Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 13)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 13)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
بالاج دوڑتا ہوا اوپری منزل میں اپنے کمرے کے پاس پہنچا تھا
انابیہ بیڈ کی ٹیک کے ساتھ اپنی لگائے بیٹھی ہوئی تھی پاؤں آگے کو پھیلے ہوئے تھے اور سر ایک جانب کو ڈھلکا ہوا تھا ۔۔
” بالاج ایک لمحے کی تاخیر کئیے بغیر اس کی طرف بھاگا
اس کا بے ہوش وجود سیدھا کرکے اسے خود میں بھینچ گیا ۔۔”
سبز آنکھوں میں جہاں ہر وقت سرد تاثر رہتا تھا وہاں اس وقت ایک ہی تاثر تھا
“خوف کا “
“کچھ کھو دینے کا خوف !!!”
دل کی دھڑکنیں معمول سے ہٹ کر چل رہی تھیں ۔۔۔۔۔
حیا بھی ہڑبڑائی سی وہاں آگئی تھی
“صفا بچے آپ جاؤ میری جان چینج کر لو میں ڈاکٹر کو کال کرتی ہوں ۔۔۔۔”
حیا نے بالاج کی پریشان حالت محسوس کرکے صفا کو بھیجا ۔۔
آہ۔۔۔”جی مما ۔۔”صفا بھی بغیر کسی سوال کے وہاں سے چلی گئی
اسے فکر تھی انابیہ کی مگر اس سے کہیں زیادہ اندر موجود اسے “خود سے لگائے ” اس شخص کو انابیہ کی فکر تھی ۔۔۔
“بالاج بیٹا اِسے جگانے کی کوشش کرو میں نے ڈاکٹر کو کال کی ہے .میں تب تک بیا کے لیے پانی لے کر آتی ہوں “
حیا فکر مندی سے بالاج کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے دلاسا دے کر وہاں سے چلی گئی
حیا کی آواز پر بالاج کو ہوش آیا
وہ اپنی بے چینی میں انابیہ کے بخار کے باعث دہکتے وجود کی تپش محسوس ہی نہیں کر پایا
بالاج نے تھوڑا فاصلہ بنا کر دھیرے سے اس کی گال تھپتھپائی
“انا ۔۔۔۔۔ “
“انا اٹھو ۔۔۔۔”
“پلیز ویک اپ یار ۔۔۔۔۔ “
مگر اُس کے وجود میں کسی قسم کی کوئی حرکت نہیں ہوئی
_______
بابا۔۔۔!!!
” اسلام علیکم بابا جان آپ نے بتایا کیوں نہیں آج آپ کی فلائٹ تھی ” حدیقہ صاحبہ ابراہیم شاہ کے ساتھ اندر آتے فیصل شاہ کو دیکھ کر خوشی اور حیرانگی سے بولی تھیں
“ابراہیم آپ نے بھی مجھے نہیں بتایا “
شکوہ کناں نظروں سے آپنے شوہر کو دیکھ کر اپنے بابا کے گلے لگی
“میں نے ہی منع کیا تھا ابراہیم کو بچے” ۔۔۔ حدیقہ شاہ کے گرد ہاتھ باندھ کر نرم لہجے میں بولے تھے
“کیوں بابا آپ بتاتے نہ ہم سب آپ کو لینے آتے آئر پورٹ سے “
“ارے حدیقہ بابا تھکے ہوئے ہیں نہ ان کو بیٹھنے تو دو “اس سے پہلے حدیقہ شاہ کچھ اور کہتی ابراہیم نے انہیں ٹوکا
“او ہاں جی بابا آئیں نہ اندر میں بھی نہ”۔۔۔۔ وہ خفیف سا مسکرائی
“کوئی بات نہیں بچے۔۔۔۔۔۔ میرا شہزادہ کدھر ہے اپنے نانا سے ملنے نہیں آیا ابھی”…. فیصل شاہ نے عون کی کمی کو محسوس کرکے حدیقہ صاحبہ سے استفسار کیا
“بابا وہ ۔۔۔”۔ حدیقہ صاحبہ بولتے ہوئے خاموش ہوئی
“بابا عون حدید کے ساتھ کسی بزنس سرمنی میں گیا ہے ” ابراہیم شاہ نے اپنی بیوی کی مشکل آسان کرتے ہوئے خود ہی بتا دیا وہ
“ہمم ۔۔۔۔” فیصل شاہ جواب نے بس ہمم کرکے رہ گئے
“بیٹا میں کچھ آرام کرنا چاہتا ہوں ” اپنا چھوٹا سا بیگ تھام کر فیصل شاہ کھڑے ہوئے
“جی بابا آپ کا کمرہ میں نے صبح ہی صاف کروا دیا تھا مگر آپ کچھ کھا لیتے ” فیصل شاہ کے ایک دم اٹھنے پر وہ کچھ بے چین ہوئی تھیں
نہیں بچے ابھی آرام کرنا چاہتا ہوں پھر نماز کا بھی وقت ہوجائے گا وہ بھی ادا کرنی ہے
“ہاں حدیقہ ابھی بابا کو آرام کرنا چائیے تھکے ہوئے ہوں گے “
“چلیں بابا اپنا سامان مجھے دے دیں “۔۔۔۔ ابراہیم شاہ نے خود ہی آگے بڑھ کر ان کا سامان ان سے تھام لیا
پیچھے حدیقہ شاہ اپنے گلے میں اٹکنے والے آنسوؤں کے گولے کو بامشکل حلق سے گزار گئی
________
“مامو ۔۔۔!! “عون نے گاڑی کی رفتار تیز کرتے ساتھ بے حال سے بیٹھے حدید شاہ کو پکارا
عون کو اپنے ہاتھ پیروں سے اس وقت جان نکلتی محسوس ہورہی تھی وہ بچپن سے ہی اپنے مامو کے بے حد قریب رہا ہے انہیں اس حال میں دیکھنا اُس کے لیے بے حد مشکل تھا
بے حد
جلدی سے وہ انہیں ہاسپٹل لے کر آیا
ڈیش بورڈ پر پڑا اُس کا فون مسلسل بج رہا تھا مگر عون کو کوئی ہوش نہیں تھی ۔۔۔۔
______
صفا پریشان سی اپنے کمرے میں آئی انابیہ کا حال دیکھ کر اسے رونا آنے لگا تھا آنکھیں خود بہ خود بھیگنے لگی تھی وہ انابیہ سے بے حد محبت کرتی تھی بالکل چھوٹی بہنوں کی طرح بچپن سے اسے ہمیشہ بڑی بہنوں کی طرح سمجھایا پیار کیا اس کی حفاظت کی آج اسے بیمار اور بے ہوش دیکھ کر جیسے خود اس کے پیرؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی
اُس کا جو حال تھا سو تھا اُس کا بھائی جو اظہار کے معاملے میں بے حد کنجوس تھا وہ بھی انابیہ کا حال دیکھ کر ارد گرد کو فراموش کئیے اس کی طرف لپکا تھا
صفا نے اپنے نم ہوتے گالوں پر اپنا بایاں ہاتھ پھیرا جب اس کا دھیان اپنی بند مٹھی میں موجود سفید رومال کی جانب گیا ۔۔۔۔۔۔
جس پر اس کی لپ اسٹک کے مٹے مٹے سے نشان موجود تھے
صفا کا دھیان “عون” کی طرف گیا اور پھر عون سے ہوتا اس کی شرٹ سے جھلکتے “خون” کی طرف گیا صفا نے بے ساختہ جھرجھری لی
اس رومال کو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ وہ چینج کرکے دوبارہ بالاج کے کمرے کی جانب جانے کی گرز سے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔۔
_______
“ڈاکٹر!!!”
“اب کیسی طبعیت ہے انابیہ کی ؟؟!!”
“دیکھیں زیادہ پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے “……
“وہ خوف کی وجہ سے بے ہوش ہوئی تھی اور خوف کی ہی وجہ سے انہیں بخار ہوا ہے باقی اُن کا بلڈ پریشر بھی بے حد لو تھا شاہد انہوں نے کافی ٹائم سے کچھ کھایا ہوا نہیں تھا ۔۔۔ ہم نے انہیں گلوکوز تو لگا دیا ہے مگر آپ ان کا بہت دھیان رکھیں جب وہ ہوش میں آجائیں آپ اُنہیں کھانا کھلائیں اُن کی ڈائٹ کا دھیان رکھیں باقی یہ میڈیسن میں نے لکھ دی ہے باقاعدگی سے لیں گی تو بخار بھی ٹھیک ہو جائے گا “
لیڈی ڈاکٹر نے حیا کو تفصیل سے سمجھاتے ہوئے پرچی پکڑائی
“شکریہ ڈاکٹر صاحبہ!!”
حیا نے ممنون لہجے میں کہا
“کوئی بات نہیں حیا صاحبہ یہ میرا فرض ہے “
صفا بچے آپ ڈاکٹر صاحبہ کو باہر تک چھوڑ کر آؤ
“اوکے مما “
حیا انابیہ کے کھانے کے لیے کچھ نرم سا بنانے کیچن کی طرف چلی گئیں
جبکہ بالاج انابیہ کے بیڈ کے پاس ہی کرسی رکھ کر اس کا ڈرپ والا ہاتھ نرمی سے تھامے بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔
بیت دھیرے سے سہلاتا ہوا ۔۔۔۔۔
_______
عون حدید شاہ کو لے کر سیدھا ایمرجنسی میں آیا تھا
ڈاکٹر کے مطابق اُن کا بلڈ پریشر شوٹ کیا تھا اگر زیادہ دیر ہوجاتی تو انہیں ہارٹ اٹیک بھی آسکتا تھا
عون نے زندگی میں پہلی بار خود کے دل میں کسی کے دور ہونے کا خوف محسوس کیا تھا
وہ سب سے زیادہ اپنے مامو کے ہی قریب تھا ۔۔۔۔۔
“مسٹر شاہ کالم ڈاؤن ہی از فائن ناو”
“Mr.Shah Calm down he is fine Now !”
“کہاں ہیں وہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں” عون خود ہی کہت
اایمرجنسی روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
مامو ۔۔۔!!
عون کے لہجے کی ڈگمگاہٹ پر حدید شاہ نے خود کو کمپوز کیا
” ارے یار کیا ہوگیا ایسے کیوں گھور رہے ہو “
“آپ نے اپنی میڈیسن مس کی !؟؟”
حدید شاہ کی بھوری آنکھیں مسکرائی تھیں
“ایک دن تو بندہ چیٹنگ کر رہی سکتا ہے ” اب وہ پرسکون سے اٹھ کر بیٹھ گئے تھے
“دس اس ناٹ فئیر مامو ” اس نے شکوہ کناں نظروں سے حدید شاہ کو دیکھ کر کہا
“یار اب لڑکیوں کی طرح شکوے کرنا بند کرو اور مجھے یہ بتاؤ وہاں تم کسی لڑکی کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے تھے بھوت اتر گیا محبت کا “
حدید شاہ نے جان کر عون کو بات سے ہٹانا چاہا
“مامو میں آپ کا بھانجا ہوں اور بقول مما کے آپ کی کاپی آپ مجھے بات سے ہٹا نہیں سکتے “
“اوو۔۔۔۔ ایسا ہے کیا “حدید شاہ نے آئی برو اُچکانے ۔۔۔۔
“مامو آپ کو نانو پر ترس نہیں آتا ۔۔۔یہاں پر نانا کی پاس تو ہم ہیں مما بابا میں اور ادھر نانو اکیلی ہیں “
عون نے افسوس کرتے ہوئے کہا
“کوئی اکیلا نہیں ہوتا شیر سب اپنے لیے کافی ہوتے ہیں”۔۔۔۔ اب وہ اٹھ چکے تھے اپنا سوٹ جھاڑ رہے تھے مگر اب آنکھوں میں نرمی نہیں تھی مطلب اس ٹاپک کو ادھر ہی بند کردیا جائے
عون نے بھی بات زیادہ نہیں چھیڑی تھی ۔۔۔۔
________
اُسے نہیں یاد وہ کب سوئی آخری چیز جو اسے یاد تھی وہ تھی اندھیرے میں اُسے ایسے لگ رہا تھا کوئی اس کے پاس موجود ہے اس کے وجود پر جیسے کیڑے رینگنے لگے تھے اسی خوف سے وہ رونے لگی تھی روتے روتے اسے اپنا دماغ تاریکی میں جاتا محسوس ہوا
پھر کافی دیر بعد اپنے گالوں پر ٹھنڈی تھپتھپاہٹ پر اس کا دماغ بیدار ہونے لگا مگر بہت سی کوششوں کے باوجود وہ اپنی آنکھیں کھولنے سے قاصر تھی
پھر اسے اپنا وجود کسی حصار میں محسوس ہوا مگر وہ بے بس سی اپنے اندر کسی بھی قسم کی حرکت کرنے کی طاقت نہیں لا پارہی تھی ایک دفعہ پھر اُس کا دماغ اندھیروں میں گم ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔
دوسری دفعہ پھر جب اس کا دماغ بیدار ہونا شروع ہوا تو وہ اپنے جسم میں طاقت سی محسوس کر رہی تھی جو یقیناً اس ڈرپ کی وجہ سے جس میں موجود محلول قطرہ قطرہ اس کی رگوں میں اتر رہا تھا
انابیہ ہوش میں آگئی تھی مگر آنکھیں ہنوز بند کئیے وہ محسوس کر سکتی تھی اپنے دائیں ہاتھ کی پشت پر انگوٹھے کی سہلاہٹ
اس نے دھیمے سے اپنی آنکھیں کھولیں اس کے دائیں جانب بالاج اس کے ڈرپ لگے ہاتھ کو نرمی سے سہلا رہا تھا
یک دم انابیہ کی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگی آنسو آنکھون سے نکل کر کنپٹیوں میں بہہ گئے
اُس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ بالاج کی نرم گرفت سے چھڑوایا بالاج کے ہاتھ کو جھٹکنے کے باعث اُس کے ہاتھ پر لگی ڈرپ بھی کھچی گئی ڈرپ کی سوئی کے ہلنے سے خون کے سرخ قطرے انابیہ کے سفید ہاتھ سے نمودار ہوتے درد کا باعث اسے کراہنے پر مجبور کر گئے
“انابیہ” بالاج نے بے چینی سے اس کا خون آلود ہاتھ تھاما
مگر اِس بار وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی بجائے اپنا چہرہ موڑ گئی ۔۔۔
بالاج کے ہاتھ کی پشت اپنے ماتھے پر محسوس کرکے اس کا سانس حلق میں اٹک گیا
پھر وہ ہاتھ شاہ رگ پر پڑا انابیہ سانس کے ساتھ ساتھ اپنی آنکھیں بھی بند کر گئی
وہ اس کا بخار چیک کر رہا تھا
یک دم انابیہ کو اپنے کانوں ، گالوں اور آنکھوں سے دھوئیں اٹھتے محسوس ہونے لگے ۔۔۔۔
“بیا میری جان” حیا نے اسے جاگتے دیکھ کر ہاتھ میں تھانے ناشتے کی ٹرے وہاں بیڈ کے سائیڈ پر رکھتی بیا کے پاس آئی
بالاج اب وہ چئیر چھوڑ چکا تھا
“بالاج تم تھوڑی دیر آرام کرلو رات سے جاگ رہے ہو میں ہوں بیا کے پاس ابھی صفا بھی اٹھ جائے گی “
حیا نے بالاج کی سرخ ہوتے آنکھوں میں دیکھ کر کہا
“ساری رات ؟!!” انابیہ نے خود کلامی کرتے ہوئے بالکل سامنے لگی دیوار پر اٹیچ کلاک پر دیکھا جہاں صبح کے آٹھ بج رہے تھے
“نہیں مما میں ٹھیک ہوں ” بالاج انکار کرتا فریش ہونے کی غرض سے واش روم کی جانب بڑھ گیا
انابیہ نے بھی کن اکھیوں سے سنجیدہ سے بالاج کو دیکھا تھا جو کل والی فارمل ڈریس پینٹ اور شرٹ میں ملبوس تھا ۔۔۔ اسے واشروم میں جاتے دیکھ اسے یاد آیا وہ اِس وقت بالاج کے کمرے میں موجود تھی وہ رات کو ادھر ہی تو موجود تھی جب لائٹ چلی گئی تھی ۔۔۔۔
حیا اسے اٹھنے میں مدد کر رہی تھی
“مجھے بھوک نہیں ہے ممی ” انابیہ نے سپاٹ لہجے میں کہا
“آئی ایم سوری میری جان میں زرا اچھی ماں نہیں ہوں بالکل بھی اچھی ماں نہیں ہوں “۔۔۔۔حیا کی آنکھیں بھیگ گئی
انابیہ نے تڑپ کر حیا کی گیلی آنکھوں کو دیکھا تھا
“مما میں بہت ڈر گئی تھی “وہ حیا کے گلے لگ کر رونے لگی حیا نے بھی اس کے گرد اپنے ہاتھوں کو باندھا ۔۔۔
واشروم کے دروازے کے کھلنے پر حیا کے کندھے سے لگی انابیہ نے آنکھیں واہ کی
بالاج نہا کر سادہ سے ٹراؤزر شرٹ میں تولیے سے اپنے بال رگڑتا ہوا باہر آیا تھا
اس نے اسی وقت انابیہ کی جانب دیکھا تھا
سرخ مترنم آنکھیں بالاج کو ارد گرد کی ہر چیز ہوا میں تحلیل ہوتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔
_______
بالاج اپنے بال ٹھیک کرکے ایک نظر ان دونوں کے جزباتی سین کو دیکھ کر کمرے سے باہر نکل گیا
اس کے تیز قدم اس وقت کواٹر سائیڈ پر تھے پہلے اسے مسکان سے ملنا تھا پھر گارڈز کی غیر موجودگی جو کل رات سے اس کے دماغ میں چل رہی تھی
“کہاں گئی تھی تم کل انابیہ کو چھوڑ کر ؟؟”
بالاج کے لہجے کی سردی سے مسکان اپنے وجود کی کپکپاہٹ روک نہیں پائی
“صاحب۔۔۔۔م۔۔ میرا بچہ بیمار تھا صاحب میں بی بی جی کے کہنے پر ہی گئی تھی صاحب “
“کل سے واپس آنے کی ضرورت نہیں ہے “بالاج نے سختی سے اسے روتے دیکھ کر کہا
“نہیں صاحب میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں صاحب ایسا مت کریں صاحب میرا بچہ بیمار تھا نہیں تو میں کہیں نہیں جاتی صاحب “
مسکان نے روتے ہوئے کہا
آئیندہ ایسی غیر زمہ دار حرکت قابلِ برداشت نہیں ہوگی
“شکریہ صاحب” بیت بہت شکریہ اللّٰہ انابیہ بی بی کو لمبی زندگی دے ۔۔۔۔۔
_______
اس وقت بالاج ڈرائیونگ روم میں اپنا لیپ ٹاپ تھامے کل کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ دیکھ رہا تھا کل ان کے جانے کے بعد پیچھے کیا کیا ہوا تھا
ان کے جانے بعد لان کی ریکارڈنگ میں انابیہ وہ ٹہلتی ہوئی نظر آئی پھر مالزمہ وہاں آئی ملازمہ نے انابیہ سے کچھ کہا تھا
انابیہ کے چہرے پر جھلکتی پریشانی واضح تھی
انابیہ گھر کے اندر گئی اور جب واپس آئی اس کے ہاتھ میں کچھ تھا جو اس نے ملازمہ کو تھمایا تھا
پھر ملازمہ واپس چلی گئی اور تھوڑی دیر میں انابیہ گھر کے اندر چلی گئی بالاج نے گھر کے اندر کے مناظر کی ریکارڈنگ اون کی
انابیہ اپنے کمرے کی جانب جاتے جاتے وہاں سے مڑ گئی اس کا رخ بالاج کے کمرے کی جانب تھے
انابیہ کا اپنے کمرے کے باہر رکنا کچھ سوچنا پھر دروازہ کھول لینا
بالاج نے سارے مناظر بہت باریک بینی سے دیکھے
ایک کمیرہ اس کے کمرے میں بھی موجود تھا اور اس کی سٹڈی میں بھی جس کا علم صرف بالاج کو تھا یہ کیمرے اس نے اپنی سیفٹی کے لیے لگائے تھے ۔۔۔
اُس نے کی ہیڈ پر ایک بٹن پریس کیا اس کے کمرے کے مناظر اون ہوگئے بالاج نے دیکھا وہ بس اس کے کمرے میں چیزوں کو دیکھ رہی تھی
انابیہ کا انداز دیکھ کر بالاج کی ایک بیٹ مس ہوئی ۔۔۔
وہ واپس مڑنے والی تھی جب کمرے کی لائٹ ہوگئی بالاج کے ماتھے پر بے ساختہ بل پڑے انابیہ کو اندھیرے سے خوف آتا تھا
ابھی تک جنریٹر کیوں نہیں چلا تھا
ڈارک لائٹ کیمرے ہونے کی وجہ سے وہ ابھی بھی انابیہ کی حرکات دیکھ سکتا تھا جو اپنے پاؤں سمیٹ کر بیڈ پر بیٹھ گئی تھی اس نے موبائل کی فلیش اون کی تھی
شاہد وہ بھی لائٹ آنے کا انتظار کر رہی تھی بالاج نے یہاں سے سین ہوزے کرکے لان اور گیراج کا منظر آؤن کیا
وہاں کوئی گارڈ موجود نہیں تھا دروازے کے پاس بیٹھا گارڈ آنکھیں موندیں سیگریٹ کے کش لگا رہا تھا
بالاج کی رگیں تنی تھی اس نے دوبارہ کمرے کا منظر آؤن کیا جہاں انابیہ کے فون کی فلیش بھی بند ہوگئی تھی اب وہ خوفزدہ سی روتے ہوئے فون کر رہی تھی کسی کو مگر دوسری جانب وہ لوگ مصروف تھے بالاج کا فون بھی سائلنٹ تھا تبھی وہ بھی محسوس نہیں کر سکا تھا
بالاج کو خود پر غصہ آیا تھا
کچھ منٹ بعد انابیہ کا فون بھی بند ہوگیا اب وہ رو رہی تھی آوازیں دے رہی تھی
“حیا کو ۔۔۔۔۔”
“صفا کو ۔۔۔۔۔”
“بالاج کو ۔۔۔۔”
_______
“چندہ آئی ایم سو سوری !!!”
“آئی پرومس کبھی اپنا فون بند نہیں کروں گی کبھی تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤ گی اگر کہیں تمہین نہ بھی لے جانا ہوا تو میں بھی نہیں جاؤ گی آئی پرومس “
صفا انابیہ کو سوپ پلاتے ہوئے اس سے وعدے کر رہی تھی
جس نے معاف تو کردیا تھا انہیں مگر ابھی نخرے اٹھوانے کے موڈ میں تھی
” سوری “اب صفا کی آواز بھیگ گئی تو انابیہ کو محسوس ہوا جیسے اب زیادہ ہوگیا ہے ۔۔۔۔
کوئی بات نہیں آپی میں ناراض نہیں ہوں انابیہ نے صفا کو رونے سے روکا ۔۔۔
______
شام کو بالاج اپنے کمرے میں واپس آیا تھا جو آج آباد سا لگا تھا اسے کیونکہ اس کمرے میں وہاں کی مالکن موجود تھی ۔۔۔۔
وہ اندر آیا تو انابیہ کمرے کے درمیان میں کھڑی تھی اگلے قدم پر وہ لڑکھڑائی تھی بالاج نے فوراً اسے سنبھالا
“انابیہ نے انتظار کیا تھا بہت انتظار کیا تھا بالاج کے آنے کا وہ بھی شاید اس سے معافی مانگتا یاں کم از کم فون نہ اُٹھانے کی کوئی دلیل دیتا کیا اسے واقع فرق نہیں پڑتا انابیہ کے رونے سے ۔۔۔”
“اگر واقعی نہیں پڑتا تو وہ پوری رات کیوں سب کچھ بھلائے اس کے پاس بیٹھا رہا کیوں اس کی پٹیاں کرتا رہا ۔۔۔”
اسے پھر سے رونا آنے لگا
“میں نہیں رکوں گی اب اس کمرے میں ۔۔۔۔
جب میرا کوئی حق نہیں یہاں رہنے والے پر تو میں کیوں رکوں “
وہ اُٹھ گئی تھی اپنی تمام تر ہمت اکٹھی کرکے
وہ چلتے ہوئے کمرے کے درمیان میں آئی جب سر میں درد سا اٹھا اس سے پہلے وہ گرتی مضبوط ہاتھوں کی گرفت نے اسے سنبھالا
اپنے سامنے قریب تر بالاج کو دیکھ کر اس کا دل ایک دفعہ پھر بیٹھنے لگا
آنکھیں بھیگنے لگی دل اس کی طرف ہمکنے لگا
وہ بندھ جو اس نے دو سال اور دو مہینوں میں اپنے دل پر باندھے تھے وہ ایک ایک کر کے ٹوٹنے لگے تھے
اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر وہ آگے بڑھی تھی اس وقت اسے کوئی تفصیل نہ دینی تھی نہ سننی تھی
تمام شکووں بدگمانیوں کے باوجود آج بھی انابیہ بالاج خان کے تمام غم، آنسووں اور زخموں کی مسیحائی کے لیے بالاج خان کی موجودگی درکار ہے وہ بے دریغ اس کے گلے لگ کر روتی چلی گئی
…بالاج نے بھی بنا کوئی سوال کے اسے رونے دیا بس دھیرے سے اس کے بال سہلاتا رہا
