My Kharoos Mister By Mirha Khan Readelle50253

My Kharoos Mister By Mirha Khan Readelle50253 Last updated: 21 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

My Kharoos Mister

By Mirha Khan

پنڈلیوں تک آتے کھلتے سرخ رنگ کے لانگ گرم فراک جینز میں وه ڈھلتے سورج کی جانب پشت کئے کھڑی تھی۔ سیاہ چمکیلے بال موٹے رف سے جوڑے کی شکل میں پتلی گردن پر نمایاں تھے.... سینے پر ہاتھ لپیٹے وه مقابل کھڑے یاور سے کچھ بات کررہی تھی جب قدموں کی چاپ پر اس نے لب دبائے۔ " اوکے یاور ہم بعد میں ڈسکس کریں گے ، خیال رہے یہ بات بس تمہارے اور میرے درمیان رہے۔۔۔! " وہ اسے آنکھ سے اشارہ کرتی لب دبا کر مسکراہٹ روک گئی۔ یاور نے آنکھیں سکیڑتے پشت پر نظر آتے میر حاصل کو دیکھا جو دانت پیس کر انہیں دیکھتا اسی طرف آ رہا تھا... ہاں البتہ رمل کی آواز اتنی ضرور تھی کہ اسکے کانوں کو سننے کا شرف بخش دیا گیا تھا۔ یاور نے سر کو خم دیا ، ایسا ہے تو ایسا صحیح ۔۔۔! " اوکے مس ، میں باس کو بھی نہیں بتاؤں گا ۔۔! " روبوٹک انداز میں کہتا وه كندھے اچکاتا چند قدم پیچھے ہٹا پھر اچانک مڑ کر تیز قدم اٹھاتا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ رمل نے پلٹ کر دیکھا وه سرخ ٹرٹل نیک سویٹر کے ساتھ سفید جینز پہنے ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہا تھا۔ شہد رنگ بال بکھر کر پیشانی پر پڑے تھے جبکہ کان کا ڈائمنڈ ٹاپس ہمیشہ کی طرح چمکتا اسکی کِلر لُکس میں اہم کردار ادا کررہا تھا۔ " کیا بات کررہی تھیں آپ اس سے ۔۔۔؟ " اس کے مقابل آتا دو قدموں کے فاصلے پر رکتا وه آنکھیں سکیڑتا پوچھنے لگا۔۔ رمل نے کمال بےنیازی سے بازو پر رکھا سفید لانگ کوٹ اتار کر پہننا شروع کیا۔ " کچھ نہیں ۔۔ آپس کی بات ہے ۔۔! " کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتی وه دل جلانے والی مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگی۔ سیاہ آنکھوں کے انداز ہی نرالے تھے۔ میر ایک قدم مزید آگے بڑھتا درميانی فاصلہ کم کر گیا۔ " آپس کی باتیں کسی اور وقت کے لیے بچا رکھیں ۔۔ ہم تو یہاں رومینس کرنے آئے ہیں ۔۔۔! " اسکی کمر سے کوٹ ہٹا کر دونوں ہاتھ پورے حق سے جماتا وه جھٹکے سے اسے قریب کر گیا اتنا کہ سانسیں سانسوں میں الجھنے لگی تھیں۔ رمل کے گلاب چہرے پر گلال بکھرنے لگا اس نے حلق تر کرتے سر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ کیا کیا پیغام نہ دے رہی تھیں وه شہد رنگ آنکھیں۔ چمکتی آنکھیوں میں تكمیل محبت کی بیتابی چھلکتی تھی۔ وه لب سیئے اسکی نگاہوں کو پڑھنے لگی تھی۔ موسم بھی مہربان ہوا تھا ان پر ۔۔۔! گہرے آسمان سے شفاف پانی کی بوندیں ان پر گرنے لگی تھیں۔ جہاں میر حاصل کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی وہیں رمل کی نگاہیں جامد ہوئی تھیں۔ یہ محبوب کا ہر انداز انوکھا کیوں لگتا ہے ؟ ہر ہر ادا خاص لگنے لگتی ہے۔ یہ محبت بھی نہ ۔۔! بصارت ہی بدل دیتی ہے...! " آج موسم بھی ساتھ دے رہا ہے ،،، ان ہواؤں کو محسوس کریں کیا پیغام دے رہی ہیں ۔۔۔! " ٹپ ٹپ گرتی بوندوں کی پرواہ کیے بغیر وه ایک ہاتھ جیب میں ڈال کر موبائل نکالتا اپنا پسندیدہ گانا لگا کر اس کے کان پر جھکا ۔ "کیا آپ میرے ساتھ ڈانس کریں گی ۔۔۔؟ " نرمی سے اسکے کان کی لو چھوتا وه بھرپور مسکراہٹ سے دیکھتا اسکے سامنے ہاتھ پھیلا گیا۔ رمل نے نچلا لب دانتوں میں دبايا۔ " مگر مجھے ڈانس کرنا نہیں آتا ۔۔۔! " اسکے خالی ہاتھ پر اپنا نرم سا ہاتھ رکھتی وه کندھے اچکا گئی۔ انداز میں لاپرواہی تھی۔ بوند بوند میں۔۔۔۔ گم سا ہے ۔۔۔۔ !!! برستی بارش میں ٹھنڈی ہواؤں کے شور میں گانے کے بول دل کی کیفیت عجیب کر گئے تھے۔ میر حاصل نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے كندهوں پر دھرتے اسکی کمر کو مظبوطی سے تھامتے اسے اوپر اٹھا لیا یوں کہ رمل کے پیر میر کے پیروں پر آ جمے تھے۔ بوند بوند میں گم سا ہے ۔۔۔۔ یہ ساون بھی تو تم سا ہے ۔۔۔ قدم آگے پیچھے لیتا وه اسکی گردن میں چہرہ چھپا گیا۔ رمل نے بےهنگم ہوتی دھڑکون پر هلكان ہوتے اسکی گردن کے گرد بازو حائل کر لیے۔ اک اجنبی احساس ہے ۔۔۔ کچھ ہے نیا کچھ خاص ہے ۔۔۔ قصور یہ سارا۔۔۔۔ موسم کا ہے ۔۔۔۔ اچانک اسے خود سے جدا کرتے اس نے اسے زمین پر اتارا تھا۔ رمل کے بال گیلے ہو کر چہرے اور گردن پر چپكنے لگے تھے۔ میر نے ہاتھ بڑھا کر اسکا جوڑا کھول دیا ، کالے گھنے بال پشت کو مکمل ڈھانپ گئے ۔ رمل نے فورا سے اسکی جانب سے رخ بدلا ٹھنڈی بارش اور اسکی گرم گرم نگاہوں کی حدت سے وه کانپنے لگی تھی۔ وه جانتی تھی وه آج اسے نہیں روک پائے گی ۔۔ وه ایسا کر ہی نہیں سکے گی ، اسکی رفتہ رفتہ بڑھتی وارفتگیاں اسے موم کی طرح پگھلا دیں گی۔ اسکی پشت پر پھیلی سیاہ بالوں کی آبشار کو دیکھتے میر کی آنکھوں میں کئی رنگ اترے تھے۔ وه ایک دم آگے بڑھتا اسے بانہوں میں اٹھا گیا۔ سر جھکا کر اسکے مومی چہرے کو آنکھوں کے راستے دل میں اتارتے وه دریا میں کھڑی شپ کی جانب بڑھا تھا۔ شپ میں بنے چھوٹے سے روم میں آتے اس نے رمل کو نیچے اتارا۔ وه دونوں بهیگ چکے تھے۔ " چینج کر لیں اس روم میں جا کر ۔۔۔! " گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وه اٹیچ ڈریسنگ روم کی جانب اشارہ کر گیا۔ اسکے جانے کے بعد وه کمرے کا ایک نظر میں جائزہ لے گیا جسے گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ ان کی مہک ٹھنڈی ہوا میں مدغم ہوتی عجیب س احساسات میں مبتلا کررہی تھی۔ سیٹی پر رومانوی دھن بجاتا وه ہیٹر آن کرتا واش۔روم کی جانب بڑھ گیا۔ جب وه باہر نکلا تو محض سیاہ ٹراؤزر پہنے تھا۔ کسرتی سینہ بےحد نمایاں تھا۔ ٹاول سے سر پونچھتے وه ڈریسنگ روم کے بند دروازے کو دیکھنے لگا۔ "آپ خود باہر آئیں گی یا مجھے لانا پڑے گا ۔۔۔؟ " کمرے کی گرم فضا میں خود کو ریلیکس کرتا وه گہری سانس لیتا ذرا بلند آواز میں بولا۔ شہد رنگ آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔ چند پل خاموشی کی نظر ہوئے پھر دروازه کھل گیا۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی وه باہر نکلی۔ میر کی نگاہیں ساکت ہوئی تھیں سانس جیسے مدهم پڑی تھی۔ سیاہ سلک کی پیروں کو چھوتی سلیولیس نائٹی میں سیاہ لمبے بال شانوں پر بکھیرے وه کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔سیاہ گهنی پلکیں سفید عارضوں پر جھکی ہوئی تھیں۔ گلابی لب مسلسل کاٹنے سے سرخ ہورہے تھے۔ بالوں کو دونوں ہاتھوں سے پیچھے جھٹک کر آگے بڑھتی وه اسکے دل پر ایک اور گہرا وار کر گئی۔ " اب یوں ندیدوں کی طرح مت گھورو مجھے ۔۔۔! " خود کو کمپوز کرتی وه پرس میں سے لوشن تلاش کر گوری کلائیوں اور ہاتھوں پر لگانے لگی۔ وه خود کو نارمل ظاہر کررہی تھی مگر دل آنے والے لمحات کو سوچتا بےهنگم انداز میں دھڑک رہا تھا۔ " آپ جان بوجھ کر میرے دل کو گھایل کرتی ہیں نہ ۔۔۔؟ ظلم کرتی ہیں ۔۔۔! " اسکا رخ اپنی جانب کرتا وه آنچ دیتے لہجے میں بولتا اسے نگاہیں اٹھانے پر مجبور کر گیا۔ " میں نے کیا کیا ۔۔۔؟ " معصومیت سے کہتی وه اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی۔ کتنی بےنیاز تھی وه۔۔۔! " آپ ہی نے تو سب کیا ہے ۔۔۔!!! " اسے ایک دم جھک کر اٹھاتا وه نرم سے بیڈ پر آہستہ سے لٹاتا سیدھا ہوا۔ وه لب سختی سے دباتی ہاتھوں کی مٹھی بنا گئی نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو کسرتی سینے پر نگاہ پڑتے نگاہ آپ ہی جھکتی چلی گئی۔ میر نے پلٹ کر لائٹ آف کرتے فینسی لائٹس جلا دیں۔ کمرے میں مدهم سی رنگ برنگی روشنیاں جلنے لگی تھیں۔ باہر لہروں کا شور سماعتوں سے ٹکرا رہا تھا تو اندر جذبات کا شوریدہ سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ " رمل ۔۔۔ آپ میری زندگی میں آنے والی پہلی عورت ہیں ، میں نے کسی کو اجازت نہیں دی کہ وه میرے قریب آ سکے مگر آپ کی قربت کی خواہش مجھے پاگل کرتی ہے ۔۔۔! آپ سے محبت کی، آپ سے نکاح کیا۔۔۔! اب میرا دل چاہتا ہے ان دوریوں کو سمیٹ لوں ، مزید دوری برداشت نہیں ہوتی "جانِ میر " ۔۔۔ کیا آپ مجھے اپنے قریب ہونے کی اجازت دیتی ہیں ۔۔۔؟ " اسکے بال سمیٹتا وه نرمی سے پوچھنے لگا۔ رمل نے آہستہ سے جھکی پلکیں اٹھائیں اسکی آنکھوں میں دیکھتے اس نے لبوں کو حرکت دی۔ " تم بھی ۔۔۔ میری زندگی میں آنے والے پہلے مرد ہو ، تمہاری محبت نے میرے دل کو مجھ سے چھین لیا ہے میر ۔۔۔! میں ۔۔۔ مجھے تم سے محبت کے بعد تمہاری عادت ہوگئی ہے ۔۔۔! میں ہر پل تمہیں خود سے قریب چاہتی ہوں ۔۔۔! " اسے اقرار سونپتی وه دهیما سا مسکرا کر آنکھیں موند گئی۔ میر نے گہری سانس لیتے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا تھا جو پاگلوں کی طرح دھڑکتا اسے بھی پاگل کرنے لگا تھا۔ " میں آپ کو یقین دلاتا ہوں آج کے بعد آپ مجھے تم کی بجائے ”آپ “کہا کریں گی ۔۔۔!!! " اسکے چہرے پر پھونک مارتا وه دلکشی سے مسکرایا گہرا ڈمپل گال میں نمایاں ہوا تھا۔ " دیکھتے ہیں ۔۔۔!!! " اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر دهكیلتی وه مسکان دباتی کروٹ لے گئی۔ میر نے کمفرٹر پھیلاتے اسکی گردن سے بال ہٹائے تھے۔ باہر رات گہری ہوتی جارہی تھی بارش برس برس کر بند ہو چکی تھی مگر جذبات کی بوچھاڑ ابھی باقی تھی۔