212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 40)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

سب راضی ہوئے تھے تو آبدہ شاہ نے منگنی کی بجائے ڈائریکٹ شادی کرنے کی درخواست کردی

حاجرہ بیگم بوکھلا کر ہی رہ گئی اکلوتی بیٹی تھی اور اتنا سب کچھ اتنی جلدی کیسے ہوسکتا تھا

ان کے ہاتھوں کے تو طوطے ہی اڑ گئے تھے

تبھی بے حد اصرار کے بعد مہینے کے آخری ہفتے کی ڈیٹ فیکس کی گئی ۔۔

حیات بولائی بولائی سی پھر رہی تھی

کبھی بھابھیوں کے ساتھ مارکیٹوں کے چکر کبھی بھائیوں کے ساتھ

کبھی پارلر کی اپاؤنٹمٹ کبھی آصفہ اور عائشہ کی گھر آکر رونق لگانا

پہلے پہل جب حیات نے دونوں کو رشتے کے پکے ہونے کا بتایا تھا تو آصفہ اور عائشہ نے تو جم کر اس کا ریکارڈ لگایا ۔۔۔

حیات پورے گھر میں شرمائی سی پھر رہی تھی لیکن جہاں شرم آرہی تھی وہی اپنے پیاروں سے دور ہونے کا خوف اور دکھ بھی تھا وہ کبھی اپنے گھر والوں سے دور نہیں رہی

اور اب اس کا آشیانہ ہی بدل جانا تھا

وہ بار بار اپنی نم ہوتی آنکھوں کو پونچھتی

ابھی بھی وہ لان میں پہلے رنگ کی فراک زیب تن کئیے سرسوں کا پھول بنی حمزہ کو گود میں اٹھائے اس کی شرارتوں سے دل بہلانے میں مصروف تھی

جب اس کے موبائل کی بپ نے اسے متوجہ کیا

“اب آپ کے مکمل جملہ حقوق اپنے نام کروا کر ہی آپ ملاقات ہوگی مسسز شاہ ٹو بی”

آج یوں اتنے دنوں بعد حدید کا میسج آیا تھا

چھوٹا سا مسیج تھا مگر اس کے گال یوں سرخ ہوئے جیسے اس کے سامنے خود حدید شاہ موجود ہو

وہ شرما گئی ۔۔۔۔

_______

جاوید فیصل شاہ حدیقہ کے اقرار پر مانوں ہر ٹینشن سے آزاد ہوگئے تھے ہفتے کے اندر اندر شادی کی تیاریاں مکمل ہوئی تھی

حدیقہ اپنے بھائی اور ماما کو بلانا چاہتی تھی مگر بابا کے چہرے کی خوشی دیکھ کر وہ لب کچل کر رہ گئی ۔۔۔۔

آج وہ دن آہی گیا تھا جب حدیقہ ابراہیم شاہ ابراہیم کے کمرے میں اس کی بیوی کے روپ میں موجود تھی

سرخ رنگ کے لہنگے میں وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی اوپر سے اس کا دو آتشہ حسن آج روپ تو اوپر ایسا چڑھا تھا کہ ابراہیم نظر بھر کر اسے باہر دیکھ ہی نہ پایا تھا

بیڈ کے وسط میں اپنے گھٹنوں پر تھوڑی ٹکائے وہ کچھ حزن میں تھی چہرے پر اُداسیاں پھیلی ہوئی تھی

ابراہیم اچھے سے اس کی خاموشی محسوس کر رہا تھا فنکشن میں بھی وہ چپ چپ تھی

“حدی”

کمرے میں ابراہیم کی گھمبیر سی سرگوشی نما آواز پھیلی

حدیقہ کا دل شدت سے دھڑکا

“دلہن کے چہرے پر یہ اداسیاں سوٹ نہیں کرتی “

وہ جھک کر اس کے ماتھے پر موجود ٹکے کو صحیح کرتا ملائمت سے بولا

حدیقہ نے مسکرانے کی سعی کی تھی ۔۔۔۔ مگر وہ مسکرا نہ سکی یکلخت آنکھوں میں پانی بھر گیا وہ ہچکیوں سے رونے لگی

“ابراہیم گھبرا گیا

یار مجھے نہیں علم تھا اتنی بہادر اور بے باک سی دکھنے والی ” میری حدیقہ ” اتنی روتو ہے “

اس کے پھیلتے کاجل کو انگلیوں سے سمیٹتے ہوئے اسے رونے سے باز رکھنے کے لیے بولا

“اچھا ادھر دیکھو میں نے پتا کروایا تھا اور کوشش بھی کی تھی انھیں ماموں کی نظر میں آئے بغیر بلوا لوں یاں تمہاری بات ہی کروا دو مگر آج شادی ہے “اس”کی،۔۔۔۔ “

ابراہیم نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے بتایا

حدیقہ روتے روتے ایک دم چپ ہوئی چہرے پر ایک دم سے حیرانی چھا گئی

“بھائی کی شادی ۔۔!!”

وہ جتنا حیران ہوتی کم تھا

“ہمم۔۔۔۔” ابراہیم کندھے اچکا گیا

“مگر بھائی کی تو ۔۔۔۔۔”

حدیقہ غائب دماغی سے بولی

“یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے میں نے بس تمہارے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی جو خبر ملی تمہیں بتا دی “

وہ اب اس کے کان بھاری جھمکوں سے آزاد کرتے بولا

بھائی اور ماں کی اپنے اتنے اہم دن میں غیر موجودگی کو صبح سے جتنا محسوس کر چکی تھی

ابراہیم کی دی ہوئی خبر نے اس کے لبوں پر فقل لگا دیا تھا

ماں بھائی کے لیے دل میں بدگمانی سی آئی وہ اپنا اتنا خاص دن رو کر اور اداس ہوکر کافی حد تک برباد کر چکی تھی اور اُدھر ان دونوں کو فکر ہی نہ تھی اس کی

“بابا صحیح کہتے ہیں وہ لوگ مطلبی ہیں “

وہ انہی سوچوں میں غرق تھی جب ابراہیم نے اس کی کلائیوں میں دو نفیس سے کڑے سجائے

“مما کے ہیں انھوں نے خاص تمہارے لیے ہی بنوائے تھے “

ابراہیم اس کی سفید کلائیوں میں موجود چمکتے کڑوں کو محبت سے چھیرتا اپنی ماں کو یاد کئیے بولا

“اچھا پھوپھو کو معلوم تھا کہ میں ان کی بہو بنو گی؟؛۔۔۔”

حدیقہ نے اپنے تاثرات نارمل کرتے اشتیاق سے پوچھا

“ہمم۔۔۔۔۔ یہ تو نہیں مگر انھیں یہ معلوم تھا ان کی جھلی بھانجی ان کے بیٹے کی دیوانی ہے “

وہ آنکھ ونک کئیے گھمبیر لہجے میں بولا

تو یک دم ہی حدیقہ کو اپنے گرد خوابناک ماحول کا احساس ہوا ابراہیم کے جملے پر وہ سرخ انار ہوئی

“ایسی بات نہیں ہے “

وہ منمنائی

مگر پھر ابراہیم کے خود کو مسلسل دیکھنے پر جھنجھلائی

کیا ہے ایسے کیا دیکھ رہے ہیں

“یہ ہی کہ کوئی اتنا خوبصورت کیسے ہوسکتا ہے وہ اس کی گود میں سر ٹکاتے بولا

“تھینک یو ابراہیم “

وہ نرمی سے بولی لہجے میں مان تھا محبت تھی احترام تھا ۔۔۔

“مائی پلیئیر ۔۔۔۔!!”

“مائی لیڈی ۔۔۔۔!!”

وہ سینے میں ہاتھ رکھے آنکھیں موندے بولا ۔۔۔۔

_______

“حیات حفیظ ولد حفیظ احمد آپ کا نکاح حدید شاہ ولد فیصل جاوید شاہ کے ساتھ باعوض پانچ لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟”

تیسری دفعہ “قبول ہے ” کہتے ہیں حیات نے اپنی زندگی کسے اور کے نام لگا دی تھی وہ جس کی محبت کی کونپل اس کے دل کی زمین پر پھوٹی تھی ۔۔۔۔

کانپتے ہاتھوں سے دستخط کرتے وہ تن من سے حدید شاہ کی ہوگئی تھی ۔۔۔

تمام رسموں کے بعد جب رخصتی کا وقت آیا تو وہ علی بھیا

اور عدنان بھائی کے گلے لگ کر جی بھر کر روئی تھی

جو اسے حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی دکھی تھے آخر کو ان کے گھر کی رونق تھی ان کی “حیاتی ۔۔۔۔”

“اپنی حیاتی آپ کے حوالے کر رہے ہیں بیٹا اس کا بہت خیال

رکھنا “

حفیظ صاحب سیاہ شیروانی میں اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود حدید کے کاندھے پر ہاتھ رکھے ممانیت سے بولے

“وہ اب میری عزت ہے انکل “

حدید نے انھیں حوصلہ دے کر حیات کو ہاتھ سے تھام کر گاڑی میں بٹھایا جس کے کانپتے ہاتھ سرد ہوئے پڑے تھے ۔۔۔

“ریلیکس !!”

گاڑی میں بیٹھتے ہی حدید نے اس کی جانب جھک کر سرگوشی کی

“ہمم۔۔۔۔”وہ آنسو پونچھتی اثبات میں سر ہلا گئی ۔۔۔

حدید نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اس کے شانے سے گزارا تو وہ خود میں سمٹ کر رہ گئی

_______

شاہ ہاؤس کو جہاں باہر سے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اندرونی سجاوٹ میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی گئی

شاہ بہو کے شایان شان ویلکم کیا گیا تھا

حیات پر پھولوں کی برسات ہوئی تھی

وہ اچانک سے ہونے والی فائرنگ پر سہم کر حدید کے ساتھ چپکی

“یہ فائرنگ مسسز حدید شاہ کے آنے کے اعزاز میں کی جارہی ہے “

حدید نے اسے تھام کر اس کی جانب سر کرکے کہا تو وہ جلدی سے فاصلہ بنا گئی ۔۔۔۔

“خوش آمدید حیات شاہ “

حیات کے سر سے کہیں نوٹ وار کر انھوں نے ملازموں کو دئیے

پھر ملازم کو بلا کر کالے بکروں پر حیات اور حدید کا ہاتھ

پھروایا

“آپ تھک گئی ہوں گی حیات آپ جا کر آرام کریں شگفتہ آپ کو چھوڑ دے گی “

آبدہ شاہ نے ملازمہ کو اشارہ کیا

آ”پ تو بہت خوبصورت ہیں بی بی جی بالکل پریوں کی طرح”

ملازمہ بید پر حیات کا لہنگا پھلا کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی

حیات اپنی تعریف پر جھینپ سی گئی

آپ کو کچھ چاہیے ہو تو آپ انٹرکام پر بتا دیجئیے گا

وہ ایک نظر حیات پر ڈال کر دروازہ بند کرتی وہاں سے نکل گئی ۔۔۔۔

پیچھے حیات دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے ہاتھ مسلتی رہ گئی ۔۔۔۔

_______

“حدید نشاء سے ملے ہیں آپ ؟؟”

آبدہ شاہ نے فکرمندی سے کہا

حدید کو سیڑھیوں کی طرف جاتے دیکھ کر آبدہ شاہ نے اسے پکارا

“نہیں مما اور ابھی اس کے پاس جانا بھی نہیں چاہتا “

“اگر چلا گیا تو سب مشکل ہو جائے گا “

وہ لب بھینچے ریلنگ پر گرفت سخت کرتا بولا

“ہممم ۔۔۔ میں سمجھ سکتی ہوں حدید صرف دوستی کا رشتہ نہیں ہے تم دونوں میں بہت مشکل وقت دیکھا ہے اس نے حدید

نشاء کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہو

“موم آپ کو لگتا ہے میں نشاء کے معاملے میں اتنا غیر زمہ دار ہوں گا “

وہ ٹھہر ٹھہر کر بولا

“بہتر ۔۔۔۔۔”

“جائیں حیات آپ کی راہ تک رہی ہوگی “

_________

“خالہ “

اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی آبدہ شاہ سامنے اپنے بیڈ پر بکھری حالت میں موجود نشاء کو دیکھ کر بوکھلا گئی

“میں نے فرض ادا کردیا نہ خالہ “

وہ تڑپ کر بولی

لہجہ کانچ کی ٹوٹی کرچیوں سا تھا

“نشاء “

خالہ اس نے ایک سبز رنگ کی فائل آبدہ شاہ کی جانب بڑھائی

“میں اتنی بدقسمت کیوں تھی خالہ کیوں ؟؟!!۔۔۔”

وہ چلائی

“میری جان میری بچی”

“کچھ نہیں ہوا تم بہت بہادر ہو “

آبدہ شاہ نے اسے خود میں بھینچ لیا

________

حدید نے کمرے میں قدم رکھا تو ویڈ نے وسط میں نیند میں جھولتی حیات کو دیکھ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی

وہ چھوٹے قدم لیتا اس کی جانب بڑھا

دھیرے سے اسے زیورات کے بوجھ سے آزاد کیا

حیات کی آنکھ کھلی

سبز آنکھیں میں نیند کی سرخی اور خمار لیے اس نے حدید کی جانب دیکھا

تو حدید کے ماتھے پر نمی چمکی

وہ مبہوت سا اس کے خوبصورت چہرے کو تکنے لگا جو بلاشبہ خوبصورت تو تھی ہی آج دلہن بنے کسی کو بھی چاروں شانے چت کر سکتی تھی

اور شاید کر بھی چکی تھی

“اس طرح دیکھو گی مسز تو معاملا بہت جان لیوا ہو جائے گا ۔۔۔”

حدید نے اس کی نتھلی اتارتے ہوئے سرگوشی کی تو حیات انگوٹھے کے ناخن تک سرخ پڑ گئی ۔۔۔۔۔

“سوری فار لیٹ “

وہ سر ہلا گئی ‘جیسے کوئی بات نہیں ‘

کہا ہو

“مسسز بولو نہ تمہاری آواز سننے کے لیے میں نے کتنے ہی دنوں کا شمار کیا ہے “

حدید اس کا ہاتھ تھامے ہاتھ کی پشت پر انگوٹھا پھیرتے بولا

“ک۔ک۔کیا بولو ؟؟”

وہ کچھ کنفیوز سی منمنائی

“میرا نام لو “

عجیب سی خواہش کی تھی حدید نے

“نام۔۔۔!!”

وہ کچھ حیرانگی سے بولی

“ہاں نام حیران کیوں ہورہی ہو ؟!!”

“نہیں ۔۔۔۔مطلب ۔۔۔۔۔اچھا “

حیات کو سمجھ نا آیا وہ کیا بولے

“بولو حدید !!”

حدید نے زور دیا

“ش۔شاہ ” وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی تھی اس سے زیادہ ہمت نہ تھی

حدید کا قہقہ گونجا یقین نہیں ہوتا تم ایل ۔ایل ۔ بی کر رہی تھی

اتنی ڈرپوک لائیر

حیات نے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر خفگی سے اسے دیکھا

“اچھا اچھا سوری “

وہ پھر سے ہنس دیا

“بہت پیاری لگ رہی ہو مسسز ش۔۔شاہ “

اس کی نقل کرتا اسے بھی ہنسنے پر مجبور کرگیا

حیات کافی ریلیکس ہوگئی تھی

حدید اس کا ہاتھ تھامے اس سے باتیں کرنے لگا

کچھ دیر بعد حیات بھی اپنے جون میں آگئی

اور پھر حیات بولتی گئی اور وہ حیات کے چہرے پر نظر جمائے اس کی باتیں سنتا رہا

“کیا ہوا؟!!” وہ بولتے بولتے تھمی

“میں دیکھ رہا ہوں کسی کی چاہ کرنا اور پھر اسے پا لینا کتنا۔ مسرور کن ہے “

حیات نے مسکرا کر نظریں جھکائی

“اچھا میں تمہیں کیسا لگا ؟”

“اچھے” وہ دھیمے سے بولی

“بس اچھا ۔۔۔ناٹ فئیر میں کب اے تمہاری تعریفوں کے پل باندھ رہا ہوں “

اور میں بس اچھا

“نہیں بہت اچھے “وہ حدید نے ناراض ہو جانے کے ڈر سے ایک دم سے بولی

تو وہ خود کو مسکرانے سے روک نہ پایا

تمہارے لیے کچھ لیا تھا وہ اپنی شیروانی کی جیب سے ایک مخملی کیس نکالتے ہوئے بولا

اس میں سے ڈائمنڈ کا چھوٹا مگر بہت خوبصورت سا سیٹ تھا جس میں ائیر رنگ پینڈنٹ اور رنگ تھی

جو آنکھوں کو خیرہ کردینے تک کی حدد تک خوبصورت تھا

“کیسا لگا ؟؟”

“بہت خوبصورت “حیات نے حدید کی ہیزل آنکھوں میں دیکھ کر کہا

“مے آئی !!”

وہ سر ہلا گئی

دھیرے سے ۔۔۔۔