212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 6)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

بالاج نے صفا کی یونیورسٹی کے مین گیٹ کے پاس گاڑی روکی اور صفا کے لیے دروازہ کھولا یونیورسٹی میں اپنے کیمپس کی جانب بڑھتی رومیسہ اور اس کی دوست تو بس بالاج کو دیکھ کر رہ گئی

یہ کون ہے رومی اتنا ہینڈسم رومیسہ کی دوست فزا نے آنکھیں پھاڑے بالاج کر دیکھ کر سرگوشی کی

مجھے کیا معلوم کون ہے ہوگا کوئی مس سینئیر کا کوئی جاننے والا جس قدر اس کے پاس کھڑا ہے

صفا کا ہاتھ تھامے وہ اسے چھوڑنے کے لیے اندر آیا

بالاج کے حصار میں کھڑی صفا اپنی گاڑی سے اترتے عون کو انگاروں پر لُٹا گئی

عون کی رگیں ابھرنے لگی تھیں جسم کو جیسے کسی نے ننگی تاروں میں لپیٹ دیا ہو دل سکھڑ سمٹنے لگا ۔۔۔۔

صفا جا مسکراتا چہرا

بائے بھیا صفا اپنی شال صحیح کرتی اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔

_______

پورے دس بجے وہ اپنے پروقار وجود کے ساتھ میٹنگ روم میں داخل ہوئا تھا بلیک بلیزر میں موجود سٹاف کے علاؤہ بھی سب لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے تھے

جی جیسے آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ آج کی یہ میٹنگ جے۔کے انڈسٹری کے ساتھ ساتھ آپ لوگوں کے لیے بھی کتنی فائدہ مند رہے گی اگر ہم سب فئیر ہو کر کام کریں گے تو یقیناً کسی کو بھی رتی برابر نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا ۔۔۔۔۔

اس کے لہجے میں ایک رعب اور ٹھہراؤ تھا وہاں بیٹھے لوگ اس کی شخصیت کے ساتھ اس کے لہجے سے بھی متاثر ہوئے تھے

جی تو ہم شروع کرتے ہیں

پروجیکٹر شروع ہوا ۔۔۔۔ترانی صاحب پرسوچ نظروں سے اس کی خود اعتمادی دیکھ رہے آتے ساتھ اتنا بڑا کارنامہ انٹرنیشنل لیول پر خود کو لانا بالکل زیرو سے خود کو شروع کرنا پہلے نیشنل لیول پر نام آنا اور پھر انٹرنیشنل بزنس میگزین کا فرنٹ کوور بن جانا تبھی تو کتنے ہی لوگ جے۔کے کمپنی کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے اپنے شئیرز بالاج کے ساتھ ملانا چاہتے تھے

ایک بات تھی بالاج خان کی اس کی کوئی پرسنل انفورمیشن ابھی تک سرکل میں روٹیٹ نہیں ہوئی تھی

وہ انہیں سوچو میں وہ کھوئے تھے جب کوئی میٹینگ روم کا دروازہ کھول کر اندر آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

حدید شاہ ۔۔۔۔

اپنی چیئر سے اٹھتے بالاج اور روم میں داخل ہوتے حدید شاہ کی نظریں جیسے ہی آپس میں ٹکرائیں دونوں ایک جگہ ساکن کھڑے رہ گئے ۔۔۔

بالاج نے منٹ سے پہلے خود کو کمپوز کیا تھا اور بریف دیا مگر حدید شاہ نظریں ہٹانے سے قاصر تھے

بیک وقت بہت سے اذیت ناک جملوں کی بازگشت ہوئی تھی

درد ناک لمحے تاریک سے!!۔۔۔۔

شاہ صاحب آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ترانی صاحب نے ان کی پسینے سے تر پیشانی پر نظر ڈال کر کہا

ج۔جی آواز تھوڑی سی لڑکھڑائی۔۔۔۔

مگر وہ سر جھٹک کر بیٹھ گئے

جی تو خان صاحب میں آپ کے ساتھ پانچ پرسنٹ پارٹنر شپ کا خواہشمند ہوں ترانی صاحب نے پین کی نب ڈیسک پر کھٹکا کر

متوجہ کیا تھا

بالاج نے ہاتھ میں تھامے پین کو گھمایا جیسے وہ سوچنے میں مصروف ہو حالانکہ ترانی انڈسٹری کا جانا مانا نام تھا کوئی اور ہوتا تو شاید لمحہ نہ لگاتا

دس پرسنٹ شئیرز دینے کو تیار ہوں میں

ترانی صاحب نے بات مکمل کی

بالاج ابھی بھی خاموش تھا جب دوسری جانب سے پندرہ پرسنٹ کی بھی آواز آئی

بیس پرسنٹ حدید شاہ کی آواز پر ترانی صاحب نے پہلو بدلا

بیس پرسنٹ ترانی صاحب نے بھی پیچھے نہ ہٹتے ہوئے دانت بھینچ کر اعلان کیا

چالیس پرسںٹ بالاج نے اعلان کردیا تو ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی تھی پچیس پرسنٹ

حدید شاہ نے ایک نظر بالاج کی سبز آنکھوں میں دیکھا

تیس!!! چالیس مگر وہ بھیچ میں ہی کاٹ گیا

حدید شاہ کو بھی ضد لگی تھی پینتیس !!! چالیس مگر بالاج خان اپنی ضد کر معاملے میں دو ہاتھ آگے کا نکلا تھا ۔۔۔۔

منظور ہے حدید شاہ نے ہاتھ بالاج کی جانب بڑھایا تھا جسے وہ ہاتھ ملا کر اگلے ہی لمحے چھڑوا کر وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔

گھاٹے کا سودا کیا حدید شاہ ترانی صاحب نے طنزاً مسکرا کر کہا

حدید شاہ گھاٹے کا سودا نہیں کرتا ترانی صاحب بہت جلد اس فیصلے کے پیچھے موجود مقصد کی خبر سب کو ہوگی تب سب میرے اس فیصلے کو سرہائیں گے

ہمیشہ کی طرح!!! آخر میں حدید شاہ بھی اپنا بدلہ پورا کر گئے

_________

صفا یونیورسٹی میں آتے ساتھ لائیبریری میں گئی کافی دیر عون کا انتظار کیا مگر وہ نہ آیا وہاں سے اٹھ کر صفا کینٹین میں آئی مگر وہاں بھی عون کا کوئی آتا پتا نہیں تھا

کہاں چلا گیا یہ لڑکا صفا نے جھنجھلا کر سوچا

خود کینٹین سے نکل کر گروانڈ کی جانب آئی فون کرتی ہوں سر پر ہاتھ مار کر صفا نے اپنے بیگ سے فون نکالا

عون کا نمبر ملایا مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا صفا نے جواباً فون کو گھورا جیسے فون کی بجائے خود عون ہو

واٹس ایپ کھول کر وائس نوٹ اوپن کیا

مسٹر عون ابراا۔۔۔آہ۔۔۔

ابھی وہ کچھ بولتی کوئی اسے بازو سے پکڑ کر اسے کھینچتے ہوئے قدرے سنسان جگہ لے آیا

عون نے اسے دیوار کے ساتھ لگایا

عون کو دیکھ کر اس کی خشک ہوتی سانس میں روانی آئی

بدتمیز انسان بازو چھوڑو میرا ایسے کون بلاتا ہے

صفا خوف جو سائیڈ پر دھکیل پر غصے سے بولی

کس کے ساتھ آئی ہیں آپ آج عون اس کی بات سرے سے ہی فراموش کرکے سرد لہجے میں بولا

یہ کیسے بات کر رہے ہو عون تمیز سے رہو

صفا نے سختی سے اپنا بازو چھڑوایا

میں پوچھ رہا ہوں وہ لڑکا کون تھا صفا خان جس کے حصار میں کھڑی تھی آپ

لہجے کی رقابت لفظوں کا چناؤ آنکھوں کی سردی صفا کو ششدر کر گئی

دل انہونی کے احساس سے دھڑکا

نہیں جو سوچ اس وقت اس کے دماغ میں آئی تھی اللّٰہ وہ غلط ہو صفا نے شدت سے دعا کی

تم ہوتے کون ہو مجھ سے عون ابراہیم یہ پوچھنے والے کہ میں کس کے ساتھ آئی ہوں

صفا نے بھی غصے سے جواب دیا تھا

ڈیم اٹ جواب دیں کون تھا آپ کے اس قدر نزدیک کس کی ہمت ہوئی

مکا بنا کر اس کے چہرے کے پاس سے گزارتا دیوار پر دے مارا

اہ۔۔۔۔صفا دونوں ہاتھ منہ پر رکھ چیخ کا گلا گھونٹ گئی

صف۔۔۔۔چٹاخ !!! بھائی تھا وہ میرا میرا بڑا بھائی عون ابراہیم ۔۔۔۔۔!!! تھپڑ مار کر اسے اپنی پوری طاقت کے ساتھ خود سے جھٹکا

آج کے بعد اپنی گڑی ہوئی سوچ لے کر اپنا یہ چہرہ مجھے مت دکھانا عون ابراہیم آئی سوئیر تمہیں جا۔ن سے مار دوں گی میں ۔۔۔۔

صفا اسے دھکیل کر وہاں سے چلی گئی

عون ساکت ہوا یہ الفاظ اس کے تنے اعصاب کو جہاں پرسکون کرگئے وہی اُس تھپڑ اور دھکے نے اسے حقیقت کا آئینہ دکھایا

عون نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو پرسکون کیا ۔۔۔۔۔ غلطی ہوگئی اس سے بہت بڑی غلطی وہ جذبات میں آکر غلط حرکت سر زد کر گیا صفا اس سے بے حد خفا ہوگئی پہلے ہی اس کے چانس نہ ہونے کے برابر تھے آج کی حرکت تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگئی

وہ سر تھام گیا

وہ اس پر شک نہیں کر رہا تھا مگر اسے برداشت بھی تو نہیں ہوا کوئی اس کی صفا کے پاس کھڑا

صفاااا۔۔۔کیوں ہوگیا ہوں میں آپ کے معاملے میں اتنا جنونی ایسے تو نہیں بتانا تھا مجھے آپ کو اپنے دل کا حال

اہ۔۔۔ایک مکا دیوار پر دے مارا تھا عون نے

رومیسہ اور اس کی دوست نے دور سے صفا کو عون کے چہرے پر تھپڑ مارتے ہی دیکھا تھا اندر کے معاملے سے وہ دونوں ہی انجان تھی

مگر رومیسہ کو اپنا راستہ صاف ہوتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔

__________

میٹنگ کے بعد سے حدید شاہ کی طبیعت بوجھل سی ہوگئی تھی اس وقت اسلام آباد میں اپنے شاندار بنگلو کی پہلی منزل میں موجود اپنے کمرے کمرے کے وسیع وعریض ٹیرس میں کھڑے سیگریٹ نوشی میں مصروف تھے

“میرا احمد ۔۔۔۔میرا احمد لے کر دور گئی وہ مکار عورت میرا بیٹا لا کر دیں مجھے “

سن کیوں نہیں رہے آپ کوڑے برساتی آوازیں دماغ کی رگیں تنا گئی

یہ ممکن نہیں سیگریٹ کو زمین پر پھینک کر اپنے دائیں بوٹ سے اسے مسلا

آہ ۔۔۔۔یک دم سر میں درد کی شدید لہر اٹھی تھی حدید شاہ وہی چئیر کا سہارا لے کر بیٹھتے چلے گئے

تیری یادیں ہیں جنہیں دل میں بسا رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔

ہم نے اس آگ کو سینے میں دبا رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

__________

حیا کی گاڑی اس وقت اعوان ہاؤس کے باہر کھڑی تھی ملازم نے حیا کو دیکھ کر مؤدب انداز میں کھڑے ہوکر حیا کے لیے مین گیٹ کھولا

حیا پر وقار چال چلتی لاونج کی طرف بڑھی لاونج میں موجود اوپن کچن سے اسے کمال اعوان کا قہقہ گونجتا ہوا محسوس ہوا

حیا ایک لمحے کو رکی تھی پھر گلا کھنکھار کر آگے بڑھی

حیا بچے !!۔۔۔۔۔

کمال اعوان حیا کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے

بلیک لائینگ شرٹ کے کف کو کہنیوں تک فولڈ کئیے گرے رنگ کے ایپرن پہنے ہوئے جازب اعوان باؤل میں موجود آمیزے کو وِسکر کی مدد سے پھینٹ رہے تھے ایپرن حد سے زیادہ گندا ہورکھا تھا جبکہ کمال اعوان کے تنگ کرنے کے باعث جازب اپنا کھشکے میں اٹھا ہاتھ اپنے بالوں کو ماتھے سے ہٹانے کے باعث بال اور پیشانی کو بھی سفید کر چکے تھے

وہ اس وقت بالکل بھی نفاست پسند ایڈوکیٹ جازب کمال اعوان نہیں لگ رہے تھے

کمال اعوان کے حیا کو پکارنے پر جازب کمال ہڑبڑا کر باؤل یوں ہی سینک کے پاس رکھے فوراً اپنے ہاتھوں کو بچوں کی طرح اپنے ایپرن سے صاف کرکے مڑے تھے

انداز خاصا ہڑبڑایا سا تھا

ہلکے فروزی رنگ کی شلوار قمیض پر نفاست سے لئیے ڈوبنے میں چمکتا پر نور چہرہ سبز رنگ آنکھیں سیاہ رنگ کی شال کو اچھے سے اپنے گرد اوڑھ کر پروقار چال سے چلتی وہ جازب کمال کو سانس روکنے کی حد تک پہنچا دیتی تھی

اسے اگنور کرو حیا بچے آج کُک کا اوف تھا اور یہ لارڈ صاحب مجھے اپنے ہاتھوں سے بنا کچھ کھلانے کے خواہشمند یوں بکھرے حلیے میں موجود ہیں

کمال اعوان حیا کو لئیے لاونج میں آگئے ۔۔۔۔

جی سر جی حیا اثبات میں سر ہلا کر ان کے پیچھے چل پڑی

جی سر جی آپ نے مجھے یاد کیا تھا حیا مؤدب انداز میں بولی وہ ہمیشہ کمال اعوان کو سر جی ہی کہتی تھی انکل والا تکلف اسے پسند نہیں تھا اور کمال اعوان نے بھی اسے نہیں ٹوکا

ہاں بچے آپ سے خرم داد کے کیس کے بارے میں ڈسکیشن کرنا تھا کافی خطر ناک معلوم ہوتا ہے یہ شخص ان کے لہجے میں فکر کا عنصر تھا

حیا کی سبز آنکھیں مسکرائیں تھیں جھوٹ خوفناک ہوتا ہے سر جی خطرناک حد تک تو سچ کی طاقت ہوتی ہے

مجھے تم سے یہ ہی امید ہے حیا بچے اس فیلڈ میں سچ بولنے والے اور سچ کا ساتھ دینے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور مجھے فخر ہے میری شاگردہ حق سچ کا ساتھ دینے والی ہے

اور بتاؤ بچے کیسے ہیں ؟؟ صفا بچی بالاج آگیا پاکستان میں واپس ؟

جی سر جی خیر سے بالاج واپس آگیا ہے اور صفا کا کال پیپر ہے

اللّٰہ کامیاب کرے بچوں کو

آمین

آپ بتائیں سر جی طبیعت کیسی ہے آپ کی ؟؟ حیا نے متفکر ہوکر کہا

طبیعت ٹھیک ہے بس اب ٹھیک بھی کس کے لیے رکھیں سرد آہ بھر کر کمال اعوان نے کہا

کیسی باتیں کر رہے ہیں سر جی اللّٰہ اآپ کو سلامت رکھے آمین

بس بچے

میری بھی خواہش تھی اس عمر میں اپنے پوتے پوتیوں کی بھی خوشیاں دیکھتا مگر مجھے اپنے اکلوتے بیٹے کی خوشی بھی زیادہ دیر دیکھنا نصیب نہ ہوئی

وہ سرد آہ بھر کر رہ گئے

تو آپ جازب صاحب کی دوسری شادی کروا دیں وہ بول کر ایک دم چپ ہوئی سوری سر جی یہ آپ کا پرسنل میٹر ہے میں زیادہ بول گئی

حیا بچے ہم تو آپ کو اپنی بیٹی ہی سمجھتے ہیں مگر شاہد آپ ہمیں اس قابل نہیں سمجھتی کہ ایک لمحے کو آپ بیٹی بن کر مشورہ دیتی ہیں اور دوسرے ہی لمحے پرایا کردیتی ہیں

سوری سر جی ایسی بات نہیں ہے

کافی دیر بات چیت کرنے کے بعد حیا آتی

اچھا اب میں اجازت ۔۔۔۔ابھی حیا کھڑی ہی ہوئی تھی کہ جازب ہاتھ میں کافی کی ٹرے کے ساتھ چند لوازمات لے کر آئے ان کے پیچھے ملازمہ بھی سنیکس وغیرہ لے آئی

آپ نے خاموخواہ تکلف کیا جازب صاحب حیا پر تکلف انتظام پر زرا جھجھکی ۔۔۔۔

ایسی بات نہیں ہے حیا صاحبہ

حیا بچے چکھ کر تو بتاؤ یہ مینی کیک جازب کے ہی بنائیں ہیں اور کافی بھی

کمال اعوان نے اپنے بیٹے کی محنت کو ضائع ہونے بچایا

حیا کو انکار کرنا مناسب نہ لگا وہ رک کر کافی کا کپ تھام گئی

کپ کیک تو مزے کا تھا مگر کافی اس نے جبراً پی تھی

کافی پی کر حیا کھڑی ہوئی

بہت بہت شکریہ سر جی

حیا اپنا پرس اٹھا کر جازب کے قریب آئی اُس کا ایک ایک قدم جاذب کے دل پر پڑ رہا تھا

اور کافی بہت اچھی تھی جازب صاحب مگر دھیان رکھیں سر جی ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں

حیا ایک پہیلی نما شکریہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی

جازب کو ہوش تو تب آیا جب کمال اعوان نے کافی کا ایک سپ لیتے ہی اسے فوارے کی طرح اچھال دیا

کیا ہوا ڈیڈ جازب پریشان سا ان کے قریب آیا

کھوتے دے پتر کافی میں نمک کون ڈالتا ہے

اور یہ تجھے حیا بچے کو دیکھ کر کیا ہوجاتا ہے ہاں

آج تونے خالص زنانہ حرکت کی ہے

ایسی حرکتیں عموماً لڑکیاں تب کرتی ہیں

جب لڑکی کو دیکھنے کے لیے اس کے رشتے والے آتے ہیں وہ تب پریشانی اور ہڑبڑاہٹ میں چائے کافی میں چینی کے بجائے نمک ڈالتی ہے

اور تو حیا کو دیکھ کر اپنے حواس کھو دیتا ہے

کیسے اس تک تمہارے دل کا حال پہنچاؤ

آخری لائن کمال اعوان دل میں سوچ ہی سکے

وہ اپنے بیٹے کی دلی خواہش جانتے تھے اور اس پر آمادہ بھی تھے مگر مشکل دوسری جانب سے تھی کہیں حیا اس پرپوزل کو غلط رنگ میں نہ ڈال دیتی کمال اعوان صرف اور صرف حیا کی وجہ سے ہی خاموش تھے

کمال اعوان منی کیک لئیے وہاں سے نکل گئے پیچھے جازب کو حیا کی بات کی اب جا کر سمجھ آئی تو وہ سر پیٹ گئے ۔۔۔۔۔

آف جازب کمال تف ہے تم پر

پہلی دفعہ کچھ ان کے لیے بنایا تو اس میں بھی غلطی

حیا جی کو نمک والی کافی پلا دی

_________

انابیہ یونیورسٹی گراؤنڈ میں گھٹنے کو سینے سے لگا کر بیٹھی ہوئی تھی اس کا آخری لیکچر کینسل ہوچکا تھا جس کی اس نے حیا کو میسج کرکے اطلاع دی جس پر حیا نے اسے بالاج کا اسے پک کرنے کا بتایا

بالاج کی آمد کا سن کر انابیہ شش و پنج میں مبتلا ہوگئی

صبح والا واقع اس کا کھلم کھلا بلاج پر حق جتانا بلاج کا سب سن لینا انابیہ نے صفا کو سوچ کر دانت پیسے

آپی چھوڑوں گی نہیں تصور میں صفا سے بدلہ لیتی مسکرائی پھر ایک ایک دم اس رات کے مناظر آنکھوں سے سامنے ناچنے لگے اپنا ناراضگی بھلا کر اس رات بالاج سے شکوہ کرنا یاد آیا کیا وہ اتنی آسانی سے بالاج کو معاف کربیٹھی تھی

وہ تو بے حد ناراض تھی نہ بالاج سے دو سال پہلے وہ کتنا روئی تھی اس نے بالاج کو کتنا روکا تھا وہ اسے چھوڑ کر مت جائے کتنی گہری دوستی تھی نہ اس کی بالاج کے ساتھ اس کے تمام رازوں کا ہم راز اس کی ذات کے ہر پنھے سے واقف اس کا لاج اس کا اکلوتا دوست پھر بھی وہ اپنی انا کو چھوڑ کر چلا گیا وہ کتنے دن بیمار رہی مگر بالاج نے ایک بھی کال نہیں کی تھی

دو سال پہلے وہ رات جب بالاج کی فلائٹ تھی وہ

بالاج انابیہ کو سویا ہوا سمجھ کر اس کے کمرے میں آیا تھا

انا۔۔۔۔ بے نام سی سرگوشی کی

لاج !!! بستر پر لیٹی انابیہ بھاگ کر اس کے گلے لگ گئی

مت جائیں لاج میں نہیں رہ سکتی پلیز ۔۔۔۔

وہ سسکی

انابیہ بچوں جیسی حرکتیں مت کرو بالاج نے سخت لہجے میں ڈبٹا

مگر انابیہ اس کا لہجہ فراموش کئیے رو رہی تھی

لاج پلیز نہیں میں ہر کہنا مانوں گی چھوڑ کر مت جائیں

وہ گرفت سخت کرتی گئی

بالاج نے اسے کندھوں سے تھام کر فاصلہ قائم کیا

دیکھو انابیہ میرا جانا بہت ضروری ہے تم اس وقت اپنی سٹڈی پر فوکس کرو دوسرے خیالات اپنے اس ننھے دماغ سے نکال دو

نہیں نہیں لاج میں پڑھوں گی بہت اچھا پڑھو گی آپ بس مت جاؤ!!۔۔۔۔

انابیہ اب اگر تم نے مجھے روکا تو میں دو سال کی بجائے کبھی واپس نہیں آؤں گا

بالاج کا سرد لہجہ بالکل ویسا ہی جیسا وہ انابیہ کو تنبیہہ کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا

انابیہ جہاں تھی وہی رک گئی ۔۔۔۔

تو تھوڑی دیر اور ٹھہر جا سونیا ۔۔۔۔

تو تھوڑی دیر اور ٹھہر بیبیا ۔۔۔۔۔