Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

سرخ عروسی لباس میں پور پور سجی وہ اس شخص کے کمرے میں گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی جس کی بیوی بننے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔
اس کا وجود ہلکا ہلکا لرز رہا تھا۔ یوں لگتا تھا وہ رو رہی تھی۔۔ اس کا نازک دل خوف سے لرز رہا تھا۔۔
“جانے وہ میرے ساتھ کیسا سلوک کریں گے میرا گناہ بھی تو بہت بڑا ہے مجھ جیسی لڑکیوں کو مر ہی جانا چاہیے !!!۔۔۔”
سرزد ہوئی خطا پھر سے یاد آنے لگی تو وہ پھپھک کر رو دی۔۔ اس نے آخر کیوں ایسا کیا؟؟ خود کو گرا دیا سب کی نظروں میں۔۔
کتنی معصوم تھی وہ۔۔ اٹھارہ سال کی معصوم کلی جو کھلنے لگی تھی۔۔
زمانے کے رنگ تو اس پر پڑے ہی نہیں تھے۔۔ اس میں بچوں کی سی معصومیت تھی۔۔ لیکن پھر وہ بھٹک گئی۔۔ بنت حوا تھی نہ۔۔۔۔ !!!
اپنی سوچوں میں گم وہ گھٹنوں پر ٹھوڑی ٹکائے مغموم نظروں سے یک ٹک ناک کی سیدھ میں دیکھ رہی تھی کہ دروازه کھلنے کی آواز آئی۔۔
وہ چونک کر سیدھی ہوتی نظریں جھکا گئی۔۔ وہ اتنے فاصلے پر بھی اس کی کانپتی پلکوں سے پهسلتے آنسو اور سرخ تھرتھراتے لبوں کو دیکھ سکتا تھا جنھیں اس نے سختی سے دانتوں تلے بھینچا تھا۔۔
کوٹ اتار کر اس نے صوفے پر ڈال دیا۔۔ سنجیدہ نظر ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ زمین پر دھڑے بیگ پر ڈال کر وہ سر جھٹکتا کف لنکس کھولنے لگا۔۔
گہری بھوری آنکھوں میں بیک وقت سردمہری اور بیزاری تھی۔۔
گال سے آنسو پونچھ کر اس نے اس شخص کی چوڑی پشت کو دیکھا۔۔
وہ خاموش کیوں تھا؟؟ کچھ تو کہتا۔۔۔ !!! لعنت ملامت کرتا۔۔۔ !!!
اپنی پشت پر اس کی نظریں وہ بخوبی محسوس کررہا تھا۔۔ اپنے مخصوص انداز میں چلتا وہ نائٹ ڈریس لے کر فریش ہونے چلا گیا۔۔
وہی ۔۔۔۔ ہر کسی کو جوتی کی نوک پر رکھنے والا انداز ۔۔۔ تیور ایسے کہ جو کرنا ہے کر لو میں بھی یہیں اور تم بھی۔۔۔ !
ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ فریش سا باہر نکلا۔۔ وہی وقت کے حساب سے چلنے کی عادت۔۔
وہ وقت کا ضیاع نہیں کرتا تھا۔۔ !
اس کا ہر پل قیمتی تھا۔۔ !
اسے جوں کا توں روتے دیکھ کر اس کی چوڑی شفاف پیشانی پر سلوٹیں نمایاں ہوئیں۔۔
“چینج کر کے سو جاؤ !!!۔۔۔”
ہر احساس سے عاری سرد لہجہ۔۔ !
اس کے حکم پر وہ دونوں گالوں کو زور سے ہاتھ کی پشت سے رگڑتی بیڈ پر پھیلا لهنگا سنبهال کر اٹھی۔۔
چوڑیوں کی کھنک نے کمرے کے سکوت کو تہہ و بالا کیا تھا۔۔
اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا لیپ ٹاپ اٹھایا اور بالکنی میں جانے کی نیت سے بھاری قدم بڑھائے ہی تھے کہ کلائی پر نرم و نازک گرفت محسوس کرتے اپنے قدم روکے۔۔
چہرہ گھما کر اس نے ایک بے تاثر نظر اپنی مظبوط چوڑی کلائی پر ڈالی جسے نرم و نازک دودھیا ہاتھ نے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔۔
سرخ پھڑپھڑاتے لبوں کو سختی سے بھینچ کر وہ بڑی بڑی نیلی بلی کی سی آنکھیں جھپک جھپک کر اسے دیکھتی اس کے مقابل آئی۔۔
اپنے مقابل کھڑی چھوٹی لڑکی کو اس نے ذرا سا سر جھکاتے خاموشی سے دیکھا تھا۔۔
نیلی آنکھوں سے آنسو لڑی کی صورت سرخ و سپید گالوں پر بہتے جا رہے تھے جن پر جا بجا سرخ نشان پڑ گئے تھے جو اس لڑکی کے رگڑ رگڑ کر آنسو صاف کرنے کا نتیجہ تھے۔۔
اسے ڈبڈبائی نظروں سے خود کو دیکھتا پا کر وہ لب بھینچ گیا۔۔
کس قدر نازک اور معصوم تھی وہ لیکن ایک غلطی نے اس کا سارا کردار مسخ کر ڈالا تھا۔۔
“مجھے ماریں ،، لعنت ملامت کریں ،، سزا دیں ۔۔۔۔ کچھ تو کہیں عرش بھائی۔۔۔۔ ! آپ کی یہ خاموشی میری جان لے رہی ہے۔۔۔۔ !”
سرخ ناک کو ہاتھ کی پشت سے مسلتی وہ سر اٹھا کر بولی۔۔
باریک مدھر آواز۔۔ !
“کیا بکواس کی ہے تم نے؟؟؟ دوبارہ بھائی کہا تو منہ توڑ دوں گا تمہارا !!!۔۔۔”
ایک ہاتھ سے اس کا بازو پکڑ کر جھٹکتا وہ چبا چبا کر بولا۔۔ اس کی آنکھوں کا رنگ مزید گہرا ہوا تھا۔۔
اپنے بازو پر اس کی سخت گرفت اور کھردرا لب و لہجہ محسوس کر کے وہ آگے بڑھتی اس کے سینے پر سر رکھ کر پھپھک کر رونے لگی۔۔
روتے روتے اس نے اپنی بہتی ناک اس کی شرٹ سے پونچھی۔۔
عرش نے سر جھکا کر افسوس سے اس کی حرکت کو دیکھا۔۔
ابھی وہ اسے سزا دینے کا کہہ رہی تھی اور اب اس کے ذرا سے سختی کرنے پر۔۔۔ ! ہاں بس ذرا سی سختی پر یوں رو رہی تھی جیسے رو رو کر اپنے آنسوؤں سے پورا جہاں ڈبو دے گی۔۔۔ !
بیزاریت سے سر جھٹک کر اس نے اس چھوٹی لڑکی کو خود سے الگ کیا۔۔
اس کی خطا یاد آتے اس کے جبڑے بھینچ گئے۔۔ عرش کے چہرے پر سرد تاثرات دیکھ کر وہ تھوک نگلتی پیچھے ہٹی۔۔
“سزا چاہیے تھی نہ تمہیں؟؟ تم ساری رات ایک ٹانگ پر کھڑی رہو گی۔۔۔ ! اگر تم نے ایک پل کے لیے بھی دوسرا پیر زمین پر لگایا تو میں تمہیں اتنی ٹھنڈ میں یخ ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑا کردوں گا !!!۔۔۔”
اسے سخت نظروں سے دیکھتے وہ دهپ دهپ کرتا بالکنی کا دروازه کھول کر باہر نکل گیا۔۔
اس کا دل تو چاہ رہا تھا رکھ کر ایک اس بیوقوف لڑکی کے منہ پر لگائے۔۔
اتنی ٹھنڈ میں محض آدھے بازو کی ٹی شرٹ ٹراؤزر پہنے وہ بالکنی میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کررہا تھا۔۔
موسم کی یہ سختیاں اس پر اثر نہیں کرتی تھیں۔۔
اندر وہ ڈبڈبائی نظروں سے بالکنی کے کھلے دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں سے بے دھڑک اندر آتی سرد ہوا اسے ٹھٹھرنے پر مجبور کررہی تھی۔۔
اس جلاد کی دی سزا پر وہ گیلی سانس اندر کھینچتی لہنگا دونوں ہاتھوں سے سنبهال کر ایک ٹانگ پر کھڑی ہونے کی کوشش کرنے لگی۔۔
اس کا توازن بگڑا۔۔ دوسرا پاؤں لهنگے میں اٹکا اور وہ دھڑام کی آواز سے زمین بوس ہوئی۔۔۔
💎💎💎
بلیک چست پینٹ کوٹ میں ملبوس گھٹنوں تک آتے بھورے گھنگھریالے بالوں کو جھٹک کر پشت پر ڈالتی ناقدانہ نظروں سے پوری شان سے کھڑی کمپنی کی عمارت کا جائزہ لیتی پاركنگ سے باہر نکلتی اندر جانے والی راہداری کی طرف بڑھ گئی۔۔
بھورے بالوں پر سورج کی کرنیں پڑیں تو بالوں میں سنہری آبشار سی لائنیں نمایاں ہوئیں جو کہیں کہیں نظر آتی تھیں۔۔
براؤن ہائی ہیلز سے ٹک ٹک کرتی وہ کوٹ جھٹک کر گلاس ڈور کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔
نیلی بلی سی تیکھی نظریں چاروں جانب گھماتے اس نے سرخ لپ سٹک سے رنگے لبوں کو گول کیا تھا۔۔
ریسپشن پر آتے اس نے لڑکے کا سر تا پیر جائزہ لیا۔۔
مقابل گڑبڑا گیا۔۔
“بدر کا آفس کہاں ہے؟؟۔۔۔”
پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے وہ ازلی تیکھے انداز میں بولی۔۔
لب و لہجہ ایسا کا مقابل کی سٹی گم کر دے ۔۔
تیکھی نظریں ایسی کہ جلا کر بھسم کر ڈالیں ۔۔۔
“بدران سر مصروف ہیں ابھی وہ کسی سے ملنا نہیں چاہیں گے !!!۔۔۔”
وہ گلا کھنکار کر پروفیشنل انداز میں بولا ۔۔۔
ارشیہ نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔۔
“جانتے ہو کون ہوں میں؟؟۔۔۔”
کندھے سے آگے گرتے لمبے گھنگھریالے بالوں کو پیچھے جھٹک کر اس نے آنکھیں سکیڑیں۔۔
لڑکے نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
“بدران شاہ کی کزن ہوں میں اگر اسے پتہ چلا کہ تم نے مجھے روک رکھا ہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟؟؟۔۔۔”
وہ دل جلانے والی مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ مقابل بوکھلا گیا۔۔
“سس۔۔ سوری میم ۔۔۔ ! سیکنڈ فلور لیفٹ سائیڈ فرسٹ روم !!!۔۔۔”
وہ رٹے رٹائے سبق کی طرح دہرانے لگا۔۔ ارشیہ نے مخصوص انداز میں کوٹ جھٹکا۔۔ بلیك کوٹ کی آستینیں کہنیوں تک پیچھے کرتے وہ ازلی مغرور انداز سے چلتی لفٹ کی جانب بڑھی۔۔
سیكنڈ فلور تک آتے وہ بھورے گھٹنوں کو چھوتے گھنگھریالے بالوں کو اونچے جوڑے میں قید کر چکی تھی۔۔ ایک گھنگھریالی لٹ دائیں گال کو چھو رہی تھی۔۔
لب دبا کر وہ بغیر ناک کئے آفس میں داخل ہوگئی۔۔
بلیک مرر والز غرض کمرے میں موجود ہر چیز سیاہ تھی۔۔ یوں لگتا تھا اس شخص کو سیاہ رنگ سے عشق تھا۔۔
جنون کی حد تک۔۔۔ !
ہر طرف دمکتے سیاہ رنگ میں سیاہ بڑی سی ٹیبل کے سامنے رولنگ چیئر پر بیٹھے اس شخص کی دودھیا رنگت نمایاں تھی۔۔
بلیک کوٹ چیئر کی پشت پر ڈالے سیاہ ڈریس شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک موڑے وہ سر جھکا کر قلم تھامے سامنے میز پر کھلی پڑی فائلز پر دھڑا دھڑ سائن کررہا تھا۔۔۔
دروازہ کھلنے پھر بند ہونے کی آواز پر اس نے جھکا سر اٹھایا تو اس کی سرمئی آنکھیں نمایاں ہوئیں ۔۔۔
جن میں ہر وقت غصہ جھلکتا تھا۔۔۔
ستواں مغرور ناک ، بھنچے ہوئے عنابی لب !!!
وہ اسے پہچان گیا تھا اور یہ بڑی بات تھی۔۔
پین کا ڈھکن بند کر کے وہ سیدھا ہوتا رولنگ چیئر سے پشت ٹکا کر بیٹھ گیا۔۔ اس کا کسرتی جسم نمایاں ہوا تھا۔۔ دائیں ہاتھ سے اوپر کے کھلے دو بٹن بند کرتے اس نے بھنچے لبوں کو حرکت دی۔۔
“گیٹ آؤٹ۔۔۔ ! باہر جاؤ پرمیشن لو اور واپس آؤ۔۔۔ ! یہ تمہارے پھوپھا کا گھر نہیں میرا آفس ہے !!!۔۔۔”
رولنگ چیئر گھماتے وہ بےتاثر چہرے سے بولا۔۔
ارشیہ کا چہرہ کان کی لو تک سرخ ہوگیا۔۔ اس نے گہرا سانس لیا اور مسکرائی۔۔
ہیل سے ٹک ٹک کی آواز پیدا کرتی وہ واپس گئی اور احتیاط سے دروازه بند کیا۔۔
دو سیکنڈ بعد ہی اس نے دروازہ کھولا ۔۔۔ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر وہ گردن اکڑا کر بدر کے بےتاثر چہرے کو دیکھنے لگی۔۔
کچھ ہی دیر میں اس کے چہرے کا رنگ بدلے گا !!!
مزے سے سوچتی وہ گویا ہوئی۔۔
“میں آئی کم ان مسٹر بدرران شاہ؟؟؟۔۔۔”
اس کے تیکھے انداز پر بدر نے آنکھیں سکیڑ کر سر ہلایا۔۔ جیسے احسان کیا ہو۔۔۔ ! منہ سے کچھ کہنا ضروری نہ سمجھا۔۔
ارشیہ مغرور انداز میں چلتی اندر آئی اور سامنے دیکھتے ٹانگ اٹھا کر زور سے گلاس ڈور پر ہیل ماری۔
دروازه بند ہوا تو ہوا لیکن گلاس ڈور میں دراڑیں عجیب و غریب ڈیزائن بنا گئیں۔۔
بدر نے جبڑے بھینچ کر اس کی حرکت کو دیکھا۔۔ ضبط کے چکر میں اس کا سفید چہرہ سرخ ہوا تھا۔۔
سیاہ گھنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے اس نے اپنے اشتعال پر قابو کیا۔۔
وہ جانتی تھی کہ وہ غصے کا کتنا تیز تھا اس لیے جان بوجھ کر اسے تپاتی تھی۔۔
بےنیاز انداز میں چلتی وہ اس کے سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔۔
“کیا لینے آئی ہو یہاں؟؟۔۔۔”
ٹیبل پر ہاتھ رکھتے وہ سرد سرمئی آنکھیں اس کی نیلی تیکھی آنکھوں میں گاڑ کر بولا۔۔
ارشیہ نے تپانے والی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔۔
“ایک سال دو ماہ بڑی ہوں تم سے ۔۔۔ کس طرح بات کررہے ہو مجھ سے ۔۔ بدتمیز !!!۔۔۔”
گال پر ہاتھ رکھ کر نیلی آنکھیں پٹپٹا کر کہتی وہ اسے زہر سے بھی بری لگی۔۔
“کام بولو فارغ نہیں ہوں میں !!!۔۔۔”
وہ اسے آخری بار وارن کرتی نظروں سے دیکھ کر بولا جیسے اب بھی وہ باز نہ آئی تو اسے اٹھا کر کھڑکی سے نیچے پھینک دے گا۔۔
“جاب کے لیے آئی ہوں ماہ بیر انکل نے بتایا نہیں تمہیں؟؟۔۔۔”
اب کہ وہ بھی ذرا سنجیدہ ہوئی۔۔۔
“اوکے!!!” بدر نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔
“ویسے تمہاری اس شکل اور حرکتوں کے ساتھ کوئی بھی تمہیں جاب نہیں دے گا لیکن چونکہ یہ آفت مجھ پر ہی نازل ہونی تھی بابا کی مہربانی سے تو۔۔۔۔
وہ بات ادھوری چھوڑ کر بغیر اسے دیکھے میلز چیک کرنے لگا۔۔ اس کے اندازِ بےنیازی پر وہ سلگ گئی۔۔
اٹھ کر اس نے بدر کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا اور پھر آرام سے اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔۔
بدر کا اشتعال کے مارے برا حال ہوا۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ کچھ ایسا کر جائے جس سے اسے بابا کے سامنے شرمنده ہونا پڑے۔۔
“پہلے میری بات سنو ،، نظر انداز کیا جانا ارشیہ اورهان صمید کے لیے قابلِ قبول نہیں۔۔۔ !”
بدر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ ٹیبل کی سائیڈ سے ہوتا وہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔ سرمئی آنکھوں میں سختی لیے اس نے ایک پل کو اس جنگلی بلی کو دیکھا اور پھر جھٹکے سے اپنا فون اس کے ہاتھ سے کھینچا۔۔
“ڈونٹ یو ڈیئر !!!۔۔۔۔”
اس کی کرسی پر جھکتا وہ سرد لہجے میں بولا۔۔
“کل سے جوائن کرو، پرسنل سیكرٹری کی جاب مل رہی ہے تمہیں ۔۔۔ اگر تم میرے قائم کردہ معیار پر پورا نہ اتری تو بدر شاہ تمہیں اس آفس سے باہر پھینکنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرے گا۔۔۔ !”
کشادہ پیشانی پر بل ڈالے وہ سیدھا ہوا تو ارشیہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اس کے غصے سے ایک پل کو تو وہ ڈر گئی تھی۔۔
“میں کیوں ڈروں اس سے چھوٹا ہے وہ مجھ سے !!”
دل میں سوچتی وہ ٹانگ مار کر چیئر دهكیلتی پیچھے ہٹ کر کھڑی ہوگئی۔۔
“تم بھی یاد رکھو گے کس لڑکی سے پالا پڑا ہے جسٹ ویٹ ۔۔۔۔ اینڈ واچ !!!۔۔۔”
سائیڈ سمائل دیتی وہ اسے آنکھ مار کر دروازے کی سمت بڑھی۔۔
اس کے آنکھ مارنے پر بدر نے دانت پیس کر اس کی پشت کو دیکھا۔۔
وہ ایک دم پلٹی ۔۔ ہاتھ ماتھے تک لے جا کر خدا حافظ کہتی وہ گلاس ڈور دهكیل کر باہر نکلی لیکن۔۔۔۔۔۔
جانے سے پہلے ڈور پر ہیل مارنا نہ بھولی۔۔
بدر نے سختی سے مٹھی بھینچ کر ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس منہ سے لگایا ۔۔۔ !
ایک سانس میں پانی حلق سے نیچے انڈیل کر وہ ایک پل کو دھیما سا مسکرایا۔۔
“ٹیڑھے لوگوں کو سیدھا کرنا بدران شاہ کے پسندیدہ مشغلوں میں سے ایک ہے۔۔۔ !”
💎💎💎
ٹھنڈے مشروب سے بھرا گلاس ہاتھ میں پکڑے اس نے پارٹی میں موجود سب مہمانوں پر طائرانہ نگاہ ڈالی۔۔
سیاہ آنکھوں میں تھنڈہ سا تاثر مقابل کی بولتی بند کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔
روشن پیشانی پر مستقل پڑے بل اسے وراثت میں ملے تھے۔۔
شام کے فنکشن کے حساب سے اس نے سیاہ سلک کی ٹخنوں کو چھوتی قمیض کے ساتھ سیاہ چوری پاجامہ پہن رکھا تھا۔۔
دوپٹہ گلے میں گھما کر اس طرح لیا گیا تھا کہ اس کے پلو سامنے کو گرتے تھے۔۔
لمبے سیاہ بالوں کو کس کر اونچے جوڑے میں باندھے وہ سب میں منفرد لگ رہی تھی۔۔
بلیک ہیلز میں مقید پیروں کو دائیں بائیں ہلاتی وہ ٹو سٹر سٹائلش سے صوفے پر اکتائی سے بیٹھی تھی۔۔
آج کی اس سیاسی گیدرنگ میں شرکت کرنا “رَمل یوسف” کے لیے از حد ضروری تھا۔۔۔
حال ہی میں سیاست کی دنیا میں قدم رکھنے والے “میر حاصل” نے دیگر سیاسی لیڈروں میں بےچینی کی لہر دوڑا دی تھی۔۔
اس کی برتھڈے پارٹی میں شرکت کے لیے “رمل یوسف” کو خاص طور پر مدعو کیا گیا تھا جو تالاب کی گندی مچھلیوں کو بےنقاب کرنے کا کام بخوبی انجام دے رہی تھی۔۔۔
ایسی نڈر عورت میر حاصل نے اب تک کی زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی ۔۔۔
اپنے سامنے ایک بھاری ڈیل ڈول کے شخص کو دیکھ کر اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔۔
بظاہر مسکرا کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
نعیم بیگ صاحب۔۔۔ ! ہاؤ آر یو ؟؟۔۔۔۔
ٹھیک ہی لگ رہے ہیں۔۔۔ !
سینے پر ہاتھ باندھتی وہ اس کے جواب دینے سے پہلے ہی بول پڑی۔۔
مقابل اس کے مخصوص انداز پر ہنس پڑا۔۔
“رمل جی آپ کے یہی انداز سب کو گهایل کرتے ہیں دیکھیں نہ جی آپ کتنا اچھا کام کررہی ہیں پھر بھی اچھی بھلی ہیں !!!۔۔۔”
اس کی ہنسی میں چھپی دھمکی وہ خوب سمجھ گئی۔۔۔ اس نے آنکھیں سکیڑ کر تیکھی مسکراہٹ سے نعیم بیگ کے ہنستے چہرے کو دیکھا۔۔
“اللّه کا شکر ہے بیگ صاحب کہ میں اچھی بھلی ہوں ورنہ ہنستے چہروں سے مسکراہٹ کب غائب ہوجائے کون جانے !!!۔۔۔”
ایک آخری مسکراتی سرد نظر اس پر ڈال کر وہ بیگ کی لانگ سٹریپ تھامتی “اکسکیوز می” کہہ کر ہال کے دوسرے کونے کی طرف چلی آئی۔۔
اسے یہ شخص حد سے زیادہ زہر لگتا تھا جو عوام کو الو بنا کر خدمت کے نام پر انہیں لوٹ رہا تھا۔۔۔
اس نے کلائی میں بندھی گھڑی پر نظر ڈالی۔۔۔اس نے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ اس کے سامنے آتا کھنکارا۔۔
رمل نے نظریں اٹھائیں۔۔ بلیک ٹیکسیڈو میں ملبوس پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے چھ فٹ سے نکلتے قد کا مالک “میر حاصل”اس کے سامنے تھا آخرکار ۔۔۔۔ !
اس کی شہد رنگ کانچ سی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی۔۔ عنابی لبوں پر دهیمی سی مسکان تھی۔۔ دائیں کان میں چھوٹا سا ڈائمنڈ ٹاپس چمک رہا تھا جس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی۔۔
“صحافت کی دنیا کا جانا مانا نام ‘رمل یوسف’۔۔۔۔۔!!!”
خوشدلی سے کہتا وہ ہاتھ بڑھا کر اس کی سیاہ سرد آنکھوں میں دیکھنے لگا جن میں ہمیشہ کی طرح ٹھنڈہ تاثر تھا ۔۔۔
“سیاست کی دنیا میں نیا ابھرتا ستارہ جو جانے کب ڈوب جائے۔۔۔ !!!”
اس سے ہاتھ ملاتی وہ سپاٹ لہجے میں بولی البتہ آنکھوں میں مسکراتا تاثر ابھرا تھا جو میر حاصل کی تیز نظروں سے مخفی نہ رہ سکا تھا۔۔
اس کے انداز پر وہ سر جھٹک کر ہنسا تھا۔۔
“ڈیم دس لیڈی از فائر !!!”
دل میں سوچتے اس نے رمل کا ہاتھ ایک پل کو تھام کر چھوڑ دیا۔۔
“کافی بہادر ہیں آپ سب کو تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے!!!۔۔۔” رمل نے دیکھا وہ دهیما سا مسکرایا تھا۔۔
سیاہ فرنچ طرز کی داڑھی میں جھلک دکھاتے ڈمپل کو ایک نظر دیکھتی وہ کندھے اچکا گئی۔۔
“میں نہ ہوتی تو کوئی اور ہوتا ۔۔۔ آپ بس اس بات کا خیال رکھیے گا کہ تگنی کا ناچ ناچنے والوں میں سرفہرست آپ نہ ہوں جائیں !!!۔۔۔”
گھڑی میں وقت دیکھتی وہ کان میں پہنی بڑی سی سیاہ بالی کو انگلی سے چھیڑنے لگی۔۔
وہ اس کی بات پر محظوظ ہوا تھا۔۔۔
“آپ یہ امید مجھ سے نہ رکھیں میر حاصل کو آپ ان سب سے مختلف پائیں گی، مستقبل قریب میں آپ کو میری مدد کی ضرورت پڑنے والی ہے !!!۔۔۔”
اس کی شہد رنگ آنکھیں چمکی تھیں۔۔ رمل نے ابرو اچکائے۔۔
“اور آپ کو یہ خوش فہمی کیوں کر لاحق ہے؟؟۔۔۔”
اس نے داخلی دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔۔
میر حاصل نے اس کے ساتھ چلتے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔۔ انہیں اپنی پشت پر بہت سی نظریں چبھتی محسوس ہورہی تھیں۔۔
“کیونکہ کچھ باتوں کا علم آپ سے زیادہ ہے مجھے !!
ڈھکا چھپا انداز۔۔۔۔ !
رمل چلتے چلتے رکی۔۔
“یہ تو وقت بتائے گا !!!۔۔۔”
بیگ کا سٹریپ کندھے پر ڈالتی وہ میڈیا کی نظروں میں آنے سے پہلے پتھریلی روش پر تیز تیز چلتی اندھیرے میں غائب ہوگئی۔۔۔
اس کی پشت کو پرسوچ نظروں سے دیکھتا وہ پلٹ گیا۔۔