Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 38)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 38)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“یہ لیں امجد بھائی یہ کچھ پیسے رکھیں اور اپنے بچے کا دھیان رکھیئے گا کسی بھی چیز کی ضرورت کو آپ بتا دیجئیے گا “
“شکریہ بی بی جی میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا “
ڈرائیور امجد نم لہجے میں شکر گزار ہوا
“احسان کیسا امجد بھائی آپ ہمارے یہاں کام کرتے ہیں یہ ہمارا فرض ہے “
حدیقہ کچھ پیسے اور دوسرا ضرورت کا سامان ڈرائیور کو دیتے ہوئے بولی
“بی بی جی آپ کو چھوڑ دوں یونیورسٹی؟!”
“نہیں امجد بھائی آپ اپنے بیٹے کے پاس جائیں میں چلی جاؤں گی “
“شکریہ بی بی جی بہت شکریہ “
حدیقہ مسکراتی ہوئی مڑی
پیچھے اپنے ہاتھ آگے باندھے فرست سے دیکھتے ابراہیم پر اس کی نظر پڑی یکلخت اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی
“تمہیں اپنے گھر میں سکون نہیں ہے “
حدیقہ کوفت بھرے لہجے میں بولی
جسے ابراہیم نے اگنور کیا
“ماموں نے کہا ہے آپ کو یونیورسٹی چھوڑ دوں “
“کوئی ضرورت نہیں ہے میں چلی جاؤں گی “
“میں باہر کھڑا ہوں پانچ منٹ ہیں آپ کے پاس “
ابراہیم کے دھونس جماتے لہجے پر وہ دانت پیس کر رہ گئی
ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ گاڑی کے باہر کھڑی تھی اس بار بھی اس نے گاڑی کا دروازہ زور سے ہی مارا تھا ۔۔۔
حدیقہ کے بیٹھتے ہی ابراہیم نے گاڑی یونیورسٹی کے راستوں کی جانب موڑ لی
“تمہیں میں اتنا سناتی ہوں ابراہیم شاہ مگر پھر بھی تمہیں شرم نہیں آتی کوئی سیلف ریسپیکٹ نہیں ہے تمہاری؟ “
اپنے فون میں مصروف انداز میں لگی حدیقہ نے ایک دم ہی ابراہیم کے چہرے پر نظر جمائے کہا
ابراہیم خاموش رہا
“زہر لگتا ہے مجھے تمہارا یہ روبوٹک انداز ابراہیم شاہ “
“یہ زہر آپ کو پینا پڑے گا یہ آپ کی مرضی مجبوری میں پیے یاں باسد شوق سے “
گاڑی یونیورسٹی کے باہر روک کر وہ اس تمام دورانیہ میں پہلی دفعہ بولا
“میں یہ زہر مر کر بھی نہیں پیوں گی ابراہیم شاہ “
“جب مرنا ہی ہے تو زہر پی کر مر جائیں حدیقہ شاہ “
“ہنہہ۔۔۔۔” وہ پھر سے دروازہ مار کر گئی تھی
_________
حیات کی ٹانگ اب قدرے بہتر تھی اوپر سے اس کے امتحانات ہونے والے تھے اس لیے وہ بھی دوبارہ یونیورسٹی جانا شروع ہوگئی تھی ۔۔۔۔
ہاں پورے دن میں حدید شاہ کا میسج اسے رات کے وقت ہی آتا وہ بھی اس کا حال چال پوچھنے کہ علاؤہ زیادہ کوئی بات نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔ حیات بھی سیدھے سے سوال کا جواب دے کر فون اوف کردیتی
ابھی عائشہ ، حیات اور آصفہ کینٹین کی جانب جا رہے تھے جب راستے میں انھیں زوہیب ملا
“کیسی ہیں آپ حیات کیسی طبعیت ہے آپ کی میں نے آپ کا پوچھا تھا تو مجھے آصفہ نے بتایا آپ کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے “
زوہیب اس کے پاس آتے نام سٹاپ فکر مندی سے بولا
“آپ نے میرے بارے میں کیوں پوچھا ؟”
حیات نے رک کر زوہیب کے چہرے پر دیکھے سنجیدگی سے کہا
‘وہ۔۔۔ ہماری پریزنٹیشن تھی”
تو زوہیب سے جب بات نہ بنی تو وہ پریزنٹیشن کا بہانا بنا گیا
“او ۔۔۔ہاں پریزنٹیشن!”
حیات یاد آنے پر سر پر ہاتھ مار کر بولی
آپ پریشان مت ہوں میں بنا لوں گا آپ کے حصے کی۔۔۔۔
“نہیں زوہیب اس کی فکر مت کرو حیات کے حصے کی پریزنٹیشن میں دیکھ لوں گی”
آصفہ جلدی سے بولی کیونکہ جانتی تھی حیات کبھی بھی زوہیب کا احسان نہیں لے گی
زوہیب دانت بجا گیا حیات کی دوستیں کبھی اسے اکیلے میں حیات سے بات نہیں کرنے دیں گی
“اوکے گیٹ ویل سون حیات !!”
وہ وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
تو وہ تینوں بھی کینٹین میں اپنی مطلوبہ جگہ پر جا کر بیٹھ گئیں
“حیات شکر ہے تم آئی ہم بور ہوجاتی تھی “
عائشہ حیات کے پاس بیٹھی فکر مندی سے بولی
“ہاں حیات اللہ پوچھے اس مسٹر سے جس نے تمہیں گاڑی سے ہٹ کیا “
آصفہ کے جلے کٹے انداز پر حیات کو حدید شاہ یاد آیا
“اندھا ہی ہوگا کوئی “
عائشہ نے بھرپور انداز میں کہا
“ایسی بات نہیں ہے عائشہ یار غلطی میری ہی تھی “
حیات زرا کترا کر بولی
“اللہ اللہ حیات تم پہلی لڑکی کو جو خود کو الزام دے رہی ہو “
عائشہ نے حیرانگی سے کہا
“آئے کہیں تمہیں وہ مغرور شخص پسند تو نہیں آگیا ؟!!”
آصفہ نے گالوں کر ہاتھ رکھے پریشانی سے کہا
“مغرور تو نہیں تھے وہ ۔۔۔۔”
حیات نے منہ بسورا
“مطلب ۔۔۔واقع حیات تم خود کو گاڑی سے ٹھوکنے والے کے پیار میں گڑ گئی “
“یار کیا فضول بولی جاتی ہو تم دونوں چپ کرو “
حیات نے جھنجھلاہٹ آمیز لہجے میں دونوں کو ڈپٹا
“دراصل وہ رشتہ لے کر آئے تھے ہمارے گھر “
وہ بولتے بولتے سر جھکا گئی جیسے کسی غلطی کا اعتراف کیا ہو
“ہائے حیات تمہاری منگنی بھی ہوگئی اور تم نے کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی “
عائشہ اور آصفہ کی متحیر آواز پر وہ سر پیٹ گئی نہیں پاگلوں “منگنی نہیں ہوئی بس انھوں نے رشتہ بھیجا ابھی کوئی فیصلہ نہیں لیا گھر والوں نے “
حیات نے نفی میں سر ہلاتے ان کے علم میں اضافہ کیا
“لو ابھی منگنی ہوئی نہیں لڑکی سائیڈ لینا پہلے ہی شروع ہوگئی
کنفرم جنتی ہے یہ بندی “
“ہاہاہا۔۔۔۔”عائشہ قہقہہ لگا کر ہنس دی
حیات دونوں کو بہاڑ میں جھونک کر خود کلاس لینے کے لیے نکل گئی
کیونکہ اسے پتا تھا وہ دونوں اس کا اچھا خاصہ ریکارڈ لگائیں گی ۔۔۔۔
________
“یہ علیشہ اور اِتکا کدھر ہیں وقی ؟؟”
حدیقہ کلاس میں آئی تو اس کی دوستیں موجود نہیں تھی وہ اپنے دوست وقاس کے پاس آئی
“اے ۔۔۔حدیقہ تم لیٹ آئی ہو آج یونی ‘
“ہاں میں لیٹ ہوگئی وہ دونوں کہاں ہیں اور ساجد بھائی سب کہاں ہیں کال بھی اٹینڈ نہیں کر رہے “
حدیقہ پریشانی سے بولی
‘آج کے لیکچر کینسل ہوگئے تو ہمارا پلین پارٹی کرنے کا ہوا وہ تینوں علیشہ کے اپارٹمنٹ میں گیے ہیں میں بھی ادھر ہی جارہا تھا آؤ ساتھ ہی چلتے ہیں “
وقاس اس کے چمکتے صبیح چہرے پر نظر ڈالے بولا
“اچھا ۔۔۔۔مجھے بتایا نہیں انھوں نے “
“کال کی تھی تم نے اٹینڈ نہیں کی”
وقاس نے بالوں پر ہاتھ چلاتے اسے دیکھا
“اچھاا۔۔۔ “حدیقہ نے دیکھا کال تو واقعی آئی ہوئی تھی
اچھا ا لیٹ ہو جائیں گے ہم چلیں
حدیقہ شش وپنج میں مبتلا ہوئی حالانکہ وقاس وہ علیشہ اتکا اور ساجد وہ پانچوں کافی اچھے دوست تھے مگر پھر بھی وہ کبھی اکیلے ساجد یاں وقاس کے ساتھ کبھی کہیں نہیں گئی۔۔۔
اچھا میں ڈیڈ سے بات کروں گی مجھے گاڑی سیکھنی ہے روز صبح بھی میں ڈرائیور یاں ابراہیم کی وجہ سے لیٹ ہوجاتی ہوں
حدیقہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی
“ویسے تمہارا کزن بہت عجیب ہے “
ہنہہ ۔۔۔۔۔ حدیقہ ہنکارا بھر کر رہ گئی ۔۔
________
“او ابراہیم بیٹھو ۔۔۔”
ابراہیم حدیقہ کو یونیورسٹی چھوڑ کر شاہ ہاؤس میں آیا تھا جہاں لاؤن میں اسی کا انتظار کرتے فیصل جاوید شاہ اسے پاس بلا گئے
“چھوڑ آئے ہو اپنی لاڈلی کو ؟!”
جاوید صاحب ہنس کر بولے
“وہ آپ کے لاڈلی زیادہ ہے ماموں”
ابراہیم نے ملازم کو چائے ڈالتے دیکھ انکار کا اشارہ کرتے کہا
“جیسے میں جانتا نہیں صرف میری لاڈلی ہوتی تو اس کی تمہارے ساتھ بے جا بدتمیزی پر اسے ڈانٹ دیتا “
“یہ تو وہ تمہاری سر چڑھائی ہے کہ اس معاملے میں تمہارے روکنے کی وجہ سے خاموش ہوں ۔۔۔”
“کوئی بات نہیں ماموں ہو جائیں گی ٹھیک “
ابراہیم دلکشی سے مسکرایا
“پر مجھے لگتا ہے اس کا ایک ہی حل ہے ابراہیم اس کی رخصتی”
“مگر۔۔ماموں “
“نہیں ابراہیم تم نے مجھ سے نکاح کے بعد رخصتی کا وقت اسی لیے مانگا تھا تم اس کے قابل ہونا چاہتے تھے حالانکہ یہ سب تمہارا اور اس کا ہی ہے “
“نہیں ماموں اگر تب آپ کے دباؤ میں آئے میں مان جاتا تو جو الزام میری ذات پر لگے ہیں وہ سچے ہوجاتے “
ابراہیم حدیقہ کا چہرہ نظروں میں لائے سنجیدگی سے بولا
‘اور اب جب تم سیٹل ہوگئے ہو تم انکار کر رہے ہو ۔۔۔۔”
“اب وجہ کیا ہے ابراہیم!!”
“ماموں وہ ابھی راضی نہیں ہوں گی “
“ابراہیم وہ میری بیٹی ہے میں اسے اچھے سے جانتا ہوں تم اسے ضرورت سے زیادہ سپیس دو گے تو وہ تم سے دور ہو جائے گی “
جاوید شاہ نے اس کے کندھے پر تھپکی دے کر کہا
ابراہیم سر ہلا گیا
“مگر میں حدیقہ سے خود بات کروں گا ماموں میں نہیں چاہتا وہ جس طرح مجھ سے متنفر رہتی ہے آپ کے لیے بھی کچھ غلط سوچے “
“ابراہیم!!”
“آپ نے آج آفس نہیں جانا ماموں؟’
وہ بات بدل گیا
“نہیں آج میری طبیعت صحیح نہیں ہے اور ایک آدھ میٹینگ ہے شام باہر ہی ہے تو بس آج میں نہیں جا رہا “
“ٹھیک ہے میں چکر لگا لوں گا وہاں سے آپ ریلیکس کریں “
“ریلیکس اسی دن ہوں گا جب اپنی بیٹی کی شادی کردوں گا “
“ماموں آپ حدیقہ کی طرف سے بے فکر رہیں وہ میری زمہ داری ہیں “
“اور تم بھاگ رہے ہو زمہ داری سے “
جاوید شاہ بھانجے کو رام کرنے کی غرض سے بات بڑھا رہے تھے مگر وہ بھی ان کا ہی بھانجا تھا
“بھاگ کر جاؤں گا کہاں ماموں “
وہ اب ان کے پاس ٹک کر ان کے گرد بازو گزارے محبت سے بولا
“تم بھاگ سکتے بھی نہیں اپنی بیٹی سے تمہیں سیدھا کرواؤں گا ایک دفعہ رخصتی ہو لینے دو “
جاوید شاہ نے مسکراہٹ دبائے اس کا ہاتھ پیچھے کر گئے
“ناٹ فئیر ماموں وہ پہلے ہی میرے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہیں “
“اچھا ہے نہ ایسا ہی ہونا چاہیے اسے “
جاوید شاہ ہنس کر اٹھے
پیچھے ابراہیم نفی میں سر ہلاتا خود بھی مسکرا دیا
جب اس کا فون بلنک ہوا اس نے تشویش ناک میسج پر ماتھے پر بل ڈالے اپنی پینٹ کی پاکٹ سے گاڑی کی چابی نکالی۔۔۔۔
________
عدنان اور علی بھائی ہر جگہ سے حدید کی فیملی کے بارے میں پتا لگوایا تھا سوائے ایک بات کے آبدہ شاہ کی بتائی ہر بات سچ تھی لوگ بھی اچھے تھے مگر آبدہ شاہ نے اپنے شوہر کے بارے میں کیوں نہیں زکر کیا
حفیظ صاحب اس وقت اپنے دونوں بیٹوں کے پاس بیٹھے ان سے اسی متعلق بات کر رہے تھے
جب حاجرہ بیگم کے فون پر آبدہ شاہ کی کال آئی تھی
وہ ان کی پوری فیملی کو ڈنر پر بلانا چاہ رہی تھی
بابا وہاں جا کر دیکھ بھی لیں گے اور پوچھ بھی لیں گے ان سے ۔۔۔
عدنان بھائی نے مشورہ دیا تو
حفیظ صاحب حاجرہ بیگم اور علی اور عدنان بھائی نے ادھر جانے کی حامی بھر لی
حاجرہ بیگم نے کوثر کو بھی ساتھ چلنے کا کہا مگر چھوٹی دیورانی کا احساس کئیے انھوں نے حمزہ کا بہانا کرکے اپنی جگہ اسے بھیج دیا باقی حیات نے تو گھر پر ہی رہنا تھا تو کوثر بھابھی اور حیات گھر پر ہی تھے ۔۔۔۔
_______
کیا سوچا پھر آپ لوگوں نے
پر تکلف کھانے کے بعد چائے کا دور چلا تو آبدہ شاہ نے حاجرہ بیگم کی جانب دیکھ کر استفسار کیا
دیکھیں بہن جی بیٹی کا رشتہ کرنا بہت مشکل کام ہے اور ایک باپ کے لیے تو اس کی بیٹی جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے جسے وہ پال پوس کر کسی اور کے حوالے کردیتا ہے
جی حفیظ بھائی میں اچھے سے سمجھ رہی ہوں داراصل میں بھی اتنی جلدی نہ کرتی مجھے نشاء کے ساتھ سوئٹزرلینڈ جانا ہے بزنس کے کام سے میں چا رہی تھی جانے سے پہلے حدید کی شادی کروا دو باقی یہ پوچ گیچ کرنا آپ کا حق ہے آپ لوگ اپنا وقت لیں اور رہی حیات کی فکر تو وہ میری بہو نہیں بیٹی بن کر آئے گی اس گھر میں
آبدہ شاہ کسی بھی طرح ان سے حامی بھروانا چاہ رہی تھی
“وہ دراصل ہم نے آپ سے کچھ پوچھنا تھا “
بلآخر حفیظ صاحب بول ہی گئے
“جی جی آپ بلا جھجھک پوچھیں ۔۔۔”
______
وقی یہ تو علیشہ کے اپارٹمنٹ کی بیلڈنگ نہیں ہے
حدیقہ تشویش سے بولی
یہ ہی حدیقہ داراصل یہ بیک سائیڈ ہے نہ اور تم بھی تو ایک دفعہ ہی آئی ہو یہاں وہ بھی اتنے ٹائم پہلی وقاص گاڑی سے اترتا بولا
ہاں ہوسکتا ہے ۔۔۔۔
وہ دونوں دوسری منزل کی سیڑھیاں چڑھتے اوپر آئے
حدیقہ کے فون پر میسج کی بپ ہوئی تھی مگر وہ نظر انداز کرگئی
علیشہ اور اِتکا کہاں ہے وقاص ؟؟وہ اندر آئی
وہ بھی آجائے گے تب تک میں ہوں نہ
وہ دروازہ بند کرتے مسکراتا ہوا بولا
کی۔۔۔کیا مطلب تمہاری اس بات کا
حدیقہ کا دل کچھ غلط ہونے کی سوچ پر بری طرح دھڑکا
مطلب ۔۔۔۔ سویٹی مطلب نہیں نشہ جب سے تمہیں دیکھا ہے تمہیں جانا ہے تمہیں پانے کا نشہ چڑھ گیا ہے
بکواس بند کرو حدیقہ چلائی
ارے دور سے تو تمہاری آواز بھی نہیں آرہی
وقاص اسے پاس کھینچ چکا حدیقہ نے تھپڑ اس حیوان صفت والے شخص کے منہ پر دے مارا تھا
وقاص چہرے پر ہاتھ پھیرے مسکرایا ان نازک ہاتھوں کے تھپڑ بھی قبول وہ شدت سے اسے قبول کئیے اس کی جانب جھکا تھا
جب حدیقہ کا فون بجنا شروع ہوا
ابراہیم کا نمبر تھا
ابرا ۔۔۔حدیقہ نے فون اٹھانا چاہا جب وقاص نے اس کا فون ہاتھ سے کھینچ کر دیوار پر دے مارا
“وقی ہم دوست تھے ۔”
حدیقہ روتے ہوئے بولی
“وہی ہم دوست ہیں میری جان اتنا حق تو بنتا ہے نہ “
“بکواس بند کرو تم ہوس پرست انسان”
“اچھا میں ہوس پرست اور تو جو اکیلی”
اپنے کزن کے ساتھ پھرتی ہے
بہت غرور ہے نہ اپنی خوبصورتی پر اسے سراہنا تو بنتا ہے نہ
حدیقہ شدت سے ابراہیم کے یہاں آنے کی دعا مانگتی پوری قوت سے اس انسانی بھیڑیے کو دور جھٹک کر سانس لیتی جھکی جب وقاص نے بھی در پے در اس کے چہرے پر کہیں تھپڑ دے مارے پھٹے ہونٹ کو فراموش کئیے ….
وہ اس سے پہلے سامنے والے کمرے میں بھاگتی اس کا ہاتھ وقاص کی گرفت میں آگیا
وہ اسے قریب کھینچ گیا ۔۔۔۔
