No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
وائٹ ڈھیلی جینز کے ساتھ سکائے بلیو ہالف سلیو ٹی شرٹ پہنے وہ “سٹراجٹ سٹریٹ” میں جینز کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے سر جھکائے ہموار قدم اٹھا رہا تھا۔
شام کی دھندلی روشنی میں اس کے سفید جوگرز میں مقید پیر تارکول کی پختہ سڑک کو پیچھے دهكیلتے آگے بڑھ رہے تھے۔
آسمان پر بادلوں کے ڈھیر نے گرجنا شروع کر دیا تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج رات پورا ڈنمارک بارش میں نہانے والا تھا۔
“سٹراجٹ سٹریٹ” میں بنے مالز میں شاپنگ کی غرض سے آنے والے لوگوں کا جم غفیر موسم کے تیور دیکھتا واپس لوٹنے لگا تھا۔
البتہ کچھ نوجوان لڑکے لڑکیاں ایسے دلفریب موسم کو اپنے ساتھ کیمروں میں مقید کررہے تھے۔
اسے موسم سے کچھ مطلب نہیں تھا۔ اسے اپنا کام ہر حال میں اپنے وقت پر کرنا ہوتا تھا۔ وہ سر جھکا کر چل رہا تھا۔ اس کے کان میں “ایئر پاڈز” موجود تھے جن کے زریعے وہ دوسری جانب کسی سے رابطے میں تھا۔
اس کا سر جھکا ہوا تھا لیکن کالی سرد آنکھیں ترچھی ہو کر اطراف کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس کی حسیات بہت تیز تھیں۔
دفعتاً کسی نرم وجود کے ٹکرانے سے اس کے قدموں کو بریک لگا۔ مہرون کرلی لمبے بالوں کو جھٹک کر سیدھی ہوتی وہ اسے دیکھ پاتی اس سے پہلے ہی وہ اسے نظرانداز کرتا آگے بڑھ گیا۔
اس کی پشت دیکھ کر اسے اس پر “لیث” کا گمان ہوا۔ سر جھٹک کر وہ آگے بڑھ گئی جہاں سٹریٹ کے کارنر میں لیث اس کا انتظار کر رہا تھا۔
ابراھیم نے رک کر چہرہ گھمایا۔ اس لڑکی کے سامنے آتے ہی اس کی چھٹی حس نے کوئی سگنل دیا تھا۔ ایک پل کو اس کی پشت دیکھنے کے بعد سر جھٹکتا وہ سیدھا ہوا اور جلدی جلدی قدم اٹھاتا مطلوبہ پوائنٹ تک پہنچا۔
وہ سامنے سے چلتا آ رہا تھا سرمئی شرٹ کے ساتھ بلیو جینز پہنے وہ اس کے پاس سے گزرتا سپیڈ سلو کر گیا۔ ابراھیم نے غیر محسوس انداز میں ایک چپ اس کی طرف بڑھائی۔
“کانفیڈنشل انفارمیشن! کنوے اٹ ٹو رائٹ ہینڈز۔۔۔!!!”
غیر محسوس انداز میں کہتا وہ آگے بڑھ گیا۔۔ اس نے ایئر پاڈ پر انگلی رکھی۔۔
“ٹاسک ون از ڈن!!!” ۔۔۔۔
بارش شروع ہو چکی تھی۔ ایسے ٹھنڈے موسم میں وہ محض ہلکی سی ٹی شرٹ پہنے تھا جس کے ہالف سلیو سے اس کے کسرتی بازو نمایاں ہو رہے تھے۔
کالی سرد آنکھوں کے چمکتے کانچ ارد گرد کا بخوبی جائزہ لے تھے۔ ہاتھ سے اشارہ کرکے کیب رکوا کر وہ اس میں بیٹھ گیا۔ چند منٹ کے بعد وہ “ایسکاٹ ہوٹیل” کے سامنے اترا۔
‘ورک ٹریپس’ کے لیے مشہور یہ “کوپن ہیگن” کے لگژری ہوٹیلز میں شمار ہوتا تھا۔ اس نے ایک نظر میں ہی ہوٹیل کی بیرونی عمارت کا جائزہ لے لیا۔
ڈارک براؤن پینٹ شدہ دیوار پر قریب قریب چوبیس کھڑکیاں تھیں جن کی سفید گریل سے سنہری روشنی پھوٹ رہی تھی۔
اس کی انفارمیشن کے مطابق یہ وہی ہوٹل تھا جہاں آج پاکستان سے سمگل کی جانے والی لڑکیاں بھیجی جانی تھیں۔
وہ ڈیم شور تھا کہ یہی وہ ٹھکانا ہے جہاں مافیہ راج کی دو تنظیموں کے درمیان ڈیلنگ ہونی تھی۔
“اِن دا ہارٹ آف سٹی؛ سٹراجیٹ سٹریٹ! ڈارک وائٹ ۔۔۔!!!”
کان میں لگی ڈیوائس کے زریعے ہنٹس دے کر وہ مزید معلومات لینے کے لیے ہوٹیل کی سیڑھیاں چڑھتا دروازے سے اندر غائب ہوگیا۔
🍂🍂🍂
“جی تو ناظرین آپ کو بتاتے چلیں کہ “نور مقدم” جن کی ڈیڈ باڈی ہوٹل سے برآمد ہوئی تھی ان کی رپورٹس آ چکی ہیں۔
انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ کب تک؟ آخر کب تک معصوم لڑکیاں ظلم و زيادتی کا نشانہ بنتی رہیں گی ؟ ۔۔۔ وہ جو آج ہمت کر کے کمرے سے باہر نکل ہی آئی تھی ٹی وی لاؤنج میں قدم رکھتے ہی کانوں میں پڑنے والی آواز پر اس کے قدم منجمد ہوئے۔ زرد چہرہ لئے وہ اپنی جگہ ساکت ہوگئی۔ اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ خوف سے ایل ای ڈی کی سکرین کو دیکھتی وہ الٹے قدم لیتی یک دم پلٹی۔ جلدی سے کمرے میں آ کر اس نے دروازه بند کر دیا۔ کپكپاتے ہاتھوں سے کھڑکیوں کے پردے برابر کر کے اس نے کمرے کی بتی بجھا دی۔ بیڈ پر آ کر لیٹتی وہ گھٹنوں کو سینے سے لگاتی سسک سسک کر رونے لگی۔ دو دن سے وہ کمرے میں بند تھی۔ نہ کچھ کھا رہی تھی نہ پی رہی تھی۔ اپنا حال بےحال کر ڈالا تھا اس نے۔ آج اینارا نے زبردستی اسے ڈانٹ کر کھانا کھلایا تھا۔ انہیں منانے کی غرض سے وہ ڈری سہمی کمرے سے نکلی تھی جب نور کا نام سن کر وہ پھر سے اسی خوف کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتی چلی گئی جس خوف کے زہریلے ناگ ہر وقت اس کے گرد پھن اٹھائے رہتے تھے۔ آنکھیں میچے جانے وہ کب سو گئی۔ اس کی آنکھ ملازمہ کی آواز پر کھلی تھی جو اسے جگا کر کسی کی آمد کا بتا رہی تھی۔ اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی جو سوجھی ہونے کی وجہ سے ٹھیک طرح کھل نہیں پا رہی تھیں۔ “کون آیا ہے؟؟” انگلی سے آنکھوں کو دباتی وہ اٹھ بیٹھی۔ اس کی آواز بھاری ہورہی تھی۔ بولتے ہوئے اسے پتہ چلا کہ گلا بہت دکھ رہا تھا۔ ملازمہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی حیان دروازہ دهكیل کر اندر آیا۔ کمرے میں اندھیرا پا کر اس نے ہاتھ مار کر لائٹس آن کیں۔ ملازمہ کے جانے کے بعد وہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس وقت وہ گھر کے عام حلیے میں تھا سرخ ٹی شرٹ کے ساتھ جینز پہنے!! ایرا کی بکھری حالت دیکھ کر اس نے لب بھینچے۔ لمبے بھورے بال بری طرح آپس میں الجھے ہوئے تھے۔ سوجھی آنکھیں اور سوکھے ہونٹ!! “جاؤ شاور لے کر کپڑے چینج کرو شاباش! میں یہیں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔!!!” وہ اتنی نرمی سے بولا کہ وہ ناچاہتے ہوئے بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ دس منٹ کے بعد وہ سفید كیپری شرٹ میں فریش سی اس کے سامنے تھی۔ اس کے گلے میں دوپٹے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ “بےغیرت!!!” اس لفظ نے اس کا سکون برباد کر دیا تھا۔ ہر وقت اس کے کانوں میں گونجتا رہتا۔ “بیٹھو!!!” ۔۔ حیان کے کہنے پر وہ لب سی کر اس کے سامنے بیٹھ گئی ۔۔ “کچھ اور بھی تھا جو تمہیں مجھے بتانا تھا؟؟” اس کا کہنا تھا کہ ایرا نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں خوف صاف نمایاں تھا۔ “نن ۔۔ نہیں ۔۔ کک ۔۔کچھ نہیں بتانا!!!” تیزی سے نفی میں سر ہلاتی وہ کپكپاتے لہجے میں بولی۔ سوجھی آنکھوں سے آنسو پھر سے بہنے لگے تھے۔ کیسی جلن سی جلن تھی!! “جب نور کے ساتھ وہ سب ہوا تم وہاں تھیں؟؟” اس کا ہاتھ تھام کر تهپتھپاتا وہ دهیمے لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ اس کا ہاتھ تھپکتا وہ اسے یقین دلا رہا تھا کہ وہ اکیلی نہیں تھی وہ اس کے ساتھ ہے، وہ اس پر اعتبار کر سکتی ہے!! وہ رو رہی تھی پھوٹ پھوٹ کر ۔۔ تڑپ تڑپ کر ۔۔ اس کے ہاتھ پر چہرہ ٹکائے جھکی وہ اپنے اندر اتنے دن سے پلتی تکلیف باہر نکال رہی تھی آنسوؤں کے راستے!! حیان نے اس کا سر تھپک کر اسے سیدھا کیا۔ “اس رات بائے چانس پولیس موبائل وہاں سے گزر رہی تھی جب کسی کی اطلاع پر اس ہوٹل پر ریڈ پڑا۔ وہ کون تھا یہ پتہ نہیں لیکن اس کی خبر پکی تھی۔ ہمیں وہاں سے لاش ملی اس لڑکی کی۔ لیکن مجرم شاید پہلے ہی فرار ہوچکا تھا۔ اسی رات ایک پریشان سی بوڑھی عورت تھانے آ کر اپنی جوان گمشدہ بچی کی رپورٹ درج کروانے آئی تھی۔ اس کی بوڑھی آنکھیں رو رہی تھیں۔ کیا تم سن رہی ہو؟؟” بولتے ہوئے اس نے ٹھہر کر پوچھا۔ وہ ساکت مجسمہ بنی بیٹھی تھی۔ آنسو تواتر لڑی کی صورت ٹھوڑی تک آ کر ٹھہرتے گود میں گرتے جا رہے تھے۔ “وہ میری دوست تھی، بیسٹ فرینڈ!! بہت پیار کرتی تھی اس لڑکے سے جس نے اسکی عزت ۔۔۔” مشینی انداز میں بولتی وہ یک دم رکی۔ ہچکی لیتی وہ بلند آواز میں رونے لگی تھی۔ “ایرا ادھر دیکھو میری طرف!!!” حیان نے ٹشو سے اس کے آنسو پونچھتے نرمی سے کہا۔۔ “تم تکلیف میں ہو کہ تم اس کے لیے کچھ کر نہیں سکی،، تم ابھی بھی بہت کچھ کر سکتی ہو اس کے لیے جیسے بہت سے لوگ اس کے لیے انصاف مانگنے سڑکوں پر نکل آئے ہیں!!” ایرا نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔ “میں کچھ نہیں کر سکتی، وہ مجھے بھی مار دے گا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے!!!” وہ لب بھینچ کر اسے دیکھے گیا۔ کشادہ پیشانی پر گری لٹ کے پیچھے گہری سوچ کی لکیریں نمایاں ہوئیں۔ سیاہ آنکھیں پر سوچ انداز میں اسے دیکھ رہی تھیں۔ “تمہیں اپنی موت کا ڈر ہے کیا تمهارا ضمیر بھی مر گیا ہے ان لوگوں کی طرح جن کے جسم تو زندہ ہیں لیکن روحیں اور ضمیر مر چکے ہیں۔ ایک بات بتاؤں تمہیں؟ جو جان کسی مظلوم کے کام نہ آ سکے اس کھوکھلے جسم کو مر ہی جانا چاہئے!!! اسکی آواز میں اب سختی تھی۔ وہ اب اسے اس کے لحاظ سے ڈیل کر رہا تھا۔ اسکی باتوں پر اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔۔ “میرا ضمیر زندہ ہے میں بری نہیں ہوں، میں مدد کروں گی آپ کی۔۔ میں ضرور مدد کروں گی میں ان سب کو پھان*سی کے پھندے میں دیکھنا چاہتی ہوں !!”
زور سے گال رگڑتی وہ مظبوط لہجے میں بولی۔ اس کی آنکھیں نفرت سے جل رہی تھیں۔ حیان کی سیاہ آنکھوں کے کانچ چمکے تھے۔
“تو مس ایرا انصاف کی اس جنگ میں ہمارے ساتھ ہیں؟؟”
مظبوط ہتھیلی اس کے سامنے پھیلا کر وہ پر عزم لہجے میں بولا۔
اس نے نیلی آنکھیں جھکا کر اپنے سامنے پهیلی ہتھیلی کو دیکھا۔ گہری سانس لے کر اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ حیان مسکرایا لیکن وہ مسکرا نہیں سکی۔
“اپنے کمرے سے باہر نکلو سب کے ساتھ بیٹھو۔ عرش سے تمہارا رشتہ بچپن سے طے تھا۔ یہ سب ہوتا یا نہ تمہیں اسی کے ساتھ منسوب رہنا ہے۔ اس لیے دل میں گنجائش پیدا کرو۔ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا!!!”
وہ اسے سمجھا رہا تھا بڑے بھائی کی طرح اور وہ خاموش بیٹھی اسے سن رہی تھی۔ یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں تھا لیکن انسان مظبوط ہے وہ بھی سہہ لے گی!!
🍂🍂🍂
بے بی پنک سویٹر کے ساتھ وائٹ شارٹ سکرٹ ٹائٹس میں ملبوس وہ آئینے کے سامنے کھڑی شہد رنگ بالوں کا میسی جوڑا بنا رہی تھی۔
لبوں پر پنک لپ گلوز لگا کر اس نے پنک لانگ شوز پہنے جو اس نے کوپن ہیگن سے خریدے تھے۔ پنک سویٹر کا گلا تھوڑا گہرا تھا اس لیے اس نے گرے لانگ کوٹ نکال کر پہن لیا۔
کچھ دیر پہلے ہی بارش ختم ہوئی تھی۔ بارش نے خوشگوار موسم کو سرد کر دیا تھا۔ مٹی کی بھینی بھینی خوشبو فضا میں تحلیل ہورہی تھی۔
وہ کب سے بور ہورہی تھی ابراھیم نہ جانے کب واپس آتا اس لیے اس نے سوچا قریبی سٹور سے گروسری کر لی جائے۔ اس نے گلے میں چھوٹا سا سٹالر ڈال لیا جس کے دونوں پلو آگے گر رہے تھے۔
ہینڈ بیگ اٹھا کر اس نے اندر کچھ رقم رکھی دروازہ لاک کر کے وہ باہر نکل آئی۔
صاف ستهری سڑک پر قدم رکھتے ہی سوندھی خوشبو میں رچا ہوا کا ایک جھونکا اسے چھو کر گزرا جس سے اس کے جوڑے سے نکلتی لٹیں چہرے پر بکھر گئیں۔
چہرہ بلند کر کے آسمان کو دیکھ کر مسکراتی وہ قدم بڑھانے لگی۔
🍂🍂🍂
چابی سے دروازہ کھول کر وہ اندر آیا۔ لائٹس آف دیکھ کر اسے اچنبھا ہوا۔
“زنیشہ؟؟” ۔۔۔۔
لائٹس آن کر کے اس نے پکارا مگر جواب ندارد۔۔! وہ پریشان ہوگیا اس نے موبائل نکال کر اسے کال کی تو کمرے سے رنگ ٹون بجنے کی آواز آئی اس کے ماتھے پر بل پڑے۔
سینے پر ہاتھ باندھ کر وہ وہیں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے جب وہ دروازه کھول کر اندر آئی اس کے ہاتھ میں تین پلاسٹک بیگز تھے۔
“ارے آپ آ گئے؟؟ باہر کتنی ٹھنڈ ہوگئی ہے آپ نے تو ہاف سلیوز پہنے ہیں روم میں آئیں میں دوسرے کپے نکال کر دیتی ہوں!!!”
اسے دیکھ کر فکر مندی سے کہتی وہ ان دونوں کے مشترکہ روم میں آئی۔ کوٹ اتار کر اس نے سٹینڈ پر لٹکا دیا۔
سٹالر کو اس نے اچھے سے پھیلا لیا جو اب بھی اس کے نازک وجود کی دلکشی چھپانے میں ناکام ہورہا تھا۔ پنک سویٹر کی طرح اس کا مومی چہرہ بھی گلابی ہورہا تھا۔
“کیسی لگ رہی ۔۔۔ “
لانگ شوز اتار کر وہ پلٹتی اس سے پوچھنے لگی تھی جب ابراھیم نے اسے کہنی سے تھام کر جھٹکے سے اپنی جانب موڑا۔ وہ اس اچانک پڑنے والی افتاد پر گھبرا گئی۔
“کیا ہوا ابراھیم؟؟”
اس کے غصیلے تاثرات دیکھ کر وہ چہرہ اٹھاتی مدهم آواز میں بولی۔
“کہا تھا نہ میں نے کہ بغیر مجھے انفارم کیے اور خاص کر اکیلے کہیں نہیں جانا۔۔۔۔! ایک بار میں سمجھ نہیں آتی میری بات؟؟”
اپنے ابلتے غصے پر قابو پاتا وہ حتی الامكان لہجے کو دهیما رکھ کر بولا لیکن پھر بھی اسکا لہجہ سخت ہوگیا تھا جس پر زنیشہ کی آنکھوں میں نمی چمکی۔
اپنی کہنی چھڑوا کر وہ پیچھے ہٹی اس کا سٹالر ان کے قدموں میں گر گیا تھا جس کی پرواہ کیے بغیر وہ تن فن کرتی ٹیرس پر چلی گئی۔ دروازه اس نے زور سے بند کیا تھا۔
یخ بستہ ہواؤں کے بیچ اس کی جانب پشت کئے سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑی تھی ۔ لب بری طرح کچلتی وہ اپنے آنسو روکنے کی کوشش میں ہلکان نظر آ رہی تھی۔
اندر کمرے میں ابراھیم نے لب بھینچ کر اسے دیکھا۔ وہ ان باتوں کو نہیں سمجھتی تھی باہر وہ غیر محفوظ تھی۔ پتہ نہیں کہاں کون گھات لگائے بیٹھا ہو۔ غصے میں اس نے اسے ڈانٹ دیا تھا جس پر وہ اس سے خفا ہوگئی تھی۔
“زنیشہ کمرے میں آؤ!!!”
کبرڈ سے ریڈ بغیر سلیوز کی شرٹ اور ریڈ ہی ٹراؤزر نکال کر اس نے ٹیرس پر جھانکا تو وہ ڈھیٹ بنی وہیں کھڑی تھی۔ یہ لڑکی بھی نہ!!!
“زنیشہ میرے کپڑے پریس کر دو آ کر یا میں خود کر لوں؟؟”
بھاری مسکراتے لہجے میں بول کر وہ اس یخ بستہ موسم میں بھی شاور لینے چلا گیا۔
منہ بنا کر وہ واپس کمرے میں آئی۔ کبرڈ سے کھینچ کر مکمل بلیک ڈریس شرٹ اور جینز نکال کر وہ آئرن سٹینڈ کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
واش روم کا دروازه کھلنے پر بھی وہ اس کی موجودگی نظر انداز کرتی شرٹ پریس کرنے لگی۔ تولیے سے بال پونچھتا وہ گہری نظر سے اسے دیکھنے لگا جس کا نازک سراپا نمایاں ہورہا تھا۔
کمر تک آتے بے بی پنک سویٹر اور وائٹ شارٹ سکرٹ ٹائیٹس میں وہ کوئی چھوٹی بچی لگ رہی تھی۔
وہ اپنے دیهان میں شرٹ پریس کر رہی تھی جب اپنے پیچھے اس کی موجودگی محسوس کر کے اس کے ہاتھ رکے۔ وہ پلٹ کر اس کے مقابل ہوئی اس کے کسرتی سینے اور بازو پر نظر پڑتے ہی وہ گھبرا گئی۔
ڈھیلی بغیر سلیوز کی شرٹ میں اس کا لمبا چوڑا کسرتی جسم بےحد واضح ہورہا تھا۔ چہرہ پھیر کر وہ خوامخواہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
“آئی ایم سوری!!!”
وہ جھک کر مدهم بھاری لہجے میں بولا۔ گیلے بال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے جن میں ہاتھ پھیر کر اس نے جھٹکا تو پانی کی بوندیں زنیشہ کے چہرے پر پڑیں وہ اب بھی خاموش رہی۔
“آئی ایم سوری دل!!”
اس کے طرز تخاطب پر ایک پل کو زنیشہ کا دل زور سے دھڑکا وہ نظریں جھکاتی لب کاٹنے لگی۔
اب اس طرح منائیں گے تو خاک ناراض رہ سکوں گی میں ؟ مزید ان کی نظریں ۔۔ اف اف!!!
دل میں سوچتی وہ کچھ کہنے لگی جب وہ ایک قدم اس کی جانب بڑھا۔
“اب بھی ناراض ہو؟”
وہ قدم پیچھے لیتی آئرن سٹینڈ سے جا لگی۔
“نہیں۔۔!!!”
اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا۔ اپنے آپ کو گھورتی اس کی نرم گرم نظروں پر وہ شدید پزل ہوگئی۔
“دیٹس گڈ!!”
اس کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ پڑتا دیکھ کر وہ لب دبا کر ایک قدم پیچھے ہٹا۔
“دس از فار یو!!!” ۔۔۔ وہ ایک خوبصورت سا کیس اس کی طرف بڑھا کر گویا ہوا۔ زنیشہ نے ایک پل کو رک کر اسے دیکھا پھر لب کاٹتے ہاتھ بڑھا لیا۔
کیس کھولتے ہی ایک خوبصورت سا پنڈنٹ اس کی نگاہوں کے سامنے آیا۔ ننھے جگمگاتے موتیوں کے بیچ الفابیٹ سے “دل” لکھا تھا۔
“تھینک یو اٹس پریٹی!!!”
وہ سرگوشی کے سے انداز میں بولی۔
” یہ پنڈنٹ ہمیشہ پہنے رکھنا اس میں ٹریکر لگا ہے خدا نہ کرے اگر کبھی تم کھو جاؤ تو میں تمہیں اس کی مدد سے ڈھونڈ لوں گا ٹھیک ہے؟؟”
وہ اس کے چہرے پر آئی لٹوں کو گال سے ہٹاتا نرمی سے کہنے لگا۔
پنڈنٹ پر انگلی پھیرتے اس نے سر ہلایا۔
“کیا میں ابھی پہن لوں؟؟”
وہ مدهم لہجے میں بولی اچھا لگا تھا اسے اسکا یوں پرواہ کرنا۔
“ہمم ۔۔۔ میں پہنا دوں؟؟”
وہ اونچا لمبا مرد جھک کر اس کی آنکھوں میں جھانکتا اجازت مانگ رہا تھا۔ وہ مبہوت ہوئی تھی اس کے اس انداز پر۔۔ زبان سے سب کہنا ضروری نہیں ہوتا اس کی نظروں نے اجازت دے دی تھی۔۔
وہ پنڈنٹ کی ہک کھول کر جھکا اس کی پشت پر ہاتھ لے گیا۔ اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں پر ہلکان ہوتی وہ سر جھکا کر کھڑی تھی۔
وہ محض چند انچ کے فاصلے پر تھا اگر وہ ایک قدم بھی بڑھاتی تو اسے مظبوط وجود سے ٹکرا جاتی۔
ہک بند کرتے اس نے سر جھکایا تھا مزید جس سے اس کی سانسیں اسکی نازک گردن کو چھو گئی تھیں وہ گھبرا کر آنکھیں میچ گئی۔
” کیا ہوا؟؟ “
سیدھا ہوتا وہ اس کی میچی آنکھوں کو دیکھتا بھاری آواز میں بولا۔ اس کی کانپتی پلکوں سے نگاہ پهسل کر اس کے کپكپاتے پنکھڑی سے لبوں پر آ ٹھہری۔
“وہ ۔۔۔!!!”
آنکھیں کھول کر وہ اسکی سیاہ آنکھوں میں دیکھتی لب دبا گئی۔
“کیا وہ ۔۔۔؟؟”
ٹراؤزر کی جیب میں ہاتھ ڈال کر وہ ایک قدم اسکی جانب بڑھا۔
“جل گئی!!!” ۔۔۔
وہ مسکان دباتی ناک سکیڑ کر بولی۔
“کون جل گئی؟”
وہ ایک پل کو ٹھہر کر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
“آپ کی شرٹ!!!”
ہاتھ بڑھا کر اسے دور دھکیلتی وہ جلدی سے پلٹی۔ استری سیدھی کر کے رکھنا وہ بھول ہی گئی تھی اس کی موجودگی میں!!
“اوہ شٹ یہ میری فیورٹ شرٹ تھی!!!”
وہ جلدی سے اس کے برابر آتا اپنی فیورٹ شرٹ کا حال دیکھنے لگا۔
“رومینس کی دنیا سے باہر ویلکم ٹو پریکٹیکل لائف!!!” ۔۔ اسے دیکھ کر کھلکھلاتی وہ شرٹ اٹھا کر دوبارہ کبرڈ کی جانب بڑھی۔۔
اس کی پشت دیکھتا وہ بھی ہنس پڑا ۔۔ سر جھکا کر۔۔ دلکشی سے !!!
وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھوں کے شہد رنگ کانچ چمکے تھے۔ کتنا اچھا لگتا تھا نہ وہ ہنستے ہوئے ۔۔
مسکراتے ہوئے وہ دوسری شرٹ نکالنے لگی۔ ہاں اب سب کچھ حسین لگ رہا تھا۔
