212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 31)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“ہممم۔۔۔”

“علی بخش مجھے آج ہی اس کی شخص کی ساری انفارمیشن چاہیے”

بالاج موبائل بند کرکے اپنی پاکٹ میں رکھتا ہوا بولا

“جی سر جیسے آپ کا حکم میں ساری انفارمیشن آج رات تک آپ کو دے دوں گا “

وہ مؤدب انداز میں ہاتھ باندھے بولا

“ہمم بہتر۔۔۔!!”

“آج کے فنکشن کی سیکیورٹی ٹائٹ ہونی چاہیے کسی بھی غیر شناسا شخص کی اینٹری ممنوع ہونی چاہیے اور دھیان رکھنا کوئی بھی اونچ نیچ ہوئی تو زمہ دار تم ہو گے “

بالاج کے سرد لہجے پر علی بخش سر ہلا گیا

“اب تم جا سکتے ہوئے “

“سر جی “

علی بخش کے جانے کے بعد بالاج نے پر سوچ نظر اس کی پیٹھ پر ڈالی تبھی اسی راستے سے اُسے شجاع آتا نظر آیا

بالاج چہرے کے تاثرات نارمل کرتا اس سے بغلگیر ہوا تھا

________

“صفا “

کچن میں کھڑی صفا اپنے پیچھے سے آتی عون کی آواز پر لمحے بھر کو چونکی

مگر اپنا خیال سمجھ کر نظر انداز کر گئی

“صفا “

اس بار آواز اور قریب تھی

صفا چونک کر مڑی

_______

حیا صاحبہ گیسٹ سے مل کر ہاتھ میں موجود بکے تھامے گارڈن سائیڈ کی جانب بڑھی

ان کا فون مسلسل بج رہا تھا مگر اتنے شور میں فون سننا بہت مشکل

وہ فون کان سے لگائے قدرے خاموش اور کھالی جگہ پر آئی

“چوبیس سال “

“چوبیس سال حیا خان “

یہ آواز حیا کے ہاتھ سے فون پر گرفت کمزور ہوئی فون ہاتھ سے پھسل کر گر گیا

“اتنا بڑا دھوکا “

“تمہارا رات کے اندھیرے میں مجھے چھوڑنا غلطی تھا “

“مگر ۔۔۔۔۔ دوسری شادی !!!”

“غلطی نہیں گناہ کیا ہے میرے نکاح میں ہونے کے باوجود دوسری شادی کی ہے تم نے نکاح پر نکاح کیا ہے تم نے جس سے ہونے والی ناجائز اولاد کو پیدا کیا “

اپنی گرفت حد درجہ مقابل کے نازک کمزور کاندھوں پر سخت کیکہ وہ خود کو سسکنے سے روک نہ سکی

“نفرت ہورہی ہے مجھے اپنے وجود سے بھی کہ کبھی تم میری دسترس میں تھی میرے ماہ و سال برباد کرکے بھی تم یہاں اتنی پرسکون کیسے ہو ۔۔؟؟ “

“کیسے ۔۔۔؟؟؟؟” غصے کی شدت سے وہ دھاڑے تم۔۔۔۔

“آہ۔۔۔۔۔ “اپنی جوان اولاد کے ہاتھوں پڑنے والے مکے پر وہ چار قدم لڑکھڑا کر دور ہوئے۔۔۔۔۔

“ماں ۔۔۔۔ “

وہ بھاگ کر اپنی ماں کے پاس آیا جو ساکت نگاہوں سے اپنا درد فراموش کئیے سامنے دیکھ رہی تھی بالکل سامنے ۔۔۔۔

“اوکے کوئی بات نہیں ہما صاحبہ صحت سے زیادہ ضروری تو کچھ نہیں ہوتا نہ آپ کی مبارک باد ہم تہے دل سے قبول کرتے ہیں “

“جی جی بہت شکریہ “

“جزاک اللہ”

حیا کی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں آئے

حیا مسکراتے ہوئے مڑی سامنے کھڑے حدید شاہ کو دیکھ کر ان کی گرفت اپنے فون پر سخت ہوئی

حدید شاہ کے بھی الفاظ مانوں غائب ہوگئے تھے وہ جو صفا کو دیکھ کر اب تک آگ کی تپش میں سلگتے آرہے تھے وہ جو سوچے بیٹھے تھے کہ وہ اپنی بے وفا بیوی کو جھنجھوڑیں گے اس سے پوچھیں گے کہ ان کی محبت میں کیا کمی تھی جو انھیں چھوڑ کر آگئی ان سے بے وفائی کی

آج سالوں بعد انھیں سامنے دیکھ کر گہری خاموشی لگ گئی

ارد گرد کا شور بالکل ساکن ہوگیا

دوسری جانب حیا صاحبہ کی آنکھوں میں مرچی سی بھرنے لگی تھی

ان کا دل بھی نہ کیا کہ وہ سامنے کھڑے سفاک شخص کو اس کی غلطیاں گنوائے

وہ انھیں نظر انداز کئیے سائیڈ سے گزرنے لگی تھی

جب ان کا بازو حدید شاہ کی آہنی گرفت میں آیا

________

“عون ۔۔!”

“تم یہاں پر ؟؟” صفا حیرانگی سے بولی

تو کیا وہ پھر سے اپنی محبت کی بھیک مانگنے وہاں آگیا تھا

صفا کے اپنے قدم بھاری لگنے لگے

دو دنوں سے مسلسل اس کی سوچ نے اس کا دماغ مفلوج ہی کردیا تھا ابھی وہ اس چیز سے نہ سنبھلی تھی کہ وہ پھر سے اس کے روبرو ہوگیا

اس سے پہلے صفا اس سے کچھ کہتی شجاع اپنی شرٹ جھاڑتے ہوئے وہاں آیا تھا

“آپ یہاں پر کیا کر رہی ہیں صفا “

شجاع اسے دیکھ کر مسکراتے لہجے میں بولا تھوڑی دیر پہلے شرٹ گندی ہونے پر چہرے پر آئی ساری کوفت ہوا ہوئی تھی

“م۔میں۔۔وہ۔۔۔ “صفا نے دائیں جانب دیکھا وہاں پر عون نہیں تھا

میں کچھ نہیں آپ ۔۔۔یہاں پر ؟؟

“جی میری شرٹ خراب ہوگئی ہے اسے ہی صاف کرنے آیا ہوں “

وہ بیچارگی سے بولا

“جی آپ کرلیں”

وہ سنک سے سائیڈ پر ہٹتی اسے جگہ دیتے ہوئے بولی

“آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں “

شجاع اسے دیکھتا بے ساختہ ہی بول گیا

“جی ؟؟”

“میرا مطلب ہے کانگریچولیشنز اب آگے کیا پلین ہے آپ کا “

“کچھ نہیں بس آگے ماما کے ساتھ ہی “

وہ ہاتھ مسلتے بے چینی سے بولی

نظریں ادھر اُدھر بھٹک رہی تھی

“صفا مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا بلکہ آپ سے پوچھنا تھا “

صفا آئی لو یو

شجاع کا اظہار اس کے لیے بالکل غیر متوقع تھا وہ ہل ہی نہ سکی

“میری کوئی غلط انٹینشن نہیں ہے میں آپ سے پیار کرتا ہوں اور میں نے اپنے پیرینٹس کو بھی بتا دیا ہے اور آج باقاعدہ حیا آنٹی اور بالاج سے آپ کے لیے بات کریں گے “

شجاع نے فوراً ہی خود کو کلئیر کرتے کہا

مگر صفا غائب دماغی سے اسے دیکھ رہی تھی

“آپ بھی حیران ہورہی ہوں گی یہ میں کیا کہہ رہا ہوں “

وہ مزید بولا

“مگر یہ سچ ہے میں آپ کو پسند کرتا ہوں آج سے نہیں بہت پہلے سے مگر تب اس چیز کا صحیح وقت نہیں تھا مگر آج الحمدللہ میں اس قابل ہوگیا ہوں “

کہ میں اپنا پرپوزل آپ کے سامنے رکھ سکوں

“آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ؟!۔۔”

پہلی بات تھی شجاع کی جس پر اس کو ہوش آیا

شجاع کے لہجے میں باقاعدہ خوف تھا

“وہ اُس سے اُس کی مرضی پوچھ رہا تھا “

“آپ کو اعتراض تو نہیں اگر میرے ماما بابا آپ کا رشتہ مانگیں تو “

صفا کی خاموشی پر شجاع کے لہجے کی بے تابی بھری

وہ اس سے پوچھ رہا تھا اس کی مرضی

“صفا میں آپ سے محبت کرتا ہوں “

“صفا آپ صرف میری ہیں “

“آپ عون ابراہیم کی ہیں “

کتنا فرق تھا دونوں کے اظہار میں

“صفا “

صفا ٹرانس سے نکلی

“جو میری ماما اور بھائی کا فیصلہ ہوگا وہ ہی میرا فیصلہ ہوگا “

وہ صاف لفظوں میں کہتی اس کا منہ تکنے لگی

جس کے تاثرات اب پر سکون ہوگئے تھے جسے اسے پوری امید تھی کہ فیصلہ اسی کے حق میں آئے گا

“بہت شکریہ آپ کا صفا “

وہ ممنون لہجے میں کہتا وہ سے چلا گیا

پیچھے صفا نے سلیب سے ٹیک لگا کر خود کو سہارا دیا

” میرے ساتھ ایسا مت کریں صفا پلیز “

عون ضبط سے سب سن رہا تھا شجاع کے جانے کے بعد دوبارہ سامنے ہوا تھا

صفا نے لب کچلے

عون ابراہیم کا ٹوٹا لہجہ اسے بہت تکلیف دے گیا تھا

“دو سال کا فرق اتنا معنی نہیں رکھتا صفا “

“بات عمر کے فرق کی نہیں ہے عون “

صفا کہنا چاہتی تھی

مگر وہ بولی تو عون کا دل تھڑا پرسکون ہوا

“میں تم سے بھی یہ ہی کہوں گی عون کہ فیصلہ میری ماں اور میرا بھائی ہی کرے گا چاہے پھر وہ شجاع کے حق میں کریں یاں تمہارے “

یہ پہلی دفعہ تھا جب صفا نے اسے راہ دکھلائی تھی

عون نے اس کی جانب دیکھا

“اب آپ سے تب ہی ملوں گا جب فیصلہ میرے حق میں آئے گا ۔۔۔”

عون وہاں سے جاچکا تھا

پیچھے صفا اپنی سست پڑتی دھڑکنوں کو سنبھالتی ایک ہی گھونٹ میں سارا پانی پی گئی ۔۔۔۔

_______

وہ انھیں نظر انداز کئیے سائیڈ سے گزرنے لگی تھی

جب ان کا بازو حدید شاہ کی آہنی گرفت میں آیا

“کہاں جا رہی ہوں”

” حیات حدید شاہ “

حیا نے دانت پیس کر کھینچنے والے انداز میں اپنے بازو کو حدید شاہ کی گرفت سے آزاد کروایا تھا

میرے سوالوں کا جواب دئیے بغیر تم نہیں جا سکتی “حیات حدید شاہ”

وہ براہاں انھیں ان کے پورے نام سے پکارتے بہت کچھ باور کروا گئے

“حیا خان ۔۔۔۔حیا خان نام ہے میرا “

“حیات حدید شاہ اسی رات مر گئی تھی جب اس نے حدید شاہ کا اصل چہرہ دیکھا تھا “

“اور اپنی بے وفائی کے بارے میں کیا خیال ہے حیات “

“اور شوہر کو رات اندھیرے چھوڑنے کے بعد تمہاری بیٹی کا اس دنیا میں آنا اس کی جسٹی فیکیشن کیسے دو گی “

میری اولاد کو گالی مت دینا حدید شاہ تمہارا منہ توڑ دوں گی میں

حیا بپھری شیرنی کی طرح بولی

تو بتاؤ کون ہے صفا خان کیا حقیقت ہے اس کی حیات شاہ

کون ہے وہ جس کے وجود سے اس کا باپ لاعلم رہا

“یاں تم نے میرے نکاح میں ہونے کے باوجود دوسری شادی کرلی”

دوسرے نکاح والی بات حیا کے سر پر بجی اور تالو پر لگی

حیات شاہ بولو

یاں کوئی حقیقت نہیں اس کی

حقیقت یہ ہی ہے اس کی کہ وہ ایک کم ظرف اور دھوکے باز باپ کی اولاد ہے

وہ شخص جس تک اپنی اولاد کی آمد کی خبر سے پہلے ہی اس کی بیوی نے اس کا مکار روپ دیکھ لیا تھا

“حیات “

اتنے بڑے سچ ہر حدید شاہ کا دماغ جھنجھنا گیا تھا آنکھیں سرخ پڑیں

چیخو مت حدید شاہ نہیں تو تمہاری زبان نکالنے کی طاقت رکھتی ہوں میں

اب میں حیات نہیں حیا خان ہوں میں کمزور نہیں ہوں

حیا انگلی ان کی جانب اٹھائے سرد لہجے میں بولی

“کمزور تھی تم “حیات حدید شاہ” تبھی بغیر کچھ پوچھے کچھ بتائے بھاگ گئی تم “

حدید شاہ نے جھنجھوڑ دیا انھیں

“تم جیسے شخص سے اپنی اولاد کو بچانا زیادہ ضروری تھا حدید شاہ “

“تو اب کیا تمہیں مجھ سے خوف نہیں آرہا حیات حدید شاہ “

“نہیں کیونکہ اب میری کمزوری میرے بچے اب میری طاقت ہیں”

“تمہارے دھوکے کے بعد بھی آج میں کامیاب ہوں اور تم بے مراد تبھی تم با اولاد ہوکر بھی باپ بننے کی خوشی محسوس نہ کرسکے “

بہت سخت وار تھا یہ حدید شاہ پر

“اور مجھے بار بار حیات بلانا چھوڑ دو حدید شاہ حیات مر چکی ہے میں اس کی قبر پر برسو پہلے ہی مٹی بھی ڈال چکی ہوں اب بس حیا خان ہے اور اس کے دو بچے ہماری زندگی میں کسی بھی حدید شاہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے “

“ماں ۔۔۔۔”

بالاج علی بخش کا میسج پڑھتے ہی گارڈن ایریا کی طرف بھاگا آیا

“احمد۔۔۔!! “

حدید شاہ نے بے تابی سے بالاج کی جانب رخ موڑا تھا

“ہاتھ مت لگائیے گا مجھے حدید شاہ نہیں تو اپنی ماں کی تربیت کو بھلائے آپ کی عمر کا بھی لحاظ نہیں کروں گا ۔۔۔”

اپنی جوان اولاد کے الفاظ پر ان کے دل میں ٹیس سی اٹھی اور بائیں جانب کا حصہ درد سے کراہ اُٹھا ۔۔۔۔

وہ صحیح کہہ رہی تھی حدید شاہ بے مراد تھا اور بے مراد ہی لوٹایا گیا وہاں سے بھی جہاں وہ اپنی حساب لینے آیا تھا وہاں سے اسے ایسی جگر پاش خبر ملی تھی اس کا وجود صدیوں تک اسی کی زد میں رہتا

ان سارے مناظر کے حصے دار اور گواہ

اور چار لوگ اور بھی تھے

جازب کمال۔۔!!

مسز خاور۔۔!!

شجاع خاور۔۔!!

“انابیہ بالاج خان۔۔!!”

_______

“ماموں “

“آپ کچھ بتا کیوں نہیں رہے “

عون نے دوسری دفعہ پوچھا وہ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا حدید شاہ کی سرخ آنکھوں کی وجہ سے وہ خاموشی سے ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا

نہیں تو وہ جانتا تھا حدید اسے چھوڑ کر بھی جا سکتا ہے مگر عون اس حالت میں انہیں جانے نہیں دینا چاہتا تھا

“ماموں آپ کی ملاقات ہوئی مامی سے ؟ “

عون نے پریشانی سے پوچھا مگر حدید شاہ کے شکستہ جھکے کاندھے اسے پریشان کر گئے

وہ سر گاڑی سے لگائے بیٹھے تھے وہ لاہور جانے تک کا آدھا سفر طہ ہوچکا تھا

“ماموں ‘” سرد سی خاموشی پر عون کا دل رکا تھا

اس نے حدید شاہ کو ہلایا جن کا سر ڈھلک گیا ۔۔۔۔

_______

فنکشن اپنے اختتام کو پہنچ گیا

مہمان بھی چلے گئے

اپنا درد دبائے حیا بھی مسکرا کر سب سے مل رہی تھی

اور بالاج بھی

بالاج اور حیا تو ایک کمرے میں بند ہوگئے

انابیہ صفا کے کمرے میں آگئی

کمرے میں صفا موجود نہیں تھی وہ شاید فریش ہونے گئی تھی

انابیہ صفا کے کمرے میں لگی اریبہ اور جہانگیر کی تصویریں دیکھنی لگی

ایک ہاتھ میں اریبہ نے اسے تھاما ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے صفا کو گود میں اٹھایا ہوا تھا

ایک تصویر میں حیا اسے سینے سے لگائے کھڑی تھی

انابیہ نے حیا کی تصویر کر ہاتھ پھیرا

جو حقیقت اس پر آشکار ہوئی وہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں تھی

ایک لمحے میں اس کی تو دنیا کی پلٹ گئی

“وہ کون تھی۔۔۔؟!!”

حیا اس کی حقیقت میں کیا لگتی ہے

وہ تو جہانگیر خان کی بیٹی تھی

تو حیات شاہ کا اس سے کیا تعلق تھا

اور بالاج ۔۔۔۔یا احمد

اس کا شوہر

مگر وہ چپ تھی لیکن اسے ان سب سوالات کے جوابات چاہیے تھے

_______

“ماں آپ نے حیا آنٹی سے بات کیوں نہیں کی ؟”

گاڑی کا سٹریرنگ تھامے شجاع نے بے چینی سے کہا

“اتنا سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود بھی تم مجھ سے یہ سوال کر رہے ہو شجاع ‘

مسز خاور نے سخت نظر اپنے بیٹے پر ڈال کر کہا

“ماں “

شجاع حیران ہوا

“کیا کچھ ہم سے چھپا ہوا ہے ہم یہ سب جانتے ہیں موم حیا آنٹی کا سچ بھی معلوم تھا ہمیں پھر “

“مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ صفا کی پیدائش کب ہوئی اس کے پیچھے کی حقیقت”

“موم فار گوڈ سیک “

“ڈیڈ آپ کیوں نہیں کچھ کہہ رہے “

شجاع نے سٹریرنگ پر ہاتھ مار کر خاور صاحب کو بلایا جو خاموش تھے

“خاور صاحب میرا اکلوتا بیٹا ہے پلیز کسی کی محبت میں اسے میں قربانی کا بکرا نہیں بنا سکتی “

مسز خاور خاور صاحب کی جانب دیکھ کر کہا

“آپ دونوں ہی خاموش ہو جائیں ہم گھر جا کر بات کرتے ہیں اس بارے میں “

خاور صاحب کے تنبیہہ لہجے پر دونوں خاموش ہوگئے