Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

بائیک روکتے اس نے چاروں اوڑھ نگاہ دوڑائی۔۔ یہ ایک قدرے سنسان جگہ تھی بائیک سے اترتے وه چند قدم آگے آیا جہاں سے وه چلتا آ رہا تھا۔۔
“ہیلو میر صاحب۔۔۔! گڈ ٹو سی یو!”
نعیم بیگ نے کمینی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے اس کی سامنے ہاتھ بڑھايا جسے اس نے سرے سے نظرانداز کر دیا۔۔
“کام کی بات کرو۔۔۔!”
فرنچ طرز کی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا وه ناگواری سے بولا۔۔ مقابل اسکے انداز دیکھتا فورا سیدھا ہوا۔۔
“جی جی اسی لیے تو ہم یہاں ہیں۔۔ دیکھیں جی رمل یوسف کے اغوا کے پیچھے کہانی کچھ اور ہے یہ صرف میں جانتا ہوں یا چیف۔۔! ظاہر ہے ان کے بیٹے کا کیس چل رہا ہے رمل جی کی فیملی کے ساتھ تو سیدھا شک ان پر ہی آتا ہے لیکن کوئی انھیں کچھ نہیں کہہ سکتا، یہاں کے کرپٹ سسٹم سے تو آپ واقف ہی ہیں۔۔۔!” اسکی اتنی لمبی بات کے
جواب میں میر نے صرف ہنکارہ بھرا۔۔
“تو تم چیف کے خلاف جا کر میری مدد کیوں کرو گے؟”
اب وه اصل بات کی جانب آیا جس پر نعیم بیگ مسکرا پڑا۔۔
” یہاں کوئی کسی کا دوست نہیں ہے سب ساتھ ضرور ہیں لیکن ایک نہیں ہیں۔۔! چیف کے ساتھ بہت حساب چکتا کرنے ہیں اور ظاہر ہے مجھے بدلے میں آپ سے بھی کچھ چاہیے ہوگا ۔۔
اور مجھے امید ۔۔ اونہوں يقین ہے کہ آپ ہماری باتیں ریکارڈ نہیں کر رہے ہوں گے کیونکہ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔”
سر دائیں بائیں ہلا کر اپنی ہی نفی کرتا وه عجیب پاگل لگا تھا۔۔
“بولو کیا چاہیے تمہیں۔۔۔؟”
اسکا کہنا تھا کہ مقابل نے چند کاغذات اسکی طرف بڑھائے ۔۔
“یہ کچھ کام پھنسے ہیں ہمارے بس یہ ہوجائیں تو ہمارا بھلا ہوجائے گا۔۔! یہ آپ ایگریمنٹ بھی سائن کر دیں جی۔۔! کوئی ثبوت تو ہو نہ ہمارے پاس کہ آپ بعد میں مکر نہ جائیں۔۔۔!”
میر نے اسکے ہاتھ سے ایگریمنٹ چھین کر اس پر سائن کیے جس کے بعد اس نے اسے وه لوکیشن بتا دی جس کے آس پاس رمل کو رکھا گیا تھا۔۔
“جانے سے پہلے ایک بم پھوڑوں۔۔؟ چیف نے اس لڑکی کو اٹھوانا تھا جس نے اسکے بیٹے کے خلاف گواہی دینی تھی لیکن اس کے نکمے آدمی غلطی سے رمل جی کو اٹھا لائے۔۔۔ ہاہاہا !!!”
جاتے جاتے وه رکتا مزے سے کہتا قہقہہ لگا گیا۔۔ میر نے آنکھیں سکیڑتے اسکی پشت کو دیکھا اسکا دماغ تیزی سے کچھ سوچ رہا تھا۔۔
اس نے یاور کو اشارہ کیا جو دیوار پهلانگتا نعیم بیگ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔ اس نے حلق تر کرتے سر اٹھا کر اس لمبے چوڑے آدمی کو دیکھا جو دیکھنے پر پتھر کا لگتا تھا کچھ ایسے ہی سرد پتھریلے تاثرات تھے اسکے۔۔!
“آؤ تمہیں ‘ باغِ عدن ‘ کی سیر کرواؤں۔۔۔!”
اسکے ہاتھ سے ایگریمنٹ چھین کر پھاڑتا وه اسے دبوچتا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔۔ میر نے کان میں پہنا سیاہ ٹاپس اتارا پھر اسے احتیاط سے پاکٹ میں رکھا۔۔
نعیم بیگ کے خلاف مواد اس چھوٹی سی ڈیوائس میں ریکارڈ ہوچکا تھا۔۔
“فرق تو پڑے گا تمہیں جب یہ مواد تمہارے خلاف استعمال ہوگا۔۔ گڈ جاب یاور۔۔۔!!! اب یہ قیامت تک اپنا منہ نہیں کھولے گا۔۔۔!”
سیٹی پر شوخ دھن بجاتا وه ہیوی بائیک لے کر اپنی “بدتمیز حسینہ” کو تلاش کرنے نکل پڑا۔۔
🍁🍁🍁
کورٹ کھچا کھچ لوگوں سے بھرا تھا۔۔ کہیں پولیس کی حراست میں مجرموں کو ہتھکڑیاں پہنائے لے جایا جا رہا تھا تو کہیں وكیل فائلیں کھولے کھڑے تھے۔۔ وہ دن ہر دن کی طرح تھا۔۔۔!
عجیب گھورتی نظریں خود پر پا کر وه عرش کا بازو پکڑتی اسکے پیچھے چھپنے لگی تھی۔۔ اسکے ساتھ چلتے عرش نے اسے گهبراتے دیکھا تو اسکے گرد بازو حائل کرتا اسے تحفظ کا احساس دینے لگا۔۔
“تم کسی کو مت دیکھو، بس میری طرف دیکھو۔۔! میری آنکھوں میں وه یقین دیکھو جو مجھے تم پر ہے۔۔!”
اسکے سر سے ذرا سی سرکی سیاہ چادر کو پیشانی تک درست کرتا وه مدھم لہجے میں اسکی ہمت بندھانے لگا۔۔ اسکی نیلی آنکھوں کی بجھتی جوت پھر سے روشن ہو اٹھی تھی۔۔
اسکے بازو سے ہاتھ ہٹاتی اسکے مظبوط ہاتھ کی انگلیوں سے اپنی انگلیاں الجھاتی وه سیدھ میں دیکھتی اسکے ساتھ قدم قدم چل رہی تھی۔۔
وكیل کی رہنمائی پر وه ایک روم میں داخل ہوئے جہاں وه بھاری بھرکم روعبدار شخصیت کا مالک وكیل شفقت سے اس بچی کو ہر بات پھر سے سمجھانے لگا تھا۔۔
انصاف کی اس جنگ میں بلاشبہ وه ان کے ساتھ تھا۔۔
🍁🍁🍁
ارشیہ کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے پہلے کچھ سوچ کر ٹھہری اس نے پرس کا لانگ سٹریپ اٹھاتے اس میں سے موبائل نکال کر بدر کا نمبر ڈائل کیا۔۔
وه پرسکون نظر آتی تھی ہمیشہ کی طرح۔۔۔! وائٹ ہیلز کو فرش پر ہلکا ہلکا مارتی اسکے کال اٹھانے پر تنک کر بولی۔۔
“کچھ خبر بھی ہے تمہیں یہاں کیا کیا ہوچکا ہے؟ ظاہر ہے اتنی ٹینشن میں کسے یاد رہتا تمہیں بتانا۔۔ رمل مسنگ ہے۔۔! صالح انکل اور میرے سسر چلے گئے ہیں فلحال یہاں عرش، حیان اور بابا ہیں۔۔!”
دوسری جانب سے وه اسکی بات سنتی چند لمحے خاموش رہی جو عجلت میں بولتا اس سے باقی سب کی خیریت دریات کر رہا تھا۔۔ اسکی پریشان سی آواز پر وه گہری سانس لے کر گویا ہوئی۔۔
“ہاں سب ٹھیک ہیں۔۔۔! تم گھر پہنچو وہاں تمہاری ضرورت ہوگی ہاں ہم کورٹ میں ہیں۔۔۔!”
نیلی آنکھیں سکیڑتے اس نے کچھ فاصلے پر کھڑے لڑکے کوگھورا جو کب سے اسے تاڑ رہا تھا۔۔ اس نے ہاتھ کا مکا بنا کر اسے خونخوار نظروں سے دیکھا جس پر وه سٹپٹا کر وہاں سے ہٹ گیا۔۔!
سپیکر سے بدر کی آواز ابھرنے پر وه اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔
“تمہیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے رمل ٹھیک ہوگی۔۔! لو یہ بھی کوئی سوچنے والی بات ہے تم جیسے تین چار وه ایسے ہی اوپر پہنچا دے گی۔۔! خیر تمہیں تو میں بھی پورا کر لیتی ہوں۔۔ “
دوسری جانب وه اسکی لمبی قینچی کی طرح چلتی زبان سن کر آگ بگولا ہوگیا جس پر عرشیہ کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی۔۔
“گھر ملو مجھے پھر بتاتا ہوں کون کس کو پورا کرتا ہے۔۔۔!!”
سپیکر سے اسکی آواز ابھری پھر کال کٹ گئی۔۔ اسے جانے کیوں لگا کہ وه آخر میں مسکرایا تھا۔۔
ناک سكیڑتی وه کمرے میں داخل ہوگئی۔۔ خاموشی سے وه ایک قطار میں لگی نشستوں کی طرف آتی اینارا کے برابر بیٹھ گئی۔۔
اگلی قطار میں عرش بیٹھا تھا جو سرد نظروں سے چیف منسٹر کو دیکھ رہا تھا جو بلیک تھری پیس میں گردن اکڑائے مطمئن سا بیٹھا تھا۔۔
ایرا کو وہاں پا کر اس نے زیر زیر لب اپنے نکمے آدمیوں کو ایک موٹی گالی سے نوازا تھا۔۔
اسکے چہرے کا اطمینان عرش کو کھٹکا تھا سر جھٹکتا وه ساتھ بیٹھی اپنی بیوی کو دیکھنے لگا جو سر جھکائے بیٹھی تھی اسکا چہرہ سپاٹ تھا۔۔
عرش کے ساتھ ایک سیٹ چھوڑ کر علی آ بیٹھا تھا جس نے حیان کو ایک چپٹا سا پیکٹ تھمایا تھا۔۔
اس نے گردن موڑتے عرشیہ کو دیکھا اسے اپنی جانب متوجہ پا کر اس نے بتیسی کی نمائش کی جس پر وه فقط آنکھیں گھما کر رہ گئی۔۔
کٹہرے میں شاہرخ اور دانیال کو لایا گیا پھر کیس کی سنوائی شورع ہوئی۔۔
جج کی اجازت پر کریمینل ڈیفنس لائر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“یور اونر یہ کچھ پرووز ہیں۔۔!”
اس نے کچھ پیپرز جج کی کرسی کے پاس کھڑے شخص کو تھمائے۔۔ جج نے عینک درست کرتے ڈاکومنٹس تھامے۔۔
“یور اونر میرے معزز کلائنٹس پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے “نور مقدم” نامی لڑکی کو ریپ کرنے کے بعد اسکا مرڈر کر دیا۔۔ بڑے افسوس کی بات ہے لوگ ذاتی عناد کے باعث کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے۔۔”
کمرہ عدالت میں ڈیفنس لائر کی بھاری آواز گونج رہی تھی۔۔ ایرا کے ہاتھ کانپے تھے اسے اپنا سارا اعتماد ڈان و ڈول ہوتا محسوس ہوا۔۔
وه پورے اعتماد سے بول رہا تھا ۔۔ “یور آنر میرے کلائنٹ شاہ رخ کے ساتھ مس ایرا کے کچھ تعلقات تھے۔۔! ان کی آپس میں زیادہ بن نہیں پائی جس کے بعد وه ذاتی کینہ اور بغض کی بنیاد پر انہیں تنگ کرنے لگی تھیں۔۔!
پھر ہوا یوں کہ کچھ عرصہ بعد ان کی دوست یعنی نور مقدم اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ انہیں ایک پارٹی میں لے گئیں جہاں یہ کسی سے ملنے گئی تھیں۔۔!
میں واضح کر دوں میرے مؤقل اس وقت ملک سے باہر تھے۔۔ اسکا ثبوت آپ کی میز پر پڑا ہے۔۔! مزید گواہان کو بلانے کی اجازت چاہتا ہوں۔۔!”
وه پشت پر ہاتھ باندھتا اجازت طلب کرنے لگا۔۔ پراسیکیوٹر نے عرش کو نظروں سے پرسکون رہنے کا اشارہ کیا جس کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ پڑ چکا تھا۔۔
اورھان نے نفرت سے ڈیفنس لائر کو دیکھا تھا جو ان کے جرم کو چھپانے کی خاطر کس طرح ڈھٹائی سے جھوٹ پر جھوٹ بول رہا تھا۔۔ حیان ایرا سے کچھ فاصلے پر سپاٹ چہرہ لئے کھڑا تھا۔۔ اسی دوران دو تین لوگوں نے شاہرخ اور دانیال کے ملک سے باہر ہونے کی گواہی دے دی تھی۔۔ “اب یہ تمہیں بلائیں گے تم نے بلکل نہیں ڈرنا ہم سب تمھارے ساتھ ہیں۔۔!” حیان جھک کر دهیمی آواز میں ایرا سے مخاطب ہوا جس نے سر اٹھایا اسکی نیلی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔۔ “وه میرے کردار پر بات کریں گے۔۔!” وه سرگوشی میں بولی تھی۔۔ “سچ سے بہتر کوئی جواب نہیں ہوتا۔۔!” اس نے آنکھوں میں جتایا تھا پھر وه سیدھا کھڑا ہوگیا۔۔ “اب میں مس ایرا کو بلانے کی اجازت چاہتا ہوں۔۔!” جج نے سر ہلایا ۔۔۔ “اجازت ہے۔۔!” سب کی نظریں اس پر آ ٹکی تھیں وه گہری سانس کھینچتی اٹھی تھی۔۔ “تو مس ایرا آپ نے الزام لگایا کہ آپ کی دوست کے قاتل میرے کلائنٹس ہیں! آپ اس رات وہاں کیا کرنے گئی تھیں جہاں آپ کی دوست کا مرڈر ہوا تھا۔۔۔ ہم آپ کی زبانی سننا چاہتے ہیں۔۔!” وه کمینی مسکراہٹ چہرے پر سجاتا اس کے مقابل آ کھڑا ہوا۔۔ “میں وہاں شاہرخ سے ملنے گئی تھی ہمارا کوئی بریک اپ نہیں ہوا تھا۔۔ نور بھی میرے ساتھ تھی۔۔ دانیال اور وه ایک دوسرے کوپسند کرتے تھے اسی رات وه اپنی امی کو دانیال کے بارے میں بتانے والی تھی۔۔!” جب وه بولی تو اسکی آواز بدلی ہوئی تھی۔۔ سر اٹھائے نظریں جھکائے وه اسکی جانب سے کچھ کہے جانے کی منتظر تھی۔۔ “تو کیا آپ کے گھر والوں کو پتہ تھا کہ آپ ان سے ملنے گئی ہیں یا چھپ کر گئی تھیں آپ؟” اگلے سوال پر وه چند لمحے چپ رہی۔۔ پراسیکیوٹر نے پہلو بدلہ۔۔ “میرے گھر والے جانتے تھے!” کہتے ہوئے اسنے ارشیہ کو دیکھا جو مسکرائی تھی۔۔ “اوکے۔۔! لیکن ہوسکتا ہے آپ من گھڑت کہانیاں بنا کر عدالت کو گمراہ کر رہی ہوں کیونکہ یہ تو ثابت ہوچکا ہے کہ مسٹر دانیال اور شاہ رخ اس وقت ملک سے باہر تھے۔۔۔! آپ یہ بتائیں کہ وه پارٹی کس طرح کی تھی۔۔؟ شراب، شباب؟ اس کلب کے بارے میں بہت کچھ مشہور ہے عمومًا شریف گھر کی لڑکیاں وہاں نہیں جاتیں۔۔۔” اب کی بار ایرا نے سر اٹھایا۔۔ “سر وه ایک اچھی جگہ تھی۔۔! اگر وہاں شریف گھر کی لڑکیاں نہیں جاتیں تو آپ کی بیٹی وہاں کیا کر رہی تھی۔۔؟” اب کی بار وه تیکھے لہجے میں بولی۔۔ مقابل ایک پل کو گهبرایا پھر نارمل ہوگیا۔۔ “یور اونر مجھے اب ان سے کچھ نہیں پوچھنا۔۔!” حیان ایرا کو دیکھ کر مسکرایا، یہ پوانٹ تو انہوں نے شامل نہیں کیا تھا۔۔ وكیل کے واپس آ کے بیٹھنے پر پراسیکیوٹر اٹھ کھڑے ہوئے وه سنجیدہ بےتاثر چہرہ لیے شاہ رخ اور دانیال کے سامنے آئے۔۔ “آپ اس رات جب نور مقدم کا “مرڈر ہوا کہاں تھے۔۔؟” ٹھنڈے لہجے میں پوچھا گیا۔۔ “ہم ملک سے باہر وکیشنز پر گئے تھے۔۔!” جیسا سوال تھا ویسا ہی جواب آیا۔۔ “کیا آپ کو یقین ہے آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں؟” ایک بار پھر پوچھا گیا جس پر وه سر ہلا گئے۔۔ پراسیکیوٹر پلٹ کر ٹیبل تک آئے انہوں نے ایک انویلپ اٹھایا جس میں ایک تصویر تھی۔۔ “یور اونر یہ اس پارٹی کی تصویر ہے جو مسٹر شاہ رخ نے اپنے ذاتی کلب میں دی تھی جہاں انہوں نے مس نور اور مس ایرا کو مدعو کیا تھا۔۔ اس تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں مسٹر شاہ رخ اور دانیال کے ساتھ نظر آنے والی یہ لڑکی “نور مقدم” ہے جسے اسی رات “اکیس نومبر بروز ہفتے کو بےدردی سے حیوانیت کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔۔” تصویر دیکھ کرجج چونک پڑا۔۔ وہیں کرمنل لائر کے چہرے پر پہلی بار ہوائیاں اڑیں۔۔! سب ثبوت تو وه اسی پل مٹا چکے تھے پھر یہ تصویر۔۔۔؟ اس نے چیف منسٹر کو دیکھا جس نے اسے پرسکون رہنے کا اشارہ کیا۔۔ “میں بتاتا ہوں اس رات کیا ہوا تھا مسٹر دانیال مس نور کو ساتھ لے کر دوسری منزل پر چلے گئے تھے جب وه مس ایرا کے ساتھ بیٹھی تھیں۔۔ ان کے جانے سے قبل مسٹر شاہ رخ انھیں ملے تھے۔۔ مس ایرا جو اپنی دوست کی تصویر ان کی بوائے فرینڈ کے ساتھ بنا رہی تھیں اس میں اچانک سے مسٹر شاہ رخ بھی آ گئے۔۔ یہ تو ثابت ہوگیا کہ وه اس وقت اسی جگہ پر شہر کے اندر تھے نہ کہ ملک سے باہر۔۔ اب میں ثابت کرتا ہوں کہ اس لڑکی کا مرڈر بھی ان دونوں نے کیا ہے۔۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس معصوم لڑکی کو پانچ لوگوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس میں سے دو اس کٹہرے میں کھڑے ہیں جبکہ باقی تین ملک سے فرار ہوچکے ہیں، پولیس انہیں ڈھونڈ رہی ہے۔۔ یور اونر اس رات جب کافی دیر ہوگئی تو مس ایرا کو پریشانی ہوئی کہ ان کی دوست اب تک کیوں نہیں آئی وه دوسری منزل پر چلی آئیں جہاں انہوں نے دیکھا کہ تین لڑکے ایک کمرے سے نکلے تھے۔۔ وه ذرا آگے گئیں تو کمرے سے انہیں مسٹر شاہ رخ اور دانیال کی باتوں کی آواز آئی جو اقرار کر رہے تھے کہ انہوں نے اس بچی کو مارا ہے۔۔ وه مزید اس پر راضی نہیں ہوئے وه مس ایرا کے ساتھ بھی یہی کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن ان کی قسمت کہ انہوں نے سب کچھ سن لیا تھا۔۔ وه کسی طرح وہاں سے جان بچا کر نکل آئیں۔۔ عین اسی وقت پولیس ڈپارٹمنٹ کو فون آتا ہے کہ فلاں جگہ ایک لڑکی کا مر*ڈر ہوا ہے لوکیشن بھی بتا دی گئی۔۔ یہ پتہ نہ چل سکا کہ وه معلومات دینے والا کون تھا۔۔
یہ تھی اصل کہانی جسے مخالفین اور طرح کا رنگ دے رہے تھے۔۔ اب ثبوتوں کی طرف آتے ہیں یہ ہیں فنگرپرنٹس کی رپورٹ جو جائے واردات پر پائے گئے!
میرا خیال ہے وه تصویر اور یہ ثبوت کافی ہیں ان کا جرم ثابت کرنے کے لیے۔۔ “
ایرا اب پرسکون سی بیٹھی تھی ابھی کچھ دیر پہلے جب اس کے کردار پر بات کی جا رہی تھی تب عرش غصے سے اٹھ کر باہر چلا گیا تھا۔۔
علی اور حیان میں نظروں کا تبادلا ہوا۔۔ کچھ دیر تک جج ثبوتوں پر غور و فکر کرتا رہا۔۔ وه پرامید تھے کہ اب اسے سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔
وه جلد از جلد یہ خوشخبری نور کی والدہ کو سنانا چاہتا تھا جو طبیعت ناسازی کے باعث نہیں آ سکی تھیں۔۔
کافی وقت کے غور و خوض اور چہ مگوئیوں کے بعد وه ہوا جس کا کسی کو گمان نہ تھا۔۔ تمام ثبوتوں کو جعلی قرار دے کر انہیں باعزت بری کر دیا گیا۔۔ جج بک چکا تھا ۔۔۔!
🍁🍁🍁
وه دونوں سرشار سے کورٹ سے باہر نکلے۔۔ میڈیا کے جھمیلے سے نکلتے وه اپنی لگثری کار میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہوئے۔۔ سی ایم گارڈز کے نرغے میں میڈیا کے سوالات کا جواب دے رہا تھا۔۔
وه دونوں خود کو بےحد آزاد محسوس کر رہے تھے۔۔ فاسٹ سپیڈ پر ڈرائیو کرتے اچانک ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے دانیال نے بریک پر پیر رکھا۔۔
سنسان سڑک پر گاڑی کے ٹائر چرچرانے کی آواز دور تک گونجی تھی۔۔ ایش گرے ویگن نے ان کا راستہ کاٹا تھا۔۔
اچانک ویگن کا دروازه ایک طرف کو دهكیل کر مکمل سیاہ لباس میں تین نقاب پوش باہر نکلے۔۔ انہیں کچھ سمجھنے کا موقع دیے بغیر وه آگے بڑھے اور کار کا دروازه کھول کر انہیں گدی سے پکڑ کر باہر نکالا۔۔
“کون ہو تم لوگ؟ چھوڑو ہمیں۔۔۔!”
شاہ رخ حلق کے بل چلایا جب تیسرے نقاب پوش نے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پرمارا۔۔
“ڈالو انہیں گاڑی میں۔۔۔!” سرد لہجے میں حکم دیتا وه پلٹ گیا۔۔
“کہاں لے جا رہے ہو ہمیں؟ کون ہو تم لوگ۔۔؟”
اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرتا دانیال زور سے چلايا تھا۔۔ نقاب پوشوں نے ان کے ہاتھ باندھتے انہیں ویگن میں دهكیلا۔۔
جلدی سے اندر بیٹھ کر دروازه بند کرتے انہوں نے ان دونوں کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ دی۔۔
“ہم تمہیں وہاں لے جائیں گے جہاں کوئی قانون، کوئی عدالت نہیں ہوگی، جج بھی ہم اور جلاد بھی ہم۔۔۔! ویلکم ٹو آور ورلڈ۔۔!!!”
تیسرے نقاب پوش نے ان کے کان میں جیسے پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا تھا۔۔