Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“اف!!!”
تھکن سے اس نے گردن کو دائیں بائیں ہلایا وہ لیپ ٹاپ کی سكرین فولڈ کر کے صوفے پر کی بیک پر سر ٹکا گئی۔
آج انہیں آفس میں دیر ہوگئی تھی۔ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے میٹینگ تھی کچھ کام بھی زیادہ تھا اس لیے اس نے اور بدر نے اوور ٹائم لگا لیا۔
وہ ہمیشہ کی طرح بلیک پنٹ شرٹ پر شاكنگ پنک کوٹ پہنے بالوں کا میسی جوڑا بنائے ہوئے تھی۔ جس کی ایک آدھ گھنگھریالی لٹ لاپرواہ انداز میں گالوں پر پڑی تھی
البتہ چہرہ آج میكپ سے پاک تھا جس سے اس کے چہرے کی گلابیاں نمایاں ہورہی تھیں۔
“کب تک آئے گا کھانا لگتا ہے آج یہیں فوت ہو جانا میں نے!!!” ۔۔۔۔۔
اس نے رو لنگ چیئر پر بیٹھے بلیک تھری پیس میں مصروف سے بدر کو دیکھتے بیزاری سے کہا جس نے لیٹ ہونے کی وجہ سے کھانا آرڈر کر دیا تھا۔
“چڑیلیں بھی کبھی فوت ہوتی ہیں؟ وہ تو دوسروں کو فوت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں!!!”
مظبوط چوڑی کلائی میں پہنی برانڈڈ واچ میں وقت دیکھتا وہ انگلی سے آنکھیں مسلتا ہوا بولا۔
اس کی سرمئی آنکھیں ہلکی ہلکی سرخ ہونے لگیں تھیں تھکن کے باعث۔۔! لیپ ٹاپ دهكیل کر وہ موبائل کی سکرین پر چمکتے میسج کو دیکھتا اٹھا اور اس کے ساتھ کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔
کچھ دیر میں ہی واچ مین پلاسٹک بیگز انہیں دے کر چلا گیا کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو آفس میں پھیل گئی۔
“ویسے تم۔۔۔۔”
بدر نے کھانا اپنی پلیٹ میں نکالتے کہنے ہی لگا تھا کہ اس نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
“میں آلریڈی بہت تھکی ہوئی ہوں جہاں سب ولیمے کے اگلے دن آرام کر رہے ہیں میں تمہارے ساتھ آفس میں خوار ہورہی ہوں اس لیے مجھے تنگ مت کرو!!!”
نیلی تیز آنکھیں گھماتی وہ اسے وارن کرتی تیکھے لہجے میں بولی لیکن وہ بھی پھر بدران شاہ تھا۔ گردن اس کی جانب گھماتے وہ تیکھا سا مسکرایا۔
“دو کلو میکپ کر کے بس زمین پر بوجھ بنی گھوم رہی تھی تم کس لیے تھک گئی تم ۔۔۔ ہمم؟؟”
مزے سے کھانا کھاتا وہ اسے تپا گیا ہاں اب کھانے کا ذائقہ پہلے سے بھی بڑھ گیا تھا۔
“تم کیوں جلتے ہو میں دو کلو میک اپ کروں یا سو کلو۔۔! بڑے آئے حسن پڑے ہونہہ۔۔۔!!!
تن کر کہتی وہ پانی کا گلاس منہ سے لگا گئی۔
“ویسے تو لوگ میری نظروں سے ہی گهایل ہوجاتے ہیں دیکھا ہوگا تم نے کیسے وہ لڑکا میرے آگے پیچھے گھوم رہا تھا!!!”
مسکراہٹ دباتی وہ ٹشو سے ہاتھ صاف کرنے لگی۔ بدر نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔۔
“اچھا وہ لنگور؟ دیکھا تھا میں نے!!” ۔۔
ٹیبل سے پھیلاوا سمیٹ کر وہ اٹھا ڈسٹ بن میں ڈال کر وہ واپس آ بیٹھا۔
“او ہیلو خاصا گڈ لکنگ تھا وہ”۔۔۔
پیروں کو ہیلز سے آزاد کر کے اس نے ٹانگیں ٹیبل پر رکھ لیں۔ جمائی روکتے اس نے ہاتھ بلند کر کے زوردار انگڑائی لی دوسری جانب خاموشی پا کر اس نے چہرہ ٹیڑھا کر کے اسے دیکھا تو وہ خاموشی سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔
اس کی نظروں پر وہ خفت سے ہاتھ نیچے کرتی سیدھی ہوئی۔۔۔
“بدتمیز!!!” ۔۔۔۔
بڑبڑا کر وہ اٹھنے لگی جب وہ بولا۔۔
“رک جاؤ میں ایک کال کر لوں پھر ڈراپ کردوں گا تمہیں مامی سے بات ہوئی تھی کہہ رہی تھیں تمہیں ڈراپ کردوں!!!”
کھڑا ہوتا پینٹ کی پاکٹ میں بایاں ہاتھ ڈالتا وہ ایک نمبر ڈائل کرتا فون کان سے لگا گیا۔ وہ تیكهی نظروں سے اسے دیکھتی واپس صوفے پر پیر اوپر کر کے بیٹھ گئی۔
نجانے کیا ہوا کہ اچانک بدر کال پر غصے سے بات کرنے لگا اس کا سفید چہرہ پل میں سرخ ہوا۔ وہ آنکھیں سكیڑ کر اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھنے لگی۔۔
“اس بلے کو کتنی جلدی غصہ آ جاتا ہے ہر وقت غصہ غصہ جیسے آیا ہی دنیا میں غصہ کرنے کے لیے ہے!!”
بڑبڑا کر وہ سینے پر ہاتھ بندھتی پیر جھلانے لگی۔ بدر نے ناگواری سے کال کاٹ کر نمبر ڈیلیٹ کر دیا۔
“ویسے تمہیں اتنا غصہ آتا کہاں سے ہے؟”
ہتھیلی پر گال ٹکا کر اس نے آنکھیں بار بار جھپک کر معصومیت سے بولنے کی کوشش کی وہ الگ بات ہے معصومیت سے دور دور تک تعلق نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوشش بےکار گئی۔۔
“بچپن سے ایسا ہوں!!!”
کوٹ اٹھا کر پہنتے وہ بےنیازی سے بولا۔ یہ جنگلی بلی کچھ زیادہ فری نہیں ہورہی تھی؟ وہ شرارت سے مسکرائی اسکی نیلی آنکھوں کے کانچ چمک اٹھے تھے۔۔
“پھر تو تمہیں اپنے پیدا ہونے پر بھی غصہ آیا ہوگا جب پہلی بار آنکھ کھلی ہوگی نواب کی۔۔ دنیا میں!!!”
وہ گردن پیچھے پهینکتی ہنس پڑی اس نے جیسے اپنی بات کو انجوائے کیا تھا اب جو کچھ اس کے ذہن میں آ رہا تھا وہ کہہ نہیں سکتی تھی لیکن اسے ہنسی شدید والی آ رہی تھی۔
اسے یوں پاگلوں کی طرح ہنستے دیکھ کر بھی وہ سڑے تاثرات سجائے کھڑا رہا سرمئی آنکھیں البتہ اس کے ہنسی سے سرخ ہوتے چہرے پر گڑھی تھیں۔۔
انہیں دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ وہ اس سے ایک سال دو ماہ بڑی تھی۔ اس کے کسرتی جسم اور چھ فٹ سے نکلتی ہائیٹ کی وجہ سے وہ اس کے سامنے بچی لگتی تھی۔
“اچھا ایک آخری بات! اوکے؟ تمہیں سب سے زیادہ غصہ کس پر آتا ہے مطلب سب سے زیادہ!!!” ۔۔
بال کھول کر پھر سے جوڑے میں باندھتے ہوئے وہ سیدھی ہو کر بیٹھی اس کے پیر ہیلز سے کچھ دور ہی تھے۔۔
“تم پر ۔۔۔ اس کے بعد تمہاری ہیلز پر!!”
وہ کٹیلی نظر اس پر پھر زمین پر پڑی ہیلز پر ڈالتا دانت پیس کر بولا۔ اس کا بس چلتا دنیا کی ساری ہیلز کو آگ لگا دیتا سب سے پہلے اس جنگلی گھنگھریالے بالوں والی چڑیل کی جس نے اپنی ہیلز سے گلاس ڈور پر کئی بار ڈیزائن چھاپے تھے۔۔!
ارشیہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی اس نے دانت پیس کر اس کھڑوس، بدتمیز، منحوس بلے کو دیکھا۔۔
“میں بتاؤں مجھے کس پر سب سے زیادہ غصہ آتا ہے؟؟” تن فن کرتی وہ اٹھی۔۔۔
“نہیں!!!” ۔۔۔ ٹکا سا جواب آیا۔۔
“میں پھر بھی بتاؤں گی مجھے سب سے زیادہ غصہ تمہارے منحوس ایکسپریشن پر آتا ہے خود کو بڑے کوئی پرنس سمجھتے ہو اور جب مجھے غصہ آتا ہے نہ تو میں اپنی ہیلز سے توڑ پھوڑ کرتی ہوں آفس کے پہلے دن کیا بعد میں بھی “ڈیمو” دیکھ لیا ہوگا تم نے!!”
اب کے وہ بھی تپانے والی مسکراہٹ سے بولی۔۔۔
“تمهاری ہیلز کا سارا فساد ہے اگر وہ ہی نہ رہیں؟”۔۔
وہ سائیڈ سمائل دیتا چمک کر بولا اس کی سرمئی آنکھوں کا رنگ گہرا ہوا تھا۔ ارشیہ نے دماغ میں کیلکولیشن کی بیک وقت دونوں کی نظر ہیلز پر پڑی سیكنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ ہیلز پر جھپٹے۔۔
بدر فاتحانہ مسکراہٹ سے ہاتھ بلند کرتا پیچھے ہٹا اس سے پہلے وہ اس تک پہنچتی اس نے پنسل ہیل کو دوٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔۔
جہاں “ٹک” کی آواز آئی وہیں ارشیہ کی سانس اٹکی اس نے غم و غصے سے اسے دیکھا وہ ڈھیٹ بنا پینٹ کی پاکٹ میں دونوں ہاتھ رکھ کے نوابوں کے سٹائل میں کھڑا اسے چیلنجنگ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“مجھے ابھی کے ابھی اسی طرح کے ہیلز منگوا کر دو!!!” وہ دانت پر دانت جما کر اسے وارن کرتی بولی نیلی آنکھوں کے کانچ غصے کی شدت سے سرخ پڑ چکے تھے۔۔
وہ ایک قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔ “اگر تم ریکویسٹ کرو تو سوچا جا سکتا ہے!!!”
ارشیہ نے سلگ کر اسے دیکھا ۔۔۔ “مائی فٹ میں ایسے بھی واپس جا سکتی ہوں تم ابھی ٹھیک سے مجھے جانتے نہیں!!” ۔۔
بیگ اٹھا کر دوسری ہیل کو ٹھوکر مار کر وہ ننگے پاؤں باہر نکل گئی وہ جبڑے بھینچے اس کی پشت کو دیکھے گیا۔
قریب پانچ منٹ بعد وہ گاڑی کی چابی پکڑ کر آفس لاک کرتا باہر نکلا وہ تارکول کی سڑک پر ننگے پاؤں چلتی جا رہی تھی دفعتاً وہ رکی تھی اس کے پیر میں کچھ چبھا تھا۔۔
اس نے دائیں بائیں نظر گھمائی فٹ پاتھ پر فكس ہوئے بنچ کی طرف آ کر وہ لب بھینچتی بیٹھ گئی۔ پیر میں بڑا سا خاردار کانٹا گھس گیا تھا جس سے خو**ن کی ننھی بوندیں نکلنے لگی تھیں۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے کانٹا نکالا عین اسی وقت وہ اس تک پہنچ گیا اس کی کشادہ پیشانی پر لاتعداد بل تھے ابلتے غصے کو ضبط کرتا وہ اس کے قریب آیا۔۔
“چلو اٹھو گاڑی میں بیٹھو تمہیں ڈراپ کر دوں سارا دن تمہارے پیچھے خوار ہونے کا ٹھیکہ نہیں لیا میں نے!!”
وہ دانت پیس کر بولا۔۔۔
“میں خود چلی جاؤں گی تمہارے احسان کی ضرورت نہیں مجھے!!”
انگلی اٹھا کر وہ بھی درشتگی سے بولی اور یہیں بدر کا پارہ ہائی ہوا اس نے جھٹکے سے اسے بازوؤں میں اٹھایا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا سڑک کے ایک طرف کھڑی کار کی طرف جانے لگا۔۔۔
وہ مسلسل اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کررہی تھی غصے سے اس نے بدر کے بال نوچ لیے۔۔
“شرم نہیں آتی تمہیں؟ نیچے اتارو مجھے!!!”
بدر نے کار کا دروازه کھول کر اسے اندر پٹخا۔۔ اب وہ ‘جہان سكندر’ تھوڑی تھا جو اس کے لیے ہیل کے ٹکڑے جوڑنے بیٹھ جاتا۔
اس کے برابر ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر اس نے سیٹ بیلٹ باندھی اور تیز سپیڈ پر ڈرائیو کرنے لگا۔۔
“بہت اکڑ ہے نہ تم میں؟ تمہاری یہ اکڑ نہ نکالی تو میرا نام بھی بدران شاہ نہیں!!”
سامنے دیکھ کر ڈرائیو کرتا وہ سرد لہجے میں بولا۔ ارشیہ کا تو غصے کے مارے برا حال تھا اس نواب کے پُتر کا تو وہ حال کرے گی کہ ساری زندگی پچھتاتا پھرے گا۔۔
“پھر نام بدل کر ‘رشید گنج والا’ رکھ لینا۔۔!!”
وہ اس کے کان کے پاس چیخی تھی۔
🍂🍂🍂
سرمئی شام کی ٹھنڈی ہوائیں کھلی کھڑکی سے اندر گر رہی تھیں۔ بیڈ پر ایک ٹانگ موڑ کر بیٹھا بلیک ٹرٹل نیک سویٹر جینز میں وہ لیپ ٹاپ پر جھکا غور سے سکرین پر ابھرتی ڈاکیومنٹس دیکھ رہا تھا۔۔۔
پیشانی پر سیاہ گھنیرے بال بکھرے ہوئے تھے لب سختی سے بھینچتے اس نے “اوکے” کے بٹن پر کلک کیا۔ دھڑکتے دل سے وہ کاؤنٹ ڈاؤن ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
بیپ کی آواز ابھری ساتھ ہی سکرین پر “گرین ٹِک” ظاہر ہوا جس کے نیچے انگریزی میں لکھا تھا “سکسیس فلی ہیکڈ” ۔۔
فرط مسرت سے اس نے ہاتھ کی مٹھی بنا کر لبوں پر رکھ لی۔ جلدی جلدی وہ سارا ڈیٹا کاپی کرنے لگا۔ تین فائلز کرپٹ تھیں باقی چار فائلز امپورٹ کرنے کے بعد اس نے اس ویب کو سسٹم سے ہٹا دیا۔۔
دوسرا لیپ ٹاپ گھسیٹ کر سامنے کرتے اس نے اس نے نئی ای میل لگا کر آئی ڈی لوگ ان کی۔ پہلے لیپ ٹاپ میں لگی فلیش ڈرائیو میں ڈیٹا کاپی کر کے اس نے اپنی ای میل اور ڈیٹا کلئیر کر دیا۔
گہری سانس لے کر وہ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ موبائل اٹھا کر اس نے كیپٹن کا نمبر ڈائل کیا اسی دوران زنیشہ کافی کا مگ اسے دے کر شاور لینے چلی گئی۔۔
مگ سے اڑتی بهاپ کو دیکھتا وہ کال ریسیو ہونے پر بولا۔۔
“اسلام علیکم میجر ابراھیم سپیكنگ!! آئی ہیو سینٹ یُو سَم انفارمیشن۔۔! سپروائز دیٹ ایريا۔ آور آرمی شُڈ پریپئر فور ایوری سیچوایشن،،گاٹ اٹ!! “
(السلام علیکم میجر ابراھیم بات کررہا ہوں میں نے تمہیں کچھ معلومات بهیجی ہیں اس علاقے کی نگرانی کرواؤ۔ ہماری فورس کو ہر صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے سمجھ گئے؟)
فون بند کر کے وہ لیپ ٹاپ گود میں رکھ کر فولڈرز چیک کرتا گھونٹ گھونٹ کافی پینے لگا۔۔۔
وہ شاور لے کر باہر نکلی اس وقت وہ بوٹل گرین گھٹنوں تک جاتے ڈھیلے سے سویٹر جینز میں ملبوس تھی۔ گیلے بال تولیے سے پونچھ کر وہ ساکس پہنتی بلینکٹ لے کر ابراھیم کے ساتھ بیٹھ گئی۔
ہاتھوں کو لمبی آستینوں میں چھپاتے اس نے ذرا سا اٹھ کر مگ میں جھانکا محض دو گھونٹ کافی بچی تھی ۔ ابراھیم نے چہرہ گھما کر اسے دیکھا شہد رنگ آنکھوں پر گیلی پلکیں چپک کر اور بھی واضح ہورہی تھیں۔۔
گلابی لب ہلکے سے جامنی ہوگئے تھے سردی کے باعث ۔ کاندھوں پر بکھرے شہد رنگ لمبے بالوں سے نظر ہٹا کر وہ ابرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“میں پی لیتی ہوں باقی کافی ٹھیک ہے!!”
کہتے ساتھ اس نے ہاتھ بڑھا کر مگ تھام لیا ایک گھونٹ میں کافی ختم کر کے اس نے مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
چند پل خاموشی سے اسے دیکھنے کے بعد وہ واپس کام میں مصروف ہوگیا۔۔اس دوران وہ بور ہونے لگی تھی۔
“ابراھیم؟؟”
اس نے اس کے کندھے پر انگلی رکھی۔۔
“ہاں کیا ہوا؟”
وہ پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہوا۔۔
“میں بور ہو رہی ہوں بہت میں بھی آپ کے ساتھ کام کرواؤں؟”
وہ انگڑائی لیتی پیچھے ہوئی۔ ابراھیم نے فورا ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کے پیچھے رکھا۔
“آرام سے دل ۔۔ ابھی چوٹ لگ جاتی!!
وہ نظریں جھکاتی سیدھی ہو بیٹھی۔
“سوری!! اچھا بتائیں میں آپ کی ہیلپ کرواؤں؟”
اس کے ساتھ چپکتی وہ جھک کر لیپ ٹاپ کی سکرین دیکھنے لگی۔ اس کے کندھے سے سویٹر ڈھلک گیا۔۔
ابراھیم کی نظر اس کے دودھیا کندھے پر ٹھہری۔ گہری سانس لے کر اس نے دو انگلیوں سے شرٹ ٹھیک کردی جس پر وہ خفت سے سیدھی ہوئی۔۔
“اوکے تم یہ ڈیٹا اس فولڈر میں کاپی کرتی جاؤ دیهان سے!!”
اس نے لیپ ٹاپ اس کی طرف کر دیا خود موبائل پر کچھ چیک کرنے لگا۔ وہ سر ہلاتی مصروف ہوگئی۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ پھر سیدھی ہوئی۔ ایسے تو سب بور لگ رہا تھا اس نے ایک سونگ سرچ کر کے پلے کر دیا۔ گانے کے لیریکس پر وہ چونک کر اس کی پشت دیکھنے لگا۔
دنیا ساری چھڈ کے چلیا۔۔!!
تیریاں راہوں تیری گلیاں ۔۔!!
تیرے صدقے سب میں واریا۔۔!!
جس دن سے تو سانوں ملیا ۔۔!!
دل تیرے پیچھے پیچھے ٹریا۔۔!!
تیرے صدقے سب میں واریا۔۔!!
انجانے میں وہ اس کے جذبات کو ہوا دینے لگی تھی۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا وہ اس سے محض کچھ آگے بیٹھی تھی۔
“اچھا ہے نہ سونگ میں نے کل ۔۔۔”
چہرہ موڑ کر کہتے اس کی زبان کو بریک لگا وہ بولتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا وہ حلق تر کرتی پیچھے ہوئی۔
“ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟”
وہ دهیما سا مسکرایا۔۔
“یہ سب اس تعلق کی وجہ سے ہے جو ہمارے درمیان بن چکا ہے جس کے تقاضوں سے ہم دونوں ہی نظریں چرا رہے ہیں!!”
اس کی طرف جھکتے وہ بھاری لہجے میں بولا زنیشہ کو یوں لگا جیسے اس کا پورا وجود “دل” بن کر دھڑک رہا ہو۔۔
“جی۔۔۔۔؟؟” وہ سرخ گالوں پر پلکوں کی جھالر گراتی ہلکی آواز میں بولی اس کی گہری نظریں اسے شدید پزل کر رہی تھیں۔
ستر حوروں کی سریلی آواز ۔۔۔۔!!
ایک تیری “جی پر قربان” ۔۔۔!!
اس کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیتا وہ بھاری لہجے میں بولا وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔۔
“آپ کو شاعری بھی آتی ہے؟؟”
مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا وہ مزید جھکا تھا۔
“اپنے سامنے جیتی جاگتی غزل کو دیکھ کر دل شاعر ہونے لگا ہے!!”
اس کے ادھ کھلے منہ کو دیکھ کر وہ مسکراہٹ دباتا پیچھے ہٹا۔۔
وہ تو شدید حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی اسے يقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ ایسی باتیں بھی کر سکتا ہے۔۔
“اچھا میں اب سونے لگی ہوں اتنا تھک گئی ہوں نہ کہ بس۔ صبح سے کام کر رہی تھی نیک میں پےن ہے کمر بھی دکھ رہی ہے اور پاؤں کا تو پوچھیں ہی مت۔۔ اف!!”
منہ بنا کر کہتی وہ لیپ ٹاپ اسے تھما کر بلینکٹ سیدھی کرنے لگی۔
“اوہ آئی سی۔۔! ایسے درد کے لیے ایک سپیشل تھیراپی ہوتی ہے جس سے درد بلکل ختم ہوجاتا ہے!!”
وہ سکرین فولڈ کرتا عام سے لہجے میں بولا۔ وہ لیٹتی لیٹتی رکی۔
“واقعی کونسی تھیراپی ہے مجھے بھی بتائیں!!”
اس کی سوالیہ نظروں کو دیکھتا وہ ابرو اچکا گیا۔۔
اس کے قریب آتا وہ یک دم اس کی گردن پر جھکا۔
گہری سانس کھینچتا وہ اچانک اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔ وہ آنکھیں موندے ساکت بیٹھی رہ گئی۔۔