Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 80) Last Episode (Part - 2)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 80) Last Episode (Part - 2)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
آج صفا کی رخصتی تھی اس کا دل گھبراہٹ کا شکار تھا فجر پڑھنے کے بعد اسے چاہ کر بھی نیند نہیں آسکی تبھی وہ لان میں آگئی یہ وقت ہر لڑکی کے لیے بلاشبہ مشکل وقت ہوتا ہے جب وہ اپنا گھر بار اپنا کمرہ اپنی یادیں اپنے رشتے چھوڑ کر کسی اور کے گھر چلی جاتی ہے ۔۔۔
ٹھنڈی گھاس پر بیٹھی وہ اپنے گھٹنوں کو سینے سے لگائی یادوں میں گم تھی جب کوئی اس کے پاس آکر بیٹھا
صفا نے چونک کر سر اٹھایا بالاج تھا
اففف باسل ابھی سویا ہے اتنی شرارتی تو آنا بھی نہیں تھی لگتا ہے سہی کہتا ہے عون اس پر چلا گیا ہے باسل
بالاج نے ہاتھوں کو لمبا کر کے بے چارگی سے کہا تو صفا ہنس دی
دونوں کتنے لمحے خاموش رہے
اتنی جلدی بڑی ہوگئی میری گڑیا
سال ہی تو چھوٹی ہوں آپ سے بھیا صفا نے ہنس کر کہا وہ بالاج کو اداس نہیں کرنا چاہ رہی تھی نہیں تو یہ آنسو تو اس کی آنکھوں میں بھی بار بار آرہے تھے
بھائی صفا نے اپنا سر بالاج کے کندھے پر رکھا
مما کو خوش دیکھ کر بہت سکون ملتا ہے
جازب انکل بہت اچھے ہیں بالاج نے صفا کے بال سہلائے
ہمم ۔۔۔ بہت
وہ پھر خاموش ہوئی
صفا بابا کے لیے تھوڑی سی گنجائش نکال لینا بچے نہیں تو وہاں رہنا تمہارے لیے مشکل ہو جائے گا
بالاج نے پیار سے اس کے ہاتھوں کو تھاما
ان چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے پکڑ کر وہ اسے سکول لے کر جاتا تھا اسے پارک لے کر جاتا تھا آج یہ ہاتھ وہ کسی اور کے ہاتھ میں دینے والا تھا ۔
میں تو گنجائش نکال لوں گی وہ نکال لیں گے ؟
بڑی حسرت تھی اس کے لہجے میں
انہیں تو احمد چاہیے تھا وہ انہیں مل گیا صفا نے دل میں سوچا
خیر بھیا فکر نہ کریں آپ کی صفا بہت سمجھ دار ہوگئی ہے
اس کے پاس سارے رشتے ہیں ماما جازب بابا آپ بیا میرا بھانجا کمال انکل بالکل ہمارے نانا جیسے ہیں کل پتا ہے کیا ہوا بابا اور انکل میں لڑائی ہوگئی انکل نے کہا میں حیا کا بابا ہوں تم نہیں مجھے چاہیے بابا کا چہرہ ہاہاہا وہ ہنستے ہوئے بالاج کو بتا رہی تھی اور بالاج بھی مسکراتے ہوئے اسے سن رہا تھا صفا کی اداسی ہوا ہوگئی تھی بالاج کے لیے اتنا ہی کافی تھا ۔۔۔
——-
صبح اتنی ہڑبڑاہٹ والی تھی ہر کوئی کام میں لگا ہوا تھا جازب پہلے صفا کو سیلون چھوڑ کر آیا
پھر ایک چکر وینیو کا لگایا تھا کھانا ارینجمنٹس سب بیشتر بار دیکھے جا چکے تھے ۔۔۔
کیا مطلب آج نہیں آیا تمہارا جیولر میں نے جب پری بکنگ کی تھی تو پھر ؟
مجھے آج ہی چاہیے میرا سامان جہاں مرضی سے انتظام کرو
جازب نے بھڑک کر کال کاٹی
جازب ریلیکس کیا ہوا ہے آپ کو؟ اتنا غصہ
حیا نے اپنا ائیر رنگ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر اس کے پاس آکر پوچھا
وہ حیا کی طرف دیکھ کر مبہوت ہوا وہ لگ ہی اتنی خوبصورت رہی تھی سبز آنکھیں ناک میں چمکتی لونگ جازب نے گہری سانس اندر کو کھینچی
جازب
ہنہہ ہاں ۔۔۔۔
وہ کچھ نہیں کچھ سامان کا آرڈر دیا تھا اب ان کا جیولر چھٹی پر چلا گیا ہے
اتنا ہائیپر مت ہوں شادی میں تو ایسی اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے
حیا نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ میں سے پانی گلاس میں ڈال کر اس کے آگے بڑھایا
آپ روئی ہیں؟ جازب نے پانی کا گلاس پکڑ کر واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر حیا کے ہاتھ تھامے
وہ بری طرح حیران ہوئی اتنے میک اپ کے بعد وہ کیسے بتا سکتا ہے کہ حیا روئی تھی
نہیں ۔۔۔۔ وہ شاید کاجل لگ گیا آنکھوں میں حیا نے آنکھیں دو تین دفعہ جھپکیں
سب سے تکلیف دہ پتا ہے کیا ہے ان سبز آنکھوں میں اپنی موجودگی میں بھی کرب دیکھنا لگتا ہے زندگی میں فیل ہوگیا ہوں ۔۔۔
یہ کرب نہیں ہے جازب یہ تو خوشی کے آنسو ہیں میرا بیٹا اپنی زندگی میں خوش اور شاد ہے میری بیا کے چہرے سے شادابی جھلکتی ہے میری صفا اپنے گھر کی ہونے والی ہے میں اللہ سے کس کس نعمت کا شکر کروں اس نے آپ کی صورت میں مجھے میرے فیصلے پر ریگریٹ نہیں ہونے دیا۔۔۔
حیا جازب کے گلے لگ گئی یہ پہلی دفعہ تھا جب حیا نے پہل کی تھی
تھینک یو سو مچ جازب
شکریہ تو مجھے آپ کا کرنا ہے حیا میری زندگی میں اتنے سارے خوبصورت رشتوں کا اضافہ آپ کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔
جازب نے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا اس کا ائیر رنگ بڑی نرمی سے اس کے کان کی زینت بنایا
صفا کو سیلون سے لینے جارہا ہوں وہاں سے حال جاؤں گا آپ بالاج اور بیا کے ساتھ آجائیں بالاج کو اس وقت آپ کی ضرورت ہوگی وہ نرمی سے اس کا ماتھا چھو کر وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
——–
انابیہ نے باسل کو بالکل بالاج جیسا پینٹ کوٹ زیب تن کروایا تھا
بالاج کی گود میں وہ اتنا پیارا لگ رہا تھا انابیہ اس کی کئی بار نظر اتار چکی تھی میرا شہزادہ میرا چاند میرا پھول مما تو کھا جائے گی اپنے گول گپے کو وہ باسل کی سرخ گالوں کو اپنے سرخ ہونٹوں سے اور لال کرتی اس کے واری صدقے جارہی تھی
کبھی اتنے لاڈ اپنے لاج سے تو نہیں کیے اس کے نیک لیس کا ہک بند کرتے بالاج نے شیشے سے نظر آتے انابیہ کے عکس پر محبت سے نظر ڈال کر مصنوعی خفگی سے کہا
لاڈ معصوموں کے ساتھ کیے جاتے ہیں جنوں کے ساتھ نہیں
انابیہ نے اترا کر اپنا دوپٹہ شانوں پر درست کیا
ایسی بات ہے مسسز بالاج تو اپنی خیر منائیں کیونکہ یہ جن آپ کا خون پینے کے ارادوں میں ہے
بالاج نے اس کے کان کے پاس چہرہ لے جا کر کہا
لاج ۔۔۔۔ انابیہ نے بڑی محبت سے اسے پکارا
بالاج جی جان سے اس کی جانب متوجہ ہوا
آئی ۔۔۔
یس مائی کیٹ
لو ۔۔۔ انابیہ نے دو قدم پیچھے لیے
یس یو لو؟ بالاج کی آنکھوں میں چمک در آئی
باسل بھاگو بابا جن ہمیں پکڑ لیں گے
وہ پیڈ پر بیٹھے باسل کو گود میں۔ اٹھائے بالاج کو زبان دیکھاتی کمرے سے بھاگ گئی ۔۔۔۔
آنا کی بچی ۔۔۔
———
رخصتی کا وقت آن پہنچا تھا انابیہ تو صفا کے گلے لگ کر ایسا روئی کہ صفا نے بھی سب کو رلا دیا حیا ضبط کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی جازب نے صفا کو اپنی شفقت کے سائے میں رخصت کیا تھا
صفا پلیز روئیں نہیں یار میں روز آپ کو وہاں لے جایا کروں گا
عون صفا کو رخصتی کے وقت روتا دیکھ کر پریشان ہوگیا تبھی اس کی جانب جھک کر نرمی سے کہا
صفا کچھ پرسکون ہوئی گھر پہنچ کر شاہ ہاؤس میں اس کا
قابلِ رشک ویلکم کیا گیا تھا آخر ابراہیم شاہ کے اکلوتے بیٹے کی شادی تھی حدید شاہ بس فاصلے سے ہی سب دیکھ رہے تھے
فیصل جاوید نے کہیں نوٹ اس پر سے وار کر ملازموں کو دیے تھے
چلو سمیٹو میری بچی تھک گئی ہے صفا بچے آپ کو بھوک لگی ہے میں کھانا بھجواوں حدیقہ نے صفا کی گال سہلا کر ہوچھا
نہیں پھوپھو بھوک نہیں ہے بس چائے سر میں درد ہورہی ہے
اچھا آجاؤ میں تمہیں چھوڑ آؤں پھر تمہارے لیے چائے کے ساتھ کچھ ہلکا پھلکا کھانے کو بھجواتی ہوں اسے کھا کر دوائی لے لینا
———
دوائی لینے کے بعد سر کے درد کو کچھ آرام تھا عون پتا نہیں کہاں غائب ہوگیا تھا
ابھی وہ اٹھ کر ڈریسنگ روم کی جانب جاتی عون دروازہ کھول کر اندر آیا
زندگی ۔۔۔ وہ تیزی سے چل کر اس کے پاس آیا اور اسے تھام کر گول گول گھومنے لگا
عون مجھے چکر آرہے ہیں
صفا نے ہڑبڑا کر کہا
آؤ سوری سوری میں بتا نہیں سکتا یار میں کتنا خوش ہوں آپ کو اپنے پاس دیکھ کر میرا دل کر رہا ہے میں بھنگڑے ڈالوں اعلان کروں کہ صفا عون کی ہوگئی ہیں وہ اسے شانے سے تھام کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہا تھا اور صفا مسکرا رہی تھی
اور اگر یہ خواب ہوا تو ؟ صفا نے اس کی مسکراتی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
اللہ نہ کرے یہ خواب ہو یہ میری زندگی کی سب سے خوبصورت جیتی جاگتی حقیقت ہے “زندگی” وہ اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکڑا کر بولا آپ جائیں چینج کر آئیں آپ سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں وہ اس کے ہاتھوں کو چھو کر مسکراتے ہوئے بولا اور خود بڑھ کر الماری سے اپنے لیے ٹراؤزر شرٹ نکالنے لگا
صفا نے ہنس کر نفی میں سر ہلایا اب اس کی آگے کی ساری زندگی عون کی صحبت میں ایکسٹرا ایکسائٹمنٹ میں گزرنی تھی ۔۔۔
———-
کچھ سالوں بعد ۔۔۔۔
وقت کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا اور نہ ہی زندگی وقت کی ریت میں کچھ لوگ ساتھ چھوڑ گئے تھے جیسے حیا نے اپنی ماں کو کھو دیا تھا تو جازب نے اپنے باپ کو مگر وہ دونوں ایک دوسرے کا غم ہلکا کرنے کو موجود تھے جازب کی پُرزور خواہش پر بالاج اور انابیہ ساتھ والے بنگلے میں شفٹ ہوگئے تھے
عون حدید کے ساتھ اس کا بزنس دیکھ رہا تھا اسے صفا مل گئی تھی اسے اور کوئی خواہش حدید شاہ سے زیادہ عزیز نہیں تھی
صفا امید سے تھی اور کل حیا کی طرف آئی تھی آج عون صاحب نے ماموں کو اسے لینے بھیج دیا تھا بقول اس کے وہ گھر آکر جب تک صفا کو نہ دیکھ لے اس کا کھانا ہضم نہیں ہوتا حدید کو ویسے بھی باسل کو لینے جانا تھا وہ اداس ہوگیا تھا اپنے شیر کے بغیر
حدید۔۔۔ وہ گاڑی کی چابی لے کر نکلنے لگا تھا جب فیصل جاوید کی آواز پر مڑا
ان گزشتہ سالوں میں حدید شاہ کو دو لوگوں نے معاف کردیا تھا
فیصل جاوید اور صفا حدید
جی ڈیڈ ؟ یار مجھے عالم بیگ کے گھر چھوڑ دو زرا ، کل سے بلا رہا ہے وہ مجھے
آجائیں ڈیڈ
ویسے تم کہاں جارہے تھے ؟ وہ گاڑی میں بیٹھ پوچھنے لگے
میں صفا اور باسل کو لینے جارہا تھا
ارے باسل کو پھر تو میں جلدی آجاؤں گا میرا ببر شیر آرہا ہے
میں لینے آجاؤں گا آپ فون کردینا حدید نے گاڑی ان کے مطلوبہ ایڈریس کے باہر روک کر کہا
جیتی رہو وہ حدید کا شانہ تھپتھپا کر گاڑی سے نکلے ۔۔۔
———
ہیلو قاسم کیسے ہو ؟ آج کافی عرصے بعد یاد کیا
حدید نے مسکراتے ہوئے قاسم کی کال اٹینڈ کی
سر زیاد لغاری نے خود خوشی کرلی ہے اور نشاء لغاری کو مینٹل ازائلم شفٹ کردیا گیا آپ کے مجرم اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں
———
میرا بچہ دو حیات میں تم سے تمہارا بچہ چھین لوں گی
حیات میرا بچہ دے دو وہ غرا رہی تھی
جب ایک نرس اس کے قریب آئی
میرا بچہ میرا بچہ لینے آئی ہو تم نشاء اس نرس پر ہی جھپٹ پڑی پاگل ہے یہ اسے پاگل خانے شفٹ کرو وہ نرس اسے برا بھلا کہتی اسے بغیر کھانا دئیے وہاں سے چلی گئی
حیات ۔۔۔۔
———
صفا صفا بیٹا کہا ہو
آئی بابا وہ بھاگ کر آئی
آرام سے بچہ دھیان رکھو اپنا جازب نے ڈپٹ کر کہا تو وہ زبان دانتوں تلے دبا گئی
ٹائی مما سے بندھوانی ہے صفا نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا تو جازب نے جھینپ کر گلے میں لٹکی ہوئی ٹائی کو گلے سے نکال کر ہاتھ پر لپیٹ لی
ہیں کہا وہ صبح کمرے میں بھی نہیں تھی ؟
جازب نے اِدھر اُدھر نظریں گھما کر پوچھا
مما اپنے سٹڈی روم میں ہیں کوئی فائل ڈھونڈ رہی ہیں آپ بیٹھیں میں ناشتہ لگواتی ہوں
ناشتہ نہیں یار آج ضروری کیس کی ہیرنگ ہیں
جج صاحبہ آجائیں جازب نے حیا کو آواز لگائی
تب باسل بھی بھاگتا ہوا باہر آگیا آج سکول سے چھٹی تھی تبھی جناب جلدی اٹھ گئے تھے ایک ہی رٹ لگائی ہوئی تھی ڈیڈا کی طرف جانا ہے
افف یہ بچہ کتنی دفعہ کہا ہے ڈیڈا نہیں دادا انابیہ نے سر نفی میں ہلایا آؤ نو ماما ڈیڈ کے ڈیڈ ڈیڈا اور دادی کے ہسبنڈ دادا باسل نے دانت نکال کر اس کی تصحیح کی
انابیہ بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ آئی بالاج بھی اس کے ساتھ ہی تھا
باسل آپ بہت تنگ کرنے لگ گئے ہو مجھے انابیہ نے باسل کو ڈانٹا لیٹ سے سوتا ہے یہ بچہ اور سب سے پہلے جاگ جاتا بچاری انابیہ کی تو ایک بچے میں ہی بس ہوگئی تھی
باسل ماں کی ڈانٹ سے بچنے کو وہاں آتی حیا کی ٹانگوں سے لپٹ گیا
مما ڈانٹ رہی ہیں دادی
بیا میرے شہزادے کو مت ڈانٹا کرو
حیا کی بات پر باسل کی بانچھیں کھل جاتی اور رہی انابیہ منہ بسور کر بیٹھ جاتی یہ کیا بات ہوئی
لاونج کے دروازے پر کھڑے حدید شاہ نے بڑی شدت سے اس منظر کو دیکھا تھا ۔۔۔
باسل ۔۔۔ اس کی ایک آواز اور باسل صاحب بھاگتے ہوئے اپنے ڈیڈا کی گود میں چڑھ گئے
ڈیڈا ۔۔۔ ڈیڈا
صفا بیٹا آجاؤ حدید کی نظریں باسل پر تھیں
ڈیڈ آجائیں ہمارے ساتھ ناشتہ کرلیں صفا اور بالاج اٹھے
جی ڈیڈ آجائیں انابیہ نے بھی اٹھتے ہوئے کہا
نہیں بیٹا ابھی ناشتہ ہی کرکے آرہا ہوں عون کہہ کر گیا تھا صفا کو لے آیئے گا اور مجھے باسل کی یاد آرہی تھی انابیہ ، بالاج میں اسے کے جاؤں
ڈیڈ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہوئی مگر پہلے آئیں ہمارے ساتھ ناشتہ کریں نہیں تو پلیز تھوڑا سا چکھ لیں صفا نے گاجر کا حلوہ بنایا ہے
بالاج نے حدید کے گرد بازو پھیلا کر کہا
حدید نا چاہتے ہوئے بھی اندر آرہا تھا اور حیا اور جازب بچوں سے مل کر باہر جارہے تھے آج بہت ضروری کیس کی ہیرنگ تھی اور انہوں نے جلدی نکلنا تھا
اب جازب کی جگہ پر حدید بیٹھا ہوا تھا صفا اسے حلوہ ڈال کر دے رہی تھی
حدید نے دائیں کرسی پر نظر ڈالی جو خالی تھی بلکہ جس کرسی پر وہ بیٹھا تھا اس نے وہ حق بھی کھو دیا تھا
———-
اور جج صاحبہ تیار ہیں آپ گاڑی میں بیٹھ کر جازب نے حیا کا ہاتھ پکڑ لیا بیرسٹر صاحب آپ بتائیں ہم نے تو بس فیصلہ سنانا ہے اصل کیس تو آپ نے لڑنا ہے
جب سے زندگی کا کیس جیتا ہے یہ کیس آسان لگنے لگ گئے ہیں
وہ کوئی پرانی دھن گنگناتے ہوئے پرشوق لہجے میں بولے۔
پھر مسکراتے ہوئے گاڑی کے میوزک سسٹم کو آن کیا کیا فضول گانے ہیں پھر بد مزہ ہوکر سسٹم بند کردیا اچھے گانوں کی پلے لسٹ تو میرے پاس تھی
سد شکر باسل کے بال لگنے کی وجہ سے آپ کا ریڈیو دارِ فانی سے کوچ کر گیا نہیں تو میں نہیں برداشت کر پاتی وہ کانوں سے خون نکلوانے والے گانے حیا نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا
بابا کو بھی بہت برا لگتا تھا میرا ریڈیو جازب نے ٹرانس میں کہا
پھر اپنے ہاتھ پر حیا کی گرفت مضبوط ہوتی محسوس کرکے مسکرایا
آپ بس ہماری دھڑکنیں سنیں جج صاحبہ
———
آنا۔۔۔ جی بالاج وہ باسل کے کپڑے طے کر رہی تھی جب بالاج کے پکارنے پر اس کی جانب متوجہ ہوئی
ڈیڈ باسل کو لے جاتے ہیں تمہیں کوئی ایشو تو نہیں نہ ؟
ایسے کیوں کہہ رہے ہیں بالاج وہ ڈیڈ ہیں آپ کے باسل کے دادا ان کا حق ہے باسل پر
نہیں میں کہہ رہا تھا اگر تم مس کرتی ہو باسل کو تو کیوں نہ باسل کی بہن لے آئیں
بالاج میرے سے ایک باسل نہیں کنڑول ہوتا آپ تو ہوتے نہیں ہیں گھر وہ مجھے ناکو چنے چبوا دیتا ہے
پتا ہے میری نیند نہیں پوری ہوئی اتنے دنوں سے اور آپ ہیں وہ غصے سے کہتی آخر میں رونے ہی لگ گئی
بالاج پریشان ہوگیا
اچھا اچھا ریلیکس آنا میری جان شش سوجاؤ سوجاؤ تم آجاؤ وہ ہاتھ اس کے سامنے پھیلا کر بولا وہ سارا کچھ چھوڑ کر جلدی سے بستر پر گر گئی
بالاج اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتا مسکرایا جانتا تھا جب تھکاوٹ اترے گی دماغ ٹھنڈا ہوگا تو اپنے رویے پر پشیمان ہوگی
میں نہیں سنبھالوں گی دوسرے بچے کو
تبھی اسے انابیہ کی تپی تپی سی آواز آئی
بالاج کا قہقہ بے ساختہ تھا
تم بس مجھے سنبھال لو باقی میں سب سنبھال لوں گا ۔۔۔
———-
عون رہا نہیں گیا نہ تم سے بلا لیا نہ مجھے گھر یار میں نے مما کے ساتھ ٹائم سپنڈ کرنا تھا
صفا نے منہ بنا کر کہا
حدیقہ اور ابراہیم شاہ نے مسکرا کر ان دونوں کو دیکھا ان گزشتہ سالوں میں ایک بھی دن ان دونوں کی کھٹی میٹھی تکرار کے بغیر نہیں گزرا تھا
زندگی یار میں نے کہا تھا نہ بے شک پورا دن وہاں گزار آیا کریں مگر رہاں نہ کریں میں بچارا آپ کا معصوم شوہر بور ہوجاتا ہوں
اور آپ نے آنٹی کے ساتھ ٹائم سپنڈ کرکے کیا کرنا تھا انہیں اپنے شوہر کے ساتھ ٹائم سپنڈ کرنے دیں آپ میرے پاس آئیں
بھاڑ میں جاؤ عون زبان پر تو جیسے کوئی فلٹر لگا ہی نہیں ہوا
ارے میں سچا ہوں لوگ پتا نہیں کیوں سچے لوگوں کی قدر نہیں کرتے
وہ صفا کو غصے سے کمرے میں جاتا دیکھ کر ابراہیم کی طرف منہ کرکے بولا جو اسے بالکل ایسے اگنور کرکے حدیقہ سے باتیں کر رہے تھے جیسے وہ وہاں پر موجود ہی نہ ہو
چل عون اٹھ جا اور منا اپنی زندگی کو
———
ڈیڈا آپ کو کبھی محبت ہوئی ہے ؟
باسل نےحدید کی طرف جھک کر رازداری سے پوچھا وہ پانچ سال کا بچہ سب سے زیادہ حدید شاہ کے قریب تھا
حدید نے مسکرا کر اسے اپنی گود میں بٹھایا زیادہ بڑی باتیں نہیں آگئی میرے شیر کو ؟
حدید نے اسے خود میں بھینج کر کہا تو وہ کھلکھلایا بتائیں نہ میں نے کل ٹیچر کو کہتے سنا تھا محبت کے بارے میں وہ دوسری ٹیچر سے بات کر رہی تھیں
آپ بتائیں وہ باضد تھا
محبت۔۔۔۔
ایک منظر پورے جذب سے حدید کی آنکھوں کے سامنے آگیا
موو رنگ کا خوبصورت سا سوٹ متناسب سے جسم پر جچ رہا تھا
سیاہ بالوں کے چھلے آنکھوں کو مسمرائز کر رہے تھے اس کی پشت اور دائیں جانب سے اس کا ہلکا ہلکا سا چہرہ نظر آرہا تھا دھندلا سا جب اس حسین اپسرا کا دوپٹہ پیچھے کھڑے شخص کے دائیں ہاتھ میں موجود گھڑی میں پھنس گیا یاں پھنسایا گیا اب وہ شخص مسکراتے ہوئے معزرت کر رہا تھا وہ اپسرا مصنوعی غصے سے اسے گھور رہی تھی دائیں جانب سے اس کے زرا سے نظر آتے چہرے سے بھی پتا لگ رہا تھا وہ غصہ کر رہی ہے تبھی اس نے اس مرد کو کہتے سنا
معاف کریں مسسز جازب اس غلام کی غلطی نہیں ہے
تبھی وہ اپسرا اپنا پورا رخ اس جانب کر گئی حدید شاہ کو لگا وہ سانس نہیں لے پائے دل میں اسی زخم پر وزن پڑا
ارد گرد ہر شہ ہوا میں معلق ہوگئی بس وہ اپسرا اور حدید شاہ تبھی اور پیچھے کھڑا مرد آگے بڑھا اور اس اپسرا کو اپنے بازو کے حصار میں لیے آگے بڑھ گیا اور حدید شاہ کے لیے پیچھے کا ہر منظر ویران ہوگیا
ڈیڈا ؟ کہاں کھو گئے ؟ باسل نے حدید کو ہلایا
نہیں تمہاری دادی کہتی ہیں حدید شاہ کو کسی سے محبت نہیں ہوسکتی مگر وہ نہیں جانتیں تمہارے ڈیڈا کو تمہارے عون پھوپھا کے بعد اگر کسی سے محبت ہے تو وہ میرا شیر میرا جگر ہے حدید نے اسے گدگدانا شروع کردیا دل میں ہلکی ہلکی سر درد اٹھ رہی تھی میٹھی سی درد یہ تو عشق کی شروعات تھی لاحاصل عشق کی شروعات جس کے ملنے کی نہ چاہ تھی اور نہ ہی امید اور عشق کرنے کی کوئی عمر تھوڑی ہوتی ہے
