Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 4)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 4)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
عون تم چلو مجھے چند کتابیں خریدنے اپنے دوستوں کے ساتھ جانا ہے ساتھ نوٹس بھی لینے ہیں
ہاتھ جھاڑ کر صفا وہاں سے اٹھی
میں بھی چلو؟؟ عنون نے بے تابی سے کہا
تمہارا وہاں کیا کام عون تم لیکچر لو اپنا
مگر ۔۔۔۔۔ ابھی کچھ کہتا صفا کا فون بجا تھا
ہیلو سارا ہاں میں آرہی ہوں علی آگیا ؟؟؟ ۔۔۔۔۔ افف یہ انسان ہر جگہ لیٹ کرواتا ہے
علی؟؟ عون نے پہلو بدلا یہ علی کون ہے ؟؟ دماغ میں کھلبلی سی مچی تھی
اوکے میں آئی سارا پانچ منٹ بس
چلو ٹھیک ہے عون میں چلتی ہوں فون بند کرکے اپنا بیگ اٹھایا
ہمم۔۔۔جی ٹھیک ہے صفا دھیان سے جائیے گا ۔۔۔۔
پر سوچ نظریں جاتی ہوئی صفا پر ڈال کر وہ بھی اٹھا ۔۔۔
_____
بالاج کے آفس میں اینٹر کرتے ہی شجاع اٹھ کر اس کے گلے لگا تھا
ویلکم بیک ڈوڈ !!!
بالاج نے بھی بھرپور گرم جوشی دیکھائی
لگتا ہے باہر کی ہوا راس آگئی یے اور بھی زیادہ ڈیشنگ ہوگیا ہے تو
شجاع نے اس کے خوبرو چہرے پر نظر ڈالی
کتنی یوں کے دل توڑے پھر ان دو سالوں میں
شجاع نے آنکھ دبا کر کہا شرارت سے کہا
بالاج خان دل پھینک کبھی بھی نہیں رہا اس خان کی ایک ہی امانت ہے جب اس کے قابل بن جائے گا اسے پا لے گا
ہاں ہاں خان کا ایک ہی دل ہے جس میں فقط ایک ہی لڑکی دھڑکتی ہے باقی کا جملہ شجاع نے کہا
تو بالاج کو اپنا تھوری دیر پہلے والا غصہ یاد آیا مگر جتنی وہ ضدی تھی
آہ۔۔۔۔۔۔ بالاج گہرا سانس بھر کر رہ گیا وہ پہلے ہی خفا تھی اس سے اس نے اور بدگماں کردیا
خیر ابھی اس سے بھی زیادہ ضروری کچھ تھا جس کا پایہ تکمیل
تک پہنچنا ضروری تھا ۔۔۔۔
اچھا بتا آنٹی کیسی ہیں باقی سب کیسے ہیں مصروفیات کی وجہ سے چکر نہیں لگ سکا آوں گا آج
شجاع اگر اس طرح اس کے گھر کی بات کر رہا تھا تو یقیناً وہ کوئی غیر نہیں تھا اس کے بچپن کا ساتھی تھا جس نے تب اس کا ساتھ دیا تھا جب وہ کچھ بھی نہیں تھا
شجاع اور اس کی فیملی کا بہت احسان تھا اس پر جو وہ کبھی بھول کر بھی فراموش نہیں کرسکتا
ضرور تمہارے لیے میرے گھر کے دروازے ہمشیہ کھلے ہوئی ہیں
نوازش آپ کی تو بیٹھ میں تجھے فائل دیکھاتا ہوں اور باقی میٹنگز کا بھی تفصیل سے بتاتا ہوں پہلے تو یہ بتا کافی یاں چائے ؟؟
ہمم !!۔۔۔۔ بلیک کافی
تو نے میرا کام کیا شجاع ؟؟ یکلخت بالاج کا لہجہ سنجیدہ ہوگیا
یس ڈوڈ تیرا کام ہوگیا ریزلٹ تجھے شام کو مل جائے گا
تو یہ بتا مجھے کیا ملے گا شجاع نے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا
بالاج نے اسے گھور کر دیکھا جو تو مانگے گا پیپر ویٹ گھماتے گہری سوچ میں غرق بالاج نے بس ایک نظر اس پر ڈالی تھی ۔۔
چل پھر یاد رکھی وقت آنے پر مانگوں گا تجھ سے شجاع نے دل میں ایک من موہنی سی صورت کو سوچتے ہوئے بالاج سے کہا ۔۔۔
______
لاہور کا یخ بستہ ٹھنڈا موسم جس میں ہڈیاں بھی ٹھرٹھرا جائیں ایسے میں نیم اندھیرے میں ڈوبے کمرے کا تیز رفتار میں چلتا پنکھا کمرے کو مری کا ماحول بنائے ہوئے تھا ملازم ہاتھ میں تھامی ہوئی ٹرے لے کر دروازہ ناک کرکے کمرے میں آیا
واشروم سے پانی گڑنے کی آواز آرہی تھی
اندر کا بیک وقت خواب ناک اور خوفناک ماحول اوپر سے تیز چلتا پنکھا ملازم نے بے ساختہ جھرجھری لی تھی وہ سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھ کر وہاں سے فوراً نکل گیا کیونکہ اس کمرے کے مالک کو اپنے کمرے میں کوئی دوسرا وجود منظور نہیں تھا
ملازم کے جاتے ہی واشروم کا دروازہ کھلا تھا باتھ روب میں موجود شخص شیشے کے سامنے آیا باتھ روب اس نے اپنے بائیں کندھے سے کھسکایا ایک لمبی ابھری لکیر اس کی گردن سے شروع ہوکر سینے پر دل کے مقام تک موجود تھی
سخت ہاتھ سے اس لکیر کو دبا کر درد محسوس کرنا چاہا مگر کچھ محسوس نہ کرسکا ۔۔۔۔۔
سر جھٹک کر اپنے کپڑے تھام کر ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا
چینج کرکے دوبارہ شییشے کے سامنے آئے اپنے سیاہ اور گرے بالوں کو سیٹ کیا ہلکی بیرڈ پر بھری ہوئی گرے مونچھوں پر انگلی پھیری بھوری آنکھوں کے پپوٹے کے گرد ہلکی ہلکی جھریوں کی ماند لکیریں تھی ان لکیروں پر انگلی پھیری تو استہزایہ سی مسکراہٹ لبوں پر آئی
گالوں میں ابھرتا ڈمپل پہلے سے گہرا ہوگیا تھا
پھر نفی میں سر ہلا کر اپنا کورٹ پکڑ کے دروازہ کھول کر وہاں سے نکل گئے ۔۔۔۔
______
حدید شاہ !!! اپنی ماں کی آواز پر حدید شاہ کے قدم تھمے تھے
گردن موڑ کر ضعیف سے وجود کو دیکھا اور چل کر ان کے قریب آیا ۔۔۔۔۔
تمہاری بات ہوئی ” اس سے “؟؟
لہجے میں بلا کی آس تھی حدید نے نفی میں سر ہلایا
اسے میری خاطر ادھر بلا لو حدید میں اسے ملے بغیر مرنا نہیں چاہتی
وہ اپنی زندگی میں خوش ہے ماں اسے ادھر بلا کر کیوں اس کی زندگی برباد کرنا چاہتی ہیں
کاٹ دار لہجے میں کسک تھی
ماضی کی کسک
بہت بدنصیب ماں ہوں میں اور یہ ہی بدنصیبی میری اولاد کی مقدر بن گئی مجھے معاف کرنا حدید
انہوں نے ہاتھ جوڑ دئیے
پرانی باتیں دہرا کر کچھ حاصل نہیں ماں میں بھول گیا ہوں آپ بھی بھول جاؤ
سپاٹ لہجے میں کہا
میں آج اسلام آباد جارہا ہوں تین دنوں کے لیے آپ اپنا دھیان رکھیے گا سفاک بنا وہاں سے چلا گیا پیچھے مائدہ بیگم صوفے کی پشت پر سر ٹکا گئی
انہیں شاہد یوں ہی موت آجانی تھی بغیر اپنے گناہوں کا ازالہ کئیے ۔۔۔۔۔۔
_______
بہت بہت مبارک ہوں ایڈوکیٹ حیا خان صاحبہ آخر کار آپ فتح یاب ہوئی
یہ کیس واقع بہت کٹھن تھا ایڈوکیٹ جازب اس وقت ان کے ساتھ کورٹ کی راہ داری عبور کر رہے تھے
شکریہ جازب اعوان صاحب یہ سب اللّٰہ کا کرم ہے مجھ پر اور آپ نے سنا ہی ہوگا سچ اپنا آپ منوا ہی لیتا ہے
وہ دونوں حیا کے آفس میں آئے ۔۔
جی بے شک!!! خیر آپ سے ڈیڈ اور میں نے ایک کیس کے بارے میں ڈسکیشن کرنی تھی آپ اپنا قیمتی وقت ہمیں دے گی ؟؟
جازب صاحب اگر آپ فارمیلٹی نبھائیں گے تو ایڈوکیٹ حیا خان کو بہت سارے کام ہیں اور اگر اعوان انکل بغیر تکلف کے اپنی شاگردہ کو طلب کررہے ہیں تو حیا خان حاظر ہے ۔۔۔
اپنی آئی سائٹ گلاسز اتار کر ٹیبل پر رکھتے حیا نے اپنے دونوں ہاتھوں کو باہم ملا کر کہا
جازب اعوان کی آنکھیں مسکرائی تھیں
سفید ڈوبتے کے حالے میں چمکتا چہرہ شاداب تھا وہ ہر گز دو جوان بچوں کی ماں نہیں لگتی تھی
وہ سبز آنکھیں اسے اپنی جانب کھینچتی تھی مگر وہ ہمیشہ نظریں چرا لیا کرتے تھے کہیں حیا خان ان کو غلط نہ سمجھ لے اور جازب ایک بہترین ایڈوکیٹ ساتھی سے ہاتھ دھو بیٹھے
جی بے شک وہ آپ کا ہی گھر ہے مس حیا آپ جب مرضی آئے آپ
کمال انکل جب فری ہو مجھے بتائیے گا میں وہاں آجاؤ گی
آپ کچھ لین گے چائے کافی ؟؟
حیا نے فون اٹھا کر پوچھا
نہیں شکریہ مس حیا کچھ نہیں
اپنی فائلز کو ترتیب دے کر ڈیسک میں رکھا چند ضروری سامان کو دراز میں ڈال کر تالا لگا
اور اپنی ڈیسک سے گاڑی کی چابی پکڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی
اب مجھے اجازت دیں اعوان صاحب مجھے اب نکلنا ہے
جی ضرور جازب اعوان بھی وہاں سے اٹھ گئے ۔۔۔۔
______
صفا ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر آئی تھی اور آتے ساتھ ہی اپنا سامان لے کر اپنے کمرے میں آگئی آج بہت عجیب حرکت ہوئی تھی اس کے ساتھ اسے مال میں اور پھر بک سٹور میں ہر وقت یہ ہی محسوس ہوتا رہا جیسے وہ کسی کی نظروں کے حصار میں ہے ۔۔۔مگر تب اس نے سیریس نہیں لیا مگر اب وہ سوچ میں پر گئی وہ ان معاملات میں لاپرواہی نہیں برت سکتی تھی کیونکہ بالاج نے سختی سے اسے اور انابیہ کو تلقین کی تھی
ہوسکتا ہے میرا وہم ہو ۔۔۔۔۔ اگر دوبارہ ایسا کچھ محسوس ہوا تو بھائی کو ضرور بتاؤ گی
اپنی کتابیں بک شیلف میں لگا کر تھوڑی دیر آرام کرنے کی غرض سے وہ لیٹ گئی ۔۔۔۔
_______
حیا جیسے ہی لاونج میں آئی ملازمہ اس کے لیے پانی لے کر آئی
میم آپ کے لیے کھانا لگاؤ ؟؟
شبنم (ملازمہ ) نے پانی کا کھالی گلاس میں ٹرے میں رکھتے ہوئے پوچھا
آہ نہیں شبنم ابھی نہیں بچیوں نے کھانا کھایا ؟؟
اپنا کورٹ اتار کر صوفے پر رکھا
جی میم وہ صفا میڈیم تو ابھی تھوڑی دیر پہلے آئی ہیں اور کمرے میں چلی گئی میں نے ان سے پوچھا تھا مگر انہوں نے ریسٹ کرنے کا کہ دیا
اچھا اور انابیہ؟؟
وہ ۔۔۔۔میڈیم وہ کافی دیر پہلے آئی تھی اور کافی غصے میں بھی لگی تھیں میں ان سے پوچھنے کے لیے بھی گئی تھی مگر انہوں نے جواب نہیں دیا
شبنم کچھ کترا کر بولی
کیا ؟؟ غصے میں
ایک دم حیا کے دماغ میں بالاج کے ساتھ اس کی واپسی یاد آئی تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں شبنم حد ہوگئی
وہ اپنی فائلز تھامے اوپر کی جانب بھاگی تھیں
______
محبت کے سفر میں کوئی بھی رستا نہیں دیتا
زمیں واقف نہیں بنتی فلک سایا نہیں دیتا
خوشی اور دکھ کے موسم سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں
کسی کو اپنے حصے کا کوئی لمحہ نہیں دیتا
نہ جانے کون ہوتے ہیں جو بازو تھام لیتے ہیں
فیصلہ جو کچھ بھی ہو منظور ہونا چاہئے
جنگ ہو یا عشق بھر پور ہونا چاہئے
مصیبت میں سہارا کوئی بھی اپنا نہیں دیتا
اداسی جس کے دل میں ہو اسی کی نیند اڑتی ہے
کسی کو اپنی آنکھوں سے کوئی سپنا نہیں دیتا
اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا بدن فخریؔ
کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا
آنکھ سے آنسو نکل کر کنپٹی پر بہہ گیا
مما ۔۔۔۔ بابا
دل چلا اٹھا
آنکھیں اشک بار ہوئی
لب پھڑپھڑائے
زبان سسک اٹھی
کمرے میں آتے ہی اس نے پیشانی سے نکلتے خون کو کوٹن سے روکنا چاہا مگر وہ تھا کہ رستا جارہا تھا پھر اس نے خون آلود روئی ہوں ہی ڈسٹ بن میں پھینکی اور پانی کے چھٹے مار کر اس کے اوپر سنی پلاسٹ لگا لیا
شیشے میں اپنی نم الاود آنکھیں دیکھ کر جب اس کی
نظر اپنے دائیں ہاتھ کی جانب اٹھی تو عمیر سے ہاتھ ملانے سے بالاج کے تھام تھامنے کا منظر آنکھوں میں چمکا
غلط کیا تھا میں نے غلط نہ میری غلطی تھی نہ رگڑ رگڑ کر اپنا ہاتھ دھونے لگی کابھی صابن سے جب نہیں دل بھرا تو شیمپو کی آدھی بوتل ہاتھ میں الٹ دی اور باڈی لوفا سے ہاتھ رگڑنے لگی یہاں تک کہ اس کا ہاتھ سرخ ہوگیا اور زخمی بھی
ہاتھ یوں ہی چھنک کر بستر میں آکر لیٹ گئی
اور اس کی آنکھ لگ گئی
______
حیا نے دروازہ کھٹکایا
بیو ۔۔۔۔بیو چندہ دروازہ کھولو میری جان
حیا نے پھر دروازہ بجایا
چندہ مجھے ٹینشن ہورہی ہے دروازہ کھولو نہ بچے
پانچ منٹ دروازہ بجانے کے بعد بالآخر دروازہ کھلا تو حیا کی جان میں جان آئی
انابیہ نیند میں کھٹکے کو محسوس کئیے بھاری سر سے اٹھی تھی دروازہ کھولا تو حیا فوراً اس گلے لگی میری جان ہی نکل گئی تھی بیا اتنی دیر کون لگاتا ہے دروازہ ۔۔۔۔۔۔
باقی کے الفاظ اس کی پیشانی پر لگے سنی پلاسٹ اور اس میں سے لکیر کی صورت میں جمے خون کو دیکھ کر حیا کے لبوں میں پھس گئے تھے
یہ ۔۔۔یہ کیا بیا یہ کیسے ؟؟
کچھ نہیں مما بس چوٹ لگ گئی گلا بیٹھنے کے سبب بھاری ہوتی آواز حیا کو اور ہی تشویش میں ڈال گئی تھی
انابیہ مجھے بتاؤ کہیں بالاج نے ؟؟ دل پر بوجھ پڑا بالاج کیسے نہیں نہیں دل نے فوراً نفی کی تھی
مما کی یاد آرہی ہے
انابیہ آنکھیں میچ گئی
حیا کے دل میں درد اٹھا تھا میری جان اسے خود میں بھینچ گئی
انابیہ بچے میری طرف دیکھو میں ہوں نہ تمہاری مما
(اگر یہ بالاج کی وجہ سے ہوا ہے تو میرا وعدہ ہے اس کی سزا اسے میں خود دوں گی دل ہی دل میں اسے دیکھ کر کہا جس نے بالاج کے خلاف کچھ نہیں کہا )
چلو اسے پیار سے بیڈ پر بٹھا کر خود اس کی ڈریسنگ کی اور پین کلر بھی دی میں تمہارے لیے کچھ لائٹ سا بناتی ہوں پھر میں اپنی چندہ کو اپنے ہاتھوں سے کھلاوں گی اس کے ماتھے پر لب رکھ کر اسے لٹایا ۔۔۔۔
______
رات کے آخری پہر اپنے ماتھے پر انگلیوں کی سرسراہٹ محسوس کئیے انابیہ کی نیند ٹوٹی تھی سر ہنوز بھاری ہورہا تھا جب انگلیوں کی سرسراہٹ ماتھے سے ہوتی آنکھوں اور انکھوں سے ہوتی گال پر آئی تو انابیہ کی جان نکلی
پلکیں لرزہ گئی
وہ ہی سٹرونگ کلون کی خوشبو ۔۔۔۔
دل کی دھڑکن سست پڑی
وہ بے حد قریب تھا
پتا نہیں مما نے کیا کہا ہوگا
تبھی
بالاج نے اس کا سرخ ہوتا ہاتھ تھاما ان زخموں پر دھیرے سے انگلی پھیری پھر انہیں اپنے چہرے کے قریب لے آیا اس ہاتھ کو لب سے چھو کر اس پر گرفت تھوڑی سخت کی
انابیہ نے سسکی لی
بالاج نے گرفت پھر سے نرم کردی اور جھک کر سرگوشی اس کی سماعتوں پر انڈیلی
خود کو چوٹ پہنچا کر اچھا نہیں کیا تم نے مسز بالاج
