212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 39) Part - 2

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

ابراہیم پانی کا گلاس سامنے ٹیبل پر رکھے حدیقہ کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھا

اس کے ہاتھوں کو اپنے زخمی ہاتھوں میں لیا

کیا حدت تھی ان مسیحا ہاتھوں میں کہ حدیقہ اپنے آنسو کو روک نہ پائی تھی

آنسو تواتر بہتے گئے

ابراہیم نے بھی کچھ دیر اسے یوں ہی اپنا غبار نکالنے دیا پھر اپنی انگلیوں کے پوروں سے اس کے آنسو پونچھے ۔۔۔

“شش۔۔۔۔ “

“حدیقہ “

حدیقہ نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا

ابراہیم کا دل سینے میں ہی پھڑپھڑا کر رہ گیا وہ اسے خود میں بھینچ گیا

“ابراہیم وہ بہت گھٹیا۔۔۔۔۔ اس نے مجھے ۔۔۔۔ “

وہ ہچکیوں میں اسے بتانے لگی

“شش۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوا میری جان کچھ بھی نہیں “

“ہوا ہے اس نے ۔۔۔۔۔مجھے یہاں چھوا “

وہ دائیں ہاتھ کو بھیچ میں رکھ کر فاصلہ بناتی شدت سنگ اپنا گال رگڑتی ہزیانی کیفیت میں بولی

“چھوڑو حدیقہ “

ابراہیم نے سختی سے اس کا ہاتھ پکڑا جس نے گال کو وہ حصّہ تقریباً رگڑ رگڑ کر زخمی کردیا تھا ۔۔۔۔۔

“بہت فضول حرکت کرتی ہو تم “

وہ اس کا گال سہلاتا اسے ڈانٹ گیا

وہ تو پہلے ہی دل چھوٹا کئیے بیٹھی ابراہیم کی ڈانٹ پر اسی کے سینے پر مکے برساتی اسی سے لگ کر رونے لگی

“میں تمہارا شوہر ہوں میں بیوی تمہیں ان سے فاصلے کا کسی وجہ سے ہی کہتا تھا ۔۔۔۔”

کافی دیر بعد جب حدیقہ کی سسکیاں خاموش ہوئی تو ابراہیم نے نرمی سے کہا

سارا غم اور غصہ بہا لینے کے بعد جب ابراہیم نے اسے “بیوی” پکارا تو حدیقہ کو اپنی نزدیکی کا اندازہ ہوا تو وہ جھجھک کر پیچھے کو ہوئی تھی

مگر جب نظر اپنی چاک قمیص پر گئی تو اس نے شدت سے دعا کی کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے

وہ سر جھکائے پھر سے رونے کو تیار ہوئی تھی

مگر ابراہیم اس کی شرم سمجھتا اپنی شرٹ اتار کر اس پر دے گیا

“میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں تمہیں کم از کم میرے سامنے اس حالت میں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے حدیقہ ابراہیم شاہ ۔۔۔”

ابراہیم اس کا چہرہ تھوڑی سے تھام کر اوپر کئیے اپنائیت سے بولا تب ہی حدیقہ کی نظر ابراہیم کے زخمی ہاتھ پر گئی

“آپ کا ہاتھ۔۔۔۔۔”

حدیقہ نے اس کے زخمی نکلز پر انگلی پھیری

ابراہیم نے لب دبا گیا دل شدت سے دھڑکا تھا دو سال پہلے والی حدیقہ یاد آئی تھی جو یو ہی اس کے درد پر تڑپ جاتی تھی

“میں ماموں سے ہماری رخصتی کی بات کرنے والا ہوں “

ابراہیم بول گیا تھا جبکہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ جب تک حدیقہ خود نہیں کہے گی وہ یہ بات نہیں کرے گا

مگر اب اسے یہ سب ضروری لگا

حدیقہ نے بے چینی سے نفی میں سر ہلایا

“نہی۔۔نہیں “

ابراہیم نے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کیا

حدیقہ نے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا ۔۔۔۔ پھر اس کی نظر اپنی گود پر گئی وہ صرف خالی ہاتھ نہیں تھی

وہ تو خالی گود بھی تھی

ایک فلیش سی اس کے نظروں کے سامنے آئی تھی

“دو سال قبل !!”

“ابراہیم مجھے آپ ہماری شادی سے پہلے ایک دفعہ بھائی اور مما سے ملوا لائیں “

“میں جانتی ہوں بابا انھیں شادی پر نہیں آنے دیں گے اس لیے پلیز ابراہیم “

حدیقہ ابراہیم کے دونوں ہاتھوں کو تھامے التجائیہ لہجے میں بولی

“نہیں حدی ماموں ناراض ہوں گے”

ابراہیم نے منع کیا

“پلیز ابراہیم پلیز کیا آپ میری محبت میں اتنا نہیں کر سکتے پلیز “

“حدیقہ ماموں ۔۔۔۔۔”

“تو پھر ثابت ہوا میری بات کی کوئی اہمیت نہیں”

وہ رندے ہوئے لہجے میں بولی

“اچھا ٹھیک ہے “ابراہیم بے بس ہوا تھا حدیقہ کے آنسو دیکھ کر

حدیقہ فرطِ جذبات میں اس کے گلے لگی تھی

جسے ابراہیم نے ہاتھ رکھ کر فاصلہ بنایا وہ اس کی چاہت تھی منگیتر بھی تھی اور بڑی جزباتی تھی

“جھلی دیوانی ۔۔۔۔!”

محبتوں میں پلی حدیقہ شاہ کی ملاقات اپنی ماں اور بھائی کے ساتھ اچھی ثابت نہ ہوئی تھی اپنی ماں کے گلے لگ کر جی بھر کے رونے کے بعد جب بھائی نے گلے لگا کر اسے اپنوں کی تلخ حقیقتیں بتائی تھی اسے چپی لگ گئی

اپنی جوانی تک محبت ، لاڈ پیار والا جزبہ محسوس کرنے والی حدیقہ ایک دم سے اتنے گھناؤنے سچ یا سازشوں میں ڈوبی تلخ باتیں برداشت نہیں کر پارہی تھی

“کیا ہوا ہے حدی ؟”

ابراہیم نے اس کی خاموشی نوٹ کرکے پوچھا

بقول اس کے تو حدیقہ کو خوش ہونا چاہیے ابراہیم نے اس کی خواہش پوری کی تھی

“آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں ابراہیم “

حدیقہ نے غائب دماغی سے ابراہیم سے پوچھا

ابراہیم کا دماغ الرٹ ہوا

“کیا ہوا ہے حدیقہ مجھ سے شئیر کرو کسی نے کچھ کہا ہے ؟”

ابراہیم نے اس کو بے چینی سے ہاتھ مسلتے دیکھ کر نرمی سے پوچھا

ٹھیک اسی لمحے زرا سا ابراہیم کا دھیان بھٹکا سامنے سے آتی گاڑی جان کر اس کی گاڑی کو ہٹ کرتے گزری اور گاڑی کا بیلنس خراب ہوا

ابراہیم نے ہاتھ رکھ کر حدیقہ کا سر سامنے شیشے پر بجنے سے بچایا

حدیقہ گاڑی سے جمپ کرو میں سنبھال لوں گا

ابراہیم نے بریک کے کام نہ کرنے پر حدیقہ کی طرف کا دروازہ کھول دیا

“ابرا ۔۔۔!!نہیں آپ کو کچھ نہیں میں نہیں جارہی کہیں آپ کو چھوڑ کر”

وہ اسے کف سے تھامے روتے ہوئے بولی

“حدیقہ آئی سیڈ جمپ !”

ابراہیم نے سختی سے کہا تو حدیقہ نے شدت سے نفی میں سر ہلایا

ابراہیم نے حدیقہ کی گود میں رکھا بیگ ایکسیلیٹر پر رکھ کر اپنی سیٹ بیلٹ کھولی اور حدیقہ کی جانب آیا اسے تھام کر ابراہیم نے گاڑی سے چھلانگ لگا دی

حدیقہ کو اس نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا جس کی وجہ سے اس کی کمر زمین پر رگڑی جانے کی وجہ سے زخمی ہوئی تھی حدیقہ کی گرفت ابراہیم پر کمزور ہوئی وہ اس سے زرا فاصلے پر گڑی تھی مگر اسے کوئی چوٹ نہیں آئی

ابراہیم کمر پر اٹھتی درد کو فراموش کئیے اٹھنے کی کوشش کرنے لگا تھا

حب حدیقہ ہوش کرتی اٹھی تھی ابراہیم کو چت گڑے دیکھ کر بھاگتے ہوئے اس کی طرف گئی تھی جب بڑے سے پتھر پر پاؤں پھسا اور وہ منہ کے بل گڑی تھی اور زمین پر گرا ٹوٹا ہوا شیشہ اس کے پیٹ میں دھنس گیا

حدیقہ کی دل دہلاتی چیخ پر ابراہیم سب کچھ چھوڑے اس کی طرف بھاگا ۔۔۔۔

“حدی!!! “

انھیں ابھی ہوش آجائے گا مسٹر شاہ مگر۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نے ایک نظر بستر پر لیٹی حدیقہ پر نظر ڈالتے ابراہیم سے کہا

مگر کیا ڈاکٹر ؟؟

“بولیں بھی” ابراہیم غرایا

“ان کے انٹرنل ایریا میں شیشہ دھنسنے کی وجہ سے کچھ حساس رگوں کو نقصان پہنچا ہے ۔۔۔۔”

“تو ۔۔۔۔ “

ابراہیم نے تمام خدشوں کو پس پشت ڈال کر ہمت سے پوچھا

“تو یہ کہ وہ شاید کبھی ماں نہ بن پائیں “

ڈاکٹرز جا چکی تھی مگر حدیقہ کے کانپتے ہاتھوں کو دیکھ کر ابراہیم کا دل دھڑکا

وہ شاید نہیں یقیناً ہوش میں تھی اور سن چکی تھی

“حدیقہ۔۔۔!!” وہ دھیمے سے اسے پکارے اس کے پاس آیا

مگر وہ سپاٹ چہرے سے ایک نظر اسے دیکھ کر آنکھیں موند گئی

اور صرف یہاں تک نہیں اس نے شادی سے صاف انکار

کردیا جاوید فیصل شاہ نے حدیقہ کے انکار پر سر پکڑ لیا حدیقہ دن بہ دن بدلنے لگی اس کا رویہ ابراہیم کے ساتھ سرد سے سرد تر ہونے لگا

صرف اور صرف ابراہیم کے کہنے پر حدیقہ کی شادی کی بجائے ان دونوں کا مقرر دن نکاح ہوا تھا جس پر بھی حدیقہ نے ابراہیم سے وعدہ لیا تھا کہ جب تک وہ خود نہ کہے ان کے درمیان رخصتی کی بات نہیں ہو گی ۔۔۔۔۔

“حال ۔۔۔۔۔!!!”

“ابراہیم نہیں ۔۔۔۔”

“حدیقہ میں نے دو سال خاموشی سے تمہاری تمام بے اعتنائی کو برداشت کیا تمہارے ہر رویہ کو خاموشی سے پی گیا

میں خود کو اس دن کے واقعے کا زمہ دار ۔۔۔۔”

“آپ کی غلطی نہیں تھی حدیقہ نے فوراً اس کی تصیح کی

تو پھر مجھے سزا کیوں دے رہی ہو حدی “

“میں تو سزا سے بچا رہی ہوں آپ کو ابراہیم کیا ملے گا آپ کو مجھ سے شادی کرکے؟!!۔۔۔۔۔ میں تو آپ کو اولاد ۔۔۔۔۔”

ابراہیم کے ماتھے پر بل ڈلے

“تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا وہ ڈاکٹرز انسان تھے رب نہیں “

“اگر تم صرف اس بات کی وجہ سے میرے ساتھ ویسا رویہ اپنائے ہوئے ہو تو تم سے بڑا بےوقوف کوئی نہیں ہے

اور اگر پھر بھی میرے رب کی بھی یہ ہی مرضی ہوئی تو میں اس پر بھی دل و جان سے راضی ہوں “

ابراہیم اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرے بولا

حدیقہ کی آنکھیں پھر سے بھرنے لگی

“بہت رو لیا ہے تم نے اور بہت دیکھ لیا ہے میں نے اب میں ماموں سے ہمارے رخصتی کی بات کروں گا اور ہاں جو ہوا اسے بھول جاؤ تمہارا محافظ تمہارے پاس ہے “

اس کے پر تھوڑی رکھے اسے بہلاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

________

جب سے مما نے اسے گلے لگا کر کہا تھا کہ وہ اس کا رشتہ پکا کر آئے ہیں اس کا دل عجیب سے انداز میں دھڑکنے لگا کانوں میں گھنٹیاں سی بجنے لگی تھی

وہ کھوئی کھوئی سی کمرے میں بیٹھی تھی کب گیارہ بجے اسے علم ہی نہ ہوا

گھڑی پر نظر پڑتے ہی وہ اپنا موبائل تھامے ٹیرس پر آگئی

گیارہ پانچ ۔۔۔!!

گیارہ دس۔۔۔۔!!

گیارہ پنتالیس ۔۔۔!!

مگر حدید کی جانب سے کوئی میسج اسے موصول نہیں ہوا

اسے بے چینی سی محسوس ہوئی

وہ لاشعوری طور پر روز گیارہ بجے اس کے میسج کی عادی ہوگئی تھی

حالانکہ میسج کوئی لمبی لمبی باتوں پر مشتمل نہیں تھے مگر پھر بھی آج تو حیات نے شدت سے انتظار کیا تھا

وہ کمرے میں آئی تو بیڈ پر بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھ لگ گئی

پھر کہیں فجر کے وقت اس کی آنکھ کھلی تھی

اس نے فوراً موبائل اون کیا کوئی میسج نہیں تھا مگر حدید کے سٹیٹس پر آن لائن شو ہورہا تھا

حیات نے خفگی سے فون بند کرکے وضو کرنے کی غرض سے قدم واشروم کی جانب بڑھا لئیے ۔۔۔۔

دوسری جانب حدید اپنے کاموں میں فارغ ہوکر نشاء کے میسج کا جواب دینے لگا

جو اسے مبارکباد دے رہی تھی ۔۔۔