No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
” ہائے۔۔۔!! “
وائٹ سکرٹ مِنی کوٹ میں گھنگھریالے بالوں کا اونچا جوڑا بنائے وہ ہاتھ میں پکڑی فائلز چیک کرتی میٹنگ روم سے باہر نکلی۔۔
ابھی دو قدم آگے بڑھی تھی جب بھاری مردانہ آواز پر ہیلز کی ٹک ٹک رکی۔۔
براؤن تھری پیس میں اپنی شاندار پرسنالٹی کے ساتھ وہ میٹنگ روم سے باہر نکلا۔ ارشیہ ایک پل کو ٹھہری جب وہ اس کے مقابل آیا۔۔
“بندے کو شاہان خان کہتے ہیں!!!”
اپنا تعارف کرواتے اس کی ہری آنکھیں چمکیں تھیں۔۔ ارشیہ نے نیلی آنکھیں بیزاری سے گھمائیں۔ براؤن لپ سٹک سے رنگے ہونٹوں نے حرکت کی۔
“ناٹ انٹرسٹڈ۔۔۔!!!”
کلائی بلند کر کے وقت دیکھتی وہ تیكهی نظروں سے دیکھتی آگے بڑھ گئی۔.
“انٹرسٹنگ!!”
خان مسکرایا تھا اس کی بے حد گوری رنگت میں سرخیاں سی گھلی ہوئی تھیں۔ وہ بے حد وجیہہ تھا، اسے غرور تھا اپنے حسن پر!
ایک انداز سے چلتا وہ اس کے ہم قدم ہوا۔ ارشیہ شدید کوفت زدہ ہوئی۔ بزنس ڈیلنگ ہوگئی تو کیا سر پر بٹھاؤں اسے؟ ہنہ! چمٹ ہی گیا ہے دو نمبر پٹھان!!
بڑبڑاتی وہ اسے لفٹ کروائے بغیر دوسرے فلور کی طرف جانے والی لفٹ کی طرف بڑھی وہ بھی لفٹ میں داخل ہوگیا۔ ارشیہ نے پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر چیک کیا۔
گڈ!! ۔۔ چھوٹے سائز کا چاقو وہاں موجود پا کر وہ مطمئن ہوگئی۔۔۔
“سب سمجھتے ہیں ارشیہ بس انتہا کی بدتمیز،، خود سر،، جنگلی ہے۔ اوہو۔۔۔ ایڈ ون مور!!۔۔۔ میں خطرناک بھی ہوں!!”
نیلی بلی کی سی تیكهی آنکھوں کی چمک بڑھی تھی۔۔
“اہم۔۔ آئی مسٹ سے یو آر ویری ٹیلنٹڈ لیکن کسی کو تمہاری قدر نہیں ہے!!”
لفٹ وال سے کمر ٹکاتا وہ ذرا سا مسکرایا۔ اس کی زیرک نگاہوں سے بدر اور ارشیہ کی نوک جھونک مخفی نہ رہ سکی تھی۔۔
وہ فائلز سینے سے لگاتی تیکھے لہجے میں بولی۔۔۔
“ڈونٹ کیئر ۔۔ آئی ہیو مائی کنگ ڈم ۔۔ اینڈ کوئین از ہیئر!!”
نیلی آنکھوں میں چمک لیے وہ اسے باور کروا گئی کہ وہ اس کے جھانسے میں نہیں آئے گی وہ بہت سی عام لڑکیوں میں سے نہیں تھی وہ ارشیہ تھی،، سب سے منفرد۔۔۔!
خان نے ستائش سے ابرو اچکائے جیسا سنا تھا اس سے بڑھ کر پایا تھا اسے۔۔
“آئی سی۔۔ اگر تم چاہو ہم ساتھ ہو سکتے ہیں۔۔ غور کرنا میری بات پر۔۔ لڑکیاں خان کے پیچھے آتی ہیں خان نہیں جاتا۔ پہلی بار مجھے کسی لڑکی نے اس طرح مائل کیا ہے۔ کچھ تو خاص ہے تم میں!!”
گہری کانچ سی ہری آنکھیں اس کی نیلی آنکھوں میں گاڑتا وہ بھاری لہجے میں بولا۔ لفٹ رکی تو ارشیہ نے ایک نظر اسے دیکھا تمسخر سے۔۔
“ارشیہ صمید سے توقعات مت لگاؤ۔ میری ہیلز بھی تمهاری ایکسپیکٹیشنز سے اونچی ہیں!!
کوٹ جھٹک کر وہ لفٹ سے باہر نکل آئی اس کا رخ بدر کے اور اپنے مشترکہ آفس کی جانب تھا۔ گلاس ڈور دهكیل کر وہ اندر آئی۔۔
آنکھیں گھماتے اس نے بدر کو دیکھا جو بلیک تھری پیس میں ملبوس غصے میں بھرا بیٹھا تھا۔ اس کے آگے کافی کے دو کپ رکھے تھے جو وہ خالی کر چکا تھا کالی کڑوی کسیلی کافی! ارشیہ نے فائلز زور سے میز پر رکھیں۔۔
“کس محبوبہ کی یاد میں کافی پر کافی پیئے جا رہے ہو؟ ایک تو میں تمہارا یہ سڑا ہوا منہ دیکھ دیکھ کر تھک گئی ہوں۔ مسلسل ایسے ایکسپریشن رکھنے سے منہ میں درد ورد نہیں ہوتا؟”
ٹیبل کے سامنے اس کے مقابل کھڑی ہوتی وہ کمر پر ہاتھ ٹکائے نخوت سے بولی۔ اس کی فر فر چلتی زبان قینچی کو مات دیتی معلوم ہوتی تھی۔۔۔
بدر تن فن کرتا اٹھا اس کے پاس آ کر وہ درشتگی سے انگلی اٹھا کر بولا۔۔
“شاہان سے دور رہو کیا کررہی تھی تم اس کے ساتھ؟ ایک نمبر کا گھٹیا انسان ہے وہ!!”
غصے سے بولتی اس کی گردن کی رگیں ابھر آئی تھیں۔ سفید چہرہ سرخ پڑ گيا تھا۔ ارشیہ نے کان میں انگلی ڈال کر اسے دیکھا پھر تپ کر اس کے کان میں چیخی۔۔
“بہری نہیں ہوں میں، بدتمیز انسان۔۔!”
اسے دور دھکیلتی وہ تپ کر بولی مجال ہے جو یہ غصیلا بلا اسے سکون کا سانس لینے دے!
وہ سر جھٹک کر پیچھے ہٹ گیا اس کی اکڑ بدر کو پاگل کر رہی تھی۔ اس ضدی لڑکی کو وہ ٹھیک کرے گا ضرور کرے گا۔۔
“بہت ایٹیٹیوڈ ہے نہ تم میں۔۔؟ جسٹ ویٹ اینڈ واچ میں کیا کرتا ہوں اب!”
پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ اب پرسکون کھڑا تھا۔ سرمئی آنکھوں میں ایک مسکراتا تاثر ابھرا تھا جبکہ لبوں پر طنزیہ مسکرہٹ تھی۔۔
“غلط۔۔ ارشیہ میں ایٹیٹیوڈ نہیں۔۔ ایٹیٹیوڈ میں ارشیہ ہے!!”
آہا۔۔کیسے دل جلانے والا انداز تھا۔ سر ذرا سا ٹیڑھا کرتی وہ سائیڈ سمائل دیتی مزید کہنے لگی۔۔
“تمہیں پتہ ہے تم مجھے کس قدر زہر لگتے ہو؟”
اس نے نظر گھما کر ٹیبل پر رکھے کافی کے کپ پر جمائی جس میں دو گھونٹ بچے تھے۔۔
“پلیز ان دو گھونٹ کافی میں ڈوب کے مر جاؤ نہ! پکا میں ایک آنسو بہا ہی لوں گی گلیسرین سے!!”
اونچاجوڑا ڈھلک کر گردن پر آ چکا تھا جسے کھولتی وہ کمال بےنیازی سے بولی تھی۔۔
آنکھیں اب بھی اس کے تنے چہرے پر تھیں۔ اگر وہ اس کا کزن نہ ہوتا، بدتمیز جنگلی بلا نہ ہوتا تو وہ پکا اس کی لكس پر دل ہار جاتی!
وہ دو قدم اس کی طرف بڑھتا اس کے کان کے قریب جھکا۔
“وہ کیا ہے نہ کہ میں اگر زہر لگتا ہوں تو بھی یہ زہر تمہیں ہی پینا ہے!!”
مسکراتا بھاری لہجہ اس کی خودسر طبیعت پر گراں گزرا تھا۔۔
“اب تو مجھے بھی ضد ہونے لگی ہے تم سے۔ یو نو جب میں چلتی ہوں مردوں کی سانسیں تھمتی ہیں،،جب ہنستی ہوں دل جلتے ہیں اور جو نظر بھر کر دیکھ لوں تو وہ مر جاتے ہیں ڈیم۔۔۔!”
اس کے گال پر انگلی پھیرتی وہ سرسراتے لہجے میں بولی۔ “انتظار کرو اس وقت کا جب ارشیہ کے قاتل وار بدران شاہ کے دل کا قرار لوٹیں گے!!”
ایک ادا سے ہنستی وہ اسے ایک فیصلہ لینے پر مجبور کر گئی۔
🍂🍂🍂
“گڈ مارننگ غزل۔۔!!”
ہاتھ بلند کر کے زور دار انگڑائی لیتی وہ خود کلامی کرتی مسکرائی۔ مہرون کرلی بال پشت پر بکھرے ہوئے تھے جنہیں جھٹک کر وہ سرمست سی اٹھی۔۔
کمر تک آتی بلیک ڈھیلی شرٹ ٹراؤزر میں ملبوس وہ بستر سے نیچے اتری۔ ہری کانچ سی بڑی آنکھیں کھلے دروازے سے باہر جھانک رہی تھیں۔۔
کچھ سوچ کر وہ مسکرائی، اوپرے لب کے خم پر موجود تل واضح ہوا۔ اس نے موبائل پر سونگ پلے کر کے ساؤنڈ سسٹم سے کنیکٹ کر کے فل والیم پر چھوڑ دیا۔۔
ہاتھ بلند کرتی سر دائیں بائیں ہلاتی وہ دروازه کے قریب آئی اور لات مار کر دروازه بند کر دیا۔۔
“حسینہ ہوں میں حسینہ!!”
لبوں کو حرکت دیتی وہ دھیرے دھیرے ڈانس سٹیپس کرنے لگی۔۔
“ون۔۔۔ٹو۔۔تھری۔۔! وہ انگلیاں سامنے کرتی کاؤنٹ کرنے لگی جب جھٹکے سے دروازه کھلا۔۔
بل زدہ پیشانی کے ساتھ آنکھوں میں غصہ لئے وہ لب بھینچ کر دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا تھا۔ غزل نے کنکھیوں سے حاوز کے سرد تاثرات دیکھے لب دبا کر وہ ڈانس میں مشغول رہی۔۔
وہ لمبے ڈگ لیتا اندر آیا اور موبائل اٹھا کر زور سے زمین پر پٹخا۔۔
“اوپر والا خانہ خالی ہے تمہارا؟”
غصہ ضبط کرتا وہ درشتگی سے بولا۔ سخت زہر لگتی تھی اس چھوٹی لڑکی کی یہ عادت اسے۔ صبح جب وہ سکون سے کسرت کرنے میں مشغول ہوتا تھا وہ یونہی کسی نہ کسی طریقے سے اس کے سکون کا تیا پانچا کر دیتی تھی۔
غزل نے لب دبا کر اس کے کسرتی جسم کو دیکھا سلیو لیس شرٹ سینے سے چپکی ہوئی تھی۔۔
“میں نے کیا کر دیا اب؟”
وہ اس کے بلکل سامنے کھڑی ہوتی سر اٹھا کر معصومیت سے بولی۔۔
“اپنی حد میں رہا کرو چھوٹی لڑکی میرا ضبط مت آزمایا کرو بچی ہو بچی رہو مجھ سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے!!”
انگلی اٹھا کر وہ اسے پھر سے جتا گیا تھا لیکن یہ بات وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔۔
“بچی نہیں ہوں میں، اچھی خاصی جوان با شعور لڑکی ہوں بار بار مجھے چھوٹی لڑکی مت کہا کرو۔ کیا تمہیں نظر نہیں آتا میری آنکھوں میں۔۔۔”
حاوز نے اس کی بات مکمل ہونے سے قبل دروازے کی طرف قدم لیے۔۔
“مجھ سے دور رہو۔۔ میرے لیے ایک چھوٹی لڑکی ہی ہو میرے محسن کی بیٹی۔ کوئی ایسی حرکت مت کرتا جس سے تمھارے باپ کو شرمنده ہونا پڑے۔ تمارے لیے بہتر یہی ہے کہ یہ خرآفات دل سے نکال دو ورنہ میں یہاں سے چلا جاؤں گا!!”
مدهم سپاٹ لہجے میں کہتا وہ جا چکا تھا۔ ہرے نین کٹوروں میں پانی بھرنے لگا پیر پٹختی وہ واپس بیڈ پر آ بیٹھی۔۔
“وہ سمجھتا کیوں نہیں ہے اچھا لگتا ہے وہ مجھے۔ نہیں پروا مجھے عمر کے اس فرق کی!!”
بھیگی آواز میں کہتی وہ گھٹنوں میں چہرہ چھپا گئی۔
🍂🍂🍂
غصے سے بھرا وہ لان سے گزرتا اندر آیا۔ اس کے پیچھے ارشیہ بھی تھی جو اپنی گاڑی میں آئی تھی۔ اندر آتے ہی بدر کا کزن پلٹن سے سامنا ہوا وہ لیے دیے انداز میں سلام کر کے ڈرائنگ روم میں چلا گیا جہاں سے مردوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔
ارشیہ نے اس کی پشت کی دیکھتے آنکھیں گھمائیں دهپ سے وہ رمل زنیشہ وغیرہ کے درميان بیٹھ گئی۔۔
“بدر کو کیا ہوا؟”
زنیشہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے پوچھا سامنے قالین پر گفٹس اور کپڑوں کے ڈھیر لگے تھے۔ عرش کو برتھ ڈے پارٹی کی تیاریاں ہورہی تھیں ساتھ ہی زنیشہ سب کو ان کے گفٹس دے رہی تھی جو وہ دونوں ڈینمارک سے لائے تھے۔
عرشیہ نے كندھے اچکائے۔۔۔
“اس کو کوئی نہ کوئی دورہ پڑا ہی رہتا ہے اس کو چھوڑو یہ دیکھو گرلز آج کا “ہاٹ ٹاپک” ایرا ادھر آؤ تمهارے کام کی بات ہے!!”
ساتھ ہی اس نے مصروف سی ایرا کو آواز دے کر پاس بلایا۔ رمل اور زنیشہ جھک کر موبائل سکرین کو دیکھ رہی تھیں ایرا بھی صوفے کی پشت سے جھکی ہوئی تھی۔
“عرش نے ہاٹ شوٹ کروایا ہے۔ فی میلز تو پاگل ہوگئی ہیں ہر جگہ اسی کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ اور تم۔۔۔”
وہ گردن موڑ کر ایرا کو دیکھتی دیدے گھما کر بولی۔۔
“اپنے بندے کی خبر رکھا کرو۔ ایک فی میل ماڈل نے لائیو آ کر پرپوز کیا ہے عرش کو”۔۔
چٹخارا چھوڑ کر وہ واپس سیدھی ہوتی انہیں باقی پكس دکھانے لگی۔ رمل زیادہ بات نہیں کر رہی تھی جبکہ زنیشہ حیران ہو رہی تھی اس کا بھائی ایسا شوٹ بھی کروا سکتا ہے۔۔
باڈی سے اسے ابراھیم یاد آیا جس پر اس کا چہرہ ہلکا گلابی ہوا۔ ایرا آنکھیں سکیڑتی ہوئی ڈرائنگ روم کی جانب بڑھی۔
🍂🍂🍂
“ہاں بھئی صاحبزادے منہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں؟؟”
پلیٹ سے سنیکس لیتے ماہ بیر نے اس کے بگڑے زاویے دیکھتے پوچھ ڈالا۔ اولاد وہ اس کی تھا لیکن غصہ اس نے یوسف سے لیا تھا۔۔
“بدر نے ایک نظر سب پر ڈالی، عرش، حیان، ابراھیم اور ماہ بیر تھے۔ اورهان ماموں نہیں تھے شکر! “بابا ایک دو دن میں ماموں سے بات کریں میری اور ارشیہ کے بارے میں!!”
پیشانی پر بل لیے وہ صوفے پر نیم دراز ہوا تھا۔ کوٹ اتار کر پٹخا تھا جس پر حیان نے ابرو اچکائے۔۔
“تمہاری حالت تو بیچارے شوہر جیسی ہے!!”
موبائل پر مصروف عرش نے سر اٹھائے بغیر لقمہ دیا۔ بدر نے تپ کر اسے دیکھا۔۔
“تم اپنی فکر کرو، بڑے ہاٹ شوٹ کروائے ہیں نواب نے، ابھی ایرا آتی ہو گی تمہیں بیچارہ شوہر بنانے وہ کیا ہے نہ تمہاری ایک عدد کزن ہے جس کے پیٹ میں درد ہونے لگا تھا۔وہ اب تک “فساد” بر پا کر چکی ہوگی!!”
تنک کر کہتا وہ ماہبیر کی جانب متوجہ ہوا۔ عرش بڑبڑا کر دوبارہ موبائل پر مصروف ہوگیا البتہ دل میں لطیف سا احساس جاگا تھا اس کی جیلسی کا سوچ کر!
“بدر وہ بڑی ہے تم سے۔۔ کیا واقعی تم ایسا چاہتے ہو؟ کہیں صاحبزادے کو محبت نامی جراثیم تو نہیں لگ گئے؟؟”
کندھے پر سكن شال درست کرتا وہ دهیما سا مسکرایا۔ سرمئی آنکھوں کے سنگ دهیما سا مسکراتا وہ آج بھی بےحد دلکش لگتا تھا۔۔
“اس چڑیل سے محبت کسے ہوگی؟ اس کی تو گچی مڑوڑنے کا جی چاہتا ہے!!”
وہ محض دل میں سوچ سکا۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے بس پسند ہے وہ مجھے۔ آپ جلدی سے میری شادی کروا دیں!!”
بولتے ہوئے اس نے منہ ایسا بنایا کہ ابراھیم اور حیان کی ہنسی چھوٹ گئی۔ ماہ بیر نے پرسوچ مسکراتی نظروں سے بدر کو دیکھا جس پر وہ جھنجھلا گیا۔۔
“اب آپ سب ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے؟”
سرمئی آنکھوں میں کوفت لیے وہ اٹھ بیٹھا۔ ابراھیم نے سینے پر ہاتھ باندھتے اسے مخاطب کیا۔۔
“مجھے تو کوئی اور معاملہ لگ رہا ہے!!”
گہری نظریں اصل بات جاننے کا اقرار کر رہی تھیں۔ بدر نے نظروں میں اسے وارن کیا۔۔
“یار تو اب میجر نہ بن جائیں ادھر۔۔! بابا آپ بس بات کریں۔۔!”
پہلی بات ابراھیم کو کہہ کر وہ ماہ بیر کو دیکھتا بولا۔
“صاحبزادے وہ سیدھی لڑکی نہیں ہے ناکوں چنے چبوائے گی تمہیں تمہارا مقصد دھرا کا دھرا رہ جائے گا!!”
مزے سے کہتا ماہ بیر قہقہہ لگا گیا۔۔
“یہ تو وقت بتائے گا!!”
اب کہ بدر بھی ہلکا سا مسکرایا کسی بھٹکی سوچ کے آتے اس نے لب دبائے تھے۔ اسی اثنا میں ایرا دروازے پر نمودار ہوئی۔۔
“عرش۔۔ روم میں آئیے گا بات کرنی ہے!”
تنے لہجے میں کہتی وہ جا چکی تھی۔ اس کا جانا تھا کہ ماہ بیر سمیت سب کا قہقہہ ابلا۔ حیان تو ہنس ہنس کر دوہرا ہوگیا۔۔
عرش نے تیكهی نظر سب پر ڈالی پھر ازلی اکڑو انداز میں چلتا باہر نکل گیا۔ اسے تو وہ سیٹ کرے گا جا کر،، ساری عزت کا کباڑا کر دیا۔۔۔!
🍂🍂🍂
جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا وہ بےچینی سے ٹہلتی نظر آئی۔ نیوی بلیو كیپری شرٹ میں دوپٹہ سینے پر پھیلائے بھورے سلکی بالوں کی اونچی پونی کئے وہ ننھی گڑیا لگ رہی تھی، معصوم چہرہ تفكر لیے ہوئے تھا۔
اسے دیکھتے ہی عرش کا غصہ پل میں اڑن چھو ہوگیا۔ وہ اپنی کیفیت پر حیران بھی ہوا اور جھنجھلایا بھی!
وہ کمرے کے وسط میں آیا تو وہ ٹھہری اس پر نظر پڑتے وہ ایک پل کو سب بھول گئی۔ نیلی آنکھیں ساکت ہوئی تھیں۔
سیاہ شلوار قمیض میں بازو کہنیوں تک موڑے وہ ہر دن، ہر لمحے سے زیادہ دلکش اور وجیہہ لگ رہا تھا۔ بھوری آنکھوں نے نیلی آنکھوں کے چمکتے کانچ کو خود پر ساکت پایا تھا۔
دفعتا وہ سنبهلی، دل کو ڈپٹا جو بے قابو سا ہونے لگا تھا۔
“آپ نے شوٹ کروایا ہے؟”
مٹھیاں بھینچتی وہ تیکھے لہجے میں بولی، لہجے سے جلن کی شدید بو آ رہی تھی۔۔
عرش پلٹ گیا، دروازه بند کر کے وہ واپس اس کے مقابل آیا۔۔
“کونسا شوٹ؟”
اس کے نازک سراپے پر نظر ڈالتا وہ ایک قدم اس کی طرف بڑھا۔۔
“ہاٹ شوٹ!!”
وہ غصے میں بھری اپنی جگہ کھڑی رہی دل تو کر رہا تھا اس لڑکی کا سر پھاڑ دے جس نے اس کے بندے کو پرپوز کیا تھا۔ ہاں۔۔ اس کا بندہ تھا وہ اب،، بیوی تھی وہ اس کی!
عرش نے درميانی فاصلہ ختم کرتے اسے دهكیل کر دیوار سے لگایا۔ وہ سٹپٹا گئی پھر تنک کر بولی۔۔
“آپ یوں مجھے خاموش نہیں کروا سکتے کیا ضرورت تھی ایسا شوٹ کروانے کی۔ لڑکیاں پاگل ہوئی ہیں خیر وہ تو ہیں ہی پاگل،گدھی، اللّه کرے اندھی ہوجائیں!!”
نتھنے پھلاتی وہ ٹکا کر بولی تیز تیز بولنے سے سانس پھولنے لگا تھا۔ عرش نے ایک ہاتھ دیوار پر رکھا وہ جھکا تھا۔۔
“تم پوزیسو ہو رہی ہو!”
اس کے کان کے قریب بھاری سرگوشی کرگیا۔ ایرا نے پہلی بار گھبرا کر آنکھیں میچیں پھر ہمت کر کی بولی۔۔
“نہیں میں غصہ ہو رہی ہوں بس اور ذرا دور ہو کر بات کریں ورنہ میں ماما کو بتاؤں گی!”
اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر دهكیلتی وہ اسے وارن کرتی بولی۔۔
نیلی آنکھوں نے بھوری آنکھوں میں دیکھا تھا۔ وہ مسمرائیز ہوا تھا۔۔ گھنی سیاہ بڑی بڑی پلکوں کی چھاؤں میں جھلکتی نیلی کانچ سی آنکھیں اس کے دل میں کھب سی گئی تھیں۔۔
“تم جیلس ہو رہی ہو؟”
اس کے ایک ایک نقش کو غور سے دیکھتا سینے پر دھرے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس کی پشت سے لگا گیا۔۔
“نن۔۔نہیں آپ شوہر ہیں میرے تو مجھے اچھا تھوڑی لگے گا کہ اور لڑکیاں میرے شوہر پر نظر۔۔”
اس کی گہری بولتی نظروں کو دیکھتی وہ چپ ہوئی تھی دل زوروں سے دھڑکنے لگا تھا۔۔
وہ ذرا سا مسکرایا تھا۔۔ اف۔۔۔! کس قدر پیارا لگتا تھا وہ مسکراتے ہوئے۔۔۔!
“شوہر کا مطلب سمجھتی ہو؟ بڑا گہرا تعلق ہے!!”
درميانی فاصلہ کم کرتے وہ اس کا چہرہ بلند کر گیا۔ ایرا کی آنکھیں پھیلیں یہ کیا ہوگیا تھا اچانک اسے!
“مجھے نہیں پتہ۔۔ آپ ۔۔کیا ۔۔کہہ رہے ہیں، آپ نے کہا تھا ‘مجھے بھائی کہا تو منہ توڑ دوں گا’ اس لیے میں نے شوہر کہا!!”
وہ حلق تر کرتی اپنی صفائی میں بولی وہ تو الٹا خود ہی پھنس گئی تھی۔۔
“یوں مت کرو۔۔ میرا دل۔۔ بہک رہا ہے!!”
اس کے معصوم گهبرائے سے چہرے کو دیکھتا وہ خود پر اختیار کھونے لگا تھا۔۔
ایرا کی پیشانی نم ہوئی گهبرائی نظروں سے اس کی بوجھل آنکھوں میں دیکھتے اس نے سوکھے لبوں کو تر کیا اور یہیں۔۔
اس کے ضبط کا دامن چھوٹا تھا۔ وہ بےاختیار جھکتا اس کی سانسیں روک گیا۔۔!
🍂🍂🍂
جاری ہے!!!
