212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 44)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

حدید کے فون کی بیل کی آواز اسے اندر سے سنائی تھی

حیات کے ماتھے پر بل پڑے تھے

اس نے دروازہ ناک کیا

تبھی دروازہ کھلا جسے حدید نے کھولا تھا وہ شاید حیات کا ہی فون اٹینڈ کرنے والا تھا

حیات حیران سی نشاء کے کمرے میں حدید کو دیکھ رہی تھی

“آپ ۔۔۔یہاں “

“تم گھر کب آئی حیات “

حدید بھی حیات کو دیکھ کر حیران تھا

تبھی حدید کے پیچھے سے تیار شیار سی نشاء سامنے آئی وہ عام دنوں کی نسبت آج مختلف لگ رہی تھی اس کے بال کمر پر پھیلے ہوئے تھے جبکہ خوبصورت سے میک اپ کے ساتھ وہ پرکشش اور باہر جانے کو تیار لگ رہی تھی

“او ۔۔۔ حیات تم جلدی واپس آگئی “

خیر میں اور حدید آفیشل لنچ پر جا رہے ہیں ۔۔۔ تمہاری طبیعت ٹھیک ہے ؟

نشاء نے آئی برو اچکا کر پوچھا

“جی میری طبیعت ٹھیک ہے “

حیات دقت سے مسکرائی

“اچھا پھر ہم چلتے ہیں شاید ہمیں دیر ہو جائے مجھے کچھ شاپنگ بھی کرنی ہے “

“اوکے بائے حیات “

حیات وقت پر کھانا کھا لینا

حدید اسے تاکید کرتا نشاء کے پیچھے ہی نکل گیا

حیات جو کی تو ہی کھڑی رہ گئی

کمرے میں آکر اس نے بغیر کسی چیز کو ہاتھ لگائے بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں موند لیں

اسے رونا آرہا تھا وہ حدید کو کیوں نہیں روک پائی

نشاء آپی کیوں حدید سے فری ہوتی ہیں یہ بات اس نے محسوس تو بہت بار کی تھی مگر آج اسے شدت سے اندازہ ہوا نشاء حدید پر دھونس جماتی ہے ۔۔۔۔۔کس حق سے وہ گیلی آنکھوں سمیت سو گئی۔۔۔۔۔

________

حدید نشاء کے بہتر موڈ کی وجہ سے اسے منع نہیں کر سکا مگر حیات کی آنکھوں سے جھلکتے ان گنت سوالات سے بھی وہ لا علم نہیں تھا وہ یقیناً یہ ہی سوچ رہی ہوگی حدید نشاء کے کمرے میں کیا کر رہا تھا مگر حدید نشاء کی ناراضگی نہیں برداشت کر سکتا تھا

لنچ کرنے کے بعد وہ دونوں شاپنگ پر گئے جہاں نشاء نے اپنے لیے ڈھیروں سامان لیا تھا

تمہیں یاد ہے حدید شادی کے بعد میری شاپنگ تم کرتے تھے ایک دکان کے باہر رک کر نشاء نے حدید کے بازو میں بازو ڈالے اسے یاد دلایا وہ پر دقت سا مسکرا دیا

دھیان کے سارے ڈور اس ہری آنکھوں والی نے اپنی طرف کھینچ رکھے تھے

ہوگئی شاپنگ چلیں ۔۔۔۔؟

نہیں لانگ ڈرائیو ۔۔۔!!

_______

“آج سالگرہ ہے بھائی کی “

حدیقہ اور ابراہیم گھر پے پچھلے حصے میں بنے سویمنگ پول کے پاس پانی میں پاؤں ڈالے باتوں میں مشغول تھے جب حدیقہ نے ابراہیم کی طرف پانی کی چھینٹیں اڑاتے ہوئے کہا

ابراہیم نے منہ صاف کرکے حدیقہ کو گھورا

وہ شرارتی سا کھلکھلائی

باز آؤ حدیقہ مگر وہ پھر سے چھینٹیں اڑا گئی

اب بچاؤ ابراہیم پانی سے پاؤں نکال کر کھڑا ہوا

حدیقہ بھی فٹافٹ اٹھی

آنکھوں میں ابھی بھی مستی تھی

وہ کیا ہے ؟؟

حدیقہ نے آسمان کی طرف اشارہ کرکے ابراہیم کا دھیان ہٹایا

جیسے ہی ابراہیم نے آسمان کی جانب دیکھا حدیقہ نے پوری جان لگا کر ابراہیم کو دھکا دیا

مگر وہ مضبوط شخص اس کی ہلکی سی ضرب سے ایک قدم ہی ہل سکا

بس اتنا ہی زور ہے ابراہیم نے ہنستے ہوئے ایک قدم بڑھایا

حدیقہ بھاگی مگر پاؤں اور فرش گیلے ہونے کی وجہ سے وہ پیچھے کی طرف پھسلی جسے بروقت ہی ابراہیم نے تھام لیا

اب کہاں جاؤں گی اسے تھامے وہ آنکھوں میں جھانکتے شریر ہوا

حدیقہ نے چہرے پر ہاتھ مار کر چہرہ دوسری طرف کیا

ابراہیم اسے تھامے ہی پیچھے قدم بڑھانے لگا

نہیں ۔۔۔نہیں ابراہیم پیچھے پول ہے نہیں مگر وہ اسے لیے ہی پول میں گڑا

بہت بدتمیز ہیں آپ اس کی سیاہ گیلی ٹی شرٹ پر دیکھتے وہ غصے سے بولی

ابراہیم مسکرایا حدیقہ کا دھیان بٹ گیا تھا اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا

تمہارا ہی ہوں جتنا مرضی دیکھ لو۔۔۔۔

اس کا قہقہ ویرانے میں گونجا

باز آئیں ۔۔۔۔۔

_________

جاوید شاہ ہاتھ میں تصویر تھامے اپنی راکنگ چئیر میں بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔

بہت زیادتی کی ہے تم نے آبدہ بیگم ۔۔۔۔۔ بہت زیادتی

وہ تصویر سے جھانکتی مسکراتی چھوٹی سی فیملی کو دیکھ کر آنکھیں موند گئے

تصویر میں ایک بے حد خوبصورت اور پرکشش کپل تھا جو محنت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے جبکہ چودہ سال کا بیٹا ماں کے آگے اور دس سال کی بیٹی بابا کے آگے کھڑی تھی اور چاروں ہی مسکرا رہے تھے

جسے بری طرح کسی کی نظر لگ گئی تھی ۔۔۔۔

میں تمہیں معاف نہیں کروں گا فرحین شاہ کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔

_________

لانگ ڈرائیو کے بعد تھکاوٹ سے چور حدید نشاء کے ساتھ گھر آیا تھا نشاء اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی ، حدید کو بھی بس اب سونا تھا جب ملازم نے اسے ایک خاکی رنگ کا پیکٹ تھمایا

سر یہ آپ کے لیے آیا تھا

“سر کھانا لگاؤ ؟”

“نہیں”

حدید خاکی لفافے کو دیکھتے نفی میں سر ہلاتا اسے جیب میں اڑستا سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے کی طرف جانے لگا

________

حدید کمرے میں آیا تو کچھ غیر معمولی سا محسوس کئیے اس نے لائٹ جلائی کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل اور فرش پر پھول بکھرے ہوئے تھے بیڈ کے گرد سرخ رنگ کی ادھ جلی موم بتیاں اور سائیڈ ٹیبل پر پڑا چاکلیٹ کیک جس کی چاکلیٹ گرمی کے باعث تھوڑی پگل چکی تھی اور بالکل بیڈ کے وسط میں دوپہر والے سوٹ میں حیات اوندھے منہ پڑی ہوئی تھی

حدید چند لمحے اسے یونہی دیکھنے کے بعد ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا

ڈریسنگ روم کے قد آور شیشے کے ساتھ ہینگنگ سائیڈ میں سرخ رنگ کی خوبصورت سی فراک جو کی تو لٹکی اپنی کم مائیگی میں نلاں تھی ۔۔۔۔

پینٹ شرٹ بدل کر وہ آرام دہ ٹراؤزر اور شرٹ تبدیل کرکے زیست کے سامنے آیا جب اس کی نظر اپنی پینٹ کی جیب سے جھانکتے خاکی لفافے پر پڑی

لفافے کو چاک کرکے اس میں موجود شے نکال چکا تھا اس میں

“ہیپی برتھڈے بھیا۔۔۔!”

لکھا ہوا تھا

اس کی آج سالگرہ تھی اسے یاد نہیں تھا مگر دو لوگوں کو یاد تھا

وہ اس سے آگے پڑھ نہ سکا کاغز کو لپیٹ کر الماری میں اپنے حصے والے خانے کے دراز میں ڈال گیا اور قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھا لئیے ۔۔۔۔۔

حیات …!

مگر وہ یو ہی لیٹی رہی

پلکوں کی لرزش اس بات کی گواہ تھی کہ وہ جاگ رہی ہے

حیات آفیشل ڈنر تھا جانا ضروری تھا

اس کی دائیں آنکھ سے نکلتے آنسو کو انگلی کے پور سے صاف کرکے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھا کر بٹھایا

“حیات “

مجھے نہیں علم تھا کہ تم میرے لیے اتنی تیاری کرکے بیٹھی ہو

حدید نے اسے خود سے لگاتے ہوئے کہا

حدید کی بات پر حیات نے چہرہ موڑ کر حدید کو دیکھا

واقع انھیں کیسے معلوم ہوگا کہ میں ان کی برتھڈے پلین کرکے بیٹھی ہوں

وہ سیدھی ہوکر بیٹھی میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی اب لہجے میں ناراضگی کی بجائے خفگی آگئی تھی

سوری مسسز شاہ مجھے اندازہ ہوتا میری پیاری بیوی میرا انتظار کر رہی ہے تو میں کبھی جاتا ہی نہیں

حدید نرمی سے بولا

اچھا اب اپنا موڈ ٹھیک کرو اور پیاری سی سمائل دو اتنی پیاری آنکھیں سوجا دی ہیں ظالم تمہیں میری اولاد پر ترس نہیں آیا

حدید نے اس کے گال کھینچ کر کہا

بے بی کے بابا کو خود کونسا احساس ہے

حیات آنکھیں گھما کر بولی

افف آپ کے شکوے بے بی کی ماما

“اب کیسی مانیں گی آپ “

حدید نے ہار مانتے ہوئے کہا

“آئندہ آپ نشاء آپی کے ساتھ اکیلے نہیں جائیں گے “

وہ کہنا چاہتی تھی مگر نہ کہہ پائی

“آپ آئندہ مجھے بغیر بتائے اتنی لیٹ سے نہیں آئیں گے “

“اور کوئی حکم جانِ حدید “

وہ اتنے رومانٹک انداز تخاطب پر ایک دم سے لال ہوئی

ک۔کیک پگل گیا ہوگا وہ ایک دم سے سر پر ہاتھ مارتی اٹھی

اور کیک حدید کے سامنے لائی

دو بج گئے گھڑی پر دیکھتے حیات کے چہرے پر اداسی چھائی اب تو گلی تاریخ چڑھ گئی

جب حدید نے کیک کی کریم اس کی ناک پر لگا دی

حیات نے حدید کو گھورا

اب تم اتنی دیر لگاؤ گی کیک کھلانے میں تو یہ کروں گا

حیات کو شرارت سوجھی اس نے کیک حدید کے منہ قریب لے جا کر اس کے گال پر مل دیا

اور خود منٹ سے پہلے اس سے دور ہوئی

حیات شاہ حدید نے گال پر ہاتھ رکھ کر اسے گھورا جو زبان نکال کر دیکھا رہی تھی

حدید نے ایک ہی جست میں اسے پکڑا

نہیں نہیں ۔۔۔حدید وہ ہنستے ہوئے اپنا چہرہ اس کے چہرے سے پیچھے کر رہی تھی تو کبھی ہاتھ چلا رہی تھی

اس کی کھلکھلاہٹیں کمرے ہیں گونج رہی تھی

حدید اپنے چہرے پر لگا کیک اس کے چہرے پر بھی لگا چکا تھا

وہ بیڈ پر لیٹی ہنس ہنس کر دوہری ہوچکی تھی ۔۔۔۔

قسمت نے اس کی کھلکھلاہٹوں کو کرب سے دیکھا ۔۔۔

________

آٹھ ماہ کیسے گزرے وقت کا معلوم ہی نہ ہوا

دونوں جانب خاص خیال رکھا جا رہا تھا

ایک حدید کا خاندان تھا جو حیات کو ہتھیلی کے چھالے کی طرح رکھ رہا تھا تو اس طرف وشمہ کا بھی ہر کوئی خیال رکھ رہا تھا ۔۔۔۔

حمزہ وشمہ کے کمرے موجود بے بی کاٹ کے پاس پڑے چھوٹے چھوٹے کھلونے دیکھ رہا تھا

یہ حمزہ کا معمول تھا وہ زیادہ تر اب وشمہ کے کمرے میں ہی پایا جاتا کیونکہ حیات کی طبیعت کے باعث حدید اسے یہاں رہنے نہیں دیتا تھا ہاں ہفتے میں ایک بار ضرور لے آتا اور ساتھ ہی لے جاتا تب اس دن حمزہ اپنی آتی کے ساتھ چپکا رہتا ایک لمحے بھی اس سے دور نہ جاتا

“چاچی بے بی کھلونوں سے کھیلے گی؟ “

“جی میری جان بے بی کھلونوں سے کھیلے گی “وشمہ نے مصروف انداز میں کہا

تو پھر میرے ساتھ کب کھیلے گی؟ حمزہ نے پریشانی سے سر پر ہاتھ رکھتے پوچھا

چھوٹے کپڑوں کو بیگ میں رکھتے وشمہ ہنس دی

“ارے میری جان آپ کے ساتھ بھی کھیلے گی ادھر آؤ “

وشمہ نے حمزہ کو بلا کر دراز میں سے چاکلیٹ نکال کر اسے پکڑائی

تھینک یو چاچی وہ چاچی کے گال پر بوسہ دے کر چاکلیٹ کھانے لگا

تبھی وشمہ کو عجیب سی درد اپنے پورے جسم سے اٹھتی محسوس ہوئی

جو ایک دم ہی برداشت سے باہر ہوگئی

حمزہ ماما کو کہو چاچی کی طبیعت خراب ہورہی ہے بچے جلدی

وہ درد سے کراہ گئی

حمزہ چاکلیٹ وہی چھوڑتا ماما کو بلانے کے لیے بھاگا ۔۔۔۔

________

“مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے “

نرس نے گلابی رنگ کے کمبل میں لپٹی ننھی سی گڑیا عدنان کو تھمائی جس کے آنسو تشکر سے بہہ نکلے

علی بھائی نے بھی چھوٹے بھائی کو گلے سے لگا لیا

“بہت بہت مبارک ہو یار ۔۔۔۔”

“شکریہ بھائی “

وہ بچی کے ماتھے پر لب رکھ کر بھرائی آواز میں بولا

حیات کو جب سے عدنان بھائی کے گھر بیٹی ہونے کی خبر ملی تھی وہ تو ہواؤں میں اڑ رہی تھی اس وقت وہ حدید کے آنے کا انتظار کر رہی تھی کہ حدید آئے اور اسے جلدی سے ہاسپٹل وشمہ بھابھی کے پاس لے کر جائے ۔۔۔

________

بس ایک مہینہ بس ایک مہینہ اور پھر میرا بدلہ پورا ہو جائے گا

وہ فون کان کے ساتھ لگائے بولی

میری زندگی کا سب سے زیادہ اذیت ناک سال تھا یہ والا

مگر اس طویل صبر کے بعد طویل سکون بھی تو ملنے والا ہے مقابل نے محبت سے کہا

“یہ تو ہے “

وہ ہنسی تھی دوسری جانب سے بھی ہنسنے کی آواز آئی تھی ۔۔۔۔

_______

حدید جلدی چلیں ہم لیٹ ہوگئے ہیں حیات پرجوشی سے بولی

بچوں سے تو اسے پہلے سے ہی بہت پیار تھا نئی گڑیا کی آمد کی خبر نے اسے ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا حالانکہ وہ خود انہی مراحل سے گزر رہی تھی

آرام سے حیات میں صرف تمہارے بے حد اصرار پر تمہیں ہاسپٹل لے کر جا رہا ہوں نہیں تو تمہاری طبیعت اس چیز کی اجازت نہیں دیتی

حدید نے اسے باور کروایا

“میں ٹھیک ہوں شاہ “

اس کی فکر پر حیات نرمی سی مسکا دی

جانتا ہوں مگر پھر بھی

حدید ۔۔۔۔۔

حدید حیات کی جانب دیکھ کر بولا

جب سامنے سے آتا ٹرک گاڑی کے ساتھ بری طرح لگا ۔۔۔۔

چڑڑڑ۔۔۔۔کے ساتھ اس میں شیشے ٹوٹنے اور نسوانی چیخوں کی آوازیں شامل تھی