212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 53)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“انا!” دروازے پر انابیہ کو ہاتھ میں مگ تھامے کھڑا دیکھ کر بالاج نے حیرانگی کا اظہار کیا

پھر اسے ہاتھ سے تھام کر اندر لے آیا

“اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو”

وہ اس کے چہرے کو آنکھوں کے حصار میں لیئے دل میں اترتے سکون کو محسوس کرتے ہوئے بولا

ٹینشن ، جھنجھلاہٹ تو اسے دیکھتے ہی رفع دفع ہوگئی تھی

انابیہ نے کافی کا مگ اس کے سامنے بڑھایا اور خود سامنے بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی

“میں جانتی تھی آپ جاگ رہے ہوں گے ” وہ ارد گرد دیکھتی اس سے نظریں چرا رہی تھی

انابیہ کے اتنے وسوق سے کہنے پر وہ مسکراتا ہوا اس کے ساتھ ہی جا کر بیٹھ گیا

“ایک رات اور دو دن میں ہی مجھے کتنے اچھے سے جاننے لگی ہو”

ایک گھونٹ بھر کر مگ انابیہ کی جانب بڑھا دیا

“یہ ساتھ ایک رات اور دو دن کا تھوڑی ہے بالاج یہ تو سالوں پہلے کا ۔۔۔۔”

“بہت سال پہلے میری ماما اس دنیا سے جانے سے پہلے اپنی بیٹی کو اس کے اصل حق دار کو سونپ کر گئیں تھیں “

انابیہ نے بھی گھونٹ بھر کر مگ دوبارہ بالاج کو تھمایا

“ہاں اریبہ ماما کے اس فیصلے پر میں ہمیشہ شکر گزار رہوں گا “

یوں ہی وہ دونوں ایک ،ایک گھونٹ میں کافی پی رہے تھے

“اور میں ان کے فیصلے پر ہمیشہ مطمئن رہوں گی”

“اب اس طرح کی باتیں کرو گی تو دوسری ہی رات تمہارے بغیر گزرنا مشکل ہو جائے گی انابیہ بالاج “

انابیہ کا چہرہ گلاب ہوا

“انتظار ملن کی لذت کو بڑھا دیتا ہے “

“مائی ڈئیر لاج!” انابیہ نے چہرہ موڑ کر شرارتی لہجے میں کہا

“اب میں چلتی ہوں “

بالاج نے گہری سانس بھری ہاں انابیہ نے جانا ہے تھا اور اس نے انتظار کرنا تھا ماں کے سارے گھر والوں کو ان دونوں کا رشتہ بتانے تک

“انتظار “

انابیہ دروازے کے قریب پہنچی جب بالاج نے اسے بازو سے پکڑ کر گلے سے لگا لیا

“کرلوں گا انتظار ۔۔۔۔تم کر لو گی؟”

بالاج کی سرگوشی پر اس کا دل دھڑک دھڑک کر رہ گیا

“بہت کیا ہے ۔۔۔” وہ صاف انکاری ہوگئی

“بہت ستایا ہے آپ نے ۔۔۔ بہت انتظار کروایا ہے اب کہ پھر انتظار اور ہجر سونپا تو انابیہ پتھر ہو جائے گی “

وہ بغیر بولے آنکھوں میں دیکھ رہی تھی

سبز آنکھیں سیاہ آنکھوں میں لکھی تحریر کو پڑھ رہی تھیں

“انابیہ ۔۔۔۔ “یہ آواز پریہان کی تھی

بالاج نے اس کا زیادہ امتحان نہ لیتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔

_______

پریہان نے حیرت سے انابیہ کو حمزہ کے کمرے سے نکلتے ہوئے دیکھا

وہ لاعلم تھی کہ حمزہ کے کمرے میں بس بالاج ہی رہ رہا ہے

تبھی شش و پنج میں مبتلا وہ واپس پانی کا جگ تھامے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی مگر آنکھوں میں انابیہ کا سرخ چہرہ کُھلا تھا

________

“آپ نے حیات سے آپ لوگوں کے مشترکہ اور اس کے ذاتی پلاٹ والے کاغذات میں دستخط کروا لیے کیا عدنان ؟”

انھوں نے لہجہ سادہ رکھنے کی کوشش کی مگر آنکھیں شوہر کے جواب پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔

“عدنان “

وشمہ صاحبہ نے عدنان کے پاس بیٹھتے چائے کا گھونٹ بھرتے کہا

“مشترکہ پلاٹ ہم امی کے علاج کی وجہ سے بیچ رہے تھے جس کا حل حیات نے نکال لیا جس ہسپتال میں امی کا علاج ہوا وہ حیات کا ہی ہے تو اس وجہ سے علاج اور دوائیاں بالکل مفت آئی ہیں “

انھوں نے فخر سے کہا جو شکوہ تھا بہن سے وہ کافی حد تک کم ہوگیا تھا

“باقی دوسرے حیات کے ذاتی پلاٹ پر ہم نے کیوں دستخط کروانے ہیں ؟””

عدنان صاحب نے اپنا چائے کا کپ منہ سے لگاتے پوچھا

“اتنے برے حالات چل رہے ہیں گھر کہ ایسے میں وہ دو پلاٹ ہی ہمارا آخری سہارا ہیں اب حیات کو ان پلاٹس کی کیا ضرورت خیر سے اتنا پیسا ہے اس کے پاس وہ اتنا نہیں کرے گی اپنے بھائیوں کے لیے “

“نہیں وشمہ ہمیں نہیں چاہیے وہ پلاٹ ابا نے وہ حیات کے نام کروایا تھا اسی کے نام رہے گا ہمیں کیا ضرورت ہم نے اس کی غیر موجودگی میں اسے بیچنے کا نہیں سوچا جب تک کہ اماں کی حالت نہ خراب ہوگئی اب تو وہ آگئی ہے اس کے دو بچے ہیں وہ جسے چاہے مرضی دے “عدنان صاحب نے قطع لہجے میں کہا

“جی مرضی آپ کی ۔۔۔۔میں خود حیات سے کہوں گی” پہلی بات کہہ کر اگلی وہ دل میں سوچ کر رہ گئیں

خیر اٹھیں گھر میں مہمان آئے ہیں ان کو تو روکھی سوکھی نہیں کِھلا سکتے اب ہم جیسی کھا رہے ہیں مہمانوں کے سامنے رکھتے اچھے لگے گیں کچھ لے کر آئیں بازار سے

وشمہ اتنی نا شکری تو نہ تھی تم عدنان صاحب نے سر جھٹکا

اتنے برے حالات بھی تو نہیں آئے تھے کبھی ہم پر ۔۔۔۔

انہوں نے برا مناتے کہا

________

“کہاں تھے جازب اب آرہے ہو ؟”گھڑی کی سوئیاں بارہ کا ہندسہ بھی عبور کر چکی تھیں

کمال اعوان صاحب لاونج میں بیٹھے جازب کا انتظار کر رہے تھے

“آپ جاگ رہے ہیں ڈیڈ” جازب صاحب نے اپنا کورٹ اتارتے باپ کے بوڑھے چہرے پر نظر ڈالی

ان کی آنکھیں نیند کے باعث سرخ تھیں

ہاں غالباً جاگ ہی رہا ہوں

انہوں نے اسے گھور کر دیکھا

سو جاتے نہ ڈیڈ وہ چہرے کو دائیں بائیں موڑ کر اپنی تھکن زائل کرتے بولے

“جب جوان اولاد اتنی اتنی رات کو گھر سے باہر ہوگئے تو باپ کیسے سو سکتا ہے ؟”

جوان نہیں بوڑھی اولاد ڈیڈ اور میں کوئی بچہ نہیں ہوں آپ سو جاتے

“بیٹا کنوارا ہو تو بوڑھا بھی جوان لگتا ہے “

کمال اعوان نے آنکھیں گھمائیں تو جازب مسکراہٹ دبا کر رہ گئے

“اور تمہیں اتنی باپ کی نیند کی فکر ہوتی تو شادی کرکے تمہارے لیے رات کو جاگنے والی لے آتے تاکہ بچارا بوڑھا باپ اپنی نیند نا قربان کرتا پھرتا “

ایک اور طنزیہ جملہ

“کم اون ڈیڈ میں کنوارا نہیں ہوں “

“چِھڑے چھانٹ تو ہو نہ اب”

جازب نے لب کا کونہ دبایا وہ بحث کس سے کر رہا تھا

“دی گریٹ بیرسٹر کمال اعوان سے “

“اس سے بڑھ کر اپنے باپ سے “

جن سے باتوں میں جیتنے والا ابھی کوئی پیدا نہیں ہوا تھا

“اففف ڈیڈ !”

وہ ہنس دیا

“آپ بہت کیوٹ ہیں” اس نے باپ کے گالوں کو کھینچا تھا

“میرے ساتھ نہ کیا کرو یہ واہیاٹ حرکتیں

بیوی لاؤ اور اس کے جو مرضی کرو “

“ڈیڈ جتنا آپ شادی شادی کرتے ہیں آپ کی ہی نہ کروا دوں میں شادی آپ کی بیوی آجائے گی آپ کا دل بھی لگا رہے گا اور گھر کو سنبھالنے والی بھی آجائے گی “

“اچھا اب مجھ بوڑھے کی شادی کرواؤ گے ارے میرے پاؤں قبر میں لٹک رہے ہیں اور لگتا ہے یہی سے قبر میں لینڈ کر جاؤں گا مگر تم اپنے بستے گھر کا دیدار نہیں کرواؤ گے “

کمال صاحب جزباتی ہوئے کبھی کبھی ان کا دل کرتا تھا اپنے بیٹے کے سفید بالوں کو کھینچ کر رکھ دیں جو انہیں اس عمر میں بھی ستاتا تھا

“اچھا اعوان صاحب جزباتی کیوں ہورہے ہیں “

“منانے کے بہترین ہنر سے فیض یاب ہیں باتیں ایسی کرتے ہیں اگلا کچھ بولنا بھول جاتا ہے تو یہ ٹریک اپنی ہونے والی بہو پر اپنا کر اسے منا ہی لیں اپنے بیٹے کے لیے “

یہ پہلی دفعہ تھا جب جازب نے خود اپنے منہ سے کمال اعوان کو حیا سے اس کے متعلق بات کرنے کو کہا تھا وہ بری طرح چونک گئے

“تم سچ کہہ رہو ۔۔۔۔ ہاں تم سچ ہی کہہ رہے ہو گے”

وہ جلدی سے بولے کہیں مکر ہی نہ جائے کمال صاحب خوشی کے مارے صوفے سے اٹھے تھے

ان کا بس نہیں چل رہا تھا ابھی اڑ کر حیا کے پاس پہنچ جائیں اتنے سال انھوں نے بس اپنے نکمے بیٹے کی خاموشی کی وجہ سے نکالے تھے

“کھانا بھی نہیں کھایا ہوگا میرے بوڑھے بابا نے میں لگاتا ہوں “

“اب ہٹو اتنا بھی بوڑھا نہیں میں جاؤ جا کر فریش ہوکر آؤ اب اس خبر کے بعد میں اتنا تو کر ہی سکتا ہوں “

کمال صاحب نے اٹھتے ہوئے کاؤنٹر کے پاس آتے اپنے ازلی خرانٹ لہجے میں کہا

“وللہ نوازش آپ کی بیرسٹر صاحب “

وہ جانے سے پہلے کمال اعوان کا گال پھر سے کھینچنا نہ بھولے تھے

“ناہنجار “

اپنا پسندیدہ کلام کانوں تک ہاتے ہی وہ ریلیکس ہوکر اوپری منزل پر بنے اپنے کمرے کی جانب بڑھے

_______

کمرے میں داخل ہوتے ہی سامنے اٹلی سٹائل قد آور شیشے پر نظر پڑتے وہ اپنے چہرے پر چھائے تاثرات کو دیکھ کر حیران ہوگئے

اتنی آسودگی تھی ان کے چہرے پر جو حفضہ کی موت کے بعد سے جیسے غائب ہوگئی تھی

انہوں نے بے ساختہ اپنے سیاہ کالر پر لگی مٹی جھاڑی تھی یہ سکون اور آسودگی کی بڑی وجہ آج کافی مہینوں بعد حفضہ سے ملاقات تھی تقریباً وہ آٹھ بجے واپس اسلام آباد پہنچے تھے وہاں سے انہوں نے سیدھا گاڑی اس قبرستان کی جانب بڑھا دی جہاں ان کی حفضہ موجود تھی راستے سے وہ سرخ گلاب کی پتیاں لے جانا نہ بھولے

حفضہ اعوان زوجہ جازب کمال اعوان

قطبے پر ہاتھ گیلا کرکے پھیرتے ہوئے انہوں نے گلاب کی پتیاں اس کی قبر پر ڈال دی اور کتنے ہی لمحے خاموش سے وہاں بیٹھے رہے

“تم میرے بولنے سے پہلے ہی میرے دل کے راز جان لیتی تھی حفضہ ۔۔۔ “

حفضہ کا مہربان وجود ان کی آنکھوں کے سامنے لہرایا بہت مختصر عرصہ وہ ساتھ رہے مگر اتنا گہرا رشتہ ہونے کے باوجود جازب کمال کے احساسات حفضہ کے لیے وہ نہیں تھے جو حیا کے لیے ہوگئے تھے بغیر کسے رشتے کے

“تم ناراض تو نہیں ہو حفضہ میری شادی کے فیصلے پر “

وہ مٹی کی جانب دیکھ کر یوں پوچھ رہے تھے جیسے ابھی حفضہ بول پڑے گی

“تم بہت اچھی تھی حفضہ بہت اچھی ۔۔۔ مگر بہت جلد چلی گئی جازب جی کو چھوڑ کر وہ دل کی بے سکونی کبھی لفظوں میں بتاتے کبھی خاموشی میں پھر یٰس پڑھ کر اس پر فاتحہ پڑھنے کے بعد وہ اٹھے آٹھ بجے آئے تھے سوا دس ہوگئے وہ رات کے پہر قبرستان میں تھے

وہ ہاتھ جھاڑ کر اٹھے میری خواہش ہے اگلی زندگی میں بھی تم سے ملاقات ہو جو ابدی ہے

گاڑی میں بیٹھتے ہوئے انہوں نے ایک نظر قبرستان کے لوہے کے دروازے پر ڈالی تھی انہیں لگا وہاں حفضہ موجود ہے مگر وہ مسکرا رہی تھی

جازب نے مسکرا کر نظر ڈالی گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ چونک گئے ۔۔۔وہ چونک کر باہر نکلے مگر وہاں کوئی نہیں تھا پھر انہوں نے گاڑی گھر کے راستے پر ڈال دی ۔۔۔

_______

“عون کیا ہوا ہے پریشان لگ رہے ہو ؟ “

ابراہیم نے عون کے کندھے پر ہاتھ رکھا

“ٹھیک ہو جائیں گی نانو تمہاری میری جان پریشان مت ہو” ابراہیم نے اسے خود میں بھینج لیا ابھی حدیقہ سے بات ہوئی تھی ڈاکٹر آبدہ شاہ کا ہی علاج کر رہے تھے

“ڈیڈ “

عون کوئی اور بات بھی ہے بیٹا مجھے بتاؤ

ابراہیم نے عون کی سرخ آنکھوں پر نظر ڈال کر تشویش سے پوچھا

“نہیں ڈیڈ “عون فوراً نظریں چرا گیا

“اپنے ڈیڈ سے بھی چھپاؤ گے مانا کہ اپنے ماموں کے زیادہ قریب ہو مگر باپ ہوں تمہارا “

“آپ تو میرے ہی ہینڈسم ڈوڈ ہیں ” عون شدت سے باپ کے گلے لگا تھا

“بتاؤ پھر کیا مسئلہ ہے “

مسائل کو یوں لٹکنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو وہ زخم بن جاتے ہیں اور زخم پھر ناسور

“ڈیڈ ان کی منگنی ۔۔۔۔ہونے والی ہے “

وہ بھاری لہجے میں گیلی آواز پر ضبط پاتا بولا

عون نے سنجیدگی سے اس کا چہرہ دیکھا

“میں اور حدیقہ جائیں گے اس کے گھر رشتہ لے کر اور پوری کوشش کریں گے وہ لوگ مان جائیں مگر یاد رکھنا عون آخری فیصلہ بچی کا ہی ہوگا ہم کسی کے سر مسلط نہیں ہو سکتے “

“محبت بے جا رعب جمانا اور مسلط ہوجانے کا نام نہیں ہے عون ” یوں تم اپنی محبت کا تقدس کھو دو گے

“ڈیڈ میں مر جاؤں گا “

وہ بے بسی سے بولا

“مرد بنو عون ابراہیم شاہ مرد” وہ اس کے کندھے پر تھپکی دے بولے

_______

آپ۔۔۔۔ آپ نے میری بہن کے ساتھ زیادتی کی ہے جاوید شاہ

آپ درندے ہیں آپ جیسا شخص کسی عورت کے قابل نہیں ہے آپ نے یہ بھی نہیں دیکھا آپ دو بچوں کے باپ ہیں میری بہن میری چھوٹی تڑپتی رہی میری شاہی آپی ارے ایک بچے کی ماں تو وہ بھی ہے جاوید شاہ اسے بھی نہ بخشا اب میں یہاں نہیں رہوں گی

“نہیں آبدہ جھوٹ ہے میں تمہیں کہیں جانے نہیں دوں گا” جاوید شاہ جان عزیز بیوی کے الزام پر تڑپ کر رہ گئے تھے

” کس منہ سے مجھے پکار رہے ہیں جائیں یہاں سے دفعہ ہوجائیں مجھے آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنی نہیں آبدہ میرا یقین کرو نہیں کرنا مجھے یقین سب اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد تو بالکل بھی نہیں فیصل جاوید شاہ چلو حدید “

وہ اپنے بارہ سالہ بیٹے کو ہاتھ سے تھامے اوپر کی طرف بڑھیں تھیں چلو حدیقہ بچے اب ہم یہاں نہیں رہیں گے وہ ڈری سہمی بیٹی کو بازو سے تھامے کھینچنے لگی

نہیں آبدہ میرا یقین کرو وہ جھوٹ بول رہی ہے میں نے کچھ نہیں کیا

مگر وہ ان سنی کیئے حدیقہ کو سیڑھیوں سے اتارتی نیچے لے آئی

“آبدہ ۔۔۔حدید ۔۔۔ آبدہ بچوں کو لے کر مت جاؤ یار میں قسم کھاتا ہوں “

” نہیں مجھے بابا کے پاس رہنا ہے” آٹھ سالہ حدیقہ اپنا بازو ماں کی گرفت سے نکال باپ سے جا کر لگ گئی

“میرا بچہ ” فیصل جاوید نے حدیقہ کو فوراً گود میں اٹھا کر خود میں بھیجا حدیقہ میں تو ان کی جان بستی تھی

چلو حدیقہ ہم یہاں نہیں رہیں گے

“چلو گڑیا ” حدید نے بھی سختی سے کہا اس کی آنکھیں غصے سے لال ہورہی تھیں

حدید میرے بچے فیصل جاوید نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا مگر وہ ان کا ہاتھ بری طرح جھٹک گیا

“رہو تم اپنے بے شرم باپ کے پاس چلو حدید “

وہ حدید کا ہاتھ تھامے وہاں سے لے گئی

اور وہ بے بس سے اپنا یقین ہی دلاتے رہ گئے ۔۔۔۔۔

ان کے ایک انکار کی اتنی سخت سزا ملی تھی ان کا ہنستا بستا گھر اجڑ گیا تھا

______

شاہین شاہ آبدہ شاہ کی بڑی بہن تھی بلا کی خوبصورت چنچل سی جبکہ آبدہ اپنی بہن سے مختلف تھی خوبصورت تو وہ شاہین سے بھی زیادہ تھی مگر انا پرست مغرور لگتی تھی لہجے میں پر وقاریت تھی کہ ان سے بات کرنے کے لیے بھی اگلے کو سوچنا پڑتا تھا وہ کسی کو بھی متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں

شاہین سے چھوٹی تھی مگر محبت اپنی آپی سے بہت تھا تب فیصل جاوید اور ان کے ماں باپ نے آبدہ کو کسی تقریب میں دیکھا تھا ان کا رکھ رکھاؤ اور انداز انہیں اتنا پسند آیا کہ انھوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کا رشتہ ڈال دیا

مسئلہ تب ہوا جب آبدہ شاہ کی ماں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ رشتہ شاہین کا آیا

شاہین شاہ منڈیر سے خوبرو فیصل جاوید کو دیکھتے اپنا دل ان پر ہار بیٹھی تھیں وہ اپنی آنے والی زندگی کو لے کر خواب دیکھنے لگیں جبکہ آبدہ شاہ کا دھیان پڑھائی کی طرف تھا ویسے بھی ان کے خاندان میں عورتوں کو پڑھانے کا رواج نہیں تھا مگر پھر بھی انہیں موقع مل رہا تھا تو وہ کیوں کفرانِ نعمت کرتی سو وہ دل لگا کر پڑھ رہی تھیں

ایک ہی ذات ہونے کی وجہ سے کوئی مسئلہ تو نہیں آیا بات پکی ہوگئی مگر جب باقاعدہ رسم کرنے کے لیے فیصل شاہ کی والدہ نے آبدہ کی شاہین کو دیکھا تو انھوں نے اپنے استعجاب کو ظاہر کرتے اپنی پسند سے آگاہ کیا اور آبدہ کی والدہ کی غلط فہمی دور کی

گھونٹ اوڑے بیٹھی شاہین کا دل نوٹ گیا مگر وہ ضبط سے ادھر بیٹھی رہی بڑوں میں کافی دیر بات چیت چلتی رہی آبدہ شاہ کی والدہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا کہ اچھے رشتے کم ہی آتے ہیں اس لیے بہتری اسی میں ہے آبدہ کے لیے ہاں کردیا جائے

انہوں نے آبدہ کو اس غلط فہمی والے قصے سے لاعلم ہی رکھا تھا

یوں آبدہ شاہ کا رشتہ ہوگیا اور فیصل شاہ کے دل کی خواہش بھی پوری ہوگئی جو ان کے دل میں آبدہ شاہ کو دیکھ کر جاگی تھی

وقت پر لگا کر اڑا آبدہ کے گھر حدید ہوا اور شاہین شاہ کی بھی شادی ہوگئی آبدہ کا پیار بڑی بہن سے پہلے جیسا ہی تھا مگر شاہین ان سے شروع شروع میں کھچنے لگی تھیں

شاہین کے شوہر ناصر کے انتقال کے بعد آبدہ زبردستی شاہین اور نشاء کو اپنے ہی گھر لے آئیں ماں باپ کے بعد وہ ہی واحد سہارا تھیں

مگر شاہین کا انداز بہت عجیب تھا فیصل جاوید کو ان کی بے تکلفی ایک آنکھ نہ بہاتی تھی

ان کی بے باک حرکتیں اور باتیں جاوید شاہ کو بے زار کرتی تھیں

اور کچھ ہی عرصے بعد ایک دن جب آبدہ حدید اور نشاء کے ساتھ باہر گئیں تھیں شاہین شاہ ان کے کمرے میں چلی آئیں اور اپنے بے ہودہ عزائم ان پر واضح کردئیے کہ وہ کیسے اتنے سال ناصر کے نکاح میں ہونے کے باوجود جاوید شاہ سے محبت کرتی رہیں

وہ غلط فہمی تھی شاہین

جاوید شاہ نے انہیں سمجھانا چاہا مگر وہ ان کے قریب آگئی

جاوید شاہ نے نظریں پھیر لیں یہاں سے چلی جاؤں شاہین میرا ہاتھ اٹھ جائے گا

مگر وہ ان کے گلے لگی تو جاوید شاہ نے کرنٹ کھا کر انہیں خود سے دور کیا

“دفعہ ہوجاؤ یہاں سے ” وہ دھاڑے

کیوں دفعہ ہوجاؤں محبت کرنا گناہ ہے ؟

‘گناہ آپ نے کیا جاوید آپ نے میرا دل توڑا کم خوبصورت تو میں بھی نہیں” وہ اپنا دوپٹہ اتار کر پھینک چکی تھیں ۔۔۔

جاوید شاہ نے ان کے منہ پر تھپڑ مارا

“جتنا مرضی مار لیں مگر میں آپ کو پا کر رہوں گی ۔۔۔۔”

وہ آستینیں پھاڑنے لگی

اس سے پہلے فیصل جاوید کمرے سے نکلتی شاہین نے انہیں درشتگی سے کھینچا جس کے نتیجے وہ پیچے کو لڑکھڑائے اور بے ساختہ شاہین کو تھامنے کے چکر میں انہی کے اوپر گڑے تبھی حدید نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا مگر اندر کا ماحول دیکھ کر اسے دھچکا لگا

دھچکا تو پیچھے آتی آبدہ اور نشاء کو بھی لگا

دروازے کی آواز پر بغیر دیکھے جانے شاہین نے چیخیں مارنی شروع کردیں

“مجھے بچاؤ بھائی صاحب میں آپ کی بیوہ سالی ہوں آپ نے مجھے کہیں منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا میری عزت روند دی “

وہ کرلا رہی تھی آبدہ شاہ اس سے پہلے گرتی حدید نے انہیں سنبھالا تھا

آپی وہ بہن کی جانب بڑھیں

فیصل شاہ اکیلے کمرے میں بیٹھے رہ گئے شاہین اور نشاء کو آبدہ نے فیصل شاہ کی طرف منہ دیکھائی میں ملے گھر میں شفٹ کردیا تھا اور خود آج وہ اپنے بیٹے کو بھی لے گئی

……………………

“بابا ڈاکٹر کچھ بتا کیوں نہیں رہے “

حدیقہ کو پریشانی سے یہاں وہاں چکر لگاتے دیکھ وہ ایک دفعہ وہ چونک گئے

“آجاتے ہیں ‘

وہ پھر سے ماضی میں گئے

“چلو حدیقہ ہم یہاں نہیں رہیں گے “

چلو گڑیا حدید نے بھی سختی سے کہا اس کی آنکھیں غصے سے لال ہورہی تھیں

حدید میرے بچے فیصل جاوید نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا مگر وہ ان کا ہاتھ بری طرح جھٹک گیا

“رہو تم اپنے بے شرم باپ کے پاس چلو حدید “

وہ حدید کا ہاتھ تھامے وہاں سے لے گئی

اور وہ بے بس سے اپنا یقین ہی دلاتے رہ گئے ۔۔۔۔۔

کچھ دنوں بعد آبدہ نے فیصل شاہ سے طلاق کا مطالبہ کرلیا

جب فیصل جاوید نے کوئی رسپونس نہیں دیا تو آبدہ شاہ نے خلاع کے کاغذات کے ساتھ حدید کی کسٹڈی اور اس کے حصے کی جائیداد کا کیس ایک ساتھ دائر کروا دیا تھا

پندرہ سال کا تھا حدید اور تین سالوں تک وہ بالغ ہوجاتا پھر تو فیصل شاہ کو اسے وہ حق دینا ہی پڑتا مگر پھر بھی انھوں نے آبدہ شاہ سامنے شرط رکھی وہ ایک ہی صورت میں حدید کے نام اس کے حصے کی پراپرٹی کریں گے جب آبدہ شاہ خلاع کے مطالبے کو واپس لے لیں گی

آبدہ شاہ نے بھی اس وقت خاموشی اختیار کرلی ان کے سر پر بیوہ بہن اور بھانجی بھی تھی

اس لیے انہوں نے حامی بھر لی

مزید کچھ دنوں بعد فیصل شاہ نے معاملے کے ٹھنڈے ہونے کے بعد آبدہ شاہ سے ملنے کا سوچا وہ ان کی بیوی تھی محبت بھی تھی بدگمان ہوگئی تھی انہوں نے خلاع کا کیس بھی لے لیا تھا مطلب ابھی بھی ان کے پاس ایک موقع تھا

مگر شائد قسمت نے اس موقع کو ان کے حق میں نہیں رکھا تھا

تبھی جس روز وہ آبدہ کے گھر گئے تھے گھر میں صرف نشاء اور شاہین ہی تھے

فیصل جاوید سیدھا آبدہ کے کمرے میں گئے تھے مگر وہاں شاہین کو دیکھ کر ان کا غصہ عود آیا تم بد زات عورت میرا گھر برباد کردیا

جاوید شاہ بھڑکے تھے انہوں نے شاہین کا گلا دبوچ

پاگل سنکی انسان وہ اپنا گلا چھڑوا کر بھاگی

کیوں لگایا الزام مجھ پر

تم نے بھی تو میرا دل توڑا تھا جاوید شاہ

“میں تمہیں جان سے مار دوں گا ،”

وہ اس کی طرف بڑھ رہے تھے مگر شاہین شاہ بچنے کی غرض سے سیڑھیوں کی طرف لپکی مگر شو مائی قسمت ان کا پاؤں پھسلا اور وہ منہ کے بل سیڑھیوں سے ٹھوکریں کھاتی فرش پر گڑی

خون بھل بھل ان کے سر سے بہنے لگا جبکہ نشاء سیڑھیوں کے پاس کھڑی صدمے میں یہ سب دیکھتی رہی

“مار دیا میری ماں کو مار دیا حدید ۔۔۔۔ خالہ ۔۔۔۔”

_______

“بابا ۔۔۔بابا کیا ہوا” جاوید شاہ کا پسینے سے تر چہرہ دیکھ کر حدیقہ پریشانی سے ان کے پاس آئی