Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34 (part 2)

دروازہ کھول کر وه اندر آیا تو وه بلینکٹ میں دبکی شاید سو رہی تھی۔ کمرے کی بتی بھی گل تھی بس لیمپ کی ہلکی سی روشنی تھی ۔۔ گردن پر دیے اسکے زخم پر ہاتھ رکھتا وه چینج کرنے کے لیے واش روم گھس گیا۔۔
واپس آیا تو اسی گرے ٹی شرٹ میں تھا۔ اسے بےچینی سی محسوس ہوئی سر جھٹکتا وه اپنی سائیڈ لیٹ گیا۔ اس نے اسکی جانب کروٹ لی جو آج اس سے ہرگز نہیں بچنے والی تھی۔۔
چند پل وه یونہی لیٹا رہا پھر پشت پر کھجلی سی ہوئی۔ وه فٹ سے اٹھ بیٹھا اس نے زور زور سے كهجانا شروع کردیا۔ یوں لگتا تھا چینٹیاں کاٹ رہی ہوں۔۔!
ارشیہ مسکراہٹ دبائے سانس روکے لیٹی تھی۔ اسکی مسکراہٹ تب سمٹی جب بدر ہلکا سا کراہا وه فٹ سے اٹھ بیٹھی۔
بدر نے شرٹ اتار کر غصے سے دور پھینکی ارشیہ نے دیکھا اسکی چوڑی پشت سرخ ہورہی تھی بعض جگہوں پر زور زور سے كهجانے کے باعث زخم سے بن گئے تھے۔۔
“یہ کیا تماشہ ہے؟ چھوٹی بچی ہو تم۔۔؟”
سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا وه گرجا تھا۔ جسم میں ٹیسیں سی اٹھنے لگی تھیں لب بھینچتا وه اٹھنے لگا جب وه اٹھ کر اسکے پاس آئی ۔
“آئی ایم سوری بدر میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا “
ٹیبل سے ٹشو اٹھا کر لاتی وه مدهم آواز میں گویا ہوئی وه حقیقتاً شرمندہ لگ رہی تھی۔۔
“نہیں چاہیے مجھے تمہاری کوئی مدد ۔ بہت برا لگتا ہوں نہ میں تمہیں؟ زبردستی شادی کرلی، ہزار طریقوں سے پریشان کرتی ہو مجھے ۔ تم تو چاہتی ہوگی کہ میں مر جاؤں تا کہ تمہاری جان چھوٹے۔۔!”
تلخی سے کہتا وه اٹھا تھا۔ ٹشو کا ڈھیر دبوچ کر وه ہاتھ پشت پر لے گیا۔
“اب تم زیادہ بول رہے ہو میں نے کہا نہ سوری۔۔!!!”
وه خفا ہوئی تھی اسکے یوں تلخ ہونے پر اسکا یہ انداز اسے اچھا نہیں لگا تھا۔
” میں کرتی ہوں ۔۔!!”
وه فکرمندی سے کہتی آگے ہوئی جب وه ہاتھ اٹھا کر سخت نظروں سے اسے دیکھتا واش روم چلا گیا۔
وه اپنی جگہ کھڑی رہ گئی پہلا بھی اکثر وه یونہی لڑتے رہتے تھے وه اس پر غصہ ہوتا تھا وه اس پر چلاتی تھی پھر سب نارمل ہوجاتا تھا لیکن آج ان سرمئی آنکھوں میں بےپناہ خفگی اور بیزاری اسے چبھی سی تھی۔۔
اس کی نیلی آنکھیں جھلملائیں جس پر وه حیران ہوئی اس نے سر جھٹکتے نمی اندر دهكیلی۔ کچھ پلوں بعد وه شاور لے کر باہر آیا اسے وہیں جما دیکھ کر وه نظر انداز کرتا بیڈ تک آیا اور اپنی سائیڈ پر اوندھا لیٹ گیا۔
اسے جلن سی جلن محسوس ہورہی تھی پشت پر جس کے باعث سردی کا احساس بھی کہیں کھو گیا تھا۔ بغیر بلینکٹ کے شرٹ لیس وه اوندھا لیٹا تھا۔
چند پل وه وہیں کھڑی اسکی چوڑی پشت کو دیکھنے لگی جہاں جا بجا سرخ دهبے سے واضح ہورہے تھے۔ اس نے کبرڈ کے نچلے خانے سے فرسٹ ایڈ باكس نکالا اندر سے ایک ٹیوب نکال کر وه لب کاٹتی اس کے پاس آئی۔
دوسری جانب اسکے قریب بیٹھتے اس نے ٹیوب کا ڈھکن کھولا اور انگلی کی پور پر لگاتی نرمی سے ان نشانوں پر لگانے لگی جو اسکی حرکت کا نتیجہ تھے۔
بدر نے کوئی حرکت نہیں کی وه چپ چاپ لیٹا اس کے لمس کو محسوس کرتا رہا۔ ٹیوب اپنا اثر دکھا رہی تھی جس سے اسے جلن میں کمی ہوتی محسوس ہوئی۔
دوسری جانب ارشیہ عجیب سے احساسات میں گھری تھی خود کو نارمل رکھتی وه ٹیوب کا ڈھکن بند کر کے اٹھی۔ ہاتھ دھو کر وه واپس آئی اور لائٹ بند کر کے اسکے پاس ہی نیم دراز ہوگئی چند پل وه اسکے بولنے کا انتظار کرتی رہی وه جانتی تھی وه جاگ رہا تھا۔
“بدر ۔۔۔۔۔؟” اس نے پکارا مگر جواب ندارد ۔ اس لمحے اسے پتہ نہیں کیا ہوا کہ جھک کر وه اسکے گرد بازو حائل کرتی پشت سے اسکے گلے لگ گئی۔۔
بدر نے ایک پل کو آنکھیں میچی تھیں آخر یہ لڑکی چاہتی کیا تھی۔۔؟ اگر اسکا موڈ نارمل ہوتا تو اسکی پیش قدمی پر وه بےحد خوش ہوتا لیکن ابھی ناراضگی بھی تو قائم ركهنی تھی اور جو حرکت اس نے کی تھی اس پر ناراض ہونا بنتا بھی تھا۔
“تم اس طرح ناراض تو مت ہو ۔۔ آئی ایم ریلی سوری، تم کتنے بھی بدتمیز ہو لیکن مجھے خود سے جھگڑتے ہی اچھے لگتے ہو۔۔!”
اس کے کان میں سرگوشی کرتی وه منہ بنا گئی تھی۔۔
وه ہولے سے مسکرا دیا۔ تو اسکا دل بھی پگھلنے لگا تھا۔۔؟ وه بیڈ پر کہنیاں جما تا اٹھا تو وه بھی اس کے ساتھ ہی اوپر کو آ گئی اس سے پہلے وه گرتی…
بدر نے ہاتھ بڑھا کر اسے خود کے سامنے کیا وه جیسے چھوٹی بچی کی طرح آرام سے اسکے سامنے کھنچی چلی آئی۔ ارشیہ نے اسے دور نہیں جھٹکا تھا وه نظریں جھکاتی خاموش سی بیٹھی تھی۔
“آئیندہ ایسی حرکت کرو گی۔۔؟”
اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا وه بلینکٹ اس پر ٹھیک کرنے لگا یوں ارشیہ کی پشت بلینکٹ سے ڈھک چکی تھی۔
” نہیں کروں گی سوری ۔۔!!”
وه نفی میں سر ہلا گئی۔ اسکا یہ انداز بدر کے لیے بلکل نیا تھا وه دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا جو اسکی گود میں بیٹھی کوئی بچی لگ رہی تھی۔
” تم شرٹ پہن لو ٹھنڈ لگ جائے گی۔۔!”
بال کان کے پیچھے اڑستی وه اٹھنے لگی جب بدر نے لب دباتے اسے دیکھا پھر بظاہر سنجیدگی سے بولا۔۔
” کیا دوسری شرٹس میں بھی۔۔؟”
وه اب کہ بے حد خفا ہوئی، اٹھ کر کبرڈ سے شرٹ لاتی وه اسکے قریب رکھتی اپنی سائیڈ جا کر لیٹ گئی۔ وه شرٹ پہن کر اسکی جانب کھسکتا اسکے گرد بازو حائل کر گیا جو دوسری جانب کروٹ لیے ہوئے تھی۔
” اچھا اب ناراض تو مت ہو۔۔!”
اسکی آواز نیند کی وجہ سے مزید بھاری ہونے لگی تھی۔
” بدر ۔۔۔تم نے کوئی فضول حرکت کی نہ تو میں اب سچ میں تمہیں مار*وں گی۔۔!”
خفگی سے پیٹ پر رینگتے اسکے ہاتھ پر تھپڑ مارتی وه منہ کے زاویے بگاڑتی آنکھیں موند گئی۔
” اونہوں ۔۔۔ اسکا حساب کون دے گا جو کل تم نے کیا۔۔؟”
اسکا اشارہ گردن کی جانب تھا۔ ارشیہ کے لبوں پر اب کہ مسکراہٹ پھوٹی۔
” وه تمہاری سزا تھی۔۔۔!”
بولتے ہوئے اسکی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگی تھیں۔ بدر نے اس کی دهیمی ہوتی آواز کو محسوس کیا تھا۔
“ایسی حسین سزا میں روز چاہتا ہوں۔۔۔!!!”
بھاری مدهم آواز میں کہتا وه خود بھی آنکھیں موند گیا۔
❤❤❤❤
قریشی برانڈ کی جانب سے دی جانے والی پارٹی اس وقت عروج پر تھی۔ ملک کے ٹاپ ماڈلز اور ایکٹرز نے اس پارٹی میں شرکت کی تھی۔
ہال جیسے طرح طرح کے رنگ و بو میں نہا سا گیا تھا۔ ماڈرن طرز کی موسیقی کے سر چاروں جانب بکھرے پڑے تھے۔ ہلکی ہلکی آواز میں محو گفتگو وه سب ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔
انہی لوگوں کے بیچ وه سافٹ ڈرنک کا گلاس دو انگلیوں میں دبائے گرے چیک تھری پیس میں ملبوس سب کا مرکزِ نگاہ بنا کھڑا تھا۔
اسکا “نو لفٹ” اور “گو ٹو ہیل” ایٹیٹیوڈ اسے سب میں نمایاں بناتا تھا۔ ترچھے کٹ والے ابرو کو اچکاتا وه مقابل کھڑی فی میل ماڈل کی جانب متوجہ تھا جو ابھی آ کر اس سے مخاطب ہوئی تھی۔
سلیو لیس گاؤن میں نیم برہنہ وه تیکھے لہجے میں اس سے کچھ کہہ رہی تھی۔ عرش نے چہرہ دوسری جانب پھیرتے سوفٹ ڈرنک کا گھونٹ بھرا۔
یوں چہرہ پھیرنے سے تیز چمکتی روشنیاں اسکے کان میں موجود سیاہ ٹاپس سے ٹکرائی تھیں جو مزید چمک اٹھا تھا۔ عرش نے کوٹ کے نیچے چھپے “عقاب کی آنکھ” والے پینڈنٹ کو چھو کر محسوس کیا۔
وه اسکی جانب متوجہ ہوتا تیكها سا مسکرایا کسی حد تک طنزیہ مسکراہٹ تھی وه لیکن انٹرنس سے داخل ہوتی ایرا کو وه مسکراہٹ بس مسکراہٹ لگی تھی، خواہ وه طنزیہ تھی یا تیكهی۔۔۔!
وه ماڈل اپنی بات کے جواب میں اسے یوں طنزیہ مسکراتے دیکھ کر تپ کر کچھ کہتی جب اسکی نگاہ ایرا پر پڑی۔
” وه تمہاری وائف ہے نہ۔۔۔؟ لکنگ ہاٹ۔۔۔!!!”
تمسخر سے کہتی وه واک آؤٹ کر گئی۔ عرش نے سیكنڈ کی دیر کیے بغیر پلٹ کر دیکھا تو وہی تھی جو ہاف سلیوز گولڈن نیٹ کی میكسی میں لمبے بالوں کا سٹائلش سا جوڑا بنائے دوپٹے سے بےنیاز اندر آ رہی تھی۔ ہاف سلیوز سے جھانکتے اس کے دودھیا بازو دمک رہے تھے۔
عرش نے سختی سے جبڑے بھینچے ایک فارنر کو ایرا کی جانب بڑھتے دیکھ کر وه لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس تک پہنچا۔
” ہائے بیوٹیفل مے وی ڈانس۔۔؟ “
اسکا کہنا تھا کہ عرش نے قریب گزرتے ویٹر کو گلاس تھمایا اور اس فارنر کو دور جھٹکا۔
“شی از ود می۔۔!!”
سرد لہجے میں کہتا وه ایرا کا بازو زور سے دبوچتا واپسی کے لیے نکلا۔
“عرش چھوڑیں مجھے، مجھے واپس نہیں جانا۔۔۔!!”
اسکی سخت انگلیاں اسے اپنے بازو میں گھستی محسوس ہوئی تھیں سختی سے لب بھینچتی وه سلگ کر بولی تھی۔۔
عرش نے رک کر کوٹ اتارا اس پر پھیلا کر وه پارکنگ ایریا کی طرف آیا وه مسلسل خود کو اسکی آہنی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی جب عرش نے اسے بیک سیٹ پر پٹخا۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر ریش ڈرائیونگ کرتا وه گھر پہنچا اسکا دماغ غصے سے پھٹا جارہا تھا۔ اسکی جانب کا دروازه کھولتا وه بغیر کسی کی نظر میں آئے اسے گھسیٹتا ہوا کمرے میں لے آیا۔
اسے زور سے جھٹکتے وه دروازہ بند کرنے کے لیے پلٹا۔ وه جو اسکی بےرحم گرفت پر ہچکیاں بھر رہی تھی اسکے یوں جھٹکنے پر وه لڑکھڑا گئی۔
” کیوں آئی تم وہاں جب میں نے منع کیا تھا۔۔ مل گیا سکون اپنی نمائش کروا کر۔۔!! “
اسکے مقابل آتا وه حلق کے بل چلایا تھا اس کی آنکھیں خطرناک حد تک سرخ ہوچکی جن کے گوشے جیسے سوجھ گئے تھے۔
ایرا نے بےيقینی سے اسے دیکھا اسکے لب پھڑپھڑائے تھے آنکھوں میں نمكین پانی جمع ہوا تھا جس نے آنکھوں کو شدید جلن زدہ کیا تھا۔
وه چند قدم آگے آئی تھی پھر اسکا ہاتھ اٹھا تھا اس نے رکھ کر ایک تھپڑ پوری قوت سے اسکے گال پر مارا اسکے ہاتھ لرز رہے تھے لرز تو وه خود بھی رہی تھی ۔۔۔۔! غصے سے، تکلیف سے۔۔۔!!!
” آپ کی وجہ سے کیا تھا یہ سب۔۔ یہ یہ آپ نے مجبور کیا۔۔۔!”
وه کان سے ایئر رنگز نوچتی پوری قوت سے چلائی تھی۔
” دوسری عورتوں کے لیے وقت ہے آپ کے پاس صرف میرے لیے نہیں ۔۔؟ شرم محسوس ہوتی ہے نہ آپ کو میرے ساتھ کہیں جاتے؟”
اس نے نوچ کر جوڑا کھولا تھا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا اور سرخ تھا تکلیف سی تکلیف رگ و پے میں سرائیت کرتی محسوس ہورہی تھی۔
” کیسے اس بےشرم لڑکی سے مسکرا کر بات کر رہے تھے بیوی سے کبھی یوں بات کی ہے؟ میں نمائش کروانے گئی تھی؟ ہاں صحیح کہا میں نمائش ہی کروانے گئی تھی خوشی ہوتی ہے مجھے جب غیر مرد مجھے ۔۔۔۔۔”
” ایرا ۔۔۔!!!” وه بال نوچتی بلند آواز میں روتی آپے سے باہر ہونے لگی تھی جب عرش زور سے گرجا تھا۔۔
اسکا ہاتھ اٹھا تھا جسے سختی سے مٹھی بناتا وه فورا کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔۔
وه وہیں بیٹھتی ہچکیوں سے رونے لگی روتے روتے وه اچانک اٹھی تھی ڈریسنگ روم میں آ کر اس نے جلدی سے سادہ کپڑے پہنے۔۔
جلدی سے میک اپ صاف کرتی وه شال لپیٹ کر باہر آئی اس کا دل درد سے پھٹا جارہا تھا وه کیسے کہہ سکتا تھا اتنے سخت الفاظ ۔۔ کیا وه اتنی خراب لڑکی تھی۔۔۔؟
“میں بہت بری ہوں نہ مجھے نہیں رہنا یہاں میں سب کو تنگ کرتی ہوں میں سب سے دور چلی جاؤں گی۔۔۔!”
سسکیاں لیتی وه زور سے گال رگڑتی باہر آئی۔ لان سے گزر کر وه گیٹ کی طرف آئی جب گارڈ چونک کر اسے دیکھنے لگا۔
“بی بی آپ اس وقت باہر نہیں جا سکتیں ۔۔!!”
سر جھکائے وه مؤدب سا بولا تھا۔
” تم روک سکتے ہو مجھے؟؟ ۔۔
ایرا نے سرد نظروں سے اسے دیکھا تن فن کرتی وه آگے بڑھ گئی ۔۔ اسکے جاتے ہی وه بوکھلا گیا اب کیا کرے۔۔؟ اس نے جلدی سے عرش کا نمبر ڈائل کیا تھا۔
❤❤❤❤
وه بغیر سوچے سمجھے چلتی جا رہی تھی اتنی ٹھنڈ میں وه محض ایک چادر میں تھی اسکا چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔۔!
سنسان گلیوں سے گزرتی وه تاریک خاموش سڑک پر نکل آئی تھی۔ یکایک اسکے سامنے ایک پستہ قد شخص آ گیا جو اپنے پیروں پر ڈھنگ سے کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا وہ کوئی شرابی تھا جو نشے میں لت پت اسے دیکھ کر اسکی جانب چلا آیا تھا۔۔
اس نے بھونڈا سا قہقہہ لگایا پھر اچانک اسکا بازو پکڑ لیا۔ وه ایک پل کو دہل گئی سوکھا حلق تر کرتے اس نے زور سے اسے دھکا دیا اور دوسری جانب دوڑ لگا دی۔۔
بھاگتی ہوئی وه بہت دور نکل آئی تھی۔ جب اسکے قدم تھمے تو اس نے اپنے آپ کو ایک ڈھابے کے سامنے پایا جو بند تھا۔ وہاں ایک بلب روشن تھا جس کے نیچے شکستہ سی چارپائی بچھی ہوئی تھی۔
تاریک رات میں اسکی سسکیاں گونجنے لگی تھیں ویران سڑک پر اچانک قدموں کی چاپ ابھری وه اپنی جگہ جم سی گئی تھی۔
” گھر چلو ۔۔۔!!! “
اسکی مدهم آواز نے سکوت میں خلل ڈالا تھا۔ وه پلٹ کر سرد نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
“اب کیوں آئے ہیں یہاں ۔۔؟ جائیں ۔۔۔! میں تو ہوں ہی گھٹیا غلیظ لڑکی ۔۔۔!”
وه تلخی سے بولی تھی نیلی آنکھیں رو رو کر سوجھ چکی تھیں۔۔۔! وه لب بھینچتا خاموشی سے اسکی طرف قدم قدم آنے لگا۔
“اب کیوں آ رہے ہیں میرے پاس ۔۔ دور ۔۔ دور رہیں ۔۔ آپ بھی گندے ہوجائیں گے۔۔!”
اسکے گلے میں آنسوؤں کا پھندا اٹکا تھا۔ عرش اس سے چند انچ کے فاصلے پر رک گیا اس کی نم آنکھیں دیکھ کر وه ساکت ہوئی تھی۔۔
وه اچانک جھکا تھا اسکے لبوں کو شدت سے بھینچتا وه اپنی بےچینی ظاہر کر رہا تھا وه تکلیف وه خوف جو اسے کھونے کے احساس پر اس نے محسوس کیا تھا۔۔
وه آنسو بہاتی اسکے سینے پر زور سے ہاتھ مارنے لگی کئی لمحات آئے اور گزر گئے وه اسکے سر تلے ہاتھ رکھے اس پر شدتیں لٹا رہا تھا۔۔۔.! دل تھا کہ بھر ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔! اس کا احساس کرتے وه پیچھے ہٹا ۔۔
” گھر چلیں ۔۔۔؟”
وه نرمی سے بولا تھا اسکے نرم لہجے پر ایرا کی آنکھیں پھر سے بھر آئیں۔۔
“مجھے نہیں جانا ۔۔۔!”
شوں شوں کرتی وه ڈھابے کے باہر بچھی چارپائی پر بیٹھ گئی۔۔ وه گہری سانس لے کر ٹھوڑی مسلتا اسکے برابر بیٹھ گیا۔۔
“آئی ایم سوری ۔۔!!!” اس نے جھک کر ایرا کا گال چوما۔۔
“مجھے ہرٹ کیا۔۔۔!” وه سسک اٹھی تھی۔۔
“آئی ایم سوری ۔۔۔!!” وه دوبارہ جھکا تھا اسکے دوسرے گال پر۔۔
” میں ۔۔ مجھے بیڈ ورڈز بولے ۔۔۔!!!” ہاتھ کی پشت سے آنکھیں صاف کرتی وه اس کا ایک اور قصور گنوا گئی۔۔
“تمہیں میری آنکھوں پر ترس نہیں آتا ۔۔۔؟”
مدھم لہجے میں کہتا وه اسکی آنکھوں پر لب رکھ کر پیچھے ہٹا۔۔
” تمہارے بالوں پر کسی کی نظر مجھے برداشت نہیں، پھر تمہارے وجود پر کس طرح برداشت کرتا۔۔۔؟ تم مجھ تک محدود ہو صرف میرا حق ہے تمہیں دیکھنے کا۔۔۔! یوں سب کے سامنے آ کر تم نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔۔!”
وه نرم لہجے میں اسے اسکی خطا بتا رہا تھا۔۔
“پھر بھی آپ کی غلطی ہے ۔۔۔!”
خفگی سے کہتی وه سارا ملبہ اس پر ڈال گئی عرش نے اس اعزاز پر سر کو خم دیا کسی کو خاطر میں نہ لانے والا عرشمان شاہ بیوی کو منانے کی تگ و دو میں مصروف اسکا ہر الزام دل و جاں سے قبول کر رہا تھا۔۔
“بلکل ۔۔۔تم نے مجھے تھپڑ مارا ،، کوئ بات نہیں میرا قصور تھا۔۔! اور کچھ۔۔۔؟”
کیا سخی انداز تھا ۔۔ اگر کسی اور نے عرش شاہ پر ہاتھ اٹھایا ہوتا تو اسکا ہاتھ تن سے جدا ہوتا لیکن یہاں بات ہی کچھ اور تھی۔۔!
یہ ایسے لمحات تھے، ایسے احساسات تھے جہاں تن من جھک جاتا ہے۔۔۔۔!
” اب چلیں یا یہیں رات گزارنے کا ارادہ ہے؟ سردیوں کی تاریک رات۔۔! نگاہ یار ، خاموش الفاظ مگر بولتے احساسات ۔۔! اہمم کوئی چاہے تو یہیں ٹھہر جاتے ہیں۔۔!!!”
وه ترچھی نظر اس پر ڈالتا لاپرواہ انداز میں گویا ہوا جس پر وه خفا سی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“لوگ تو یوں بنے بیٹھے ہیں جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔۔!”
نیلی آنکھیں گھماتی وه قدم آگے بڑھا گئی وه الگ بات اسے راستہ نہیں معلوم تھا ۔۔ ہاں ہم سفر تو موجود تھا ۔۔!
وه بھی ہولے سے ہنستا اٹھ کھڑا ہوا آج کی رات بد ترین تھی اتنی ہی بہترین ۔۔۔! فرق تھا بس لمحات کا، وقت کے اوقات کا۔۔!
جیکٹ اتار کر اس نے اپنی چھوٹی سی ناراض بیوی کے کاندھوں پر پھیلا دی۔۔۔!
“کچھ تو کہو ۔۔۔!”
اسکے ساتھ چلتا سر اسکی جانب جھکا کر کہتا وه لب دبا گیا۔۔ اسکی توقع کے مطابق وه چڑ گئی ۔۔
” میرا سر ۔۔۔۔!! ” وه تیز تیز چلنے لگی تھی۔۔
” کیا ۔۔؟ دماغ کی کمی ہے تمہارے سر میں ؟ اچھا۔۔۔!”
اس نے پیچھے سے ہانک لگائی دونوں کی آواز یں مدهم ہوتی جا رہی تھیں۔