No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
“سر جی آپ کے لیے پوسٹ آئی ہے۔۔۔!”
آواز پر صالح نے سر اٹھا کر دروازے کی سمت دیکھا۔ نئے ملازم کو وہاں کھڑے پا کر وہ ہاتھ میں پکڑے کچھ کاغذات صوفے پر پھینکتا اٹھا۔۔
اس کی بل زدہ پیشانی اور کالی سیاہ آنکھوں میں ٹھنڈہ تاثر دیکھ کر ملازم نے حلق تر کیا۔
اس کے پاس آنے پر وہ اسے خاکی لفافہ تھما کر فورا سے باہر نکل گیا۔ اب اس کا کام ختم ہوا تھا۔ اسے جلد از جلد یہاں سے نکلنا تھا۔
وہ پلٹ کر صوفے پر آ بیٹھا۔ لفافہ کھول کر اس نے مستطیل شکل میں تہہ شدہ ایک کاغذ باہر نکالا۔ کاغذ کھول کر وہ دیکھتا اس سے پہلے کھڑکی کے آگے پڑا پرده زور سے پھڑپھڑایا۔
اس کا دیهان بٹا وہ اٹھا اور کھڑکی بند کر کے واپس آیا۔ وہ ایک “ڈی این اے” ٹیسٹ رپورٹ تھی۔ اس کی آنکھوں میں تحیر پھیلا۔ جوں جوں وہ پڑھتا جا رہا تھا اس کی روشن پیشانی پر شکنوں کا گہرا جال بنتا جا رہا تھا۔۔
اس نے کاغذ الٹ پلٹ کر دیکھا، بھیجنے والے نے کہیں بھی نام نہیں لکھا تھا۔۔
. . “ابراھیم از مائی سن؟ ہاؤ از دس پوسیبل؟”
دل میں اسے جھوٹا جانتے اس نے پہلے سے آن لیپ ٹاپ پر کسی کو اس ڈاکومنٹ کی تصویر بھیجی۔۔
. “مجھے جلد از جلد پتہ کر کے بتاؤ اس میں کتنی سچائی ہے!” ٹائیپ کر کے اس نے زور سے لیپ ٹاپ بند کیا۔ مٹھی بھینچتا وہ اٹھ کھڑا ہوا رپورٹ لفافے میں ڈالنے کے لیے وہ ایک قدم ابھی آگے بڑھا جب اس کے پیر کے نیچے کچھ آیا۔۔
اس نے سر جھکایا وہ ایک چھوٹی سی پرچی تھی۔ چار انچ کی ہلکے گلابی رنگ کی جس پر سیاہی سے کچھ لکھا گیا تھا۔۔
” سکونِ دوا زہر ہے،، زہر ہے کھانے میں !!! “
اس کے نیچے چند مزید الفاظ روشن تھے۔۔
” صالح یوسف کھو گیا تھا ،، مشائم عبدالله شاہ کی محبت میں ” ۔۔۔
وہ سر پكڑے واپس بیٹھ گیا یہ کیا ہورہا تھا کون بھیج رہا تھا اسے یہ سب؟ وہ میجر بھی تو عجیب لگا تھا۔۔ لیکن اس کا ذہن اس سب کو ماننے پر تیار نہیں تھا۔۔
لب بھینچتا وہ آنکھیں سکیڑ کر دوبارہ اس پرچی پر کندها الفاظ پڑھنے لگا۔۔
“سکون دوا زہر ہے۔۔۔۔۔”
وہ دماغ کے گھوڑے دوڑا رہا تھا جب غزل اس کے کمرے میں آئی اس کے ہاتھ میں ایک سفید شیشی تھی۔۔
“یہ لو حاوز تمہاری دوائی ختم ہوگئی تھی سونے سے پہلے کھا لینا سکون ملے گا۔ بابا ناراض ہورہے تھے کہ تم نے کل کیوں نہیں بتایا میڈیسن ختم ہوگئی ہے انہیں فکر ہے تمہاری صحت کی!!!”
وہ ہموار لہجے میں کہتی اسے چھوٹی سی گولیوں سے بھری بوتل تھما کر چلی گئی یہ دیکھے بغیر کہ اس کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔ یہ انکشافات کا وقت تھا،، کیسا انکشاف ہوا تھا۔۔
ساکت نگاہوں کو حرکت دے کر اس نے ہاتھ میں موجود بوتل پر نگاہ ڈالی۔۔ غزل کے الفاظ اس کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے۔۔۔
” دوائی ختم ہوگئی تھی کھا لینا سکون ملے گا ” ۔۔۔ سکونِ دوا زہر ہے ۔۔۔۔!!
الفاظ آپس میں گڈ مڈ سے ہورہے تھے اس نے سر جھٹکا، اسے اس ملازم سے ملنا تھا جس نے اس تک یہ لفافہ پہنچایا تھا۔۔
وہ ڈرار کھول کر انویلپ اس میں پھینکتا باہر آیا۔ اس کا رخ کچن کی جانب تھا بےدیہانی میں اس کی آنکھوں نے جو منظر دیکھا اس نے صالح یوسف کا دماغ بھک سے اڑا دیا۔۔
میڈ اس کے کھانے میں کوئی سفوف ملا رہی تھی۔ وہ جلدی جلدی ہاتھ چلاتی اپنا کام کر کے سیدھی ہوئی جب اسے چوکھٹ میں کھڑا پا کر اس کا رنگ اڑا۔۔
“سر آپ یہاں؟ میں بس کھانا لا ہی رہی تھی ۔۔۔”
وہ اس کی طرف دیکھ تو رہا تھا لیکن ذہن پیچھے کہیں ان الفاظ میں چھوڑ آیا تھا۔۔
“زہر ہے کھانے میں۔۔۔!!!”
کون تھا جو اس کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا وہ بھی جو اس کے علم میں بھی نہیں تھا۔۔!
میڈ نے دوبارہ اسے بلایا تو وہ چونکا۔۔
“ایک نیا سرونٹ آیا تھا کچھ دن پہلے ۔۔ وہ کہاں ہے؟”
اب کہ وہ نارمل انداز میں بولا جس پر اس کی اٹکی سانس بحال ہوئی۔۔
“وہ تو آج چلا گیا واپس!! شاید کوئی ایمرجنسی ہوگئی تھی!!” ہاتھ میں پكڑا پیکٹ مٹھی میں بھینچتی وہ بظاہر پروفیشنل انداز میں اس سے مخاطب ہو رہی تھی جب کہ اندر سے دل ڈر رہا تھا۔۔
“ہمم اوکے! کچھ دیر تک کھانا بھیج دینا۔۔۔”
اسے حکم دے کر سپاٹ نظر اس پر ڈالتا وہ لمبے ڈگ بھرتا کمرے میں آیا۔۔ دروازه بند کر کے اس نے دوبارہ وہ گلابی پرچی کھولی۔۔
“سکون دوا زہر ہے،، زہر ہے کھانے میں ۔۔!!”
وہ شخص جو اسے کہنا چاہ رہا تھا وہ اس تک پہنچ چکا تھا۔ اس کے ذہن میں جھکڑ سے چلنے لگے تھے! اس نے دوا کی بوتل دیکھی۔ آج سے وہ یہ دوائی نہیں کھائے گا اور نہ اس گھر کا بنا کھانا۔۔۔!
اس کے ذہن میں شک چوکڑیاں مارے پوری شان سے بیٹھ چکا تھا۔ غصے سے اس کی گردن اور پیشانی پر پھولی رگیں نمایاں ہونے لگی تھیں۔ غیر ارادی طور پر اس کی نظر اگلی سطر پر پڑی!
“صالح یوسف کھو گیا تھا مشائم عبدالله شاہ کی محبت میں!!”
یہ نام۔۔۔؟ یہ نام اس نے سن رکھا تھا وہ جانتا تھا۔۔
“عبدالله شاہ۔۔۔؟ شاہ خاندان ۔۔۔؟ مشائم عبدالله شاہ۔۔۔!یوسف ۔۔۔!! آخر اس کی بس ہوئی تھی۔ اس کے سر میں شدید درد ہونے لگا تھا۔۔
اس کا دل بےاختیار چاہا وہ دوائی کھا لے پھر اس نے سر جھٹکا۔۔ سکونِ دوا زہر ہے!! زور سے سر جھٹکتا وہ بیڈ پر چت لیٹ گیا۔۔
🍂🍂🍂
چند دن گزر چکے تھے! وہ زیادہ تر باہر رہتا وہیں کسی ہوٹل یا ریسٹرانٹ سے کھانا کھا لیتا تھا۔ البتہ جو کھانا میڈ بناتی تھی اس کے لیے وہ غیر محسوس انداز میں ضائع کر دیتا تھا۔۔
کمرے میں گهپ اندهیرا تھا۔ بیچوں بیچ پڑے بیڈ کے وسط میں وہ چت لیٹا تھا۔ وہ نیند میں لگتا تھا اس کی پیشانی پسینے سے تر تھی۔۔
وہ بار بار کسمسا رہا تھا۔۔ دھیما چلتا سانس تیز ہونے لگا تھا۔ یکایک اس کا پورا جسم پسینے میں شرابور ہوا تھا۔ اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔!
سیاہ آنکھیوں میں لال ڈورے نمایاں تھے۔۔ وہ جلدی سے اٹھ بیٹھا اس نے ارد گرد نگاہ دوڑائی یوں جیسے پہلی بار وہ یہ منظر دیکھ رہا تھا پہلے جو دیکھتا رہا وہ خواب تھا،، سراب تھا۔۔۔!
اس کی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا۔۔ شفاف موتی گال کا سفر طے کر کے داڑھی میں جذب ہوا تھا۔۔
آگاہی عذاب کیوں ہوتی ہے؟؟
🍂🍂🍂
شاہوں کے بنگلے کے سامنے مردوں، جوانوں بچوں کا ہجوم لگا تھا۔ ایک طرف تین چار اول جلول حلیے والے ڈھول پیٹ رہے تھے جس کی آواز اتنی بلند تھی کہ کسی کو دوسرے کی بات نہ سجھائی دیتی تھی۔۔
رنگ برنگی بتیوں سے سجے بنگلے سے ماہ بیر باہر آیا اسی دوران ہجوم کا سینا چیرتے وہ سب بھائیوں اور کزنز کے نرغے میں چلتا ہوا آ رہا تھا۔۔
سیاہ کھلے گھیر کی شلوار کرتے میں سیاہ شال تہہ لگا کر گلے میں ڈالے وہ سرد موسم میں بھی اوپر کھڑکی سے جھانکتی ارشیہ کو آگ لگا گیا تھا۔۔
اس کے ارد گرد حیان، ابراھیم، عرش اور اورهان کھڑے تھے، سب مرد حضرات سیاہ شلوار کرتوں کے ساتھ سكن شال گلے میں ڈالے ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہے تھے۔۔
حیان نے ڈھول والے کو اشارہ کیا، پاکٹ سے نوٹوں کی گڈی نکال کر وہ بدر کے اوپر سے وار کر پھینکنے لگا۔ ڈھول کی تھاپ تیز ہوئی تو وہ سب وہیں رک کر بھنگڑا ڈالنے لگے۔۔
عرش ایک طرف کھڑا تھا جب ابراھیم نے اسے اندر گھسیٹ لیا۔ بدر ان سب کو دیکھ کر مسلسل ہنستا جا رہا تھا۔ اورهان نے مسکراتے ہوئے ماہ بیر کو اشارہ کیا تو وہ ہاتھ اٹھاتا پیچھے ہٹ گیا جیسے کہہ رہا ہو نہ بھائی مجھے معاف رکھو۔۔
لیکن اورهان کہاں ماننے والا تھا وہ پلک جھپكنے میں اس تک پہنچا اور اسے دونوں ہاتھوں سے قابو کر کے حیان وغیرہ کے پاس لے آیا۔۔
عجب سماں بندھ گیا تھا۔ سب کی خوشی سنبهلتے نہیں سنبهل رہی تھی۔ بدر بیچ میں کھڑا مسکراہٹ دبانے کی کوشش میں ہلکان نظر آرہا تھا اس کے ارد گرد وہ پانچوں زور و شور سے بھنگڑے ڈال رہے تھے۔۔
ہر وقت چپ رہنے والے عرش کا یہ روپ دیکھ کر سب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔ خوشیوں کے حصار میں وہ سب اندر لان کی طرف بڑھے تھے جہاں فنکشن کا بندوبست کیا گیا تھا۔۔
مهندی کی مناسبت سے طرح طرح کے پھولوں سے چاروں اوڑھ سجاوٹ کی گئی تھی، پھولوں کے اطراف میں برقی قمقمے جگمگا رہے تھے۔۔۔
اسے سٹیج پر لانے کے بعد ان کا فو ٹوگرافی کا سیشن شروع ہوا تھا ہر کوئی پرشوق نظروں سے ان کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ رہا تھا۔ لان سے جڑی راہداری سے اندررونی دروازے سے اندر کی طرف جھانکو
تو ہر طرف رش لگا تھا۔۔
کہیں مہمان جهمگھٹا لگائے کھڑے تھے تو کہیں گھر والے کاموں میں الجھے ہوئے تھے۔۔ ارشما، اینارا اور مشائم کو ساتھ لیے ایک کمرے میں چلی گئی جہاں ان سب کا سامان رکھا ہوا تھا۔۔
تینوں ٹشو کے خوبصورت کیپری شرٹس میں دوپٹہ سر پر ٹکائے نفیس لگ رہی تھیں۔۔ ارشما نے کمرے سے باہر جھانکتے نوشین کو آواز دی۔۔
ریشمی پیلے شلوار قمیض میں رنگ برنگا پراندہ کمر پر ڈالے ایک ملازمہ جلدی سے اس کے پاس آئی۔۔
“نوشی بیٹا یہ سب سامان یہاں رکھا ہوا ہے تم خیال رکھنا ہر چیز کا، مہمانوں والا گھر ہے چیزیں ادھر ادھر ہوجائیں تو پریشانی ہوگی۔۔ ٹھیک ہے؟ “
نوشین سے جھٹ سے سر ہلایا۔۔ مسکرا کر وہ واپس کمرے میں آتی ان سے بات کرنے لگی۔۔ نچلی منزل کے برعکس اوپر والی منزل پر خاصا سکون تھا۔۔ وہاں صرف گھر کی خواتین آ جا رہی تھیں۔۔
ایک ساتھ بنے دو کمروں میں لڑکیوں نے ڈیرہ ڈالا ہوا تھا۔۔ نارنجی ریشمی کرتی کے ساتھ نارنجی پھولا ہوا ٹشو کا لهنگا پہنے عرشیہ صوفے پر مزے سے بیٹھی گول گپے کھا رہی تھی۔۔
ملٹی کلر کا گوٹی والا دوپٹہ سر پر ٹکائے پھولوں کے زیور میں نک سک سی تیار وہ آفت کی پرکالہ لگ رہی تھی۔ یہ رنگ اس پر بہت اٹھ رہا تھا اور لباس بلا کا جچ رہا تھا۔۔
ہلکے بھورے گھٹنوں تک جاتے گھنگھریالے بال سامنے سے ماتھا پٹی کے پیچھے پن کر کے کھلے چھوڑ دیے گئے تھے جو اس کی کرتی کے اطراف میں گر رہے تھے۔۔
تیکھے نین نقش سے ان سب کی تیاریاں دیکھتی مزے سے گول گپے کھاتی وہ اپنی طرز کی انوکھی دلہن تھی۔۔
ایرا کوفت زدہ کی لهنگا سنبهالتی اندر آئی۔۔ سرخ سادہ کرتی کے ہمراہ لیمن کلر اور سرخ کے ملے جلے امتزاج کا پھولا لهنگا پہنے وہ منہ بنائے خود سے الجھ رہی تھی۔۔ اس کے کھلے سلکی بال بار بار لهنگے میں اٹک رہے تھے۔۔
“آپی۔۔۔کوئی میرے بال باندھ دے گا؟ جوڑا بنا دیں پلیز!!”
وہ روہانسی ہوتی بولی تھی نیلی آنکھیں جھلملا سی گئی تھیں۔ ارشیہ نے اسے اشارہ کیا جس پر آئینے کے سامنے کھڑی زنیشہ نے اسے ٹوک دیا۔۔
“میں کر دیتی ہوں تم ٹھونسو بیٹھ کے!!”
شہد رنگ آنکھیں گھماتی وہ پلٹی۔۔ سفید پیروں تک جاتی ریشمی فراک چوری دار پاجامے کے ہمراہ پیروں میں سفید نگینوں سے مزین کھسہ ڈالے وہ دلکش لگ رہی تھی۔۔
آئینے کے سامنے جھکی وہ پہلے سے گھنی پلکوں کو مسکارا برش سے مس کرتی مزید نمایاں کر رہی تھی۔ جھکنے کے باعث ناک میں پہنی نتھلی میں موجود سرخ موتی ہلنے لگا تھا۔۔
شہد رنگ لمبے بال سٹریٹ کر کے دائیں کاندھے پر ڈال رکھے تھے۔ بادامی آنکھوں کو کاجل کی موٹی لکیر سے دہکاتی وہ جلدی سے سلور جهمکے پہن کر ایرا کے پاس آئی۔۔
“تمہارے بال کتنے پیارے ہیں ماشاءالله!!!”
نرمی سے اس کے بالوں کو پکڑتی وہ فرنچ طرز کا جوڑا بنانے لگی۔۔
“رمل یار میکپ تو ٹھیک سے کرو،، مانا بہت خوبصورت ہو، لوگ فدا ہیں تم پر پھر بھی ۔۔۔ میری شادی ہے یار،، اسی خوشی میں گہرا میک اپ کر لو۔۔!”
عرشیہ اسے دیکھتی شرارت سے بولی۔ رمل نے اسے مصنوعی گھوری سے نوازا۔۔۔!
لیمن کلر ریشمی پھولے غرارے اور گھٹنوں سے اوپر تک آتی لیمن کلر شرٹ کے ہمراہ شاکنگ پنک دوپٹہ ایک کاندھے پر پھیلائے وہ سیاہ چمکیلے بالوں کو چوٹی میں باندھ رہی تھی۔۔
اس نے چوٹی آگے ڈالی تو وہ کمر تک آ رہی تھی۔ ڈریسنگ ٹیبل سے سفید پھولوں کی ایک لڑی اٹھا کر وہ چوٹی کے گرد لپیٹنے لگی۔ مطمئن ہو کر اس نے آئینے میں ایک آخری نظر خود پر ڈالی۔
چہرے کے اطراف میں سیاہ ریشمی لٹیں گر رہی تھیں۔ سفید گالوں پر ہلکی ہلکی لالی تھی۔ آنکھوں پر کچھ لگانا اس نے ضروری نہ سمجھا تھا۔۔
البتہ تراشیدہ لبوں کو گلابی لپ سٹک سے رنگا گیا تھا۔ ایک چیز کا اضافہ ہوا تھا اس کے چہرے پر۔۔۔!
زنیشہ نے اس کے ناک میں چٹکی والی نوز رنگ پہنا دی تھی۔ سنہری نوز رنگ اس پر اس قدر جچی تھی کہ وہ خود حیران رہ گئی تھی۔۔۔!
سب کی تیاریاں مکمل ہوئیں تو وہ ارشیہ کے ہمراہ نیچے آئیں۔ فوٹو گرافر نے کیمرہ سنبهالا اور دروازے کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
چلبلی لڑکیوں کے ساتھ مل کر رمل، ایرا اور زنیشہ نے ارشیہ کو دوپٹے کے نیچے کرتے ہاتھ بلند کر لیے۔۔ خراماں خراماں یہ قافلہ بھی لان کی طرف بڑھنے لگا۔۔
قالین پر بنے راستے کے بیچ سے گزرتیں وہ سٹیج کی جانب بڑھنے لگیں جہاں پہلے سے حیان، بدر، ابراھیم اور عرش موجود تھے۔
ارشیہ کو اس کے برابر بٹھا کر رمل نے حیان کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔
“اٹھو بھی موٹے، ہمیں پکچرز بنوانی ہیں!!”
وہ مزید پھیل کر بیٹھ گیا۔۔
“اٹھا لو اگر اٹھا سکتی تو۔۔۔!!”
وہ شرارت پر آمادہ نظر آیا۔۔
“حیان بھائی اٹھ بھی جائیں نہ ہمارا میک اپ خراب ہوجائے گا۔۔۔!!!”
ایرا لهنگا سنبهالتی آگے آئی۔۔ سیاہ شلوار قمیض میں سكن شال گلے میں ڈالے عرش نے اسے دیکھا۔۔ یہ دیکھنا ہی غضب ہوا تھا وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا۔۔ ہتھیاروں سے لیس وہ اس کے دل پر گہرا وار کر گئی تھی۔۔
وہ اس سے بےنیاز حیان کا بازو پکڑ کر اسے کھینچ رہی تھی جس پر وہ ہنستا ہوا اٹھ گیا تھا۔۔ عرش نے اس پر سے نظر ہٹاتے سٹیج سے نیچے قدم رکھا۔۔ سب لڑکے سٹیج سے اتر گئے تو وہ تینوں ان کے اطراف میں کھڑی ہوگئیں۔۔
“بدر ۔۔ فٹ لگ رہے ہو دونوں! مینی گڈ ویشز فرام مائن۔۔۔!!”
رمل نے اسے دیکھ کر ستائش میں ابرو اچکائے تو اس نے دلکشی سے مسکراتے سر کو خم دیا۔
🍂🍂🍂
کھانا کھانے کے بعد وہ ہاتھ دھونے کی غرض سے واش بیسن تک آئی تھی۔۔ تولیے سے ہاتھ خشک کر کے اس نے بال ٹھیک کیے۔ اسی اثناء میں اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی۔۔
میر حاصل کی کال دیکھ کر اس نے آنکھیں سکیڑیں،، پہلے اس نے سوچا کال کاٹ دے پھر خیال آیا کوئی ضروری بات بھی ہوسکتی ہے۔۔ کال پک کر کے وہ لاؤنج سے گزر رہی تھی جب ایک دم رکی۔
“وہاٹ ہیپنڈ؟ تم ٹھیک ہو؟”
اس کی ہانپتی آواز پر وہ جلدی سے بولی۔۔
“کیا؟ کہاں ہو تم؟ تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو؟ اوکے اوکے میں آتی ہوں!!”
اپنے تاثرات نارمل کرتی وہ بیک ڈور کی طرف آئی۔۔ اگلے لمحے وہ گلی میں تھی۔۔
تیز تیز چلتی وہ دوسری گلی میں مڑی جہاں سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں وہ جینز کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔ جیکٹ اتار کر اس نے کاندھے پر رکھ چھوڑی تھی۔۔
عجیب پاگل انسان تھا اتنی ٹھنڈ میں بھی ہاف سلیو ٹی شرٹ میں سکون سے کھڑا تھا۔۔
اس کا یہی سكون سے کھڑا ہونا رمل کو آگ لگا گیا تھا۔۔ تو اس نے جھوٹ بولا تھا کہ وہ زخمی ہے اسے مدد کی ضرورت ہے؟
تن فن کرتی وہ اس کے مقابل آئی سٹریٹ لائٹ کی روشنی دونوں پر پڑنے لگی تھی۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا ایسا سجا سنورا مکمل حسن اس نے دوسری بار دیکھا تھا پہلی بار تب جب وہ ابراھیم اور زنیشہ کے نکاح پر رمل سے ملنے چلا آیا تھا۔۔
شہد رنگ پر حدت آنکھوں کو خود پر ساکت پا کر وہ لب بھینچ گئی۔۔
“تم نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔؟؟”
دانت پیستی وہ کھردرے لہجے میں بولی اسے اب تک يقین نہیں آ رہا تھا کہ اس انسان نے اس سے جھوٹ بولا۔۔
“آپ کو دیکھنا چاہتا تھا۔۔!!!”
ہنوز اس کے چہرے کا دیدار کرتے مدهم لہجے میں کہا گیا تھا۔ ٹھنڈ سے اس کی ناک سرخ جب کہ ہونٹ ہلکے جامنی ہونے لگے تھے۔۔
وہ سینے پر ہاتھ باندھتی تیكهی نظروں سے دیکھتی بولی۔۔
“بہت گھٹیا حرکت تھی یہ، میں صرف اس لیے آئی کیونکہ تم نے کہا تمہارا خون بہہ رہا ہے!!!” وہ افسوس بھری نظروں سے اسے دیکھتی واپس جانے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹی۔۔ “آپ مجھے تکلیف میں دیکھنا چاہتی تھیں یا یہ کہوں کہ اگر میرا “خون بہہ رہا ہوتا تو آپ کو پھر مجھ پر افسوس نہ ہوتا۔۔”
کہتے ساتھ اس نے جیب سے چھوٹے سائز کا چاقو نکالا اور کہنی سے اوپر بازو کو بےدردی سے کاٹ دیا۔۔ شفاف بازو پر گہری سرخ موٹی سی لکیر ابھری پھر وہ سرخ لکیر قطرہ قطرہ مل کر نیچے گرنے لگی۔۔۔ رمل نے شاک سے اسے دیکھا، اسکا دماغ جیسے ماؤف ہوا تھا۔۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں بلا کی سردمہری آئی۔۔ ” چٹاخ ۔۔۔!!! ” اس کا ہاتھ اٹھا اور اس کے منہ پر نشان چھوڑ گیا۔۔ خاموش رات کی تاریکی میں اب ساکت ہونے کی باری میر حاصل کی تھی۔۔ ” یہ پكڑو اور اگر تم یہاں سے ہلے بھی تو پھر تم رمل کو جانتے نہیں ہو ۔۔۔!!” ٹشو کو کٹ کے نشان پر رکھ کر دباتی وہ اسے وہیں رہنے کا کہتی تیز تیز قدموں سے چلتی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔۔ سرد رات میں بہتے خو*ن پر ہاتھ رکھے وہ ساکت مجسمے کی طرح کھڑا تھا۔۔ عشق کیا ہے؟ کیا یہ سحر ہے،، مسحور کر دینے والا۔۔۔! دل کی صدا پر لبیک کہتے وہ دیوانوں کی طرح چلا آیا تھا محض اس کی دید کی خاطر !! دیدارِ یار اتنا ضروری کیوں ہونے لگا تھا؟؟ کچھ دیر بعد ہی وہ اسے واپس آتی نظر آئی اس کے ہاتھ میں بینڈیج تھی۔۔ اس کا ہاتھ ہٹاتی وہ سپاٹ نظروں سے زخم کا معائنہ کرتی روئی کی مدد سے خون صاف کرتی دوا لگا کر پٹی کرنے لگی۔۔
“تم نے غلط کیا۔۔!! تم کیوں چلے آئے اس وقت؟؟”
سر جھکائے مصروف سی وہ مدھم آواز میں بولی تھی۔۔ میر نے سر بلند کرتے سیاہ آسمان کو دیکھا۔۔
“دیکھنا چاہتا تھا۔۔!!”
وہی مختصر جواب ۔۔ !!
وہ پیچھے ہٹتی اسے دیکھنے لگی سیاہ آنکھوں کے کانچ کناروں سے سرخ ہونے لگے تھے۔۔
“مت کرو ۔۔ تم سمجھتے کیوں نہیں ہو؟ میری زندگی میں اس محبت نامی مرض کی کوئی جگہ نہیں ہے!!!”
اس کی آواز بھاری ہوئی تھی حلق میں جیسے کچھ اٹکا تھا۔۔ وہ سر جھکائے کرب سے مسکرایا۔۔!
“مرض عشق لاحق ہوگیا ہے ،،، بندہ لاعلاج ہوں ۔۔۔!!”
سر جھٹکتا وہ جیکٹ پہننے لگا۔۔
” میں جان بوجھ کر آپ کے پاس نہیں آتا کوئی کشش ہے جو مجھے کھینچتی ہے آپ کی اوڑھ ۔۔ میرا دل اب میرے اختیار سے باہر ہے، عشقِ غیرفانی قابض ہوچکا ہے میرے دل پر! آپ ۔۔ اگر چاہتی ہیں میں آپ سے دور رہوں تو دعا کریں میں مر جاؤں۔۔۔!!!”
اس کی آنکھوں میں دیکھتا مدهم لہجے میں کہہ کر وہ پلٹ گیا۔ وہ نم آنکھوں سے اس کی پشت دیکھتی بھاگتی ہوئی گلی کا کونہ مڑتی اندھیرے میں غائب ہوگئی۔۔
🍂🍂🍂
جاری ہے 🍁
