My Kharoos Mister By Mirha Khan Readelle50253 Episode 34 (part 1)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34 (part 1)
“میڈم کہاں منہ اٹھائے چلی جا رہی ہیں آپ ۔۔۔؟”
مہرون بال کمر پر جھٹک کر ڈالتی وہ پولیس سٹیشن میں داخل ہوئی۔۔ بلیک پینٹ شرٹ پر مہرون لیدر جیکٹ پہنے وه تیكهی ہری آنکھوں سے اطراف کا جائزہ لے رہی تھی۔۔
ہری آنکھوں کے کانچ یوں چمک رہے تھے کہ اگر کوئی ان نین کٹوروں میں جھانک لیتا تو کام سے جاتا ۔۔! البتہ شرط یہ کہ وه “دل والا” ہو۔۔۔!
وه مغرور چال چلتی حیان کے آفس کی طرف بڑھی جب علی بوتل کے جن کی طرح اسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔
آنکھیں چھوٹی بڑی کرتا وه اسے گھورنے لگا جب غزل کے
لب قاتل مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔ پنکھڑی سے نازک لب … پھر مزید دل پر ظلم ۔۔ ہائے وه لب کہ خم پر موجود تل ۔۔!
اسکی جانب دیکھ کر ‘ استغفراللّه ‘ کہتا وه نظروں کا زاویہ بدل گیا۔۔ “بی بی آپ یہاں معصوم، شریف النفس لوگوں کا ایمان خراب کرنے آئی ہیں ۔۔۔؟”
وه اب کہ تنک کر بولا جس پر غزل نے ہرے نین گھمائے تھے۔۔
” شٹ اپ ۔۔۔! مسز حیان ہوں میں ۔۔۔! تمیز سے بات کرو۔۔!”
وه اب کہ روعبدار لہجے میں بولی البتہ دل میں شدید ہنسی بھی آرہی تھی۔۔ علی کا منہ کھلا پھر بنٹے جیسی آنکھیں باہر کو ابل آئیں۔۔ سر نے شادی کرلی اور مجھے بتایا بھی نہیں ۔۔۔؟
اف ۔۔! دل میں دو نمبر درد سا اٹھتا محسوس ہوا تھا۔۔ نہ نظر آنے والے آنسو صاف کرتا وه اسے کہنے لگا۔۔
“سوری میڈم ۔۔! پلیز آپ سر سے کچھ نہ کہنا ورنہ انہوں نہ ۔۔۔بس چھوڑیں ۔۔ آئیں میں آپ کو سر کے آفس لے جاتا ہوں۔۔!”
اسے تیر کی طرح سیدھا ہوتے دیکھ کر غزل کے لبوں پر مسکراہٹ امڈ امڈ کر آ رہی تھی، اس ایس پی کے کے تاثرات پر تو اور بھی مزہ آنے والا تھا جب سب سمجھیں گے کہ وه شادی شدہ ہے۔۔! آفس کے دروازے کے باہر پہنچ کر علی نی سلیوٹ کیا ۔۔!
“سر آپ کی مسز آئی ہیں ۔۔۔!”اس کی آواز پر ٹیبل پر کھلی فائل پر جھکے حیان نے سر اٹھایا۔۔
“بھیج دو ۔۔۔!” مصروف سے انداز میں کہتا وه واپس سر جھکا گیا جب اچانک جھٹکے سے اس نے سر اٹھایا۔۔
“کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔۔؟”
وه دانت پیس کر بولا جب علی نے حلق تر کیا ۔۔
“مم ۔۔ مجھے کیا پتہ سر جی ۔۔ میں چلتا ہوں ۔۔ بہت کام ہیں ۔۔ ہاں بہت ہی سارے کام ہیں ۔۔۔!!”
اپنی شامت آتی دیکھ کر وه سر پر پیر رکھ کر بھاگا ۔۔ عین اسی وقت غزل اندر داخل ہوئی اسے دیکھ کر حیان کو بات سمجھنے میں سیكنڈ لگا تھا۔۔
وه سرد نظروں سے اسے دیکھنے لگا ابھی تو پچھلا حساب بھی بےباق کرنا تھا۔۔
” کیوں آئی ہو یہاں ۔۔۔؟”
سگریٹ سلگاتا وه بے تاثر لہجے میں بولا تھا۔۔ غزل کو اس کے لہجے پر تپ چڑھی ۔۔ سکڑی کالی آنکھوں پر شکن زدہ پیشانی اور پیشانی کے بلوں کو بوسہ دیتی وہی آوارہ لٹ ۔۔!
بڑھی مڑی ہوئی مونچھوں اور داڑھی میں اسے وه بےحد مغرور لگا تھا۔۔ سگریٹ کا دهواں چھوڑتا وه بظاہر کوئی گینگسٹر دکھتا تھا۔۔
” اپنی مسز سے کوئی یوں بات کرتا ہے کیا ایس پی صاحب ۔۔۔؟” وه آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔۔ اسکا مقصد اسے زچ کرنا تھا اسکا انجام چاہے جو بھی ہوتا۔۔
اسے دیکھ کر وه سمجھ گئی تھی کہ ابھی اسکے علم وه بات نہیں آئی تھی جو اسکے اور صالح کے مابین تھی۔۔ حیان نے خوب سمجھتے سر کو خم دیا۔۔ وه اسکی طرف بڑھا جس پر وه ایک پل کو گھبرا گئی ۔۔۔
“نہیں ایس پی ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا ۔۔!!!”
دل میں سوچتی وه اپنی جگہ جمی رہی۔۔ حیان نے علی کو آواز لگائی۔۔
“علی میں اپنی مسز کے ساتھ کچھ مصروف ہوں کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔۔!” جواباً ” يس سر ” کی آواز غزل کی سماعتوں سے خوب ٹکرائی تھی۔۔
“ہاں تو کیا کہہ رہی تھی تم ۔۔۔؟ مسز حیان ہو ۔۔؟ آ ہاں ، یاد آیا کال پر تم کچھ کہہ رہی تھی ” ہاٹ لگتا ہوں میں تمہیں۔۔؟”
اسکے مقابل آتے جھک کر اس نے سگریٹ کا دهواں اسکے منہ پر چھوڑا جس سے وه کھانستی ہوئی چند قدم پیچھے لے گئی۔۔
” اس منحوس کو پیچھے رکھ کر بات کرو ۔۔!”
وه سگریٹ کو دیکھتی دانت پس کر بولی۔۔
“اوکے ۔۔!” وہ سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتا اس کی جانب قدم بڑھانے لگا۔۔ اس لمبے چوڑے ایس پی کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر اب کہ وہ صحیح معنوں میں گھبرائی۔۔
“اف غزل کیا ہوگیا تجھے ، پاک سپائی ہے تو ۔۔! ہوش کر ۔۔!! “
سر جھکتی وه تن کر کھڑی ہوگئی جیسے کہہ رہی ہو میں نہیں ڈرتی کسی بھی مائی کے لعل سے۔۔!
“ہاں کی تھی کال میں نے ، کہا تھا ہاٹ ہو ۔۔ تو کیا کرلو گے ۔۔؟ میرا منہ ہے میں جو مرضی کروں۔۔!”
وه اسکی کالی گہری آنکھوں میں اپنی ہری آنکھیں گاڑتی الفاظ چبا کر بولی۔۔ حیان نے ابرو اچکاتے اسکے انداز دیکھے۔۔
” پھر میرا بھی منہ ، میری مرضی میں جو بھی کروں ۔۔! کیا خیال ہے۔۔!”
وہ اس بدتمیز لڑکی کو تپانے کے لیے بولا تھا محض ورنہ دل تو کررہا تھا رکھ کر ایک لگائے۔۔
” تمہارا منہ نہ توڑ دوں میں ۔۔؟ اتنی ہمت نہیں کسی میں ۔۔!”
چند قدم آگے آتی وه اس کے منہ پر غرائی ۔۔ وه تو یہاں اس سے بات کرنے آئی تھی لیکن اس نواب کی اکڑ ہی ختم نہیں ہورہی تھی۔۔
“اچھا توڑ کر دکھاؤ پھر میں بھی تو دیکھوں کتنی ہمت ہے تم میں ۔۔!”
پشت پر ہاتھ باندھتا وه استہزائیہ لہجے میں کہتا اسکے سامنے تن کر کھڑا ہوگیا۔۔ وه بغیر سوچے اس پر جھپٹی تھی اب اس کی انا کا سوال تھا۔۔
حیان نے اس کے دونوں بازو پکڑتے اسے دور جھٹکا ۔۔ دو قدم اس کی طرف بڑھاتے اسنے زناٹے دار تھپڑ اسکے نازک گال پر دے مارا۔۔! ” تم اس وقت تھانے میں کھڑی ہو ۔۔ ایس پی حیان کے کمرے میں ۔۔۔! ابھی کوئی کیس کر کے تمہیں اندر کر سکتا ہوں۔۔ اب تک تمہاری حرکتیں برداشت کرتا رہا کیونکہ عورت ذات ہو تم ۔۔ کسی نے آج تک مجھ سے بدتمیزی سے بات نہیں کی تو تم کون ہوتی ہو ۔۔؟ اگر میں ابھی تمہاری عزت کی دھجیاں بکھیر دوں تو کون بچائے گا تمہیں ۔۔؟ ہر کوئی ایس پی حیان نہیں ہوتا یہ بات اپنے فضول سے دماغ میں بٹھا لو ۔۔! جہاں مرضی منہ اٹھا کر چل دیتی ہو ، صرف صالح انکل کی وجہ سے برداشت کیا میں نے ورنہ تمہاری عقل ایک سیكنڈ میں ٹھکانے لگا دیتا ۔۔۔نکلو اب یہاں سے ۔۔!!” درشتگی سے کہتا وه اسکی ذات کے پرخچے اڑا گیا۔۔ وه منہ پر ہاتھ رکھے ساکت کھڑی تھی۔۔ ہری آنکھوں کے کانچ کی چمک ماند پڑی تھی۔۔ ” آج تک کسی نے مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا ، بابا نے بھی نہیں ۔۔! وه نہیں رہے تو ۔۔۔!” اسکی آنکھ سے آنسو گرا تھا۔۔ گال سے پهسلتا وه ٹھوڑی پر ٹھہرا تھا۔۔ بات ادھوری چھوڑ کر وه پلٹتی دروازه کھول کر لمبے ڈگ بھرتی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔ وه اس سے لڑنے نہیں آئی تھی وه تو محض اس سے بات کرنے آئی تھی لیکن عادت سے مجبور اسے تپانے کے لیے وه سب کہہ گئی۔۔ اسکے جانے کے بعد حیان نے کنپٹی مسلی ۔۔ اپنے ہاتھ کو دیکھتے اس نے زوردار مکا دیوار پر ماررا ۔۔
کیسے اس نے ایک لڑکی پر ہاتھ اٹھا لیا ۔۔؟ آخر کیسے؟ اسکی تربیت ایسی تو نہیں کی گئی تھی۔۔! زور سے آنکھیں میچتا وه گہری سانس لیتا دروازے کی جانب دیکھنے لگا جہاں سے وه کچھ دیر پہلے نکلی تھی۔۔
❤❤❤❤
سوکھے کپڑے ٹو سٹر صوفے پر بکھرے پڑے تھے جو ابھی ابھی نگہت رکھ کر گئی تھی۔۔ زنیشہ نے اسے منع کر دیا کہ وه خود تہہ لگا لے گی۔۔!
وه ابراھیم کے کپڑے تھے وه بہت پوزیسو ہونے لگی تھی اسکے معاملے میں۔۔! اسکا ہر چھوٹا موٹا کام خود کرتی۔۔ اسکی شرٹس اٹھا کر وه بیڈ پر بیٹھی ایک ایک کر کے تہہ لگانے لگی۔۔
نرم گرم نظروں سے دیکھتی ہاتھ میں پكڑی شرٹ پر لب رکھتی وه مسکان دباتی سیدھی ہوئی۔۔
” افو میجر ابراھیم ۔۔ آپ کی “دل ” تو دیوانی ہوگئی ہے۔۔!!”
خود کلامی کرتی وه اٹھی۔۔ کپڑے کبرڈ میں رکھ کر وه واپس بیڈ تک آئی اور جھک کر فون اٹھایا۔۔
شہد رنگ ریشمی بالوں کو کان کے پیچھے اڑستی وه اسکا نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔
❤❤❤❤
اندھیری کوٹھری کے کھلے دروازے میں وه پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس پر سایہ کیے کھڑا تھا۔۔ کوٹھری میں ہلکی ہلکی سی روشنی دائیں جانب بنی چھوٹی سی کھڑکی سے جھانک رہی تھی اس کے سوا کوئی زریعہ نہ تھا۔۔
وه جو ہمیشہ اکڑتا تھا اپنی طاقت پر اب زمین پر گرا خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ چوکھٹ میں کھڑے اس قد آور وجود کی سیاہ آنکھوں میں ایسا ٹھنڈہ تاثر تھا کہ اسے ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر سی دوڑتی محسوس ہوئی۔۔
چوکھٹ میں کھڑے اس شخص کے پیچھے ایک اور ہیولا سا نمودار ہوا تھا۔۔ ابراھیم نے قدم اندر رکھا اسکا چہرہ واضح ہوا تھا جسے دیکھ کر ذاکر کی آنکھیں پھیلیں۔۔
ابراھیم کے پیچھے كیپٹن اندر آیا اسکے حکم پر وه سیکنڈ کی دیر کیے بغیر وه ذاکر کے ہاتھ باندھنے لگا۔۔ ہاتھ آگے کی جانب باندھ کر اس نے اسکے منہ پر سفید ٹیپ لگا دی۔۔
یہ سب کچھ اتنی پھرتی سے ہوا کہ ذاکر دنگ رہ گیا۔ اسکا دماغ یوں بھی اب کام کرنے سے عاری تھا جب موت کے سائے سر پر منڈلاتے محسوس ہوتے ہیں تو یوں بھی حسیات جامد سی ہوجاتی ہیں۔
ابراھیم پنجوں کے بل نیچے بیٹھا اس نے دو انگلیوں سے گردن سے چپکے ٹرٹل نیک سویٹر کو چند سیکنڈ کے لیے جدا کیا۔ اندر کے حبس زدہ ماحول کی وجہ سے اسے ہلکی ہلکی گرمی سی لگنے لگی تھی۔۔
” بھاگ گئے تو تمیں لگا کوئی تمہیں ڈھونڈ نہیں پائے گا ۔۔؟ جتنے تمھارے بال ہیں اس سے کہیں زیادہ میرے سورسز ہیں۔۔!”
وه افسوس سے سر جھٹکتا بولا تھا۔۔ ذاکر کی آنکھیں پھیلیں جب اس نے ابراھیم کو دو قدموں کے فاصلے پر پڑے سیاہ چمرے کے بیگ سے بلیڈ نکالتے دیکھا۔۔ كیپٹن خاموش کھڑا ساری کاروائی دیکھ رہا تھا۔۔ اوپر سے آرڈر تھا کہ بابا صاحب اور ذاکر کو زندہ پکڑنا ہے لیکن اب ابراھیم نہیں چاہتا تھا کہ وه زندہ رہیں ۔۔! ملک دشمن عناصر کو خاک میں ملا کر مٹی کر دینا ہی بہتر تھا اسکے نزدیک۔ اس پر مزید جرم کہ ذاکر نے اسکی زنیشہ،، اسکے دل کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا، کیسا جرم کیا تھا اس نے۔۔! بلیڈ کا کور ہٹا کر اس نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ تھاما، اسکی کلائی سامنے کرتے اس نے گہرا ترچھا کٹ اسکی کلائی پر کھینچا تھا۔۔ نرم سی جلد تیز دھار آلے سے چیرتی الگ ہوئی تھی جس کے وسط سے سرخ گاڑھا مادہ نکلنے لگا تھا۔۔ ذاکر کے منہ سے غوں غوں کی عجیب آوازیں نکلنے لگی تھیں۔۔
” جانتے ہو کتنا ڈر گئی تھی میری بیوی۔۔ کتنی تکلیف سہی تھی اس نے۔۔؟ نادان تھے تم ۔۔ تمہیں یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔!”
وه سرد لہجے میں کہتا آخر میں پھنکارا تھا۔۔ جبکہ وه پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی کلائی سے بہتے خو*ن کو دیکھ رہا تھا اسکا سر بار بار نفی میں ہل رہا تھا۔۔ گہری خاموشی میں ہلکی سی آواز ابھری پھر مسلسل تواتر سے آنے لگی۔۔ ابراھیم نے جیب سے فون نکالا جہاں زنیشہ کی کال آ رہی تھی اس نے کال اٹینڈ کر کے فون کان سے لگایا ۔۔ “ہاں بولو ” دل ” ۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔؟ اوکے میں کچھ دیر تک گھر آ رہا ہوں ، ہاں جاناں ضروری ہے یہ بھی ، ثواب کا کام کررہا ہوں۔ کرتا ہوں کال ۔۔!” اس نے فون بند کرتے واپس جیب میں رکھا۔۔ کالی گھور اندھیرے جیسی گہری آنکھوں کا نرم تاثر پل میں سرد ہوا تھا۔۔ ” تمہارے گناہوں کی فہرست بہت لمبی ہے، نہ جانے کتنے گھر اجاڑے ہیں تم نے، میں تمہیں ایسی موت ماروں گا کہ دوسروں کے لیے عبرت کا مقام بنو گے۔۔!”
کھڑا ہو کر وه بےدردی سے اس کے منہ پر بلیڈ سے نقش بنانے لگا۔ اسکے لبوں کے دونوں کنارے پھاڑ کر اس نے بلیڈ پھینک دیا۔ کنپٹی مسلتا وه رخ بدل کر کھڑا ہوگیا۔
اسکی آنکھوں کے سامنے وه معصوم چہرے آنے لگے جو اس بےرحم گینگ کی بھینٹ چڑھے تھے۔۔ طیش سے واپس مڑتے اس نے زور دار ٹھوکر اسے ماری جو اوندھا جا گرا۔۔
“ہاتھ کھولو اسکے۔۔!!”
اس نے داڑھ کر کہا جس پر كیپٹن نے فوراً حکم کی تکمیل کی۔۔ ذاکر ہاتھ جوڑتا اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔!
حق ہا ۔۔۔!!! طاقت کے نشے میں چور انسانیت بھلا کر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا اس وقت رحم کی بھیک مار رہا تھا۔ ابراھیم نے اسکا بازو پکڑا اور زور سے موڑا اتنا کہ ہڈی ٹوٹنے کی آواز آئی۔۔
“یہی بازو تھے نہ جس سے تم نے معصوم لڑکیوں کی عزت لوٹی تھی۔۔؟”
اسکے دوسرے بازو کا بھی یہی حال کرتا وه اسے کسی ناپاک چیز کی طرح پھینکتا دور ہٹا۔۔
” اسے آگ لگا دو۔۔!!!”
اسکے حکم پر كیپٹن نے ساتھ لایا پٹرول کا ٹینک اٹھایا اور اس پر چھڑکنا شروع کر دیا۔۔ کام مکمل کر کے اس نے بغیر اس پر رحم کھائے لائٹر جلایا۔۔
آگ کا شولا بھڑکا پھر اسے مکمل آگ کی لپیٹ میں لے گیا۔۔ كیپٹن دور ہٹا تو ابراھیم نے موبائل پر چند سیکنڈ ویڈیو بنائی۔۔
” یہ ویڈیو ہر جگہ پہنچ جانی چاہیے تا کہ سب کو پتہ چلے ایسے لوگوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔۔!”
ابراھیم نے اسکی طرف موبائل اچھالا جسے اس نے پل میں تھاما۔۔ سامان اٹھاتے وه اسے آگ میں جلتا چھوڑ کر وہاں سے نکلتے چلے گئے۔
❤❤❤❤
رات ہوتے وه جونہی کمرے میں آئی اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا۔۔ آفس میں دی اسکی دهمكی “تمہاری حرکت کا جواب رات کو دوں گا ۔۔!” بار بار اسکے ذہن میں گونج رہی تھی۔۔
کل رات تو وه لیٹ آیا تھا جس کا شکر مناتی وه پہلے ہی سو چکی تھی ورنہ اس منحوس بلے سے کیا بعید ۔۔۔؟
“بےشرم ۔۔۔!!!” اس کی شرٹ لیس باڈی ذہن میں آتے وه بڑبڑائی۔۔ “شرم تو آتی نہیں ہے بد تمیز کو یہ بھی خیال نہیں کہ بڑی ہوں میں اس سے ، پہلے شادی کرلی اور اب موصوف کو رومینس کرنا ہے۔”
تیز بولتی وه کبرڈ کی جانب آئی اسکی سائیڈ کھول کر اس نے ہینگ کی ہوئی گرے سلیو لیس ٹی شرٹ دیکھی جو اسکے اندازے کے مطابق وه آج رات پہننے والا تھا۔۔
“اب آئے گا مزہ ۔۔!” چمکتی نیلی آنکھوں میں بلی کی سی چمک لیے وه سائیڈ ٹیبل تک آئی جہاں فریش ہنی کی شیشی رکھی تھی۔۔ مزے سے ڈھکن کھولتے اس نے انگلی پر شہد لگا کر چکھا ۔۔۔ !
“ہمم ۔۔ یمی يقینا تمہیں بھی پسند آئے گا بدران شاہ ۔۔!!”
جلدی جلدی اس نے شہد اسکی شرٹ کی اندر والی سائیڈ پر جابجا لگا دیا۔۔ اپنا کام دکھا کر اس نے شرٹ واپس ہینگ کر دی۔
شہد کو بوتل باہر غائب کرنے کے بعد وه بےبی پنک سوفٹ سٹف ٹراؤزر شرٹ لے کر واش روم میں گھس گئی۔۔
پانچ منٹوں بعد وه نكهری سی باہر نکلی۔۔ جلدی سے بیڈ پر چھلانگ لگا کر بیٹھتی وه بلینکٹ میں گھس گئی۔۔
