212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 74)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“حیا بیٹا آپ اس وقت؟ سب ٹھیک ہے ؟ “

رات کے دس بجے کا وقت تھا دونوں باپ بیٹے ڈائننگ ہال میں بیٹھے رات کا کھانا کھا رہے تھے جب ملازم نے کمال اعوان کو خبر دی تھی کہ حیا آئی ہے

کھانا کھاتے دونوں باپ بیٹا چونک گئے

انہیں ادھر ہی لے آئیں جازب نے سیدھے ہوتے ملازم سے کہا

اگلے ہی منٹ حیا ملازم کی معیت میں ڈائننگ ٹیبل تک آئی

“آئی ایم سوری سر میں غلط وقت ۔۔۔۔”

“ارے کیسی باتیں کر رہی ہو حیا بچے تم غیر تھوڑی ہو آؤں ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ “

کمال اعوان نے کھڑے ہوتے حیا سے کہا

“نہیں سر جی مجھے بھوک نہیں ہے آپ نے کچھ ضروری بات کرنی تھی”

وہ گھبرائی ہوئی تھی

حیا خان گھبرائی ہوئی تھی جازب بھی کھانے سے ہاتھ ہٹا گیا

“تم پہلے پانی پیو یہاں بیٹھو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے “

کمال اعوان نے حیا کو کرسی پر بٹھا کر پانی پلایا

“مجھے ضروری بات کرنی ہے آپ سے اکیلے میں “

“آجاؤ۔۔۔ !!”

کمال اعوان ٹشو سے ہاتھ صاف کرکے حیا کو اپنے سٹڈی روم میں لے گئے

جازب نے لب کاٹ کر نظریں کمال اعوان اور حیا کی پشت پر ڈالیں جو ایک کمرے میں جاکر غائب ہوگئیں ۔۔

“میں حدید شاہ سے ملنے گئی تھی سر جی”

حیا نے بات کی شروعات کی

“میں اس سے یہ کہنے گئی تھی کہ وہ مجھے طلاق دے دے میں اس معاملے کو کوٹ میں لے جانا نہیں چاہتی جبکہ آخر میں اسے مجھے طلاق دینی ہی ہے تو عزت سے کیوں نہیں ؟”

وہ بولتے ہوئے اٹک رہی تھی

“کیا تم حدید سے مطلب وہ تمہارا شوہر ہے تم دکھی ہو میں سمجھ سکتا ہوں “

“میں دکھی نہیں ہو سر جی میں ۔۔۔ مجھے خود پر وزن محسوس ہورہا تھا آپ جانتے ہیں طلاق حلال ہے مگر اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ عمل ہے اس کا وزن میرے وجود کو دھنسا رہا تھا “

“تم نے بجا فرمایا حیا مگر پھر بھی یہ عمل حلال ہے ، حلال اسی وجہ سے ہے تاکہ انسان زہنی اذیت کا شکار نہ ہو تاکہ انسان اپنی جان پر مشقت نہ ڈال لے بے شک اسلام میں آسانیاں رکھی گئیں ہیں ۔۔۔”

حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

“أبغض الحلال إلى الله الطلاق”

یعنی: “اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔”

[سنن ابی داؤد]

(طلاق کا عمل غم اور دکھ کا سبب ہوتا ہے، نہ صرف میاں بیوی کے لیے بلکہ خاندان اور بچوں کے لیے بھی۔ اس لیے طلاق پر جشن منانا، خاص طور پر خوشی کا اظہار کرنا، اسلامی اقدار کے خلاف سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ معاشرتی اور اخلاقی حساسیت کو مجروح کرتا ہے)

“مگر تمہارا معاملہ بہت مختلف ہے تمہارے بچے شروع سے اس ماحول کے عادی ہیں لیکن اگر پھر بھی تم سوچنا چاہو ۔۔۔!”

“میں نہیں رہ سکتی سر جی اس شخص کے ساتھ اور طلاق نہ لی تو اس کی حق تلفی کا گناہ میرے کندھوں پر آئے گا مجھے سمجھ نہیں آرہی ۔۔۔میں ہرگز بھی اس عمل پر خوشی اور جشن منانے کے حق میں نہیں ہوں بس عزت کے ساتھ شرعی حکم کے مطابق اپنی عدت پوری کرنا چاہتی ہوں اس پچیس سال کے غیپ کا فتویٰ بھی نہیں چاہیے مجھے “

کمال اعوان نے حیا کو اتنا بوکھلایا اتنا ٹوٹا شاید اس رات بھی نہیں دیکھا تھا جب وہ کچھ بھی نہیں تھی ایک بے بس لڑکی جو اپنی پڑھائی پورے کرنے کے لیے اس کی سفارش لینے آئی تھی

کمال اعوان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا میں سمجھ رہا ہوں تمہارے حال کو تم بہت اچھی ہو میری بچی اور اللہ اچھے انسانوں کے ساتھ کبھی برا نہیں ہونے دیتا۔۔۔

“اب پرسکون ہو جاؤ ہمارے ساتھ آکر کھانا کھاؤ مجھے پورا یقین ہے جازب کے حلق سے ایک نوالہ نہیں اترا ہوگا اب تک اس کی نظریں اسی کمرے کی جانب ہوں گی “

کمال اعوان نے ہنس کر کہا تو کچھ شرمندہ ہوئی

“میں بہت ہی غلط وقت آگئی مگر مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کس کے پاس جاؤ ؟”

“غلط وقت کیوں بھئی ایک بیٹی اپنے باپ سے ملنے کبھی بھی آسکتی ہے آجاؤ آکر کھانا کھاؤ ہمارے ساتھ آج ایسے نہیں جانے دوں گا “

کمال اعوان نے زرا رعب سے کہا

“پہلے یہ دیکھ لیں سر جی حیا نے اپنی گود میں پڑا خاکی رنگ کا لفافہ کمال اعوان کی جانب بڑھایا “

انہوں نے چونک کر ان کاغزات کو دیکھا پھر حیا کو ۔۔۔

———-

“ماں آج آپ کو دیر ہوگئی سب ٹھیک ہے میں کب سے انتظار کر رہا تھا آپ کا “

حیا کے واپس آتے بالاج نے محبت سے انہیں ساتھ لگا کر کہا

بدلے میں حیا مسکرائی

“یہ لاڈ خیر ہیں نہ میرے شہزادے ؟”

وہ اپنے لیے پانی لائی انابیہ کے ساتھ سے گلاس پکڑ کر پوچھنے لگیں

“خیر ہی خیر ہے یار بس ایک عرضی پیش کرنی تھی آپ سے”

بالاج نے بالوں میں ہاتھ پھیرا

انابیہ مسکراہٹ دباتے وہاں سے جانے لگی جب بالاج نے اس کا ہاتھ تھام لیا

“ارے تم کہاں بھاگ رہی ہو یار میری بیوی ہو میری مدد کرو بات کرنے میں “

انابیہ نے کندھے اچکائے

“بہت تیز نہیں ہوگئی تم انا میڈم شادی سے پہلے تو کیسے ہر بات منہ پھاڑ کر کہہ دیتی تھی اب کندھے اچکا رہی ہو دیکھ لوں گا میں تمہیں”

بالاج نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی

انابیہ کو پیٹ میں گدگدی سی ہوئی مگر پھر بالاج کا چہرہ دیکھ کر وہ سیدھی ہوئی

“ماما آج ہم ہاسپٹل گئے تھے چیک اپ کے لیے “

انابیہ نے ہی بات شروع کی

“ہاں سب ٹھیک تھا بیا میری جان طبیعت ٹھیک ہے نہ سوہنے ؟”

حیا نے اس کا گال چھوا تو وہ فوراً حیا کے گلے میں بانہیں ڈال گئی

“مما جی سب ٹھیک ہے طبیعت بھی ٹھیک ہے بالاج نے شجاع بھائی کے بارے میں بتایا تھا مجھے ۔۔۔”

ہمم حیا نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا شجاع کو تو وہ بھول ہی گئی تھی

“وہ میں چاہ رہی تھی آپ ایک دفعہ صفا آپی کے لیے عون بھائی کو سامنے رکھ کر۔۔۔ ” انابیہ نے بولتے ہوئے بالاج کو بھی دیکھا

ماں ۔۔۔ بالاج کے لہجے کو پہچانتی تھی اس کی ماں

“میں ابھی تھوڑی دیر پہلے حدیقہ باجی کو ہی فون کیا تھا کل وہ لوگ آرہے ہیں ہماری طرف کھانے پر “

تھینک یو مما انابیہ نے حیا کا گال چوما

“بیا اگر کل کوئی ضروری لیکچر نہیں ہے تو آف کرلو اور بالاج تم ایک دفعہ صفا سے بات کر آؤ میں فریش ہوکر آئی “

“اوکے میں کھانا لگواتی ہوں “

وہ تو ہواؤں میں تھی صفا کی خوشی کا سوچ کر اس کے پاؤں ہی نہیں ٹک رہے تھے

کھانا میں نے سر جی کی طرف کھا لیا تھا

اچھا پھر میں اچھی سی چائے بنا کر لائی آپ کے لیے لاج آپ پیئے گے ؟

———-

حدیقہ اور ابراہیم فیصل جاوید کے ساتھ حیا کے گھر جانے کے لیے تیار ہورہے تھے جب عون بھی ان کے پاس آیا

لے جائیں نہ مجھے بھی نانو

“مما ۔۔۔ ہینڈسم ڈوڈ یارر آپ ہی لے جاؤ “

عون کی دہائیاں عروج پر تھیں

خاموشی سے بیٹھ جاؤ لڑکے اچھے لگو گے

سسرال جاتے ہوئے فیصل جاوید کی ڈپٹ پر وہ اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گیا

“کوئی نہیں ہے میرا سوائے ماموں کے “

ماموں وہ حدید وہ آواز دیتا حدید کے کمرے میں جاکر گھس گیا

جبکہ حدیقہ تو بیٹھے کے چہرے کی خوشی دیکھ کر پھولے نہیں سما رہی تھیں اتنی خوشی تھی آج انہیں ۔۔۔

———

دوسری جانب خان پاؤس میں بھی تیاریاں شروع تھیں کچن میں انواع اقسام کے کھانے بن رہے تھے سب کچھ انابیہ اپنی نگرانی میں کروا رہی تھی صفا کو بس اتنا معلوم ہوا تھا کہ اس کی منگنی شجاع سے ٹوٹ گئی ہے جس پر اس نے کوئی خاص رسپونس نہیں دیا بلکہ جب اسے حیا کے کچھ مہمانوں کے آنے کی اطلاع ملی کہ وہ خاص اسے دیکھنے آرہے ہیں

صفا نے اس پر بھی اتنا اچھا رسپانس نہیں دیا تھا مگر انابیہ کو پورا یقین تھا عون کی فیملی کو دیکھ کر اسے جھٹکا ضرور لگنا تھا ۔۔۔

———-

حیا گرمجوشی کے ساتھ حدیقہ کے گلے لگی تھی فیصل جاوید تو بس بالاج کو تک رہے تھے انہوں نے اپنے بیٹے کی جوانی نہیں دیکھی تھی اور بدقسمتی سے ان کے بیٹے نے بھی اپنے بیٹے کی جوانی نہیں دیکھی فیصل جاوید نے بے ساختہ آگے بڑھ کر بالاج کو گلے لگایا بالاج نے ماں کی جانب دیکھ کر اپنے ہاتھ ان کے گرد باندھ لیے

“ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت پیارا بچہ ہے حیات بیٹی “

فیصل جاوید نے حیا کے سر پر ہاتھ رکھا کچھ کچھ معاملات سے وہ بھی واقف تھے ۔۔۔

“سب سے پہلے میں ابراہیم بھائی اور حدیقہ باجی آپ دونوں سے اپنے گزشتہ رویے کی معافی مانگنا چاہتی ہوں “

“کیسی باتیں کر رہی ہو آپ حیات! کس چیز کی معافی ، معافی تو ہمیں مانگنی چاہیے”

” مجھے لگتا ہے ہمیں پچھلی باتوں کا بھلا دینا چاہیے اور ایک اچھی سی شروعات کرنی چاہیے “صفا کی طبیعت کیسی ہے اب،؟”

ابراہیم نے نرمی سے بات ختم کی

“جی الحمدللہ بھائی وہ اب بہت بہتر ہے انابیہ بچے صفا کو بلا لاؤ ۔۔۔”

حدیقہ صفا کے انتظار میں حیات کے پاس بیٹھی اسے عون کی

بے تابی بتانے لگی جس پر حیا دل ہی دل میں اپنی بیٹی کے نصیب کے لیے دعائیں کرتی مسکرائی

تبھی صفا ، انابیہ کی معیت میں لاونج میں آئی مگر وہاں ابراہیم ، حدیقہ شاہ کے ساتھ ایک بزرگ کو دیکھ کر چونک گئی ان کی شکل بالاج بھائی سے بہت ملتی تھی

فیصل جاوید صفا کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے

“صفا بچے یہ آپ کے دادا ہیں عون کے نانا “

حیا نے صفا کا ہونق چہرہ دیکھ کر اسے کہا

“میرا بچہ”

فیصل جاوید سے ملتے جب انہوں نے اسے اپنی آغوش میں لیا تو وہ کتنے لمحے گنگ رہ گئی

یہ شفقت ، یہ نرم آغوش اس کے لیے بغیر غیر آشنا تھی آنکھوں میں نمی سی جمع ہونے لگی مگر اس نے سمیٹ لی

پھر حدیقہ نے اسے گلے لگایا صفا کچھ شرمندہ شرمندہ سی ابراہیم شاہ سے نظریں بھی نہیں ملا رہی تھی پچھلی دفعہ اس نے بہت بدتمیزی کردی تھی ان کے ساتھ تبھی ابراہیم شاہ نے سمجھتے ہوئے خود ہی پہل کی

‘کیسا ہے میرا بچہ”

ان کے لہجے میں ویسی ہی شفقت تھی جیسی اسے جازب کے لہجے میں محسوس ہوتی تھی

صفا نرمی سے مسکرائی پھر کچھ ہی دیر میں ابراہیم شاہ اس سے باتیں کرتے رہے حدیقہ بہت زیادہ ملنسار تھی عون بالکل اپنی ماں پر گیا تھا صفا ان کے آنے کا مطلب سمجھ گئی تھی دل میں عجیب سی بھاگ دوڑ لگی ہوئی تھی مگر وہ پھر بھی کمپوز سی بیٹھی ابراہیم کی باتوں کا جواب دیتی رہی پر تکلف سے کھانے کا دور چلا تھا انابیہ کی شرارتی باتیں حدیقہ کی اور اس کی بہت اچھی انڈرسٹینڈنگ ہوگئی تھی

“حیات اب آپ بتائیں ہم آج پھر سوالی بن کر آئیں ہیں آپ کے در پر مجھے یقین ہے آپ ہماری فریاد رد نہیں کرو گی “

حدیقہ نے جس محبت سے پوچھا

حیا نے حدیقہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی

“میں آج صفا سے بات کرکے آپ کو جواب دے دوں گی حدیقہ باجی ان شاءاللہ صفا کی طرف سے تسلی ہو جائے تو میں چاہتی ہوں جلد از جلد ان کا نکاح یا منگنی ہو جائے

ہاں ۔۔ ہاں کیوں نہیں میں خود چاہتی ہوں ایک مہینے میں ہی “

“ایک مہنیہ نہیں حدیقہ باجی اسی جمعے کو چار دن بعد مگر پہلے میں صفا سے بات کرنا چاہتی ہوں ایک دفعہ میں رات کو ہی آپ کو جواب دے دوں گی امید ہے آپ میری مجبوری کو سمجھیں گی

“ارے کیسی باتیں کر رہی ہو تم بہن ہو میری مجبوری کیسی تم کل بھی کہو گی تو میں اپنی بیٹی پورے دھوم دھام سے بیانے آجاؤں گی تم نہیں جانتی تم نے مجھے کتنی بڑی خوشی دی ہے عون کا بس چلتا تو وہ آج ہی نکاح خواں کو لے کر یہاں وارد ہوجاتا “

حدیقہ نے ہلکے پھلکے انداز میں حیا کو تسلی دی جس پر وہ بھی پرسکون ہوگئی ۔۔۔۔

———-

رات کے وقت صفا اپنے کمرے میں بیٹھی جازب کی جانب سے بھیجی گئی فائل کی سوفٹ کاپی کو پڑھ رہی تھی جب دروازہ ناک کرکے حیا اندر آئی

“آئیں مما!”

صفا نے لیپ ٹاپ بند کرتے مسکرا کر حیا کو دیکھا

“کیا کر رہی تھی ؟”

“جازب انکل نے کیس دیا تھا اسے ہی سٹڈی کر رہی تھی

بارہ سال کی شادی تھی لو میرج شادی کے بارہ سال بعد شوہر نے دھوکا دے دیا پہلے سے ایک شادی کر رکھی تھی اب بیوی چھوڑنا چاہ رہی ہے مگر وہ طلاق نہیں دے رہا “

حیا کے چہرے پر سایہ سا لہرایا

“نشاء میری پہلی بیوی ہے “

“شجاع اپنی بیوی کے ساتھ ہاسپٹل آیا تھا باپ بننے والا ہے وہ”

کہیں نئی پرانی باتیں یاد آئیں تھیں

“پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں صفا ایک تجربہ غلط ہو جانے سے زندگی روک لی نہیں جاتی زندگی کو موقع دیا جاتا ہے ۔۔”

وہ بیٹی کے خوف کو سمجھ کر گلے لگا کر بولی

آج ابراہیم بھائی اور حدیقہ باجی جس سلسلے میں آئے تھے تمہیں سمجھ آ ہی گئی ہو گی

جی صفا نے دھیرے سے سر ہلایا

اس بار بھی صفا تم آزاد ہو اپنے فیصلے کے لیے میری جان تمہارا ہر فیصلہ مجھے بالاج سب کو قبول ہوگا

حیا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا مجھے حدیقہ کو جواب دینا تم جب سوچ لو مجھے بتا دینا اور یاد رکھنا مما اور بھیا ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں ہم نے عون کو تمہارے لیے بہت سوچ کر چنا ہے وہ صفا کے ڈھکے سر کو چوم کر اٹھی

مما آپ اُن کو ہاں کہہ دیں

صفا کی آواز پر حیا نے مسکراتے ہوئے رخ اس کی جانب موڑا

“میں چاہتی ہوں اس جمعے کو تمہارا نکاح ہوجائے تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے ؟ “

“نہیں مما جب ہاں کردی ہے تو کیا اعتراض “

“وجہ نہیں پوچھو گی اتنی عجلت کی ؟ “

حیا نے پر سوچ نظر اس پر ڈالی ۔۔۔

“نہیں مما آپ نے میرے لیے اچھا ہی سوچا ہوگا “

وہ حیا کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر نرمی سے بولی

“مگر جاننا تمہارا حق ہے ، ہفتے سے میری عدت شروع ہو جائے گی۔۔۔ “

صفا نے بولنے کے لیے لب واہ کیے مگر جب کچھ سمجھ نہ آئی تو ماں کے گلے لگ گئی

دونوں ہی ماں بیٹی کو گلے لگنے کی شدت سے ضرورت تھی بغیر کوئی بات کیے بغیر ایک بھی حرف کہے ۔۔۔

——–

” جمعہ دو دن بعد ہے ماں !!”

حدیقہ کو جیسے ہی حیات کی طرف سے رضامندی کا جواب ملا وہ تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی

جبکہ عون کو جمعہ بھی دور لگ رہا تھا

اس بار بھی عون کی کوئی نہیں سن رہا تھا وہ خود ہی بول بول کر چپ کر گیا

حدید خوش تھا عون کے لیے اور صفا کے لیے بھی مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا وہ کیسا باپ تھا اپنی ہی بیٹی کے نکاح میں وہ غیروں کی طرح شامل ہونے والا تھا

عون میں صفا کے لیے ڈریس لینے جارہی ہوں اگر تم بغیر دماغ کھائے چل رہے ہو تو بتاؤ نہیں تو میں اکیلے بھی جا سکتی ہوں

حدیقہ نے تنگ آکر کہا

“ارے نہیں نہیں ڈارلنگ مما میں بس چابی لے کر آیا گاڑی کی “

وہ اپنے بازو کی درد بھلائے بھاگا بھاگا گیا

“پاگل ہوگیا ہے یہ تو”

حدیقہ نے ہنس کر کہا پھر حدید پر نظر پڑتے اس کے پاس گئی

“بھائی۔۔۔!”

حدیقہ نے محبت سے اسے پکارا

“صفا جب اِدھر آجائے گی تب آہستہ آہستہ وہ آپ کے ساتھ بھی ٹھیک ہو جائے گی بیٹیاں باپ کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہیں “

حدیقہ نے پیار سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا

حدید نے بدلے میں اس کے سر پر ہاتھ پھیرا چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کی جھلک آئی تھی ۔۔۔۔

——–

“بالاج بالاج میری بات سن “

بالاج کے پارٹنر شپ ختم کرنے کی وجہ سے خاور اینڈ سن کمپنی کے شئیر ایک ہی دن میں گڑ گئے تھے

خاور صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے جبکہ شجاع پریشان ہوگیا

ایک طرف فائزہ کی حالت اور اس کا غصہ دوسری جانب ماں کی نظریں جنہیں ابھی فائزہ کا نہیں پتا تھا اور تیسرا بالاج کی جانب سے اس کے دھوکے کا جواب

شجاع خاور عزت پیاری ہے تو یہاں سے چلے جاؤ نہیں تو میں بھول جاؤں گا کہ تم کبھی میرے دوست رہے تھے

بالاج نے سپاٹ لہجے میں کہا مگر شجاع اس کے پیچھے پیچھے تھا

“بالاج میں مجبور تھا پھوپھو ہاسپٹل میں تھی میں نے بابا کے دباؤ میں آکر نکاح کیا تھا یار تو تو سمجھ “

“بکواس بند کر شجاع کیا میں نہیں جانتا تمہیں مرد کبھی بھی مجبور نہیں ہوتا اور اگر تم نے کر ہی لیا تھا اپنی کزن سے نکاح تو میری بہن کی زندگی کیوں برباد کرنے والا تھا تو ؟”

وہ دونوں بالاج کے کیبن میں آگئے تھے

بالاج نے شجاع کا کالر پکڑا

“میں محبت کرتا تھا صفا “

“میری بہن کا نام نہ لئیں اپنی گندی زبان سے شجاع”

بالاج نے مکا شجاع کے منہ پر مارا تھا

“تیری نیت میں اس دن ہی دیکھ چکا تھا شجاع

خود پہلے سے شادی شدہ ہوکر ایک بچے کا ہونے والا باپ ہوکر بھی تو نے میری بہن کے لیے کیسی کیسی باتیں کیں

مگر میں نے ضبط کر لیا شجاع آئندہ مجھے اپنی شکل نہ دکھانا نہیں تو تو اپنے ہونے پر بچھتائے گا “

بالاج نے جس ٹھنڈے لہجے میں کہا ایک پل کو تو شجاع بھی لرز گیا۔۔۔