Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311

Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 80) Last Episode (Last Part)

212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 80) Last Episode (Last Part)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

حیا جازب سپیشل ایپیسوڈ

اعوان ہاؤس میں دن کا آغاز کچن سے آتی جازب کمال کے قہقہوں کے ساتھ حیا کی خفا آوازوں کے ساتھ ہوا تھا اتوار کا دن تھا کچن میں رونق سی لگی ہوئی تھی جازب ایپرن باندھے انڈے میں سبزیاں ڈال کر اسے پھینٹ رہے تھے ساتھ ساتھ حیا کے ساتھ کوئی کیس بھی ڈسکس کر رہے تھے جس میں کسی پوائنٹ پر حیا خفا ہو جاتی تو کبھی جازب اڑ جاتے جازب میں آپ سے کہہ رہی ہوں یہ رسکی ہے آپ سمجھ نہیں رہے حیا نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا جازب نے بھاپ اڑاتے انڈے کا ٹکڑا کانٹے میں پھنسا کر حیا کی جانب بڑھایا آپ یہ چکھیں جج صاحبہ ہونٹوں کے قریب کانٹے کو دیکھ کر وہ منہ کھول گئیں انڈا چباتے ہوئے حیا نے انہیں گھورا پھر غصے سے اٹھ گئیں اتوار تھا باسل اور انابیہ سوئے ہوئے تھے بالاج پرسو کا برلن گیا ہوا پرسو صبح ہی اس نے آنا تھا ہر اتوار کی طرح آج جازب حیا کے لیے ناشتہ بنا رہے تھے

ناراض ہوکر جارہی ہیں حیا صاحبہ جازب نے جلدی سے پلیٹ کچن کیبنٹ پر رکھ کر حیا کی کلائی تھامی

حیا نے کچھ نہ کہا

اچھا ادھر آئیں جازب نے ڈائننگ کی کرسی پر حیا کو بیٹھا کر خود ان کے قریب کرسی کھینچی

رسک ہے تو کیا ہوا حق کے ساتھ ہیں ہم حیا کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں بھر کر پیار سے کہا

اور آپ تو ان چیزوں سے کبھی نہیں ڈریں حیا آپ نے ایک وقت میں حق کے لیے سب کچھ داؤ پر بھی لگا دیا تھا تو اب کیا ہوا

حیا خاموش رہی اپنے ہاتھ کی تیسری انگلی میں جازب کی دی ہوئی انگوٹھی کو چھیڑا ۔۔۔

کیا آپ کو کسی نے دھمکایا ہے ۔۔۔۔ ایک دم جازب نے چونک کر حیا کو دیکھا حیا نے نظریں پھیر لیں

حیا آپ کسی کی دھمکی میں آگئیں ؟ جازب بے یقینی سے حیا کا چہرہ دیکھ رہا تھا

کافی دیر بھی حیا خاموش گومگو کی کیفیت رہی تو جازب اٹھ کھڑے ہوئے

میں اب کسی کو نہیں کھونا چاہتی جازب میں بھی انسان ہوں تھک گئی ہوں قربانیاں دے کر دکھ سمیٹ کر حیا کی بھرائی آواز پر جازب سرعت سے ان کے قریب آئے

کیا آپ کو مجھ پر یقین ہے حیا ؟ جازب نے ہاتھ حیا کی جانب بڑھایا حیا نے اگلے لمحے جازب کا ہاتھ تھام لیا آپ حق پر فیصلہ دیں جازب آپ کو کبھی لیٹ ڈاؤن نہیں ہونے دے گا ۔۔۔ جازب نے اسے اپنے حصار میں لیا تبھی دادی دادی کی پکار کے ساتھ باسل صاحب بھاگتا ہوا وہاں آیا حیا جازب سے دور ہوئی باسل اس کے ساتھ لگ گیا باسل انابیہ کی جھنجھلائی آواز پر جازب اور حیا نے مسکراہٹ دبائی

میں نے نہیں نہانا دادی سنڈے کو کون صبح صبح نہاتا ہے ایک ہی دن ہوتا ہے مما تنگ کرتی ہیں باسل اب جازب کی گود میں بیٹھ گیا ۔۔۔

کچھ نہیں ہوتا بیٹا میں نہلا دوں گی تمہاری طبیعت کچھ بوجھل لگ رہی ہے سوئی نہیں ہو تم؟ حیا نے انابیہ کا گال چھو کر درجہ حرارت چیک کرنا چاہا

کچھ نہیں ماما بس تھکاوٹ ہوگئی ہے

اچھا تم ناشتہ کرلو پھر سوجانا باسل ہمارے پاس ہے بالاج سے بات ہوئی تمہاری ؟ حیا نے فوراً اٹھ کر انابیہ کے لیے ناشتہ بنانا شروع کیا نہیں مما رہنے دیں یار کیسی بہو ہوں اتوار کا دن ہوتا ہے آپ کے پاس اس میں بھی آپ سے ناشتہ بنوا رہی ہوں انابیہ نے جزباتی ہوکر کہا حیا نے ہنس کر اس کے گرد ہاتھ پھیلایا بچوں کا کام ماں کو کبھی بھاری نہیں لگتے تم یہ ناشتہ کرو باسل کو جازب کروا رہے ہیں ناشتہ ۔۔۔۔

حیا نے ناشتے کی پلیٹ انابیہ کے آگے رکھی جازب کے ہاتھ سے ناشتہ کرتا اس کے فون پر اب کارٹون دیکھ رہا تھا

بابا باسل کو زیادہ دیر فون مت دیجیے گا رات کو بھی دیکھتا رہا ہے انابیہ نے اٹھتے ہوئے جازب سے کہا جازب نے نرمی سے انابیہ کو دیکھ کر سر ہلایا ناشتے کرکے پارک کس نے جانا ہے ؟ حیا صاحبہ ہم لوگ چلیں گے پرنس تو فون پر لگا ہوا ہے جازب نے آخری نوالہ باسل کے منہ میں ڈال کر اعلانیہ پوچھا

میں جاؤ گا دادا فون تو نہیں پکڑا ہوا میں نے باسل نے جلدی سے فون بند کرکے سائیڈ پر رکھ دیا اپنے کمرے میں جاتی انابیہ نے مسکرا کر جازب کو دیکھا تھا ۔۔۔

———

یار زندگی کچھ وقت اپنے شریف النفس اور معصوم شوہر کو بھی دے دیا کریں تھکا ہارا آفس سے آتا ہوں میں آتے ساتھ بس اتنی سی خواہش ہے اپنی بیوی کا چہرہ دیکھ لوں اپنی بیٹی کو گود میں بھر لوں بیوی یہ کام سے انجام نہیں کرنے دیتی نہ وہ آہستہ سے ائیرو اچکا کر بولا

شریف تو تم بالکل بھی نہیں ہو عون ابراہیم مگر جب تم وہ انگشت شہادت اس کی آئی برو پر رکھ بولی آئی برو اُچکاتے ہو نہ تو وللہ بڑے معصوم لگتے ہو پر افسوس تمہاری یہ بیوی تمہاری ان معصوم اداؤں سے “بہت” اچھے سے واقف ہے وہ بہت کو لمبا کھینچتی عون ابراہیم کو آئی برو اچکا نے پر مجبور کر گئی

عون نے اسے شانوں سے پکڑ کر قریب کیا بیوی کے لیے تو ہم بدمعاش بننے کو بھی تیار ہیں وہ سر اس کے سر سے ٹکرا کر عنائزہ کی جانب بڑھا جو اپنے ہاتھ پھیر ہلاتی اپنی موجودگی کا پتا دے رہی تھی عون نے اسے گود میں بھر کر اس کے نرم گالوں کو چوم ڈالا میرا بچہ بابا کی ننھی منھی سی جان جلدی سے بڑی ہوجاؤں بابا پھر تمہاری ماما کو بتائیں گے نظرانداز کرنا کسے کہتے ہیں وہ عنائزہ کے کانوں میں جھکا سرگوشیاں کر رہا تھا تو کبھی اس کے نرم گلابی ہتھیلیوں کو چوم رہا تھا صفا نفی میں سر ہلاتی اس کے لیے کھانا لینے چلی گئی

بابا آپ کے لیے چائے بنا دوں ؟ پھوپھو انکل ؟ صفا لاونج میں بیٹھے فیصل شاہ ، حدید ، ابراہیم اور حدیقہ سے پوچھنے لگی

میں تو نہیں پیو گا بچے عنائزہ جاگ گئی ہے تو اسے ہمیں دے دو کمرے میں اکیلی ہوگئی ابراہیم کھڑے ہوئے

جی عنائزہ جاگ گئی ہے عون ہیں کمرے میں صفا نے ابراہیم شاہ سے کہا تبھی عون عنائزہ کو گود میں لیے باہر آگیا

تم نے ابھی تک کپڑے نہیں بدلے عون کتنے جراثیم ہوتے ہیں چھوٹی سے بچی ہے نیزو ابراہیم شاہ نے عون کو ڈپٹا اور عنائزہ کو گود میں بھرا ان کی تو دلی مراد بھر آئی تھی بیٹی والی حسرت ہوتی کی صورت میں پوری ہوئی تھی

کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا ماں عون نے حدیقہ کو پکارا مگر وہ ابراہیم کی گود میں کھیلتی پوتی کی جانب متوجہ تھیں حدید شاہ فیصل شاہ سے بات کر رہے تھے تبھی انہیں باسل کی کال آگئی یار بیوی عون صفا کو پکارتا اس کے پیچھے ہی کچن میں آگیا ۔۔۔زندگی تمہارے بھتیجے نے میرا ماموں چرا لیا عون نے اس کے کندھے پر سر رکھا عون میرے باسل بے بی کو کچھ کہیے گا میرا لڈو ہے وہ صفا نے گھور کو عون کو دیکھا بس صحیح ہے قدر نہیں ہے میری وہ اس کا گال کھینچ کر لب ثبت کرکے دندناتا ہوا وہاں سے نکلا پیچھے صفا کی ہنسی کچن سے باہر نکلتے ہوئے بھی اس کے کانوں میں رس گھول گئی

———–

پیر کا روز تھا صبح حیا کے گھر بن بلائی مہمان تشریف لے آئیں

حیا سامنے بیٹھی اِرم کو گھور رہی تھی جس کی نظریں جازب پر تھیں انابیہ ملازمہ کے ہاتھوں جوس اور کچھ کھانے پینے کا سامان رکھوا کر جاچکی تھی

حیا یہ اِرم ہیں فائزہ کی کزن جازب نے تھوڑا جھجھک کر تعارف کروایا

جازب آپ نے شادی کرلی یہ بات اب تک ڈرائنگ روم میں بیٹھنے تک اِرم نے تیسری دفعہ دہرائی تھی

حیا بامشکل مسکرائی جازب یاد ہے تمہاری اور فائزہ کی شادی میں دراصل حیا فائزہ کے امی ابو حیات نہیں تھے فائزہ کی شادی کی زمہ داری ہماری تھی بالکل میری بہن جیسی تھی فائزہ اللہ جنت بخشے معصوم سی اِرم فائزہ کے قصے لے کر بیٹھ گئیں جازب نے کن اکھیوں سے حیا کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھا

فائزہ آپ کے شوہر نہیں آئے ساتھ جازب نے ہی ٹوک کر پوچھ لیا

شوہر ۔۔۔ ارم ایک دم سے خاموش ہوگئی ان سے علیحدہ ہوگئی ہوں میں بچے اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہیں اب مجھے کیا علم تھا تم نے بھی شادی کرلی جازب وہ بتاتے ہوئے آخر میں ہنس کر بات کو مزاحیہ رخ دے گئیں

حیا کی بس ہوئی جازب کیا میں نے آپ سے کیس ڈسکس کیا جس میں ایک عورت نے اپنی ہی بہن کو قتل کر ڈالا جو اپنے بہنوئی پر ڈورے ڈال رہی تھی پھر اپنے شوہر کی بھی چائے میں چوہے مار گولیاں ڈال دیں حالات کتنے خراب ہوگئے اچھا خیر میں چلتی ہوں آپ اپنی مہمان کو وقت دیجیے اِرم باجی معذرت مگر پھر آپ سے ملاقات ہوگی حیا ارم کے ہونق چہرے کو دیکھ کر اٹھی جب اسے عون نظر آیا عون بیٹا آپ اکیلے آئے ہو؟ حیا نے عون سے پوچھا جی آنٹی صفا کی کوئی فائل ادھر رہ گئی تھی وہ ہی لینے آیا ہوں اچھا تم لے کر مجھے ہاسپٹل لے چلو گے ؟ حیا نے گھڑی پر نظر دہرائی آج ہرگز بھی جازب کے ساتھ جانے کا موڈ نہیں تھا جی جی مگر آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ؟ عون نے فکر مندی سے پوچھا ہاں بچے بس ریپورٹس لینی ہیں مجھے وہاں سے کوٹ چھوڑ دینا اچھا آپ گاڑی میں بیٹھیں میں دو منٹ میں آیا عون نے گاڑی کی چابی حیا کو تھمائی اور خود صفا کے کمرے کی طرف بھاگا ۔۔۔

———

لاج آپ نے کب آنا ہے واپس انابیہ نے بے چارگی سے سکرین پر نظر آتے بالاج کے چہرے پر نظر ڈال کر پوچھا

میری جان مس کر رہی ہو مجھے بالاج نے دائیں ہاتھ کی مٹھی بنا کر ہونٹوں پر رکھ کر پوچھا

بہت ۔۔۔ انابیہ نے ہونٹ باہر نکل کر کہا

بالاج کو اس کی ادا پر پیار آیا مجھے تو لگا میرا شہزادہ میری کمی نہیں ہونے دے گا

بالاج نے لب کا کونہ دانتوں تلے دبا کر کہا

انابیہ کو اس کا پسندیدہ ٹاپک مل گیا تھا باسل کی شرارتیں اور اس کا تنگ کرنا اور بالاج بغیر کوفت کا شکار ہوئے اپنی انا کو سن رہا تھا ۔۔۔

——–

عون گاڑی میں بیٹھا حیا کا انتظار کر رہا تھا جب وہ مسکراتی ہوئی باہر آئی عون نے حیا کے لیے دروازہ کھولا حیا گاڑی میں بیٹھ گئی ریپورٹس اس نے ڈیش بورڈ پر رکھی ایک منٹ گاڑی روکنا ایک بیکری کے باہر گاڑی رکوا کر حیا گاڑی سے نکلنے لگی آنٹی مجھے بتا دیں میں لے آتا ہوں عون نے نرمی سے کہا نہیں بس دو منٹ بیٹا میں ابھی آئی حیا کہہ کر بیکری میں چلی گئی عون گاڑی میں بیٹھا سیٹی کی دھن بجا رہا تھا جب اس کی نظر ریپورٹس پر پڑیں گائناکالجسٹ ” پوزیٹیو ” عون کا منہ کھل گیا تبھی حیا کو بیکری سے باہر نکلتا دیکھ کر عون نے جلدی سے ریپورٹس کو واپس ان کی جگہ پر رکھا نظریں باہر سڑک پر

جما لیں حیا نے دو بیگ عون کی طرف بڑھائے یہ صفا کے لیے اسے فریش بنانا بریڈ بہت پسند ہیں یہ میری عنو کے لیے کینڈیز کا پیکٹ عون کو تھما کر وہ فون کی طرف متوجہ ہوئی ناٹ فئیر آنٹی آپ آتی نہیں ہیں گھر سامان بھجوا دیتی ہیں عون نے احتجاجاً کہا حیا نفی میں سر ہلا کر مسکرا دی مصروفیت بہت ہوتی ہے بیٹا میں چاہ رہی تھی اس بدھ حدیقہ باجی کو بھی فون کروں سب کھانا ہماری طرف کھائیں ایک خوش خبری بھی آپ سب کو دے دیں گے بالاج بھی آجائے گا بربن سے حیا نے گاڑی کوٹ کے باہر رکنے پر عون کو کہا وہ محض سر ہی ہلا سکا

اوکے بیٹا میری طرف عنو کو ڈھیر سارا پیار کرنا پھر ملاقات ہوتی ہے عون خدا حافظ کہتا وہاں سے گاڑی لے کر چلا گیا

———-

صفا ۔۔۔ صفا زندگی صفو یار کہاں ہو ؟

کیا ہوا عون اتنا کیوں اونچا چیخ رہے ہو عنائزہ ابھی سوئی ہے

حدیقہ نے عون کو گھورا

صفا کہاں ہیں ماں؟ وہ کچن میں ہی حدیقہ کے پیچھے آکر پوچھنے لگا ہاتھ میں پکڑے بیگ کچن کاونٹر میں رکھے

وہ باہر حدید بھائی کے پاس بیٹھی ہوئی ہے ہوا کیا ہے ؟

باہر ۔۔۔ وہ لان کی جانب بھاگا

صفا اپنے بچپن کی تصویریں حدید کو دیکھا رہی تھی جب عون وہاں آیا

صفا بات سنیں جلدی سے عون اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچ کر لے گیا حدید کے پاس بیٹھے فیصل جاوید نے نفی میں سر ہلایا تم پر گیا ہے یہ لڑکا بالکل حدید شاہ نے مسکرا گہری سانس لی

ہوا کیا ہے عون مجھے کھینچ کر کیوں لے آؤ کیا سوچ رہے ہوں بابا اور دادا ارے ان کو چھوڑو اپنی مما کا سوچو عون نے اسے شانوں سے پکڑ کر ہلایا

مطلب کیا ہوا ہے مما کو تم گھر گئے تھے نہ سب ٹھیک ہے نہ عون ؟ صفا نے پریشانی سے اس سے پوچھا

سب ٹھیک ہے بلکہ خوش خبری ہے صفا میری زندگی تمہیں بہت بہت مبارک ہو تم بہن بننے والی ہو

صفا نے عون کو ایسے دیکھا جیسے اس کا دماغ چل گیا ہو

کیا۔ ؟ صفا تم بڑی بہن بننے والی ہو میرا سالا یاں سالی آنے والی ہے ہماری عنو کی خالہ یاں ایک اور ماموں آنے والے ہیں

کیا بول رہے ہو عون ہوش میں ہو ؟ صفا نے ماتھے پر بل ڈال کر عون سے اپنے بازو چھڑوائے بالکل ہوش میں ہوں ابھی اپنی ساسو ماں کو ہاسپٹل سے لے کر آرہا ہوں ان کی رپورٹ پڑی ہے میں نے بالکل وہی رپورٹ جب عنو آنے والی تھی تو تمہاری لے کر آیا تھا پوزیٹیو ریزلٹ کے ساتھ عون نے اتنا اچھل رہا تھا جیسے وہ ہی پھر سے باپ بننے والا ہو

عون تم سچ کہہ رہے ہو میں ماما سے پوچھ کر آتی ہوں صفا نے ابھی بھی بے یقینی کا اظہار کرتے حیا کو کال ملانے کا ارادہ کیا

ٹھہرو صفا آنٹی کہہ رہی تھی وہ بدھ کو ہماری پوری فیملی کو ڈنر پر بلا رہی ہیں تب کوئی گڈ نیوز دیں گی ہوسکتا ہے تمہیں بھی سرپرائز دینا ہو مجھے بھی انہوں نے نہیں بتایا بلکے وہ تو میری نظر پڑ گئی ریپورٹس پر ان سے پوچھ کر ان کا سرپرائز فلاپ نہ کرو عون نے اس کا بازو تھام کر اسے روکا

صفا دھیمی پر گئی ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو وہ غائب دماغی سے وہاں سے جانے لگی کہاں جارہی ہو تمہارے لیے آنٹی نے بنانا کیک بھیجے ہیں کچن میں پڑے ہیں اور عنو کے چاکلیٹس تمہاری فائل بھی لے آیا ہوں میں اب آفس جارہا ہوں آکر اس بارے میں بات کرتے وہ گھڑی میں وقت دیکھ کر بولا صفا ابھی بھی شاک میں تھی ناسمجھی سے سر ہلا گئی ۔۔۔

———

حیا اپنے آفس میں سامان سمیٹ رہی تھی شام ہو چلی تھی جب جازب ان کے آفس کا دروازہ ناک کیے اندر آگئے

ناراض ہوگئیں ہیں حیا صاحبہ صبح میرے بغیر ہی چلی گئیں

جازب نے بے چارگی سے پوچھا

آپ کو آپ کی مہمان کو پرائیویسی دے کر گئی تھی تسلی سے پرانے واقعات یاد کرتے

حیا نے پٹخنے والے انداز میں لیپ ٹاپ کی سکرین بند کی

استغفرُللہ آپ اپنے شوہر کو ایک نا محرم کے ساتھ پرائیویسی دے کر گئیں تھیں

جازب نے افسوس کرتے ہوئے کہا

ویسے وہ جو صبح جس کیس کے بارے میں آپ بات کر رہی تھیں اس کی فائل تو دیکھائیے گا بڑی انٹرسٹنگ کیس تھا

حیا نے دانت پیس کر پیپر ویٹ پٹخا جازب نے ڈر کر دو قدم پیچھے لیے کہ کہیں حیا اس کے سر پر ہی نہ دے مارے

آپ صبح پھر بلا لیجیے گا اپنی مہمان کو میں آپ کو عملی مظاہرہ کرکے دیکھا دوں گی فائل کی کیا ضرورت ہے

جازب نے مسکراہٹ کا گلا گھونٹا

آپ اتنی حسین لگ رہی ہیں خفا خفا یہ دل اتنی زور سے دھڑک رہا ہے کہ ڈر لگ رہا ہے میں کہیں دل کا مریض نہ بن جاؤں

جازب نے اس کی خفا خفا سبز آنکھوں میں دیکھ کر کہا

حیا نے چہرہ موڑ لیا یہ مسکے کام نہیں آئیں گے حیا کی آواز

بڑبڑاہٹ میں تبدیل ہوگئی

جازب نے حیا کا رخ اپنی جانب موڑا آپ کو لگتا ہے جو شخص صبح اٹھتے ساتھ اپنے بیڈ کے ساتھ والے حصے پر ہاتھ لگا کر یہ یقین کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں سبز آنکھوں والی حقیقت میں شامل ہوگئی ہے جس کی پہلی غصیل نظروں نے اپنا مرید کیا تھا وہ کسی اور دیکھتا بھی ہوگا

میں جان لے لوں گی اگر کسی اور نے بھی غلط نگاہ سے دیکھا تو

آپ پھانسی کی سزا دے دیجیے گا جج صاحبہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر مگر جان لینے والا خواب آپ کا ادھورا رہ جائے گا کیونکہ آپ کے اتنے ہولناک کیس پر لب کشائی کے انداز نے اِرم کو ایسا خوفزدہ کیا وہ جوس کا اگلا گھونٹ پیے ہی وہاں سے فرار ہوگئی جازب نے بیگ پکڑ لیا تھا

اچھا تو افسوس ہورہا ہے آپ کو کچھ دیر اور وقت گزارنا تھا آپ نے۔؟ حیا نے مصنوعی خفگی سے پوچھا

“وللہ “جازب نے زیر لب کہا پھر مسکرا دیا حیا کا انداز اس کا سیرو خون بڑھا گیا تھا اب تو اس کا ہر طنز جازب نے مسکرا کر پی جانا تھا ۔۔۔

———-

انابیہ صفا کی کال پر حیران سی بیٹھی ہوئی تھی

مما پریگننٹ ؟ انابیہ نے بے یقینی سے صفا کی بات دہرائی صفا نے اسے سختی سے حیا سے کچھ بھی پوچھنے سے منع کیا تھا بس یہ تلقین کی کہ وہ حیا کا بہت خیال رکھے

تبھی گاڑی کا ہورن بجا انابیہ جلدی سے کچن کی جانب بڑھی مما کے لیے فریش جوڈ بنانا ہے مما نے میرا کتنا خیال رکھا تھا جب باسل ہونے والا تھا وہ خود سے ہی بڑبڑائی اور مالٹوں کا جوس نکالنے لگی ۔۔۔

گلاس میں جوس نکال کر وہ تیزی سے باہر جازب نے حیا کا بیگ پکڑا ہوا تھا انابیہ نے جلدی سے جازب سے بیگ تھاما

مما کی طبیعت ٹھیک ہے نہ یہ جوس پیے انابیہ نے جوس کا گلاس حیا کے آگے کیا

میرا دل نہیں کر رہا بیا بچے پانی لادو حیا نے منع کیا

پی لیں جوس زیادہ صحیح رہے گا انابیہ نے اسرار کیا

مطلب ؟ حیا نے ناسمجھی سے انابیہ سے پوچھا

نہیں مطلب گرمی نہیں نہیں آپ تھکی ہوئی آئی ہیں نہ تو پی لیں میں پانی کی بھجوا دیتی ہوں انابیہ جلدی سے کچن میں گھس گئی

اف انا اف ایک بات تیرے پیٹ میں نہیں رہتی ابھی تو نے بول جانا تھا ایسا کرتی ہوں بدھ تک مما کے سامنے زیادہ جاؤں گی ہی نہیں ایسے ہی بچی رہوں گی نہیں تو ان کا سرپرائز خراب ہو جائے گا انابیہ خودکلامی کرتی ملازمہ سے کچھ چٹ پٹا بنانے کی فرمائش کرتی کچن سے نکلی امید سے ماما ہیں اور چٹ پٹا کھانے کا دل میرا کر رہا ہے انابیہ سوچتے ہوئے ہنس پڑی باسل میری جان ہوم ورک کرلیا آپ نے انابیہ نے باسل سے پوچھا جو ویڈیو گیم میں مصروف تھا باسل بس کر جاؤ آکر کھانا کھا لو پھر برش کرکے لیٹو بیٹا صبح سکول بھی جانا ہے انابیہ نے اس کا بکھیرا سمیٹنا شروع کیا

بس لاسٹ گیم ماما باسل نے بغیر سنے ہی کہا

میں حدید انکل کو منع کردوں گی آئندہ وہ تمہیں کوئی گیم نہیں لے کر دیں گے اور میں انہیں شکایت بھی لگاؤں گی تم پڑھائی پر دھیان نہیں دیتے انابیہ نے ایل آئی ڈی کی تار ہی باہر نکال دی باسل نے منہ بنایا پھر ماں کی جانب لپکا

سوری میری پیاری مما کانوں کو ہاتھ لگا کر اس نے انابیہ کے گال چوم کر منمناتے ہوئے کہا

ڈیڈا کو شکایت نہ لگائیے گا

پھر تنگ تو نہیں کرو گے ؟ انابیہ نے اس کے بھولے سے چہرے پر نظر ڈالی باسل نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا

انابیہ نے مسکرا کر اس کے گالوں پر لب رکھے ہاتھوں کی مدد سے اس کے بالوں کو صحیح کیا میرا شہزادہ آجاؤ دادا دادی آگئے ہیں کھانا کھائیں

مما بابا کب آئیں گے ؟ انابیہ کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے نکلتے باسل نے پوچھا

بیٹا پرسو صبح آئیں گے اب آئیں گے نہ تو ہم انہیں جانے نہیں دیں گے انابیہ کی بات کر باسل نے زور و شور سے سر ہلایا یس میں انہیں بہت مس کر رہا ہوں ۔۔۔

———

منگل کا دن تھا صبح صبح حیا کی طبیعت ایسی خراب ہوئی جازب پریشان ہوگیا

حیا آپ نے کیا کھایا تھا اتنی وامٹینگ آپ یہاں بیٹھیں ہلیے گا ہر گز نہیں میں ابھی آیا جازب حیا کو بیڈ پر بٹھا کر جلدی سے کچن میں آئے انابیہ بیٹا حیا صاحبہ کی طبیعت خراب ہے کوئی میڈیسن ہے

ناشتہ بناتی انابیہ چونک گئی انہیں وامٹینگ ہورہی ہے ؟ انابیہ نے مسکرا کر پوچھا جازب اس کی مسکراہٹ پر ناسمجھی سے سر ہلا گئے یہ تو نارمل ہے آپ انہیں کوئی میڈیسن مت دیجیے گا میڈیسن نہیں کھاتے آپ کو لیمو پانی بنا دیتی ہوں انابیہ نے جلدی سے لیمو کاٹا جازب کو جلدی تھی نہیں تو وہ انابیہ سے ضرور پوچھتے کہ نارمل والی کیا بات ہے

لیمو پانی پی کر حیا کی کچھ طبیعت سنبھلی آج آپ گھر پر ہی رہیں جازب نے قطع لہجے میں کہا

کیا ہوگیا ہے میں ٹھیک ہو جازب پریشان مت ہوں

مگر حیا صاحبہ ۔۔۔ اچھا تو میں گھر پر رہ لیتی ہوں مجھے پیچھے سے بار بار کال مت کیجیے گا

حیا کی بات پر وہ لب بھینج گئے

جلدی واپس آجائیں گے حیا نے اٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔

———

آپی صبح صبح مما کو وامٹینگ ہوئی ہے آفس جاتے ہوئے میں نے ناشتے کہا کہا تو منع کردیا کہ دل نہیں کر رہا پھر زبردستی جازب انکل کے کہنے پر تھوڑا سا کھایا ہے جی جی آپی میں دھیان رکھ رہی ہوں ان کا نہیں میں نے انہیں بتایا نہیں ہے نہیں ابھی بالاج سے بھی اس بارے میں بات نہیں ہوئی اوکے میں کرتی ہوں بات آپ سے اس بارے میں اوکے

کس بارے میں بات کرنی ہے تبھی کسی نے پیچھے سے اس کا رخ اپنی جانب کیا

اللہ بالاج آپ نے ڈرا دیا ۔۔۔۔

انابیہ نے دہل کر دل پر ہاتھ رکھ کر کہا پھر سامنے بالاج کو دیکھ کر چیخ پڑی بالاج وہ تیزی سے اس کے گلے لگی

بالاج نے ہنستے ہوئے اپنے ہاتھ اس کے گرد پھیلائے مس یو سو مچ لاج کی انا ۔۔۔

آپ تو کل آنے والے تھے نہ انابیہ نے آنکھیں موند کر گہری سانس بھر کر اس کی موجودگی کا یقین کیا

سوچا اپنی انا کو جاکر سرپرائز کردوں اس کے بال سہلا کر وہ بھی جیسے سکون میں تھا آج سے پہلے کبھی اسے اپنا بزنس ٹوور اتنا طویل اور برا نہیں لگا تھا جتنا اس بار لگا تھا وجہ گھر والوں کی باسل کی انابیہ کی یاد تھی

اچھا کون سے بڑی خبر کی بات کر رہی تھی تم صفا سے

ماما پریگننٹ ہیں انابیہ نے جلدی سے بولا پھر دانتوں تلے دبا گئی

کیا۔ ؟ بالاج نے کم و بیش صفا جیسے انداز میں پوچھا تھا

انابیہ گھبرا گئی

مما کو مت بتائیے گا بالاج انھوں نے ابھی کسی کو نہیں بتایا وہ کل بتائیں گی کل انھوں نے صفا آپی کے سسرال والوں کو ڈنر پر بلایا ہے تم سے کس نے کہی یہ ساری باتیں ؟ بالاج نے ابھی بھی جیسے انابیہ کی بات پر یقین نہیں کیا تھا آپ کو یقین نہیں آرہا صفا آپی نے خود بتایا ہے مجھے بلکہ ابھی صبح مما کو اتنی وامیٹنگ ہوئی ہے آپ کو نہیں پتا بالاج ایسے ہی ہوتا ہے سٹارٹ میں آپ نے یہ بات مما کو نہیں بتانا ٹھیک ہے نہ ؟ انابیہ نے تصدیق چاہی بالاج محض سر ہی ہلا سکا سرپرائز نہیں بم ہی تھی یہ خبر جو ہضم کرنی مشکل لگ رہی تھی ۔۔۔

———

خبر آہستہ آہستہ پھیل گئی تھی اور عون تو بلاشبہ ڈھول تھا

حدید شاہ تک جب خبر پہنچی وہ خاموش ہوگئے آج بدھ تھا اور حدیقہ کی فیملی حیا کے گھر انوائیٹڈ تھی حدیقہ اور ابراہیم صفا سے پوچھ رہے تھے وہ کیسا ری ایکٹ کریں میٹھائی لے کر جائیں یاں مبارکباد دیں اور صفا انہیں سمجھا رہی تھی ابھی حیا نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی تو کچھ فیل نہیں کروانا

ماموں دوپہر کا وقت تھا عون حدید شاہ کے آفس میں بیٹھا ان سے کوئی ڈیل ڈسکس کر رہا تھا مگر حدید کا دھیان عون کی طرف نہیں تھا ماموں کیا ہوا ہے ؟ عون نے حدید شاہ کا شانہ ہلایا

کافی دن ہوگئے باسل سے ملاقات نہیں ہوئی حدید شاہ نے ٹرانس کی کیفیت میں کہا عون نے سامنے پڑے لیپ ٹاپ کی سکرین بند کردی

ماموں آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے ؟

جانے عون نے کیا سوچ کر پوچھا تھا

میری سب سے بڑی خواہش ہے جازب کمال کی جگہ ، اس کا مقام ، اس سے وابستہ سب سے اہم رشتہ جو شاید اس کی موت کی صورت میں بھی میرا نہ ہو پائے مگر اس شخص کے بخت میں حیات ہے اور جس کے بخت میں حیات (زندگی ) ہو وہ کسی کی خواہش کرنے پر تھوڑی نہ مر جاتے ہیں

ماموں ؟؟ عون کے ہلانے پر وہ ہوش میں آیا

میری خواہش تم بچوں کو خوش دیکھنا ایک مقام دیکھتے پانا ہے

ماموں یار لو ہو آپ کیونکہ بابا ماما نے بچہ بدلوا لیا ہے انہیں اب اپنی عنو عزیز ہے کون عون کہاں کا عون

وہ حدید کے شانے پر سر رکھے روہانسا ہوا

سمجھدار ہو جاؤ عون ابراہیم ایک بیٹی کے باپ ہو تم

بیٹی کا باپ ہونا کوئی عام بات نہیں ہوتی حدید نے اس کا کان تھام کر کہا ۔۔۔

اوچ ایسی بات ہے تو مجھے تین چار بیٹیاں پیدا کرنی چاہیے رتبہ بڑھے گا عون نے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا

صحیح کہتی ہے صفا تمہیں بے شرم

———-

شام کا وقت سب اعوان ہاؤس کے لان میں جمع چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے سوائے حدید اور فیصل شاہ حدید نے وہاں آنا نہیں تھا اور فیصل شاہ کا دل نہیں تھا بالاج انابیہ صفا عون بے تابی سے حیا کے اعلان کا انتظار کر رہے تھے جازب جو کب سے ان چاروں کو نوٹ کر رہے تھے ان کے پاس ائے کیا ہوا ہے بچوں میں کب سے نوٹ کر رہا ہوں تم لوگ حیا صاحبہ کو دیکھ رہے کوئی بات کرنی تھی تم لوگوں نے ؟؟ انہوں نے نظریں چاروں کر دہرائیں

وہ بابا مما نے کوئی خوش خبری دینی تھی انہوں نے عون سے کہا تھا پرسو صفا نے ہی بات شروع کی

خوش خبری جازب خود انجان تھے

کیسی خوش خبری مجھے تو نہیں بتائی حیا صاحبہ نے

انکل آپ بابا بنیں والے ہیں انابیہ نے برادشت نہ کرتے ہوئے بول دیا

صفا نے سر پیٹا بالاج نے نظریں یہاں وہاں گھمائیں

جبکہ عون پوری بے شرمی کے ساتھ جازب کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ رہا تھا

انکل آپ کے تو کان سرخ ہوگئے

عون صفا نے اس کے ہاتھ پر چٹکی کاٹی

بیٹا آپ سے کس نے یہ کہا یہ ؟ جازب نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے پوچھا

انکل میں پرسو خود آنٹی کو ہاسپٹل لے کر گیا تھا عون نے آگے ہوتے کہا

اور کل صبح انہیں مارننگ سکنیس بھی تو ہورہی تھی جب آپ کو میں نے لیمو پانی بنا کر دیا تھا انابیہ نے بھی آگے بڑھ کر کہا

وہ چاروں جازب کو ہونک بنا دیکھ کر یہاں وہاں ہوئے

جازب ابھی بھی بے یقین نظروں سے حدیقہ سے بات کرتی حیا کو دیکھ رہے تھے

حیا ایک بات پوچھوں

ابراہیم صاحب جازب اور بالاج کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب حدیقہ نے راز داری سے حیا کو پکارا

شاید سب بھول گئے تھے حدیقہ بھی پھر عون ابراہیم کی ماں تھی خبر کہاں بچنی تھیں ان کے پاس

حیا ڈاکٹر نے کیا کہا مطلب کوئی کامپلیکیشنز تو نہیں ہیں نہ ماشاءاللہ سے تم فٹ ہو مگر جانتی ہو نہ عمر کا بڑا فرق پڑتا ہے

کیا مطلب حدیقہ باجی میں سمجھی نہیں ؟ حیا نے ناسمجھی سے حدیقہ کو دیکھا وہ ہی خوش خبری جو سنانے کے لیے تم نے ہمیں یہاں بلایا ہے سچی بہت خوشی ہوئی ہے ہمیں جب صفا نے بتایا حدیقہ باجی بول رہی تھیں اور حیا لمحہ بہ لمحہ سرخ پڑتی جارہی تھی حدیقہ باجی بچوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے خوش خبری انابیہ کی ہے انابیہ کی ریپورٹس لی تھیں میں نے ہاسپٹل سے خیر سے وہ امید سے ہے حیا نے زرا اونچے لہجے میں کہا کچھ فاصلے پر کھڑی انابیہ بے ہوش ہونے کے در پر آگئی اس کے پاس کھڑی انابیہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے مردوں کو تو ابھی کوئی خبر نہیں تھی مگر جازب پریشان سے ابراہیم کی کسی بات پر توجہ نہیں دے پارہے تھے کچھ دیر بعد حدیقہ وہاں آئی وہ بھی شرمندہ سی تھیں انہوں نے ابراہیم کو جانے کیا کہا ابراہیم عون کو گھور کر حیا کے پاس آئے۔۔۔

عنائزہ کو ہم لے کر جارہے ہیں اس کے ماں باپ ادھر ہی ہیں ہم چلتے ہیں کھانے کا بہت شکریہ وہ حیا کے سر پر ہاتھ رکھ کر چلے گئے

ان کے جانے کے بعد وہ چاروں لائن سے حیا کے سامنے کھڑے تھے

کچھ فاصلے پر جازب کمال سوئے ہوئے باسل کو گود میں لیے ان کی دُرگت بنتی دیکھ رہے تھے

کس بے و قوف نے یہ خبر پھیلانی شروع کی

حیا کی کرخت آواز پر عون کو اپنی نانی یاد آئی حیا کا ہٹلر انداز اس کے لیے نیا ہی تھا

میں نے کچھ پوچھا ہے تم لوگوں سے بالاج تم سے ایسی حرکت کی امید نہیں تھی حیا نے بالاج کو گھورا بچارہ شرمندہ ہوگیا

سوری ماما وہ سر جھکا گیا

مما عون نے کوئی ریپورٹس دیکھی تھیں اس نے ہی بتایا مجھے

صفا نے جلدی سے عون کو آگے کیا عون نے صفا کی بے وفائی پر دل تھاما

ماما وہ کل آپ کو وامیٹنگ ہوئی تھی تو۔۔۔۔ انابیہ نے بات اُدھوری چھوڑی

فوڈ پوائزنگ نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے شرمندہ کروا کر رکھ دیا تم لوگوں نے حدیقہ باجی اور ابراہیم بھائی کے سامنے حیا کی ڈانٹ پر انابیہ کو جب کچھ نہ سوجا تو اس نے اپنی کنڈیشن کا فائدہ اٹھایا

ماں مجھے چکر آرہے ہیں انابیہ نے سر پکڑا

لاج مجھے چکر آرہے ہیں آپ نے نہیں سنا میری طبیعت کا بالاج نے جلدی سے انابیہ کو تھاما اندرے جائیں مجھے لاج جلدی سے انابیہ نے بالاج کو کہنی ماری ہاں وہ اسے اندر کے جانے لگا میں چندہ کو دیکھتی ہوں صفا بھی ماں کی گھوری سے بچ کر انابیہ اور بالاج کے پیچھے ہوگئی میں ۔۔۔ میں انابیہ کی آپی کو دیکھتا ہوں عون بھی وہاں سے بھاگ گیا

حیا نے جازب کو دیکھا دونوں ایک دوسرے کی جانب تک رہے تھے پھر دونوں ہی ہنس دئیے

ڈشو ڈشو ۔۔۔۔ باسل نے شور کی آواز پر نیم واہ آنکھیں کھول کر کہا

اب کہ جازب کا قہقہ جاندار تھا

اتنے پیارے بچوں کے ہوتے ہوئے اور کسی چیز کی ضرورت ہے کیا ؟؟

گھر کے اندر او تو انابیہ کی بھیگی سے آواز سنائی دیتی ہے

بالاج آپ مجھے ایسی کنڈیشن میں بھی گھوریں گے بالاج نفی میں سر ہلا گیا اتنی بڑی خبر تھی بالاج نے مسکرا کر انابیہ کو دیکھا

یار صفا اب میں آپ کی گھوریوں سے بچنے کے لیے پریگننٹ نہیں ہوسکتا

عون ابراہیم صفا کی چیخ پر وہ کان پکڑ گیا معافی زلے الٰہی اگر سچ میں بھی تم بڑی بہن بننے والی ہوگئی تب بھی میرے فرشتوں کی توبہ میں خبر بریک نہیں کروں گا

عون تم گھر چلو آج تم لاونج میں ہی سوو گے صفا اسے خبردار کرتی لان والی سائیڈ سے بچ بچا کر مین گیٹ کی جانب بڑھ گئی ابھی فلحال وہ جازب اور حیا دونوں سے ہی نظریں بچا کر بھاگ آئی تھی ۔۔۔

عون نے ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا پھر شرارتی ہنسی ہنس کر وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔

جازب نے باسل کو اس کے کمرے میں لٹایا ایک بڑا کپ کافی کا بنا کر وہ اپنے کمرے کے ٹیرس میں آگئے

آپ ، میں اور ایک کپ کافی ۔۔۔۔!!!

حیا نے ہنستے ہوئے کافی کا سپ بھرا۔۔۔

ختم شُد۔۔۔!!!