Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

کچن میں کھڑی وه نگہت سے گپ شپ لگا رہی تھی جب عرش کو اس نے کمرے کی طرف جاتے دیکھا۔۔
سردیوں کی سنہری دوپہر آج طلوع ہوئی تھی جس سے موسم کی یخ بستگی میں ٹھہراؤ سا در آیا تھا۔۔
گھر کے کچھ افراد لان میں بیٹھے دھوپ کی تمازت سے حظ اٹھا رہے تھے تو کچھ اپنے معمول کے کاموں میں مشغول تھے۔۔ وه کچن سے باہر آتی اس کے پیچھے چلی آئی۔۔
“یہ کیا ہے۔۔؟”
اسکی نظر عرش کے ہاتھ میں موجود باکس پر پڑی جسے خوبصورتی سے ننھے نگینوں ہے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔ “پارٹی انویٹیشن ہے۔۔۔! “
لاپرواہ انداز میں کہتا وه باكس کو بیڈ پر پھینکتا فریش ہونے چلا گیا۔۔
وه صبح سویرے ہی کسی کام سے نکل گیا تھا ایک تو اس کے یہ کام باقی گھر والوں کی سمجھ سے باہر تھے۔۔۔!
وه بیڈ پر بیٹھتی باکس کھول کر دیکھنے لگی پتہ نہیں اسکے دل میں کیا آن سمائی کہ وه اچانک سے اٹھی۔۔ ادھر ادھر ٹہلتی وه اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی جونہی وه فریش سا باہر نکلا وه لپک کر اس تک آئی۔۔
“عرش ۔۔۔۔!!!”
اس کے مقابل آتی اسکے ہاتھ سے ٹاول لے کر وه اسے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس لے آئی۔۔ سٹول پر چڑھتی وه اسکے بال خشک کرتی نہایت پیار سے بولی۔۔
وه چپ چاپ گہری نظروں سے اسکی مہربانیاں دیکھ رہا تھا۔۔ ڈارک گرین ویلوٹ کی كیپری شرٹ کے ہمراہ کاندھوں پر شال پھیلائے بالوں کا ڈھیا سا جوڑا بنائے وه ہمیشہ سے زیادہ حسین لگی تھی۔۔!
یا پھر اسکے چہرے پر وه الوہی چمک تھی جس نے اسے مزید نكهار بخشا تھا۔۔
“ہممم۔۔۔۔؟؟”
اسکی پکار کا جواب دیتے اپنے بالوں سے اسکے ہاتھ ہٹا کر اس نے چہرے پر رکھے جسے سمجھ کر ایرا نے نرمی سے اسکا چہرہ خشک کیا۔۔
اسکی گیلی پلکوں کو انگلی کی پور سے چھوتی وه جلدی سے سٹول سے نیچے اتری۔۔
وه دل تھامے نرم گرم نگاہوں سے اسے تک رہا تھا جس کی بےوقوفیوں پر پہلے وه چڑ جاتا تھا اب اسکی ہر ادا اچھی لگنے لگی تھی۔۔
“عرش ۔۔۔۔۔ مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے اس پارٹی پر،، پلیز۔۔۔۔!”
جلدی سے پلکیں جھپكتی وه التجائیہ لہجے میں بولی۔۔ عرش کا چہرہ سنجیدہ ہوا وه حتی الامکان نرم لہجے میں اس سے کہنے لگا۔۔
“یہاں نہیں ۔۔۔ پھر کبھی کہیں اور جائیں گے،، اوکے۔۔۔!”
اسکا گال دو انگلیوں سے چھوتا وه بالوں میں ہاتھ پھیرتا موبائل اٹھا کر روم سے باہر چلا گیا۔۔ وه غصے سے پیر پٹختی دهپ سے سٹول پر بیٹھ گئی۔۔
کتنا جی چاہ رہا تھا اسکا ،، کتنا وقت ہوا وه کہیں بھی آؤٹنگ پر بھی نہیں گئی تھی کتنا کچھ ہو چکا تھا اسکی زندگی میں ۔۔ ہنسی خوشی وه خود کو ایڈجسٹ کر رہی تھی نہ ۔۔
اگر آج ایک خواہش کر ہی دی تھی تو کیا ہوجاتا۔۔ اگر وه مان جاتے۔۔! ان دونوں کو انوائٹ کیا گیا تھا تبھی تو وه بولی تھی ۔۔ اسکی نیلی آنکھوں کے کانچ پل میں دھندلائے۔۔
“ٹھیک ہے آپ نہ لے کر جائیں ویسے بھی مجھ جیسی لڑکی کے ساتھ جا کر آپ کو شرم محسوس ہوگی نہ ۔۔ لیکن اب میری بھی ضد ہے میں ضرور جاؤں گی چاہے تنہا جانا پڑے۔۔!”
بےدردی سے آنسو صاف کرتی وه خودسری سے بولی تھی۔۔
🌷🌷🌷🌷
“ایرا۔۔؟ کیا ہوا میری جان ۔۔۔؟ ارے تم رو رہی ہو۔۔۔؟”
ارشیہ لاؤنج سے گزرتی باہر جا رہی تھی جب اسے روتے ہوئے دوسری منزل پر جاتے دیکھ کر وه شدید پریشان ہوئی۔۔ وه پل میں اس تک پہنچی تھی۔۔ ایرا نے جلدی سے آنسو پونچھے۔۔
“کچھ نہیں ہوا آپی ۔۔ وه بس ماما کی بہت یاد آ رہی ہے۔۔!”
کہتے ساتھ وه پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ کسی بھی غم میں اللّه کے بعد ماں ہی یاد آتی ہے۔۔!
“میری جان بس ۔۔۔ رونے والی کیا بات ہے میں لے جاتی ہوں تمہیں ماما کے پاس۔۔ جاؤ شاباش فریش ہو کر آؤ میں تب تک میں پھوپھو جان سے پوچھ لیتی ہوں۔۔۔!”
اسکے آنسو صاف کرتی وه پیار سے اسے ڈپٹ کر بولی۔۔ ایرا نے سر ہلایا ۔۔
“میں آتی ہوں ۔۔۔!”
سوجھی آنکھیں پونچھتی وه سوں سوں کرتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔ ارشیہ نے آنکھیں سكیڑتے اسکی پشت کو دیکھا۔۔ “کیا اس کے اور عرش کے درمیان سب ٹھیک ہے۔۔۔؟”
تفکر سے سوچتی وه سیڑھياں اترنے لگی ۔۔
🌷🌷🌷
سیاہ سکارف سر پر اوڑھے سادہ سے لباس میں وه قبرستان میں داخل ہوئی۔۔ بھاری قدم اٹھاتی وه ایک قبر کے سامنے آ ٹھہری۔۔ چند پل وه نمناک آنکھوں سے قبر کے سرہانے لگی تختی دیکھتی رہی۔۔ ہری کانچ سی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں۔۔
آہستہ سے وه قبر کے پاس پنجوں کے بل بیٹھ گئی۔۔
“بابا۔۔۔!” جامد سناٹے میں ہلکی سی سرگوشی بلند ہوئی۔۔
“آئی ایم سوری فار ایوری مس بیہیوئیر آئی ڈِڈ ۔۔”
وه سسکنے لگی تھی۔۔
“غزل۔۔۔؟” اسکی پشت کی جانب سے بھاری مردانہ آواز ابھری۔۔ وه اسکے کچھ فاصلے پر آ کر رک گیا۔۔ غزل نے پلٹ کر دیکھا وه چہرے پر گہری سنجیدگی لیے لب بھینچے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔
“حاوز۔۔۔۔؟ بابا ۔۔۔!”
اسے اپنے برابر پنجوں کے بل بیٹھتے دیکھ کر وه منہ پر ہاتھ رکھے سسکنے لگی تھی۔۔ وه ناراض تھی ان سے،، اسکی یہ سزا دی انہوں نے کہ اسے تنہا کر دیا ۔۔۔!
ایک آرمی آپریشن لیڈ کرتے وه جاں بحق ہوگئے تھے۔۔! اسے جیسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اسکے بابا اب نہیں رہے۔۔۔! صالح نے اسکا سر تھپکا۔۔
” صبر آتے آتے ہی آئے گا۔۔! حوصلہ رکھو ۔۔۔! تم کمزور نہیں ہو ۔۔۔! آؤ شام ڈھل رہی ہے ۔۔ کہیں بیٹھتے ہیں مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے۔۔۔! “
وه اٹھ کھڑا ہوا تو بھی وه وہیں بیٹھی رہی۔۔ صالح نے گہری سانس لیتے ہاتھ اسکے آگے کیا جس پر وه نفی میں سر ہلاتی شرٹ کی آستین سے آنکھیں پونچھتی اٹھی۔۔
“مجھے تمہارے سہارے کی ضرورت نہ پہلے تھی نہ اب ہے۔۔۔!” جھکی نظریں اٹھا کر اسے باور کرواتی وه پہلے سے بہتر لگی تھی۔۔ کچھ سکنڈز بعد وه قبرستان سے باہر جاتے نظر آ رہے تھے۔۔
🌷🌷🌷🌷
“کیا کہنا تھا تمہیں۔۔۔؟”
ایک چھوٹے سے ہوٹل میں اس کے مقابل بیٹھتی وه سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“تم شادی کرلو۔۔۔!”
گلا کھنکارتا وه ارد گرد دیکھتا دو ٹوک انداز میں بولا۔۔ اس کے ڈائریکٹ کہنے پر وه حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی کیا اسکا دماغ خراب ہوگیا تھا۔۔؟
“تم ۔۔۔۔ ایسا کیسے کہہ سکتے ہو۔۔۔؟”
وه دانت پیستی تیكهی نظروں سے اسے دیکھتی بولی تھی۔۔ وه اس موقع پر ایسی بات بھی کیسے کر سکتا تھا۔۔
“کہہ سکتا ہوں۔۔۔ بی پریکٹیکل ۔۔۔ تمہیں کبھی نہ کبھی تو شادی کرنی ہی ہے نہ ۔۔ اہمم۔۔۔ دیکھو تم اب اکیلی ہو ۔۔! مجھے پرواہ ہے تمہاری ۔۔۔ میں چاہتا ہوں تم زندگی میں آگے بڑھ جاؤ۔۔۔!”
وه اب کہ اسکی طرف دیکھتا سنجیدگی سے بولا۔۔ وه اسکے اتنے اطمینان پر عش عش کر اٹھی۔۔
گلاس ٹیبل پر کہنیاں ٹکاتی وه چند پل لب بھینچے اسے دیکھنے لگی۔۔ جب بولی تو اسکا چہرہ سپاٹ تھا۔۔
“تم کرو گے مجھ سے شادی۔۔۔؟”
اسکے تیكهے انداز پر وه ایک دم سیدھا ہوا۔۔ اسکی بات پر صالح کا دماغ گھوم گیا۔۔
” تم ۔۔۔ میں تم سے بحث نہیں کرنا چاہتا۔۔۔!”
اس نے خود کو کچھ سخت کہنے سے روکا۔۔
“کیوں کرو نہ اب بحث ۔۔۔ پریکٹیکل ہورہی ہوں میں اب ۔۔ بابا نہیں رہے، آئی اکسیپٹیڈ ۔۔۔! شادی تو مجھے کرنی ہے ۔۔۔ واقعی ٹھیک کہہ رہے ہو ساری عمر تمہارا سوگ لے کر تھوڑی بیٹھی رہوں گی۔۔! لیکن مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی تمہیں اتنی فکر کیوں ہورہی ہے میری پہلے تو کبھی نہی ہوئی۔۔۔!”
تیز لہجے میں بولتی وه ہانپنے لگی تھی۔۔ ہری آنکھوں میں شفاف پانی جمع ہونے لگا تھا جو بصارت کو دهندلانے لگا تھا۔۔
“کیا ہونی چاہئے تھی۔۔۔؟”
مدهم لہجے میں کہتے اس نے منرل واٹر کی بوتل اسکی جانب بڑھائی۔۔ وه اس کی بات کا پس منظر سمجھ گئی لہذا خاموشی سے بوتل تھامتی گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگی۔۔
” ٹھیک ہے ۔۔ تم جانتے ہو تمہاری کیا اہمیت ہے میری زندگی میں میں تمہیں انکار نہیں کروں گی ۔۔ تم یونہی یہ بات نہیں کہو گے۔۔ کوئی پروپوزل لائے ہو۔۔۔؟”
اسکے صحیح اندازہ کرنے پر وه ذرا سا مسکرایا۔۔ غزل نے افسوس سے سر جھٹکا۔۔ میرا ہی دل جلاتا تھا یہ ۔۔۔ دیکھو تو اب کتنا بدل گیا ہے۔۔۔!
“ٹھیک ۔۔۔ تم چاہتی تھی تم مجھ سے رابطے میں رہو ایک دوست کی حیثیت سے۔۔ اب میں چاہتا ہوں تم ہمارے خاندان کا حصہ بن جاؤ۔۔۔!”
بهاپ اڑاتی کافی کے دو کپ ان کے سامنے دھرے جا چکے تھے۔۔ دھوئیں کے مرغولوں میں اسکا عکس دیکھتی وه اپنی جگہ تھم چکی تھی۔۔ دل زور سے دھڑکا تھا۔۔
“کس طرح۔۔۔؟”
کافی کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگاتے اس نے لبوں کی کپکپاہٹ چھپانے کی کوشش کی تھی۔۔
“تم حیان سے شادی کرلو۔۔۔!”
اس نے گویا دهماکہ کیا تھا غزل کے ہاتھ سے کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔۔
” وه ایس پی۔۔۔ ؟ تم ۔۔ تم پاگل ہوگئے ہو۔۔۔!! “
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کس طرح کا ردعمل دے۔۔ صالح نے کپ لبوں سے لگاتے گرم گرم کافی اندر اتاری۔۔ ٹشو سے لب تهپتهپاتے اس نے آنکھیں سكیڑیں۔۔
“کیوں کیا ہوا۔۔۔؟ تم جانتی تو ہو اسے ویسے بھی تمہیں وه بہت پسند ہے ۔۔۔ نہیں۔۔۔؟”
اب کہ کہتا وه سینے پر ہاتھ باندھ کر سکون سے اسے دیکھنے لگا۔۔ غزل نے ایک پل کو آنکھیں میچیں۔۔
” میں بس اسے تنگ کر رہی تھی ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔!”
وه سپاٹ لہجے میں بولی۔۔ صالح نے سر کو خم دیا۔۔
“سوچنا ضرور ۔۔۔ سب وہاں تمہیں چاہتے ہیں رہی بات حیان کی وه بہت کھرا بندہ ہے ۔۔۔ تمہیں خوش رکھے گا ۔۔ مجھے اچھا لگے گا اگر تمہارا جواب مثبت ہو ۔۔۔۔!”
وه اٹھ کھڑا ہوا تھا غزل کے ذہن میں ایک خیال سرعت سے ابھرا۔۔۔
“کیا اسے پتہ ہے یا وه راضی ہے۔۔۔؟”
وه بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔ ٹیبل سے موبائل اور پرس اٹھاتی وه لاپرواہ انداز میں بولی ۔۔
“یہی سمجھ لو ۔۔۔!”
کندھے اچکاتا وه چند نوٹ ٹیبل پر رکھ کر داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔۔ یہاں آنے سے قبل اس نے ماہ بیر سے بات کی تھی جسے کوئی اعتراض نہیں تھا ۔۔۔
حیان سے ماہ بیر صاف لفظوں میں پوچھ چکا تھا کہ اگر کوئی پسند ہے تو بتائے لیکن کوئی ہوتی تو بتاتا نہ ۔۔۔!
ایس پی صاحب نے یہ معاملہ بڑوں پر چھوڑ دیا تھا اس لیے وه مطمئن تھے۔۔۔
🌷🌷🌷🌷
وه اس وقت این جی او میں تھی۔۔ وه نور مقدم پر ڈاکومنٹری بنا رہی تھی اسے اوپر سے وارننگ دی گئی تھی کہ اس معاملے کو زیادہ نہ کریدے لیکن وه اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ “جان جائے مگر ایمان نہ جائے ” ۔۔۔
اسکی کولیگز نے بھی اسے بارہا سمجھایا لیکن وه سنی ان سنی کرتی اپنا فرض ادا کرنے میں مشغول رہی ۔۔ وه چاہتی تھی کہ مر*نے کے بعد جب اسے اٹھایا جائے تو وه سرخرو رہے ۔۔۔! اگر اسے اختیار دیا گیا تھا تو وه اسکا صحیح استعمال کرنے کی قائل تھی۔۔ ایک تھکا دینے والے دن کے بعد وه دهیمی ڈھلتی شام میں این جی او سے باہر نکلی۔۔ گاڑی میں بیٹھتے اس نے موبائل ڈیش بورڈ پر رکھا اور كیمره آن کر دیا۔۔ انگیشن میں چابی گھماتے اس نے کلچ پیڈل پر پیر رکھا۔۔ نارمل سپیڈ پر ڈرائیو کرتی وه كیمرے کی اوڑھ دیکھتی بولنے لگی تھی۔۔۔ ” اسلام علیکم ۔۔۔! میں رمل یوسف ہوں آپ میں سے کچھ لوگ مجھے جانتے ہوں گے اور کچھ نہیں۔۔ آج کل ایک ٹاپک بہت اٹھایا جا رہا ہے سوشل میڈیا پر ۔۔ نور مقدم کے کیس کا۔۔۔!!! میں جانتی ہوں آپ سب کو بےحد مایوسی ہوئی ہے کورٹ کے فیصلے پر۔۔! لیکن قدرت کا انصاف دیکھیں مجرم غائب ہیں ۔۔۔! کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ وه اچانک کہاں چلے گئے۔۔ سی ایم کا الزام ہے کہ مخالفوں نے ان کے بیٹے کو اغوا کرلیا ہے ۔۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہی سب کرنا ہوتا تو معاملہ کورٹ میں کیوں جاتا ۔۔۔؟ اب اصل بات کی طرف آتی ہوں آپ جانتے ہیں میں لوگوں کو انصاف دلانے پر یقین رکھتی ہوں ۔۔۔! ہائی کورٹ کے جج نے ایک غلط فیصلہ کیا ۔۔ سب ثبوتوں اور چشم دید گواہوں کے باوجود culprit کو سزا نہیں دی گئی۔۔ میں آپ تک وه حقیقت پہنچا رہی ہوں جو کوئی نہیں بتائے گا۔۔ جس دن کیس کی سنوائی تھی اسی دن “ایرا عرشمان” جو اس کیس کی اہم گواہ تھیں ان کو کڈنیپ کرنے کے لیے سی ایم نے اپنے بندے بھیجے تھے ۔۔ لیکن غلطی سے اسکی جگہ انہوں نے مجھے کڈنیپ کرلیا۔۔ یہ آپ میرے بازو اور چہرے پر خراشیں دیکھ سکتے ہیں ۔۔!” کہتے ساتھ اس نے اپنا بازو اور چہرہ كیمرے کے قریب کیا۔۔ “مجھے ان لوگوں پر کیس کر کے وقت کا ضیاع نہیں کرنا۔۔ اب آپ لوگ ہی فیصلہ کریں کہ کیا ایسے لوگ ان عہدوں کے اہل ہیں ۔۔۔؟ میری یوتھ سے ریکویسٹ ہے کہ وه سرگرم عمل ہوں۔۔ آپ ملک کی اصل پاور ہیں۔۔! اس ملک میں آج جو کچھ بھی ہورہا ہے وه اسی لیے ہے کہ قوم خاموش ہے ۔۔! اپنی آواز بلند کریں ۔۔ ! خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔۔۔!” ویڈیو اسٹاپ کر کے اس نے ہر سوشل پلیٹ فارم پر اپلوڈ کردی۔۔ اسکی آنکھوں کی چمک دیدنی تھی۔۔ کالی گہری آنکھوں میں ایک خاص تاثر تھا۔۔ وہ نڈر تھی کیونکہ وه اپنے خدا پر یقین رکھتی تھی۔۔ جب اسکا خدا اس کے ساتھ تھا تو مٹی کے ڈھیلے اسکا کیا بگاڑ سکتے تھے۔۔۔! 🌷🌷🌷🌷 عین اسی وقت وه پریس کانفرنس کر رہا تھا۔۔ اسکے دائیں جانب یاور پشت پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔ وه مائک کے قریب جھکا ہوا تھا۔۔ آڈیٹوريم میں ہر طرف خاموشی چھائی تھی بس اسکی بھاری آواز گونج رہی تھی۔۔ سیکیورٹی کا سخت انتظام کیا گیا تھا۔۔ ” اب سے نیا نظام رائج کیا جائے گا۔۔ ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔۔! پولیس ڈپارٹمنٹ غرض ہر ڈپارٹمنٹ کی جانچ کی جائے گی ۔۔! نااہل اسٹاف کو سسپینڈ کر کے نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔۔ اب وه وقت آ چکا ہے کہ ملکی نظام کو بدلا جائے۔۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم اس کو مکمل بدل دیں گے لیکن ہم اس تبدیلی کی بنیاد تو بن سکتے ہیں۔۔۔! کسی نہ کسی کو زیرو سے شروع کرنا پڑتا ہے۔۔۔! اس مشن کے لیے ہمیں عوام کی مدد کی ضرورت ہے۔۔ کسی بھی ملک کو چلانے کے لیے قوم کی سپورٹ بےحد اہم ہے۔۔۔! حال ہی میں “Health and Awareness” کا پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔۔! ملک کی جو صورتحال ہے جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہوگا یھاں کا عدالتی نظام بےحد ناقص ہوچکا ہے اسی نظام نے ظالم کو آزادی دی ہے کہ وه کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ ظلم کرنے سے پہلا ایک بار نہیں سوچتا۔۔ ہم نے سوچا ہم اس پر کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔! کافی سوچ بچار کے بعد طے پایا کہ اب ہر شہر میں “Youth Training Centres” قائم کئے جائیں گے۔۔ خصوصاً نوجوان لڑکیوں کو اپنے دفاع کے لیے خاص تربیت دی جائے گی۔۔! انشااللہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔۔! شکریہ۔۔۔!” سپیچ ختم کر کے وه اٹھ کھڑا ہوا۔۔ سفید اکڑی شلوار قمیض پر سیاہ کوٹ پہنے وه بےحد باوقار لگ رہا تھا۔۔ پورا ہال تالیوں سے گونجنے لگا۔۔ میر حاصل کی شکل میں انہیں امید کی نئی کرن پھوٹتی نظر آنے لگی تھی۔۔۔ 🌷🌷🌷🌷 “ہیلو سر۔۔۔ ہیلو میم۔۔۔!!!” جونہی وه بدر کے ساتھ کمپنی میں داخل ہوئی سارے اسٹاف نے گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا۔۔ ارشیہ نے سر کو خم دیا۔۔ بلیک سکرٹ کوٹ میں بھورے گھنگھریالے بالوں کی کس کر اونچی پونی بنائے وه ہمیشہ کی طرح خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ “تھینک یو۔۔۔!” بدر نے مصروف سے انداز میں کہتے کلائی میں بندهی گھڑی میں وقت دیکھا۔۔ “اوکے لیٹس ہیو میٹینگ آفٹر این آر ۔۔۔!” سنجیدہ لہجے میں کہتا وه اپنے آفس کی طرف چلا آیا وه وہیں کھڑی فی میل سٹاف سے کچھ ڈیٹیلز ڈسکس کر رہی تھی۔۔ سر جھٹکتا وه گلاس ڈور دھکیل کر رولنگ چیئر کی طرف آیا۔۔ بلیک کوٹ اتار کر اس نے بازو کہنیوں تک موڑے ۔۔۔ شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھول کر گہری سانس لیتا لیپ ٹاپ آن کر کے وه آج کا شیڈیول دیکھنے لگا۔۔ قریب آدھے گھنٹے بعد وه سیاہ پنسل ہیل سے ٹک ٹک کرتی آفس میں داخل ہوئی۔۔ “میٹنگ ڈیلے ہو چکی ہے۔۔۔! کوئی ایمرجنسی ھوگئی ہے مسٹر درانی کے ہاں۔۔!” بلیک لانگ سٹریپ پرس اس نے ٹیبل پر رکھا ٹیبل سے کافی کا کپ اٹھاتی وه اسے اپڈیٹ کرنے لگی۔۔ بدر کے چہرے پر ناگواری چھا گئی۔۔ اس کی سرمئی آنکھوں میں بیزاری دیکھ کر وه لب دبا گئی۔۔ “اب یہاں کیوں کھڑی ہو میرے سر پر۔۔۔؟” اسے مخصوص تیكهے انداز میں مسکراتے دیکھ کر وه جل کر بولا موڈ پہلے ہی آف تھا مزید اسکی قاتل مسکراہٹ دل جلا رہی تھی۔ “آ ۔۔۔ میں ایک بات سوچ رہی تھی بس ۔۔!!!” کندھے اچکاتی وه ٹیبل پر اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔۔ بدر نے جھکتے ڈرار سے لیپ ٹاپ چارجر نکالتے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ “کیا ۔۔۔؟” اسکے انداز دیکھتا وه ابرو اچکا گیا۔۔ بڑھی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا وه رولنگ چیئر اسکی جانب گھماتا سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔ سرمئی آنکھیں اس پر ٹکی تھیں۔۔ ” شاہان خان کافی ہاٹ ہے۔۔ نہیں۔۔۔؟” موبائل ان لاک کرتی وه اس کی انسٹا آئی ڈی کھول کر اسے دکھانے لگی۔۔ شاہان خان کی شرٹ لیس تصویر دیکھ کر بدر نے سرد نظروں سے اسے دیکھا جو نیلی بلی سی تیكهی آنکھیں پٹپٹاتی اسکے تاثرات سے محظوظ ہورہی تھی۔۔ اس بندے کو تنگ کرنے میں جو مزا تھا وه اور کہیں نہیں۔۔! “ہاٹ تو میں بھی ہوں۔۔۔!” اسکی ٹون پل میں بدلی ارشیہ کے تاثرات بھی بدلے تھے اب وه آنکھیں سكیڑے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ وه اسے اب اسی کے انداز میں ڈیل کرنے لگا تھا۔۔ “تمہیں یہ خوش فہمی کیوں ہے کہ تم ۔۔۔۔” وه جھک کر شہادت کی انگلی اس کے سینے پر ركهتی تمسخر سے بولی۔۔ بدر نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔ وه اس افتاد کے لیے تیار نہیں تھی اسکے کھینچنے پر وه اسکے اوپر آ گری۔۔ “کیوں ۔۔ بھول گئی ہو وه رات ۔۔؟” وه ان کے نکاح کی رات کا حوالہ دینے لگا جس پر ارشیہ کے سپید مومی چہرے میں گلابیاں گھلیں۔۔ اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر فاصلہ قائم کرتی وه کچا چبا جانے والے انداز میں بولی۔۔ “کیا کر رہے ہو۔۔۔؟ چھوڑو مجھے ۔۔۔!” بدر نے اسے مزید قریب کیا اس کے نقوش کو نظروں کے راستے دل میں اتارتا وه گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔ “چھڑوا لو ۔۔۔!” اس کے انداز دیکھتی وه دانت پیس کر رہ گئی۔۔ “چھوڑو مجھے،،کوئی آ جائے گا۔۔۔!” نظریں ادھر ادھر گھماتی وه تیز ہوتی دھڑکنوں پر پریشان ہوئی۔۔ بدر نے نفی میں سر ہلایا۔۔ “اونہوں کوئی نہیں آئے گا۔۔ نیولی ویڈ کپل کمرے میں تنہا ہو تو ۔۔۔!” اب کہ وه جھنجھلا گئی۔۔ “بدر کیا کررہے ہو۔۔؟” وه اسے آنکھیں دکھانے لگی۔۔ “بیوی کے ساتھ رومینس کرنے کی کوشش کررہا ہوں ۔۔۔!” اسے تنگ کرتا وه حقیقتا بہکنے لگا تھا۔۔ “بدران شاہ آئی سیڈ لیو می ۔۔۔!” وه اسکی گردن میں دانت گاڑ گئی جس پر وه سختی سے آنکھیں میچتا پیچھے ہٹا۔۔ ڈھیلی گرفت کا فائدہ اٹھاتی وه جلدی سے اٹھی۔۔ بدر نے گردن پر ہاتھ رکھا جہاں خون کی ننھی بوند واضح ہوئی تھی۔۔ “تمہاری اس حرکت کا جواب رات کو دوں گا ۔۔۔!” اسکی نظریں بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔۔
🌷🌷🌷🌷
وہ غصّے سے ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی ہاتھوں میں پہنی چوڑیاں اتار رہی تھی۔ نہ جانے کس بات پر اس قدر غصّہ آ رہا تھا۔
اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد وہ وارڈ روب کی طرف بڑھ گئی تا کہ نائٹ سوٹ نکال سکے۔
جوں ہی اس نے سوٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو نظریں سامنے نظر آتی چیز کو دیکھتے ٹھٹھک سی گئیں۔
دروازے کے اندر کی طرف ایک چھوٹا سا نوٹ چپکا ہوا تھا۔
اس نے سوٹ وہیں چھوڑ کر وہ نوٹ اتار کر آنکھوں کے سامنے کیا۔
“اوپن دا ڈرار!!!”
خوبصورت رائٹنگ میں لکھے چند الفاظ پڑھ کر وہ واقعی حیران ہوئی۔
اگلے ہی پل دراز کھولنے پر ایک سیاہ رنگ کا شاپنگ بیگ اس کی نظروں کے سامنے تھا جس پر پہلے جیسا ہی ایک اور نوٹ چپکا ہوا تھا۔
اس نے وہ نوٹ بھی اتار لیا۔۔ شہد رنگ آنکھوں میں تجسس سا تھا۔۔
“بی ریڈی ایٹ شارپ نائن!!!”
یہ الفاظ پڑھتے ہی اس کی نظریں بے ساختہ کمرے کی ایک دیوار پر ٹنگی گھڑی کی طرف اٹھی تھیں۔ نو بجنے میں محض پندره منٹ باقی تھے۔
“پر میں تو ناراض ہوں !!!”
وو ناک چڑھاتی سوچنے لگی پر تجسس نامی کیڑا اب سانس لینے کہاں دے رہا تھا۔۔
“پہلے دیکھ لیتی ہوں بعد میں ناراض ہو جاؤں گی۔”
وہ بیگ پکڑتی بیڈ کی طرف آ گئی اور اشتياق سے بیگ کھول کر دیکھنے لگی۔
“واؤ!!!!!”
وہ ایک سرخ رنگ کی دلکش ساڑھی تھی جس کا بلاؤز سرخ ہی تاروں سے مزين تھا۔ ساڑھی کے پلو پر بھی بلاؤز جیسا ہی بارڈر موجود تھا۔
اس کی آنکھوں میں اس ساڑھی کے لئے بے پناہ ستائش چمک رہی تھی۔
“پہن کر دیکھتی ہوں!!!”
چمکتی آنکھوں سے وہ ساڑھی پکڑتی باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔
وہ ساڑھی پہن کر باہر آئی تو گال گلابی ہو رہے تھے۔شہد رنگ آنکھیں چمک رہی تھیں۔
وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہوتی گھوم کر ہر طرف سے ساڑھی میں چھپا اپنا نازک سراپا دیکھنے لگی۔ اس کے گھومنے سے شہد رنگ بال کمر پر لہرانے لگے تھے۔
“اس کے ساتھ ریڈ لپسٹک کیسی لگے گی ؟؟؟”
وہ شیشے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ کر سوچنے لگی پھر اگلے ہی پل بغیر مزید کچھ بھی سوچے سرخ لپسٹک پکڑتی نازک ہونٹوں پر لگانے لگی۔۔
وہ اپنے شوق میں آفت بنی یہ سوچ نہ پائی کہ آخر ابراہیم نے یہ سب کیوں کیا۔۔
وہ اسے کیوں سنورنے کا کہہ رہا تھا۔۔ وہ معصوم تھی اسی لیے تو میجر ابراہیم کی محبت اُسکا “دل” تھی۔
“پرفیکٹ !!!”
آئینے میں نظر آتے اپنے خوبصورت عکس کو دیکھتی وہ بے ساختہ بول اٹھی۔
“اتنا پیارا کون ہوتا ہے یار !!!”
وہ بال جھٹک کر کمر پر گراتو شوخی سے خود سے بولنے لگی۔۔
“میری زنیشہ !!!!”
گھمبیر خوبصورت آواز کانوں سے ٹکرائی تو وہ اپنی جگہ ساکت ہو گئی۔ پلکوں نے اٹھنے سے انکار کر دیا۔
اگلے ہی پل گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتی وہ سانس روک گئی۔۔
“اس قدر جان لیوا بن کر جان نکالنا چاہتی ہیں کیا ؟؟”
دائیں کندھے سے بال پیچھے ہٹا کر وہ اس کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکاتا الٹا اسی کی جان جوکھم میں ڈال گیا۔۔
ہفف۔۔۔ ان حسن والوں سے خدا کی پناہ ،، واللہ الٹی چھری سے ہلال کرتے ہیں۔۔۔”
اس کی گھمبیر بھاری آواز پر زنیشہ نے بے ساختہ نظریں اٹھا کر سامنے آئینے میں نظر آتے دونوں کے عکس کو دیکھا جہاں وہ اس کے پیچھے کھڑا اسے تكتا چلا جا رہا تھا۔۔
اس کے چہرے سے نظریں پھسلتی اپنی کمر پر گئی جہاں وہ اپنے دونوں مضبوط ہاتھ رکھے اسے اپنے پر حدت حصار میں قید کیے کھڑا تھا۔۔
اس سے پہلے کہ وه شرما کر سر جھکاتی اس کے دماغ میں کوندا لپكا۔
اگلے ہی پل وہ اس کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاتی اس سے الگ ہو کر کھڑی ہو گئی۔ ابراھیم کی آنکھوں میں واضح ناگواری جھلکی تھی اس کی حرکت کی وجہ سے۔
“اپنا قیمتی وقت مجھ نا چیز کے ساتھ کیوں ضائع کر رہے ہیں۔اپنے کام پر توجہ دے لیں۔”
خفگی سے کہتی وہ پیچھے ہٹنے لگی جب وہ اسے بازو سے پکڑتا اپنے نزدیک تر کر گیا۔
“آپ سے زیادہ ضروری اور دلچسپ کام بھلا اور کیا ہو سکتا ہے مجھے۔۔۔!!!”
سر کو خم دے کر محبت بھرے لہجے میں کہتا وہ اس کی خفگی زائل کرتا چلا گیا۔
اس کی خوب صورت مسکان اور دلکش چہرے کو دیکھ کر زنیشہ کو لگا کہ وہ اگر اس سے ناراض ہو گی تو جرم کرے گی۔۔ یہ دل موہ لینے والا چہرہ چاہے جانے کے قابل تھا۔۔
“کچھ دکھانا ہے آپ کو !!!”
کہنے کے ساتھ بغیر اس کے جواب کا انتظار کیے وہ اسے بازوؤں میں بھر کر اٹھا گیا۔ وہ بے ساختہ اس کی گردن میں اپنے بازو ڈال گئی۔
“یقین رکھیں کبھی گرنے نہیں دوں گا آپ کو۔”
وہ پر یقین لہجے میں بولا تو وہ مسکراتے ہوئے آنکھیں موند کر سر اس کے کندھے پر دھر گئی۔
اسے اٹھاۓ وہ بالکونی میں نکل آیا۔
اس کے رکنے پر زنیشہ نے آنکھیں کھولی تو ارد گرد کا ماحول دیکھتے وہ مسحور ہوگئی۔۔ ابراھیم نے اسے احتیاط سے نیچے اتارا۔۔
“یہ سب بہت خوب صورت ہے ابراھیم !!! بلکل کسی حسین خواب جیسا !!!”
وہ خوشی سے پھولوں اور لائٹوں سے سجی بالکونی کو دیکھتی گول گول گھومنے لگی۔اس کی خوشی دیکھتے ابراھیم مسکراتا ہوا اس کے سامنے کھڑا ہوتا اپنا داياں ہاتھ اس کے سامنے پهيلا گیا۔
“کیا آپ میرے ساتھ كینڈل لائٹ ڈنر کرنا پسند کریں گی؟”
اس کے سوال پر وہ ایک پل کو اسکی سیاہ گہری آنکھوں میں کھو گئی پھر دلکشی سے مسکرائی۔۔
ہاں میں سر ہلاتی اس کے مضبوط ہاتھ میں اپنا نازک ہاتھ دے گئی تو ابراھیم مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھامتا اسے ایک طرف پڑے ٹیبل کی طرف لے گیا جس کے گرد آمنے سامنے دو کرسیاں دهری تھیں اور میز پر انواع و اقسام کے کھانوں کے درمیان خوبصورت سا كینڈل اسٹینڈ رکھا تھا۔
موم بتیوں کی دھیمی سی روشنی میں انہوں نے بہت خاموشی سے کھانا ختم کیا۔ اس کے بعد ابراھیم اسے ساتھ لئے ایک طرف پڑے صوفے کی طرف آ گیا۔
بیٹھنے کے ساتھ ہی وه اس کا ہاتھ کھینچتا اسے اپنے ساتھ بیٹھا گیا۔زنیشہ گلابی ہوتی تھوڑا سا فاصلہ بڑھانے لگی جب ابراھیم اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے نزدیک کرتا اس کی کوشش کو ناکام بنا گیا۔
“ایسے نازک لمحات میں دوری قائم کر کے دل معصوم کے ساتھ ظلم مت کریں۔۔ “
ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈالے دوسرے ہاتھ سے اس کے شہد رنگ بال کانوں کے پیچھے اڑسنے لگا پر نظریں اس کے حسین چہرے پر ہی جمی تھیں۔
بے اختیار جھک کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے وہ اس کا سر اپنے کندھے پر جما کر ایزی ہو کر نیم دراز ہو گیا۔وہ گلابی پڑتی اس کے سینے میں منہ چھپا گئی۔
“آپ سے بہت ناراض تھی میں۔”
آخر بول ہی پڑی۔
” ایسا کیوں ۔۔۔ دل “؟”
وہ واقعی انجان تھا۔
“کیوں کہ میں جان چکی ہوں بلکل بھی ضروری نہیں میں آپ کے لئے۔”
انداز میں خفگی ہی خفگی تھی۔
“آپ کو ایسا کیوں لگا؟ اس زندگی سے زیادہ آپ ضروری ہیں میرے لئے۔ میرے آتے جاتے سانس کی واحد وجہ !!!”
محبت بھرا خوبصورت لہجہ !
“ہاں اسی لئے مجھے وقت نہیں دیتے بلکل بھی آپ !!!”
اس کی بات پر وہ نفی میں سر ہلا گیا۔
“میری جان مجبوری ہے نا۔ آپ اچھے سے جانتی تو ہیں میرے کام کو پھر یہ شکوہ کیسا ؟؟ ہاں ویسے شکوے کا پورا حق رکھتی ہیں آپ مگر یقین کریں بہت جلد آپ کا یہ شکوہ بھی دور کر دوں گا۔”
محبت سے کہتا وہ اسے مزید خود میں بھینچ گیا۔ پھر یوں ہی اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا رہا۔ کچھ دیر بعد اپنی بات کا جواب نہ ملتے اس نے نظریں جھکا کر دیکھا تو وہ مزے سے سو رہی تھی۔
وہ دھیرے سے ہنس پڑا۔
“میری معصوم جان !!!”
مسکرا کر اس کے گال پر لب رکھتا اسے باہوں میں اٹھا کر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔جیسے ہی اس نے اسے بیڈ پر لٹایا وه اٹھ گئی۔۔
“سوری وه مجھے پتہ نہیں چلا۔۔”
آہستہ سے کہتی وه اٹھ کر بیٹھ گئی سرخ پلو تکیے پر پھیل سا گیا تھا۔۔ اس گہری نظریں خود پر پا کر وه خود میں سمٹی تھی۔۔ وہ جانتی تھی وه کیسی دکھ رہی ہوگی۔۔
“سو جاؤ دل ۔۔۔!”
وه شرٹ اتار کر دور اچھالتا مدهم لہجے میں بولا۔۔
نہیں مجھے آپ سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں ۔۔۔!” وه اب سونا نہیں چاہتی تھی۔۔
“لیکن میں صرف باتیں نہیں کروں گا نہ ۔۔۔!” اسے جھٹکے سے لٹاتا وه اس پر قابض ہوگیا۔۔
“میں تمہیں تسخیر کرنا چاہتا ہوں ۔۔ دل ، تمہاری بےتریب دھڑکنوں کو سننا چاہتا ہوں۔۔! “
ساڑھی کا پلو ہٹاتا وه اسکے گال سے پر حدت لبوں کو مس کرنے لگا۔۔
” ابراھیم ۔۔۔ میرا سانس ۔۔۔!”
اس کے ذرا سے لمس پر ہلکان ہوتی وه اٹکتے ہوئے بولی تھی۔۔ وه اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتا اسے ریلیکس کرنے لگا۔۔
” تم جو اجازت دو تو تمہاری سانسیں چھین کر اپنی سانسیں تمہارے اندر اتار لوں ۔۔۔؟” اسکے پرتپش لہجے پر وه حلق تر کرتی آنکھیں میچ گئی۔۔
“دل ۔۔ مجھ پر یقین ہے۔۔؟” نیم وا آنکھوں سے اسکے سرخ لبوں کو دیکھتا وه اختیار کھونے لگا تھا۔۔
“خود سے زیادہ ۔۔۔!” گہری سانسیں لیتی وه اسے اعتبار سونپ گئی تھی۔۔
“لمحات اترائیں گے تمہاری دلکشی پر ۔۔۔!” بلینكٹ کھینچ کر بتی گل کرتا وه اس کے لبوں پر جھکا تھا۔۔
🌷🌷🌷🌷
جاری ہے ۔۔۔