Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 32)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 32)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“ماں “
بالاج نے حیا کو پکارا
جو ہاتھ میں کاغذات تھامے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھیں
“بالاج کیا اپنے بچوں کو بچانا اتنا بڑا گناہ ہے۔۔؟!”
اپنی مضبوط ماں کی ٹوٹی ہوئی دلیل سن کر بالاج تڑپ گیا
“آپ نے ماں ہونے کا حق ادا کیا ہے ماں “
“مجھے آپ پر فخر ہے۔۔!!”
بالاج نے اپنی ماں کے چند ہی گھنٹوں میں نڈھال ہوئے وجود کو اپنے مضبوط بازوؤں میں لیا
حیا نے آنکھوں سے بہتے آنسؤوں کو آزاد کردیا
بالاج نے اپنی ماں کا چہرہ ہاتھوں میں بھرا
“ہم آپ کے ساتھ ہیں ماں ہر فیصلے میں “
حیا کے بہتے آنسووں کو صاف کئیے اب وہ انھیں حوصلہ دے رہا تھا
“میں ٹھیک ہوں بالاج تم لوگوں کا میرے پاس ہونا ہی میری طاقت ہے “
حیا بالاج کا دکھ بھی سمجھ رہی تھی اس لیے اس کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرے مسکرائی تھی
‘ایک ماں کو ہی تو ہنر آتا ہے درد و تکلیف میں بھی اپنی اولاد کے لیے مسکرا دینا “
حیا کے ہاتھوں کو عقیدت سے لبوں کے ساتھ لگائے وہ بھی “مسکرایا ۔۔!!”
“پر تکلف سا “
“اچھا اب جاؤ یاں ماں کے گھٹنے سے لگے رہنا ہے بیوی انتظار کررہی ہو گی تمہاری “
حیا نے ہنستے ہوئے کہا
“مگر ماں “
وہ ہنوز بے چینی سے بولا
وہ رکنا چاہتا تھا اپنی ماں کے پاس
“جاؤ بالاج وہ تمہارا انتظار کر رہی ہوگی “
وہ صفا کے کمرے میں ہے ماں آپ اس کی فکر مت کرو
حیا نے اس کے گال پر ہاتھ رکھے محبت سے کہا
“میں کیوں اس کی فکر کروں گی بالاج اس کی فکر کا زمہ تو تمہیں سونپا ہے “
“جاؤ “
وہ سر ہلا کر چلا گیا ۔۔۔
_______
“حمزہ کیا بات کر رہے ہو “
علی صاحب ہاسپٹل کے کوریڈور میں موجود اپنے سامنے کھڑے حمزہ کی بات پر جتنا حیران ہوتے کم تھا
“جی بابا میں صحیح کہہ رہا ہوں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے بلکہ آپ خود ہی دیکھ لیں “
حمزہ اپنی بات کا یقین دلاتا پھر اپنی پینٹ کی جیب سے موبائل نکال کر علی صاحب کو تصویر دیکھانے لگا
جبکہ دونوں بھائی تصویر کو دیکھتے بالکل ششدر ہوگئے تھے
“میں ان سے رابطہ کروں بابا میری درخواست پر ان کے دستخط کی ضرورت ہے”
“کوئی ضرورت نہیں ہے حمزہ اب تک سب کچھ ہم ہی کر رہے ہیں” “ہم کسی غیر کی ضرورت نہیں ہے ”
عدنان صاحب تند لہجے میں بولے
مگر چاچو وہ غیر تو نہیں ہیں
“وہ غیر سے بد تر ہے تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے اس سے رابطہ کرنے کی ہم خود ہی کچھ نہ کچھ کرلیں گے “
عدنان صاحب ہاتھ سے اشارہ کرکے وہاں سے چلے گئے
“بابا۔۔!!”
حمزہ نے علی صاحب کو مخاطب کیا
“عدنان صحیح کہہ رہا ہے حمزہ گڑھے مردوں کو اکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے “
“ہمم ۔۔۔۔” حمزہ سر ہلا کر رہ گیا
مگر وہ پورا ارادہ کر چکا تھا وہ لازمی رابطہ کرے گا کیونکہ یہ ہی ضروری تھا سب کے لیے ۔۔۔۔
_______
“ڈیڈ آپ نے مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائی !!”
جازب اعوان نے کمال اعوان کی جانب شکوہ کناں نظر ڈال کر کہا
“کون سی بات جازب؟”
“ڈیڈ حیا ابھی بھی اپنے شوہر کے نکاح میں ہے !!”
“آپ یہ بات جانتے تھے نہ “
جازب کے تاسف بھرے لہجے پر ان کے تاثرات زرا نرم پڑے
“ہاں میں جانتا تھا “
“پھر بھی ڈیڈ پھر بھی آپ مجھے ان کی جانب متوجہ کرتے رہے یہ جانتے ہوئے بھی وہ کسی اور کے نکاح میں ہیں ڈیڈ “
وہ تکلیف سے بولے
“کیونکہ اس نکاح کا ایک ہی اختتام ہے طلاق حیا نے صرف اور صرف اس وجہ سے حدید کو خلاع نہیں بھجوائی کہ کہیں وہ ان کا اور ان کے بچوں کا سراغ نہ نکال لے “
“مگر ڈیڈ پھر بھی مجھے کتنی شرمندگی ہوگی ان کے سامنے میں نے ایک شادی شدہ عورت کو نکاح کا پیغام بھجوانے کی سوچ رکھی “
“میں کیسے انھیں فیس کروں گا”
جازب کمال ملال میں آئے ۔۔۔۔
________
بالاج تھکا مندہ سا کمرے میں آیا
انابیہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی جاگ ہی رہی تھی
تم ابھی تک جاگ رہی ہو انا۔۔!!
بالاج نے متفکر لہجے میں کہا کیونکہ وہ بھی سب کے ساتھ صبح کی جاگ رہی تھی اور کاموں میں مشغول تھی
انابیہ نے سر اٹھا کر بالاج کے چہرے کی جانب دیکھا جو چلتا ہوا اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گیا
وہ بغیر کچھ کہے کچھ سنے اس کے ساتھ لگ گئی اپنی تھوڑی کندھے پر رکھے چہرہ کان کے قریب کئیے وہ بولی
“کہانیوں میں ایک لڑکی ہوتی ہے غم زدہ سی ایک دن شہزادہ آتا ہے اور اسے تمام غموں سے آزاد کروا کر لے جاتا ہے “
“پر مجھے وہ شہزادی نہیں بننا بالاج جس کے دکھ اس کا شہزادہ آکر چن لے اور کہانی ختم ہو جائے “
“مجھے تو ملکہ بننا اپنے بادشاہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوکر اپنے کندھوں پر اس کی تمام تر تکالیف بانٹنا چاہتی ہوں “
“اس شانے کو آپ ہمیشہ قبرستان پائیں گے جہاں سر رکھ کر آپ اپنے تمام غم بہا دیں گے اپنے تمام رازوں کو آشکار کردیں گے تب بھی اپنی آنسو اور رازوں کو دفن پائیں گے “
وہ کانوں میں سحر انگیز رس گھولتی اسے اپنے سحر میں جکڑ گئی
“اور وہ پھر خود کو روک نہ پایا تھا “
“رونے سے۔۔!!”
“خود کو اس میں بہا دینے سے “
“اپنا ہم راز بنانے سے “
________
“ماموں ہوش کریں پلیز”
حدید شاہ کے ڈھلکے سر کو سنبھالے عون نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی پندرہ منٹ کا سفر وہ پانچ منٹ میں طہ کرتا لاہور ہاسپٹل موجود تھا حدید شاہ کی نا ساز حالت دیکھتے انھیں فوراً ایمرجنسی میں لے جایا گیا تھا
عون خالی نظروں سے ایمرجنسی روم میں جاتے سٹریچر کو دیکھتا رہا
“ماموں “
“ان کی کنڈیشن سے سمپٹمز ہارٹ اٹیک کے لگ رہے ہیں “
ڈاکٹر اس کے سر پر بجلی گراتے وہاں سے جا چکے تھے
________
“بابا کیا ہوا ہے آپ کو ۔۔؟؟!”
حدیقہ فیصل جاوید کا پسینے سے شرابور چہرہ دیکھ کر گھبرا گئی
“پتا نہیں حدیقہ جانے کیوں دل گھبرا رہا ہے “
جاوید فیصل اپنا سینا مسلتے گھبراہٹ میں بولے
“ابراہیم ابراہیم “
حدیقہ بد حواس سی ابراہیم شاہ کو پکارنے لگے جو عجلت میں وہاں آئے
“بابا کی طبیعت۔۔!!”
حدیقہ شاہ پریشانی سے بولی
حدیقہ پانی لے کر آؤ
ابراہیم فیصل جاوید کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو سہلاتا بولا
“بابا ہوش کریں ان پر غشی طاری ہونے پر ابراہیم شاہ بھی بوکھلا گئے “
“ڈاکٹر کو فون کریں ابراہیم”
________
“ان کا بلڈ پریشر لو ہوا تھا ابراہیم صاحب پریشانی کی بات
نہیں ہے اب شاہ صاحب سٹیبل ہیں “
ڈاکٹر صاحب فیصل جاوید کا بلڈ پریشر چیک کرتے ابراہیم شاہ کو
دوائی کی پریس کریپشن پکراتے ہوئے بولے
ا”ن کی خوراک کا دھیان رکھے “
‘اب میں چلتا ہوں مجھے اجازت دیں “
ڈاکٹر انھیں چیک کرکے وہاں سے جا چکے تھے
“جی “
_________
کیا ہوگیا تھا بابا
حدیقہ شاہ فیصل شاہ کا ہاتھ آنکھوں سے لگائے آبدیدہ لہجے میں بولی
کچھ نہیں بچے میں ٹھیک ہوں بس تم عون کو بلادو مجھے اپنے بچے سے ملنا ہے
فیصل جاوید شاہ نے نقاہت بھرے میں لہجے میں کہا
میں کرتا ہوں فون بابا آپ پریشان کیوں ہورہے ہیں
ابراہیم شاہ کمرے میں آتے بولے
ابھی وہ فون نکال کر عون کو کال ملاتے دوسری جانب سے عون کی کال آنے لگی
دیکھا بابا آپ کے بچے کی کال خود ہی آگئی
ابراہیم شاہ نے ہنستے ہوئے عون کی کال اٹینڈ کی
_______
“بابا ماموں۔۔۔۔۔ “
‘بابا ماموں کو ہارٹ آٹیک ہوا ہے بابا “
عون کی سسکیوں پر
ابراہیم شاہ نے بمشکل اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل رکھا تھا
“کہاں ہو عون شاہ۔۔؟؟!”
” بابا پوچھ رہے ہیں تمہارا “
ابراہیم شاہ نے متوازن لہجے میں کہا
“بابا ہاسپٹل میں بابا پلیز آجائیں میرے پاس “
_______
“کیا ہوا ہے ابراہیم کیا کہہ رہا تھا عون۔۔۔؟!! “
“کہاں پر ہے ؟؟”
فیصل شاہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھ کر پوچھا
“بابا وہ عون کہہ رہا تھا میں آ جاتا ہوں ابھی “
“مگر میں نے کہہ دیا ہے رات بہت ہوگئی ہے صبح آجائے”
ابراہیم شاہ نے بات بناتے ہوئے انھیں بہلایا
“اچھا کیا رات بہت ہوگئی ہے اب جائے صبح”
“جی ٹھیک ہے “
“اچھا حدیقہ بات سنو صبح میری بہت امپورٹنٹ میٹینگ ہے میری فائل ڈھونڈ دو “
ابراہیم شاہ حدیقہ شاہ کو اشارہ کرتے باہر بلا گئے
“اچھا بابا میں ابراہیم کو فائل دے آو “
حدیقہ ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اٹھ گئی
“ہاں جاؤ بچے”
________
“حدیقہ میرے کپڑے نکال دو مجھے ابھی لاہور کے لیے نکلنا ہے “
ابراہیم شاہ کمرے میں آتے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہڑبڑی میں بولے
“کیا ہوا ہے ابراہیم سب خیریت ہے ؟؟!!”
“عون کیسا ہے؟؟”
“عون کیا کہ رہا تھا ۔۔؟؟!”
“ابراہیم مجھے بتائیں پلیز ۔۔۔!!”
حدیقہ شاہ نے انھیں بازو سے تھامے بولی
“حدیقہ”
ابراہیم شاہ نے ان کے دونوں ہاتھوں کو تھاما
“ابراہیم کیا ہوا ہے اب مجھے ٹینشن ہورہی ہے “
“ابراہیم”
“حدیقہ تم نے بابا کا دھیان رکھنا ہے پیچھے حدید کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے میں لاہور ہاسپٹل جا رہا ہے ہوں “
ابراہیم شاہ انھیں سہارا دیتے بتا گئے
“کیا ۔۔ب۔حد۔۔۔ابراہیم کیا کہہ رہے ہیں آپ “
حدیقہ شاہ کا دماغ ماؤف ہوئے اور اوسان خطا ہوگئے
“حدیقہ بابا کو یہ بات بالکل نہیں پتا لگنی چاہیے’
“اب جلدی سے کپڑے نکال دو مجھے ہاسپٹل کے لیے نکلنا ہے “
“ابراہیم میرا بھائی “
ابراہیم وہ رونے لگی
“مجھے بھی جانا ہے اپنے بھائی کے پاس”
“شش ۔۔۔حدیقہ میں تمہیں نہیں لے جا سکتا یار تم بابا کے پاس رکو ان کی طبیعت بھی صحیح نہیں ہے “
ابراہیم شاہ انھیں خود سے لگائے تسلی دیتے بولے
وہ آنسو صاف کرنے لگی
“ابراہیم آپ ۔۔”
“آپ جلدی جائیں اور مجھ سے رابطے میں رہئیے گا “
وہ سیدھی ہوتی چہرہ پونچھتی اٹھ الماری سے ان کے کپڑے نکالنے لگی ۔۔۔۔
________
“اماں “
علی صاحب اپنی ماں کے سرہانے بیٹھے ان کے بالوں میں ہاتھ چلانے لگے
حیات
اماں کے منہ سے نکلنے والے نام پر عدنا صاحب نے پہلو بدلا
اس سے پہلے عدنان صاحب کچی کہتے علی صاحب نے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر انھیں چک کروایا
نہیں
سر کے اشارے سے انھیں سمجھتے انھیں خاموش کرواتے گئے ۔۔۔
“حیات “
اماں ابھی بھی نیم بے ہوشی میں تھی اس لیے بار بار حیات کا نام پکار رہی تھی
ہاں اماں آرہی ہے حیات
اپ جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ
علی صاحب نے ان کے بالوں کو نرمی سے سہلاتے ہوئے ان کے کان کے قریب جھک کر کہا
حمزہ بھی پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا تھا
جب اس کے موبائل پر بپ ہوئی
موبائل سکرین پر کسی کا نمبر شو ہورہا تھا
“سینیئر ایڈوکیٹ حیا خان “
________
بالاج کو کمرے سے بھیجنے کا کے بعد حیا اپنی سٹڈی روم کی جانب آئی وہاں بنی بڑی ساری الماری کا لاک کھولتے ہی نظر آنے والا پہلا دراز اس نے کھولا
پیلے رنگ کا وہ لفافہ جسے بنوانے کے بعد اسے کھولنے کی حیا میں ہمت نہ تھی اس نے آج کھول لیا تھا
“تبھی ہاتھ میں تھاما اپنا فون اون کیا اور ڈائیل لسٹ میں موجود کمال اعوان کا نمبر ملایا
“سر جی خلع کے کاغذات بھیج دیجیئے “
مختصر سی بات کرکے اس نے فون بند کردیا
ابھی وہ سٹڈی روم سے نکلتی ان کا فون بجا تھا
وہ نظر انداز کرتی فون کال کاٹ گئی مگر پھر ایک دفعہ فون بجا تھا
حیا کے جانے دل میں کیا سمائی وہ کال اٹینڈ کر گئی
“ہیلو حیا خان ہئیر؟”
پھوپھو
مقابل کی آواز پر حیا نے ڈیسک پر ہاتھ رکھا تھا خود کو سہارا دینے کے لیے ۔۔۔۔
“پھوپھو میں حمزہ “
“پھوپھو دادو کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے پھوپھو “
“حمزہ “
حیا کی سرسراتی آواز پر حمزہ جو فون کرتے ہوئے کال کٹنے پر خوفزدہ تھا
حیا کی پکار پر پر سکون ہوا
“جی پھوپھو “
“میں ہاسپٹل میں ہوں لاہور ہاسپٹل “
“آپ نے لاہور آنا ہے نہ کل پھوپھو آپ پلیز مجھ سے مل لیجئیے گا
میں آپ کو کال کرتا ہوں بابا آگئے ہیں “
حمزہ فون بند کر چکا تھا مگر حیا پر سکتہ طاری ہوگیا
“ماں..”
آج سالوں بعد حیا نے اس سیاہ رنگ کے بیگ کو کھولا تھا جس کے اوپر جمی دھول اس بات کی گواہ تھی کہ برسو تک اُسے چھیڑا نہیں گیا تھا
آج پھر اس کی زندگی کا سیاہ ماضی اپنی نحوست لئیے اس کے سامنے کھڑا تھا
پردوں سے جھانکتی رات کی رانی
کچھ اور سیاہ ہوئی
ہواؤں نے ٹھہر کر اس منظر کو دیکھا تھا
ارد گرد سرسراہٹ سی ہوئی
“ماضی کھلنے والا تھا “
________
