Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 45)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 45)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
میں ٹھیک ہوں شاہ
اس کی فکر پر حیات نرمی سی مسکا دی
جانتا ہوں مگر پھر بھی
حدید ۔۔۔۔۔
حدید حیات کی جانب دیکھ کر بولا
جب سامنے سے آتا ٹرک گاڑی کے ساتھ بری طرح لگا ۔۔۔۔
چڑڑڑ۔۔۔۔کے ساتھ اس میں شیشے ٹوٹنے اور نسوانی چیخوں کی آوازیں شامل تھی
حیات حیات حدید حیات کے آگے کی طرف جھول جانے پر پریشان ہوا
اس سے فاصلے پر ہی ایک بہت بڑا ایکسیڈنٹ ہوا تھا سامنے والی گاڑی میں آگ لگ چکی تھی سامنے والی گاڑی میں شاید کوئی عورت تھی جس کی ہولناک چیخ نے تو ایک لمحے اسے بھی گنگ کردیا تھا
حدید نے منٹ بھی ضائع کئیے بغیر گاڑی کو فل سپیڈ میں بھگا کر ہاسپٹل تک پہنچایا
حیات کو اس حالت میں دیکھ کر اس کے خود کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہورہے تھے ۔۔۔
ڈاکٹر ڈاکٹر اسے گود میں اٹھائے وہ ایمرجنسی میں آیا تھا
حیات کو ڈاکٹر نے فوراً ایڈمٹ کیا
حدید نے علی بھائی کو فون کرکے اطلاع کردی تھی
وہ سب بھی اسی ہاسپٹل میں موجود تھے
_______
عدنان بھائی اپنے بازوؤں میں اپنی چھوٹی سی گڑیا اٹھائے کمرے میں آئے جہاں وشمہ ہوش میں آ چکی تھی اور حاجرہ بیگم اسے یخنی پلا رہی تھی
اچھا اب تم اب آرام کرو میری جان
بیٹے کو کمرے میں آتے دیکھ حاجرہ بیگم مسکرا کر اٹھی
وشمہ عدنان اور اپنی بیٹی کو نم آنکھوں سے دیکھنے لگی
پری سے نہیں ملو گی اس کے آنسو صاف کرتے گلابی کمبل میں لپٹی ننھی سی گڑیا وشمہ کو پکڑائی اپنی ماں کی گود میں آتے ہی وہ پرسکون سی ہوتی مسکرائی
اس کے مسکرانے پر دونوں میاں بیوی بھی مسکرائے
شکریہ وشمہ مجھے مکمل کرنے کے لیے اتنی پیاری گڑیا دینے کے لیے اسے گود میں اٹھا کر یوں محسوس ہوا جیسے ساری کائنات میرے بازوؤں میں سمٹ آئی ہو
عدنان بیوی کے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگائے مسکرا کر بولے
وشمہ بھی سرور بخش احساس کو دل سے محسوس کر رہی تھی
“ارے اس کی آنکھیں تو حیاتی جیسی ہیں “
عدنان کے ہنس کر کہنے پر وشمہ نے چونک کر اپنی گود میں لیٹی گڑیا کو دیکھا جس کی آنکھیں واقع حیات جیسی تھی سبز اور نقش بھی حیات سے کافی مل رہے تھے
بابا کی پری تو پھوپھو پر گئی ہے اس کا گال سہلا کر عدنان بولا
اس کا نام کیا رکھنا ہے وشمہ
عدنان نے پری کو گود میں لے کر پوچھا
حیات ۔۔۔۔حیات نہیں رکھے گی اس کا نام
حالانکہ یہ بات وشمہ نے طنزیہ کہی تھی مگر عدنان نے دھیان نہیں دیا
نہیں اس ننھی سی جان کا نام رکھنے کا حق صرف اور صرف تمہارا ہے
عدنان نے وشمہ کو بھی خود سے لگائے کہا تبھی اس کا فون بجا
“کیا کہاں میں آرہا ہوں “
کیا ہوا عدنان وشمہ نے فکر مندی سے پوچھا
حیات کی طبیعت خراب ہوگئی ہے حدید اسے ہاسپٹل لایا ہے تم اپنا دھیان رکھنا میں ادھر جا رہا ہوں
عدنان بچی اس کی گود میں پکراتا وہاں سے عجلت میں نکلا
وشمہ اپنی بچی کے چہرے کے نقوش کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
________
“حدید حیات کو کیا ہوا ہے؟” علی بھائی کو اپنی طرف آتے دیکھ کر حدید نے خود کو کمپوز کیا
ہم۔۔۔۔ وہ ہانپ چکا تھا بولا نہیں جارہا تھا
علی نے ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل اسے تھمائی چند گھونٹ بھر کر وہ پرسکون ہوا
ہم ہاسپٹل آرہے تھے کہ ہمارے سامنے ہی ایک گاڑی کا خطر ناک ایکسیڈینٹ ہوا ہے ابھی میں نے گاڑی موڑی ہی تھی حیات کی طبیعت بگڑنے لگی
حدید نے پانی کی بوتل بند کرتے ہوئے
ایکسیڈینٹ شٹ حیات کو (Dystychiphobia) ڈیسٹیچی فیوبیا ہے وہ کوئی بھی ایکسیڈنٹ دیکھتی ہے تو اس کی طبیعت بگڑنے لگ جاتی ہے اور کبھی کبھی وہ ٹروماٹائیز ہوجاتی ہے علی بھائی نے اسے بتاتے ہوئے عدنان کو فون ملایا مگر اسی وقت عدنان بھی بھاگتا ہوا وہاں آیا
“کیا ہوا ہے حیاتی کو “
“عدنان ۔۔۔”
_______
اس وقت تمام گھر والے حیات کے لیے دعا گو تھے آبدہ شاہ نے کہیں کالے بکرے صدقے میں دئیے تھے حاجرہ بیگم اپنی اکلوتی بیٹی کی زندگی کے دعا گو تھی ڈاکٹر نے حدید کو صاف لفظوں میں کہ دیا تھا بلڈ پریشر شوٹ کرنے کی وجہ سے پری میچور ڈلیوری کرنی پڑے گی جس کے باعث بچہ اور ماں دونوں ہی جان کو خطرہ ہے
انھوں نے بیت کوشش کی تھی حیات کا بلڈ پریشر نارمل کر سکیں اسے انستھیسیا دینے کے لیے بھی بلڈ پریشر کا نارمل ہونا ضروری تھا
ڈاکٹر بلڈ پریشر بڑھتا جارہا ہے ایسے تو حیات کو ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے اور بے بی کی ہارٹ بیٹ ہم کسی ایک کو ہی بچا سکتے ہیں سینئیر ڈاکٹر کی تنبیہہ پر نرس پیپرز لے کر حدید کے سائن کروانے کے لیے جا رہی تھی جب نییہا نے اسے روک دیا
مسٹر شاہ ڈاکٹر نہیا حیات کی گائناکالوجسٹ تھی وہ پیپرز لے کر نرس کی بجائے خود آئی تھی وہ جانتی تھی حدید جس طرح کا شخص تھا وہ کسی کا لحاظ کئیے بغیر ہی ادارے پر جھپٹ پڑتا
مسٹر شاہ یہ پیپرز ہم ان دونوں میں سے کسی ایک کو بچا سکتے ہیں ڈاکٹر نہیا نے پیپرز حدید کو پکراتے ہوئے کہا
کی۔ا کیا کہہ رہی آپ ڈاکٹر حاجرہ بیگم دل پر ہاتھ رکھے بیٹھی عدنان ماں کو وشمہ کے پاس لے جاؤ اسے بھی کسی کی ضرورت ہے علی بھائی نے سختی سے کہا
آبدہ شاہ نے سن کھڑے حدید کو بازو سے پکڑا
حدید کیا دیکھ رہے ہو تم بچے کو بچاؤ نشاء ہے نہ اس کی ماں آبدہ شاہ نے حدید کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا
حدید ہوش میں آیا
ڈاکٹر آپ میری بہن کو بچائیں
علی کی آواز پر دونوں ماں بیٹا ہوش میں آئے
حدید جاؤ اور جا کر ڈاکٹرز سے کہو تمہارے بچے کو بچائیں
آبدہ شاہ کے سخت لہجے پر
وہ کتنے لمحے غیر مرئی نقطے پر دیکھتا رہا
حیات کی باتیں
اس کی مسکراہٹ
اس کی معصومیت
“شاہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو؟” وہ اس کے پاس بیٹھی اس کے ہتھیلی پر اپنا نام لکھ رہی تھی
“شاہ میں کچھ پوچھ رہی ہوں” حدید کی خاموشی پر ضدی لہجے میں بولی
حدید نے چہرہ حیات کی طرف کیا ایسا کیوں سوچ رہی ہو
مجھے ڈر لگ رہا ہے شاہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو ہمارا بے بی ماں سے محروم ہو جائے گا
پھر شاہ کیا آپ دوسری شادی کرلیں گے ؟
وہ پھر سے اس کی طرف چہرہ کئیے بولی
ہاں تو دوسری شادی کرنی پڑے گی حدید اب اسے چڑانے کے لیے بولا
آپ کو میری یاد آیا کرے گی ؟ وہ آنکھوں میں نمی لئیے بولی
حدید لب دانتوں میں دبا کر اسے خود میں بھینچ گیا کچھ نہیں ہوگا تمہیں میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔
مسٹر شاہ ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے ڈاکٹر نیہا کے بلانے پر وہ ہوش میں آیاں
ڈاکٹر ہم جب کہہ رہے ہیں آپ حیات کو بچائیں
حدید کس چیز کا انتظار کر رہے ہو جلدی کرو سائن
علی بھائی نے حدید کو ہلاتے ہوئے کہا
ڈاکٹر آپ نے دونوں کو بچانا ہے حدید نے شکست خوردہ لہجے میں کہہ کر ماں والے کھانے پر دستخط کئیے تھے اس نے ماں کو بچانے کے لیے دستخط کئیے تھے
ڈاکٹر نیہا چلی گئی تھی حدید وہاں موجود کرسی پر ڈہہ گیا تھا
آبدہ شاہ نے مسکرا کر بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا
میری جان دیکھنا ابھی کچھ دیر میں تمہاری اولاد تمہاری گود میں ہوگی میں نشاء کو بلاتی ہوں اس بچے کے اصلی ماں باپ تم دونوں ہی تو ہوگے
حدید نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا تو کیا وہ پھر سے اولاد سے محروم ہوجانے والا ہے کیا اس کی قسمت میں اولاد نہیں ہے مگر اس وقت اسے اولاد کی فکر نہیں تھی اسی اولاد کی فکر نہیں تھی جس کے لیے اس نے حیات سے شادی کی تھی اسے تو بس حیات کی فکر تھی
وہ کہتا تھا اسے حیات سے محبت نہیں ہے وہ بس بدلا لے رہا ہے
آج اپنے ہی لفظ جھوٹے محسوس ہوئے
________
وشمہ اپنے روم میں بالکل اکیلی تھی کچھ دیر پہلے حاجرہ بیگم روتی ہوئی آئی تھی اسے حیات کی طبیعت کے بارے میں بتایا اور خود نماز ادا کرنے چلی گئی انھوں نے ایک بار بھی وشمہ کی گود میں موجود بچی کو نہیں دیکھا تھا
وشمہ کو بھی حیات کی ابتر حالت کا سن کر افسوس ہوا تھا وہ خود اچھی کچھ دیر پہلے اسی کنڈیشن سے گزری تھی تبھی اس کا درد محسوس کر رہی تھی
_______
دو گھنٹے ہوگئے سب باہر حیات کے لیے دعا گو تھے سوائے دو لوگوں کے جنہیں بس بچے سے غرض تھا
ایک آبدہ شاہ اور دوسری نشاء جسے آبدہ شاہ کے فون نے جیسے جینے کی وجہ دے دی وہ دونوں اس قدر سفاک بنی ہوئی تھی انھیں حیات کے جینے مرنے سے کوئی غرض نہیں تھا ۔۔۔
تبھی بچے کے رونے کی آواز پر حفیظ صاحب لڑکھڑاتے ہوئے کرسی پر گڑے دونوں بھائی ایک دوسرے سے نظریں چرا گئے
حدید کا دل سا بیٹھا
ماشاءاللہ میرا پوتا آبدہ شاہ نے بچہ فوراً ڈاکٹر نیہا سے لینا چاہا بچے کی ماں کی خواہش ہے ان کا بیٹا سب سے پہلے بچے کے نانا پکڑے
ڈاکٹر نیہا کے مسکرا کر کہنے پر حدید نے چونک کر سر اٹھایا
حفیظ صاحب پر تو جیسے کسی نے نئی جان پھونک دی ہو دونوں بھائی بھی ڈاکٹر کی بات سن کر ہوش میں آئے
میں میٹھائی بنٹوائیں آپ دادی بن گئی ہیں حدید نے مسکراتے ہوئے ماں سے کہہ کر خود اندر چلا گیا
تب تک ڈاکٹر نیہا بچہ حفیظ صاحب کو پکڑا چکی تھی
حفیظ صاحب نے بچے کے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے آبدہ شاہ کو دے دیا
جو اپنے خون کو خود میں اٹھائے اس وقت سب کچھ بھولے حدید کی اولاد کو دیکھنے لگی اپنے خون کو اپنے بیٹے کے خون کو جس کی ٹھوڑی گال ہوبہو حدید جیسے تھے
وہ بچہ آنکھیں کھول کر مسکرایا پھر کھلکھلایا
آبدہ شاہ بھی اس کے ساتھ ہی کھلکھلائی نشاء کی آنکھیں نم ہوئی
دل میں ہوک سی اٹھی تھی
“نشاء” آبدہ شاہ نے بچہ نشاء کی گود میں دے دیا
حیات نیم غنودگی میں تھی جب اسے ہاتھ میں نمی سی محسوس ہوئی اس نے بامشکل آنکھیں کھولی
کہا تھا نہ میں کچھ نہیں ہونے دوں تمہیں
حدید کی مسکراتی آواز پر وہ ہوش میں آئی پورے وجود میں درد کی لہر سی اٹھی پورے جسم میں جیسے کسی نے سوئیاں چبھا دی ہوں
لیٹی رہو حدید نے اسے فوراً لیٹایا
“شاہ ۔۔۔۔ “
اس کی پکار میں شدت تھی تڑپ تھی اپنی اولاد دیکھنے کی خواہش
“ہمارا بیٹا ٹھیک ہے “
حدید نے اس کا ہاتھ سہلا کر کہا
“بیٹا۔۔۔؟ “
ہاں بیٹا انکل کے پاس ہے
آپ۔۔۔۔نے اسے دیکھا کیسا ہے وہ آپ جیسا ہے نہ
حیات نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے بولی
ابھی نہیں دیکھا بلکہ ابھی اسے پکڑا بھی نہیں حدید نفی میں سر ہلاتا بولا
کیوں ؟حیات نے پریشانی سے کہا
کیونکہ مجھے سب سے پہلے حیاتی کو دیکھنا تھا
اس کا ہاتھ ہونٹوں سے لگا کر بولا
“حیاتی “
حدید شاہ نے حیات کو حیاتی کہا تھا
“حیاتی مطلب زندگی “
حیات گیلی آنکھیں موند گئی دوائی کا اثر پھر سے ہونے لگا تھا
________
بیٹا ہوا ہے حیات کے عدنان نے مسکراتے ہوئے مٹھائی کے ڈبے میں سے مٹھائی نکال کر وشمہ کے پاس بیٹھی ماں کے منہ میں ڈالی اس کی طبیعت ٹھیک ہے ماں اب
کیا میری بچی ٹھیک ہے میں مجھے دیکھنا حیات کو عدنان حاجرہ بیگم ممتاز سے چور لہجے میں بولی
ابھی وہ صحیح سے ہوش میں نہیں آئی آپ تھوڑی دیر میں جا کر مل لینا
عدنان ماں کو کہتا ا سکی خود سے اپنی بیٹی کو لے چکا تھا
اچھا میں شکرانے کے نفل پڑھ کر آئی
اب ٹھیک ہے حیات اپنے ہاتھ عدنان کی طرف پھیلائے وشمہ بولی
ہاں اللہ کا جتنا شکر کروں اتنا کم
ایک طرف میری بیوی اور بیٹی ٹھیک ہے اور دوسری طرف میری بچوں جیسی بہن اور بھانجا
عدنان پر مسرت سے ہوکر بولے
“جی “
وشمہ نے سر ہلایا اسے ایسا محسوس ہوا حیات کے آگے اس کی خوشی اس کی بیٹی کی خوشی مانند سی پڑھ گئی ہے
وہ غور کرتی تو عدنان کی آنکھوں کی چمک محسوس کر لیتی تو ایسا نہ سوچتی
کیا نام سوچا پھر میری جان کا
عدنان نے وشمہ سے پوچھا
“پریہان ” وشمہ نے مسکرا کر بتایا
“پریہان عدنان ” وہ مسکرایا پھر اٹھ کر پریہان کے کان میں اذان دی
________
حیات ۔۔۔۔حیات احمد کو بھوک لگی ہے
اپنے نام کی پکار پر حیات نے آنکھیں کھولی سامنے نشاء گود میں بےبی کو لئیے اس سے بولی
احمد کو بھوک لگی ہے حیات
نشاء سپاٹ لہجے میں احمد حیات کو تھماتے بولی
“احمد ؟” حیات نے نا سمجھی سے اسے دیکھا
“ہاں احمد حدید شاہ “
تبھی آبدہ شاہ کمرے میں آئی انھوں نے پانچ ہزار کے کہی نوٹ احمد کے سر سے وار کر وہاں کھڑی نرس کو دئیے جا کیا آنکھیں کھل گئی تھی
میں نے رکھا اس کا نام احمد نشاء نے آبدہ شاہ کی طرف مسکرا کر دیکھ کر کہا
“پیارا ہے نہ حیات ؟ “
پھر حیات سے تصدیق کی وہ ہلکا سا مسکرا دی
“پیارا ہے “
تبھی حدید ڈھیر سارے نیلے غبارے اور سرخ گلاب حیات کے لیے لایا
حدید کی خوشی دیکھ کر نشاء چہرہ موڑ گئی تھی ۔۔۔۔
یہ لو احمد اس نے احمد حیات کو تھما کر خود فون پر کچھ لکھتی وہاں سے چلی گئی ۔۔۔
________
حیات ابھی تک ہاسپٹل میں تھی جبکہ حدید اس کے اور احمد کے ویلکم کرنے کے لیے گھر جاچکا تھا
حدید ۔۔۔۔۔حدید کو بےبی کا روم سیٹ کرتے دیکھ نشاء اس کے پاس آئی
نشو نشو میں بتا نہیں سکتا میں کتنا خوش ہوں وہ اسے گھماتے ہوئے بولا جانتی ہوں
مگر ایک ڈر ہے دل میں میرے اپنی اس خوشی میں مجھے نہ بھول جانا
کیسی باتیں کر رہی ہو میں تمہیں بھول سکتا ہو نشاء حدید اسے شانوں سے پکڑے بولا
انسان کے بدلتے وقت نہیں لگتا
خیر تم کب چھوڑ رہے ہو حیات کو ہوگیا بے بی اب
نشاء اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
تبھی شور کی آواز پر حدید اسے چھوڑتا باہر کی طرف گیا جہاں حیات آچکی تھی
