212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 52)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

آبدہ شاہ کو پیرالائز اٹیک ہوا تھا ۔۔۔ یہ خبر کسی دھماکے سے کم نہ تھی ابھی حدید کے موبائل پر قاسم کا فون آیا تھا جسے عون نے اٹھایا تھا مگر فون اٹھاتے اگلی خبر جو اسے ملی تھی وہ سانس روک گیا اس کی دادو پیرالائز ہوگئی ہیں یہ کیسی آزمائش آگئی تھی اس پر اس کے تمام گھر والوں پر

ایک طرف وہ حدید کی طبیعت کے سنبھلنے کا انتظار کر رہا تھا تو دوسری جانب صفا کی اِطلاح نے اس کا دماغ ماؤف کردیا اور اب آبدہ شاہ

“کیا ہوا ہے عون؟ ” ابراہیم شاہ اس کے چہرے پر نظریں جمائے

فکر مندی سے پوچھنے لگا عون کی اڑتی رنگت کسی بری خبر کی نوید دے رہی تھی

“بابا، نانو کو پیرالائز اٹیک ہوا ہے ! ” عون نے سر جھکا کر تھکے تھکے سے لہجے میں کہاں

“یا خدا یہ کیسی آزمائش ہے” ابراہیم شاہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے

ایک طرف بیٹا بیڈ سے لگا ہوا تھا تو دوسری طرف ماں بھی محتاج ہوگئی تھی جبکہ انھیں اس وقت حدید کی سب سے زیادہ ضرورت تھی مگر اب یہ کہاں ممکن تھا

انھوں نے بہت سوچ کر حدیقہ شاہ کا نمبر ملایا

_______

“ہیلو حدیقہ “

“السلام علیکم ابراہیم کیسے ہیں آپ بھائی کیسے ہیں ؟ “

“حدیقہ میری بات غور سے سنو “

ابراہیم نے سلام کا جواب دیئے بغیر سنجیدگی سے حدیقہ کو پکارا

یہاں حدیقہ کے ہاتھ لرزے بھائی کا خیال آتے ہی ان کے پیروں سے جان نکلنے والی ہوگئی

“حدیقہ سن رہی ہو”

“ج۔جی ابراہیم “

ان کے لہجے کی لرزش پر ابراہیم نے گہرا سانس بھرا

“حدید بالکل ٹھیک ہے حدیقہ میں تمہاری بات بھی کروا دیتا ہوں مگر اب توجہ سے سنو “

بھائی کی خیز خیریت کا جان کر وہ کچھ پرسکون ہوئیں

“جی ۔۔!”

“تمہیں میں نے ایک ایڈریس ٹیکسٹ کیا ہے وہاں پہنچو “

“یہ تو کسی ہاسپٹل کا ایڈریس ہے “

حدیقہ نے کال کے دوران ہی واٹس ایپ اوپن کیا تھا

ہاں آبدہ آنٹی ہاسپٹل میں ہیں

“آبدہ آنٹی ۔۔۔۔آبدہ آنٹی” حدیقہ نے دو دفعہ غائب دماغی سے دہرایا

“ماں !”

حدیقہ فق چہرے سے بولی

” می۔۔۔میں جاتی ہوں ” وہ فون کاٹنے لگی جب دوبارہ ابراہیم کی آواز آئی

“بابا کو ساتھ لے جانا حدیقہ اور اپنا خیال رکھنا مجھ سے رابطے میں رہنا “

“اوکے ابراہیم “

________

“فائزہ “

اپنے نام کی پکار پر اپنے خیالوں میں کھوئی فائزہ نے چونک کر گھٹنوں میں دیا سر اٹھایا

سورج کی تیز کرنوں نے لمحے میں اس کی بینائی کو متاثر کیا تھا

سامنے کھڑے وجود کا چہرہ روشنی کی تیز چمک کے باعث دھندلا سا گیا تھا

“فائزہ “

مگر یہ آواز اور یہ منظر تو بہت شناسا سا لگا

فائزہ کو لگا وہ اپنے خواب کے زیر اثر ہے وہ ہی خواب کو وہ اپنی ماں کے انتقال سے پہلے روز دیکھتی تھی

جب اس کی ماں کہتی تھی کہ اس کا شہزادہ آئے گا وہ یوں ہی پھولوں سے بھرے باغیچے میں بیٹھی اپنے شہزادے کی راہ تکتی بیٹھی ہو گی اس کا شہزادہ اسے پکارے گا

“فائزہ !”

شجاع نے اپنا ایک گھنٹہ لان کی مٹی کے اوپر بچھی گھاس کی دبیز تہہ پر رکھا

اور قریب ہوکر فائزہ کو پکارا

وہ جیسے ٹرانس کی کیفیت سے نکلی تھی

اس نے چونک کر اپنے خواب میں کبھی نہ واضح ہونے والے چہرے کو آج دیکھا تھا اس نے باقاعدہ آنکھیں دو بار مسلیں جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو

“کیا ہوا فائزہ یہاں کیوں بیٹھی ہو اور یوں ننگے پاؤں “

شجاع نے اس کے سفید پیرؤں پر لگی مٹی کو دیکھ کر استفسار کیا

“میں ۔۔۔۔ میں ویسے ہی” فائزہ ایک دم سے کھڑی ہوئی اسے شروع دن سے شجاع کی موجودگی میں عجیب سی گھٹن ہوتی تھی جسے وہ کوئی بھی نام دینے سے قاصر تھی

“تم ٹھیک ہو نہ فائزہ ؟” لہجے میں ہمدردی تھی

میں ٹھیک ہوں اس نے اپنے کپڑے جھاڑے اور وہ تیزی سے اس کے پاس سے نکل گئی

شجاع نے حیرانگی سے فائزہ کی پشت کو دیکھا وہ محسوس کر چکا تھا کہ شائد فائزہ کو اس سے بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تبھی وہ بھی کندھے اچکا کر باہر آفس کے لیے نکل گیا اب چونکہ بالاج شہر میں موجود نہیں تھا تو فلحال اسلام آباد والے آفس کی تمام تر زمہ داریاں اس کے اوپر تھیں ۔۔۔۔

_______

اپنی کمرے میں آتے ہی اس نے اپنا دوپٹہ اتار کر بسترے پر پھینکا اور گندے پیروں سمیت ہی بسترے میں لیٹ گئی

“ماں آپ نے تو کہا تھا شہزادہ آئے گا محبت کرے گا فکر کرے گا

مگر یہاں تو ہمدردی ، بے اعتنائی اور لاپرواہی کے سواہ کچھ نہیں ہے آپ کی فائزہ کے لیے کچھ بھی نہیں !”

_______

“بابا “

حدیقہ فیصل جاوید کے کمرے میں آئی

ہاں بچے وہ ابھی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تھے

“بابا ہسپتال جانا ہے “

حدیقہ نے ان کی بھوری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

“ہسپتال۔۔؟! خیریت عون اور ابراہیم کہاں ہیں “

سب ٹھیک ہے حدیقہ وہ اٹھ کھڑے ہوئے

“حدید بھائی عون کے پیچھے لاہور گئے ہیں وہ داراصل ماں ہسپتال میں ہیں “

حدیقہ نے جانچتی نگاہوں سے فیصل جاوید شاہ کو دیکھا تھا

جہاں واضح فکر مندی پھیلی تھی

“ماں کو پیرالائز اٹیک ہوا ہے ہمیں نکلنا ہے جلدی کریں “

حدیقہ کے کہتے ہی وہ بھی عجلت سے اٹھے تھے

________

“علی بھائی “

علی بھائی کو مضطرب سا اپنے کمرے میں چکر لگاتے دیکھ حیات ان کے پاس آئی

” سب ٹھیک ہے بھائی ؟”

“تم نے میری والی بات کیوں چھپائی حیات “

علی بھائی نے سنجیدگی سے حیا کے چہرے کی جانب دیکھا

جو بے یقینی سے اپنی بڑے بھائی کا چہرہ تک رہی تھی

“آپ جانتے ہیں کیسے ؟ “

“باہر تمہارے بچے بیٹھے ہوئے تھے اس لیے بابا والی بات کا تذکرہ نہیں چھیڑا “

“تمہاری بتائی ہوئی تاریخ کے کچھ دنوں بعد آبدہ شاہ آئی تھی ہمارے گھر انھوں نے آتے ساتھ ہی تمہارا پوچھا تھا

جب ہم سب نے لا علمی کا اظہار کیا تو انھوں نے تمہارے خلاف غلاظت بکنا شروع کردی کہ تم پانچ دنوں سے لاپتا ہو کسی کے ساتھ چلی گئی ہو وہ بچہ تم سے چھین کر رہیں گے وہ بچہ ان کی نشاء کا ہے اپنے غصے میں انھوں نے نشاء اور حدید کے رشتے کو بھی واضح کردیا تھا

بابا یہ سب برداشت نہ کر سکے اور اسی رات تمہارے دکھ میں دنیا سے چلے گئے

ہمیں تمہاری غیر موجودگی کھٹک رہی تھی میں نے اور عدنان نے شاہ مینشن کے بہت چکر لگائے

مگر گارڈ ہمیں اندر نہیں جانے دیتا تھا “

میں نے پولیس سے رابطہ کیا تو اگلے دن پولیس نے عدنان کو فرضی کیس ڈال کر تھانے میں بند کردیا ہم جان گئے تھے ان سب کے پیچھے کون ہے ایک روز مجھے حدید کی پہلی بیوی ملی تھی نشاء

_______

علی بھائی نشاء کو دیکھ کر فوراً اس کے پاس آئے

اس سے پہلے ڈرائیور یاں گارڈ علی کو روکتے نشاء نے ہاتھ کا اشارہ کرکے انھیں روک دیا

“بولو بھگوڑی بہن کے بھائی “

نشاء کے لہجے میں رعونت تھی تکبر اور حقارت تھی

“جھوٹ بول رہے ہو تم لوگ میری بہن شاہ ہاؤس میں قید ہے کیون کر رہے ہو تم لوگ ایسا ؟”

علی بھائی اپنی ہمت کھو رہے تھے ان کے لہجے میں تڑپ تھی

“حیات تمہارے ہی کیئے کا بھگتان بھر رہی ہے “

“میں ؟”اس کی بات پر حیران تھا

پھر اس نے میری طرف اپنا موبائل بڑھایا وہ سی سی ٹی وی فوٹیج تھی جس میں تم احمد۔۔۔۔ بالاج کو گود میں لیے چھپتے چھپاتے اس گھر سے نکل رہی تھی تمہارے ہاتھ میں سفید چادر میں کچھ سامان بھی تھا

اس فوٹیج کے بعد مجھے یہ یقین ہوگیا تھا تم شاہ ہاؤس میں نہیں ہوں مگر تم وہاں سے کیوں گئی

تبھی نشاء نے بھی میرا امتحان نہیں لیا

تمہاری بہن جہاں مرضی چھپ جائے حدید اسے ڈھونڈ ہی لے گا ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں بس وہ ہمارا بچہ ہمیں لٹا دے

نشاء نے تمسخر بھرے لہجے میں کہا

کوئی بھی ماں اپنا بچہ کسی کو نہیں دے سکتی تم کیسی عورت ہو ایک ماں سے اس کا بچہ چھیننا چاہتی ہو

علی نے افسوس اور غصے سے کہا تھا تمام سوالوں کے جواب مل گئے تھے

مگر ابھی کچھ باقی تھا

ہاں ایک عورت جس اپنا بچہ تمہاری خود غرضی کی بھینٹ چڑھ گیا وہ ایسے شخص کی بہن سے بدلہ لے ہی سکتی ہے

نشاء نے اپنے شیڈز آنکھوں میں چڑھائے

“میں نے میں نے کب ۔۔۔میں نے کب مارا ؟ “

مگر نشاء وہاں سے چلی گئی

“حیات مجھے بتاؤ بچے خدا کے لیے میں اتنے سالوں سے ایک ان دیکھی آگ میں جل رہا ہوں میرا بچہ میری بیٹیوں جیسی بہن میرے کس غصہ کی سزا بھگت رہی ہے “

علی بھائی نے اسے سینے سے لگائے روتے ہوئے کہا

“بھائی چھوڑ دیں جو ماضی ہے اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں میری” قسمت” میں سب ایسے ہی لکھا تھا “

حیات نے اپنے بھائی کے آنسو صاف کیئے

نہیں حیات مجھے بتاؤ پلیز نہیں تو یہ لاعلمی مجھے ساری زندگی ڈستی رہے گی

بھائی آپ کو یاد ہے میری شادی سے کوئی ڈیڑھ سال پہلے ہماری گاڑی کا کسی بڑی گاڑی کے ساتھ ایکسیڈینٹ ہوا تھا

میرے فوبیا کے باعث طبیعت بگڑ جانے کی وجہ سے آپ بغیر سامنے والی گاڑی میں دیکھے مجھے ہسپتال لے گئے تھے

اس دن اس گاڑی میں نشاء اور حدید تھا نشاء پریگننٹ تھی حدید نے نیم غنودگی میں مجھے اور آپ کو دیکھا تھا وہاں لوگوں کی آبادی نہ ہونے کی سے ان کی مدد کے لیے لوگ بہت کم اور دیر سے آئے مگر تب تک نشاء اپنا بچہ کھو چکی تھی

تب سے حدید کے دل میں بدلے کی آگ بھڑک رہی تھی اور اسی لیے انھوں نے مجھ سے شادی بھی کی

بھائی اس روز میرا فوبیا میرا خوف مجھ پر حاوی نہ ہوتا تو شائد آپ ان کی مدد کر دیتے

مگر بھائی اس میں میرا کیا قصور ہے کہ میں اپنے خوف میں بندھ نہیں باندھ پائی

یاں آپ نے پہلے مجھے ہسپتال پہنچانا ضروری سمجھا

غلطی کسی کی بھی نہیں ہے بھائی

بس غلطی وقت اور حالات کی ہے جس نے ہم چاروں کے ساتھ ہی وفا نہ کیا میں نے کوشش کی تھی آپ لوگ اس چیز سے دور رہیں مگر قسمت نے آپ کو بھی نہیں بخشا اور آپ اتنے سال اسی بات کو دل میں دبائے لا جواب ہی گھٹتے رہے وہ علی بھائی کے شانے پر سر رکھے اپنے غم ہلکے کرنے لگی

کوثر بھابھی نے بھی دونوں بہن بھائیوں کو وقت دیا

__________

بالاج کو حمزہ کا کمرہ دیا گیا تھا جبکہ انابیہ، صفا پریہان اور سمعیہ کے کمرے میں تھیں اور حمزہ انس اور زید کے کمرے میں آگیا تھا بالاج نے منع بھی کیا کہ حمزہ کو کمرہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں مگر وہ بالاج کی سہولت کے لیے انس اور زید کے پاس اپنا بسترا لے گیا تھا

صفا پریہان اور سمعیہ سے باتوں میں مشغول تھیں جبکہ بالاج کتنی دیر انس زید اور حمزہ کے کمرے میں ان سے باتیں کرتا رہا

وہ خاصا انٹروورٹ تھا تبھی اس کا صرف ایک ہی دوست تھا شجاع خاور اسی وجہ سے وہ زیادہ دیر ان سب کے پاس نہ بیٹھ سکا اور کمرے کی جانب بڑھ گیا وہ تھک چکا تھا بہت ۔۔۔۔۔

کہنے کو تو ماضی آج لفظوں میں دہرایا گیا تھا مگر اس کا بوجھ وہ اپنے وجود میں اترتا محسوس کرتا رہا

تبھی اس کے کمرے کا دروازہ ناک ہوا

________

“خاور صاحب کیا سوچا ہے پھر آپ نے اس دن تو مجھے خاموش کروادیا تھا “

مسز خاور چائے کا کپ اپنے شوہر کو تھماتے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولیں

لہجے میں عجیب سا خوف تھا

“کس بارے میں بیگم؟” خاور صاحب بے دھیانی میں موبائل چلاتے بولے

“اسے چھوڑیں خاور صاحب اور میری سنیں اس دن حیا اور اس کے شوہر کی باتیں سننے کے بعد میں ہرگز شجاع کی شادی حیا کی بیٹی سے نہیں کرواؤں گی بھئی جس کے وجود کا ہی علم نہیں کہ وہ جائ۔۔۔۔”

“شبانہ بیگم یوں بڑے بول منہ سے مت نکالیں

کتنے عرصے سے جانتے ہیں ہم حیا کو کبھی کوئی عیب نظر آیا ہے اس میں جو سالوں بعد آدھی ادھوری بات سن کر آپ نے بولنا شروع کردیا ہے “

“ہم جانتے ہیں نہ حیا کے ماضی سے وہ اپنے بچوں کی خاطر سب چھوڑ چھاڑ کر یہاں آئی تھی “

“ہاں تو یہ تو نہیں معلوم تھا کہ صفا کو وہ ساتھ لے کر آئی تھی یاں وہ یہاں آکر پیدا ہوئی ہے “

شبانہ بیگم نے سر جھٹکتے کہا

شوہر کا بری طرح ٹوکنا انہیں چبا تھا

“آپ جو بھی کہہ لیں خاور صاحب میں آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگلوں گی “

“جس بچی کا باپ اسے نہیں اپنا رہا اسے میں شجاع کی بیوی کیسے بنا لوں “

“آپ کے بیٹے کی چاہت ہے وہ بچی”

خاور صاحب نے حقیقت سے آشنا کروایا

فائزہ ماموں سے چائے کا پوچھنے ان کے کمرے کی طرف آرہی تھی جب خاور صاحب کی بات وہ دروازے پر ہی رک

“جانتی ہوں محبت کرتا ہے شجاع ،صفا سے “

فائزہ واپس مڑ گئی

“مگر وہ بے و قوف ہے رشتوں کی باریکیوں سے ناواقف ہے خاور صاحب آپ تو باپ ہیں میں ماں ہوں میں کیوں غلط چاہوں گی اس کا اور رہی دوسری بات جب یہ محبت حاصل ہو جائے نہ تو اس کا بھوت بھی اتر جاتا ہے شادی کے کسی سن شجاع نے غصے میں صفا کو طعنہ دے دیا تو تب ہم کیا کریں گے بہتری اسی میں ہے کہ اس رشتے سے ہاتھ جھاڑ لیے جائیں “

“باقی آپ کی مرضی کیونکہ کرنی تو آپ دونوں باپ بیٹے نے اپنی ہی ہے “

وہ چائے کا کپ اٹھائے کھڑی ہوئیں

“میں فائزہ کے پاس جا رہی ہوں بچی نے پتا نہیں کھانا کھایا یاں نہیں آپا نے ماشاءاللہ بہت اچھی پرورش کی ہے بچی کی “

وہ جاتے جاتے جان کر فائزہ کا تزکرہ چھیڑ کر گئی تھیں

________

“انا!” دروازے پر انابیہ کو ہاتھ میں مگ تھامے کھڑا دیکھ کر بالاج نے حیرانگی کا اظہار کیا

پھر اسے ہاتھ سے تھام کر اندر لے آیا

“اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو”

وہ اس کے چہرے کو آنکھوں کے حصار میں لیئے دل میں اترتے سکون کو محسوس کرتے ہوئے بولا

ٹینشن ، جھنجھلاہٹ تو اسے دیکھتے ہی رفع دفع ہوگئی تھی

__________

“آپ نے حیات سے آپ لوگوں کے مشترکہ اور اس کے ذاتی پلاٹ والے کاغذات میں دستخط کروا لیے کیا عدنان ؟”

انھوں نے لہجہ سادہ رکھنے کی کوشش کی مگر آنکھیں شوہر کے جواب پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔