No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
اس نے خطرناک نظروں سے ایرا کی جانب دیکھا جو دیوار سے لگی تھر تھر کانپ رہی تھی ۔۔
اس انجان شخص کو سر تا پیار اپنا جائزہ لیتے دیکھ کر وہ خود میں سمٹتی گھٹ گھٹ کر رونے لگی ۔۔
وہ اجنبی بڑھا تھا اس کی جانب ۔۔ اسے ہاتھ سے تھام کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوٹل کی عمارت سے باہر آیا ۔۔
اسے گھسیٹ کر سڑک پر لاتے اس نے زور سے ایرا کو جھٹک کر دور دھکیلا جسے وہ زمین پر اوندھی جا گری ۔۔ اس کی کہنیاں اور گھٹنے بری طرح چھل گئے تھے ۔۔
زمین پر گرے ہی اس نے سر گھما کر اس اجنبی کو دیکھا جو خطرناک سرخ انکھوں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔
اس نے اپنی سیاہ جیکٹ اتار کر ایرا کے منہ پر ماری ۔۔
” بے غیرت !!! “
سرد لہجے میں کہتا وہ پلٹا اور اندھیرے میں گم ہو گیا ۔۔
🍂🍂🍂
شام ڈھل کر رات کی سیاہی میں جزب ہو چکی تھی ۔۔ حیان اپنی کار سلو سپیڈ پر سڑکوں پر دوڑا رہا تھا ۔۔ اس کی کار کے پیچھے ایک پولیس موبائل حرکت کررہی تھی ۔۔
كیجول سے حلیے میں لب بھینچے وہ تارکول کی سڑک پر دور تک نظر ڈال رہا تھا جب کوئی اس کی کار کے سامنے آ گیا ۔۔
اس نے جلدی سے بریک لگایا۔۔ اس کے پیچھے آتی پولیس موبائل بھی جھٹکے سے رکی ۔۔ رات کی خاموش میں تارکول کی سنسان سڑک پر ٹائر چرچرانے کی آواز دور تک گئی تھی ۔۔
وہ جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکلا ۔۔ اس کے پیچھے پولیس موبائل سے دو كانسٹیبل بھی نیچے اترے ۔۔
“ایرا ؟؟ ” ۔۔۔ حیان کی آواز پر منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر خوف سے آنکھیں میچ کر کھڑی ایرا نے جھٹکے سے سر اٹھایا ۔۔
اس کا مسکارہ مسلسل رونے سے آنکھوں کے گرد سیاہی پھیلا چکا تھا ۔۔ گالوں پر آنسوؤں کے مٹے مٹے نشان تھے ۔۔ بکھرے حلیے میں وہ بےيقینی سے حیان کو دیکھ رہی تھی ۔۔
اس کا ضبط ٹوٹا وہ آگے بڑھی اور اس سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔ حیان نے لب بھینچ کر ہاتھ سے اشارہ کیا جس سے كانسٹیبل دوبارہ موبائل میں بیٹھ گئے ۔۔
پولیس موبائل حرکت میں آئی چند منٹوں میں وہ وہاں سے دوسری سڑک پر مڑ گئی ۔۔ حیان نے اس کا سر تهپتهپایا ۔۔
“آؤ گاڑی میں بیٹھو !!!”
ایرا کا ہاتھ تھام کر اس نے کار کا دروازه کھولا تو وہ آنسو پونچھتی ہوئی اندر بیٹھ گئی ۔۔ اس کی جانب کا دروازه بند کر کے وہ اس کے برابر ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا ۔۔
ٹٹول کر اس نے منرل واٹر کی چھوٹی بوتل اس کی طرف بڑھائی ۔۔ اس سے بوتل پکڑ کر ڈھکن کھولتی کپكپاتے ہاتھوں سے منہ کو لگا گئی ۔۔
آنکھیں موند کر وہ پانی حلق سے نیچے اتار رہی تھی ۔۔ بند آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرے تھے ۔۔ حیان خاموشی سے ساری کروائی دیکھتا رہا ۔۔
جب وہ پانی پی کر شرمندہ ڈبڈبائی نظروں سے اسے دیکھنے لگی تو وہ گہری سانس لے کر پورا اس کی جانب مڑا۔۔
” کیا ہوا تھا ؟ مجھے سب سچ سچ بتاؤ !!!”
ایرا کے دماغ میں وہ مناظر پھر سے چلنے لگے ۔۔ خوف سے اس کا رنگ سفید پڑنے لگا ۔۔ گود میںرکھے کپكپاتے ہاتھوں میں فراک بھینچ کر وہ سسکنے لگی ۔۔
حیان کو اپنی طرف متوجہ پا اس نے اٹک اٹک کر سب بتانا شروع کیا ۔۔ حیان کی آنکھوں میں افسوس ابھرا ۔۔
” تمہیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی ایرا ۔۔ تم بہت چھوٹی ہو ابھی !! اگر کوئی پسند تھا تو پہلے ماموں یا ممانی کو بتاتی ۔۔ تمہاری اس غلطی سے کچھ بھی ہوسکتا تھا ۔۔ کچھ بھی !! خدا کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں محفوظ رکھا ۔۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ سب کس قدر پریشان ہیں ۔۔ ممانی کا رو رو کر برا حال ہے ۔۔۔!!!”
کہنے کے ساتھ اس نے موبائل پر ایک نمبر ڈائل کیا اور فون کان سے لگایا ۔۔
” ہیلو ۔۔ جی ۔۔ ایرا مل گئی ہے میں آ رہا ہوں اسے لے کر” ۔۔۔
فون بند کر کے اس نے پاکٹ میں رکھا ۔۔ کار سٹارٹ کرنے پر ایرا لب کاٹتی اسے دیکھنے لگی ۔۔
“حیان بھائی سب ہیں وہاں ؟؟” ۔۔۔۔
اس کی نم آواز پر حیان نے سامنے دیکھتے سر ہلایا ۔۔
“ابھی تو ہمارے گھر جا رہے ہیں ۔۔ ماموں وغیرہ ادھر ہی ہیں ۔۔ “
ہموار لہجے میں کہتا وہ احتیاط سے ڈرائیو کررہا تھا ۔۔ وہ چہرہ گھما کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔۔ دل زوروں سے دھڑک رہا تھا ۔۔
آنسو ابل ابل کر گال پر پهسلتے جا رہے تھے ۔۔ یہ کیا کر دیا میں نے ۔۔ کیسے نظر ملاؤں گی سب سے؟؟ اللّه تعالیٰ پلیز میری مدد کریں ۔۔ غلطی ہوگئی مجھ سے ۔۔ ہو گئی غلطی ۔۔ اب کیا کروں میں ۔۔ سب نفرت کریں گے اب مجھ سے ۔۔ آخر کیوں میں چلی گئی اس سے ملنے ۔۔
نور ؟ اس کا خیال آنے پر وہ ادھ کھلی کھڑکی میں رکھے بازو میں چہرہ چھپا کر بلکنے لگی ۔۔ حیان نے خاموشی سے اس کی پشت کو دیکھا ۔۔
” بیٹا غلطی ہو جاتی ہے انسان سے ۔۔ غلطی ہونے کے بعد چور راستے اختیار نہیں کرنے چاہیے بلکہ آنے والی سیچوایشن کو فیس کرنا چاہیے!!!”
اس کی کہی بات پتہ نہیں اس کی سمجھ میں آئی یا نہیں البتہ وہ خاموش ضرور ہوگئی تھی ۔۔
🍂🍂🍂
حیان کے پیچھے چھپتی وہ گیٹ سے اندر آئی ۔۔ اورهان اور اینارا سامنے ہی بےچینی سے ٹہل رہے تھے ۔۔
” تم اندر جاؤ مما کے پاس۔۔۔!!!”
نظریں جھکا کر سر ہلاتی وہ چھوٹے قدم اٹھاتی اندر چلی گئی ۔۔ کندهوں پر پھیلی سیاہ جیکٹ کو اس نے زور سے دبوچ رکھا تھا۔۔
“ماموں آپ دونوں سے بات کرنی ہے ایک۔۔۔!!!”
سنجیدہ لہجے میں کہتا وہ لان میں آ گیا ۔۔ ان دونوں میں نظروں کا تبادلہ ہوا ۔۔ الجھ کر وہ اس کے پاس آئے ۔۔
اس نے انہیں سب بتانے کا فیصلہ کیا تھا یہ چھوٹی بات نہیں تھی جو وہ چھپا لیتا ان کا حق تھا کہ وہ سب جانیں۔۔ مختصرا اس نے انہیں بتا دیا ۔۔
اورهان تو بےیقین تھا ہی اینارا کی آنکھیں صدمے سے پھٹنے کو ہوئیں ۔۔ جن بیٹیوں کو پھولوں کی طرح رکھا جائے وہ ماں باپ کی آنکھوں میں دھول جھونکیں تو تکلیف تو ہوتی ہے نہ !!!
🍂🍂🍂
لاؤنج میں ابراھیم اور زنیشہ کے علاوہ سب جمع تھے ۔۔ ماحول پر عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔ ارشما اسے اپنے ساتھ لگا کر تھپک رہی تھی جب اینارہ نے اس کا بازو کھینچ کر الگ کیا ۔۔
وہ پلٹ کر آنے دیکھتی روتی ہوئی اس کے گلے لگنے کو آگے ہوئی ۔۔
“چٹاخ !!!”۔۔۔۔۔
گال پر پڑنے والے زناٹے دار تھپڑ نے اسے قدم روکنے پر مجبور کر دیا ۔۔
“ماما !!!” ۔۔۔
اس کے لبوں سے سرگوشی کی صورت نکلا ۔۔ نیلی سوجھی آنکھوں میں بےيقینی لیے وہ اپنی ماما کو دیکھ رہی تھی جنہوں نے کبھی اسے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا ۔۔
اورهان کی علاوہ سب شاک سے انہیں دیکھنے لگے ۔۔ ارشما آگے بڑھی جب اینارا نے دوسرا تهپڑ اس کے منہ پر مارا ۔۔
“کیا کررہی ہو بچی ہے وہ !!!” ۔۔۔۔
ارشما نے اسے روکا تو وہ تلخی سے مسکرائی ۔۔
“بچی بڑی ہوگئی ہے اپنے ماں باپ سے بھی !!!”
اس کے تلخ لہجے پر وہ گال پر ہاتھ رکھے روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔
آواز جیسے حلق میں گھٹ گئی تھی۔۔ دل چاہ رہا تھا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے ۔۔ کیسی ذلت سی ذلت تھی جو اس نے خود کمائی تھی ۔۔
ارشیہ ڈبڈبائی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ حیان سے وہ معلوم کر چکی تھی ۔۔ چاہ کر بھی وہ ایرا کی مدد نہیں کر سکتی تھی۔۔
بدر نے ایک خاموش نظر اس کی نم آنکھوں پر ڈالیں ۔۔ مشائم اور رمل خاموشی سے ایک جانب کھڑی تھیں ۔۔ اورهان سرخ آنکھوں سے اپنی اس بیٹی کو دیکھ رہا تھا جس پر وہ سب سے زیادہ اعتبار کرتا تھا ۔۔
وہ کبھی یوں اس کا اعتبار توڑے گی وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔ بیٹیوں کے ایسے اقدام ماں باپ کے دل کس طرح چیر دیتے ہیں وہ محسوس کررہا تھا۔۔
اس سب میں عرش بےنیازی سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا چوئینگم چبا رہا تھا ۔۔ اسے اس لائیو شو میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا ۔۔ اس کی بلا سے وہ جس سے مرضی ملے ۔۔ جو مرضی کرے!!!
ماہ بیر نے اورهان کے کندھے پر ہاتھ پھیلا کر اسے حوصلہ دیا ۔۔
“شرم نہیں آئی تمہیں یہ حرکت کرتے ؟ بتاؤ ؟ ہم نے کبھی کسی چیز کا دباؤ ڈالا تم پر ؟ کتنا پیار دیا تمہیں پھر کہاں کمی رہ گئی تھی جو ہمارے منہ پر کالک ملنے نکل گئی تم!!!”
اس دونوں ہاتھوں سے مارتی وہ خود بھی رونے لگی تھی ۔۔ مشائم نے آگے بڑھ کر اسے تھاما ۔۔
“ایسی بیٹیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ماں باپ بیٹوں کی خواہش کرتے ہیں ۔۔!!!”
درد سے اس کی آواز پھٹنے لگی تھی ۔۔
ارشیہ منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی تھی۔۔ رمل نے دکھ سے اسے ساتھ لگایا۔۔ اورهان کی بس ہوئی تھی ۔۔ وہ لب سختی سے بھینچ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا ۔۔
“ماما مجھے معاف کر دیں !!!” ۔۔۔۔۔
اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی وہ کانپتے لبوں سے بولی جو آنسوؤں سے بھیگے ہوئے تھے ۔۔
“ما۔۔۔ما!!!”۔۔۔۔
اسے خاموش دیکھ کر ہچکیوں کے درمیان اسے پکارتی وہ آگے بڑھی ۔۔ اینارا نے قدم پیچھے لے لیے۔۔
“مت کہو مجھے ماما مر گئی میں!!!”۔۔۔۔۔
اس کے درشت لہجے پر وہ ہچکیوں سے روتی دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا گئی ۔۔
“ماہ بیر بھائی ؟؟ اب مجھے اس پر اعتبار نہیں رہا ۔۔ آپ اپنی امانت جتنی جلدی ہو سکے لے جائیں ۔۔ اگر یہ اب ممکن نہیں تو میں کہیں اور رشتہ کر کے اسے چند دن میں ہی رخصت کر دوں گی ۔۔ خدا جانے یہ کل کو کچھ اور۔۔۔ “
ایرا اس کی بات کاٹتی چیخ پڑی ۔۔
“مت کہیں ایسے لفظ میرے بارے میں ۔۔ میں گندی لڑکی نہیں ہوں ۔۔ مت کہیں ایسے ۔۔ دل میں تکلیف ہو رہی ہے ۔۔ جانتی ہوں میں نے غلط کیا لیکن میں بس ملنے گئی تھی ۔۔ ایسا کچھ نہ کہیں میرے بارے میں کہ میرا دل دھڑکنا بند ہوجائے ۔۔ بد کردار نہیں ہوں میں !!!”
اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی وہ نقاہت محسوس کرتی گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئی ۔۔ ارشیہ نے جلدی سے آ کر اسے تھاما ۔۔ اسے گلے سے لگا کر اس کی پشت تهپکنے لگی ۔۔
اینارا کی سوالیہ نظروں پر ماہ بیر گویا ہوا ۔۔
“یہ کیا بات کہہ دی کہ کہیں اور کر دو گی تم میری بیٹی کا رشتہ ۔۔ اس کی شادی عرش سے ہی ہوگی ۔۔ جب تم چاہو ہم نکاح کر دیں گے !!!”
ماہ بیر کے انکشاف پر ينگ پلٹن حیران ہوئی سو ہوئی عرش تو بلبلا کر اٹھا ۔۔
“میں اس بےوقوف لڑکی سے ہرگز شادی نہیں کروں گا۔۔۔۔!!!”
اس کی بلند آواز پر ماہ بیر نے پہلی بار سخت نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
“تمہاری شادی ایرا سے ہی ہوگی ۔۔ کیا تم میرے فیصلے کے خلاف جاؤ گے ؟؟ “
اس کے قطعی انداز پر وہ سختی سے لب بھینچ گیا ۔۔ گہری بھوری آنکھیں سرد ہو گئیں ۔۔
ایک کٹیلی نظر اس کم عقل لڑکی پر ڈال کر وہ آن کی آن میں سیڑھیاں چڑھتا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔۔ ارشما پریشانی سے اس کے پیچھے گئی کہیں غصے میں وہ کچھ کر نہ لے !!
🍂🍂🍂
کبرڈ کے پاس زمین پر رکھے بیگز سے کپڑے نکال کر وہ کبرڈ کے درمیان والے خانے میں رکھ رہی تھی ۔۔
سیاہ سادہ شلوار قمیض میں دوپٹہ کمر کے گرد باندھ کر وہ مصروف سے انداز میں جھک کر کپڑے اٹھا رہی تھی جب کپڑے اس کے ہاتھ سے پهسل کر نیچے گر گئے وہ کوفت سے پنجوں کے بل بیٹھی ۔۔
کچھ فاصلے پر ٹو سٹر صوفے پر وہ ایک ٹانگ موڑ کر اس پر لیپ ٹاپ رکھ کر کھٹا کھٹ ٹائپنگ کررہا تھا۔۔
اس نے لیپ ٹاپ کی سکرین سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا وہ کوفت سے پنجوں کے بل بیٹھ کر کپڑے اٹھا رہی تھی گردن پر لٹکتے جوڑے سے بال نکل کر گالوں کو چھوتے اسے الجھن میں مبتلا کررہے تھے۔۔
ابراھیم یوں ہی اسے دیکھے گیا اس کی نظروں کے ارتكاز پر وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی ۔۔
“کیا ہوا؟؟”۔۔۔۔۔
کبرڈ کا دروازه بند کر کے وہ بیگ گھسیٹ کر بیڈ تک لائی ۔۔
“کچھ نہیں !!” ۔۔۔۔
نفی میں سر ہلاتا وہ نرم نگاہوں سے اسے تکے گیا ۔۔
“پھر آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے ؟؟” ۔۔۔۔
کپڑوں کی تہیں لگاتی وہ رک کر اسے دیکھنے لگی ۔۔
“کیسے دیکھ رہا ہوں میں؟؟”۔۔۔۔
گھمبیر لہجے میں کہتا وہ سر کی پشت پر دونوں ہاتھ رکھتا صوفے پر نیم دراز ہوگیا ۔۔ ٹانگیں سامنے دھری میز پر قینچی کی صورت ٹکا لیں ۔۔
“مطلب اس طرح۔۔۔!!!”
وہ لب دبا کر پیروں کے پاس رکھے بیگ میں سے بکھرے كپڑے نکال کر بیڈ پر رکھنے لگی ۔۔
” پہلے بھی تو دیکھتا تھا اس طرح !!!” ۔۔۔
واپس لیپ ٹاپ پر نظر جما کر ہتھیلی سے داڑھی پر ہاتھ پھرتا مصروف سا گویا ہوا ۔۔
“نہیں اس طرح نہیں دیکھتے تھے آپ پہلے!!!۔۔۔”
وہ اپنی بات پر ڈٹی رہی ۔۔
“اب دل جو بےایمان ہونے لگا ہے” ۔۔۔!!
وہ محض بڑبڑا کر رہ گیا ۔۔ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔ تہہ شدہ کپڑوں کو ایک طرف رکھ کر وہ بیگ گھسیٹ کر اٹھی کبرڈ کی سائیڈ پر رکھ کر وہ کمرے میں نگاہ دوڑانے لگی ۔۔
تقریباً ہر چیز وہ سمیٹ چکی تھی بہت دنوں سے وہ گھر کی سیٹنگ میں مصروف رہی تھی آج سب چیزیں اپنی جگہ پہنچ چکی تھیں ۔۔
“آپ کو پتہ ہے سب لڑکیاں آپ کو کھڑوس کہتی ہیں ؟؟” ۔۔ کبرڈ سے پشت لگا کر کھڑی ہوتی وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر بولی شہد رنگ غلافی آنکھوں میں شرارت چمک رہی تھی۔۔
ابراھیم نے لیپ ٹاپ سے نظر ہٹا کر ابرو اچکاتے اسے دیکھا سیاہ سرد آنکھیں اس پھولوں کی سی نازک لڑکی پر پڑتے ہی نرم تاثر قائم کر لیتی تھیں ۔۔
اس کے ہونٹ ذرا سی مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔ “اہاں !! تمہیں بھی کھڑوس لگتا ہوں؟؟”
زنیشہ نے فورا نفی میں سر ہلایا ۔۔ سیاہ ریشمی دوپٹے کو کوفت سے سینے پر پھیلاتے اس نے جواب دیا جو پهسل پهسل کر نیچے گر رہا تھا۔۔
سیاہ شلوار قمیض میں اس کی دودھیا رنگت یوں لگ رہی تھی جیسے چاند کو سیاہ بادلوں نے گھیر رکھا ہو ۔۔ اس پر ستم ڈھاتی ناک میں پهنی نتھلی جس کا سرخ ننھا موتی باریک تار میں لٹک رہا تھا۔۔
“مجھے بلکل کھڑوس نہیں لگتے آپ کیونکہ ہم ہمیشہ دوستوں کی طرح رہے ہیں نہ ابراھیم بھائی تو ۔۔۔ “
اس کی گھوری پر وہ زبان دانتوں تلے دبا گئی ۔۔
“سوری نہ مجھے عادت ہے آپ کو “یہ” کہنے کی ۔۔ کوشش کررہی ہوں پھر بھی غلطی سے نکل جاتا ہے ۔۔”
منہ بناتی وہ روہانسی ہوئی ۔۔
“تمہیں پتہ ہے شوہر کو بھائی کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟؟” ۔۔۔ کشادہ کسرتی سینے پر ہاتھ باندھتا وہ آنکھیں سکیڑ کر بولا ۔۔
سیاہ روشن آنکھوں میں تاروں کی سی جلملاہٹ تھی جن کے کانچ اس پری وش کے سامنے چمک اٹھے تھے۔۔ اسکے انکشاف پر وہ ٹیک چھوڑ کر یک دم سیدھی ہوئی ۔۔
“ہاہ !! سوری اللّه جی اب نہیں کہوں گی !!۔۔۔”
آنکھیں بند کرتی وہ سر اٹھا کر جلدی سے بولی ۔۔ اس کے انداز پر ابراھیم نے مسکراہٹ دبائی ۔۔
م لبوں کے اوپر ناک کے پاس موجود تل بھی اٹھلایا تھا اس وجاہت کے شاہکار کی دل موہ لینے والی مسکان پر ۔۔
“لگتا ہے شوہر ہونے کا کوئی عملی ثبوت دینا پڑے گا تا کہ آئندہ تم مجھے بھائی کہنے سے پہلے سو بار سوچو!!!۔۔۔”
اسکی زومعنی بات اور گہری نظروں کے ارتکاز پر زنیشہ کا چہرہ سرخ ہوگیا دل تیز تیز دھڑکتا اسے پریشان کر گیا ۔۔
اس کی گہری بولتی نظروں سے بچنے کے لیے وہ حیا سے نظریں جھکا کر جلدی سے کمرے سے باہر آئی دل کی مقام پر ہاتھ رکھ کر اس نے رکی سانس خارج کی ۔۔
“اف یہ مجھے کیا ہورہا ہے ؟؟”
اپنے گال تھپتهپاتی وہ کچن کے کاموں میں مصروف ہوگئی ۔۔ آہستہ آہستہ اسے ان دونوں کے مابین بنے گہرے رشتے اور اس کے تقاضوں کا احساس ہونے لگا تھا۔۔
کافی دیر بعد وہ کام نبٹا کر واپس کمرے میں آئی وہ اب تک لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا ۔۔ بغیر اسے دیکھے وہ نائٹ ڈریس لے کر باتھ روم میں گھس گئی جب وہ باہر آئی تو ابراہیم اپنا سر دبا رہا تھا ۔۔
وہ فکر مند ہوتی اس کے پاس آئی اور اس کے سامنے سے لیپ ٹاپ ہٹا کر بند کر دیا ۔۔
“زونیشا مجھے کام کرنا ہے ابھی!!!”
اس کے ابھی بھی کام کرنے کی رٹ پر وہ تپ اٹھی ۔۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے اب کام کرنے کی کافی دیر سے کر تو رہے ہیں چلیں اب سو جاتے ہیں!!!”
اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی وہ اسے اٹھانے لگی تو وہ بھی چار و ناچار اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
“سو جاتے ہیں سے کیا مطلب ہے تمہارا ؟؟”
اس کے برابر بیڈ پر بیٹھتا وہ گردن موڑ کر پوچھنے لگا ۔۔
وہ لاپرواہی سے بولی ۔۔۔۔۔ “مطلب آپ اور میں،، رات ہورہی ہے تو سوئیں گے نہ!!!”
ناسمجھی سے کہتی وہ یہ سوچ نہ سکی کہ گفتگو کس موضوع کی طرف مڑ رہی ہے ۔۔
اسے مسکراتی نظروں سے دیکھتا وہ سر جھٹک کر لیٹ گیا آنکھیں موند کر وہ سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔
زونیشا نے لب کاٹتے اسے دیکھا پھر جھجھکتے ہوئے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اس کا سر دبانے لگی ۔۔
ابراہیم نے فورا آنکھیں کھولیں سیاہ آنکھوں کے کانچ شہد رنگ آنکھوں سے ٹکرائے۔۔
“اس کی ضرورت نہیں ہے!!!”
وہ بھاری مدھم لہجے میں بولا ۔۔
“میں دبا دیتی ہوں کوئی بات نہیں!!!”
ذرا قریب ہوتی وہ نظریں جھکا کر اس کا سر دبانے لگی۔۔
چند پل وہ یوں ہی اس کے مومی چہرے کو دیکھے گیا جو اس کی قربت میں سرخ پڑتا جا رہا تھا۔۔
“یہ لڑکی تو میرا ایمان خراب کر رہی ہے!!!” ۔۔
دل میں سوچ کر اس نے آنکھیں بند کرنا بہتر سمجھا۔۔
🍂🍂🍂
ہاتھ میں گن تھامے وہ تین چار غنڈے دکان میں داخل ہوئے ۔۔
“بھتہ نکال چل جلدی کر باقیوں سے بھی اپنا حق وصول کرنا ہے!!!” ۔۔
ذاکر بھائی کو دیکھ کر دکاندار خوف سے کانپنے لگا ۔۔
“ذاکر بھائی اس دفعہ بہت نقصان ہوا ہے جھوٹ نہیں بول رہا قسم سے!!!”
اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر وہ گر گرانے لگا ۔۔
“تو میں کیا کروں اپن کو اپنا مال چاہیے چل نکال!!”
اس کی پیشانی پر گن رکھتا وہ گرج کر بولا دکاندار تھر تھر کانپنے لگا ۔۔ سب سے آخر میں کھڑا لیث بے تاثر نظروں سے یہ سارا ڈرامہ دیکھ رہا تھا ۔۔
دکاندار سے اپنی مطلوبہ رقم نکلوانے کے بعد وہ باقی دکانوں سے بھتہ وصول کر کے اپنی جیپ میں آ بیٹھے ۔۔
بابا صاحب کے یہ چیلے اپنے آپ کو اس علاقے کا مائی باپ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ان لوگوں کے مال اور عورتوں پر سب سے پہلا حق ان کا ہے ۔۔
آج وہ لیث کو ساتھ لیے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرانےآئے تھے لیکن اسے کچھ خاص فرق نہیں پڑھا تھا ۔ راستے میں سڑک کنارے جاتی چادر میں ڈھکی ایک لڑکی کے پاس انہوں نے جیپ روک دی ۔۔
کالیا باہر نکلا اور اسے دبوچ کر جیپ میں بٹھا لیا وہ لڑکی چلاتی رہ گئی لیکن کوئی بھی اس کی مدد کو نہ آیا ۔۔ یہ منظر دیکھ کر لیث کی پیشانی پر بل پڑے تھے البتہ وہ خاموش رہا ۔۔
اپنے اڈے پر پہنچ کر انہوں نے جیپ روک دی سب سے پہلے لیث چھلانگ لگا کر اترا ۔۔ ڈھیلی پھٹی پینٹ پر ڈھیلی سی چیک کی شرٹ اور ہاتھوں میں جا بجا بینڈز پہنے وہ ازلی مغرور انداز میں چلتا ٹوٹا پھوٹا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا ۔۔
کا لیا اس لڑکی کو گھسیٹتا ہوا اندر لایا اور اسے ایک طرف پٹخا ۔۔ اس کے پیچھے ذاکر اور چھوٹو بھی اندر داخل ہوئے ۔۔
اس لڑکی کا رنگ خوف سے سفید پڑ گیا ۔۔ وہ چیختی چلاتی ان سے رحم کی بھیک مانگنے لگی ۔۔
لیث نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکالا ۔۔ ایک ہاتھ سے چوئینگم منہ میں ڈال کر اس نے میسج ٹائپ کیا اور موبائل دوبارہ پاکٹ میں ڈال لیا ۔۔
چند سیکنڈ گزرے تھے کہ ذاکر کے موبائل پر حسینہ کی کال آنے لگی ۔۔ اس نے حسینہ کو ایک موٹی گالی سے نوازتے کال ریسیو کی دوسری جانب سے کچھ کہا گیا جس پر اس کا منہ ایسے ہو گیا جیسے کڑوا بادام چبا لیا ہو ۔۔
“چلو یہاں سے بابا صاحب نے یاد کیا ہے اس لڑکی کو آ کر دیکھتے ہیں !!”
تند لہجے میں کہتا وہ باہر نکل گیا ۔۔
اس کے پیچھے کالیا بھی گیا جبکہ چھوٹو نے رک کر لیث کو دیکھا جو زمین پر کچھ ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔
“کیا ہوا؟؟”۔۔۔۔ اس کے پوچھنے پر لیث نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
“کچھ نہیں میری انگوٹھی گر گئی ہے میں آتا ہوں تم چلو !!”
لاپرواہ انداز میں کہتا ہوا دوبارہ زمین پر نظریں جما گیا ۔۔ چھوٹو نے سر ہلایا ۔۔ “اوکے دروازہ بند کر کے آنا!!!” ۔۔
اس کے جانے کے بعد وہ اس لڑکی کی طرف متوجہ ہوا جو ڈری سہمی بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“دروازہ کھلا چھوڑ جاؤں گا جان بچا کر نکل جانا!!!”
سرد لہجے میں کہتا وہ باہر نکل گیا ۔۔ وہ لڑکی بے یقینی سے اس کی پشت دیکھتی زمین سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اس نے اب تک یقین نہیں آ رہا تھا وہ لڑکا جو اسے کہہ کر گیا تھا۔۔
جیپ سٹارٹ ہونے کی آواز آئی اور پھر کچھ دیر میں دور ہوتی گئی ۔۔ ان کے جانے کا اطمینان کر کے وہ اگے آئی اس نے دروازہ کھول کر دیکھا تو واقعی دروازہ کھلا ہوا تھا ۔۔
دل میں خدا کا شکر کرتی اور اس شخص کو ڈھیروں دعائیں دیتی وہ جلدی سے باہر نکلی اور چادر کس کر پکڑتی جان بچا کر بھاگ گئی ۔۔
🍂🍂🍂
جاری ہے !!!
