Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 12)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 12)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
وہ کسی چیز کو چھیڑے بغیر واپس مڑنے لگی کہ ہر طرف اندھیرا چھا گیا
انابیہ کا رنگ اڑا اندھیرے سے تو ویسے ہی اسے بہت خوف آتا تھا
اوپر سے گھر میں کوئی بھی نہیں یہ سوچ کر پیروں سے جان نکلنے لگی ۔۔۔۔۔
سد شکر تھا فون اس کے پاس ہی تھا نہیں تو وہ اسے چارجنگ پر ہی لگانے والی تھی
خوف سے بے ہنگم ہوتی سانسوں کو سنبھال کر اس نے فلیش لائٹ اون کی
چارجنگ بہت کم تھی مگر اندھیرے میں تھوڑی سی روشنی بھی ارد گرد کے وحشت زدہ ماحول میں اسے سانس دینے کے لیے کافی تھی وہ بس دعا کر رہی تھی گارڈ یاں کوئی ملازم جلدی سے جنریٹر اون کردے
اپنے خوف کے باعث وہ بالاج کے بیڈ پر اپنے پاؤں اوپر سمیٹ کر بیٹھ گئی تھی وہ مسکان کو بھیج چکی تھی باقی ساری ملازمہ تو شام کی ہی کواٹر میں جا چکی تھیں
______
تمہارے۔۔۔۔ خون۔۔۔۔۔ نکل رہا ہے ۔۔۔ عون گھٹی گھٹی آواز میں وہ بولی
یہ زخم اور بھی گہرا ہو سکتا ہے صفا اگر آپ نے منٹ سے پہلے اپنے چہرے پر لگی یہ فضول چیز صاف نہیں کی
عون نے اس کی خوفزدہ آواز کو ان سنا کیئے اپنی بات مکمل کی
صفا۔۔۔۔
اس کی آنکھ سے آنسو نکلتا دیکھ کر عون نے دانت پیس کر اسے پکارا تھا جس کی نظریں عون کی خون آلود شرٹ سے ہی نہیں ہٹ رہی تھی
صفا نے آنکھ سے نکلنے والی پانی کو اپنے دائیں ہاتھ کی پشت سے صاف کیا اور رومال چھیننے والے انداز میں عون کے ہاتھ سے کھینچ کر سختی سے اپنے ہونٹوں کو رگڑا تھا جیسے عون کا سارا غصہ اس نے ان پر نکالا ہو رگڑنے کے باعث گلابی رنگ تو ختم ہوگیا تھا مگر وہ کچھ سرخ ہوگئے جیسے سارا خون ادھر ہی سمٹ آیا ہو
عون نے نہیں دیکھا اور وہ دیکھ بھی نہیں سکتا تھا جب وہ دوسروں کی نظریں برداشت نہیں کر سکتا تھا تو اپنی نظریں بھی نہیں بھٹکنے دے سکتا تھا
تم بہت بڑے ہو عون تم نے مجھ سے میرا اکلوتا دوست چھین لیا
آج صفا کے لہجے میں صرف دُکھ تھا کوئی نفرت نہیں
وہ اسے ہاتھ سے جھٹک چکی تھی
عون کو اس جھٹکنے سے کہیں زیادہ اس بات نے سر شار کر دیا تھا
اپنا خیال رکھیئے گا صفا
صفا نے اپنی بھوری آنکھوں سے اسے گھورا
“نہیں رکھوں گی “
انداز دلشکن تھا یاں عون کو لگا
وہ وہاں سے نکل گئی تھی
“میں خود ہی رکھ لوں گا” عون نے اس کے پیچھے سے ہی سرگوشی نما کہا
مگر وہ جا چکی تھی
سس۔۔۔ صفا کے وہاں سے جاتے ہی عون نے سسکی لی دل کے قریب ایک دم سے درد اٹھا جو” اُس” کی موجودگی میں اسے محسوس ہی نہیں ہوا تھا
مرشدددد۔۔۔۔ حدید شاہ کو یاد کرتے وہ مسکرایا اب آپ کی کوئی بات نہیں ٹالے گا مرید آپ نے دیدارِ یار کروادیا اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کو اپنی نشست کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
_______
حیا صاحبہ آپ رو رہی ہیں ؟؟ جازب اعوان حیا کو روتے دیکھ گڑبڑا گئے
نہیں بس!! حیا چاہ کر بھی اپنے آنسو پر بند نہیں باندھ پارہی تھی
حیا صاحبہ خوشی کے موقع پر آپ لڑکیاں کیسے رو لیتی ہیں
وہ پریشان کچھ ہڑبڑائے سے بولے
جازب کمال کے لڑکی کہنے پر روتے ہوئے حیا ایک دم ہنس دی
“میں لڑکی لگتی ہوں آپ کو جازب صاحب ” جازب کمال نے نگاہیں سامنے سٹیج کی طرف موڑ لی جہاں سے بالاج اپنے مغرور چال چلتا اسی طرف آرہا تھا
کسی بھی ماں کے لیے یہ لمحہ باعثِ فخر ہوتا ہے اور پھر آنسو پر کس کا زور ہوتا ہے
اب وہ سنجیدگی سے بول رہی تھی
بے شک یہ لمحہ ہر ماں کے لیے باعثِ فخر ہے مگر آپ جیسی مضبوط اوصاف اور شفاف کردار والی ماں کے لیے باعث مان بھی ہے جسے آپ کو آنسو سے نہیں بلکہ اپنے جیسی مضبوط اولاد کے گلے لگ کر منانا چائیے تاکہ ان کے حوصلے ہمیشہ آپ کی طرح بلند رہے
جازب کمال نے پُر جزب انداز میں کہا
سر جی کے لہجے کی تو میں پہلے سے ہی قائل تھی آپ بھی بہت اچھے موٹیویشنل سپیکر بن سکتے ہیں
جازب کو سمجھ نہیں آئی یہ مزاق تھا یاں مشورہ مگر تب تک صفا اور بالاج دونوں وہاں موجود تھے
جاذب کمال نے گرمجوشی سے مبارک باد دے کر گلے لگایا جوابا بالاج نے بھی نہایت احترام سے ان کے ہاتھوں کو دبا کر چھوڑا تھا
اُس کی خودداری ماں نے ہمیشہ ایک بات سیکھائی تھی احسان فراموشی جیسا گناہ مت کرنا
تمہیں بھوکا چھوڑنے والے کو بے شک معاف کردینا درگزر کردینا بھول جانا
مگر کبھی کھلانے والے کو مت بھولنا
اور بالاج خان اسی مضبوط ماں کی اولاد تھا ۔۔۔۔
اب وہ مل رہا تھا سب سے صفا اس کے گلے لگی
دور بیٹھے حدید شاہ کی کنپٹی سے پسینہ پھسل کر ان کی تھوڑی تک آیا
وہ دیکھ سکتے تھے بالاج خان ایک آدمی کے گلے ملا تھا پشت ہونے کی وجہ سے چہرہ نہ دیکھ سکے
پھر وہ اپنے ہم عمر لڑکے سے مل رہا تھا وہ شجاع رؤف تھا وہ دور سے اسے پہچان گئے وہ بھی بزنس دنیا میں نام رکھتا تھا
پھر وہ اس لڑکی سے ملا جسے دیکھ کر انہیں کسی کی یاد آئی شدت سے وہ ہی لڑکی جسے دیکھ کر عون نے اسے “صفا” کہہ کر اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ وہی لڑکی تھی جسے عون پسند کرتا تھا پھر بالاج ایک عورت سے ملا فروشی رنگ کے سوٹ میں وہ جس کی ہلکی سی جھلک پر وہ بڑی طرح بے چین ہوگئے
وہ بھول گئے وہ کہاں موجود تھے ۔۔۔۔۔
_______
پانچ منٹ گزرنے کے بعد بھی جنریٹر اون ہونے کے کوئی آثار نہ نظر آنے پر انابیہ نے خود ہی حوصلہ کرکے پاؤں بیڈ سے نیچے ٹھنڈے فرش پر رکھے یکلخت اس کے پورے جسم میں سردی کی لہر دوڑ گئی تھی
ابھی ایک قدم ہی اس نے آگے بڑھایا تھا اس کے فون کی فلیش لائٹ اوف ہوگئی
انابیہ کا رنگ پھیکا پڑا اس نے فون پر دیکھا ابھی تھوڑی سی چارجنگ تھی مگر اس کے فون میں اتنی سی چارجنگ پر فلیش لائٹ اون نہیں ہوتی تھی انابیہ کو بے ساختہ اپنے ہاتھ میں تھامے اس مہنگے ترین فون پر غصہ آیا دل کیا اسے اٹھا کر پھینک دے وہ واپس اسے قدموں بیڈ کے اوپر سمٹ کر بیٹھ گئی
فون کی مدھم سی روشنی میں اس نے کمرے میں پھیلے نیم اندھیرے کے ساتھ دروازے کی دوسری طرف نظر آتے ہیبت ناک اندھیرے نے اس کے دل کی رفتار سست کی تھی
ماتھے میں اتنی سردی کے باوجود بھی پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں تھیں ۔۔۔
اب انابیہ کی بس ہوگئی اس نے حیا کو فون ملایا ایک کال تو کال مگر کوئی جواب موصول نہیں پھر صفا کو مگر اس کا فون سرے سے ہی بند تھا
اسے کچھ عجیب سی آواز آئی انابیہ نے اپنا وہم سمجھ کر اسے فراموش کرنے کی کوشش کی مگر نہین ہوا انابیہ نے بالاج کے ممبر پر کال ملائی مگر وہ کال اٹینڈ نہیں کررہا تھا انابیہ نے یک بعد دیگرے کہی کال ملائی
ڈر کے مارے آنسو بہنے لگے
مما !!!
آپی !!…
مما ۔۔۔۔
بالاج
وہ وہی ہر بیٹھی آوازیں دینے لگی یہ جانتے ہوئے بھی کہ گھر پر کوئی نہیں ہے
بالاج ۔۔۔۔
بالا۔۔۔۔ج
مسکان !!۔۔۔۔ اسے خود بھیجنے کے باوجود انابیہ نے اسے آواز دی مگر وہ نہ آئی کوئی بھی نہیں آیا
خوف کی وجہ سے اس کا دماغ اُسے عجیب عجیب وسوسوں میں ڈال رہا تھا
جیسے کوئی اس کے سر پر کھڑا ہو انابیہ نے آنکھیں زور سے مینچ لی
ایک آخری دفعہ بالاج کا نمبر ملایا
پہلی بیل جاتے ہی انابیہ کا فون بند ہوگیا
فون کے بند ہوتے ہی انابیہ کو لگا اس کا دل بھی بند ہونے والا ہے
_______
مرشد میں نے سوچ لیا ہے آپ کی کوئی بات نہیں ٹال۔۔۔۔۔ مامو عون حدید شاہ کے پاس آتے شوخی سنگ بولتے بولتے تھما حدید شاہ کے متغیر چہرے کو دیکھ کر ایک لمحے کو عون بھی ڈر گیا
مامو کیا ہوا ہے ؟؟
مامو آپ ٹھیک ہیں
چلیں حدید شاہ کے پسینے سے تر وجود کو لئیے وہ نکلا تھا
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے حدید شاہ نے شدت سے دعا کی تھی وہ ایک دفعہ اس عورت کا پورا چہرہ دیکھ لیں جس کے دائیں جانب کی جھلک دیکھ کر ان کی طبیعت ایک دم بگڑ گئی
_______
وہ لوگ واپس گھر لوٹے تو بہت زیادہ خاموشی تھی غیر معمول سی خاموشی گارڈز بھی اسے خاص نظر نہیں آئے چوکیدار نے دروازہ کھولا صفا اور حیا بھی اس کے پیچھے ہی اندر آئی تھی لگتا ہے چندہ سوگئی صفا نے صوفے پر بیٹھے ہوئے کہا
مگر بالاج کو کچھ غیر معمولی سا محسوس ہوا تھا اس نے اپنا فون نکالا بالاج کی کشادہ پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے
یہ بل پریشانی کے تھے انابیہ کی کالز ایک دو نہیں بارہ تیرا وہ دوڑا
انابیہ ۔۔۔۔ انابیہ سب سے پہلے انابیہ کے کمرے میں چیک کیا وہاں کوئی نہیں تھا بالاج کا دل ہر پل کو رکا تھا
بالاج پورے گھر میں باری باری ہر کمرے میں دیکھتا انابیہ انابیہ چیخ رہا تھا
حیا نے بھی اپنے پرس میں موجود سائلنٹ لگے اپنے فون پر انابیہ کی بے شمار مس کالز دیکھ کر خوف سے فق پڑتے چہرے کے ساتھ بالاج کے ساتھ انابیہ کو ہر جگہ دیکھنا شروع کیا صفا بھی روہانسا ہوتی انابیہ کو پکارنے لگی
انابیہ ۔۔۔۔
چندہ کہاں ہو یار
انابیہ بچے ۔۔۔۔
مسکان مسکان کہاں پر ہے اس ۔۔۔اس نے رکنا تھا انابیہ کے پاس
حیا پھولتے سانس سمیت بولی ٹانگوں سے جان نکل رہی تھی وہ صرف انابیہ نہیں ان کا وعدہ بھی تھی
بالاج کے چہرے سے لگ رہا تھا جیسے وہ کچھ کر گزرے گا
انابیہ صفا کا چہرہ آنسوں سے تر ہوگیا تھا انابیہ کو ہر جگہ دیکھتے دیکھتے
جب وہ بالاج کے کمرے میں گئی
بھائی۔۔۔۔۔۔۔
صفا نے چیختے ہوئے بالاج کو پکارا
بالاج دوڑتا ہوا اوپری منزل میں اپنے کمرے کے پاس پہنچا تھا
انابیہ بیڈ کی ٹیک کے ساتھ اپنی لگائے بیٹھی ہوئی تھی پاؤں آگے کو پھیلے ہوئے تھے اور سر ایک جانب کو ڈھلکا ہوا تھا
بالاج ایک لمحے کی تاخیر کئیے بغیر اس کی طرف بھاگا
اس کا بے ہوش وجود سیدھا کرکے اسے خود میں بھینچ گیا
سبز آنکھوں میں جہاں ہر وقت سرد تاثر رہتا تھا وہاں اس وقت ایک ہی تاثر تھا
خوف کا
کچھ کھو دینے کا خوف !!!
