No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
وہ کب سے الماری میں سر دیے کھڑی تھی سمجھ نہیں آ رہا تھا عرش کی برتھ ڈے پارٹی پر کونسا ڈریس پہنے۔۔
لیپ ٹاپ شٹ ڈاؤن کرتے ابراھیم نے ایک نظر اس کی پشت پر ڈالی۔ وہ فریش ہو کر تیار بیٹھا تھا بلیو جینز پر گہرا سرخ ٹرٹل نیک سویٹر پہنے جو اس کے كسرتی جسم سے چپکا ہوا تھا۔۔
اس کے مظبوط بازو فرصت سے نمایاں ہوتے جھلک دکھا رہے تھے۔ اس سخت سردی میں بھی بازو اس نے کہنیوں تک پیچھے کر رکھے تھے جس سے اس کی مظبوط کلائیاں ظاہر ہورہی تھیں۔۔
ہلکے گیلے بالوں کو اس نے لاپرواہ انداز میں ہاتھوں سے سلجھا لیا تھا۔۔ سلجھے میجر صاحب کا یہ الجھا انداز دل کے کونے میں کہیں نقش سا ہورہا تھا۔۔
سیاہ آنکھوں نے دوبارہ اسے دیکھا تھا۔ کام کے دوران پڑنے والے پیشانی کے بلوں کو اس نے سر جھٹکتے سیدھا کیا تھا۔ وہ پوری کوشش کرتا تھا جو سائیڈ باہر کے لوگوں خصوصاً اس کے ماتحتوں نے غصے کی حالت میں یا عموماً دیکھ رکھی تھی وہ گھر والوں کی نظروں سے اوجھل رہے۔۔!
اسے یونہی الجھتا دیکھ کر وہ لیپ ٹاپ کی سکرین فولڈ کرتا اٹھا۔ دھیرے سے چلتا وہ اس کے پیچھے دو قدم کے فاصلے پر آ کھڑا ہوا۔۔
“کیا ہوا؟” ۔۔۔
اس کی دھیمی آواز پر زنیشہ سرعت سے پلٹی جب اسے بلکل قریب کھڑے پا کر اس کی بادامی آنکھیں پھیلیں۔۔
“ایک منٹ۔۔!”
اس کے سینے پر احتیاط سے انگلی رکھ کر اسے پیچھے کرتی وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی،، ہاں اب وہ اسے دیکھ پا رہی تھی۔۔!
اور یہ دیکھنا ہی وبال ہوا تھا۔۔ یوں نظروں کی بےخودی، تکتے رہنے کی عادت وبال جان بن جاتی ہے جب وہ ‘سکونِ دل’ نظروں سے اوجھل ہوتا ہے!
ماتھے پر بکھرے بالوں میں سیاہ گہری آنکھوں میں قیامت خیزیاں لئے سر جھکا کر اسے دیکھتا وہ اسے اس جہاں سے دور کہیں دربار دل میں لے گیا تھا۔۔۔
جہاں صرف دل بولتے ہیں زبانیں ساکت ہوتی ہیں،، الفاظ روٹھ جاتے ہیں خاموشیاں اٹھلاتی ہیں۔۔!!
لمحوں کے بنتے جال سے خود کو باہر لاتی وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔۔
“کوئی یوں بھی اپنی بیوی کے سامنے آتا ہے کیا؟”
مسکان دباتی وہ واپس سے رخ موڑ کر ہینگ کیے کپڑے ادھر ادھر کرنے لگی۔۔
وہ دھیرے سے مسکرایا دو قدم آگے آتا وہ جھک کر اس کے کاندھے پر ٹھوڑی رکھتا آنکھیں موند گیا۔۔
“گستاخی معاف زوجہ،، بندہ ناچیز خطا جاننا چاہتا ہے!!” بھاری آواز میں سرگوشی کرتا وہ اس کی دھڑکنوں کو منتتشر کر گیا۔۔ وہ ساکت کھڑی تھی جب ابراھیم نے ہاتھ آگے لاتے اس کے گرد حصار باندھا تھا۔۔
وہ سختی سے آنکھیں میچتی کانپتے لب دبا گئی۔۔ چند لمحے وہ یونہی آنکھیں موندے کھڑے ایک دوسرے کے لمس کو محسوس کرتے رہے۔۔
“ابراھیم؟” ۔۔۔
اس کی کپكپاتی دهیمی آواز پر وہ اسے آزاد کرتا سیدھا ہوا، نرمی سے اسکا رخ اپنی جانب کرتے وہ اس کی پیشانی پر سرد لب رکھتا اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔
شہد رنگ آنکھوں میں اس کا عکس لیے وہ دھیرے سے بولی۔۔
“آج کیا پہنوں مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا؟”
اس کی آواز میں بےچارگی تھی وہ اس کے اوپر سے ہاتھ گزار کر ایک ڈریس نکالنے لگا۔ گہرا سرخ ٹشو کا شارٹ پھولا سا فراک اس کے ہاتھ میں تھما کر وہ دور ہٹ کر کھڑا ہوا۔۔
“اِن دِس ڈریس یُو لُک لائک آ روز!!”
بھاری گھمبیر لہجے میں کہتا وہ موبائل پر آتی کال اٹینڈ کرنے لگا۔۔ زنیشہ نے شرمگیں مسکراہٹ لبوں پر روکتے اس کی چوڑی پشت کو دیکھا۔۔
دن بدن وہ اسے اچھا لگنے لگا تھا۔۔
مطلب اس نظر سے۔۔۔!
کپڑے سائیڈ پر رکھتی وہ جیولری دیکھنے کے لیے ڈریسنگ ٹیبل تک آئی ابراھیم نے کال بند کر کے اسے مخاطب کیا۔۔
“دل ۔۔ مجھے ایک کام سے جانا ہے، ایک گھنٹے تک آ جاؤں گا تب تک تم تیار ہو جاؤ ٹھیک ہے؟ ماما اور رمل اگر پہلے جانا چاہیں تو تم بھی چلی جانا” ۔۔
ہموار لہجے میں کہتا وہ جھک کر سائیڈ ٹیبل سے بائیک کی چابی اٹھاتا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔۔
وہ گہری سانس لے کر کپڑے اٹھاتی شاور لینے چلی گئی۔
🍂🍂🍂
تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی وہ لاؤنج سے گزر کر بیرونی دروازے کی جانب جا رہی تھی جب اس خوشنما بنگلے کی پچھلی جانب بنے سویمنگ پول کے کنارے اسے کھڑا دیکھ کر اس کے قدموں کو بریک لگا۔۔
سکائے بلیو سویٹر کی آستین کھینچ کر ہاتھ ڈھانپتی وہ سر اٹھا کر گہرے دهند گراتے آسمان کو دیکھنے لگی سر اٹھانے سے اس کا کے مہرون کرلی بال گھٹنوں سے نیچے تک جاتے لہرائے سے تھے۔۔
ہری آنکھوں نے افسوس سے اسے دیکھا اتنی ٹھنڈ میں ہلکی سی شرٹ ٹراؤزر میں وہ پول کے پاس بےحس بنا کھڑا تھا۔۔ غزل کو وہ ایک ایسی مسٹری لگتا تھا جسے وہ کبھی سمجھ نہیں پائے گی!
اوپرے لب کے خم پر موجود تل پر انگلی پھیرتی وہ کچھ سوچ رہی تھی اچانک اس کی ہری آنکھوں کے کانچ چمکے بغیر چاپ پیدا کیے وہ اس کے پیچھے آ کھڑی ہوئی۔۔
اس نے حاوز کو دھکا دینے کے لیے ہاتھ بڑھائے جب وہ ناک کی سیدھ میں دیکھتا آرام سے ایک طرف ہوگیا ۔۔ توازن کھوتی وہ دھڑام سے یخ ٹھنڈے پانی میں گری اس دماغ جیسے سن ہوا تھا ۔۔۔
سر باہر نکالتی وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جو ایک نظر اس پر ڈال کر ٹراؤزر کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالتا چہرہ پھیر گیا۔۔
اف ۔۔۔!!! کس قدر کھڑوس اور بدمزاج تھا وہ، غزل کا تو غصے کے مارے برا حال ہوگیا۔۔ پول کے کنارے آ کر ہاتھ رکھتی وہ اچھل کر باہر نکلی۔۔
ٹھنڈ میں گیلے کپڑوں میں وہ تھر تھر کانپ رہی تھی لیکن مجال جو اس کھڑوس کو ذرا بھی فرق پڑا ہو۔۔
“تم ایک انتہائی بدتمیز انسان ہو!!”
اس کے کندھے پر ہاتھ مارتی وہ اس کے مقابل آئی حاوز نے نظروں کا رخ بدل لیا جب وہ بولا تو اس کا لہجہ قہر برساتی ٹھنڈ سے بھی زیادہ سرد تھا۔۔
“ڈونٹ یو ڈیئر تو ٹچ می لائک دیٹ!!”
اس کی آواز سرد تھی تو آنکھیں آگ برسا رہی تھیں۔۔! سختی سے لب بھینچتا وہ گہری گھور اندھیرے جیسی آنکھوں سے اسے اس کی حد یاد کرواتا پلٹ گیا۔۔
غزل کا پارہ مزید چڑھا اس کے اندر کی خودسر پٹھانی نے سر اٹھایا۔۔
” تاسو پہ نالی کی ژرل ۔۔۔! “
( تم گٹر میں گر جاؤ۔۔۔!! )
اس کی پشت کو کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھتی وہ دانت پیس کر بولی سخت ٹھنڈ سے اس کے دانت آپس میں بجنے لگے تھے۔۔ اس کی نظروں سے دور جاتا وہ رکا پھر بغیر پلٹے بولا۔۔
” ته ذما په مخکی “
( تم مجھ سے پہلے۔۔۔!! )
ٹکا سا جواب دے کر وہ جا چکا تھا۔۔ غزل کا منہ کھل گیا “اسے پشتو کس نے سکھائی؟”
کلس کر اس نے اپنی عقل کو دو ہاتھ مارے پاک سپائی تھا وہ دنیا کی جانے کتنی زبانیں جانتا ہوگا وہ، وہ تو نئی تھی ابھی۔۔!
ایک بار کسی میٹنگ کے دوران کسی سینئر نے اس کے قد کاٹھ اور عمر کو دیکھتے طنز کیا تھا۔۔ “اس لڑکی کو سپائی بنایا کس نے؟”
جواباً اس نے آنکھیں پٹپٹاتے بلند آواز میں کہا تھا۔۔
“میرے ابے نے بنایا ہے کوئی مسلہ؟؟”
سر جھٹک کر وہ بڑبڑائی۔۔۔
“ورک شه ،، له کومی دبری خخه خانی سر ماتوی ” ۔۔
( بھاڑ میں جائے تم بھی کس پتھر سے سر پھوڑ رہی ہو خانی!! )
اپنے یہاں آنے پر ہزار لعنت بھیجتی وہ واپس اندر آئی۔۔ اس کا انداز اب سرد سا تھا، چال میں وہی روعب اور تمکنت تھی جو سپائی غزل خانزادی کا خاصہ تھی۔۔
موبائل پر ایک نمبر ڈائل کر کے کان سے لگاتی وہ سیڑھیاں چڑھتی سرد لہجے میں غرائی تھی۔۔
”ابھی کے ابھی ان سب کو خفیہ سیل میں لے کر جاؤ، اب ان سے انفارمیشن میں خود نکلواؤں گی، اور ہاں ایک عدد تیزاب کی بوتل تیار رکھنا!!“ ناگواری سے سر جھٹکتی وہ یکدم مسکرائی آنکھیں کسی شیرنی کی طرح چمکی تھیں۔۔ ”تو بابا صاحب سے حسینہ کی ملاقات کا وقت ہوا چاہتا ہے۔۔۔! غزل خانی،، تخلیہ!!“ جانے اس کے کتنے رنگ تھے ہر رنگ گہرا تھا۔۔! خون سا گہرا۔۔!
🍂🍂🍂
کرنل عصام کے آتے ہی وہ فوراً کھڑا ہوا، ہاتھ کنپٹی تک لے جاتے اس نے سلیوٹ کیا! وہ فخر سے اسے دیکھتے آگے بڑھ کر بغل گیر ہوئے۔۔! یہ میجر ابراھیم کی زندگی کے بہترین لمحات میں سے ایک تھا۔۔
“میجر میں تمہاری کارکردگی سے بہت خوش ہوں۔۔۔! تمہیں اس مشن پر بھیجنے کا فیصلہ بلکل درست تھا۔۔۔!!”
اس کے مقابل صوفے پر بیٹھتے وہ مسکراتے لہجے میں گویا ہوئے ان کا چہرہ روشن سا تھا اپنی کامیابی پر وہ مسرور تھے۔۔۔!
ابراھیم نے سر کو خم دیا پھر اپنے ازلی مظبوط پر اعتماد انداز میں بولا جس کے لیے وہ جانا جاتا تھا وہ کسی سے نہیں ڈرتا تھا سوائے اپنے پیدا کرنے والے کے!
وہ کرنل عصام سے بھی مرعوب نہیں تھا وہ ان کی عزت کرتا تھا ان کے رتبے کا احترام کرتا تھا۔۔
“آئی ایم آنرڈ۔۔۔!!”
مختصر جواب دے کر وہ خاموش ہوا تھا۔ چند پل ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ اصل مدعے پر آئے جس کے لیے انہوں نے اسے اپنی رہائش گاہ پر بلایا تھا۔ بات کرتے درميان میں فون کال آ گئی۔۔
کرنل معذرت کرتے اٹھے! “میجر بہت ضروری کال ہے میں بات کر کے آتا ہوں۔۔!!”
ابراھیم نے بغیر برا منائے ہموار لہجے میں کہا۔۔
“شیور سر!” ۔۔
ان کے جانے کے بعد وہ صوفے سے کمر ٹکا کر بیٹھ گیا سر جھکائے وہ سینے پر ہاتھ باندھے فرش پر بچھے قالین کو دیکھ رہا تھا جب کوئی لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔۔
ابراھیم نے یونہی سر اٹھایا تھا پھر وہ نظریں نہیں جھکا سکا۔۔
دنیا میں کتنی آوازیں ہوتی ہیں سانس لینے کی آواز ،، دل کے دھڑکنے کی آواز ،، سرسراتی ہوا کے چھو کر گزر جانے کی آواز ،، ساکن لمحات میں گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک کی آواز۔۔۔!!
ہر آواز جیسے سماعتوں سے پرے ہو چکی تھی منظر میں بس وہ تھا لاپرواہ انداز میں اندر آتا،،، اکتایا سا۔۔۔!
“بابا۔۔۔؟؟”
ابراھیم کے لبوں نے ہلکی سی سرگوشی کی نگاہیں اس کے چہرے سے ہٹنے سے انکاری تھیں یوں لگتا تھا اگر اس نے پلک جھپکی تو منظر بدل جائے گا حقیقت سراب بن جائے گی!
بنا پلکیں جھپکائے وہ اس کے پاس آنے لگا واس وقت وہی چار سالہ ابراھیم بن چکا تھا جو راتوں کو اٹھ کر اپنے بابا کو پکارا کرتا تھا۔۔
حاوز اسے دیکھ کر ایک پل کو ٹھٹھکا یہ چہرہ اس نے دیکھ رہا تھا۔۔کہاں؟؟
اچانک ابراھیم اسکے سینے سے لگا تھا بلکل کسی بچے کی طرح۔۔!
“بابا کوئی اپنے بچوں کو یوں چھوڑ کر جاتا ہے؟؟”
اس سے لپٹا وہ بلک رہا تھا زندگی میں پہلی بار وہ لمبا چوڑا مرد رو رہا تھا بلک بلک کر۔۔!
اس کا دل گواہی دے رہا تھا وہ اس کے بابا ہیں، اس کے اور رمل کے بابا۔۔۔!
صالح نے اسے خود سے دور کیا اس کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق تک نہیں تھی البتہ دماغ الجھ گیا تھا۔۔
“میں تمہیں نہیں جانتا۔۔۔!!”
اس کی سیاہ آنکھوں میں دیکھتا وہ بےنیازی سے آگے بڑھ گیا ابراھیم نے پلٹ کر اس کی پشت کو دیکھا آنکھیں صاف کرتا وہ تیزی سے باہر نکلا اس کا دماغ تیزی سے کچھ سوچ رہا تھا۔۔
“کرنل عصام کے گھر ان کا ملنا کوئی اتفاق نہیں ہے وہ میرے بابا ہیں! وہ یہاں کیسے ہیں۔۔ اصل بات تو میں پتہ لگوا ہی لوں گا۔۔!”
رمل اور مشی کا خیال آتے وہ مسرور سا کار کا دروازه کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اس کی آنکھیں بار بار نم ہورہی تھیں وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتا
