Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 72)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 72)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
رت جگوں سے بھاری ہوتی آنکھیں ارد گرد کا شدید ٹریفک دھوپ کی سفاک گرم کرنیں گاڑی کے سامنے والے شیشے کو چیرتے ہوئے عون ابراہیم کی سرخی مائل آنکھوں پر پڑ رہی تھی وہ کچھ لمحے ماؤف دماغ سے اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھتا رہا ۔
بھیچ سڑک میں گاڑی کھڑی ہونے کی وجہ سے پیچھے اچھا خاصا رش پر چکا تھا لوگ گاڑیوں کا ہارن بجا رہے تھے
مگر عون ابراہیم تو جیسے وہاں موجود ہی نہیں تھا صفا کو ڈھونڈنے نکلا تھا مگر وہ اسے کیسے ڈھونڈے۔۔۔؟
آنکھوں میں نمی سی جمع ہوئی دل میں درد سا اٹھا۔
” میں آپ سے محبت کرنے کے قابل بھی نہیں ہوں صفا میں آپ کو ڈیزرو نہیں کرتا تھا تبھی اللہ نے آپ کو مجھ سے اتنا دور کردیا کہ اب ایسے لگتا ہے عون اور صفا کا اس دنیا میں ایک ہونا نا ممکن ہے “
گاڑی کے دروازے پر زور سے کھٹکھٹاہٹ ہوئی
یہ دستک صرف گاڑی کے دروازے پر نہیں ہوئی تھی عون کے دماغ میں بھی ہوئی تھی
پولیس آفسر پر ایک نظر ڈال کر عون نے پاؤں ایکسیلٹر پر رکھا اور گاڑی زن سے بھگا لے گیا
پیچھے پولیس والا عون کی گاڑی کا نمبر نوٹ کرتے فون ملانے لگا ۔۔۔
ناامیدی میں امید کی ملنے والی ایک کرن ایسی شمع روشن کرتی ہے جس کے گرد پروانوں کی مثال دی جاتی ہے ایک ایسی ہی امید کی شمع عون کے لیے جاگی تھی
“ہیلو السلام علیکم شارف میں تجھے ایک نمبر بھیج رہا ہوں مجھے اس کی لوکیشن ٹریک کر کے دے تیرے پاس پانچ منٹ ہیں “
عون نے کال ملاتے اپنے دوست سے کہا
———-
“مما آپ پریشان مت ہوں یار میں گڑیا کا ہی پتا کر رہا ہوں شجاع بھی میرے ساتھ ہی ہے آپ اپنا اور انابیہ کا دھیان رکھیں اور ابھی کہیں جائیے گا مت میں اپنے تہی دیکھ رہا ہوں معاملہ “
کال کاٹ کر بالاج نے علی بخش کو فون ملایا ۔
سر چند منٹ پہلے ان کا نمبر چل رہا تھا مگر اب بند جارہا ہے
فون بند ہونے سے پہلے لاسٹ لوکیشن کھنڈر علاقے کی شو ہورہی ہے۔
” مجھے لوکیشن بھیجو کرم علی بخش ۔۔۔”
———
“شکریہ حاتم تمہارا مجھ پر احسان رہے گا”
عون حاتم کا تعلق ایف آئی اے سے تھا پولیس والے کو دیکھ کر عون کو سب سے پہلا خیال حاتم کا ہی آیا اور یہ خیال عون کے لیے معاون ثابت ہوا
حاتم نے کچھ ہی دیر میں اسے لوکیشن ٹریس کرکے سینڈ کر دی تھی
“کوئی بات نہیں یار اگر کسی اور مدد کی ضرورت ہوئی تو ضرور بتانا “
“نہیں تمہارا بہت شکریہ”
لوکیش کا پتا کرتے ہی عون نے گاڑی کی سپیڈ خطرناک حد تک بڑھا دی وہ کیسے بھی اڑ کر صفا تک پہنچنا چاہتا تھا خستہ حال زیر تعمیر بلڈنگ جیسے اسے سالوں پہلے ہی بھیچ میں رکوا دیا گیا ہو اور تب سے وہ اسی حالت میں موجود تھی عون گاڑی کو لاک کیئے بغیر ہی تیزی سے بلڈنگ کی جانب لپکا ٹھیک اسی لمحے ایک اور سیاہ گاڑی وہاں آکر رکی بالاج شجاع سمیت گاڑی سے نکلا اس نے بھاگتے ہوئے عون کی پشت دیکھی تھی بالاج کے ماتھے پر کہیں تیوریاں چڑھیں وہ بھی عون کے پیچھے لپکا ۔۔۔
“صفا ۔۔۔ صفا !!!”
عون کی پکار میں تکلیف تھی لوکیشن کے مطابق صفا کو یہاں پر ہونا چاہیے تھا پھر وہ کہاں تھی عون کی نظر لکڑی کے برے حال دروازے پر پڑی اس سے پہلے وہ دروازہ کھولتا کسی نے پیچھے سے اس کا کالر کھینچ کر ایک مکا اس کے منہ پر جھڑ دیا ۔۔۔
“کہاں ہے میری بہن عون ابراہیم ؟”
بالاج کے لہجے میں للکار تھی
عون کی آنکھوں میں کرب سمٹ آیا۔
” کاش مجھے معلوم ہوتا بالاج بھائی کہ صفا کہاں ہیں تو میں آج یہاں تڑپ نہ رہا ہوتا “
شجاع نے قدرے حیران ہوکر عون کی جانب دیکھا بکھرا ہوا حلیہ سرخ آنکھیں زردی مائل رنگ شکن آلود کپڑے کون تھا وہ جس نے صفا کے کڈنیپ ہونے کا یہ اثر لیا تھا
چونک تو بالاج بھی گیا تھا عون کی حالت دیکھ کر مگر وہ نظر انداز کر گیا۔۔۔ تبھی عون کے فون پر رنگنگ ہوئی
فون کی سکرین پر نظر پڑتے اس کی آنکھیں ایسے چمکیں جیسے اسے کوئی خزانہ مل گیا ہو ۔۔۔
“میں ۔۔۔ میں انہیں ڈھونڈ لوں گا بالاج بھائی میں انہیں ڈھونڈ لوں گا”
وہ بالاج کے ہاتھوں کو دبا کر وہاں سے بھاگ نکلا
“یہ کون تھا بالاج ؟ ” شجاع کی آواز پر وہاں سے جاتے بالاج کے قدم سست پڑے
حدید شاہ کا بھانجا ۔۔۔۔ اس ویرانی میں بالاج کی سرگوشی بھی گونج اٹھی تھی ۔۔۔
———-
“قاسم پتا کیا تم نے میری بیٹی کا کہا ہے وہ ؟”
اپنی کرسی پر ٹیک لگائے حدید نے سامنے مؤدب سے کھڑے قاسم کو دیکھا
“جی سر عون صاحب کو لوکیشن بھی بھیج دی ہے ! آپ نہیں جائیں گے ؟ “
قاسم نے کچھ جھجھک کر پوچھا
“مجھے جانا چاہیے ہے کیا ؟”
شکست خوردہ لہجہ قاسم کو خاموش کروا گیا ۔۔۔
———
گھر میں صفا کی پریشانی میں حیا کی طبیعت خراب سی ہورہی تھی انابیہ بھی پریشان حال موبائل پر نظریں جمائے بالاج کی کال کا انتظار کر رہی تھی ساتھ ساتھ انابیہ کی خیریت کی بھی دعا کر رہی تھی ۔۔۔
سر میں اٹھتے درد کے باعث صفا نے سسک کر اپنا سن ہوتا ہاتھ اپنے ماتھے پر رکھا ماتھے سے انگلیوں پر محسوس ہوتی نمی پر اس نے ہاتھ سامنے کیے تو خون آلود ہاتھ دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوئی اس نے ارد گرد دیکھنا چاہا مگر نیم اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پارہی تھی کہ وہ کہاں ہے مگر اس کے ہاتھ پاؤں آزاد تھے وہ جلدی سے اٹھی مگر بائیں پاؤں میں عجیب سی ٹیس اٹھی وہ لڑکھڑائی مگر حوصلہ کرتی آگے بڑھی تبھی کوئی شہ اس کے پاؤں سے ٹکرائی اس کی چیخ بے ساختہ تھی ناخن شاید اکھڑ گیا تھا ۔۔۔
عون نے موبائل پر نظر آتی لوکیشن پر پہنچ کر عجلت سے قدم اندر جانب بڑھائے نیچے اترتی سیڑھیوں پر اس نے پاؤں جمایا چھوٹا سا بیسمنٹ تھا جب اسے نسوانی آواز آئی تھی
صفا وہ دہل کر سسکیوں کو سنتا اس جانب لپکا تھا دل میں خوف جاگا تھا ۔۔۔۔
صفا گھٹنوں کے بل گری تھی درد شدید تھی جو ناخن سے ہوتی پورے جسم میں پھیل گئی تھی اسے رونا آرہا تھا
کوئی نہیں آیا اسے بچانے مگر بھائی تو اس سے رابطے میں تھے نہ جب وہ کڈنیپ ہوئی کیا وہ یہاں پر ہی مر جائے گی
چوہے کی آواز پر اس کی رہی سہی جان بھی ہوا ہوگئی
“صفا ۔۔۔۔ صفا کہاں ہیں آپ ؟ “
تبھی مردانہ آواز گونجی ۔۔۔ وہ آواز جو صفا لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی
جانے کہاں سے صفا میں ہمت آئی تھی وہ پورا زور لگا کر اٹھی
“عون ۔۔۔۔ !!”
اگر عون کی آواز صفا کے لیے امید کی کرن تھی تو صفا کی آواز عون کے لمحہ بہ لمحہ مردہ ہوتے وجود کو زندگی دے گیا
عون صفا کو پکارتے ہوئے دوڑتے ہوئے اس کی آواز کی جانب آیا فون کی روشنی میں نظر آتا عون کا وجود صفا پوری جان لگا کر اس کی جانب دوڑی عون نے سانس تھام لیا تھا جب پوری شدت کے ساتھ اس کے گال پر تھپڑ مار کر وہ اس سے لپٹ گئی اس کی سسکیاں عون ابراہیم کو بیک وقت زندگی اور موت دونوں سے روشناس کروا رہی تھیں
“صفا آپ چاہے ایک اور تھپڑ مارلیں مگر روئیں نہیں عون نے”
اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بے بسی سے کہا
مگر وہ کہاں سن رہی تھی وہ رو رہی تھی شدت سے رو رہی تھی اس کا دوپٹہ ندارد تھا وہ ہوش میں کہا تھی صفا عون نے اس کا سر سہلایا تبھی ان دونوں کو کسی چیز کے گڑنے کی آواز آئی تھی
وہ دونوں چونک کر مڑے وہ دو نہایت ہی موٹے اور بھدے سے شخص تھے
“اے لڑکے ! چھوڑ اسے زندگی پیاری ہے تو یہاں سے نکل جا نہیں تو تجھے بھی مار کر یہی دفنا دیں گے”
ان دونوں میں سے ایک آگے بڑھ کر بولا عون نے صفا کو سائیڈ پر کرتے اس شخص کے منہ پر شدت سے لات ماری
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری صفا کو ہاتھ بھی لگانے گی گھٹیا انسان میں تمہیں جان سے ماردوں گا”
عون اس شخص پر جھپٹ پڑا تھا تبھی اس کا ساتھی عون کی جانب لپکا صفا سامنے پیش آتی صورت حال میں اپنی چیخ روکنے کے لیے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ گئی عون چھوڑ دو انہیں عون صفا چیخ رہی تھی مگر وہ جنونی بنا ان دونوں کو مار رہا تھا ایک کو تو عون نے آدھ مویا کر دیا تھا تبھی اس گنڈے کے ساتھی نے گ۔ن نکال کر عون پر تان لی
“اے شانے! چھوڑتا ہے کہ ماروں تجھے گولی ؟”
گ۔ن دیکھ کر صفا کے ہاتھ پاؤں پھول گئے
“عون چھوڑ دو تمہیں خدا کا واسطہ ہے “
عون صفا نے چیخ کر کہا مگر وہ سن کب رہا تھا اسے تو ان دونوں کو مار دینے کا جنون سوار تھا تبھی گولی کی آواز خاموش بیسمنٹ میں گونجی بالاج اور شجاع تیزی سے نیچے کی طرف بھاگے عون کے سینے سے خون سے رنگینی شرٹ کو دیکھ کر صفا چیخ بھی نا سکی عون ا سکی سرگوشی گونجی وہ دونوں پیچھے کے راستے سے وہی سے بھاگ گئے عون گھٹنوں کے بل گڑا صفا لڑکھڑاتے ہوئے اس تک پہنچی
“عون ۔۔۔ عون!”
صفا کا تنفس بگڑ چکا تھا وہ اس کے پاس بیٹھتی چلی گئی
“صفا میں ۔۔۔ آپ ۔۔۔ سے بہت ۔۔۔ پیار کرتا ہوں۔”
توڑ توڑ کر کہتا وہ صفا کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ گیا
“عون ۔۔۔ !”
صفا نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
“میں۔۔۔ نے آپ سے بہت محبت۔۔۔۔ کی ہے صفا۔۔۔۔ آپ سے۔۔۔۔ دستبردار ہونے والی ۔۔۔۔بات کرکے میں نے ۔۔۔۔آپ سے زیادہ۔۔۔۔ خود کو تکلیف دی۔۔۔۔۔ ہے مجھے معاف کردیں صفا۔۔۔۔۔ میں آپ کی ناراضگی لے کر مرنا نہیں چاہتا۔۔۔۔۔ میں آپ سے بہت ۔۔۔۔۔پیار کرتا ہوں “
“عون ۔۔۔ پلیز نہیں”
عون وہ تڑپ رہی تھی مگر اٹھنے کی ہمت نہیں کر پارہی تھی
“میں ۔۔۔ آپ کی گ۔۔۔گود میں ۔۔”
وہ اتنا ہی بولا تھا صفا نے اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا ہر شہ دھندلی ہوتی جارہی تھی
وہ اپنے ہاتھ پاؤں چھوڑ گئی ۔۔۔ بالاج نے اس طرف آتے خوف سے اس منظر کو دیکھ صفا صفا بالاج صفا کو اٹھائے گاڑی میں لیجانے کے لیے بھاگا شجاع عون کو اٹھاؤ جلدی ۔۔۔۔
———–
حیا ہاسپٹل کے پرئیر روم میں صفا کے لیے دعا مانگ رہی تھیں جبکہ انابیہ بالاج کے پاس کھڑی اسے حوصلہ دے رہی تھی بالاج تھا جس کی نظریں ایمرجنسی روم کی لائٹ کی جانب تھیں ڈاکٹر کے مطابق شدید دباؤ کے باعث صفا کا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا یہ کچھ گھنٹے اس کے لیے بہت نازک تھے ۔۔۔
شجاع جانے کہاں چلا گیا تھا بالاج کو اس کی فکر بھی نہیں تھی اسے بس صفا کی فکر تھی اس کی گڑیا کی فکر
اور ساتھ میں کہیں نہ کہیں عون ابراہیم کی بھی جس کی وجہ سے آج اس کی بہن اس کے سامنے زندہ سلامت موجود تھی ۔۔۔۔
———-
حدید شاہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتا ہوا ہاسپٹل پہنچا تھا ایک جانب اس کا بیٹوں سے بھر کر بھانجا تھا جو گولی کھا کر اوپیرشن روم میں تھا تو دوسری جانب اس کی بیٹی تھی جس کی حالت بھی نہایت تشویش ناک تھی
ابراہیم شاہ بھی ہاسپٹل میں موجود تھے ہمیشہ کی طرح حدیقہ اور فیصل جاوید سے یہ بات بھی چھپا لی گئی تھی مگر کب تک ۔۔۔۔ آخر کب تک ؟
صفا کو ہوش نہیں آرہا تھا بالاج اور حیا کے سانس سوکھ گئے تھے
تبھی اوپریشن روم سے نرس نکلی
” عون ابراہیم کے ساتھ کون ہے ؟ “
بالاج اور حدید ایک ساتھ اس جانب لپکے تھے
“گولی ان کے دل کے قریب لگی تھی جو ڈاکٹرز نے نکال دی ہے وقت پر لانے کی وجہ سے بچت ہوگئی ہے مگر وہ ابھی بھی خطرے میں ہیں ۔۔۔”
حدید شاہ ہارے ہوئی شخص کی طرح کرسی میں بیٹھتے چلے گئے ۔۔۔
———-
جازب کمال کو جیسے ہی صفا کے کڈنیپ اور بے ہوش ہونے کی خبر ملی وہ اور کمال اعوان ہاسپٹل چلے آئے
“آپ کو ریسٹ کی ضرورت تھی انکل ” بالاج نے جازب کے پاس آتے کہا
حدید شاہ جازب کمال کو دیکھ کر لب بھینجتے وہاں سے اٹھے ۔۔
“ریسٹ ہوتا رہے گا بالاج مجھے اس وقت صفا کی فکر ہے یار مجھے بتاتے تو سہی جب تمہیں اس کے کڈنیپ ہونے کی اطلاع ملی اس خرم داد کو میں چھوڑوں گا نہیں “
جازب کمال شدید غصے میں تھے
” پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے انہیں تھوڑی دیر میں روم میں شفٹ کردیا جائے گا کوشش کیجئے گا ایک باری باری جا کر ان سے ملیں ٹینشن والی کوئی خبر انہیں مت دیں اور عون ۔۔۔ کسی عون کا نام وہ نیم بے ہوشی میں بڑبڑا رہی تھیں بہتر ہے آپ انہیں بلا دیں”
ڈاکٹر اپنا اوور آل بازو پر ڈالے انہیں تفصیل دیتی وہاں سے چلی گئیں تبھی وہاں ان کے قریب اتے شجاع کو دیکھ کر بالاج نے پیشانی سہلائی
“ماں پہلے آپ جا کر مل لیں گڑیا سے بالاج نے حیا کو اپنے حصار میں لے کر کہا وہ سر ہلا کر وہاں سے چلی گئیں
مسٹر عون ابراہیم اب خطرے سے باہر ہیں انہیں تھوڑی دیر میں روم میں شفٹ کردیا جائے گا وہ کسی صفا کو پکار رہے ہیں آپ انہیں بلا دیں ۔۔۔”
نرس کے کہنے پر حدید شاہ اٹھ کھڑے ہوئے ابرہیم شاہ نے قدم ہاسپٹل میں ہی بنی مسجد کی جانب بڑھا لیے تھے
شجاع تم میرے ساتھ چلو بالاج شجاع کو کہا جو ماتھے پر بل ڈالے نرس کی بات پر غور کر رہا تھا
———-
“کیا کہنا چاہتے ہو بالاج ؟ “
شجاع کے لہجے میں کھرداہٹ تھی
“یہی کہ میری بہن کے کردار کے بارے میں کچھ غلط سوچنے سے پہلے اصل معاملہ جان لینا اور اگر جاننے میں انٹرسٹ نہیں ہے تو تو یہاں سے جا سکتا ہے میری بہن میرے پر بوجھ نہیں ہے “
بالاج نے صاف لفظوں میں کہا تو شجاع کچھ ڈھیلا پڑا
“تو کیا چاہتا ہے بالاج وہ بے ہوش پڑی کسی شخص کو پکار رہی ہے اور دوسری جانب وہ شخص گولی کھا کر میری منگیتر کے نام کی مالا جھپ رہا ہے میں اسے کیا سمجھوں ؟ تو ہی بتادے “
“وہ حدید شاہ کا بھانجا ہے شجاع وہ صفا کی زندگی میں دھوکے سے آیا تھا “
“مطلب صفا کی زندگی میں ہے وہ ؟”
شجاع نے اس کی بات کاٹ دی تھی
بالاج نے لب بھینج لیے
“میری ماں نے اس رات پارٹی میں تمہارے باپ اور ماں کی ناجائز والی بات سننے کے میرے بہت ترلے کیے کہ میں صفا سے منگنی نہ کروں مگر میں ڈٹا رہا اس دن کے لیے یہ سب دیکھنے کے لیے؟ “
شجاع نے استہزایہ مسکراہٹ سے کہا
بالاج کی آنکھیں حیرت سے واہ ہوئیں اسے شبانہ خاور کا چبتا رویہ یاد آیا
بالاج جانے کیوں مجھے شبانہ باجی میں آبدہ شاہ کی جھلک نظر آتی ہے پھر حیا کے الفاظ ۔۔۔
“جانے وہ کڈنیپ ہونے کے بعد کس حال میں رہی ہوگی ان گنڈوں نے اسے چھوا۔۔۔”
“شجاع ۔۔۔!!” بالاج کی دھاڑ تھی شجاع ایک دم خاموش ہوگیا
“یہ منگنی ختم ہوتی ہے عزت کے ساتھ یہاں سے چلے جاؤ شجاع خاور نہیں تو میں بھول جاؤں گا کہ تم میرے دوست تھے “
بالاج نے ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں سے کہا شجاع سر جھٹک کر وہاں سے مڑنے لگا پھر رکا
“میں اس سے اب بھی شادی کرنے کے لیے راضی ہوں بالاج میں نے محبت کی تھی اس سے “
کیسا غرور تھا شجاع خاور کے لہجے میں کیسا زعم تھا
بالاج کا بس نہیں چل رہا تھا شجاع کو شوٹ کردیتا ۔۔۔
بالاج چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اس کے قریب آیا یہاں تک کہ شجاع کے وجود میں بھی خوف کی لہر دوڑ گئی
“تم چاہتے ہو میں تمہیں کسی سے بھی شادی کرنے کے قابل نہ چھوڑوں شجاع خاور۔۔۔”
وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھے سرد لہجے میں بولا کہ شجاع کو اپنا وجود برف ہوتا محسوس ہوا
بالاج مضبوط قدم اٹھاتا وہاں سے نکل گیا پیچھے شجاع بھی سر پر ہاتھ پھیرتا ہاسپٹل سے ہی نکل گیا عجیب سی چڑچڑاہٹ ہورہی تھی اسے ہر چیز سے
———-
بالاج صفا سے ملنے کے بعد عون کے کمرے میں آیا
اپنی آنکھوں پر بازو ٹکائے عون نے بالاج کی موجودگی کو محسوس کیے بازو کو آنکھوں سے ہٹا کر بے تابی سے صفا کے بارے میں پوچھا
“کیسی ہیں صفا ؟ بالاج بھائی وہ ٹھیک ہیں نہ آپ پلیز میری مدد کریں گے اٹھنے میں مجھے انہیں دیکھنا ہے ؟ “
“صفا کو کیوں چھوڑا تھا ؟” عون بالاج کے سوال پر ایک دم خاموش ہوگیا
نظریں ہاسپٹل کے وائٹ واش سیلنگ پر جم گئیں
“تم سے پوچھ رہا ہوں عون ابراہیم کیا کہاں تھا تم نے آج سے پانچ دن پہلے صفا کو کہ وہ منگنی کے لیے راضی ہوگئی ؟ “
بالاج کے لہجے میں اب کے سختی تھی ۔
عون نے آنکھیں مینچی
“آزادی کا پروانہ دیا تھا انہیں اپنی محبت سے آزاد کردیا تھا”
بولتے ہوئے عون کی آواز کانپ سی گئی تھی وہ لمحہ اس کی زندگی کا سب سے ہیبت ناک لمحہ تھا
“بس اتنی سی محبت تھی ؟ “
بالاج نے مٹھی لبوں پر رکھ کر سنجیدگی سے کہا
“محبت نہیں ختم ہوئی تھی بالاج بھائی خوف بھاری پر گیا تھا “
“کیسا خوف ؟ “
“میں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ ماموں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہیں مگر انہوں نے صاف انکار کردیا مجھے یہ ہی خوف لاحق ہوگیا تھا کہ کہیں ہمارے رشتے کے درمیان میری ماموں سے محبت نہ آ جائے کہیں میں صفا کو ان کے ماضی میں لٹکا کر امتحان میں نہ ڈال دوں “
“اس خوف کے زیر اثر تم نے اسے زندگی کا سب سے بڑا غم دے دیا ۔۔”
بالاج نے افسوس کرتے ہوئے کہا
یہ خوف نہیں یہ بزدلی تھی عون بالاج کو حقیقتاً اس پر ترس آیا
“مجھے معاف کردیں بالاج بھائی میں نہیں رہ سکتا ان کے بغیر یہ ڈھائی دن میں نے زندگی اور موت کے درمیان گزارے ہیں انہیں کسی اور کا سوچ کر سانس اکھڑنے لگتی ہے پھر زبردستی سانس لیتا ہوں تو صرف اپنے ماں باپ کے لیے اپنے ماموں کے لیے “
عون نہیں جانتا تھا اپنے ماموں کا بار بار ذکر کرکے وہ بالاج کو کس اذیت میں ڈال رہا تھا مگر وہ مضبوط تھا تبھی آج پھر اپنی بہن کی خوشی کے لیے اسی در پر موجود تھا
“صفا کی منگنی ٹوٹ گئی ہے “
بالاج نے یک دم کہا عون جھٹکا کھا کر اٹھا پھر درد سے کراہ کر بیڈ پر گڑا
“کی۔۔۔کیسے ۔۔۔ کیوں صفا ٹھیک ہیں نہ ؟” وہ بے یقینی سے بولا
“شجاع اور اس کے گھر والے صفا کی عزت خراب ہونے کی خبر سن کر منگنی ۔۔۔”
“خدا کے لیے چپ کر جائیں بالاج بھائی” عون نے تڑپ کر کہا
اس کی سانسیں تیز ہوگئی تنفس بکھرنے لگا
بالاج نے لب کا کونا دانتوں تلے دبایا یہ آخری امتحان تھا عون کے لیے صفا کو پانے کا جس سے وہ بے خبر صفا پر ٹوٹتی قیامت کا سن کر بے قابو ہورہا تھا
“جواب دو عون ابراہیم اس کنڈیشن میں تم کیا کرتے کیا تم میری بہن کو ۔۔۔؟”
“صفا۔ ۔۔ صفا ٹھیک ہیں نہ؟ انہیں کچھ پتا تو نہیں ہے خدا کے لیے بالاج بھائی انہیں مت بتائیے گا وہ بکھر جائیں گی، نہیں انہیں نہیں بتانا “
وہ بیڈ سے زور لگا کر اٹھ ہی چکا تھا
“وہ ٹوٹ جائیں گی وہ سر نہیں اٹھا سکیں گی کسی کو مت بتائیے گا ڈاکٹر ڈاکٹر کو پیسے دے دیں صفا کو نہیں بتانا”
وہ پاگل ہوچکا تھا وہ گر جاتا اگر بالاج اسے نا تھامتا
“صفا مجھے دے دیں بالاج بھائی میں ان کی جان سے بھر کر حفاظت کروں گا “
عون نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑے جب بالاج نے اسے گلے سے لگا لیا عون کے آنسو بالاج کی گردن کو بھگو رہے تھے
“وہ ٹھیک ہے عون ریلیکس وہ ٹھیک ہے کچھ نہیں ہوا اسے وہ ٹھیک ہے وہ بھی اس کی عزت بھی”
بالاج نے عون کی پیٹھ سہلائی تو عون کا ہچکولے کھاتا وجود ساکت ہوا
“وہ ان لوگوں کے گندی سوچوں سے نکل کر اپنے اصل حقدار کے پاس ہی جائے گی جسے اللہ نے اس کے لیے چنا ہے۔۔”
بالاج نے عون کو بیڈ پر بیٹھایا
“اب تم آرام کرو اور جلدی ٹھیک ہوکر اپنی صفا کو لیجانے کی تیاری کرو “
وہ عون کا گال تھپتھپا کر اٹھا جو کتنے ہی لمحے بے یقین سا بستر پر لیٹا رہا پھر اس نے خود کو تھپڑ دے مارا وہ یقین کرنا چاہ رہا تھا جو ہوا ہے وہ سب حقیقت میں ہی ہوا یاں اس کا خواب تھا مگر نہیں یہ تو حقیقت تھی
وہ بیڈ پر ہی سجدہ ریز ہوگیا ۔۔۔۔
