھے اچکا گیا!
“تمہیں جیسے بڑی پرواہ ہے، میں ناراض رہوں یا نہ کیا فرق پڑتا ہے ؟”
عجیب سے لہجے میں کہتا ہے وہ آگے بڑھ گیا وہ اس کی پشت کو گھورتی جلدی سے اگے بڑھی اسے کلائی سے تھام کر روکتی وہ بھی اب کی بار سنجیدہ لہجے میں بولی۔۔
“کیا ہو گیا ہے حیان یہ اتنی بڑی بات نہیں ہے جس کا تم اتنا بڑا بتنگر بنا رہے ہو!”
وہ اسے اس رات کا حوالہ دیتے ہوئے بولی جس پر وہ ایک بار پھر سے تپ اٹھا۔۔
“تم نے مجھے بتانا گوارا تک نہیں کیا اس غیر سے جا کر مدد لے لی کیا میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا؟”
ماتھے پر تیوریاں ڈالے وہ اپنے غصے کو ضبط کرنے لگا اسے سگریٹ کی طلب ہوئی تھی پاکٹ سے سگرٹ اور لائٹر نکال کر وہ اس کے سامنے ہی سلگانے لگا۔۔۔
سر اٹھا کر سگریٹ کا کش لے کر دھواں چھوڑتا وہ اسے دیکھنے لگا جو خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اور رہی بات کرنے یا نہ کرنے کی میں جانتی ہوں تم میری مدد کرنے کے لیے کچھ بھی کر جاتے لیکن اس سے تمہاری جاب خطرے میں پڑ سکتی تھی اس لیے میں نے وہی کیا جو ٹھیک تھا!”
وہ متانت سے اسے سمجھاتی ہوئی بولی۔۔
” صحیح!! “
مختصر جواب دے کر سگریٹ نیچے پھینک کر پیر کے نیچے مسلتا وہ جیکٹ پہن کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔ رمل نے لب بھینچ کر اس کی پشت کو دیکھا پھر سر جھٹک کر وہ اندر چلی گئی۔
🍂🍂🍂
“کیا بات ہے بیگم آج کوئی لفٹ ہی نہیں؟ ہم تو کب سے آپ کی ایک نظر کرم کے منتظر ہیں۔۔!!”
مہمانوں پر ترچھی نظر ڈال کر اورہان اس کے برابر آ کھڑا ہوا ساڑھی میں اینارا کے نازک وجود کو دیکھتا وہ پر شرارت لہجے میں گویا ہوا۔۔
اس نے سٹپٹا کر سر اٹھاتے تنبیہی نظروں سے اورہان کی نیلی آنکھوں میں دیکھا۔۔
“کیا کر رہے ہیں کچھ جگہ اور ماحول کا ہی خیال کر لیں!!”
اس نے جھٹ سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا تو وہ خفت زدہ سی بولی اتنے میں عرش ان کی طرف آتا دکھائی دیا۔۔ اپنی سٹائلش جیکٹ جینز میں ملبوس وہ وہاں سب میں نمایاں اور ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔
ان دونوں کو الگ الگ کھڑا دیکھ کر وہ ان کی جانب چلایا تھا۔۔۔
“ایوری تھنگ اوکے؟”
مہمانوں پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر وہ ان سے نرمی سے مخاطب ہوا۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی اورہان جلدی سے بول پڑا۔۔
“یس چیمپ ایوری تھنگ رائٹ، اپنی بیوی سے رومانس کرنے کی کوشش کر رہا تھا!!”
اس کے بے باک لہجے پر وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر تن فن کرتی وہاں سے نکل گئی وہ دونوں قہقہہ لگا گئے۔۔
“کنٹنیو کریں ماموں!!”
انہیں آنکھ مار کر وہ باقی کزنز کی جانب چلا آیا۔ رمل، حیان، زنیشہ، ابراھیم، بدر، ارشیہ سب تھے بس وہ نہیں تھی۔۔
اس نے یونہی سر دائیں بائیں گھما کر دیکھا وہ اسے ماہ بیر اور ارشما کے برابر کھڑی کسی سے ملتی نظر آئی۔ سیاہ ریشمی ساڑھی میں جس کے تنگ بازو کلائیوں تک آتے تھے! سلکی بھورے بال کمر پر کھلے گھٹنوں تک سیدھے گر رہے تھے۔۔!
وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ اس پر سے نظریں ہٹانا عرشمان شاہ کے لیے محال ہوا تھا۔۔
“اہم اہم بھائی آپ کی ہی بیوی ہے چوری چوری کیوں دیکھ رہے ہیں؟؟”
زنیشہ کی نظر جونہی اس پر پڑی اسے یوں محویت سے ایرا کو تکتے دیکھ کر وہ شرارت سے گویا ہوئی۔۔اس کے بولنے پر باقی سب بھی اسے دیکھنے لگے۔۔
“ارے ابراھیم کچھ سیکھو اس سے دور دور کھڑے ہو کچھ محبت سے بھی دیکھو!!”
ارشیہ نے ان دونوں کو آڑے ہاتھوں لیا عرش کے کندھے پر ہاتھ پھیلاتا وہ مسکراتی نظروں سے زنیشہ کو دیکھتا بولا۔
“ہمارا دیکھنا کچھ لوگ سہہ نہیں پاتے!!”
اس کی بات پر وہ شرم سے سرخ پڑی کس طرح اس کے بھائیوں کے سامنے وہ بے دھڑک کہہ رہا تھا۔ ایک کام کا بہانہ کر کے وہ وہاں سے کھسک گئی۔۔
حیان نے ابراھیم کو مصنوعی گھوری سے نوازا ۔۔۔ ” میجر صاحب اس کے بھائی سامنے ہی کھڑے ہیں!!”
ابراھیم نے کندھے اچکائے کالی گہری آنکھیں اب بھی ترچھی ہوتیں اس کو تک رہی تھیں اسے پرواہ نہیں تھی کون اسے دیکھ رہا ہے وہ بیوی تھی اس کی اس کی دیکھنے کا پورا حق تھا اسے۔۔
“سالے صاحب اب بیوی ہے وہ میری!!”
ان کی نوک جھونک یونہی جاری تھی رمل خاموشی سے وہاں سے ہٹ گئی حیان نے ایک نظر اسے دیکھا ضرور تھا۔ اب وہاں ارشیہ، حیان، بدر، عرش اور ابراھیم تھے۔۔
“یار بہت ان رومانٹک ہو تم دونوں!!”
پنک کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتی وہ لانگ شوز زمین پر مارنے لگی اس کی بات پر بدر نے اسے دیکھا بلیک پینٹ شرٹ میں وہ ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔
“کوئی بات نہیں تمھارا شوہر رومینٹک ہوگا بہت!!”
سائیڈ سمائل دیتا وہ اسے تپاتے ہوئے بولا اس کی بات پر ان تینوں نے مسکراہٹ دبائی وہ اس کی بات کا پس منظر سمجھ گئے تھے جبکہ وہ ایک دم سیدھی ہوئی۔۔
“تمہیں کیسے پتہ نجومی ہو کیا؟”
اسے تیكهی نظروں سے دیکھتی وہ ناک سکیڑ کر بولی سخت زہر لگا تھا اس کا یوں بیچ میں بات کرنا۔۔
“اونہوں۔۔۔! خود دیکھ لینا۔۔!!”
کیسا بےپرواہ انداز تھا! ارشیہ نے ان سب کو مسکان دباتے دیکھا تو مشکوک ہوئی۔۔
“کوئی بات چھپا رہے ہو مجھ سے؟”
اس نے توپوں کا رخ حیان کی طرف کیا۔ وہ ہاتھ اٹھاتا وہاں سے کھسک گیا البتہ ہنسی امڈ امڈ کر آ رہی تھی کیا ہوگا جب دو بدتمیز طوفان آپس میں ٹکرائیں گے۔۔
ابراھیم بھی زنیشہ کی طرف چلا گیا بچا عرش تو وہ اکسکیوز می کہہ کر کال اٹینڈ کرنے جا چکا تھا۔ وہ منہ کھولے ان سب کو دیکھے گئی پھر تیز نظروں سے بدر کو دیکھنے لگی جس کے رنگ ڈھنگ ہی آج نرالے تھے کچھ تو بدلا تھا اس میں۔۔
“کیا چھپا رہے ہو مجھ سے؟”
اس کے مقابل آتی وہ آنکھیں سکیڑ گئی وہ بےتاثر چہرے سے اسے دیکھے گیا پھر یکدم اس کے کان کے قریب جھکا۔
“تمہاری اکڑ مٹی میں ملنے والی ہے!!”
بھاری لہجے میں کہتا وہ سرمئی آنکھوں سے اسے سر تا پیر دیکھتا ازلی اکڑو انداز میں وہاں سے چلا گیا۔ وہ نتھنے پھلاتی اس کی پشت کو کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
“ارشیہ صمید یہی ہے،، میری انا مٹیں ملاؤ گے تو مجھے مٹی پاؤ گے!!”
وہ عجیب سے جنونی انداز میں خود سے ہم کلام ہوئی تھی۔۔
