212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 1)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

سنسان سڑک گھنگور اندھیرے میں تیز سرد ہوائوں کی زد میں بھاگتا آرہا وجود ہاتھ میں سفید رنگ کی چادر میں ایک ننھے وجود کو بھینجے سرد ہواؤں اور ارد گرد سے بے پرواہ وہ بھاگتی ہوئی آرہی تھی جب پیچھے سے آتی کھنکھناہٹ پر لحظے بھر کو خوف کے مارے گردن پیچھے کی طرف دیکھنے کے لیے موڑی تھی جب تیز رفتار گاڑی کی چمکتی روشنی اس کی آنکھیں چندیاں گئی اور اس کی ٹکر سامنے گاڑی سے ہوئی گرفت بازوں میں بھینجے وجود پر گہری ہوئی اور ایک نسوانی چیخ ارد گرد گونجی اور ساتھ ہی بچے کے رونے کی آوازیں گونجنیں لگیں ۔۔۔۔

______

میرا بچہ سسکیاں ایک دم سے بلند ہوئی

میرا بچہ لے کر دور گئی وہ مکار عورت

میرا احمد ۔۔۔۔۔۔ میرا بچہ ۔۔۔!!…

گیلی آنکھوں سے اپنے کھالی ہاتھ دیکھتے وہ ایک دم آپے سے باہر ہوئی

موم میرا بیٹا موم آپ کا وارث لے کر دور گئی آپ۔۔۔۔۔ آپ یہاں ۔۔۔۔کیا کھڑے ہیں جاتے کیوں نہیں میرا بچہ لا کر دیں مجھے

اپنے شوہر کا گریبان تھام کر چلائی جو خود صدمے کی کیفیت میں تھے ان کا بیٹا

میری جان رو نہیں ہمارا احمد آج کے آج ہی ہمارے پاس ہوگا چائے اس لڑکی کو جان سے کیوں نہ مارنا پر جائے

ہمارا پوتا صحیح سلامت تمہاری گود میں ہوگا

بہت غلط کیا ہے اس لڑکی نے۔۔۔۔۔

بہت غلط !!!۔۔۔۔۔

________

ملا ہے جو مقدر میں رقم تھا ۔۔۔۔۔۔۔

زہے قسمت مرے حصے میں غم تھا ۔۔۔۔۔۔

سرخ رنگ کی شلوار قمیض میں اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے بھینجے پانچ چھ ماہ کے بچے کو تھامے وہ اس وقت سڑک پر بے یار و مددگار پڑی تھی اس کے بازوؤں میں سونے کی بھر بھر کر چوڑیاں کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹوپس اس کے امیر ہونے کی گواہی دے رہے تھے گاڑی سے نکلنے وجود نے اتنے سونے سے لدے وجود پر ایک نظر ڈال کر آنکھوں سے ہی اپنے ساتھ والے وجود کو دیکھا

وہ سفید چادر میں روتا بچہ بھی اب خاموش ہوگیا تھا ۔۔۔۔

غرض کے وہاں اب مکمل خاموشی تھی

بس سرد ہوا کے جھونکے اُس وجود کی بے بسی پر افسوس کرتے ماحول میں ہلکی سی خنکی ڈال رہے تھے ۔۔۔۔

________

اسلام آباد کا موسم خاصا خوش گوار تھا۔۔۔۔۔ نومبر کے آخری دن چل رہے تھے دن میں سردی کی شدت بہت زیادہ نہیں لیکن بلکل کم بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔

سورج ویسے بھی مشکل سے ہی موسم پر اثر انداز ہوتا تھا ۔۔۔۔۔۔لیکِن آج بادلوں کی سرمئی چادر نے آسمان کو گھیر کر دو پہر میں ہی شام سا سماں باندھ لیا تھا۔۔۔۔۔۔

پانچ منٹ پہلے ہی وہ اسلام آباد ائیر پورٹ میں لینڈ کیا تھا جب اس کے سوٹڈ بوٹڈ گارڈز فوراً وہاں پہنچے تھے اِرد گرد موجود لوگوں نے ٹھہر ٹھہر کر اس بے انتہا خوبصورت مگر سرد نقوش والے شہزادے سی آن بان رکھنے والے شخص کو دیکھا تھا ایش گرے رنگ کے بلیزر میں اس کا وجود اور بھی زیادہ پرکشش لگ رہا تھا اپنے بائیں ہاتھ میں پہنی گھڑی پر ایک نظر ڈال کر جس نے ایک دفعہ بھی دائیں یا بائیں جانب رخ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی بس ناک کی سیدھ میں چلتا اپنی سیاہ رنگ کی چمچماتی Rolls-Royce Cullinan میں بیٹھا تھا اس کے ایک ہی اشارے میں گاڑی اپنی رفتار کے ساتھ اسلام آباد کی سڑکوں میں دوڑنے لگی اپنے سر گاڑی کی سیٹ سے لگا کر اس نے آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔۔

______

چندہ مجھ سے مار کھاؤ گی اب تم عزت سے میری فائل مجھے دے دو مجھے بہت کام ہیں صفا نے آنکھیں دیکھانے کی کوشش کی مگر سامنے بھی انابیہ میڈیم تھی جو کب کسی کے رعب میں آئی ہیں

صفا اپنے کمرے میں بیٹھی امپورٹنٹ فائل کو ریڈ کرنے میں مصروف تھی جب انابیہ نے اس کے پاس آکر نوڈلز بنا کر ہارر مووی دیکھنے کی ضد لگا دی تھی

“چندہ تم ہی کرو ایسے کام میں اس وقت بہت بزی ہوں “

آپی آجائیں نے بہت مزہ آئے گا نوڈلز ساتھ چل کولڈ ڈرنک اور ایک بہت ہی ہارر مووی ملی ہے مجھے مل کر دیکھتے ہیں نہ

ابیہا نے لجھا کر کہا

“نو مینز نو جاؤ بیہ مجھے کام کرنے دو “

صفا اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے دوبارہ پڑھنے میں لگ گئی

آپی !!۔۔۔ کیوٹ سا چہرہ بنا کر صفا کو زیر کرنا چاہا

صفا نفی میں سر ہلا گئی اچھا رات کو پکا نوڈلز بھی بناؤ گی مووی بھی دیکھو گی اب جاؤ

صفا نے بھلا کر اسے بھیجنا چاہا

نہیں نہ رات کو نہیں ابھی اسی وقت رات کو مجھے ڈر لگتا ہے ابھی تو ابھی اب وہ ضدی لہجے میں کہتی فائل صفا کے ہاتھ سے کھینچ کر باہر کی طرف بھاگی

چندہ مجھ سے مار کھاؤ گی اب تم عزت سے میری فائل مجھے دے دو مجھے بہت کام ہیں صفا نے آنکھیں دیکھانے کی کوشش کی مگر سامنے بھی انابیہ میڈیم تھی جو کب کسی کے رعب میں آئی ہیں

پہلے ابھی مووی دیکھنے کا پروووو۔ممممم۔۔۔۔

لاونج میں گردن موڑے بھاگتی سامنے وجود سے بری طرح ٹکرائی تھی

آدھے الفاظ منہ میں ہی دب گئے

ٹکڑ شدید تھی انابیہ کے ہاتھ سے فائل گڑی تھی

بالاج اپنی کلائی میں چبن محسوس کرکے گھڑی کھولتے ہوئے لاؤنج میں داخل ہوا تھا جب شدید قسم کا دھکا لگنے سے وہ تو چند انچ ہی ہلا تھا مگر اس کی مہنگی مگر پسندیدہ گھڑی زمین میں گر کر کہی حصوں میں بنٹ گئی

بالاج کی آنکھیں سرخ ہوئی یہ گھڑی اسے ماں نے دے تھی

دائیں جانب مڑے ہونے کی وجہ سے ابیہا کا دایاں کندھا بالاج سے ٹکرایا تھا وہ بری طرح کراہتے ہوئے جھکی بن میں بندھے بال کھل کر چہرے پر آگئے

یہ زلفیں دونوں کے درمیان باڑ بن گئی ۔۔۔ نہیں تو بالاج کی نظروں کو دیکھ کر وہ ویسے ہی کوچ کر جاتی

بھیاااا۔۔!!!

صفا چیخ کر بھاگتے ہوئے بالاج کے گلے لگی

بالاج نے بھی اسے حصار میں لیا

آپ ۔۔۔ آپ نے بتایا نہیں صفا کی آواز بھیگ گئی

بالاج !!!۔۔۔۔۔

اپنی ماں کی بھیگی آواز سن کر بالاج صفا کو ہٹا کر خود ہی ماں کی طرف بھر کر انہیں شدت سے گلے لگا گیا جو اپنے خوبرو بیٹے کو دو سال کے بعد دیکھ کر آبدیدہ ہوگئیں

بالاج نے اپنی ماں کے سر پر لب رکھ کر آنکھیں موند لیں دل میں جیسے سکون کی لہر اٹھی تھی ۔۔۔

انابیہ چپکے سے وہاں سے جان بچا کر نکل گئی ۔۔۔۔

میری جان بتایا نہیں میں اپنے بیٹے کو خود لینے آتی

بالاج کی بھری ہوئی شیو کر اپنا ہاتھ رکھ کر محبت سے کہا ۔۔۔

پہلے بتاتا تو آپ دونوں کے چہروں کی خوشی کیسے دیکھتا نہایت ہی عزت سے ماں کے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگا گیا ۔۔۔۔

میرا بچہ مان سے اپنے ہاتھ اس کے شانوں پر رکھے

جب کچھ یاد آنے پر بولی

بیا کہاں ہے ؟؟ صفو ۔۔۔۔ اسے بلاؤ بالاج آیا ہے

ہاہاہا ممی چندہ اب نہیں آنے والی رات تک باہر ۔۔۔۔۔۔

کیوں؟!!….

وہ فکر مند ہوگئیں ۔۔۔۔

ممی آتے ہی بھائی کی گھڑی توڑ چکی ہیں میڈیم اب ماحول کے ٹھنڈے ہونے کے بعد ہی آئیں گی باہر

کیا!!؟؟ بالاج کچھ مت کہنا میری بچی کو

بالاج سر خم کرگیا ۔۔۔۔

اور صفا بچے کھانے کی تیاری کرو میرے بچے تم تب تک فریش ہو او میں تمہارے لیے خود بناتی ہوں تمہاری پسند کا کچھ ۔۔۔۔۔

________

بالاج اپنے کمرے میں آیا صاف ستھرا کمرہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس کے پیچھے بہت دھیان سے بلاناغہ اس کے کمرے کی صفائی کروائی جاتی رہی ہے اسے اپنی ماں پر بے ساختہ پیار آیا۔۔۔۔۔۔

ایش گرے تھیم کا وسیع کمرہ اور کمرے میں موجود ہر چیز غرض کارٹنز تک بے حد خوبصورت تھے

ایک گہری سانس بھر کر وہ فریش ہونے کی غرض سے واشروم کی جانب بھر گیا ۔۔۔۔

________

دھک دھک کرتے دل کے ساتھ وہ سیدھا بیڈ پر آکر گڑی تھی

ناک کے نتھنوں میں ابھی تک اسی دلفریب ڈارک کلون کی خوشبو محسوس ہورہی تھی اتنی سردی میں بھی اس کے گال تپنے شروع ہوگئے ۔۔۔۔

چند منٹ پہلے کی ملاقات بلکہ ٹکڑ یاد کرتے ہی ایک دم ہی دائیں شانے سے درد نکلنے لگی

لب دانتوں تلے دبا کر اب اس دیو ہیکل سے بچنے کی ترکیبیں سوچنے لگی کیونکہ اگر ممی نے بلایا تو اسے لازمی جانا پرے گا ۔۔۔۔۔

جب صفا کی آواز آئی جو اسے کھانے کے لیے بلا رہی تھی

مجھے بھوک نہیں ہے خفا لہجے میں صفا کو جواب دیا انداز صاف ناراضگی جتانے والا تھا

” مجھ سے کیوں ناراض ہو یار چندہ “

صفا نے پریشانی سے کہا

جب فارمل سے حلیے میں بالاج نے صفا کو اشارہ کیا

بھوک نہیں ہے اپنے شانے کو سہلا کر پھر انکار کیا

صفا بالاج کے اشارے پر اس کے ساتھ ہی وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔

_______

آج دو سال بعد اپنی مما کے ہاتھ کا کھانا کھایا تھا بالاج نے بھرپور سیر ہو کر کھایا ۔۔۔۔۔

گڑیا کافی میرے کمرے میں دے جانا بچے

بالاج کھا کر اٹھا تو صفا کو کہنے لگا

بالاج میری جان تھوڑی دیر کمرے میں آرام کرلو

کافی پیو گے تو نیند کیسے آئے گی مسز حیا نے فکر مندی سے کہا مما کافی سے تکاوٹ ہی اترے گی میری آپ فکر مت کریں ان کو شانے سے لگاتے نرم لہجے میں بولا

اچھا ٹھیک ہے جاؤ میں بھجواتی ہوں مسز حیا اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔

صفا بچے بھائی کو کافی دینے کے بعد یہ کھانے کی ٹرے دے کر آؤ بیو کو۔۔۔۔۔

تمہیں معلوم ہے نہ بھوک کی کتنی کچی ہے میری بچی ابھی میں نے بالاج کی وجہ سے کچھ نہیں کہا میں سمجھ سکتی ہوں وہ کترا رہی ہے اور باہر بھی نہیں آئے گی ۔۔۔۔

بہت بڑا ڈرامہ ہے چندہ مما صفا ہنستے ہوئے ٹرے اٹھانے لگی

میرے گھر کے رونق ہے

اللّٰہ پاک میرے بچوں کو سلامت رکھے

جب ان کا فون رِنگ

مسز حیا اپنے موبائل پر آتی کال اٹینڈ کرنے کی غرض سے اٹھ گئیں ۔۔۔۔۔

______

دروازہ بجنے پر نیند میں جاتی انابیا ایک دم ہڑبڑائی

ج۔جی جی کون ؟؟؟۔۔۔

دھڑکتے دل کے ساتھ دروازے کے پاس گئی

چندہ مما نے تمہارے لیے کچھ بھجوایا ہے لے لو

صفا جانتی تھی ابھی بھی وہ کھانے سے انکار ہی کرے گی اس لیے مما کا نام لے کر دروازہ کھلوایا تھا ۔۔۔۔

صفا نے دروازہ کھولا بریانی کی خوشبو سونگھ کر ہی اس کی بھوک چمک اٹھی تھی

یہ مما نے بھجوائی ہے تمہارے لیے کھا لینا نہیں تو مما کو بھیج دوں گی

ٹرے اس کے ہاتھ میں تھما کر آنا فاناً وہاں سے گئی ۔۔۔۔

مما کی وجہ سے کھاؤ گی نہیں تو میں ناراض ہوں آپ سے پیچھے سے انابیہ کی آواز سن کر صفا مسکراہٹ روکتی چلی گئی ۔۔۔۔

_______

رات کے ٹائم بھی انابیہ کسی نہ کسی بھانے کمرے میں ہی رک گئی تھی حیا نے اس بار بھی اسے زیادہ اثرار نہیں کیا تھا ۔۔۔۔

بالاج خاموشی سے کھانا کھا کر اٹھا آنکھوں میں سرد سی چمک تھی

بیڈ پر لیٹتے ہی کانوں میں شریر سی آوازیں گونجی تھیں ۔۔۔

جنہیں اس نے بری طرح جھٹکا تھا ۔۔۔۔

آنکھیں موند لیں

مگر نیند نہ آئی ۔۔۔۔

سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کی ڈبی اٹھا کر وہ ٹیریس میں آیا ۔۔۔

ٹھنڈی ہوا سے اسے کچھ خاص فرق نہیں پڑا کیونکہ جس ملک میں وہ دو سال رہا وہاں تقریباً سارا سال ہی سردی کا موسم رہتا اور وہاں کی سردی کے آگے یہ تو کچھ بھی نہیں تھی ۔۔۔

ایک سیگریٹ پینے کے بعد ہی اسے پھر سے کافی کی طلب ہوئی ۔۔۔۔

وہ کمرے سے باہر نکلا

کشادہ لاونج میں قدم رکھتے ہی اس کی حسِ سمع بیدار ہوئی بائیں جانب موجود کھلتے اوپن کچن سے آتی کھٹ پٹ کی دھیمی سی آواز اس کے حواس الرٹ کرگئی

دایاں ہاتھ اپنی جینز کی پاکٹ کی طرف بڑھاتے وہ بڑے بڑے قدم لیتا کیچن میں گھسا تھا

رات کے وقت اکثر کافی بنا کر پینا اس کا معمول تھا ابھی آدھی کافی سکون سے پینے کے بعد اسے اپنے پیٹ میں بھوک کے باعث اٹھتی ہلکی سی درد پر خود کو رات کا کھانا چھوڑنے پر ملامت کرتے اپنے لیے کچھ ہلکا پھلکا بنانے کا سوچ کر ڈبل ڈور فریج کھولا ۔۔۔۔۔ پھر سر جھٹک کر اپنے لیے نوڈلز بیسٹ آپشن لگے تھے پین پانی ڈال کر اسے چولے پر رکھا جب کچن لائیٹر اٹھاتے وہ پھسل کر اس کے ہاتھ سے چھوٹا

ابھی وہ لائیٹر اٹھا کر مڑی ہی تھی کسی نے پرشدت انداز میں اسے بازو سے کھینچ کر دیوار کے ساتھ لگایا اپنے منہ پر بھاری ہتھیلی کی شدت محسوس کئیے اس کی آنکھیں پھیلیں۔۔۔۔

سیاہ آنکھوں میں پانی کی لکیر سی ابھری

ان جھیل سی گہری آنکھوں میں ۔۔۔۔۔۔

اک لہر سی ہر دم رہتی ہے۔۔۔۔۔۔

بےساختہ ہی بالاج نے ان پر پھونک مار کر انہیں لرزنے پر مجبور کردیا