212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 60)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

” ماں ” حدیقہ آبدہ شاہ کے کمرے میں آئی جہاں وہ نیم غنودگی میں اپنے سامنے کھڑی عورت کو پہچاننے کی کوشش کر رہی تھیں

“ماں ” حدیقہ نے پھر سے پکارا تو ان کی بوڑھی آنکھیں واہ ہوئیں

دماغ سوچنے کی صلاحیت سے مستفید ہوا تو منہ بولنے سے قاصر تھا ہاتھ بیٹی کو چھو لینے کو بے تاب مگر پیرالائز ہاتھ کا ہلنا محال تھا وہ بے بسی کے مارے آنکھوں سے آنسوں کے بند کو کھولے ہچکولے لینے لگیں

“مت روئیں ماں” حدیقہ ضبط کی انتہاؤں کو چھوتی ماں کے جھریوں سے مزین چہرے سے آنسوؤں کو چننے لگی وہ رو نہیں رہی تھی وہ آنسو سمیٹ کے کھڑی تھی

کیونکہ یہ آنسو بس وہ ابراہیم کے پہلو میں بہاتی تھی جو ہمیشہ اس کے آنسو سمیت اس کا غم بھی بن لیا کرتا تھا

ابرہیم بھی ڈاکٹر کے بتائے پروٹوکول فولو کرنے کے بعد اپنی ساس سے ملنے آیا تھا صرف اور صرف حدیقہ کی وجہ سے چند منٹ حال احوال پوچھنے کے بعد وہ وہاں سے چلا گیا تھا

حدیقہ نے بھی اسے نہیں روکا

_______

دو دن بعد آج وہ اپنے کمرے میں موجود تھی دو دن بعد یہاں آکر ایسے لگ رہا تھا جیسے کتنے عرصے بعد اپنے گھر آئی ہو صفا آتے ساتھ ہی بغیر چینج کیے چت بستر پر لیٹی جب اس کا فون بجنے لگا

“عون کی کال اس وقت ؟ “

وہ کچھ پریشان ہوکر اٹھی

“ہیلو عون سب ٹھی!!

“صفا آپ ماموں سے مل کر نہیں گئیں ؟ “

عون نے صفا کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جلدی سے پوچھا

وہ ایک دم چپ ہوگئی

“ن۔نہیں عون کیوں سب ٹھیک ہے نہ ؟ “

“آپ کیوں نہیں مل کر گئیں صفا ؟” عون نے پیشانی مسلتے ہوئے سوتے ہوئے حدید کے چہرے کی جانب دیکھ کر پوچھا

“عون وہ میں غلط روم میں چلی گئی تھی اور پھر جب میں نے وقت دیکھا تو دو گھنٹے ہوچکے تھے میں گھر پر گھنٹے تک کا کہہ کر گئی تھی اس لیے جلدی سے نکل گئی آئی ایم سوری اگر وہ میرا انتظار کر رہے تھے تو “

صفا نے تفصیل سے بتاتے آخر میں شرمندہ شرمندہ سے لہجے میں کہا تو عون نے شکر کا سانس بھرا

“ہاں وہ انتظار کر رہے تھے مگر کوئی بات نہیں تم پھر مل لینا ہم شاید انہیں اسلام آباد ہی لے آئیں “

“اب ان کی طبیعت کیسی ہے ؟ “

“پہلے سے بہتر ہے تم سے ملیں گے تو اور بہتر ہو جائیں گے” عون نے مسکرا کر حدید شاہ کے ہاتھ کو چوم کر کہا

“مطلب ؟ “

“اپنی بہو سے ملیں گے تو خوش ہو جائیں گے”

وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا ۔

“کل بھائی کے دوست کی فیملی آرہی ہے ! “

صفا نے یاد آتے ہی عون کو سنجیدگی سے یاد دہانی کروائی

“میں ۔۔میں کل لے آؤں گا بابا اور مما کو صفا پلیز میرے لیے ہی ۔۔۔!”

“میں کچھ نہیں کر سکتی عون میں بہت بزدل ہوں اور اسی بزدلی کی وجہ سے میں محبت جیسے جزبے سے دور رہی ہوں یہ انسان کو کمزور کر دیتی ہے اور میرے میں اسے برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔۔!”

عون لب بھینج کر رہ گیا وہ اسے بتانا چاہتا تھا محبت کبھی بھی کمزور نہیں کرتی

“بس ایک دفعہ آپ کو اپنے نام کرلو صفا پھر میں بتاؤں گا احساس دلاؤں گا محبت کبھی بھی انسان کو کمزور نہیں کرتی

آپ بس میرے حق میں فیصلہ دے دیجیے گا “

“مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے عون بس تم کبھی مت بدلنا “

وہ خوفزدہ سی تھی وہ ہمیشہ اتنی خوفزدہ کیوں رہتی تھی

“میں کبھی نہیں بدلوں گا صفا بے شک آپ اس شرط کے بدلے میری جان لکھوا دیجیے گا “

وہ بے بسی سے بولا یہ لڑکی اپنے خوف سے ہمیشہ اسے توڑ دیتی تھی

مگر محبوب تو محبوب ہوتا ہے چاہے پھر وہ جتنا مرضی ظالم ہو

اللہ حافظ عون ۔۔۔! وہ کال کاٹ گئی

کچھ منٹ بعد پھر اس کا فون بجا حمزہ کی کال تھی

آنے سے پہلے سب کزنز نے آپس میں فون نمبر ایکسچینج کیے تھے

“السلام علیکم حمزہ بھائی کیسے ہیں آپ ؟”

آ”پ لوگ خیریت سے پہنچ گئے تھے بچے؟” حمزہ نے فکر مندی سے کہا تو وہ مسکرا دی

“جی ہم پہنچ گئے تھے “

“گڈ ۔۔۔ !صفا تم پری سے تو ناراض نہیں ہو نہ اسے تو کچھ معلوم نہیں تھا وہ بہت روئی ہے آپ سب کے جانے کے بعد بلکہ ابھی بھی رو ہی رہی ہے “

وہ محبوب کی حمایت کو پہنچا تھا صفا مسکرا دی

“آپ بہت بہادر ہیں حمزہ بھائی” صفا سب فراموش کئیے مسکرا کر اپنی پچھلی بات کو رد کرکے حمزہ کو یاد کروا گئی

وہ مسکرا دیا اس نے سر اٹھا کر سامنے کھڑی روئی روئی سی پریہان کو دیکھا

“مجھے امید ہے پیاری لڑکی یہ جملہ میں بھی جلد تمہیں لٹاؤں گا”

پریہان نے نا سمجھی سے حمزہ کو دیکھا

جبکہ صفا حمزہ کی پیاری سی دعا پر دل میں آہستہ سے آمین بول گئی

“پری سے بات کرلو صفا اس کا دل ہلکا ہو جائے گا “

“میں تو سوچ رہی تھی آپ دونوں کے نکاح پر ہی بات کروں گی پری سے اور اسے گلے لگا کر بتاؤں گی میری ماں کی تربیت ایسی نہیں ہے کہ ہم تین بڑوں کی غلطی کی سزا بچوں کو دیں”

صفا مسکرا کر کہتی پری کا دل بیک وقت ہلکا کرتی پھر سے بوجھ ڈال گئی

“حیا پھوپھو کی تربیت قابلِ رشک ہے صفا” پری کی بھرائی آواز پر صفا بھی فخر سے مسکرائی

“بے شک تمہیں معلوم ہے پری ، میری آئیڈیل ہیں میری مما

بہادر، خوبصورت ، خوب سیرت سمجھدار قابلِ تحسین بہترین وکیل اور میں نے بچپن سے انہیں ایڈمائر کیا آئیڈیلائز کیا ان جیسا دکھنا چاہا اور جب میں نے پہلی بار تمہیں دیکھا تو مجھے تم سے بیک وقت جلن اور رشک محسوس ہوا تم بالکل مما کا عکس لگی ہوبہو ان جیسی تمہیں دیکھ کر احساس ہوا میری ماں جوانی میں تم سی حسین ہوں گی یاں اس سے بھی زیادہ مگر پھر مجھے ریلائز ہوا ویسا دکھنا میٹر نہیں کرتا ویسا ہونا میٹر کرتا ہے تمہیں دیکھ کر مجھے زندگی نے نیا رخ دیا ، باقی ناراض نہیں ہوں میں تم سے میں آپ سب کزنز کو کبھی نہیں کھونا چاہوں گی اتنے سال اکیلے رہے ہیں ہم دو ، اب اتنے اچھے کزنز ملے ہیں علی اور عدنان ماموں کی شکل میں سگے رشتے ملے ہیں ماں کی بھی ماں کی گود کا احساس ملا ہے ماضی کی وجہ سے ہم اسے کھونا نہیں چاہتے تو پلیز اس پر رونا مت ہمارا دل صاف ہے آپ کی طرف سے “

“اب مت رونا یار کیوں میرے پیارے سے بھائی کے دل کو ہولا رہی ہو پری !!”

آخر میں وہ ہنس کر بولی

تو پری بھی موبائل کے سپیکر میں ہونے کی وجہ سے حمزہ کا بے چارگی سے بنا چہرہ دیکھ کر جھینپ سی گئی

“اچھا چلو اب ریلیکس ہوجاؤ ان شاءاللہ آپ دو کے نکاح پر ہی ملاقات ہوگی اللہ پاک خیر سے وقت لائے

فی امان اللہ !”

گہری سانس بھر کر وہ لاٹ کاٹ گئی اپنی الماری میں سے آرام دے کپڑے نکالے اس کا ارادہ چینج کرکے ماں کے پاس جانے کا تھا

______

“بابا آپ سے ایک اجازت چاہتی ہوں” حدیقہ ہاسپٹل میں وارڈ کے باہر موجود ویٹینگ چئیر پر بیٹھے جاوید شاہ کے قریب آئی

اور ان کے سامنے دو زانوں ہوکر ان کے ہاتھ تھام کر بیٹھ گئی

“کیسی اجازت ؟ “

جاوید صاحب نے نا سمجھی سے چہرہ اٹھا کر دیکھا

“وہ جو اندر ہیں میری ماں ہیں بابا، آپ نے کبھی مجھے ان سے ملنے سے نہیں روکا ان کی خود غرضی یاں بدگمانی کہہ لیں اس کی وجہ سے ہم ان سے دور رہے مگر آج اگر وہ خود بھی ددکار دیتی نہ تو بھی میں انہیں اس حال میں نہیں چھوڑ سکتی بابا “

وہ تر گالوں کو صاف کرکے بابا کے ہاتھوں کو تھام کر ہونٹوں کے قریب لے جا کر بولی

“آپ کی اجازت درکار ہے کیا میں ان کے ساتھ جا سکتی ہوں بھائی کی طبیعت بھی صحیح نہیں ہے اور وہ ہمارے ساتھ چلنے کو راضی نہیں ہوں گے نہیں تو آپ سے اجازت لے کر آپ کے گھر لے جاتی !”

“پہلی بات میرا بچہ وہ گھر میرا نہیں تمہارا ہے تم وہاں کسی کو بھی لا سکتی ہو اُس کے لیے تمہیں میری کیا کسی کی بھی اجازت کی ضرورت نہیں “

جاوید شاہ نے بیٹی کے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا

“باقی میرے خیال سے اس چیز کی اجازت تمہیں میری بجائے ابراہیم سے لینی چاہیے ہے وہ تم پر سب سے زیادہ حق رکھتا ہے، مجھ سے تمہاری ماں سے اور تم سے بھی زیادہ “

اور رہی میری بات تو میری طرف سے تمہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہے

فیصل جاوید شاہ کی بات پر حدیقہ نے نم ہوتی آنکھوں کو پونچھ کر باپ کے پر شفقت حصار میں پناہ لی

جاوید شاہ نے کرب سے آنکھیں موند لیں وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی خاموش ہوگئے تھے

ہمیشہ کی طرح انھوں نے دل کی بات دل میں ہی رکھ لی تھی

وہ آج بھی اس سے نہیں ملے

وہ اندر بستر سے لگی عورت سے آج تک صرف اسی خوف سے نہیں ملے تھے کہیں وہ عورت ان سے طلاق کا مطالبہ نہ کرلے کہیں وہ اس کے سامنے ہار کر بے گناہ ہوتے ہوئے بھی اس کے بہتانوں پر حامی نہ بھر لیں

________

سٹڈی ٹیبل پر لگے لیمپ کی بتی جل رہی تھی جبکہ کمرے میں مکمل اندھیرا سا چھایا ہوا تھا سٹڈی ٹیبل کے پاس پڑی چئیر پر آنکھوں میں نظر کا چشمہ لگائے حیا ہاتھ میں کاغز تھامے بیٹھی تھی گھر آتے ہی اسے ملازمہ کے ہاتھوں کمال اعوان کی جانب سے بھیجا گیا پارسل ملا تھا خاکی رنگ کا لفافہ اسے اچھے سے معلوم تھا اندر کیا ہے

مگر پھر بھی دل کہیں بار دھڑکا تھا اس لفافے کو کھولتے ہوئے ہاتھ کانپے تھے

لفافے پر عدالت کی مہر تھی

“حیات خفیظ کیا آپ کو حدید شاہ سے یہ نکاح قبول ہے؟”

“مسکراتی پیاری لگتی ہو “

“تم اچھی لگنے لگی ہو حیات “

“نشاء میری جان میں نے یہ نکاح صرف بدلے کی غرض سے کیا تھا”

“اس نکاح کا مقصد اولاد کا حصول تھا “

“ناجائز اولاد کو پیدا کیا تم نے”

ایک ایک جملہ اس کے کانوں میں گونجا آخری جملے پر اس نے خاکی لفافے کو چاک کرکے اس میں سے خلع کے کاغزات نکالے

حیات ولد حفیظ” تمہارے بابا نہیں برداشت کرکے حیات “

کتنے ہی آنسو اس کے گالوں کو تر کرکے میز پر پڑے کاغذ پر گڑ رہے تھے

وہ غیر مرئی نقطے کو دیکھتی رہی جب اس کا دروازہ ناک ہوا تھا

“مما کیا میں اندر آجاؤ؟ “

صفا کی آواز پر حیا نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ غور نہیں کرسکتی اس نے پہلے خلع کے کاغزات کو میز کے دراز میں ڈالا

“آجاؤ میری جان “حیا کے لہجے میں محبت سی بھر آئی

صفا نے کمرے میں آتے ہی لائٹ جلائی

” آپ سو تو نہیں گئیں تھیں ؟ “

صفا ان کے پاس چلتے ہوئے آئی

“نہیں ایک کیس سٹڈی کر رہی تھی بس” حیا نے اپنے چشمے اتار کر میز پر رکھے اور اٹھ کر اپنے بیڈ پر آگئی

“تم خیریت اس وقت ؟ طبیعت ٹھیک ہے نہ؟”

حیا نے پاس بیٹھ چکی صفا کے ماتھے اور پھر گال کو چھو کر دیکھا

“طبیعت ٹھیک ہے میری مما سوچا آج آپ کے پاس سوتی ہوں, سو جاؤں نہ ؟ “

“ہاں کیوں نہیں “حیا نے مسکرا کر صفا کے لیے تکیہ صحیح کیا

صفا حیا کے قریب لیٹ گئی دونوں کتنے لمحے خاموش رہے

“ٹیسٹ کلئیر ہوگیا ہے تمہارا پھر کیا سوچا کب اسسٹ کر رہی ہو پھر جازب صاحب کو ؟”

“مانتی ہوں بھائی جتنی سمجھ دار نہیں ہوں ان جتنی آپ کے قریب بھی نہ سہی مگر اتنی بھی نا سمجھ نہیں ہوں ماں جو آپ کے کسی دکھ کو سن کر آپ کا دل ہلکا نہ کروا سکوں”

“بیٹیاں تو ماں کا عکس ہوتی ہیں ان کے رازوں میں شریک ہوتی ہیں نہ؟ بابا کی گڑیا نہ سہی کیا میں ماں کے سیکرٹس والی دوست بھی نہیں بن سکتی ؟ “وہ بالکل بچوں کی طرح ٹھہر ٹھہر کو بولی تو حیا کا دل درد سے بھر گیا

صفا کو پریشانی سے دور رکھنے کی وجہ سے وہ ہمیشہ اسے اپنے ماضی سے ان باتوں سے دور رکھتی رہی مگر حیا کی یہ احتیاط ان دو میں ایک ان دیکھی دوری لے آئے گی حیا نے سوچا نہیں تھا

“میرا بچہ ماں نے کبھی تم میں اور بھائی میں فرق نہیں کیا تم سے شئیر نہ کرنے کی وجہ بس تمہیں تکلیف سے دور رکھنا ہے ” حیا صفا کے بالوں کو سہلا کر بھرائی آواز میں بولی تو صفا کا دل پگھل گیا وہ ماں سے لپٹ کر رونے لگی

” میں بزدل کیوں ہوں مما میں کسی قابل نہیں ہوں میں تو آپ کا غم بھی نہیں بانٹ سکتی میں کسی کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتی” وہ سسکتے ہوئے بولی تو حیا نے نفی میں سر ہلایا

“کس نے کہا میری صفا بزدل ہے تم حیا خان کی بیٹی ہو تم صفا خان ہو میری جان تم میں گِڑ کر کھڑا ہونے کا حوصلہ ہے اپنی غلطیوں کو ماننے کا حوصلہ ہے اور میرے نزدیک اپنی غلطیوں کو چھپانے کی بجائے انہیں اؤن کرنے والا اپنی غلطیوں سے سیکھنے والا ہے اور ان کا ازالہ کرنے والا شخص بہادر ہوتا ہے “

حیا نے اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے پُرسکون کیا

تو پھر بتائیں نہ ماں آج کُھل کر بتا دیں اپنے سارے غم بہا دیں آپ کی بیٹی سب اپنے دل میں چھپا لے گی

صفا نے حیا کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

“میں کبھی نہیں چاہوں گی صفا تم اپنے باپ کے لیے دل میں نفرت رکھو “

حیا نے آنسو صاف کرکے سنجیدگی سے کہا

صفا ماں کا چہرہ دیکھنے لگی

دل دھڑکا آج پہلی دفعہ ماں کے منہ سے اپنے باپ کا ذکر سننے لگی تھی کچھ سال پہلے آخری دفعہ اس نے اپنے بابا کی تصویر دیکھی تھی اور آج سالوں بعد ماں نے ذکر چھیڑا تو وہ دھندلی تصویر ایک دم آنکھوں کے سامنے صاف اور واضح ہوگئی تھی