No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
“اپس۔۔۔!”
آنکھیں پٹپٹا کر کہتے اس نے پورا جگ بیڈ کی ایک طرف انڈیل دیا۔۔ مزے سے اپنا کارنامہ انجام دیتی وه دوسری سائیڈ آتی تکیہ دبوچ کر بلینکٹ میں گھس گئی۔۔
پرسکون ہو کر مسکراتے اس نے آنکھیں موندیں۔۔ چند سیکنڈز میں ہی وه نیند کی وادیوں میں جا چکی تھی۔۔
تھکن سے چور وه گردن دائیں بائیں جھٹکتا دروازہ کھولنے لگا۔۔ ناب پر رکھا اس کا ہاتھ وہیں جما رہا۔۔ اس نے ذرا زور لگا کہ دروازه دھکیلا لیکن وه ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا۔۔
ڈور لاک دیکھ کر اس نے جبڑے بھینچے۔۔ اس کی دلہن نے پہلی رات ہی بےچارے روڈ، کھڑوس، انا کے مارے، دی گریٹ بدران شاہ کو کمرے سے بےدخل کر دیا تھا۔۔
تن فن کرتا وه ڈپلیکیٹ کیز لے کر آیا۔۔ دروازہ کھول کر اندر آتے اس نے لاک کر دیا۔۔ ہاں اب ٹھیک تھا۔۔!
کوٹ اتار کر صوفے پر پھینکتے اس کی سرمئی مغرور آنکھوں نے حرکت کی، وه اب اس پر آ ٹکی تھیں جو بلینکٹ میں دبکی مزے سے سو رہی تھی۔۔
آنکھیں سکیڑتا وه وارڈ روب کے سامنے آیا ہاتھ بڑھا کر اس نے ہینگ کیا سفید ٹراؤزر نکالا اور واش روم میں گھس گیا۔۔ چند منٹ بعد ہی وه ٹھنڈے پانی سے شاور لے کر باہر نکلا۔۔
عجیب پاگل انسان تھا جس کو اس قہر برساتی ٹھنڈ سے بھی کچھ فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔ محض ٹراؤزر میں ملبوس گلے میں تولیہ ڈالے وہ بایاں ہاتھ اٹھا کر بال خشک کر رہا تھا جبکہ آنکھیں اس پر ٹکی تھیں۔۔
اسکا کسرتی پھولا سینا نم تھا جس پر پانی کی بوندیں پهسلتی جا رہی تھیں۔۔ تولیے کو سینے پر تھپتھپا کر خشک کرتا وه بیڈ کی خالی سائیڈ بڑھا۔۔ بےدیھانی میں وه بیٹھنے لگا جب چونک کر اٹھا۔۔
اس نے سر جھکاتے غور سے دیکھا پھر دو انگلیوں سے بیڈ شیٹ کو چھوا۔۔ بیڈ گیلا دیکھ کر اس کا پارہ ساتویں آسمان پہنچ گیا۔۔ لمبے لمبے ڈگ لیتا وه دوسری جانب آتا اس کے سر پر پہنچ گیا۔۔ جھٹکے سے اس نے بلینکٹ اس پر سے اتاری۔۔
سرمئی تپی ہوئی پہلی نظر اس کے دودھیا کندھے پر پڑی جہاں سے سیاہ سلک گاؤن ڈھلکا ہوا تھا۔۔ وہ کسمسائی تھی ٹھنڈ محسوس ہوتے اس نے ہاتھ بڑھا کر بلینکٹ ڈهونڈنا چاہا جو جانے کہاں کھسک گیا تھا۔۔
بدر نے سرد ہاتھ سے اسکا نرم پرحدت بازو تھامتے جھٹکے سے اسے بلند کیا۔۔ اس کی آنکھیں پٹ سے کھلیں ۔۔ نیلی آنکھوں کے کانچ کناروں سے سرخ پڑ گئے تھے۔۔
مندی آنکھیں کھولتی وه صورتحال سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔۔ حواس بحال ہوئے تو وه آنکھیں سکیڑتی اپنے بازو کو دیکھنے لگی جو اس کے ٹھنڈے برف ہاتھ کی گرفت میں تھا۔۔
بازو کی ابھری نسوں سے سفر کرتی اس کی نگاہ اس کے پھولے کسرتی سینے پر ٹھہری۔۔ اس نے حلق تر کیا۔۔ بدتمیز ہونے کے ساتھ وه ہاٹ بھی تھا۔۔!
ارشیہ نے جھٹکے سے بازو چھڑوایا تھا۔۔ اس کے ہوشربا بکھرے حسن کو دیکھتا وه بہکنے لگا تھا جب اس نے سر جھٹکتے خود کو سنبھالا۔۔
“تمہارا اوپر والا خانہ خالی ہے۔۔؟ بیڈ کیوں گیلا کیا تم نے۔۔؟”
اس کے مقابل کھڑا وه تپے لہجے میں بولا غصے سے اس کا چہرہ کان کی لو تک سرخ پڑا تھا۔۔
وه دانت پیستی بیڈ پر اس کے مقابل کھڑی ہوئی اسے اس وقت شدید غصہ آرہا تھا محض اتنی سی بات کے لیے اس نے ارشیہ صمید کی نیند خراب کی تھی۔۔
بدر نے سر اٹھاتے اسے دیکھا جو اس کی توقع کے عین مطابق لڑنے مرنے پر تیار تھی۔۔ وہیں عرشیہ جو کچھ کہنے لگی تھی اس کی نگاہ اس کی گردن کی ابھری ہڈی پر پڑی جو اس کے سر اٹھانے سے بےحد واضح ہورہی تھی۔۔
بھری بھری داڑھی، بھنچے جبڑے سے نیچے گردن کی ابھری ہڈی نے عجیب سے انداز میں اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔۔ بدر نے گہری نظر اس پر ڈالی۔۔
“یو وانا ٹچ می۔۔؟”
اسے پیچھے دهكیلتا وه اس کی جگہ پھیل کر لیٹ گیا۔۔ تیز گہری نظریں اس کا فرصت سے جائزہ لے رہی تھیں۔۔ اسے ان نظروں سے خود کو دیکھتے پا کر وه سلگ گئی۔۔
“انتہائی بے شرم ہو تم ۔۔۔؟ مت بھولو تم سے بڑی ہوں میں۔۔! تمہارے ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دوں گی میں تمہیں ۔۔! ضد میں آ کر یہ شادی کی ہے نہ؟ بہت پچھتاؤ گے! اٹھو یہاں سے چلو ۔۔۔!”
دانت پیس کر کہتی وه ہاتھ سے اسے اٹھنے کا اشارہ کرنے لگی۔۔ وه سنی ان سنی کرتا کروٹ کے بل لیٹ گیا۔۔ تو وه ایسے نہیں مانے گا۔۔؟
وه گاؤن سنبهالتی سائیڈ ٹیبل سے پانی سے بھرا گلاس اٹھا کر واپس آئی اور بیڈ پر اس کی جگہ انڈیل دیا۔۔ وه فورا سے اٹھا۔۔ “اب سو تم یہاں سکون سے۔۔!”
آنکھ مارتی وه جھٹ سے بیڈ سے اتری۔۔ بدر نے اس کا ارادہ بھانپ لیا وه چھلانگ لگاتا بیڈ سے اترا۔۔ دونوں بیک وقت تھری سٹر صوفے پر جھپٹے۔۔۔!
وه پہلے پہنچ گیا لہذا اسے تپانے والے انداز میں دیکھتا وه صوفے پر نیم دراز ہوگیا۔۔
وہ خطرناک تیوروں سے اس کی جانب بڑھی۔۔
“میں تمہارا گلا دبا دوں گی۔۔!”
جنگلی بلی بنی وہ جھکتی اس کی گردن پر جھپٹی۔۔ اس کے بڑھے ہوئے ناخن پل میں اپنا کام کر گئے۔۔
بدر نے اس کی دونوں کلائیاں ایک ہاتھ میں دبوچتے دوسرا ہاتھ اس کی کمر میں ڈالتے اسے اپنی طرف دهكیلا۔۔ اس کے گرتے ہی وه جھٹ سے کروٹ بدل کر اس پر قابض ہوگیا۔۔
اب منظر کچھ یوں تھا کہ وه صوفے میں اس کے نیچے دبکی اسے قتل کرنے کے در پہ تھی جبکہ وه خونخوار نظروں سے اسے دیکھتا اس کے دونوں بازو لاک کیے اس پر جھکا ہوا تھا۔۔ “موٹے گینڈے پیچھے مرو ۔۔۔! پتہ نہیں کتنا ٹھونستے ہو۔۔۔!”
اس کی آہنی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کرتی وہ دانت کچکچاتی اس کے منہ پر غرائی۔۔
بدر نے غصے میں اپنا سارا وزن اس پر ڈال دیا۔۔ وه اس کے کان پر جھکا تیکھے بھاری لہجے میں کہنے لگا۔۔
“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے تم بہانے ڈھونڈ رہی ہو میرے قریب آنے کے۔۔۔!”
اس کی کمر کے گرد لپٹی سیاہ ڈوری پر ہاتھ رکھتا وہ اسے جھرجھری لینے پر مجبور کر گیا۔۔
“تم میرے ہاتھ آزاد کرو پھر بتاتی ہوں میں تمہیں۔۔۔! اور تم یہ خوش فہمی نکال دو کہ تمہارے لیے میرے دل میں کبھی فیلنگز پیدا ہوں گی۔۔! آفٹر آل اپنے سے ایک سال دو ماہ چھوٹے لڑکے میں مجھے کیوں انٹرسٹ ہوگا۔۔؟”
نیلی بلی سی تیکھی آنکھیں اس کی سرمئی مغرور آنکھوں میں گاڑتی وه الفاظ چبا کر بولی۔۔ دل تو چاہ رہا تھا الفاظ کی جگہ اس کی اکڑ ہوتی جسے وه دانتوں تلے پیس دیتی۔۔
اس کی آخری بات پر وه تپ اٹھا، کیا چھوٹا چھوٹا کی رٹ لگائی تھی۔۔ وه کچھ سخت کہنے لگا جب اچانک وه مسکرایا۔۔
آئے ہائے ۔۔۔! واللہ کیا قاتل مسکراہٹ تھی ۔۔ دلکش بھی دلربا بھی۔۔۔! دل کو کسی مقناطیس کی طرح اپنی اوڑھ کھینچ لانے والی مسکراہٹ ۔۔۔!
“فیلنگز تو پیدا ہورہی ہیں تمہارے دل میں۔۔ میرا چھونا تمہارے رنگ کیوں اڑا رہا ہے ہممم۔۔۔؟ “
اس کے کاندھے پر سر رکھتا وه مدهم لہجے میں بولا تھا۔۔
“تمہاری دھڑکن اس قدر تیز کیوں ہورہی ہے؟ دل میں ہلچل مچی ہے کیا؟؟ ۔۔۔”
اس کے بالوں میں چہرہ چھپاتا وه کہتا جا رہا تھا۔۔ وه آنکھیں سختی سے میچے لب دبا گئی۔۔ خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرنے کی کوشش اب بھی جاری تھی لیکن وه نازک مومی وجود بھلا اس آہنی مظبوط حصار سے کیوں کر نکل سکتا تھا۔۔؟
“تم بار بار کہتی ہو تم مجھ سے بڑی ہو۔۔؟
کیا لگتی بھی ہو ۔۔؟ خود کو دیکھا ہے کبھی غور سے کس قدر نازک و دلکش وجود ہے تمہارا ۔۔
مجھ جیسے لمبے چوڑے مرد کے سامنے چھوٹی بچی لگتی ہو تم ۔۔۔! واضح کر دوں لڑکا نہیں ہوں میں ،، بھرپور مرد ہوں جس کے پیچھے ایک زمانہ پاگل ہے وه اس وقت تمہارے قریب ہے۔۔!
بس تمہاری انا سے مجھے ضد ہے ورنہ ۔۔۔! تم ایسی آگ ہو جس میں جی جان سے جلنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔!”
بھاری مسحور کن آواز میں کہتا وه لب دبا گیا ۔۔ چہرہ اٹھا کر وه اس کے تاثرات دیکھنے لگا جس کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا ایک جا رہا تھا۔۔!
ارشیہ نے اس کے بہتے جذبات پر بند باندھنا چاہا۔۔
“تم ایک انتہائی بدتمیز لڑکے ہو میرا دل تو چاہ رہا ہے تمہیں گٹر میں پھینک آؤں اپنی باتوں کے جال میں الجھاؤ گے تو میں الجھ جاؤں گی۔۔؟
آخری بار کہہ رہی ہوں پیچھے ہٹو ورنہ اب جو میں کروں گی نہ اس کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔۔۔!”
اسے کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھتی وه آخری بار وارن کرنے لگی۔۔ بدر نے ابرو اچکایا پھر اس پر مزید بوجھ ڈالتا مزے سے بولا ۔۔۔
“کرلو جو کرنا ہے۔۔۔!”
اسکا کہنا تھا کہ وه آپے سے باہر ہوتی اس کی گردن پر دانت گاڑنے کو جھپٹی جب وه اس کا ارادہ بھانپ کر ذرا سے پیچھے ہٹا۔۔ گردن پر پڑنے والے دانت بدر کے اوپرے لب کو کاٹ گئے۔۔
وه بجلی کی سی تیزی سے پیچھے ہٹی ۔۔ یہ کیا ہوگیا تھا ۔۔۔؟
وه اسے آزاد کرتا اٹھ بیٹھا اس نے لب سے نکلتی سرخ ننھی بوند کو انگلی سے چھوتے اسے دیکھا جو نظریں چراتی فٹ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“اس سے پہلے میں خود پر اختیار کھو دوں یہاں سے چلی جاؤ ۔۔!” اس کی جانب سے چہرہ موڑتا وه گہری سانس لیتا اپنے منہ زور جذبات کو لگام ڈالنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
ارشیہ نے فلحال یہاں سے جانا ہی مناسب سمجھا ۔۔ وه چند قدم پیچھے لیتی پلٹی اور سٹڈی روم کا دروازه دهكیلتی اندھیرے میں غائب ہوگئی۔۔
اس کے جانے کے بعد وه بیڈ سے بلینکٹ اٹھاتا صوفے پر لیٹ کر خود پر اوڑھ گیا۔۔ چت لیٹا سرمئی آنکھیں چھت پر ٹکاتا وه گزرے لمحات کو سوچنے لگا تھا۔۔۔
🍁🍁🍁
آرمی ہیڈ کوارٹر میں اس وقت گہری خاموشی تھی۔۔ سب آفیسرز لائن میں کھڑے تھے۔۔ كیپٹن نے ایک پل کو اسے دیکھا پھر سر جھکا گیا۔۔
کمرے کی خاموشی اس کی داڑھ پر ٹوٹی تھی۔۔
“کیسے فرار ہوگئے وه سیل سے۔۔؟ جہاں سے آج تک کوئی مجرم نکل نہیں سکا ۔۔ بولو۔۔۔! جواب چاہیے مجھے۔۔!”
ایک ایک کے سامنے کھڑا ہوتا وه درشتگی سے بولا۔۔ سب آفیسرز اس کے اس قدر پتھریلے لہجے پر سہم گئے۔۔
آج پھر وه میجر ابراھیم کا وه پتھریلا روپ دیکھ رہے تھے جسے وه کبھی بھی دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔۔ آرمی کرئیر میں انہوں نے اسے بہت کم غصے میں دیکھا تھا وه ایک کنٹرولڈ ٹھنڈے مزاج کا مالک تھا۔۔
لیکن اب جو چوک ان سے ہوئی تھی اس پر اسکا یوں آگ بگولا ہونا فطری تھا۔۔
“آپ سب یہاں بہت سے امتحان پاس کر کے پہنچے ہیں، يقیناً سب سمجھ رہے ہوں گے ایسے مجرم تب فرار ہوتے ہیں جب انہیں اندر سے سپورٹ ملی ہو ۔۔ یہ تو بہت جلد پتہ لگ جائے گا کہ وه کالی بھیڑ کون ہے اس کے بعد اسکا انجام قابلِ عبرت ہوگا ۔۔ ملک سے غداری کی کوئی معافی نہیں ۔۔۔! کیپٹن ۔۔ کم ود می ۔۔۔!” درشتگی سے کہتے اس نے کالی گہری آنکھوں سے سب کو غور سے دیکھا پھر كیپٹن کو آنکھ سے اشارہ کرتا وه روم سے باہر نکل گیا۔۔ ان کے جانے کے بعد جونیئرز میں نظروں کا تبادلہ ہوا وه پریشان نظر آتے تھے۔۔۔ 🍁🍁🍁 کورٹ کی ڈیٹ ملنے کی وجہ سے ولیمہ پینڈنگ کر دیا تھا۔۔ حیان نے ایرا کو زہنی طور پر تیار کر دیا تھا ۔۔ وه بہت ڈسٹرب تھی آج اسکا دل بےحد گهبرا رہا تھا۔۔ نور کا چہرہ بار بار اسکی نگاہوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔۔ آج پھر اس سے سامنا ہوگا اگر اس نے اسکی کردار کشی کر دی تو۔۔؟ سوالوں کا ایک جنگل سا آباد ہونے لگا تھا دماغ میں ۔۔ جس کی خاردار جھاڑیوں میں اسے اپنا آپ الجھتا محسوس ہورہا تھا۔۔ وه سیاہ چادر اچھے سے لپیٹے عرش کے ہمراہ گیٹ سے باہر نکلی۔۔۔ زنیشہ نے لب کاٹتے ان کی پشت کو دیکھا ۔۔ آج فیصلہ ہونا تھا ، یا ایک مجرم کو سزا ملنی تھی یا اسے باعزت بری کر دیا جانا تھا۔۔ اگر وه رہا ہوگیا تو حرا انور، نور مقدم اور ایسی ہی کئی لڑکیاں جنھیں انصاف نہ مل سکا تھا ان کے ماں باپ جیتے جی مر جاتے۔۔ اپنے جگڑ کے ٹکڑوں کو تو وه کھو چکے تھے اب انہیں اسی صورت سکون ملتا جب اس قاتل کو سزا دی جاتی۔۔
وه پلٹ کر اندر آئی جہاں ارشیہ بلیک پینٹ کوٹ میں کرلی بالوں کا اونچا جوڑا بنائے پرس کا لانگ سٹریپ کاندھے پر ڈالے سنجیدہ تاثرات سجائے گیٹ کی جانب بڑھی تھی۔۔
“ارشی مجھے اپڈیٹ کرتی رہنا۔۔۔۔! “
اس نے پیچھے سے ہانک لگائی تو ارشیہ پلٹ کر سر ہلاتی باہر نکل گئی۔۔ وه وضو کی نیت سے واش بیسن کی جانب بڑھ گئی۔۔
اسے گیدرنگز میں گھٹن ہوجاتی تھی کبھی کبھی جس سے اسکا سانس اکھڑنے لگتا یوں بھی ایسی جگہوں پر جانے کے نام سے ہی اسکا دل گهبرانے لگتا تھا اسلئے ابراھیم نے ہیڈ كوارٹر جانے سے پہلے سختی سے منع کیا تھا کہ وه گھر ہی رہے اسے جانے کی ضرورت نہیں۔۔
ویسے بھی ارشما، اینارا، ارشیہ اور رمل جا ہی رہی تھیں۔۔ رمل کا ہونا بےحد ضروری تھا اس کے پاس کچھ پرووز تھے اور ایک نامی گرامی جرنلسٹ ہونے کے ناطے اسکی بات کو بہت اہمیت دی جانی تھی، عدالت میں نہ سهی سوشل میڈیا پر صحیح۔۔۔!
لوگ جان پائیں گے حق اور باطل کی بابت۔۔!
مشائم کی طبیعت کچھ ناساز تھی اسلیے وه جا نہ سکی تھی۔۔ وہیں بدر بھی ضروری میٹنگ کے لیے صبح صبح ہی آفس کے لیے نکل گیا چند دن سے وه ٹھیک توجہ نہیں دے پا رہا تھا ارشیہ بھی غیر حاضر رہی اس لیے بہت کچھ نبیٹنا تھا۔۔
سب کورٹ کے لیے نکل چکے تھے پیچھے وه دونوں تھیں بس ۔۔ زنیشہ نے سوچا چند نفل ادا کر لے پھر واپس مشی ماما کے پاس چلی جائے گی اس وقت وه شاہ ہاؤس میں تھی۔۔
🍁🍁🍁
دو پولیس موبائل آگے پیچھے تارکول کی ٹھنڈی صاف ستھری سڑک پر رواں دواں تھیں۔۔ اگلی موبائل میں حیان پسنجر سیٹ پر بیٹھا کھلی ونڈو سے باہر دیکھ رہا تھا چہرے پر تیزی سے پڑتی ہوا سے اس کے بال بری طرح پیشانی پر بکھر رہے تھے۔۔
ڈرائیونگ کرتا علی ہر چند منٹ بعد اس کے چہرے پر ایک نظر ڈال لیتا تھا جو سپاٹ چہرے کے ساتھ باہر دیکھتا سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔
اس نے دهواں منہ سے خارج کرتے مڑ کر ایک نظر پیچھے ڈالی جہاں دونوں پولیس موبائلز کے درمیان سیاہ کار تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی۔۔
عرش کار ڈرائیو کر رہا تھا جس کے ساتھ والی سیٹ پر ایرا بیٹھی کب سے لب کاٹ رہی تھی۔۔ وه کبھی ہاتھوں کو کھولتی پھر مٹھی کی صورت بھینچ کر گہری سانس لیتی۔۔
بیک سیٹس پر اورهان ہاور اینارا بیٹھے تھے۔۔ آگے پیچھے جاتی ان تین گاڑیوں سے کچھ پیچھے آتی سفید کار میں صالح ڈرائیو کرتا نظر آ رہا تھا جس کے برابر ماہ بیر بیٹھا تھا۔۔
دونوں کے چہرے بلا کے سنجیدہ تھے۔۔ وہیں پچھلی سیٹوں پر ارشیہ اور ارشما بیٹھی تھیں۔۔ کورٹ نے ان سب کو انوائٹ کیا تھا کیس کے سلسلے میں۔۔!
انویٹیشن نہ بھی آتا تب بھی وه ضرور جاتے ان کے خاندان کی بیٹی ایک بہت اہم گواہی دینے جا رہی تھی جس سے يقینا بہت سے لوگ مشکل میں پڑنے والے تھے ایسے میں اسکی حفاظت اور سپورٹ بہت ضروری تھی۔۔
اچانک صالح نے ماہ بیر کو دیکھا ۔۔ “گارڈز موجود ہیں نہ دونوں گھروں میں۔۔۔۔؟”
ایک نظر اسے دیکھتا وه پولیس موبائل کی پیروی میں سڑک پر ٹرن لیتا دوسری جانب مڑ گیا۔۔ ماہ بیر نے ہنکارہ بھرا ۔۔
“ہمم ۔۔۔ وہیں ہیں تم فکر مت کرو ۔۔۔!”
اس نے صالح کا کاندھا تهپتھپایا۔۔ ان کی باتیں سن کر ارشما چونکی ابھی صبح صبح ہی تو ان کے گارڈ نے فون کر کے طبیعت ناسازی کا کہا تھا کہ وه آ نہیں سکے گا لیکن افراتفری میں وہ بتانا بھول گئی تھی۔۔
“ماہ بیر ۔۔۔۔؟ وه ۔۔۔!!”
ہلکی آواز میں وہ اسے مخاطب کرتی رکی تھی۔۔ اسکی آواز پر دونوں نے چونک کر اسے دیکھا۔۔
“کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟” ماہ بیر متفکر ہوا تھا۔۔
“جی ٹھیک ہوں ۔۔۔ وه صبح گارڈ کا فون آیا تھا کہ ۔۔ اسکی طبیعت خراب ہے تو وہ ۔۔ نہیں آئے گا۔۔!”
اسکا کہنا تھا کہ گاڑی جھٹکے سے رکی۔۔ صالح نے لب بھینچتے ماہ بیر کو دیکھا۔۔
“بکواس کر رہا ہے وه، بک گیا ہے میں جان سے مار دوں گا اسے۔۔! میں ابھی گھر جا رہا ہوں تم ان کو لے کر پہنچو۔۔!” وه جلدی سے سیٹ بیلٹ کھولتا دروازہ کھول کر باہر نکلنے لگا جب ماہ بیر نے اس کا بازو پكڑا۔۔ اسکی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ صالح یوسف ایک پل کو ٹھہر گیا۔۔ “تم مت جاؤ ۔۔ ایک بار کھوچکے ہیں تمہیں ۔۔۔ دوبارہ کھونے کا ۔۔۔۔” اس کی بھاری آواز مزید بھاری ہوئی تھی کہتے ہوئے وه ٹھہرتا نظریں پھیر گیا۔۔ “میں چلا جاتا ہوں تم ان کو کورٹ لے جاؤ۔۔۔!” ماہ بیر نے رسان سے کہا۔۔ ارشما اور ارشیہ لب سیئے دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔۔ دل تو انکا بھی ڈر گیا تھا۔۔ وه ماضی نہیں دہرانا چاہتے تھے۔۔ “میں اب پہلے جیسا نہیں رہا مجھ پر بھروسہ رکھو۔۔۔!” مظبوط لہجے میں کہتا وه جلدی سے نکلا۔۔ سامنے سے آتی ٹیکسی کو ہاتھ دکھاتا وه اس جانب بڑھ گیا۔۔ ماہ بیر نے گہری سانس لیتے ڈرائیونگ سیٹ سنبهالی تھی۔۔ 🍁🍁🍁 ابھی وه کورٹ سے قریب بیس منٹ کی مسافت پر تھے جب حیان نے بلیک ‘ڈیمن’ کار کو اپنی جانب آتے دیکھا۔۔ وه کار آہستہ سے اس کی موبائل کے برابر چلنے لگی۔۔ رمل نے گلاس ونڈ نیچے سركاتے اسے اشارہ کیا۔۔ وه سمجھ کر سر ہلاتا آگے ہوا ہے اس کے بڑھائے ہوئے ڈاکومینٹس تھام کر ہاتھ اندر کرتا اسے تھمز اپ کر گیا۔۔ وه سر کو خم دیتی ان کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے لگی۔۔۔بلیک ڈیمن کبھی آگے چلی جاتی کبھی پیچھے۔۔ اسی طرح یہ قافلہ منزل کی جانب رواں تھا جب سڑک کے بیچوں بیچ لوگوں کا رش پڑ گیا۔۔ تین چار آدمی بری طرح جھگڑ رہے تھے جن کے گرد لوگ گھیرا ڈالے تماشہ دیکھ رہی تھے۔۔ “سر لگتا ہے پھڈا ہوگیا ،، دیکھنا پڑے گا۔۔!” علی نے سر باہر نکالتے اسے صورتحال سے آگاہ کیا۔۔ “گاڑی روکو۔۔۔!” اس کے حکم پر پولیس موبائل جھٹکے سے رکی اسی کے ساتھ پیچھے آتی گاڑیوں کو بھی بریک لگا۔۔ حیان باہر نکل کر ان لڑکوں کی طرف بڑھا ہی تھا جب زبردست دهماکہ ہوا۔۔
🍁🍁🍁
جاری ہے۔۔۔
