No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
گہرے سرخ عروسی لباس میں سجی وہ ہال کے برائیڈل روم میں بیٹھی تھی جب اینارا دروازه کھول کر اندر آئی۔ نفیس سے لباس میں بالوں کا جوڑا بنائے وہ وہاں پہلے سے موجود مشائم سے مخاطب ہوئی۔
“آپی اسے گھونگھٹ کر کے باہر لائیے گا عرش نے کہا ہے!!!” وہ عجلت میں لگتی تھی۔
اس کے جواباً سر ہلانے پر وہ پلٹ کر برائیڈل روم سے چلی گئی۔ وہ گم صم بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔ ٹیکا نتھ غرض دلہن کا مکمل سنگهار کئے وہ عرش سے اتری کوئی حور لگ رہی تھی۔
نیلی آنکھوں کے کانچ بجھے سے تھے۔ آج ان میں اداسی سموئی تھی۔ بلیک خوبصورت كیپری شرٹ کے ساتھ کاندهے پر شیفون کا بڑا سا دوپٹہ پھیلائے وہ آئینے کے سامنے سے ہٹ کر ایرا کے پاس آ بیٹھی۔اس نے سر اٹھا کے ارشیہ کو دیکھا۔
“تم پریشان نہ ہو زیادہ میں جانتی ہوں تمہیں اس ایٹیٹیوڈ کی دکان سے ڈر لگ رہا ہے دیکھو جتنا تم ڈرو گی وہ اور شوخا ہوگا۔ اگر اس نے تمہیں کچھ بھی کہا تو ایک پنچ مارنا اسے ۔ میری بہن ہو آخر میری عزت رکھ لینا!!!”
نیلی بلی سی تیکھی آنکھیں گھماتی وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔ ایرا کا تو منہ کھل گیا اس کی بات پر اب اس باڈی بلڈر کو پنچ مارنے کا رسک کون لے؟؟
ارشیہ نے بھورے گھٹنوں تک جاتے گھنگھریالے بالوں کو دو حصوں میں بانٹ کر آدھے ، آگے کی طرف ڈال دیے اور باقی پشت پر کھلے چھوڑ دیے۔
لبوں پر سرخ لپ سٹک کو آپس میں مس کر کے وہ اٹھی۔ مشرقی طرز کے لباس وہ نہیں پہنی تھی عموماً۔۔۔!!
اب جب پہنا تو بہت جچ رہا تھا اس پر۔ ہمیشہ کی طرح ہر چیز سے لاپرواہ وہ بلیک پنسل ہیل کا سٹریپ ٹھیک کر کے باہر ہال میں آ گئی۔ زبردست لائیٹنگ اور ڈیکوریشن کی گئی تھی۔
وہ ایک کرسی گھسیٹ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتی چاروں جانب کا جائزہ لینے لگی جب اس کی نگاہ اس منحوس بلے پر پڑی جو گرے تھری پیس میں ہمیشہ کی طرح سڑے تاثرات لیے ایک لڑکے کی جانب بڑھ رہا تھا۔
🍂🍂🍂
بلیک جینز پر وی گلے کی شرٹ اور لیدر کی جیکٹ میں وہ گڈ لکنگ سا لڑکا ہال میں داخل ہوتا کسی کو تلاش کر رہا تھا جب اس کی نگاہ ایک لڑکی پر پڑی۔
اس کے اتنے لمبے بال دیکھ کر وہ شدید حیران ہوا۔ ابھی وہ اس کا مکمل جائزہ لیتا کہ گرے تھری پیس میں وہ اس کے سامنے رکتا اسے گھورنے لگا۔
اس کی سرمئی آنکھوں کو خود کو گھورتے پا کر وہ سٹپٹا گیا۔ یہاں کیا سب ہی ابنارمل تھے؟؟
“کون ہو تم ؟؟”۔۔
بدر کے غصے سے کہنے پر علی کھسیا گیا جس طرح یہ مغرور سا شخص اسے گھور رہا تھا اسے ایسا لگا جیسے اس نے اس کی چور نگاہ پکڑ لی ہو۔۔۔!!
“جی وہ میں حیان سر کا گیسٹ ہوں۔ علی نام ہے آپ انہیں اطلاع کر دیں پلیز۔ داڑھی مونچھوں اور آنکھوں کے فرق کے علاوہ آپ دونوں ایک سے لگ رہے ہیں اگر میں غلط نہیں ہوں تو آپ ان کے برادر ہیں!!!
وہ اس کا جائزہ لیتا ہوا نان اسٹاپ بولتا گیا۔
ہمم۔۔!!!
ہنکارا بھر کر وہ چلا گیا تو اس نے رکی سانس بحال کی۔ ایک کونے میں لگی کرسیوں کی طرف جا کر بیٹھتا وہ حیان کا انتظار کرنے لگا۔
🍂🍂🍂
“ویسے سر جی ایک بات کہوں؟؟” ۔۔۔
بلیک فور پیس میں کوٹ کرسی کی پشت پر ڈالے وہ اپنی مکمل وجاہت اور دبدبے کے ساتھ اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ حیان نے بھنویں اچکاتے اسے بولنے کا اشارہ کیا۔
اس کے بال پہلے سے ذرا بڑھے ہوئے گردن کو چھو رہے تھے۔ گھنی مونچھوں اور بھری بھری داڑھی میں اپنے کسرتی جسم سمیت وہ بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا۔ اس کی لکس کو دیکھتے علی کی زبان میں کھجلی ہونے لگی تھی۔
“آپ اتنے ہاٹ ۔۔۔ میرا مطلب ہینڈ سم ہیں!!!”
حیان کی گھوری پر ہڑبڑا کر وہ الفاظ درست کرتا کہنے لگا۔
“آپ کی فیملی میں بھی ایک سے بڑھ کر ایک حسین لڑکیاں ہیں!!!”
سامنے جاتی ایک لڑکی کے ساتھ اس کی نظریں اور چہرہ بھی اس کی جانب ہوا جس پر حیان نے دو انگلیوں سے اس کا چہرہ اپنی جانب کیا وہ سٹپٹا گیا۔
“وہ میں کہہ رہا تھا کہ آپ نے پھر اب تک شادی کیوں نہیں کی آپ کی ایک کزن بھی ہے نہ جرنلسٹ؟؟”
حیان نے کولڈ ڈرنک کا سپ لیتے اسے زبردست گھوری سے نوازا۔
“بہن کی طرح ہے وہ سمجھ آئی یا سمجھاؤں؟؟”
اس کے دهمكی بھرے لہجے پر علی نے تھوک نگل کر نفی میں سر ہلایا۔
“آپ نے شادی والی بات کا جواب نہیں دیا؟”
جیکٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈال کر وہ ٹھیک سے بیٹھتا ایک چور نظر دائیں بائیں بھی ڈال لیتا تھا۔ حیان نے سیاہ آنکھیں سكیڑ کر اسے دیکھا۔
“شادی میں کیا رکھا ہے میں ایسے ہی ٹھیک ہوں!!!”
وہی ازلی بےنیاز انداز ۔۔ اس کی بات پر علی عش عش کر اٹھا۔
“بہت کچھ رکھا ہے شادی میں غور کیجئے گا میری بات پر!!!” …. اس کی زومعنی بات پر وہ سیدھا ہو بیٹھا جس پر علی نے حلق تر کیا۔
“اپنی یہ خرافات اپنے تک محدود رکھو اور اب اگر تمہاری نظریں دائیں بائیں گئیں تو تمہاری آنکھیں نکال کر سیخوں میں پرو کر چیف کو بھیج دوں گا!!!” ۔۔
علی کا منہ بن گیا۔۔۔ “کیا سر ؟ آپ کسی اور کو بھی تو بھیج سکتے تھے اس چیف کا نام ضرور لینا تھا؟”
لہجے میں دنیا جہان کی خفگی تھی۔ اس کی بات پر وہ دهیما سا مسکرایا تھا۔ یہ علی بھی نہ۔۔۔!!!
🍂🍂🍂
اچھا تو یہ بلا جل رہا تھا۔۔ تو ارشیہ ڈارلنگ تمہیں اور جلانا چاہیے پھر!!!
تیکھی مسکراہٹ سے علی کو دیکھتی وہ اس کے پاس آئی جو پلیٹ میں کھانا نکال رہا تھا۔
دور سٹیج کے پاس کھڑے بدر پر ایک ترچھی نگاہ ڈال کر وہ اس کے برابر آتی کھانا نکالنے لگی۔
“ہائے!!!”۔۔۔
اپنے برابر سے نسوانی آواز سن کر اس نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
“مائی نیم ارشیہ ۔۔ حیان کی کزن!!!”
اس نے ہاتھ بڑھایا۔ علی ایک پل کو ہچکچایا پھر ہاتھ تھام لیا۔
“مائی نیم علی! ویسے آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے رائٹ؟؟”
واپس اپنی کرسی کی طرف آتا وہ مزے سے بولا۔ اس کے سامنے بیٹھتی وہ مسکرائی تھی۔
“بلکل صحیح ۔۔ وہ جو گرے آنکھوں والا لڑکا کھڑا ہے نہ اسے جلانا ہے بس ۔۔ میرا ساتھ دو گے؟؟”
اس کے مزے سے کہنے پر علی کی آنکھیں چمکیں۔۔
“اوکے ! وہ ہماری طرف ہی دیکھ رہا ہے ویسے آپ پہلی نظر میں ہی مجھے بہت خطرناک لگی تھی!!”
وہ خاصا مسکرا کر بولا جس پر ارشیہ نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا۔
“اور تم مجھے ایک نمبر کے چھچھوڑے اور میسنے لگے تھے!!!”
اسے مسکرا کر دیکھتی وہ بال جھٹک کر سامنے ڈالتی ان میں انگلیاں پھیرنے لگی۔۔ علی نے زبردست قہقہہ لگایا البتہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا ضرور تھا۔
“نہیں آپ کی چھچھوڑے والی بات غلط ہے دوسری بات سے اتفاق کرتا ہوں میں!!!”
کیا نرالا انداز تھا اس کا وہ ابرو اچکا کر اسے دیکھنے لگی۔
“کولڈ ڈرنک پاس کرنا!!!”
اسے ترچھی نظروں سے اشارہ کرتی وہ نزاکت سے دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی۔۔
“اوکے اوکے !! ویسے آپ کو دیکھ کر میرا مطلب اتنے لمبے بال دیکھ کر مجھے آپ پر چڑیل کا گمان ہوا تھا لیکن الحمدللّہ آپ سے مل کر یہ گمان یقین میں بدل گیا!!”
وہ نرمی سے مسکرا کر کولڈ ڈرنک کا گلاس اس کی طرف بڑھا گیا۔ ان دونوں کو یوں مسکرا مسکرا کر باتیں کرتے دیکھ کر وہ غصے سے واک آؤٹ کر گیا۔۔
🍂🍂🍂
“مشی یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟ فون بھی آف ہے تمهارا۔۔!! ابراھیم نے کالز کی تھیں تمہیں چلو کوئی بات نہیں اس نے ماہ بیر کے نمبر پر ویڈیو کال کی ہوئی ہے زنیشہ بہت مس کررہی ہے سب کو۔۔۔فنکشن دیکھنا چاہ رہی تھی۔۔!!!”
اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتی وہ اسے ساتھ لیے ان سب کی طرف جانے لگی۔ ارشما کی اتنی محبت پر وہ محض مسکرا دی البتہ آنکھوں میں نمی ضرور چمکی تھی۔
“میری جان مجھے پتہ ہے تم گیدرنگز میں صالح کو بہت مس کرتی ہو ۔۔ مس تو ماہ بیر اور میں بھی کرتے ہیں!!”
وہ بھی اداس ہو گئی تھی اس کے زکر پر۔۔ “وہ تو ہر پل مجھے یاد آتے ہیں کاش وہ آج ۔۔۔ ” وہ کہتی کہتی خاموش ہوئی تھی۔ ارشما نے اسے ساتھ لگایا۔۔
“آؤ ابراھیم سے بات کرو بلکل صالح کی طرح لگتا ہے نہ وہ اللّه کے ہر فیصلے میں کوئی مصلحت ہوتی ہے تم یوں اداس ہوگی تو سب اداس ہوجائیں گے اور ماہ بیر کا تو پتہ ہے تمہیں کتنی مشکل سے سنبهالا ہوا ہے انہوں نے خود کو ان کا بہت ساتھ تھا۔ اف میں بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی۔۔ چلو اب پیاری سی سمائل دو مشی والی!!!”
اس کے گرد بازو حائل کرتی وہ اتنے پیار سے بولی کہ مشائم بےساختہ مسکرا دی۔
🍂🍂🍂
سرخ عروسی لباس میں پور پور سجی وہ عرشمان شاہ کے کمرے میں گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی جس کی بیوی بننے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔
اس کا وجود ہلکا ہلکا لرز رہا تھا۔ یوں لگتا تھا وہ رو رہی تھی۔۔ اس کا نازک دل خوف سے لرز رہا تھا۔۔
“جانے وہ میرے ساتھ کیسا سلوک کریں گے میرا گناہ بھی تو بہت بڑا ہے مجھ جیسی لڑکیوں کو مر ہی جانا چاہیے!!!۔۔۔”
سرزد ہوئی خطا پھر سے یاد آنے لگی تو وہ پھپھک کر رو دی۔۔ میں نے آخر کیوں ایسا کیا؟؟ خود کو گرا دیا سب کی نظروں میں۔۔ کتنی معصوم تھی وہ۔۔
اٹھارہ سال کی معصوم کلی جو کھلنے لگی تھی۔۔ زمانے کے رنگ تو اس پر پڑے ہی نہیں تھے۔۔ اس میں بچوں کی سی معصومیت تھی۔۔ لیکن پھر وہ بھٹک گئی۔۔ بنت حوا تھی نہ۔۔۔۔!!!
اپنی سوچوں میں گم وہ گھٹنوں پر ٹھوڑی ٹکائے مغموم نظروں سے یک ٹک ناک کی سیدھ میں دیکھ رہی تھی کہ دروازه کھلنے کی آواز آئی۔۔
وہ چونک کر سیدھی ہوتی نظریں جھکا گئی۔۔ وہ اتنے فاصلے پر بھی اس کی کانپتی پلکوں سے پهسلتے آنسو اور سرخ تھرتھراتے لبوں کو دیکھ سکتا تھا جنھیں اس نے سختی سے دانتوں تلے بھینچا تھا۔۔
کوٹ اتار کر اس نے صوفے پر ڈال دیا۔۔ سنجیدہ نظر ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ زمین پر دھڑے بیگ پر ڈال کر وہ سر جھٹکتا کف لنکس کھولنے لگا۔۔
گہری بھوری آنکھوں میں بیک وقت سردمہری اور بیزاری تھی۔۔ گال سے آنسو پونچھ کر اس نے عرش کی چوڑی پشت کو دیکھا۔۔
وہ خاموش کیوں تھا؟؟ کچھ تو کہتا۔۔۔!!! لعنت ملامت کرتا۔۔۔!!! اپنی پشت پر اس کی نظریں وہ بخوبی محسوس کررہا تھا۔۔
اپنے مخصوص انداز میں چلتا وہ نائٹ ڈریس لے کر فریش ہونے چلا گیا۔۔ وہی ۔۔۔۔ ہر کسی کو جوتی کی نوک پر رکھنے والا انداز ۔۔۔ تیور ایسے کہ جو کرنا ہے کر لو میں بھی یہیں اور تم بھی۔۔۔!
ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ فریش سا باہر نکلا۔۔ وہی وقت کے حساب سے چلنے کی عادت۔۔ وہ وقت کا ضیاع نہیں کرتا تھا۔۔! اس کا ہر پل قیمتی تھا۔۔!
اسے جوں کا توں روتے دیکھ کر اس کی چوڑی شفاف پیشانی پر سلوٹیں نمایاں ہوئیں۔۔
“چینج کر کے سو جاؤ!!!۔۔۔”
ہر احساس سے عاری سرد لہجہ۔۔!
اس کے حکم پر وہ دونوں گالوں کو زور سے ہاتھ کی پشت سے رگڑتی بیڈ پر پھیلا لهنگا سنبهال کر اٹھی۔۔ چوڑیوں کی کھنک نے کمرے کے سکوت کو تہہ و بالا کیا تھا۔۔
اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا لیپ ٹاپ اٹھایا اور بالکنی میں جانے کی نیت سے بھاری قدم بڑھائے ہی تھے کہ کلائی پر نرم و نازک گرفت محسوس کرتے اپنے قدم روکے۔۔
چہرہ گھما کر اس نے ایک بے تاثر نظر اپنی مظبوط چوڑی کلائی پر ڈالی جسے نرم و نازک دودھیا ہاتھ نے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔۔
سرخ پھڑپھڑاتے لبوں کو سختی سے بھینچ کر وہ بڑی بڑی نیلی بلی کی سی آنکھیں جھپک جھپک کر اسے دیکھتی اس کے مقابل آئی۔۔ اپنے مقابل کھڑی چھوٹی لڑکی کو اس نے ذرا سا سر جھکاتے خاموشی سے دیکھا تھا۔۔
نیلی آنکھوں سے آنسو لڑی کی صورت سرخ و سپید گالوں پر بہتے جا رہے تھے جن پر جا بجا سرخ نشان پڑ گئے تھے جو ایرا کے رگڑ رگڑ کر آنسو صاف کرنے کا نتیجہ تھے۔۔
اسے ڈبڈبائی نظروں سے خود کو دیکھتا پا کر وہ لب بھینچ گیا۔۔ کس قدر نازک اور معصوم تھی وہ لیکن ایک غلطی نے اس کا سارا کردار مسخ کر ڈالا تھا۔۔
“مجھے ماریں ،، لعنت ملامت کریں ،، سزا دیں ۔۔۔۔ کچھ تو کہیں عرش بھائی۔۔۔۔! آپ کی یہ خاموشی میری جان لے رہی ہے۔۔۔۔!”
سرخ ناک کو ہاتھ کی پشت سے مسلتی وہ سر اٹھا کر بولی۔۔ باریک مدھر آواز۔۔!
“کیا بکواس کی ہے تم نے؟؟؟ دوبارہ بھائی کہا تو منہ توڑ دوں گا تمہارا!!!۔۔۔ نکاح ہو چکا ہے ہمارا۔۔ ان چاہی صحیح لیکن بیوی ہو اب میری یہ بات کھوپڑی میں بٹھا لو اچھی طرح”۔۔
ایک ہاتھ سے اس کا بازو پکڑ کر جھٹکتا وہ چبا چبا کر بولا۔۔ اس کی آنکھوں کا رنگ مزید گہرا ہوا تھا۔۔ اپنے بازو پر اس کی سخت گرفت اور کھردرا لب و لہجہ محسوس کر کے وہ آگے بڑھتی اس کے سینے پر سر رکھ کر پھپھک کر رونے لگی۔۔
روتے روتے اس نے اپنی بہتی ناک اس کی شرٹ سے پونچھی۔۔ عرش نے سر جھکا کر افسوس سے اس کی حرکت کو دیکھا۔۔
ابھی وہ اسے سزا دینے کا کہہ رہی تھی اور اب اس کے ذرا سے سختی کرنے پر۔۔۔! ہاں بس ذرا سی سختی پر یوں رو رہی تھی جیسے رو رو کر اپنے آنسوؤں سے پورا جہاں ڈبو دے گی۔۔۔!
بیزاریت سے سر جھٹک کر اس نے ایرا کو خود سے الگ کیا۔۔ اس کی خطا یاد آتے اس کے جبڑے بھینچ گئے۔۔ عرش کے چہرے پر سرد تاثرات دیکھ کر وہ تھوک نگلتی پیچھے ہٹی۔۔
“سزا چاہیے تھی نہ تمہیں؟؟ تم ساری رات ایک ٹانگ پر کھڑی رہو گی۔۔۔! اگر تم نے ایک پل کے لیے بھی دوسرا پیر زمین پر لگایا تو میں تمہیں اتنی ٹھنڈ میں یخ ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑا کردوں گا!!!۔۔۔”
اسے سخت نظروں سے دیکھتے وہ دهپ دهپ کرتا بالکنی کا دروازه کھول کر باہر نکل گیا۔۔ اس کا دل تو چاہ رہا تھا رکھ کر ایک اس بیوقوف لڑکی کے منہ پر لگائے۔۔
اتنی ٹھنڈ میں محض آدھے بازو کی ٹی شرٹ ٹراؤزر پہنے وہ بالکنی میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کررہا تھا۔۔ موسم کی یہ سختیاں اس پر اثر نہیں کرتی تھیں۔۔
اندر وہ ڈبڈبائی نظروں سے بالکنی کے کھلے دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں سے بے دھڑک اندر آتی سرد ہوا اسے ٹھٹھرنے پر مجبور کررہی تھی۔۔
اس جلاد کی دی سزا پر وہ گیلی سانس اندر کھینچتی لہنگا دونوں ہاتھوں سے سنبهال کر ایک ٹانگ پر کھڑی ہونے کی کوشش کرنے لگی۔۔ اس کا توازن بگڑا۔۔ دوسرا پاؤں لهنگے میں اٹکا اور وہ دھڑام کی آواز سے زمین بوس ہوئی۔۔
دھڑام کی آواز پیدا ہونے پر وہ واپس کمرے میں آیا اسے زمین پر گرا دیکھ کر اس کی پیشانی شکن زدہ ہوگئی۔ اس لڑکی کی بیوقوفیوں کی تو انتہا ہی ہوگئی تھی۔
نیچے گرے ہی اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ چونکی تھی یہ منظر دہرایا گیا تھا۔
“اٹھو!!!”
وہ سختی سے بولا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھی، ہڑبڑی میں اس کا پیر پھر سے کامدار لهنگے میں اٹکا اس سے پہلے کہ وہ پھر سے گرتی عرش نے فورا اسے تھاما تھا۔
اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں سختی سے جکڑتی وہ زور سے آنکھیں میچ گئی۔ سرخ لبوں کو چھوتی نتھ میں لٹکے موتی ہلنے لگے تھے۔
عرش نے سر جھکا کر پہلی بار اس کے سنگھار کو دیکھا بلاشبہ وہ حسین لگ رہی تھی اس پر اسکی کم عمری کی معصومیت غضب ڈھا رہی تھی۔
یہ وہ پہلا رومانوی لمحہ تھا جو عرشمان شاہ کی زندگی میں آیا تھا۔ اس کے تاثرات واپس سپاٹ ہوئے تھے ایرا کو سیدھا کر کے وہ ناگواری سے اسے دیکھنے لگا۔
وہ خوف اور ہچکچاہٹ کی ملی جلی کیفیت سے سر جھکائے کھڑی تھی جب اس نے کہا۔۔
“مزید کوئی بیوقوفی کیے بغیر کپڑے بدل کر سو جاؤ۔۔ چلو جاؤ!!!”
وہ سخت نظروں سے اسے گھور کر بولا تو وہ حلق تر کرتی لهنگا سنبهال کر چینجنگ روم میں گھس گئی۔ سر جھٹک کر وہ واپس ٹیرس پر چلا گیا۔
🍂🍂🍂
بےبی پنک باربی ٹراؤزر شرٹ میں وہ شاور لے کر باہر نکلی۔ بالکنی سے آتی ہوا اس کے وجود سے ٹکراتی اسے کپکپانے پر مجبور کر گئی۔
گھٹنوں تک جاتے لمبے گیلے بالوں کو اس نے کوفت سے ٹاول کی مدد سے خشک کرنا شروع کر دیا۔ بالوں کو برش کر کے وہ کمرے میں ٹہلنے لگی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
ٹیرس کی جانب دیکھتی وہ ٹہلتی ہوئی رکی پھر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ٹیرس پر آ کر اس کے ساتھ بیٹھ گئی وہ بغیر اسے دیکھے لیپ ٹاپ پر کام کرنے میں مصروف رہا۔
سردی سے بچنے کو سینے پر ہاتھ باندھ کر اس نے چہرہ گھما کر عرش کو دیکھا جس کے بال ہلکی ہوا کے باعث پیشانی پر بکھر رہے تھے۔ گہری بھوری آنکھیں لیپ ٹاپ کی سكرین پر ٹکی تھیں۔
ایرا کی نگاہ اس کے کان میں موجود چاند کی شکل کے سیاہ ٹاپس پر پڑی وہ اس پر نظریں جمائے حلق تر کرتی گویا ہوئی۔
“آپ بھی نفرت کرتے ہیں نہ مجھ سے مجھے خراب لڑکی سمجھتے ہوں گے؟؟”
گال پر ہاتھ رکھتی وہ آہستہ سے بولی اس کی نیلی آنکھوں کے کانچ اطراف سے سرخ ہونے لگے تھے۔
ٹچ پیڈ پر چلتیں عرش کی انگلیاں ایک پل کو تھمیں۔۔
“نہیں!!!” ۔۔ اس نے یک لفظی جواب دیا البتہ ابھی بھی اس کی جانب نہ دیکھا وہ حیران ہوئی تھی۔
“وہ سب ۔۔ مطلب سب غلط ہی سمجھتے ہوں گے مجھے پھر آپ!!” ۔۔۔۔ کرسی پر پیر ركهتی وہ گھٹنوں میں منہ چھپا گئی۔۔۔! وہ خود سے خفا تھی بہت۔۔۔!
“غلطی سب سے ہو جاتی ہے۔۔۔”
عام سے لہجے میں بولتا وہ اسے خاص لگا تھا۔ گھٹنوں پر چہرہ رکھے وہ رخ اس کی جانب کر گئی عرش نے ایک نظر اسے دیکھا تھا۔
اس ایک نظر میں بھی وہ بتا سکتا تھا کہ اس کی آنکھیں نمی کی وجہ سے کم اور بخار کی وجہ سے زیادہ سرخ ہورہی تھیں اس کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا۔
“مجھے اس سے محبت نہیں تھی بس پسند کرتی تھی اس کو!!” ۔۔۔۔
اپنے شوہر کو آدھی رات کے وقت اپنی کسی اور کے لیے پسندیدگی بتانے والی وہ انوکھی بیوی تھی۔۔ عرش نے كندھے اچکائے!
“آپ کو محبت نہیں ہوئی کبھی؟؟”
عرش نے اس کے سوال پر لیپ ٹاپ کی سكرین فولڈ کر دی اس کی جانب مڑتا وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“ان فضولیات کے لئے وقت نہیں میرے پاس!!!”
سر اٹھا کر سیاہ بادلوں سے ڈھکے آسمان کو دیکھتا وہ مدهم لہجے میں بولا۔ آسمان سے ننھی بوندیں گرنے لگیں تو وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے۔
زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوچکا تھا اس شخص کے سنگ جس کی زندگی میں وہ زبردستی شامل کی گئی تھی عجیب شخص تھا وہ بہت وقت لگنا تھا اس کو سمجھنے میں۔ تکیہ اٹھا کر صوفے پر لیٹتی وہ اسے بیڈ پر لیٹتا دیکھ کر آنکھیں موند گئی۔
🍂🍂🍂
