No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
دهند اڑاتی فضا میں بھاری قدم اٹھاتا وہ تارکول کی صاف ستھری سڑک پر ناک کی سیدھ میں چلتا جا رہا تھا کان میں لگی ڈیوائس کے زریعے وہ دوسری جانب کسی سے رابطے میں تھا۔
سیاہ جینز میں جیکٹ کی زپ گردن تک بند کئے وہ ٹھنڈ سے سرد پڑتے ہاتھوں کو جیکٹ کی جیب میں ڈال کر آس پاس نظر دوڑاتا جا رہا تھا۔۔
گلے میں لپٹے مفلر کو اس نے ناک تک کھینچا ایسی قہر برساتی ٹھنڈ تھی کہ خدا کی پناہ!!!
سیاہ سرد آنکھوں سے جگہ کا تعین کرتا وہ سڑک سے فٹ پاتھ پر آتا ایک گلی میں داخل ہوگیا۔ بوسیدہ سے مکان کے دروازے کے سامنے رک کر اس نے ناک کیا دروازه فوری کھل گیا جیسے وہ انتظار میں تھا!
ابراھیم نے ایک لفافہ اس کی طرف بڑھایا۔۔
“دو دن کے لیے ملازم ہٹا رہا ہوں کرنل کے گھر سے، اس کی ماں بیمار ہے اس لیے وہ اپنی جگہ تمہیں یعنی اپنے چچا زاد بھائی کو بھیجے گا۔۔۔! مجھے ایک ایک پل کی خبر چاہیے خاص طور پر اس شخص کی۔۔”
کہتے ساتھ اس نے صالح کی تصویر اسے دکھائی۔۔
“کام محتاط طریقے سے ہونا چاہیے انڈرسٹیڈ؟”
وہ ازلی حکمیہ مظبوط لہجے میں بولا جس پر مقابل سر ہلا گیا۔۔
“يس سر کام ہوجائے گا!!”
ابراھیم پلٹا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ اس کے دل میں آگ سی لگ چکی تھی جو اسے سمجھ آ رہا تھا وہ سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔۔ بعض اوقات آگاہی عذاب کیوں ہوتی ہے؟ ۔۔۔
🍂🍂🍂
ماحول میں تناؤ سا در آیا تھا ہائی کورٹ کے جج اور نعیم بیگ نے سٹیج پر بیٹھے پہلو بدلہ تھا ان کے بلکل سامنے کرائم رپورٹرز اور جرنلسٹس ایک قطار میں بیٹھے تھے۔۔۔ ہمیشہ کی طرح رمل کے نڈر اور بےباک انداز میں کیے گئے سوال نے انہیں مشکل میں ڈال دیا تھا۔۔! “سر عوام آپ سے انصاف کی امید کرتی ہے حرا انور ، نور مقدم اور اس سے قبل جانے کتنی لڑکیاں! ہم کرائم رپورٹرز روز ہزاروں کی تعداد میں ایسے کیسز دیکھتے ہیں!
عقل حیران رہ جاتی ہے کس طرح انسان انسانیت کی سطح سے گر کر درندوں کو بھی مات دینے پر اتر آیا ہے ایسے ایسے شرمناک واقعات ہمارے سامنے آتے ہیں کہ ہم سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں قیامت کیوں ضروری ہے!
سر آپ سے انصاف کی امید کرتے ہیں کیونکہ ہمارے لئے آپ کو اس عہدے پر مقرر کیا گیا ہے اگر ان حالات میں انصاف کا ترازو تھامنے والا ہی آنکھیں پھیر لے تو لوگ کہاں جائیں؟
کس سے مدد مانگیں؟ یا ایک حل ہے اس مسئلے کا، نہروں ندیوں پر مچانیں بنا دینی چاہیں جہاں سے لوگ چھلانگیں لگا کر مر جائیں۔۔!!”
اس کی آواز تلخ سے تلخ ہوتی گئی جج نے مائیک قریب کیا۔۔
” نور مقدم کا کیس، ٹھیک ہے ہم اس پر کام کریں گے لیکن ‘سی ایم’ کے بیٹے پر جو الزام لگایا جا رہا ہے وہ بھی کچھ بہتر بات نہیں پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔۔
آپ سب کی اطلاع کے لیے کیس کورٹ تک جائے گا کیونکہ واقعی اس سب پر قابو پانے کی ضرورت ہے امید ہے کسی کو مايوسی نہیں ہوگی۔۔۔!!”
ہموار لہجے میں کہتے وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ کیمرہ مین بھی آہستہ آہستہ وہاں سے جانے لگے سب کرا**ئم رپورٹرز ایک دوسرے سے اسی موضوع پر بات کر رہے تھے جب نعیم بیگ رمل کے سامنے آ ٹھہرے!
“رمل جی میں کہہ رہا تھا کہ حالیہ ‘پی ایم’ پر توجہ دیں، یا ہم سمجھیں کہ آپ نے ان سے ہاتھ ملا لیا ہے چچ چچ!!!
جب میڈیا پر یہ خبر آئے گی کہ انصاف کی دلدادہ رمل یوسف نے پرائم منسٹر سے ہاتھ ملا لیا ہے اور شاید ان کے درمیان کچھ چل رہا ہے تو آپ کی کریڈیبلٹی پر کتنا اثر پرے گا سوچا کریں نہ ہم آپ کا بھلا چاہتے ہیں رمل جی آپ بھی ہماری بھلائی کا خیال رکھا کریں!!”
مکروہ مسکراہٹ چہرے پر سجاتا وہ اسے سر تا پیر دیکھ کر جا چکا تھا رمل نے کندھے اچکائے جیسے کہا ہو میری جوتی کو بھی فرق نہیں پڑتا۔۔۔!!
سیاہ سویٹر کو ٹھیک کرتی وہ بیگ اٹھا کر این جی او سے باہر نکلی اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اس پر نظر رکھے ہوئے ہے! اس نے تیز کالی آنکھیں گھمائیں۔۔
سر جھٹکتی وہ پورے اعتماد سے چلنے لگی، گاڑی اس نے ریپئرنگ کے لیے بھیجی تھی اب اس کا ارادہ تھا قریب دس منٹ کے فاصلے پر اس کی دوست کا گھر تھا سو وہ وہیں جا رہی تھی!!!
چلتی چلتی وہ رکی دائیں جانب چہرہ موڑ کر دیکھا تو لكڑی کا چھوٹا سا دروازه کھلا ہلکا ہلکا سا ہل رہا تھا! اندر بڑا سا لان نظر آ رہا تھا دور دور تک سبزہ تھا پھولوں کی بیلیں خوبصورت انداز میں درختوں سے لپٹی ہوئی تھیں!
اس کی آنکھوں میں ستائش ابھری بےساختہ اس کے قدم دروازے کی جانب اٹھنے لگے اس کا پہلا قدم اندر پڑا جب کسی نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنی اوڑھ کھینچا۔۔
رمل نے بغیر اسے دیکھے ایک زور دار پنچ مارا جو اس کے منہ پر لگا وہ دوہرا ہو کر منہ پر ہاتھ رکھ گیا…!!
ابھی وہ دوسرا پنچ مارتی جب میر حاصل نے اس کے دونوں ہاتھ مظبوطی سے پکڑ کر اسے دیوار سے لگا دیا۔۔ رمل نے اس کا چہرہ دیکھا اسے شاک سا لگا تھا۔۔۔۔!!!
یکایک اسکی سیاہ غزالی آنکھوں میں غصہ در آیا روشن پیشانی پر بل پڑے تھے۔۔۔
“تم؟ ہاتھ چھوڑو میرا پھر بتاتی ہوں تمہیں رمل یوسف کے ساتھ ایسی حرکت کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔!!”
اپنی کلائیاں چھڑانے کی کوشش کرتی وہ کھا جانے والے لہجے میں بولی بس نہ چل رہا تھا اس کا سر پھاڑ دے۔۔۔!
“ہر انجام قبول ہے اگر جو آپ روٹھا نہ کریں!!”
اس کے غصے سے تنے نقوش کو فرصت سے دیکھتا وہ لب دبا گیا مسکراہٹ ذرا ذرا سی گھلنے لگی تھی اس کے وجیہہ نقوش میں نتیجتاً گال میں ڈمپل ذرا سا جھلک دکھلا گیا جس پر وہ مزید سیخ پا ہوئی!
“تمہیں شرم نہیں آتی ملک کے ‘ پی ایم ‘ ہو کر کیسی حرکتیں کر رہے ہو؟”
اسے جوں کا توں خود پر قابض دیکھ کر وہ خود کو جھٹکتی اس کی مظبوط گرفت سے چھڑوانے لگی جب بولی تو لہجہ آگ اگلتا تھا جبکہ تیکھے نقوش مزید تیکھے دکھنے لگے تھے!
اسے سخت مزاحمت پر اترتے دیکھ کر وہ وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو دیوار سے ہٹا کر اس کی کمر سے لگا گیا یوں دونوں میں فاصلہ مزید سمٹ گیا وہ شرمائی لجائی بلکل نہ۔۔۔!
اسے شرم ورم نہیں آتی تھی کیونکہ ایسے موقعوں پر لڑکیوں کی پلکیں لرزنے لگتی ہیں گالوں پر گلال سا بکھر جاتا ہے اسے سخت چر لگتی تھی ایسی فضول حرکتوں سے!
ہائے اس کا والا تو یہ آرزو دل میں دبا کر ہی جہانِ فانی سے کوچ کرنے والا ہے!!!
اسے مکمل اپنے حصار میں لے کر وہ سر جھکاتا ددھیمے لہجے میں بولا پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو ماحول کو رومانوی بنانے میں برابر ساتھ دے رہی تھی لیکن اس مظبوط لڑکی کے جذبات وہاں چلتی ہوا کی طرح سرد تھے!
“پی ایم کا دل نہیں ہوتا کیا؟ دل بھی وہ جو کسی بدتمیز حسینہ کو دیکھتے ہی بےایمان ہونے لگتا ہے۔۔۔!!”
اس کی شہد رنگ آنکھوں کے کانچ سیاہ نوکیلے کانچوں سے ٹکرائے سے تھے جو اسے دل میں کہیں اندر کھبتے سے محسوس ہوئے تھے۔۔
اللّه۔۔۔!!! وہ ایسے کیوں دیکھتی تھی پھر قصوروار ‘دلِ نادان’ کو ٹھہرایا جانا تھا۔۔۔!
“میر، میں آخری بار کہہ رہی ہوں مجھے چھوڑو نہیں تو آئندہ میری شکل دیکھنے کے لیے بھی ترسو گے” ۔۔
وہ سپاٹ لہجے میں بولی وہ جو کہہ رہی تھی کر گزرنے کی ہمت اور طاقت رکھتی تھی!
جبکہ وہ ۔۔۔۔ وہ تو اس لمحے میں مقید ہوا تھا جب اس جان کی دشمن، فتنہ ادا نے اس کا نام پکارا تھا۔۔۔!!
وہ اسے آزاد کرتا پیچھے ہٹا جب وہ جھٹکے سے دور ہوئی کب کی کھینچا تانی کے نتیجے میں سیاہ چمکیلے بال جوڑا کھلتے ہی آبشار کی مانند سیدھ میں گرے تھے!
وہ اس کے گہرے الفاظ پر لب سختی سے بھینچے بالوں کو گول مول ڈھیلے جوڑے میں مقید کرنے لگی جبکہ تیز آنکھیں اس کے کان میں چمکتے ڈائمنڈ ٹاپس پر اٹکی تھیں!
وہ خاموش مگر بولتی نگاہوں سے اسے مسلسل تکے جا رہا تھا سرد ہوا کے باعث سنوارے بال بگڑے انداز میں ماتھے پر بکھرنے لگے تھے۔۔۔
وہ گہری سانس کھینچ کر آنکھیں سکیڑتی ایک قدم اس کی طرف بڑھی جب وہ بولی تو لہجہ پرسکون تھا۔۔
” پہلی بات۔۔۔۔! میں کسی غیر سے کیوں ناراض ہوں گی؟ دوسری بات۔۔۔! اپنے دل کو سنبهال کر رکھیں یہ دل بڑا ذلیل کرواتا ہے،،، تیسری بات۔۔۔!! آٹا کونسا کھاتے ہو؟ کافی سٹرونگ ہو!!”
وہ ہلکے پھلکے لہجے میں بولی وہ رمل تھی اسے دل توڑنے نہیں آتے تھے۔۔۔!
اس کی آخری بات پر وہ دھیرے سے ہنسا گال میں گڑھا سا بنا تھا کتنا وجیہہ لگتا تھا وہ ہنستے ہوئے اس کے دل سے بےساختہ دعا نکلی۔۔
” خدا کرے یہ مسکراہٹ تم سے کبھی نہ روٹھے! ” ۔۔
اپنے دل کی بغاوت پر وہ ساکت سی رہ گئی وہ دھیمے لہجے میں کہنے لگا تھا۔۔۔
“محبت کی چاشنی گھولتا ہوں ،، اس سے مظبوط بھلا کچھ ہوسکتا ہے؟ جب یہ کسی کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے تو پھر کبھی نہیں چھوڑا کرتی چاہے ‘دلِ معصوم’ پر ہزار قیامتیں گزر جائیں یہ اس سے جدا نہیں ہوتی۔۔۔!! “
لفظوں کا حق ادا کرتا وہ ایک آخری نظر اس پر ڈال کر چلا گیا وہ خاموش سی اس کے الجھے الفاظ کو سلجھے انداز میں مفہوم دے رہی تھی۔۔۔!
ہاں وہ ناراض تھی اس سے، خفا تھی اس سے کہ وہ نہیں آیا تھا وہ خود بڑھی تھی اس کی طرف ،، وہ ہر کسی کے پیچھے نہیں جاتی لیکن اس نے اس سے وضاحت بھی تو طلب نہیں کی تھی کیا پتہ کچھ ایسا ہوگیا ہو جو اسی کی نگاہوں سے پرے ہو!
آج اس کے انداز نے اسے بہت کچھ باور کروا دیا تھا۔۔۔! وہ اس سب میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔۔۔!
محبتیں روٹھ جاتی ہیں ساتھ چھوٹ جاتے ہیں!
وہ مشی نہیں بننا چاہتی تھی وہ محبت نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔!
دور کہیں محبت مسکرائی تھی اس کی بچکانہ سوچ پر۔۔! محبت بھی بھلا خود کی جاتی ہے؟ یہ تو بس ہو جاتی ہے۔
🍂🍂🍂
“حاوز؟ تم جاگ رہے ہو؟”
وہ صبح سے کمرے سے باہر نہیں نکلا تھا غزل کو فکر ہوئی تھی اس کی۔۔ بظاہر وہ اسے تنگ کرتی تھی اسے تپاتی تھی لیکن دل سے اس کا احساس کرتی تھی۔۔
جس حالت میں وہ لایا گیا تھا اسے دیکھ کر غزل کو اس سے ہمدردی سی ہوگئی تھی وہ کم عمر ہونے کے باوجود اس کا خیال رکھتی تھی۔۔
اس سے اتنا فرق پڑا کہ صالح جو کسی سے بات تک نہیں کرتا تھا اس کی کچھ باتوں کا جواب دینے لگا تھا چاہے لہجا کتنا ہی تلخ ہوتا اس کا اندر کچھ بھی محسوس نہیں کرتا تھا۔۔
جذبات جیسے جامد سے ہوگئے تھے یہی تو محبت کی ادا ہے جہاں مشائم ہر پل اس کے لیے تڑپتی تھی وہیں صالح یوسف بھی بےسکون سا رہتا تھا یوں لگتا تھا وہ آدھا ادھورا سا تھا۔۔
کچھ تو وہ کہیں کھو کر آیا تھا لیکن کیا؟ یہ وہ جان نہیں پاتا تھا! غزل کو اس کے الجھے انداز بھانے لگے تھے اسے اچھا لگتا تھا وہ اور بس!
اس نے اپنے دل کو بےاختیار نہیں ہونے دیا تھا ، اندر کہیں اسے لگتا تھا کہ وہ کبھی اس کا نہیں ہوسکتا اس لیے اس نے اپنے دل کو بہلا لیا تھا اور ٹھیک کیا تھا زندگی اتنی ارزاں تو نہیں کہ اسے روگِ جاں بنا کر ضائع کر دیا جائے!
اب وہ محض اسے چڑانے کے لیے یہ سب انداز اپنایا کرتی تھی! وہ ناک کر کے اندر آتی اس سے پوچھنے لگی وہ جاگ رہا تھا لیکن اس کی بات کا جواب نہیں دیا۔۔
وہ اس کے بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی چہرہ کچھ سنجیدہ تھا!
“حاوز ایک ضروری بات بتانی تھی!”
سیاہ ویران آنکھیں چھت سے ہٹا کر وہ اسے دیکھتا اٹھ بیٹھا،، کسرتی سینے پر ہاتھ باندهتا وہ اس کے بولنے کا منتظر تھا۔۔
“بابا صاحب اور ذاکر فرار ہوگئے ہیں!!!”
اس نے گویا دهماکا کیا تھا وہ جھٹ سے سیدھا ہوا کالی آنکھوں میں طیش نمایاں ہوا۔۔
“ہاؤ از اٹ پوسیبل؟”
وہ ایجنسی جانے کے ارادے سے اٹھنے لگا جب غزل نے اس کا ہاتھ تھام کر روکا۔۔
“بابا نے کہا ہے یہ ہم دونوں سے متعلق نہیں ہے وہ سب اب آرمی کی ذمہ داری ہیں ہمارا کام ختم ہوچکا۔۔۔! ہم میجر ابراھیم سے ملے تھے نہ جس نے تم سے فائٹ کی تھی، پچھلے دنوں آیا بھی تھا گھر پر بابا نے بلایا تھا وہی لیڈ کر رہا ہے یہ کیس! میں صرف تمہیں انفارم کرنا چاہتی تھی! وہ پکڑ لیں گے انہیں بہت قابل ہیں!!”
وہ اسے پرسکون کرتی بولی تھی پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“تمہیں کچھ چاہئے؟” ۔۔۔ جاتے جاتے وہ رکی۔۔!
“صرف خاموشی!!”
مختصراً کہتا وہ واپس لیٹ گیا وہ سر ہلاتی مسکرائی تھی جیسے اسی جواب کی امید تھی!
اس کے جانے کے بعد وہ بتی بجھا کر کروٹ کے بل لیٹ گیا۔۔۔! یہ انداز؟ وہ الجھا اس نے نیم اندھیرے میں بیڈ کی دوسری جانب دیکھا جو خالی تھی! کیا وہاں کبھی کوئی تھا؟ یوں لیٹنے پر اس کا دماغ کیوں الجھ رہا تھا۔۔
وہ پھر سے سیدھا ہو کر لیٹ گیا اس کی گہری آنکھیں تاریکی کا سینے چیرنے کی کوشش میں تھیں جبکہ دماغ۔۔۔ اسے سوچ رہا تھا!
تو جس سے وہ ملا وہ میجر ابراھیم تھا، پہلی ملاقات میں وہ اس سے لڑا تھا دوسری میں اس کے گلے لگا تھا اس کا انداز اور الفاظ اسے شدید الجھن زدہ کر رہے تھے!
بابا؟ کوئی اپنے بچوں کو یوں چھوڑ کر جاتا ہے؟ وہ سر جھٹکتا اٹھ بیٹھا سر میں درد سا ہونے لگا تھا! اسے دیکھنے پر وہ چونکا تھا ایسا لگا تھا یہ چہرہ اس نے دیکھ رکھا ہے لیکن جب آئینے میں خود پر نظر پڑی تو چند پل وہ ہل نہ سکا تھا!
معمولی سے فرق کے ساتھ وہ ہوبہو اس جیسا تھا۔۔۔! لیکن خیر دنیا میں اتفاق بھی تو ہوتے ہیں ممکن ہے وہ اس جیسا دکھتا ہو اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ ان کا کوئی تعلق ہے!
وہ انجان تھا ابھی نہیں جانتا تھا کہ ان میں کس قدر گہرا تعلق ہے یہ خون کی کشش ہی تھی جو اس کے دل کو بے چین کرنے لگی تھی۔ یکایک وہ سر دونوں ہاتھوں میں تھام گیا!
دماغ میں درد کی تیز لہریں سی اٹھنے لگی تھیں! سر جھٹکتا وہ دراز سے وہ ٹیبلٹ نکال کر کھانے لگا جو وہ سر درد ہونے پر کھایا کرتا تھا! اس بات سے بے خبر کہ سارا فساد ہی ان دوائیوں کا تھا!
🍂🍂🍂
“عرش کہاں تھے صبح سے؟ نہ تمہارے آنے کا پتہ چلتا ہے نہ جانے کا!!” ۔۔۔۔۔
اسے لاؤنج سے گزرتے دیکھ کر ارشما ذرا غصے سے بولی۔ عرش نے رک کر اسے دیکھا جو کچن کے دروازے میں کھڑی تھی وہ سخت خفا لگتی تھی۔۔
اس نے چہرہ گھماتے ماہ بیر کو مدد طلب نظروں سے دیکھا جو میچ دیکھ رہا تھا اس نے اسے نظرانداز کرتے کہا۔۔
“مجھے یوں مت دیکھو ٹھیک کہہ رہی ہیں وہ جب مرضی غائب ہو جاتے ہو تمہاری ایک عدد بیوی ہے فیملی ہے پتہ نہیں کہاں غائب رہتے ہو!!”
ارشما کی حمایت میں بولتا وہ مزے سے میچ دیکھنے لگا۔ عرش نے ان کے ٹیم بدلنے پر افسوس بھری نظروں سے انہیں دیکھا پھر ارشما کے پاس آیا۔۔
” سوری ماما جان آئندہ ایسا نہیں ہوگا!! ” ۔۔
اس کے ہاتھ تھام کر عقیدت سے لبوں سے لگاتا وہ نرمی سے بولا جتنی محبت وہ اپنی ماں سے کرتا تھا شاید ہی کسی اور سے کرتا ہو!
“اچھا چلو جاؤ کمرے میں ایرا کا بھی خیال کیا کرو بہت اچھی بچی ہے مجھے شکایت کا موقع نہ دینا عرش، اگر مجھے پتہ چلا کہ تم اس سے مس بی ہیو کرتے ہو میں بہت ہرٹ ہوں گی!!”
اس کے بال سنوارتی وہ نرمی سے بولی تھی وہ سر ہلاتا پلٹ کر لاؤنج سے گزر کر سیڑھیاں چڑھنے لگا! اس کے جاتے ہی حیان اندر داخل ہوا پولیس یونیفارم میں ملبوس وہ تھکا تھکا سا لگ رہا تھا!
وہ ماہ بیر کے برابر آ بیٹھا بیٹھتے ہی اس نے سر صوفے کی پشت سے لگا کر آنکھیں موند لیں!
“کیوں نواب صاحب زندگی زیادہ تھکاتی ہے یا فرض؟”
ماہ بیر نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھاتے سرمئی آنکھوں میں سوال لیے پوچھا تھا۔۔
اسے اپنے تینوں بیٹے عزیز تھے لیکن حیان سے اسے خاص انسیت تھی جو کام وہ کر رہا تھا اس سے دلوں میں اس کے لیے احترام اور محبت آپ ہی پیدا ہوجاتی تھی بےایمانی کے اس دور میں ایسے ایماندار افسر شاز و نادر ہی پائے جاتے ہیں!
وہ سیدھا ہوتا مسکرایا پھر گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگا۔
” زندگی زیادہ تھکاتی ہے بابا۔۔ یہ ہے تو فرض ہے، یہ نہیں تو کچھ نہیں!”
اس کے گہرے الفاظ پر وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگا، کیا کچھ یاد نہیں آنے لگا تھا! ارشما چائے اور کچھ سنیکس لے آئی! انہیں سرو کر کے وہ حیان کے برابر بیٹھی۔۔
وہ ریلیکس ہوتا اس کے کاندھے پر سر رکھتا آنکھیں موند گیا۔۔ وہ محبت سے اس کے گال پر ہاتھ رکھتی اس کا سر چوم گئی!
“میرا بچہ، مجھے تمہاری بہت فکر ہوتی ہے حیان!!”
گھنی مونچھوں تلے لب ذرا سے مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔
“آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں بیوٹیفل لیڈی!!
سیدھا ہو کر وہ انکے گرد ہاتھ پھیلا کر ساتھ لگا گیا۔ ماہ بیر مسکراتی نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا خیال آنے پر وہ پوچھنے لگا۔۔
“کیس کا کیا بنا؟”
حیان نے نے ان کی جانب دیکھا داڑھی کھجاتا وہ مزے سے کہنے لگا۔۔
“رمل نے میرا کام آسان کر دیا ہے پہلے تاریخ نہیں مل رہی تھی اب جج پر پریشر آ گیا ہے آج کل میں کورٹ کی ڈیٹ مل جائے گی اس بار ان لڑکوں کو ضرور سزا ملے گی! پراعتماد وكیل بھی کر لیا ہے ہم نے! ثبوت بھی ہمارے حق میں جاتے ہیں! ایک مسلہ ہے ایرا کو جانا ہوگا کورٹ کچھ دیر کے لیے کیونکہ وہ چشمدید گواہ ہے اس واقعے کی!!”
وہ لب کاٹتا ماہ بیر کو دیکھنے لگا جو خود بھی سوچ میں پڑ چکا تھا۔۔
“کوئی زبردستی نہیں ہے اگر وہ مانتی ہے تو ٹھیک ہے!”
وہ ارشما اور حیان کو ایک ایک نظر دیکھتا پرسوچ لہجے میں بولا وہ جانتا تھا یہ سب اتنا آسان نہیں ہوتا حق کی راہ میں بہت سے کانٹے زخمی کرنے کو آتے ہیں!
ارشما بےچین نظر آ رہی تھی وہ چپ نہیں رہ سکی۔۔
“بیٹا وہ بہت معصوم ہے وہ لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتی!”
حیان کی آنکھیں چمکیں وہ نفی میں سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“جس ایرا سے میں ملا ہوں وہ مظبوط ہے کسی حد تک خطرناک بھی! ماما ۔۔ جب کوئی شریف شرافت چھوڑتا ہے تو اس سے خطرناک کوئی بھی نہیں ہوتا!
حالات انسان کو پہلے سا نہیں رہنے دیتے وہ ایک خطرناک سچوایشن سے گزری ہے اور محفوظ رہی ہے! آپ اس کے لیے پریشان مت ہوں!”
انہیں حیرت کے سمندر میں غرق کر کے وہ جا چکا تھا۔۔
🍂🍂🍂
اسے آئینے کے سامنے عجیب و غریب حرکتیں کرتے دیکھ کر وہ کمرے کی چوکھٹ پر رک گیا! اس بےوقوف لڑکی سے کچھ بعید نہیں تھا۔۔
وہ اس کی آمد سے بےخبر اپنے آپ کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہی تھی عنابی چھوٹے سے لب باہر نکالتی وہ نیلی آنکھیں پٹپٹا کر اپنی بیلی کو دیکھنے لگی۔۔
“آئی ایم پریگننٹ! چچ ۔۔۔!”
اس نے پیار سے ہاتھ بیلی پر رکھا۔۔
“بےبی ڈونٹ وری میں آپ کے پاس ہوں نہ!!”
مسکرا کر وہ پیچھے مڑی ہی تھی کہ اسے چوکھٹ میں ایستادہ دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیلیں!
“آپ کب آئے؟”
جلدی سے دوپٹہ پھیلاتی وہ خوامخواہ بال ٹھیک کرنے لگی جو اس کی لمبی چوٹی سے نکل کر چہرے کے اطراف میں جا بجا بکھرے ہوئے تھے!
عرش نے اسے سر تا پیر دیکھا ہلکی گلابی شارٹ فراک کے ساتھ پٹیالہ شلوار پہنے گورے چٹے رنگ میں گلابیاں بكهیرے وہ مومی گڑیا لگ رہی تھی۔۔
رنگ ایسا نكهرا نکھرا تھا کہ ہاتھ لگانے پر ہی میلا ہونے کا خدشہ ہو مزید اس کی بڑی بڑی نیلی آنکھیں اپنے سحر میں اس طرح جکڑتی تھیں کہ ہوش و حواس گم کر دیتی تھیں!
وہ لاپرواہ تھی اپنے بےپناہ حسن سے،،، وہ دھیرے دھیرے سے چلتا اس کے سامنے آ کر رکا مہرون لیدر کی جیکٹ کے ساتھ بلیک ٹی شرٹ اور جینز میں اپنی گہری بھوری آنکھوں سے اسے دیکھتا وہ اس کا دل دھڑکا گیا۔۔
“کیا کر رہی تھی تم، ہمم؟؟”
آنکھیں سکیڑتا وہ اس سے اس کے سابقہ عمل کی وضاحت طلب کرنے لگا۔۔
“وہ ۔۔میں ۔۔پریگننٹ۔۔ ہوگئی۔۔ ہوں!!”
سر اٹھا کر اسے دیکھتی وہ ٹھہر ٹھہر کر بولی،، عرش نے اسے دیکھ کر دانت پیسے۔۔
“کیا بکواس کر رہی ہو کچھ عقل بھی ہے کیا بولا ہے تم نے؟”
اس کے کاندھوں کو آہنی گرفت میں جکڑتا وہ غصے سے بولا کیا اول فول بک رہی تھی وہ۔۔!
“کیا ہے؟ چھوڑیں مجھے،، میں نے ڈرامے میں دیکھا تھا لڑ کے نے کس کی تھی اپنی وائف کو پھر اسکی وائف کو وومٹ ہوئی اور پھر وہ پریگننٹ ہوگئی مطلب بے بی آئے گا نہ میں اتنی بھی بچی نہیں ہوں اب اچھا۔۔۔!!”
اس کی باتوں سے عرش کا صحیح معنوں میں دماغ گھوم گیا۔ اس کے ڈرامے تو وہ بند کرواتا ہے!
“اس سے تمہارے ذہین دماغ نے یہ اخذ کر لیا کہ تم ۔۔!!”
اس نے اپنے آپ کو کچھ سخت کہنے سے روکا۔۔
“ہاں تو مجھے بھی وومٹ ہوئی پھر پیٹ میں درد ہوا نہ!!”
اس کے بلکل قریب کھڑی وہ اپنی بات پر ڈٹی رہی،، چند لمحے لب بھینچے وہ اسے دیکھے گیا پھر اچانک زور سے ہنس پڑا۔۔
ایرا منہ کھولے اسے دیکھنے لگی جو لگاتار ہنستا جا رہا تھا ہنستے ہنستے اسکی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا۔۔
“میرا مذاق اڑا رہے ہیں آپ؟ مجھ سے اب بات بھی نہ کرنا آپ، سونے جا رہی ہوں اپنے بےبی کے ساتھ!!”
وہ دانت پیس کر کہتی تن فن کرتی بیڈ کی جانب جانے لگی جب عرش نے اس کا ہاتھ تھاما۔۔
“کس کا بےبی ہے یہ؟”
مسکراتی گہری نظر اس کے وجود پر ڈالتا وہ گھمبیر لہجے میں پوچھنے لگا وہ ناراض نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“آپ کا اور میرا۔۔۔!!”
گویا احسان کیا گیا تھا۔۔۔
” بےبی صرف کس کرنے سے نہیں آتے!”
اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کرتا وہ بھاری لہجے میں بولا تھا اس کی قربت اسے بہکانے لگی تھی۔۔
“تو کیسے آتے ہیں؟”
لرزتی پلکیں جھکاتی وہ دھیمی آواز میں بولی دل کی دھڑکن منتشر سی ہونے لگی تھی ۔ وہ جھک کر اس کے چہرے کو قریب سے دیکھنے لگا۔۔
“بعد میں بتاؤں گا۔۔۔!!”
اس کے سر کی پشت پر ہاتھ رکھ کر اس کا چہرہ بلند کرتا وہ اس کے لبوں پر جھکتا اس کی سانسیں پینے لگا۔۔
وہ آنکھیں پوری کھولے اس کے کندھے پر ہاتھ مارنے لگی جو اس پر جھکا پیچھے ہٹنا ہی بھول گیا تھا۔۔ اس کا جسم ڈھیلا پڑتا محسوس کر کے وہ پیچھے ہٹا تو وہ لڑکھڑائی۔۔
فورا سے بیڈ پر بیٹھتی وہ سانس بحال کرتی اسے آنسو بھری آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔
“بہت گندے ہیں آپ اب دو بےبی ہو جائیں گے میں کیسے سنبهالوں گی!!”
منہ بسور کر کہتی وہ اپنی سائیڈ پر جا کر لیٹ گئی آنکھوں پر بازو رکھتی وہ سونے کی اداکاری کرنے لگی اب تو وہ اس سے بات تک نہیں کرنا چاہتی تھی!
عرش نے نگاہیں پھیریں گہری سانس لے کر اپنے جذبات کو لگام ڈالتا وہ سرعت سے باہر نکل گیا اگر وہ چند پل مزید ٹھہرتا تو خود پر سے اختیار کھو بیٹھتا۔
🍂🍂🍂
“وہاٹ؟ آپ نے سوچا بھی کیسے؟ آئی کانٹ بیلیو ماما۔۔۔! اور بابا آپ بھی ایگری کر رہے ہیں؟ وہ چھوٹا ہے مجھ سے یہ بات نظر انداز کر بھی دوں تب بھی۔۔۔
میں ہرگز اس سے شادی نہیں کروں گی اس کی ہمت کیسے ہوئی رشتہ بھیجنے کی میں جان سے مار دوں گی اسے!!!”
غصے سے بلند آواز میں بولتے اس کی گردن کی رگیں پھول گئی تھیں چہرہ خطرناک حد تک سرخ پڑ چکا تھا۔۔
اس وقت وہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی حالت میں نہیں تھی۔ اینارا نے صبح صبح ہی ایسی بات کر دی تھی جس نے اس کا دماغ بھک سے اڑا دیا تھا۔۔
وہ بےچارگی سے اورهان کو دیکھنے لگی جس نے فلحال اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ابھی ارشیہ سے بات کرنا بهینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا۔۔۔!!
وہ پانی کا گلاس ایک سانس میں خالی کرتی ہینڈ پرس اٹھا کر نیوی بلیو کوٹ جھٹک کر پہنتی باہر نکل گئی۔۔
🍂🍂🍂
تن فن کرتی وہ اس کے آفس میں داخل ہوئی دروازه زور سے بند کرتی وہ اس کے مقابل آئی جو بلیك ٹرٹل نیک سویٹر پر بلیک کوٹ پہنے ہوئے تھا۔۔ اس کے انداز دیکھتا وہ ابرو اچکا گیا۔۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے لیے رشتہ بھیجنے کی؟” خطرناک تیوروں سے اس کی جانب بڑھتی وہ غرائی تھی۔ بدر نے اس کے دونوں ہاتھوں کو قابو کرتے اس جنگلی بلی کو دور جھٹکا۔۔
“اپنی حد میں رہو!”
انگلی اٹھاتا وہ درشتگی سے بولا۔۔۔
” رہی بات ہمت کی تو بہت ہے مجھ میں آزما کر دیکھ لو!! ” ۔۔۔ اب کہ اس کا لہجہ استہزائیہ تھا !!
“دیکھتے ہیں کس کی ضد جیتتی ہے تم نہ ویسے ایک نمبر کے گھٹیا انسان ہو!!”
اس کی شکل کے گرد انگلی سے ہالہ بناتی وہ تیکھے آگ اگلتے لہجے میں بولی جس پر بدر کا دماغ گھوما۔۔
“تمہاری یہ بکواس تمہیں بہت مہنگی پڑے گی اب میں تمہیں دکھاؤں گا گھٹیا پن ہوتا کیا ہے!!”
درمیانی فاصلہ ختم کر کے اس کا چہرہ دبوچ کر جھٹکتا وہ اس کے منہ پر داڑھا تھا دونوں کے چہرے لال بھبھوکے ہورہے تھے کوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں تھا !!
اچانک سے کمرے کی کشیدہ فضا میں موبائل کی رنگ ٹون کی آواز گونجی اسے خطرناک نیلی آنکھوں سے گھورتی وہ کال پک کرنے لگی۔۔
بدر نے دیکھا شاہان کالنگ لکھا نظر آیا تھا اس نے موبائل سپیکر پر ڈال دیا۔۔ وہ خود پر قابو کرتی ہموار لہجے میں بولی۔۔
“ہیلو، اٹس ارشیہ سپیکنگ!!!”
جوابًا سپیکر سے آواز ابھری۔۔
“ہیلو کوئین! کین وی میٹ ایٹ ڈنر؟؟”
دلکش لب و لہجہ تھا !!!
بدر کا پارہ چڑھا۔۔ “منع کرو اسے ابھی اسی وقت!!”
وہ دانت پیس کر بولا ارشیہ نے تیكهی مسکراہٹ سے اسے دیکھا،، اب آئے گا مزہ۔۔۔!
“یپ شیور! ملتے ہیں !!!”
کہتے ساتھ اس نے کال کاٹ دی۔۔
“میرے باپ بننے کی کوشش مت کرو، میں اپنی مرضی کی آپ مالک ہوں!!”
وہ پلٹ کر جانے کی نیت سے آگے بڑھی جب بدر نے اسے کہنی سے تھام کر روکا۔۔
“تم نہیں جاؤ گی!!”
وہ پلٹ کر ابرو اچکا گئی۔۔ ” ??who cares “
ازلی مغرور انداز میں بولتی وہ کہنی چھڑوا کر گلاس ڈور دهكیلتی باہر نکلی۔۔
بدر نے ضبط کھوتے ٹیبل سے ٹائم پیس اٹھا کر پوری قوت سے زمین پر دے مارا۔۔ ارشیہ نے پلٹ کر دیکھا۔۔ اس کا چہرہ دیکھ کر پہلی بار اسے اس سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔!!
