Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 70)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 70)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
گندمی ہاتھ کے اوپر دھڑا سفید ہاتھ اور اور اس کی تیسری انگلی میں چمکتی منگنی کی انگوٹھی
صفا نے عون کے نمبر پر بھیج دی تھی لیکن اگلے ہی لمحے ڈلیٹ بھی کردی تھی مگر دوسری جانب عون تھا جو اسی کے میسجز کھول کر جانے کب سے بیٹھا ہوا تھا تصویر کی ایک جھلک ہی اس پر بہت بھاری گزری تھی ۔۔۔
یا اللّٰہ اس نے گھبرا کر دل تھما عجیب سی درد سینے کے آگے اور بالکل پیچھے اٹھی تھی ۔۔۔
———-
شیشے کے سامنے کھڑی وہ اپنے جھمکے اتار رہی تھی ۔ کلچر میں قید بالوں کو آزاد کیا دھلا دھلایا چہرہ
تھوڑی سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے وہ شیشے میں اپنا چہرہ دیکھ رہی تھی زندگی کتنی بے اعتبار چیز ہے جس لمحے کیا ہوجائے کچھ خبر نہیں
تبھی اس کے کمرے کا دروازہ ناک ہوا تھا
فائزہ غائب دماغی سے ہی دروازہ کھولنے آگے ہوئی غائب دماغی ایسی تھی اسے اپنا ڈوپٹے کے بغیر ہونا بھی یاد نہیں تھا
دروازہ کھولتے ہی سامنے اس شخص کا چہرہ تھا جس کو نہ دیکھنے کی اس نے لمحے دعا کی تھی
اپنی منگنی کی نسبت اب قدرے مختلف حلیے میں سادے سے ٹراؤزر شرٹ میں
شجاع نے بھاری عصاب کے ساتھ فائزہ کا چہرہ دیکھا وہ اسی سوٹ میں موجود تھی مگر چہرہ میک اپ سے صاف تھا دوپٹہ بھی ندارد تھا
اس سے پہلے فائزہ دروازہ بند کرتی شجاع نے ہاتھ بڑھا کر اسے روک دیا
دونوں اس لمحے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے
ایک کی آنکھوں میں خالی پن تھا تو دوسرے کی آنکھوں میں عجیب سی الجھن ، گھبراہٹ ہمک ۔۔۔
کتنے ہی لمحے اس منظر کے نظر ہوئے فائزہ کی گرفت دروازے کی ہینڈل پر سست پڑ گئی اور شجاع اندر داخل ہوگیا ۔۔۔
———–
میں سوچ رہا ہوں کمال انکل سے بات کرلوں
بالاج نے ایل ۔سی ۔ڈی کے ریموٹ کو تھوڑی تلے رکھ کر پر سوچ انداز میں انابیہ سے کہا
بغیر مما سے بات کیئے وہ ناراض نہ ہو جائیں لاج
اس کے پاس بیٹھی انابیہ نے چہرہ اس کی جانب موڑ کر کہا
پتا نہیں شاید ماں نہیں مانیں مگر میں چاہتا ہوں وہ بھی اپنی زندگی میں موو اون کریں پہلے ایسا خیال نہیں کیونکہ کمال انکل نے اس حوالے سے بات نہیں کی تھی دوسرا میں نے جازب انکل کا رویہ نوٹ نہیں کیا تھا مگر اب جب سب میری نظروں کے سامنے ہے تو کیوں نہیں
میں سمجھ رہی ہوں لاج مگر پہلے آپ مما سے بات کریں میں بھی ایک عورت ہوں انہیں آپ کا بغیر ان سے بات کیے کمال انکل سے ان کی زندگی کے اتنے بڑے فیصلے کے بابت بات کرنا انہیں آپ سے متنفر نہ کردے ۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی انا وہ انگلیوں سے اپنی آنکھیں سہلانے لگا
ابھی آپ ٹھہر جائیں لاج آج ہی صفا آپی کی منگنی ہوئی ہے کچھ دن گزر جانے دیں پھر آپ اپنے طریقے سے ماں سے بات کرئیے گا ہمیشہ کی طرح ان کے ہم راز بن کر میں ہمیشہ ہر فیصلے میں آپ کے ساتھ ہوں ۔۔۔۔
وہ اس کے بازو کے گرد ہاتھ باندھ شانے پر سر رکھ کر بولی
ہمم۔۔۔ صحیح کہہ رہی ہو گڑیا سے بات ہوئی تھی فنکشن کے بعد ؟
اس کے بالوں کو سہلاتے وہ صفا کے بارے میں پوچھنے لگا
نہیں میں گئی تھی مگر آپی سوگئی تھی تھک گئی ہوں گی ۔۔۔
———-
زیاد لغاری کے کیس کی وجہ سے حیا آج جلدی کورٹ کے لیے نکل گئی کل کی تھکاوٹ کی وجہ سے انہوں نے صفا کو نہیں اٹھایا مگر حیا کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی صفا بھی کورٹ جانے کے لیے تیار نیچے آئی جہاں بالاج اپنے آفس جانے کے لیے اور انابیہ یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ناشتہ کر رہے تھے
او میرا بچہ صفا کے وہاں آنے پر بالاج نے کھڑے ہوکر اس کے لیے کرسی کھینچی وہ بالاج نے بائیں جانب بیٹھ گئی
بھ”وک نہیں ہے بھائی ماما شاید چلی گئی ہیں آپ مجھے چھوڑ دیں گے مجھے لیٹ ہوگیا جازب انکل کی بھی کال نہیں آئی “
“تم آج آف لے لیتی بچہ تھک گئی ہو گی”
نہیں بھائی ابھی آف نہیں لے سکتی بہت ضروری کیس چل رہا ہے
چلو گڈ مجھے پورا یقین ہے میری آپی مما جیسی وکیل بنیں گی
انابیہ نے خوش ہوتے ہوئے اپنی کرسی چھوڑی
کہاں میڈم ناشتہ پورا کرو پھر اٹھنا
بالاج نے انابیہ کی چالاکی پر اسے ڈپٹا صفا بھی اس کے بیچارگی بھرے چہرے کو ہنستے ہوئے دیکھنے لگی ۔۔۔
———
میرا بچہ خوش ہے نہ ؟؟
انابیہ کو یونیورسٹی چھوڑ کر بالاج اب صفا کو کورٹ چھوڑنے جارہا تھا صفا موبائل پر عون کا نمبر کھولے دیکھ رہی تھی جب بالاج کی آواز پر فون بند کرکے چہرے میں ہشاشت لائے مسکرائی
میں بہت خوش ہوں بھائی مجھے تو ابھی بھی یقین نہیں آرہا میں پھوپھو بننے والی ہوں میری چھوٹی سی چندہ اتنی بڑی ہوگئی ہے بلاشبہ صفا کے لہجے سے خوشی محسوس کی جارہی تھی
بالاج مسکرا دیا میں منگنی کی بات کر رہا ہوں گڑیا وہ صفا کے گرد شفقت سے ہاتھ پھیلا کر بولا
صفا کا چہرہ پھیکا سا پڑا
جی بھائی میں خوش ہوں
اللہ تمہیں خوش اور آباد رکھے وہ صفا کے ڈھکے سر پر بوسہ دے کر نرمی سے بولا ۔۔۔۔
———
زیاد کہاں جارہے ہیں ہم؟
مسز زیاد نے بے زاری سے زیاد لغاری کو دیکھا جو ایک ہاتھ میں سیگریٹ دبائے گاڑی کافی تیز چلا رہا تھا مگر مسز زیاد کی بے زاری کی وجہ اتنی صبح اٹھنا تھا
ہم کورٹ جارہے ہیں تمہارے لاہور والے گھر کے کیس کے حوالے سے
کیا وہ ایک دم سیدھی ہوئی
کوئی وکیل مل گیا تمہیں تم جانتے ہو نہ ہمارے مقابل جازب کمال ہے جانا مانا وکیل
مسز زیاد نے تشویش سے پوچھا
وکیل تو مل گئی ہے اور اس جازب کمال سے زیادہ ذہین ہے
زیاد لغاری کو حیا کا انداز یاد آیا
مل گئی کوئی عورت ہے ؟
ہمم ایڈوکیٹ حیا خان
چلو اچھا ہے جتنی جلدی ہمارا کام نمٹ جائے اچھا ۔۔۔
———
ارے میڈم مجھے لگا آج آپ چھٹی انجوائے کریں گی
صفا کو اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھ کر کچھ لکھتے ہوئے دیکھ اپنے آفس میں داخل ہوتے جازب کمال کو خوشگوار حیرت ہوئی
السلام علیکم سر صفا جازب کو دیکھ کر مسکرا کر سلام کرتی کھڑی ہوئی
وعلیکم السلام بیٹھو بیٹھو
صفا سر ہلا کر بیٹھ گئی
آج آف نہیں لیا ؟
وہ کہہ نہیں سکی کہ ان کی کمپنی اسے اچھی لگتی تھی اپنی اوور تھنکنگ سے بچنے کا بہتریں ذریعہ لگتی ہے
نہیں آف لینے کا فائدہ گھر میں بور ہونا تھا
چلو گڈ ویسے اتنا اچھا فنکشن اٹینڈ کرنے کے بعد میرا ارادہ ضرور تھا ایک ڈنڈی مار لی جائے وہ شریر لہجے میں کہتے اسے ہنسا گئے
لنچ باہر کرکے ڈنڈی ماری جاسکتی ہے سر آفٹر آل پروفیشنل لنچ بھی تو کام کا ہی حصہ ہے
فار شور فار شور آپ کی طرف سے ٹریٹ بھی تو بنتی ہے ہمیں کیوں نہ ایک تیر سے دو نشانے مار لیے جائیں
میں تو ریڈی ہوں جب آپ کہیں
تو پھر آج کا لنچ دن کرتے ہیں جازب کمال نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے پلین بنایا ۔۔۔
———
وہ میم ۔۔۔
باسط ایک کپ چائے کا تو کہہ کر آئیں ابھی تک میری چائے نہیں آئی
حیا نے فائل پر نظر دہراتے ہوئے باسط سے کہا
جو حیا سے بات کرنے کے لیے پر تول رہا تھا سر ہلا کر باہر چلا گیا ۔۔۔
تین منٹ بعد دروازہ کھٹکنے پر حیا نے باسط سمجھ کر بغیر دیکھے اجازت دی جب حدید شاہ تیزی سے اس کے آفس میں آئے
ہماری بیٹی کی منگنی مبارک ہو حیات حدید شاہ ۔۔۔
حیا نے جھٹکے سے اپنا سر اٹھایا
میری بیٹی حدید شاہ
لہجے میں کاٹ تھی مگر انداز بہت پرسکون تھا ایسی پرسکونی جو آگ لگا دے
صفا میری بھی بیٹی ہے حیات تم اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ اکیلے نہیں کرسکتی
میں اسے جب بغیر آپ کے علم میں لائے دنیا میں لاسکتی ہوں تو یہ تو پھر منگنی تھی
حدید نے لب بھیجے
حیات ایسا مت کرو صفا کے ساتھ
اتنی ہمدردی صفا کے لیے یاں اپنے اس بھانجے کی تڑپ کا خیال ہے
حیات نے ہاتھوں کو باہم ملا کر آنکھیں ان بھوری آنکھوں میں گاڑ دیں
صفا بیٹی ہے میری
جس کے بارے میں وہ غلیظ لفظ کہے تھے دوبدو جواب آیا
تم بھی جانتی ہو ان لفظوں میں صداقت نہیں تھی حیات وہ میں پاگل ہوگیا تھا یہ جان کر جس بیوی بچے کو میں کب سے ڈھونڈ رہا ہوں وہ اکیلے نہیں میری ایک بیٹی بھی ہے میں پاگل ہوگیا تھا جلدبازی میں
مگر میں پاگل اور جلدباز نہیں ہوں حدید شاہ اور فارغ تو بالکل بھی نہیں جاسکتے ہیں یہاں سے
حیات تم ہو جلدباز اس رات تم نے جلدبازی دیکھائی کم از کم ایک بار میری بات تو سنتی تب نہیں تو اب ہی سن لو
تبھی دروازہ بجا کر باسط اندر آیا اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا چہرہ پہلے کی نسبت کچھ اترا ہوا سا
یہ آپ کا آفس نہیں ہے مسٹر شاہ ابھی میرے ورکنگ اوورز ہیں آپ تشریف لے جائیں
میں اسی صورت میں یہاں سے اٹھوں گا جب تم میری بات سنو گی حیات
حیات نے اس ضدی شخص کو دانت پیس کر دیکھا پھر ایک نظر باسط پر ڈالی
دوپہر تین بجے ریسٹورنٹ میں آجائیے گا اپنی کہانی سنانے بشرط یہ کہ جو کاغز آپ کو کورٹ کی جانب سے موصول ہوئے ہیں ان پر دستخط کرنے کے بعد آپ کا مجھ سے اور میرے بچوں اور ان کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں رہے گا ۔۔۔۔
خلع کے کاغزات کو تو حدید فراموش ہی کرچکا تھا
مجھے یقین ہے جب تم میرے حصّے کی کہانی سنو گی تو یہ بات نہیں کہو گی
حدید شاہ کے جانے کے بعد حیا نے گہری سانس ہوا میں سپرد کی
تم کچھ کہنے والے تھے باسط ؟
نہیں میم باسط نے نفی میں سر ہلایا
بس ایک آواز اس کے کانوں میں گونجی صفا کی منگنی ہوگئی ہے
پھر اُس نے اُس سوچ کو بھی دل و دماغ سے نکال دیا ۔۔۔
———
اگلی صبح ٹوٹتے سر کے ساتھ شجاع کی آنکھ کھلی سرخ آنکھوں سے چھت پر لگے سیلنگ فین کو دیکھتے اس نے غائب دماغی سے کمرے کے بائیں جانب دیوار پر لگی گھڑی پر نظر ڈالنی چاہی مگر وہاں کوئی گھڑی نہیں تھی وہ سر تھام کر اٹھا آنکھیں کمرے سے مانوس ہوئیں یہ اس کا کمرہ نہیں تھا اس نے جھٹکے سے بیڈ کے دائیں جانب گردن موڑی وہاں وہ بھی نہیں تھی۔۔۔
وہ تیزی سے اپنی شرٹ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔
———-
ریسٹورنٹ میں بیٹھے حیا ذہنی انتشار کے باعث اپنا پاؤں ہلا رہی تھی گھڑی پر نظر دہرائی تین بج کر پانچ منٹ اسے حدید نے الفاظ یاد آئے
مجھے یقین ہے جب تم میرے حصّے کی کہانی سنو گی تو یہ بات نہیں کہو گی
دل کیا یہاں سے بھاگ جائے وہ ماضی نہیں سننا چاہتی تھی کسی کے بھی منہ سے نہیں کسی بھی وجہ سے نہیں ۔۔۔
——–
حیا خان ؟
زیاد لغاری اور مسز زیاد حیا کے آفس کے باہر کھڑے تھے
انہیں بائے روڈ آتے ہوئے اچھا خاصا وقت لگ گیا تھا جس کی وجہ یہ ہوئی کہ حیا انہیں اپنے آفس میں نہیں ملی
لنچ بریک ہے سر چار بجے آئیے گا
دیکھا کہا تھا میں نے گاڑی سے نہیں جاتے ٹکٹ کروا لو مگر نہیں اس حالت میں مجھے خوار کروا رہے ہو زیاد
مسز لغاری نے اپنی جانب اشارہ کرکے جل کر کہا جس کے لیے وہ اتنی صبح اٹھی تھیں وہ ہی یہاں موجود نہیں تھی
تم نے اپنی عیاشیوں میں پیسے چھوڑے ہیں جو زرا زرا سے سفر کے لیے فلائٹ بک کروں اور بھولو مت ابھی بھی تمہارے لیے ہی یہ خواری اٹھا رہے ہیں
زیاد لغاری نے سر جھٹکا اس عورت سے بحث کرنا فضول تھا
تم ایسے نہیں تھے شادی سے پہلے زیاد
مسز لغاری نے ٹھنڈی سانس بھر کر اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر وہاں پڑی ویٹنگ شئیر پر بیٹھ گئی
———
چلیں سر آپ آرڈر کریں آپ کیا کھانا پسند کریں گے
صفا نے مینیو کارڈ جازب کی جانب بڑھایا
تم جو بھی منگوالو سچی میں نکھرے نہیں کرتا
آج جازب کمال کچھ زیادہ ہی مزاق کے موڈ میں تھے صفا کا موڈ بھی فریش ہوگیا تھا ۔۔۔
کچھ منٹ بعد ان کا کھانا ٹیبل پر لگنا شروع ہوا
———
سر صفا میڈم کے منگیتر کا پتا کر لیا ہے میں نے
احمد صاحب کے بہت اچھے دوست ہیں نام شجاع خاور ہے
گڈ قاسم اس کا مکمل بائیو ڈیٹا نکلواو اور کوئی بھی مشکوک بات ، حرکت اس کی خبر پہلی فرصت میں مجھ تک پہنچے
اوکے سر
حدید نے فون کاٹ کر گاڑی ریسٹورنٹ کے پارکنگ ایریا میں کھڑی کی
وہ پندرہ منٹ لیٹ تھا تبھی لمبے لمبے ڈھگ بھرتا دوسرے فلور پر پہنچا اور سامنے ہی اسے حیات نظر بھی آگئی
اس کا انتظار کرتی اس لمحے حدید کا دل کیا وقت یہی تھم جائے۔۔۔ مگر وقت بہت آگے بڑھ چکا اتنا آگے کے فاصلے سمیٹنا نا ممکن سا ہوگیا تھا
———
پندرہ منٹ لیٹ ہیں آپ حدید آپ کے پاس پندرہ منٹ ہی ہیں اپنی بات کہنے کے لیے
حیات اس رات تمہارے جانے کے بعد میں نکلا تھا تمہارے پیچھے مگر تم نہیں ملی میں تمہارے گھر کے لیے نکل گیا مجھے لگا تم وہیں پر ہوگی
اس وقت میرا دماغ ماؤف ہوچکا تھا تمہیں کھونے کا ڈر احمد سے جدا ہونے کا خوف تھا میں ریش ڈرائیو کر رہا تھا
اور راستے میں میرا بھیانک ایکسیڈنٹ ہو گیا
———
ارے یار مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو سچی مجھے شوگر نہیں ہے
صفا جازب کو آئسکریم کی تیسری پلیٹ کھاتے ہوئے دیکھ رہی تھی جب جازب نے اس کی نظروں کا ارتکاز نوٹ کرتے ہوئے ہنس کر کہا تو صفا بری طرح سٹپٹا گئی
نہیں ۔۔۔ وہ
مجھے بس ایک ہی مرض ہے وہ بیہ لاعلاج باقی اللہ کا شکر ہے یہ دکھ دور ہیں مجھ سے
صفا ٹشو سے چہرہ صاف کرکے جازب کو دیکھنے لگی
کوشش کی جائے تو علاج مل جاتا ہے
جب طبیب ہی لاپرواہ ہو پھر ؟
جازب نے ایک نظر صفا کے چہرے پر ڈال کے اس کی پشت پر لگے شیشے سے حیا اور حدید کی ٹیبل سے نظر آتی حیا پر نظر ڈال کر کہا ۔۔۔
اس معاملے میں نو کومنٹس وہ دلسوزی سے ہنس کر ویٹر کو بل لانے کا اشارہ کرنے لگی
اب کہ چونکنے کی باری جازب کی تھی
اس نے صفا کے چہرے پر نظر گھمائی اور لمحوں میں وہ معاملہ سمجھ گئے
مرضِ عشق میں مبتلا اپنے ساتھی فوراً پہچان لیتے ہیں ۔۔۔
بِل آنے پر ابھی صفا بل چیک کرتی اس سے پہلے ہی جازب نے کیش اور ٹپ اس میں رکھی
صفا نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا
بیٹیوں سے بھی کوئی بل دلواتا ہے
مگر یہ میری ٹریٹ تھی !! اس نے خفگی سے کہا
میری ٹریٹ تو اپنی بیٹی سے باتیں کرکے ہی پوری ہوگئی ۔۔۔
چلیں میم ۔۔۔ وہ کھڑے ہوئے
———
میں قومہ میں رہا میرا بایاں بازو اور میری ٹانگیں ان مہینوں نکارا ہی ہو چکے تھے اور جب گیارہ مہینوں بعد مجھے ہوش آیا
میں بے بس تھا تب نشاء جس کے لیے میں نے یہ سب کیا جس کی خاطر تمہارا دل توڑا وہ ہی عورت میری ایسی حالت کے بعد ایک لمحہ نہیں رکی مجھ سے طلاق لے کر چلی گئی میں اس قدر ٹوٹ چکا تھا کہ میں نے اسے طلاق دینے کے ساتھ تمہیں ڈھونڈنے کا ارادہ بھی ترک کردیا نہیں تو میرے لیے تمہیں ڈھونڈنا اتنا مشکل نہیں تھا حیات ۔۔۔ میں تمہارے جانے سے پہلے ہی تمہیں ساتھ رکھنے کا ارادہ کرچکا تھا مگر اپنے ایکسیڈنٹ کے بعد اپنی اس ابتر حالت کے رہتے تمہیں نہیں لانا چاہتا تھا تم پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا میں ۔۔۔
حیا سپاٹ چہرے سے حدید شاہ کو سن رہی تھی جب ریسٹورنٹ کے اسی فلور میں فائرنگ شروع ہوئی
حیا گھبرا کر اٹھی
حدید بھی جھٹکے سے کھڑا ہوا
جازب کے ساتھ کھڑی صفا نے سہم کر جازب کے کوٹ کی آستین تھامی جازب نے فوراً اسے اپنے پیچھے کیا
فلور پر عجیب سی بھگ ڈر سی مچ گئی ، چیخوں کا شور
صفا ۔۔۔۔ حیا کی نظر صفا پر پڑ چکی تھی صفا بھی ماں کو دیکھ کر اس کی جانب بڑھنے لگی حیا نے بھی اس کی جانب قدم بڑھائے جب گولی بالکل ان کے پاس سے گزری حدید نے صفا کو کلائی سے تھام کر اپنی جانب کھینچا
جازب بھی حیا کے آگے آگیا
آپ ٹھیک ہیں نہ حیا صاحبہ اس کے لہجے میں خوف و فکر دونوں تھے
کوئی یہاں سے نہیں ہلے گا ماسک پہنے ایک شخص گولی چھت کی جانب چلاتا وہاں پر کسی کو ڈھونڈنے لگا
صفا پر نظر پڑتے ہی وہ اس کی جانب بڑھا
صفا ۔۔۔۔ حیا چیخی
حدید صفا کو ۔۔۔ حیا کی آواز پھٹ گئی
وہ ماسک والا شخص گن کا رخ حدید پر تانے صفا کو بازو سے کھنچنے لگا
اور صفا کا بازو حدید کی گرفت سے چھوٹتا چلا گیا ۔۔۔
