No Download Link
Rate this Novel
Episode 42
سردیوں کی سنہری صبح پوری شان سے طلوع ہوئی تھی آسمان پر چمکتا سنہری دائرہ کئی دنوں کے بعد افق کی چادر پر نمودار ہوا تھا۔
شاہوں کے بنگلے میں لان سے خوش کن چہچہاہٹوں کی آوازیں بلند ہورہی تھیں۔ نرم گرم دھوپ میں پرندوں کی آوازیں اور اپنوں کا ساتھ بےپایاں مسرت بخش تھا۔
ایسے میں جہاں لان میں سب خوش گپیوں میں مشغول تھے وه اوپری منزل پر اپنے کمرے کی بالکنی میں ریلنگ پر کہنی ٹکائے ایک ہاتھ سفید ٹراؤزر کی جیب میں اڑسے نیچے لان میں دیکھ رہا تھا۔
گہری بھوری آنکھیں دھوپ کی کرنیں پڑنے سے شہد رنگ لگنے لگی تھیں۔ گرے کسرتی سینے سے چپکی ٹی شرٹ کے ہمراہ سفید ٹراؤزر زیب تن کئے پیشانی پر بکھرے بالوں میں وه پرسکون لگتا تھا۔
سفید چہرہ ٹھنڈی ٹھنڈی دھوپ کی ذرا ذرا نرم تمازت سے ہلکا ہلکا سرخ تھا۔ سیاہ داڑھی ذرا بڑھی اور بےترتیب ہوچکی تھی۔ ہر وقت کے پرفیکٹ عرش سے یہ ظاہری بکھرا سا عرشمان شاہ دل موہ لینے کی حد تک وجیہہ لگ رہا تھا۔
بالکنی کے کھلے دروازے سے اسکی پشت دیکھتی وه ہاتھ میں کافی کے دو کپ تھامے اسکی طرف چلی آئی۔
عرش نے اسکی موجودگی محسوس کی تو پلٹ کر ریلنگ سے پشت لگاتا اسکے ہاتھ سے بهاپ اڑاتی کافی کا کپ تھام گیا۔
ہلکی نیلی ویلوٹ کی گھٹنوں تک آتی چنٹ فراک کے ساتھ اسکی رنگ کی كیپری پہنے دوپٹہ گلے میں لیے وه آسمان سے اتری کوئی پری ہی لگ رہی تھی ہلکے نم بھورے بال پشت پر کھلے تھے۔
اسکی نظروں سے پزل ہوتی وه آگے بڑھتی ریلنگ سے نیچے دیکھنے لگی۔ نیلی آنکھیں لان میں ٹکی تھیں جبکہ دل اور سماعت برابر کھڑے عرشمان پر لگے تھے۔
جب سے ان کا رشتہ مکمل ہوا تھا اسے بہت حیا محسوس ہوتی تھی اس سے اور وه اسکی حالت سے لطف اٹھاتا تھا۔ جب جب اسے خود سے لجاتے شرماتے دیکھتا تھا لطیف سا احساس اسے چھو جاتا تھا۔
” آپ نے ان دونوں کے ساتھ کیا کیا۔۔۔؟ “
ہمت کر کے وه چہرہ اسکی جانب موڑتے کہہ اٹھی۔ عرش نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہاتھ بڑھا کر اسکی گیلی زلفوں کو انگلیوں کی پوروں پر محسوس کیا…
” کچھ اور بات کرتے ہیں ۔۔! “
لہجہ نرم مگر دو ٹوک تھا اسے اپنے کام کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں تھا۔ وه سمجھ کر سر ہلا گئی وہ مسسل اسے دیکھ رہا تھا گہری بھوری آنکھوں میں جذبات کی نرمی لیے۔۔ کتنے وقت کے بعد تو یوں سکون سے اسکا دیدار کرنا نصیب ہوا تھا۔
” نہ جانے انہیں کیا ہوگیا ہے ۔۔۔ “
اسے دیکھ کر دقت سے مسکراتی وه کافی گھونٹ گھونٹ پینے لگی۔
” محبت ہوگئی ہے ۔۔۔!!! “
اسکی سوچ پڑھتا وه جھک کر اسکی نیلی کانچ سی چمکتی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا لب دبا گیا۔ وه نیلی آنکھیں پھیلائے ان میں دنیا جہاں کی حیرانیاں لیے اسے دیکھے گئی …
اسکے یہ انداز ایرا عرشمان کو ہضم کرنے میں وقت لگنا تھا۔ کہاں وه کھڑوس لیے دئے انداز والا عرش اور کہاں یہ
آنکھوں میں شرارت لیے محبت سے لبریز لہجے والا عرش ۔۔۔!
” اچھاااا ۔۔۔ مجھے پتہ ہے میں ہوں ہی اتنی پیاری کہ سب کو محبت ہوجاتی ہے مجھ سے ۔۔۔!!! “
وه بھی جون میں آتی اٹھلا کر بولی نیلی آنکھیں شرارت سے چمکی تھیں۔
” اہاں ۔۔۔! خوبصورت تو ہو ۔۔!!! “
وہ سر کو خم دیتا آرام سے مان گیا۔ گہری نظریں اسکے نقش نقش پر جمنے لگی تھیں۔
وه گلابی پڑ گئی خود کو حسین کہنا آسان تھا مگر کون اسے بتائے کہ جب وه یوں دیکھ کر دهیمے لہجے میں بات کرتا ہے تو دل بیچارے کا حال بےحال ہونے لگتا ہے۔
” اہمم ۔۔۔ تو اگر میری خوبصورتی ختم ہوجائے تو آپ کی محبت پھر بھی رہے گی ۔۔؟ “
بال کان کے پیچھے اڑستی وه اسکے ہاتھ سے خالی کپ تھامتی کچھ فاصلے پر دیوار کے ساتھ رکھی چھوٹی میز پر رکھ کر واپس اسکے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔
وه اسکی کاروائی خاموشی سے دیکھتا وه اسے کاندھوں سے تھام کر مقابل کھڑا کرتا دهیمی بھاری آواز میں کہنے لگا۔
” محبت کا تعلق دل سے ہوتا ہے چہرے سے نہیں ۔۔۔ !!! کسی کی کوئی بات ،، کوئی ادا دل میں کھب جاتی ہے ۔۔۔ محبت ایسی ہی ہوتی ہے یہ صورتوں کی محتاج نہیں ۔۔۔!!!
جوانی ڈھل جاتی ہے وجود کی دلکشی مٹ جاتی ہے ، خوبصورتی ماند پڑ جاتی ہے مگر محبت کا ظاہر سے تعلق نہیں۔
اگر ہوتا تو یہ شخصیت کے زوال سے مٹ جاتی، بس جوانی تک محدود رہتی۔ لیکن یہ امر رہتی ہے ۔۔۔ ازل سے ابد تک ۔۔۔ تم سے میں تک ۔۔۔ ہم تک ۔۔۔! یہ ہمیشہ رہے گی ۔۔۔!!! “
وه بول رہا تھا اور وه۔۔۔ سر اٹھائے دل جھکائے مسحور سی اسے دیکھ رہی تھی سورج کی کرنیں عرش کی پشت پر چھپتی اس ننھی پریوں کی کہانی سے آئی لڑکی پر پڑنے سے قاصر لگتی تھیں۔
لفظوں کی چاشنی کو سماعت میں انڈیلتے دل کے نہا خانوں میں محفوظ کرتی وه ہولے سے مسکرائی۔ پنکھڑی سے نرم لبوں کی مسکراہٹ عرش کے لبوں کو بھی مسکراہٹ میں ڈھال گئی۔
ہولے سے مسکراتا وه بےساختہ جھک کر اسکے پھولے سے گال پر نرمی سے لب رکھ گیا۔
وه جلدی سے پیچھے ہٹتی قدم تیزی سے پیچھے لیتی پلٹی اور بغیر اسکی جانب دیکھتے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی۔ اب ایرا کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ تھی۔
اسکی پشت دیکھتا وه سر جھکا کر ہنس دیا۔
” عرش یار اوپر کیا کر رہا ہے تو ۔۔۔ آ جا نیچے ۔۔۔!!! “
حیان کی آواز پر اس نے ریلنگ سے نیچے جھانکا تو وه ہاتھوں کا چھجا بنائے دھوپ کے باعث آنکھیں سکیڑے اسکی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔
” آتا ہوں ۔۔!!! “
آواز لگاتا وه بالکنی کا دروازه پار کرتا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
❤❤❤
” آپ کو میری بلکل بھی پرواہ نہیں ہے ۔۔!!! “
ناراضگی سے کہتی وه اسکے بازو پر پٹی باندھ کر اسے شرٹ پہنانے لگی۔ شاور لینے کے دوران پٹی گیلی ہوچکی تھی جس کی وجہ سے زنیشہ نے دوبارہ سے بینڈیج کردی تھی۔
جب سے اسے پتہ چلا تھا ابراھیم کو بازو میں گولی لگی ہے اسے اسکی تکلیف خود میں محسوس ہورہی تھی۔ اسکے واپس آنے پر وه جتنا خوش ہوئی تھی اسکے زخمی بازو کو دیکھ کر اتنی ہی بےکل ہوئی تھی۔
اسکے ناراض لہجے پر ابراھیم نے شرٹ میں سے سر نکالتے اسے ابرو اچکا کر دیکھا جو اسے بغیر دیکھے منہ پھلائے شرٹ پہنا رہی تھی۔
” دل ، تمہاری ہی تو پرواہ ہے مجھے ۔۔۔! “
وه بغیر وجہ جانے اسے منانے لگا تھا۔
” بلکل غلط ۔۔۔ اگر ہوتی تو میرے لیے اپنی حفاظت کرتے ۔۔۔ کتنا خو*ن نکلا ہوگا ۔۔ مجھے درد ہورہا ہے ابراھیم ۔۔۔! “
بولتے ہوئے اس نے آنکھیں تیزی سے جھپکی تھیں۔ اسکی شہد رنگ آنکھوں میں نمی دیکھتا وه تڑپ اٹھا تھا جیسے۔
” میرا بچہ ۔۔۔ ادھر آؤ ۔۔۔! “
محبت سے لبریز لہجے میں اسے پچکارتا وه دوسرا ہاتھ بڑھا کر اسے سینے سے لگاتا اسکے بالوں پر لب رکھ گیا۔
ان سے کچھ فاصلے پر بیڈ پر لیٹیں گلابی باربی فراک میں پنڈلیوں تک پہنچتی بے بی پنک جرابوں میں ٹکر ٹکر انہیں دیکھتیں ابرش اور شِبرہ نے منہ پھلاتے رونا شروع کر دیا۔
ماما بابا کی بےتوجہی انہیں پسند نہیں آئی تھی جیسے۔
زنیشہ فورا سے الگ ہوتی ٹیبل سے فیڈر اٹھا کر دونوں کو پلانے لگی۔ دونوں پریاں ننھے سے ہاتھ کی مٹھی میں اسکے بال جکڑتیں ٹکر ٹکر اسے دیکھتیں پرسکون ہوگئیں البتہ بڑے بڑے نین کٹورے گیلے تھے۔
زنیشہ نے بےساختہ جھک کر باری باری دونوں کی آنکھیں چوم لیں۔ شبرہ نے مٹھی میں تھامے اپنی ماما جان کے بال اپنی طرف کھینچے تھے جس پر زنیشہ کے منہ سے ہلکی سے چیخ نکل گئی۔
ابراھیم فورا جھک کر اپنی دونوں گُڑیوں کے ہاتھوں سے اسکے بال نکالنے لگا۔
” نہ میرا بیٹا ۔۔ مما کے بال نہیں کھینچتے ، میرے پکڑ لو مگر ماما کو ہرٹ نہیں کرنا۔۔۔! ماما تو صرف پیار کئے جانے کے قابل ہیں ۔۔۔! “
ان دونوں کو دیکھ کر پیار سے کہتا آخری الفاظ کہتے ہوئے وه اسکے کان کی طرف جھک کر گھمبیر آواز میں بولا تو وه سٹپٹا گئی۔ فیڈر خالی ہوتے دیکھ کر وه رومال سے ان کا منہ صاف کرتی اٹھی۔
” آپ انہیں سنبهالیں مجھے کچھ کام ہیں ۔۔۔! “
ڈھیلے ہوتے جوڑے کو کھول کر دوبارہ ہاتھ میں لپیٹ کر رف سا جوڑا بناتی وه جانے لگی جب ابراھیم کی آواز پر اس کے قدم تھمے۔ وه زخمی بازو گود میں دھڑے ذرا سا جھکتا اپنی دونوں پریوں سے مخاطب تھا۔
” ماما اب بابا کو ویسا پیار نہیں کرتی نہ ۔۔۔؟ بابا کو درد بھی ہورہا ہے ۔۔۔ کوئی بات نہیں میری ابرش اور شبرہ تو میرے پاس ہیں نہ ۔۔۔؟ “
وه دونوں کے گال پر باری باری انگلی رکھتا منہ بنا کر بولا تو دونوں جانے کیا سوچ کر کھلکھلانے لگی تھیں۔ وه محض اسے تنگ کرنے کو بولا تھا لیکن وه اتنی حساس تھی کہ اسکی بات دل پر جا لگی تھی۔
کام کو بھاڑ میں بھیجتی وه واپس بیڈ پر چڑھتی اسکے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔ ابرش اور شبرہ کو سیدھا کر کے لٹاتی وہ بلینکٹ ٹھیک کرتی اسکی جانب متوجہ ہوئی جو لب دبا کر مسکراہٹ چھپاتا اسکی کروائی ملاحظہ کررہا تھا۔
” آپ کو پین ہورہا ہے ؟ آپ نے بتایا بھی نہیں ۔۔۔! “
ہاتھ بڑھا کر اسکے گال پر رکھتی وہ اسکا چہرہ اپنی جانب کرتی فکرمندی سے پوچھنے لگی۔
” ہاں ۔۔۔ ہو تو رہا ہے مگر یہاں ! “
گال پر انگلی رکھتا وه تاثرات یوں بنانے لگا جیسے واقعی میں تکلیف ہو۔ وه اسکی ناٹنکی دیکھتی عش عش کر اٹھی۔
” اچھا دکھائیں تو ۔۔۔! “
اس نے ابراھیم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے اپنی جانب جھکاتے اسکے گال میں زور سے دانت گاڑ دیے۔ پھر پیچھے ہٹ کر آنکھیں پٹپٹا کر گویا ہوئی۔
“ٹھیک ہوا ۔۔۔؟”
وه سیاہ آنکھیں سکیڑ گیا۔ اسکی زنیشہ دن بدن چالاک نہیں ہوتی جارہی تھی۔۔۔؟
” میں ناراض ہوں ۔۔! “
سنجیدہ ہو کر کہتا وه دائیں کروٹ لیٹ گیا جو زنیشہ کی طرف تھی۔ بایاں بازو زخمی تھا سو وه اسکی جانب پشت نہ کر سکا۔
” الے الے میلا بے بی ناج ہے ۔۔۔؟ “
جھک کر اسکی گردن پر ٹھنڈے ہاتھ لگاتی وه مسکراہٹ دبا گئی۔ فورا سے اسکا ہاتھ پیچھے ہٹاتا وه خفا نظر اس پر ڈالتا آنکھیں موند گیا۔
وه شدید امڈ آتی ہنسی روکتی شبرہ اور ابرش کو باری باری اٹھا کر اپنے اور اسکے درمیان لٹاتی خود بھی بستر پر دراز ہوگئی۔
ابراھیم نے نرم سا وجود محسوس کرتے آنکھیں کھولیں تو اسکی ننھی گڑیا اسکے ساتھ لگی معصومیت سے اسے دیکھ رہی تھی۔
وه ساری ناراضگی بھاڑ میں بھیجتا اسکے پھولے نرم سے گال چومتا اسکے ساتھ لاڈ کرنے میں مصروف ہوگیا۔
